Quran translation in urdu language translated by ahmed rida khan

Chapter 1 (Sura 1)
1اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا
2سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا،
3بہت مہربان رحمت والا،
4روز جزا کا مالک،
5ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں،
6ہم کو سیدھا راستہ چلا،
7راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا، نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا
Chapter 2 (Sura 2)
1الم (ف۲)
2وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، (ف ۳) اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو (ف۴)
3وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں (ف۵) اور نماز قائم رکھیں (ف۶) اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری میں اٹھائیں- (ف۷)
4اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا(ف۸) اور آخرت پر یقین رکھیں، (ف۹)
5وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے۔
6بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے (ف۱۰) ا نہیں برابر ہے، چاہے تم انہیں ڈراؤ، یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان لانے کے نہیں۔
7اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے، (ف۱۱) اور ان کے لئے بڑا عذاب،
8اور کچھ لوگ کہتے ہیں (ف۱۲) کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں،
9فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو (ف۱۳) اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔
10ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۴) تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، بدلا ان کے جھوٹ کا -(ف۱۵)
11اوران سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو، (ف۱۶) تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں،
12سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں،
13اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے(ف۱۷) تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں (ف۱۸) سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں - (ف۱۹)
14اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں (ف۲۰) تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں- (ف۲۱)
15اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (ف۲۲) (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
16یہ لوگ جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی (ف۲۳) تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے -(ف۲۴)
17ان کی کہاوت اس طرح ہے جس نے آگ روشن کی۔ تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا -(ف۲۵)
18بہرے، گونگے، ندھے تو وہ پھر آ نے والے نہیں،
19یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ ان میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (ف ۲۶) اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں، کڑک کے سبب، موت کے ڈر سے (ف ۲۷) اور اللہ کافروں کو، گھیرے ہوئے ہے -(ف۲۸)
20بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اچک لے جائے گی (ف۲۹) جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے(ف ۳۰) اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا (ف۳۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے -(ف۳۲)
21اے لوگو! (ف۳۳) اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا، یہ امید کرتے ہوئے، کہ تمہیں پرہیزگاری ملے -(ف۳۴)
22جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا (ف۳۵) تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو۔ تو اللہ کے لئے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھہراؤ (ف۳۶)
23اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے (اس خاص) بندے (ف۳۷) پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ (ف ۳۸) اور اللہ کے سوا، اپنے سب حمایتیوں کو بلالو، اگر تم سچے ہو۔
24پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں (ف ۳۹) تیار رکھی ہے کافروں کے لئے -(ف۴۰)
25اور خوشخبری دے، انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے، کہ ان کے لئے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں رواں (ف۴۱) جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا، (صورت دیکھ کر) کہیں گے، یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا (ف۴۲) اور وہ (صورت میں) ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لئے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں (ف۴۳) اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے -(ف۴۴)
26بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر (ف۴۵) تو وہ جو ایمان لائے، وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے (ف۴۶) رہے کافر، وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللہ کا کیا مقصُود ہے، اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے (ف۴۷) اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں-(ف ۴۸)
27وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں (ف۴۹) پکا ہونے کے بعد، اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۵۰) وہی نقصان میں ہیں۔
28بھلا تم کیونکر خدا کے منکر ہو گے، حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے -(ف۵۰-الف)
29وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ (ف۵۱) پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے -(ف۵۲)
30اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا، میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خونریزیاں کرے گا (ف۵۴) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے، تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں، فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے-(ف۵۵)
31اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام (اشیاء کے) نام سکھائے (ف۵۶) پھر سب (اشیاء) کو ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)
32بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے -(ف۵۸)
33فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب (اشیاء کے) نام جب اس نے (یعنی آدم نے) انہیں سب کے نام بتادیئے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو -(ف۶۰)
34اور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا- (ف۶۱)
35اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف۶۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے- (ف۶۳)
36تو شیطان نے اس سے (یعنی جنت سے) انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف۶۴) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف۶۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے -(ف۶۶)
37پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف۶۷) بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔
38ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم -(ف۶۸)
39اور وہ جو کفر کریں گے اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں، ان کو ہمیشہ اس میں رہنا -
40اے یعقوب کی اولاد (ف۶۹) یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا (ف۷۰) اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا (ف۷۱) اور خاص میرا ہی ڈر رکھو -(ف۷۲)
41اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے اتارا اس کی تصدیق کرتا ہوا جو تمہارے ساتھ ہے اور سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو (ف۷۳) اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو (ف۷۴) اور مجھی سے ڈرو -
42اور حق سے باطل کو نہ ملاؤ اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ -
43اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو- (ف۷۵)
44کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں -(ف۷۶)
45اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر (نہیں) جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں -(ف۷۷)
46جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا- (ف۷۸)
47اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی-(ف۷۹)
48اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی (ف۸۰) اور نہ (کافر کے لئے) کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر (اس کی) جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو- (ف۸۱)
49اور (یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی (ف۸۲) کہ وہ تم پر برا عذاب کرتے تھے (ف۸۳) تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے (ف۸۴) اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی (یا بڑا انعام) (ف۸۵)
50اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا پھاڑ دیا تو تمہیں بچالیا اور فرعون والوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا -(ف۸۶)
51اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ فرمایا پھر اس کے پیچھے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم ظالم تھے -(ف۸۷)
52پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں معافی دی (ف۸۸) کہ کہیں تم احسان مانو -(ف۸۹)
53اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور حق و باطل میں تمیز کردینا کہ کہیں تم راہ آؤ -
54اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کردو (ف۹۰) یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان -(ف ۹۱)
55اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک اعلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے ۔
56پھر مرے پیچھے ہم نے تمہیں زندہ کیا کہ کہیں تم احسان مانو-
57اور ہم نے ابر کو تمہارا سائبان کیا (ف۹۲) اور تم پر من اور سلویٰ اتارا کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں (ف۹۳) اور انہوں نے کچھ ہمارا نہ بگاڑا ہاں اپنی ہی جانوں کو بگاڑ کرتے تھے-(ف۹۴) اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤ -
58پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو (ف۹۵) اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں- (ف۹۶)
59تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا (ف۹۷) تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا (ف۹۸) بدلہ ان کی بے حکمی کا۔
60اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہ نکلے (ف۹۹) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا کھاؤ اور پیؤ خدا کا دیا (ف۱۰۰) اور زمین میں فساد اٹھاتے نہ پھرو(ف۱۰۱)
61اور جب تم نے کہا اے موسیٰ (ف۱۰۲) ہم سے تو ایک کھانے پر (ف۱۰۳) ہرگز صبر نہ ہوگا تو آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہمارے لئے نکالے کچھ ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز فرمایا کیا ادنیٰ چیز کو بہتر کے بدلے مانگتے ہو (ف۱۰۴) اچھا مصر (ف۱۰۵) یا کسی شہر میں اترو وہاں تمہیں ملے گا جو تم نے مانگا (ف۱۰۶) اور ان پر مقرر کردی گئی خواری اور ناداری (ف۱۰۷) اور خدا کے غضب میں لوٹے (ف۱۰۸) یہ بدلہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے (ف۱۰۹) یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا-
62بیشک ایمان والے نیز یہودیوں اور نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم(ف۱۱۰)
63اور جب ہم نے تم سے عہد لیا (ف۱۱۱) اور تم پر طور کو اونچا کیا (ف۱۱۲) لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے (ف۱۱۳) اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے-
64پھر اس کے بعد تم پھر گئے تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹوٹے والوں میں ہو جاتے -(ف۱۱۴)
65اور بیشک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی (ف۱۱۵) تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے -
66تو ہم نے (اس بستی کا) یہ واقعہ اس کے آگے اور پیچھے والوں کے لیے عبرت کردیا اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت-
67اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو (ف۱۱۶) بولے کہ آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں (ف۱۱۷) فرمایا خدا کی پناہ کہ میں جاہلوں سے ہوں-(ف۱۱۸)
68بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے گائے کیسی کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ اَدسر بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تو کرو جس کا تمہیں حکم ہوتا ہے،
69بولے اپنے رب سے دعا کیجئے ہمیں بتادے اس کا رنگ کیا ہے کہا وہ فرماتا ہے وہ ایک پیلی گائے ہے جس کی رنگت ڈہڈہاتی دیکھنے والوں کو خوشی دیتی،
70بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صاف بیان کردے وہ گائے کیسی ہے بیشک گائیوں میں ہم کو شبہ پڑگیا اور اللہ چاہے تو ہم راہ پا جائیں گے -(ف۱۱۹)
71کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے بے عیب ہے جس میں کوئی داغ نہیں بولے اب آپ ٹھیک بات لائے (ف ۱۲۰) تو اسے ذبح کیا اور (ذبح) کرتے معلوم نہ ہوتے تھے(ف۱۲۱)
72اور جب تم نے ایک خون کیا تو ایک دوسرے پر اس کی تہمت ڈالنے لگے اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو تم چھپاتے تھے،
73تو ہم نے فرمایا اس مقتول کو اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو (ف۱۲۲) اللہ یونہی مرُدے جلائے گا۔ اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے کہ کہیں تمہیں عقل ہو(ف۱۲۳)
74پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے (ف۱۲۴) تو وہ پتھروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ کرّے اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں (ف۱۲۵) اور اللہ تمہارے کوتکوں سے بے خبر نہیں،
75تو اے مسلمانو! کیا تمہیں یہ طمع ہے کہ یہ (یہودی) تمہارا یقین لائیں گے اور ان میں کا تو ایک گروہ وه تھا کہ اللہ کا کلام سنتے پھر سمجھنے کے بعد اسے دانستہ بدل دیتے، ف۱۲۶)
76اور جب مسلمانوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے (ف۱۲۷) اور جب آپس میں اکیلے ہوں تو کہیں وہ علم جو اللہ نے تم پر کھولا مسلمانوں سے بیان کیے دیتے ہو کہ اس سے تمہارے رب کے یہاں تمہیں پر حجت لائیں کیا تمہیں عقل نہیں -
77کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں-
78اور ان میں کچھ اَن پڑھ ہیں کہ جو کتاب (ف۱۲۸) کو نہیں جانتے مگر زبانی پڑھ لینا (ف۱۲۹) یا کچھ اپنی من گھڑت اور وہ نرے گمان میں ہیں -
79تو خرابی ہے ان کے لئے جو کتاب اپنے ہاتھ سے لکھیں پھر کہہ دیں یہ خدا کے پاس سے ہے کہ اس کے عوض تھوڑے دام حاصل کریں (ف۱۳۰) تو خرابی ہے ان کے لئے ان کے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ان کے لئے اس کمائی سے-
80اور بولے ہمیں تو آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دن (ف۱۳۱) تم فرمادو کیا خدا سے تم نے کوئی عہد لے رکھا ہے جب تو اللہ ہرگز اپنا عہد خلاف نہ کرے گا (ف۱۳۲) یا خدا پر وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں -
81ہاں کیوں نہیں جو گناہ کمائے اور اس کی خطا اسے گھیر لے (ف۱۳۳) وہ دوزخ والوں میں ہے انہیں ہمیشہ اس میں رہنا -
82اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا -
83اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو، (ف۱۳۴) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے اور لوگوں سے اچھی بات کہو (ف۱۳۵) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر تم پھِر گئے (ف۱۳۶) مگر تم میں کے تھوڑے (ف۱۳۷) اور تم رد گردان ہو-(ف۱۳۸)
84اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ اپنوں کا خون نہ کرنا اور اپنوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار کیا اور تم گواہ ہو-
85پھر یہ جو تم ہو اپنوں کو قتل کرنے لگے اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکالتے ہو ان پر مدد دیتے ہو (ان کے مخالف کو) گناہ اور زیادتی میں اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو بدلا دے کر چھڑا لیتے ہو اور ان کا نکالنا تم پر حرام ہے (ف۱۳۹) تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ کیا ہے مگر یہ کہ دنیا میں رسوا ہو (ف۱۴۰) اور قیامت میں سخت تر عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے اور اللہ تمہارے کوتکوں سے بے خبر نہیں -(ف۱۴۱)
86یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی مول لی تو نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ ان کی مدد کی جائے -
87اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی (ف۱۴۶) اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے (ف ۱۴۳) اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھیلی نشانیاں عطا فرمائیں (ف۱۴۴) اور پاک روح سے (ف۱۴۵) اس کی مدد کی (ف۱۴۶) تو کیا جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ لے کر آئے جو تمہارے نفس کی خواہش نہیں تکبر کرتے ہو تو ان (انبیاء) میں ایک گروہ کو تم جھٹلاتے ہو اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہو -(ف۱۴۷)
88اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں (ف۱۴۸) بلکہ اللہ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں- (ف۱۴۹)
89اور جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کی تصدیق فرماتی ہے (ف۱۵۰) اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے (ف۱۵۱) تو جب تشریف لایا انکے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے (ف۱۵۲) تو اللہ کی لعنت منکروں پر -
90کس برے مولوں انہوں نے اپنی جانوں کو خریدا کہ اللہ کے اتارے سے منکر ہوں (ف۱۵۳) اس کی جلن سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہے وحی اتارلے (ف۱۵۴) تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے (ف۱۵۵) اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے -(ف۱۵۶)
91اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کے اتارے پر ایمان لاؤ (ف۱۵۷) تو کہتے ہیں وہ جو ہم پر اترا اس پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۵۸) اور باقی سے منکر ہوتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے ان کے پاس والے کی تصدیق فرماتا ہوا (ف۱۵۹) تم فرماؤ کہ پھر اگلے انبیاء کو کیوں شہید کیا اگر تمہیں اپنی کتاب پر ایمان تھا -(ف۱۶۰)
92اور بیشک تمہارے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر تشریف لایا پھر تم نے اس کے بعد (ف۱۶۱) بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظالم تھے-(ف۱۶۲)
93اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے پیمان لیا (ف۱۶۳) او ر کوہ ِ طور کو تمہارے سروں پر بلند کیا، لو جو ہم تمہیں دیتے ہیں زور سے اور سنو بولے ہم نے سنا اور نہ مانا اور ان کے دلوں میں بچھڑا رچ رہا تھا ان کے کفر کے سبب تم فرمادو کیا برا حکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو-(ف۱۶۴)
94تم فرماؤ اگر پچھلا گھر اللہ کے نزدیک خالص تمہارے لئے ہو، نہ اوروں کے لئے تو بھلا موت کی آرزو تو کرو اگر سچے ہو-(ف۱۶۵)
95اور ہرگز کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے (ف۱۶۶) ان بداعمالیوں کے سبب جو آگے کرچکے (ف۱۶۷) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو-
96اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں اور مشرکوں سے ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جئے (ف۱۶۸) اور وہ اسے عذاب سے دور نہ کرے گا اتنی عمر دیا جانا اور اللہ ان کے کوتک دیکھ رہا ہے،
97تم فرمادو جو کوئی جبریل کا دشمن ہو (ف۱۶۹) تو اس (جبریل) نے تو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ قرآن اتارا اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتا اور ہدایت و بشارت مسلمانوں کو-(ف۱۷۰)
98جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا (ف۱۷۱)
99اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اتاریں (ف۱۷۶) اور ان کے منکر نہ ہوں گے مگر فاسق لوگ -
100اور کیا جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں ان میں کا ایک فریق اسے پھینک دیتا ہے بلکہ ان میں بہتیروں کو ایمان نہیں -(ف۱۷۳)
101اور جب ان کے پاس تشریف لایا اللہ کے یہاں سے ایک رسول (ف۱۷۴) ان کی کتابوں کی تصدیق فرماتا (ف۱۷۵) تو کتاب والوں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب پیٹھ پیچھے پھینک دی (ف۱۷۶) گویا وہ کچھ علم ہی نہیں رکھتے -(ف۱۷۷)
102اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں (ف۱۷۸) اور سلیمان نے کفر نہ کیا (ف۱۷۹) ہاں شیطان کافر ہوئے (ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا- (ف۱۸۳)
103اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۱۸۴) اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا -
104اے ایمان والو! (ف۱۸۵) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو (ف۱۸۶) اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے- (ف۱۸۷)
105وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (ف۱۸۸) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (ف۱۸۹) اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے -
106جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں (ف۱۹۰) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے-
107کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار،
108کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا (ف۱۹۱) اور جو ایمان کے بدلے کفر لے (ف۱۹۲) وہ ٹھیک راستہ بہک گیا -
109بہت کتابیوں نے چاہا (ف۱۹۳) کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے (ف۱۹۴) بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے -
110اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو (ف۱۹۵) اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے-
111اور اہل کتاب بولے، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو (ف۱۹۶) یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل (ف۱۹۷) اگر سچے ہو-
112ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے (ف۱۹۸) تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم-(ف۱۹۹)
113اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں-
114اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے (ف۲۰۴) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰۶) اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب - (ف۲۰۷)
115اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے،
116اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں،
117نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا (ف۲۱۰) اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورا ً ہوجاتی ہے-(ف۲۱۱)
118اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱۴) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے -(ف۲۱۶)
119بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا -(ف۲۱۷)
120اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا او ر نہ مددگار (ف۲۲۰)
121جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں -(ف۲۲۱)
122اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا او ر وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی -
123اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو -
124اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲۴) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا-(ف۲۲۶)
125اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل ؑ کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے -
126اور جب عرض کی ابراہیم ؑ نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب ِ دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی-
127اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم ؑ اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل ؑ یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا،
128اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔
129اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳۴) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (ف۲۳۶) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا-
130اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا (ف۲۳۹) اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے -(ف۲۴۰)
131جبکہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا-
132اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان -
133بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲۴۱) جب یعقوب ؑ کو موت آئی جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ (ف۲۴۲) و اسحاقؑ کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں،
134یہ (ف۲۴۳) ایک امت ہے کہ گزرچکی (ف۲۴۴) ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی-
135اور کتابی بولے (ف۲۴۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم ؑ کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے -(ف۲۴۶)
136یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں-
137پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲۴۷) تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا -(ف۲۴۸)
138ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی (ف۲۴۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں،
139تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں- (ف۲۵۲)
140بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوب ؑ اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵۴) اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بے خبر نہیں-
141وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔
142اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے (ف۲۵۶) تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔
143اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب!تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ (ف۲۶۰) اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے (ف۲۶۱) بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔
144ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲۶۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲۶۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲۶۴) اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں-
145اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲۶۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲۶۶) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲۶۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔
146جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲۶۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (ف۲۶۹) اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -(ف۲۷۰)
147(اے سننے والو) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا -
148اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بیشک اللہ جو چاہے کرے-
149اور جہاں سے ا ٓ ؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں-
150اور اے محبوب تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷۴) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ،
151جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷۴) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا،
152تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو-
153اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے -
154اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں-(ف۲۸۱)
155اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو -
156کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا-(ف۲۸۴)
157یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دروُ دیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں،
158بیشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸۶) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے خبردار ہے-
159بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت -(ف۲۸۹)
160مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان،
161بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی، (ف۲۹۰)
162ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے،
163اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱) اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان
164بیشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں،
165اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے،
166جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹۴)
167اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں
168اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹۶) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
169وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا اور یہ کہ اللہ پر وہ بات جوڑو جس کی تمہیں خبر نہیں،
170اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸)
171اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
172اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو (ف۳۰۱)
173اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰۴) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو نا چار ہو (ف۳۰۶) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
174وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتےہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
175وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب، تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت) ہے
176یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں،
177کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں،
178اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳۴۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱۶) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقا ضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے
179اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو (ف۳۱۹) کہ تم کہیں بچو،
180تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر،
181تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
182پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
183اے ایمان والو! (ف۳۲۴) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے، ف۳۲۵)
184گنتی کے دن ہیں (ف۳۲۶) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰)
185رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو،
186اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳۴) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں،
187روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳۶) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳۴۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳۴۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳۴۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے،
188اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳۴۳) جان بوجھ کر،
189تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳۴۴) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳۴۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳۴۶) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آ ؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آ ؤ (ف۳۴۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ
190اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳۴۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳۴۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو،
191اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵۴) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵۶) کافروں کی یہی سزا ہے،
192پھر اگر وہ باز رہیں (ف۳۵۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
193اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں (ف۳۵۸) تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر،
194ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے،
195اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳۶۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳۶۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں،
196اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳۶۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳۶۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳۶۴) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳۶۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳۶۶) تو بدلے دے روزے (ف۳۶۷) یا خیرات (ف۳۶۸) یا قربانی، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳۶۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،
197حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷۴) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷۶) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو، ف۳۷۸)
198تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے، ف۳۸۳)
199پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸۴) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
200پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸۶) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں،
201اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷)
202ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹)
203اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے،
204اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے،
205اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں
206اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے،
207اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹۴) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے،
208اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
209اور اگر اس کے بعد بھی بچلو کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے (ف۳۹۷) تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے،
210کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے،
211بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف۴۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف۴۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
212کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف۴۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف۴۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف۴۰۴) اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے،
213لوگ ایک دین پر تھے (ف۴۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف۴۰۶) اور ڈر سناتے (ف۴۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف۴۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف۴۰۹) بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف۴۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے،
214کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف۴۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف۴۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف۴۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے،
215تم سے پوچھتے ہیں (ف۴۱۴) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف۴۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف۴۱۶)
216تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف۴۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۴۱۸)
217تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف۴۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف۴۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف۴۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف۴۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف۴۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲۴) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف۴۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
218وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیداور ہیں، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۴۲۵-الف)
219تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف۴۲۶) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا،
220اور ا ٓ خرت کے کام سوچ کر کرو (ف۴۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف۴۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے،
221اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف۴۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف۴۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف۴۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف۴۳۴) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں،
222اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف۴۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو،
223تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف۴۳۶) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف۴۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو،
224اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف۴۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے،
225اور تمہیں نہیں پکڑ تا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف۴۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
226اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے
227اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے(ف۴۴۰)
228اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف۴۴۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف۴۴۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف۴۴۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف۴۴۴) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف۴۴۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
229یہ طلاق (ف۴۴۶) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف۴۴۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف۴۴۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف۴۴۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف۴۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف۴۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف۴۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں،
230پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف۴۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف۴۵۴) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے،
231اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف۴۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف۴۵۶) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف۴۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف۴۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف۴۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف۴۶۰) اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف۴۶۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۶۲)
232اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف۴۶۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف۴۶۴) جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں (ف۴۶۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
233اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف۴۶۶) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف۴۶۷) اور جس کا بچہ ہے (ف۲۶۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف۴۶۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف۴۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف۴۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف۴۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
234اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپن ے آپ کو روکے رہیں (ف۴۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مؤاخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
235اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف۴۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف۴۷۶) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
236تم پر کچھ مطالبہ نہیں (ف۴۷۷) تم عورتوں کو طلاق دو جب تک تم نے ان کو ہاتھ ن ہ لگایا ہو یا کوئی مہر مقرر کرلیا ہو (ف۴۷۸) اور ان کو کچھ برتنے کو دو (ف۴۷۹) مقدور والے پر اس کے لائق اور تنگدست پر اس کے لائق حسب دستور کچھ برتنے کی چیز یہ واجب ہے بھلائی والوں پر (ف۴۸۰)
237اور اگر تم نے عورتوں کو بے چھوئے طلاق دے دی اور ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جتنا ٹھہرا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑدیں (ف۴۸۱) یا وہ زیاد ه دے (ف۴۸۲) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (ف۴۸۳) اور اے مرَدو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بُھلا نہ دو بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۴۸۴)
238نگہبانی کرو سب نمازوں کی (ف۴۸۵) اور بیچ کی نماز کی (ف۴۸۶) اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے(ف۴۸۷)
239پھر اگر خوف میں ہو تو پیادہ یا سوار جیسے بن پڑے پھر جب اطمینان سے ہو تو اللہ کی یاد کرو جیسا اس نے سکھایا جو تم نہ جانتے تھے،
240اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کرجائیں (ف۴۸۸) سال بھر تک نان نفقہ دینے کی بے نکالے (ف۴۸۹) پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مؤاخذہ نہیں جو انہوں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
241اور طلاق والیوں کے لئے بھی مناسب طور پر نان و نفقہ ہے، یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر،
242اللہ یونہی بیان کرتا ہے تمہارے لئے اپنی آیتیں کہ کہیں تمہیں سمجھ ہو،
243اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں (ف۴۹۰)
244اور لڑو اللہ کی راہ میں (ف۴۹۱) اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے،
245ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے (ف۴۹۲) تو اللہ اس کے لئے بہت گنُا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائیش کرتا ہے (ف۴۹۳) اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا،
246اے محبوب !کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا (ف۴۹۴) جب اپنے ایک پیغمبر سے بولے ہمارے لیے کھڑا کردو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں، نبی نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو، بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے (ف۴۹۵) تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے (ف۴۹۶) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو،
247اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے (ف۴۹۷) بولے اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہوگی (ف۴۹۸) اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی (ف۴۹۹) فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا (ف۵۰۰) اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی (ف۵۰۱) اور اللہ اپنا ملک جسے چاہ ے دے (ف۵۰۲) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے (ف۵۰۳)
248اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت (ف۵۰۴) جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسی ٰ او ر معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے، بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو،
249پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا بولا بیشک اللہ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے تو جو اس کا پانی پئے وہ میرا نہیں اور جو نہ پیئے وہ میرا ہے مگر وہ جو ایک چلُو اپنے ہاتھ سے لے لے (ف۵۰۶) تو سب نے اس سے پیا مگر تھوڑوں نے (ف۵۰۷) پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ کے مسلمان نہر کے پار گئے بولے ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں کی بولے وہ جنہیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے، اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے (ف۵۰۸)
250پھر جب سامنے آئے جالوت اور اس کے لشکروں کے عرض کی اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل اور ہمارے پاؤں جمے رکھ کافر لوگوں پرہماری مدد کر،
251تو انہوں نے ان کو بھگا دیا اللہ کے حکم سے، اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو (ف۵۰۹) اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت (ف۵۱۰) عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا (ف۵۱۱) اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے (ف۵۱۲) تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے،
252یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم اے محبوب تم پر ٹھیک ٹھیک پڑھتے ہیں، اور تم بےشک رسولوں میں ہو۔
253یہ (ف۵۱۳) رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر افضل کیا (ف۵۱۴) ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا (ف۵۱۵) اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا (ف۵۱۶) اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی نشانیاں دیں (ف۵۱۷) اور پاکیزہ روح سے اس کی مدد کی (ف۵۱۸) اور اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے آپس میں نہ لڑتے نہ اس کے کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکیں (ف۵۱۹) لیکن وہ مختلف ہوگئے ان میں کوئی ایمان پر رہا اور کوئی کافر ہوگیا (ف۵۲۰) اور اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے مگر اللہ جو چاہے کرے(ف۵۲۱)
254اے ایمان والو! اللہ کی راہ میں ہمارے دیئے میں سے خرچ کرو وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ خرید و فروخت ہے اور نہ کافروں کے لئے دوستی اور نہ شفاعت، اور کافر خود ہی ظالم ہیں (ف۵۲۲)
255اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۵۲۳) وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا (ف۵۲۴) اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند (ف۵۲۵) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۵۲۶) وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بغیر اس کے حکم کے (ف۵۲۷) جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۵۲۹) اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے (ف۵۲۹) اس کی کرسی میں سمائے ہوئے آسمان اور زمین (ف۵۳۰) اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا (ف۵۳۱)
256کچھ زبردستی نہیں (ف۵۳۲) دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے (ف۵۳۳) اس نے بڑی محکم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں، اور اللہ سنتا جانتا ہے،
257اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے (ف۵۳۴) نور کی طرف نکلتا ہے، اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا،
258اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر (ف۵۳۵) کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی (ف۵۳۶) جبکہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جِلاتا اور مارتا ہے (ف۵۳۷) بولا میں جِلاتا اور مارتا ہوں (ف۵۳۸) ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو لاتا ہے پورب (مشرق) سے تو اس کو پچھم (مغرب) سے لے آ (ف۵۳۹) تو ہوش اڑ گئے کافروں کے، اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو،
259یا اس کی طرح جو گزرا ایک بستی پر (ف۵۴۰) اور وہ ڈھئی (مسمار ہوئی) پڑی تھی اپنی چھتوں پر (ف۵۴۱) بولا اسے کیونکر جِلائے گا اللہ اس کی موت کے بعد تو اللہ نے اسے مردہ رکھا سو برس پھر زندہ کردیا، فرمایا تو یہاں کتنا ٹھہرا، عرض کی دن بھر ٹھہرا ہوں گا یا کچھ کم، فرمایا نہیں تجھے سو برس گزر گئے اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ اب تک بو نہ لایا اور اپنے گدھے کو دیکھ کہ جس کی ہڈیاں تک سلامت نہ رہیں اور یہ اس لئے کہ تجھے ہم لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور ان ہڈیوں کو دیکھ کیونکر ہم انہیں اٹھان دیتے پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں جب یہ معاملہ اس پر ظاہر ہوگیا بولا میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
260اور جب عرض کی ابراہیم نے (ف۵۴۲) اے رب میرے مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جِلائے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں (ف۵۴۳) عرض کی یقین کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے (ف۵۴۴) فرمایا تو اچھا، چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلالے (ف۵۴۵) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے (ف۵۴۶) اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے
261ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵۴۷) اس دانہ کی طرح جس نے اگائیں سات بالیں (ف۵۴۸) ہر بال میں سو دانے (ف۵۴۹) اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
262وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵۵۰) پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں (ف۵۵۱) ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم،
263اچھی بات کہنا اور درگزر کرنا (ف۵۵۲) اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو (ف۵۵۳) اور اللہ بے پراہ حلم والا ہے،
264اے ایمان والوں اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر (ف۵۵۴) اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے، تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا (ف۵۵۵) اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
265اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو (ف۵۵۶) اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ (رتیلی زمین) پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دُونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے (ف۵۵۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۵۵۸)
266کیا تم میں کوئی اسے پسند رکھے گا (ف۵۵۹) کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا (ف۵۶۰) جس کے نیچے ندیاں بہتیں اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھلوں سے ہے (ف۵۶۱) اور اسے بڑھاپا آیا (ف۵۶۲) اور اس کے ناتوان بچے ہیں (ف۵۶۳) تو آیا اس پر ایک بگولا جس میں آگ تھی تو جل گیا (ف۵۶۴) ایسا ہی بیان کرتا ہے اللہ تم سے اپنی آیتیں کہ کہیں تم دھیان لگاؤ (ف۵۶۵)
267اے ایمان والو! اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو (ف۵۶۶) اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا (ف۵۶۷) اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تو اس میں سے (ف۵۶۸) اور تمہیں ملے تو نہ لوگے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو اور جان رکھو کہ اللہ بے پروانہ سراہا گیا ہے۔
268شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے (ف۵۶۹) محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا (ف۵۷۰) اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا (ف۵۷۱) اور اللہ وسعت و الا علم والا ہے،
269اللہ حکمت دیتا ہے (ف۵۷۲) جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی، اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے،
270اور تم جو خرچ کرو (ف۵۷۳) یا منت مانو (ف۵۷۴) اللہ کو اس کی خبر ہے (ف۵۷۵) اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
271اگر خیرات اعلانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے (ف۵۷۶) اور اسمیں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
272انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں، (ف۵۷۷) ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے (ف۵۷۸) اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لئے، اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤ گے،
273ان فقیروں کے لئے جو راہ خدا میں روکے گئے (ف۵۷۹) زمین میں چل نہیں سکتے (ف۵۸۰) نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب (ف۵۸۱) تو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا (ف۵۸۲) لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑ گڑانا پڑے اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے،
274وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر (ف۵۸۳) ان کے لئے ان کا نیگ (انعام، حصہ) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم،
275وہ جو سود کھاتے ہیں (ف۵۸۴) قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر، جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ہو (ف۵۸۵) اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے، اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود، تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا، (ف۵۸۶) اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے (ف۵۸۷) اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتو ں رہیں گے (ف۵۸۸)
276اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو (ف۵۸۹) اور بڑھاتا ہے خیرات کو (ف۵۹۰) اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار،
277بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰة دی ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے، اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو، نہ کچھ غم،
278اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو (ف۵۹۱)
279پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا (ف۵۹۲) اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہچاؤ (ف۵۹۳) نہ تمہیں نقصان ہو (ف۵۹۴)
280اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک، اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو(ف۵۹۵)
281اور ڈرو اس دن سے جس میں اللہ کی طرف پھرو گے، اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھردی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف۵۹۶)
282اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کسی دین کا لین دین کرو (ف۵۹۷) تو اسے لکھ لو (ف۵۹۸) اور چاہئے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا ٹھیک ٹھیک لکھے (ف۵۹۹) اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللہ نے سکھایا ہے (ف۶۰۰) تو اسے لکھ دینا چاہئے اور جس بات پر حق آتا ہے وہ لکھا تا جائے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ رکھ نہ چھوڑے پھر جس پر حق آتا ہے اگر بے عقل یا ناتواں ہو یا لکھا نہ سکے (ف۶۰۱) تو اس کا ولی انصاف سے لکھائے، اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے (ف۶۰۲) پھر اگر دو مرد نہ ہوں(ف۶۰۳) تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو (ف۶۰۴) کہ کہیں ان میں ایک عورت بھولے تو اس کو دوسری یاد دلادے، اور گواہ جب بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں (ف۶۰۵) اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے اس میں گواہی خوب ٹھیک رہے گی اور یہ اس سے قریب ہے کہ تمہیں شبہ نہ پڑے مگر یہ کہ کوئی سردست کا سودا دست بدست ہو تو اس کے نہ لکھنے کا تم پر گناہ نہیں (ف۶۰۶) اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ کرلو (ف۶۰۷) اور نہ کسی لکھنے والے کو ضَرر دیا جائے، نہ گواہ کو (یا، نہ لکھنے والا ضَرر دے نہ گواہ) (ف۶۰۸) اور جو تم ایسا کرو تو یہ تمہارا فسق ہوگا، اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
283اور اگر تم سفر میں ہو (ف۶۰۹) اور لکھنے والا نہ پاؤ (ف۶۱۰) تو گِرو (رہن) ہو قبضہ میں دیا ہوا (ف۶۱۱) اور اگر تم ایک کو دوسرے پر اطمینان ہو تو وہ جسے اس نے امین سمجھا تھا (ف۶۱۲) اپنی امانت ادا کردے (ف۶۱۳) اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ (ف۶۱۴) اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اسکا دل گنہگار ہے (ف۶۱۵) اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
284اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ (ف۶۱۶) تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا (ف۶۱۷) تو جسے چاہے گا بخشے گا (ف۶۱۸) اور جسے چاہے گا سزادے گا (ف۶۱۹) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
285سب نے مانا (ف۶۲۰) اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو (ف۶۲۱) یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے (ف۶۲۲) اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا (ف۶۲۳) تیری معافی ہو اے رب ہمارے! اور تیری ہی طرف پھرنا ہے،
286اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر، اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی (ف۶۲۴) اے رب ہمارے! ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں (ف۶۲۵) یا چوُکیں اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا، اے رب ہمارے! اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (برداشت) نہ ہو اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مہر کر تو ہمارا مولیٰ ہے۔ تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔
Chapter 3 (Sura 3)
1الم،
2اللہ ہے جس کے سوا کسی کی پوجا نہیں (ف۲) آپ زندہ اور ونکا قائم رکھنے والا،
3اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری،
4لوگوں کو راہ دکھاتی اور فیصلہ اتارا، بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے (ف۳)ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے،
5اللہ پر کچھ چھپا ہوا نہیں زمین میں نہ آسمان میں،
6وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے (ف۴) اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا (ف۵)
7وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں (ف۶) وہ کتاب کی اصل ہیں (ف۷) اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے (ف۸) وہ جن کے دلوں میں کجی ہے (ف۹) وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں (ف۱۰) گمراہی چاہنے (ف۱۱) اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو (ف۱۲) اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے (ف۱۳) اور پختہ علم والے (ف۱۴) کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۵) سب ہمارے رب کے پاس سے ہے (ف۱۶) اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے (ف۱۷)
8اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک تو ہے بڑا دینے والا،
9اے رب ہمارے بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے (ف۱۸) اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں (ف۱۹) بیشک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا (ف۲۰)
10بیشک وہ جو کافر ہوئے (ف۲۱) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ سے انہیں کچھ نہ بچاسکیں گے اور وہی دوزخ کے ایندھن ہیں،
11جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا طریقہ، انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑا اور اللہ کا عذاب سخت،
12فرمادو، کافروں سے کوئی دم جاتا ہے کہ تم مغلوب ہوگے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے (ف۲۲) اور وہ بہت ہی برا بچھونا،
13بیشک تمہارے لئے نشانی تھی (ف۲۳) دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے (ف۲۴) ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا (ف۲۵) اور دوسرا کافر (ف۲۶) کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دونا سمجھیں، اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے (ف۲۷) بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے،
14لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت (ف۲۸) عورتوں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندے کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے (ف۲۹) اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا (ف۳۰)
15تم فرماؤ کیا میں تمہیں اس سے (ف۳۱) بہتر چیز بتادوں پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور ستھری بیبیاں (ف۳۲) اور اللہ کی خوشنودی (ف۳۳) اور اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۳۴)
16وہ جو کہتے ہیں ے رب ہمارے! ہم ایمان لائے تو ہمارے گناہ معاف کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
17صبر والے (ف۳۵) اور سچے (ف۳۶) اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہر سے معافی مانگنے والے (ف۳۷)
18اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۳۸) اور فرشتوں نے اور عالموں نے (ف۳۹) انصاف سے قائم ہوکر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا،
19بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے (ف۴۰) اور پھوٹ میں نہ پڑے کتابی (ف۴۱) مگر اس کے کہ انہیں علم آچکا (ف۴۲) اپنے دلو ں کی جلن سے (ف۴۳) اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہو تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے،
20پھر اے محبوب! اگر وہ تم سے حجت کریں تو فرمادو میں اپنا منہ اللہ کے حضور جھکائے ہوں اور جومیرے پیرو ہوئے (ف۴۴) اور کتابیوں اور اَن پڑھوں سے فرماؤ (ف۴۵) کیا تم نے گردن رکھی (ف۴۶) پس اگر وہ گردن رکھیں جب تو راہ پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو تم پر تو یہی حکم پہنچادینا ہے (ف۴۷) اور اللہ بندوں کو کو دیکھ رہا ہے،
21وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے (ف۴۸) اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درناک عذاب کی،
22یہ ہیں وہ جنکے اعمال اکارت گئے دنیا و آخرت میں (ف۴۹) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۵۰)
23کیا تم نے انہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا (ف۵۱) کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ وہ ان کا فیصلہ کرے پھر ان میں کا ایک گروہ اس سے روگرداں ہوکر پھر جاتا ہے (ف۵۲)
24یہ جرأت (ف۵۳) انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہرگز ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دنوں (ف۵۴) اور ان کے دین میں انہیں فریب دیا اس جھوٹ نے جو باندھتے تھے (ف۵۵)
25تو کیسی ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لئے جس میں شک نہیں (ف۵۶) اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر (بالکل پوری) دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
26یوں عرض کر، اے اللہ! ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے، بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے (ف۵۷)
27تو دن کا حصّہ رات میں ڈالے اور رات کا حصہ دن میں ڈالے (ف۵۸) اور مردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے (ف۵۹) اور جسے چاہے بے گنتی دے،
28مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا (ف۶۰) اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو (ف۶۱) اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
29تم فرمادو کہ اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے، اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے،
30جس دن ہر جان نے جو بھلا کیا حاضر پائے گی (ف۶۲) اور جو برا کام کیا، امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا (ف۶۳) اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے، اور اللہ بندوں پر مہربان ہے،
31اے محبوب! تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا (ف۶۴) اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
32تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا (ف۶۵) پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر،
33بیشک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آ ل اولاد اور عمران کی آ ل کو سارے جہاں سے (ف۶۶)
34یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے (ف۶۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
35جب عمران کی بی بی نے عرض کی (ف۶۸) اے رب میرے! میں تیرے لئے منت مانتی ہو جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے (ف۶۹) تو تو مجھ سے قبول کرلے بیشک تو ہی سنتا جانتا،
36پھر جب اسے جنا بولی، اے رب میرے! یہ تو میں نے لڑکی جنی (ف۷۰) اور اللہ جو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جنی، اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں (ف۷۱) اور میں نے اس کا نام مریم رکھا (ف۷۲) اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے،
37تو اسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا (ف۷۳) اور اسے اچھا پروان چڑھایا (ف۷۴) اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا، جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے (ف۷۵) کہا اے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے (ف۷۶)
38یہاں (ف۷۷) پکارا زکریا اپنے رب کو بولا اے رب! میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد، بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا،
39تو فرشتوں نے اسے آواز دی اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا (ف۷۸) بیشک اللہ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحییٰ کا جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی (ف۷۹) تصدیق کرے گا اور سردار (ف۸۰) اور ہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے (ف۸۱)
40بولا اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو پہنچ گیا بڑھا پا (ف۸۲) اور میری عورت بانجھ (ف۸۳) فرمایا اللہ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے (ف۸۴)
41عرض کی اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی کردے (ف۸۵) فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تین دن تو لوگوں سے بات نہ کرے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کی بہت یاد کر (ف۸۶) اور کچھ دن رہے اور تڑکے اس کی پاکی بول،
42اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تجھے چن لیا (ف۸۷) اور خوب ستھرا کیا (ف۸۸) اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا (ف۸۹)
43اے مریم اپنے رب کے حضور ادب سے کھڑی ہو (ف۹۰) اور اس کے لئے سجدہ کر اور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کر،
44یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں (ف۹۱) اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے(ف۹۲)
45اور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی (ف۹۳) جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار (باعزت) ہوگا (ف۹۴) دنیا اور آخرت میں اور قرب والا (ف۹۵)
46اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں (ف۹۶) اور پکی عمر میں (ف۹۷) اور خاصوں میں ہوگا، بولی اے میرے رب! میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا (ف۹۸)
47فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب، کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،
48اور اللہ سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل،
49اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف، یہ فرماتا ہو کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں (ف۹۹) تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مور ت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے (ف۱۰۰) اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو (ف۱۰۱) اور میں مُردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے (ف۱۰۲) اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو، (ف۱۰۳) بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو،
50اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلے کتاب توریت کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں (ف۱۰۴) اور میں تمہارے پاس پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں، تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
51بیشک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو (ف۱۰۵) یہ ہے سیدھا راستہ،
52پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر پایا (ف۱۰۶) بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف، حواریوں نے کہا (ف۱۰۷) ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے، اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں (ف۱۰۸)
53اے رب ہمارے! ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے اتارا اور رسول کے تابع ہوئے تو ہمیں حق پر گواہی دینے والوں میں لکھ لے،
54اور کافروں نے مکر کیا (ف۱۰۹) اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے (ف۱۱۰)
55یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا (ف۱۱۱) اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا (ف۱۱۲) اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا اور تیرے پیروؤں کو (ف۱۱۳) قیامت تک تیرے منکروں پر (ف۱۱۴) غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے تو میں تم میں فیصلہ فرمادوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو،
56تو وہ جو کافر ہوئے میں انہیں دنیاو آخرت میں سخت عذاب کروں گا، اور انکا کوئی مددگار نہ ہوگا،
57اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اللہ ان کا نیگ (انعام) انہیں بھرپور دے گا اور ظالم اللہ کو نہیں بھاتے،
58یہ ہم تم پر پڑھتے ہیں کچھ آیتیں اور حکمت والی نصیحت،
59عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے (ف۱۱۵) اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،
60اے سننے والے! یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو شک والوں میں نہ ہونا،
61پھر اے محبوب! جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آ ؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں (ف۱۱۶)
62یہی بیشک سچا بیان ہے (ف۱۱۷) اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۱۱۸) اور بیشک اللہ ہی غالب ہے حکمت والا،
63پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ فسادیوں کو جانتا ہے،
64تم فرماؤ، اے کتابیو! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے (ف۱۱۹) یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں (ف۱۲۰) اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا (ف۱۲۱) پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں،
65اے کتاب والو! ابراہیم کے باب میں کیوں جھگڑتے ہو توریت و انجیل تو نہ اتری مگر ان کے بعد تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲۲)
66سنتے ہو یہ جو تم ہو (ف۱۲۳) اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا (ف۱۲۴) تو اس میں (ف۱۲۵) کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۱۲۶)
67ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے، اور مشرکوں سے نہ تھے (ف۱۲۷)
68بیشک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے (ف۱۲۸) اور یہ نبی (ف۱۲۹) اور ایمان والے (ف۱۳۰) اور ایمان والوں کا ولی اللہ ہے،
69کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں، اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں (ف۱۳۱)
70اے کتابیو! اللہ کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو حالانکہ تم خود گواہی ہو (ف۱۳۲)
71اے کتابیو! حق میں باطل کیوں ملاتے ہو (ف۱۳۳) اور حق کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تمہیں خبر ہے،
72اور کتابیوں کا ایک گروہ بولا (ف۱۳۴) وہ جو ایمان والوں پر اترا (ف۱۳۵) صبح کو اس پر ایمان لاؤ اور شام کو منکر ہوجاؤ شاید وہ پھر جائیں (ف۱۳۶)
73اور یقین نہ لاؤ مگر اس کا جو تمہارے دین کا پیرو ہو تم فرمادو کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۱۳۷) (یقین کا ہے کا نہ لاؤ) اس کا کہ کسی کو ملے (ف۱۳۸) جیسا تمہیں ملا یا کوئی تم پر حجت لاسکے تمہارے رب کے پاس (ف۱۳۹) تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
74اپنی رحمت سے (ف۱۴۰) خاص کرتا ہے جسے چاہے (ف۱۴۱) اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
75اور کتابیوں میں کوئی وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک ڈھیر امانت رکھے تو وہ تجھے ادا کردے گا (ف۱۴۲) اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے (ف۱۴۳) یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں (ف۱۴۴) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں اور اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں(ف۱۴۵)
76ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں،
77جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں (ف۱۴۶) آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے (ف۱۴۷)
78اور ان میں کچھ وہ ہیں جو زبان پھیر کر کتاب میں میل (ملاوٹ) کرتے ہیں کہ تم سمجھو یہ بھی کتاب میں ہے اور وہ کتاب میں نہیں، اور وہ کہتے ہیں یہ اللہ کے پاس سے ہے اور وہ اللہ کے پاس سے نہیں، اور اللہ پر دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھتے ہیں (ف۱۴۸)
79کسی آدمی کا یہ حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم و پیغمبری دے (ف۱۴۹) پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ (ف۱۵۰) ہاں یہ کہے گا کہ اللہ والے (ف۱۵۱) ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو(ف۱۵۲)
80اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا (ف۱۵۳) کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹھیرالو، کیا تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہولیے (ف۱۵۴)
81اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا (ف۱۵۵) جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (ف۱۵۶) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے (ف۱۵۷) تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں،
82تو جو کوئی اس (ف۱۵۸) کے بعد پھرے (ف۱۵۹) تو وہی لوگ فاسق ہیں (ف۱۶۰)
83تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں (ف۱۶۱) اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱۶۲) خوشی سے (ف۱۶۳) سے مجبوری سے (ف۱۶۴)
84اور اُسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے (ف۱۶۵) اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں
85اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے،
86کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے (ف۱۶۶) اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول (ف۱۶۷) سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں (ف۱۶۸) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا
87ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی،
88ہمیشہ اس میں رہیں، نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے،
89مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی (ف۱۶۹) اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
90بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۱۷۰) ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی (ف۱۷۱) اور وہی ہیں بہکے ہوئے،
91وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔
92تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو (ف۱۷۲) اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے،
93سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوبؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو(ف۱۷۳)
94تو اس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۷۴) تو وہی ظالم ہیں،
95تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو (ف۱۷۵) جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے،
96بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (ف۱۷۶)
97اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ف۱۷۷) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ف۱۷۸) اور جو اس میں آئے امان میں ہو (ف۱۷۹) اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (ف۱۸۰) اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے (ف۱۸۱)
98تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے (ف۱۸۲) اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں،
99تم فرماؤ اے کتابیو! کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو (ف۱۸۳) اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو (ف۱۸۴) اور اللہ تمہارے کوتکوں (برے اعمال، کرتوت) سے بے خبر نہیں،
100اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے(ف۱۸۵)
101اور تم کیوں کر کفر کروگے تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف لایا اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا،
102اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان،
103اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۱۸۶) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) (ف۱۸۷) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے (ف۱۸۸) اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے (ف۱۸۹) تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا (ف۱۹۰) اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ،
104اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مراد کو پہنچے (ف۱۹۲)
105اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں (ف۱۹۴) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،
106جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے (ف۱۹۵) کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے (ف۱۹۶) تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ،
107اور وہ جن کے منہ اونجالے ہوئے (ف۱۹۷) وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے،
108یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں، اور اللہ جہاں والوں پر ظلم نہیں چاہتا(ف۱۹۸)
109اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے،
110تم بہتر ہو (ف۱۹۹) ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر کتابی ایمان لاتے (ف۲۰۰) تو ان کا بھلا تھا، ان میں کچھ مسلمان ہیں (ف۲۰۱) اور زیادہ کافر،
111وہ تمہارے کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا (ف۲۰۲) اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے (ف۲۰۳) پھر ان کی مدد نہ ہوگی،
112ان پر جمادی گئی خواری جہاں ہوں امان نہ پائیں (ف۲۰۴) مگر اللہ کی ڈور (ف۲۰۵) اور آدمیوں کی ڈور سے (ف۲۰۶) اور غضب الٰہی کے سزاوار ہوئے اور ان پر جمادی گئی محتاجی (ف۲۰۷) یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے، یہ اس لئے کہ نا فرمانبردار اور سرکش تھے،
113سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں (ف۲۰۸) اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں (ف۲۰۹)
114اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں (ف۲۱۰) اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ لائق ہیں،
115اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے (ف۲۱۱)
116وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد (ف۲۱۲) ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۲۱۳)
117کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں (ف۲۱۴) خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مارگئی (ف۲۱۵) اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،
118اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ (ف۲۱۶) وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے بیَر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ (ف۲۱۷) جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے، ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو (ف۲۱۸)
119سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو (ف۲۱۹) اور وہ تمہیں نہیں چاہتے (ف۲۲۰) اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہو (ف۲۲۱) اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے (ف۲۲۲) اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن (قلبی جلن) میں (ف۲۲۳) اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات،
120تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے (ف۲۲۴) اور تم کہ برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں، اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو (ف۲۲۵) تو ان کا داؤ تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا، بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں،
121اور یاد کرو اے محبوب! جب تم صبح کو (ف۲۲۶) اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مور چوں پر قائم کرتے (ف۲۲۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
122جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کرجائیں (ف۲۲۸) اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
123اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے (ف۲۲۹) تو اللہ سے ڈرو کہیں تم شکر گزار ہو،
124جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر،
125ہا ں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰)
126اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے (ف۲۳۱) اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے (ف۲۳۲)
127اس لئے کہ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے (ف۲۳۳) یا انہیں ذلیل کرے کہ نامراد پھر جائیں،
128یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں،
129اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
130اے ایمان والوں سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳۴) اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے،
131اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے (ف۲۳۵)
132اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو (ف۲۳۶) اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ،
133اور دوڑو (ف۲۳۷) اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے
134(ف۲۳۹) وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (ف۲۴۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں،
135اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۲۴۱) اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں (ف۲۴۲) اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں،
136ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں (ف۲۴۳) جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے (ف۲۴۴)
137تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں (ف۲۴۵) تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۲۴۶)
138یہ لوگوں کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہے،
139اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ (ف۲۴۷) تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو،
140اگر تمہیں (ف۲۴۸) کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں (ف۲۴۹) اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں (ف۲۵۰) اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی (ف۲۵۱) اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو،
141اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے (ف۲۵۲) اور کافروں کو مٹادے (ف۲۵۳)
142کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی(ف۲۵۴)
143اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے (ف۲۵۵) تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے،
144اور محمد تو ایک رسول (ف۲۵۶) ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (ف۲۵۷) تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا،
145اور کوئی جان بے حکم خدا مر نہیں سکتی (ف۲۵۹) سب کا وقت لکھا رکھا ہے (ف۲۶۰) اور دنیا کا انعام چاہے ۰ف۲۶۱) ہم اس میں سے اسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں (ف۲۶۲) اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں،
146اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے، تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے (ف۲۶۳) اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں،
147اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے (ف۲۶۴) کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام کیں (ف۲۶۵) اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے(ف۲۶۶)
148تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا (ف۲۶۷) اور آخرت کے ثواب کی خوبی (ف۲۶۸) اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں،
149اے ایمان والو! اگر تم کافروں کے کہے پر چلے (ف۲۶۹) تو وہ تمہیں الٹے پاؤں لوٹادیں گے (ف۲۷۰) پھر ٹوٹا کھا کے پلٹ جاؤ گے (ف۲۷۱)
150بلکہ اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار،
151کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے (ف۲۷۲) کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا،
152اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے (ف۲۷۳) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا (ف۲۷۴) اور نافرمانی کی (ف۲۷۵) بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات (ف۲۷۶) تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا (ف۲۷۷) اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا (ف۲۷۸) پھر تمہارا منہ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے (ف۲۷۹) اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے،
153جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (ف۲۸۰) تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا (ف۲۸۱) اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے،
154پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری (ف۲۸۲) کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی (ف۲۸۳) اور ایک گروہ کو (ف۲۸۴) اپنی جان کی پڑی تھی (ف۲۸۵) اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے (ف۲۸۶) جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے (ف۲۸۷) اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا (ف۲۸۹) تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے (ف۲۹۰) اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے (ف۲۹۱) اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے(ف۲۹۲)
155بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے (ف۲۹۳) جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث (ف۲۹۴) اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
156اے ایمان والو! ان کافروں (ف۲۹۵) کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ جب وہ سفر یا جہاد کو گئے (ف۲۹۶) کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے اتے اس لئے اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے، اور اللہ جِلاتا اور مارتا ہے (ف۲۹۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
157اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (ف۲۹۹) ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے،
158اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے (ف۳۰۰)
159تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے (ف۳۰۱) اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے (ف۳۰۲) تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ او ر ان کی شفاعت کرو (ف۳۰۳) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (ف۳۰۴) اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو (ف۳۰۵) بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں،
160اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا (ف۳۰۶) اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
161اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے (ف۳۰۷) اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
162تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا (ف۳۰۸) وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا (ف۳۰۹) اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا بری جگہ پلٹنے کی،
163وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں (ف۳۱۰) اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے،
164بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا (ف۳۱۱) مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے (ف۳۱۲) ایک رسول (ف۳۱۳) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے (ف۳۱۴) اور انہیں پاک کرتا ہے (ف۳۱۵) اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے (ف۳۱۶) اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے(ف۳۱۷)
165کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۳۱۸) کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو (ف۳۱۹) تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی (ف۳۲۰) تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی (ف۳۲۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
166اور وہ مصیبت جو تم پر آئی (ف۳۲۲) جس دن دونوں فوجیں (ف۳۲۳) ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی،
167اور اس لئے کہ پہچان کرادے، ان کی جو منافق ہوئے (ف۳۲۴) اور ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ (ف۳۲۶) اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ (ف۳۲۷) بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے، اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپارہے ہیں (ف۳۲۸)
168وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں (ف۳۲۹) کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہا مانتے (ف۳۳۰) تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو(ف۳۳۱)
169اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے (ف۳۳۲) ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں (ف۳۳۳)
170شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۳۳۴) اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے (ف۳۳۵) کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،
171خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا(ف۳۳۶)
172وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا (ف۳۳۷) ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے،
173وہ جن سے لوگوں نے کہا (ف۳۳۸) کہ لوگوں نے (ف۳۳۹) تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان س ے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز (ف۳۴۰)
174تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے (ف۳۴۱) کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے (ف۳۴۲) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۳۴۳)
175وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے (ف۳۴۴) تو ان سے نہ ڈرو (ف۳۴۵) اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو (ف ۳۴۶)
176اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں (ف۳۴۷) وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے (ف۳۴۸) اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے،
177وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا (ف۳۴۹) اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
178اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں (ف۳۵۰) اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے،
179اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو (ف۳۵۱) جب تک جدا نہ کردے گندے کو (ف۳۵۲) ستھرے سے (ف۳۵۳) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے (ف۳۵۴) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ (ف۳۵۵) اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے،
180اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
181بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب،
182یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
183وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے (ف۳۶۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو(ف۳۶۳)
184تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳۶۴) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے
185ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶)
186بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (ف۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے،
187اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲)
188ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
189اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
190بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷۶)
191جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
192اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
193اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱)
194اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا،
195تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے،
196اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵)
197تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا،
198لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸۶)
199اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے،
200اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو،
Chapter 4 (Sura 4)
1اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف۴) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،
2اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف۶) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے
3ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰)
4اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲)
5اور بے عقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱۴)
6اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱۶) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو،
7مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷)
8پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰)
9اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳)
10وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں (ف۲۴) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے،
11اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲۶) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳۴) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے،
12اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳۶) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے،
13یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، اور یہی ہے بڑی کامیابی،
14اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف۴۰)
15اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳)
16اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف۴۴) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۴۵)
17وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف۴۶) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
18اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب م یں نے توبہ کی (ف۴۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف۴۹)
19اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵۴) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے(ف۵۵)
20اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵۶) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹)
21اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں(ف۶۰)
22اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی (ف۶۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ(ف۶۳)
23حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف۶۴) اور بیٹیاں (ف۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف۶۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
24اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷۴) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
25اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸۴) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
26اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے (ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
27اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ (ف۸۸)
28اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰)
29اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے
30اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے،
31اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹۴) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے،
32اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹۶) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
33اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
34مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی(ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے(ف۱۰۵)
35اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰۶) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸)
36اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱۴) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱۶) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷)
37جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائيں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے،
38اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے،
39اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے،
40اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے،
41تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲۴)
42اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵)
43اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲۶) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتو ں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،
44کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳۴) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳۶) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ،
45اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو (ف۱۳۷) اور اللہ کافی ہے والی (ف۱۳۸) اور اللہ کافی ہے مددگار،
46کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱۴۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱۴۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱۴۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱۴۳) زبانیں پھیر کر (ف۱۴۴) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱۴۵) اور اگر وہ (ف۱۴۶) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱۴۷)
47اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱۴۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱۴۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہوکر رہے،
48بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا،
49کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳)
50دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھا رہے ہیں (ف۱۵۴) اور یہ کافی ہے صریح گناہ،
51کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں،
52یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵)
53کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں،
54یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹)
55تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱۶۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱۶۲)
56جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
57اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱۶۴)
58بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱۶۶) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
59اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱۶۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا،
60کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰)
61اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں،
62کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا(ف۱۷۳)
63ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم ان سے چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا دو اور ان کے معاملہ میں ان سے رسا بات کہو (ف۱۷۴)
64اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں(ف۱۷۷)
65تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸)
66اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا
67اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے
68اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے،
69اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں،
70یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے جاننے والا،
71اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو
72اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا،
73اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے (ف۱۸۷) تو ضرو ر کہے گویا تم اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا،
74تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے،
75اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے،
76ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲)
77کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹۴) تو ان میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹۶) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا، تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے (ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لئے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸)
78تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور اُنہیں کوئی بھلائی پہنچے (ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے،
79اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۴) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا (ف۲۰۶) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷)
80جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا
81اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو،
82تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے (ف۲۱۳)
83اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱۴) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (ف۲۱۶) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں (ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور اُن سے اُ س کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (ف۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲) مگر تھوڑے (ف۲۲۳)
84تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (ف۲۲۴) تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲۶) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کڑا (زبردست)
85جو اچھی سفارش کرے (ف۲۲۸) اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۲۹) اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
86اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱)
87ا لله کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی (ف۲۳۲)
88تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے (ف۲۳۳) اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا (ف۲۳۴) ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب (ف۲۳۵) کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا،
89وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ (ف۲۳۶) جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں (ف۲۳۷) پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۲۳۸) تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار (ف۲۳۹)
90مگر جو ایسی قوم سے علاقے رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے (ف۲۴۰) یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں (ف۲۴۱) یا اپنی قوم سے لڑیں (ف۲۴۲) اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے (ف۲۴۳) پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی (ف۲۴۴)
91اب کچھ اور تم ایسے پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امان میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امان میں رہیں (ف۲۴۵) جب کبھی انکی قوم انہیں فساد (ف۲۴۶) کی طرف پھیرے تو اس پر اوندھے گرتے ہیں پھر اگر وہ تم سے کنارہ نہ کریں اور (ف۲۴۷) صلح کی گردن نہ ڈالیں اور اپنے ہاتھ سے نہ روکیں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور یہ ہیں جن پر ہم نے تمہیں صریح اختیار دیا(ف۲۴۸)
92اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر (ف۲۴۹) اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور خون بہا کر مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے (ف۲۵۰) مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ (ف۲۵۱) اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے (ف۲۵۲) اور خود مسلمان ہے تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا (ف۲۵۳) اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا (ف۲۵۴) تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے (ف۲۵۵) وہ لگاتار دو مہینے کے روزے (ف۲۵۶) یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے،
93اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے (ف۲۵۷) اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب،
94اے ایمان والو! جب تم جہاد کو چلو تو تحقیق کرلو اور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں (ف۲۵۷) تم جیتی دنیا کا اسباب چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہتری غنیمتیں ہیں پہلے تم بھی ایسے ہی تھے (ف۲۵۹) پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (ف۲۶۰) تو تم پر تحقیق کرنا لازم ہے (ف۲۶۱) بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
95برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں (ف۲۶۲) اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا (ف۲۶۳) اور اللہ نے سب سےبھلائی کا وعدہ فرمایا (ف۲۶۴) اور اللہ نے جہاد والوں کو (ف۲۶۵) بیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے،
96اُس کی طرف سے درجے اور بخشش اور رحمت (ف۲۶۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
97وہ لوگ جنکی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے انسے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے (ف۲۶۷) کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اسمیں ہجرت کرتے، تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور بہت بری جگہ پلٹنے کی(ف۲۶۸)
98مگر وہ جو دبالیے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے (ف۲۶۹) نہ راستہ جانیں،
99تو قریب ہے اللہ ایسوں کو معاف فرمائے (ف۲۷۰) اور اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے،
100اور جو اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر نکلے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور گنجائش پائے گا، اور جو اپنے گھر سے نکلا (ف۲۷۱) اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرتا پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ پر ہوگیا (ف۲۷۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
101اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو (ف۲۷۳) اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے (ف۲۷۴) بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں،
102اور اے محبوب! جب تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۲۷۵) پھر نماز میں ان کی امامت کرو (ف۲۷۶) تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو (ف۲۷۷) اور وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں (ف۲۷۸) پھر جب وہ سجدہ کرلیں (ف۲۷۹) تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں (ف۲۸۰) اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی (ف۲۸۱) اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہئے کہ اپنی پناہ اور اپنے ہتھیار لیے رہیں (ف۲۸۲) کافروں کی تمنا ہے کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو ایک دفعہ تم پر جھک پڑیں (ف۲۸۳) اور تم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینھ کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی پناہ لیے رہو (ف۲۸۴) بیشک اللہ نے کافروں کے لئے خواری کا عذاب تیار کر رکھا ہے،
103پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے (ف۲۸۵) پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسب دستور نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے(ف۲۸۶)
104اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے تو انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسا تمہیں پہنچتا ہے، اورتم اللہ سے وہ امید رکھتےہو جو وہ نہیں رکھتے، ور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے (ف۲۸۷)
105اے محبوب! بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ کرو (ف۲۸۸) جس طرح تمہیں اللہ دکھائے (ف۲۸۹) اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو
106اور اللہ سے معافی چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
107اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں (ف۲۹۰) بیشک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو
108آدمیوں سے چھپتے ہیں اور اللہ نہیں چھپتے(ف۲۹۱) اور ا لله ان کے پاس ہے (ف۲۹۲) جب دل میں وہ بات تجویز کرتے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے (ف۲۹۳) اور اللہ ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے،
109سنتے ہو یہ جو تم ہو (ف۲۹۴) دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑے تو ان کی طرف سے کون جھگڑے گا اللہ سے قیامت کے دن یا کون ان کا وکیل ہوگا،
110اور جو کوئی برائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا،
111اور جو گناہ کمائے تو ا س کی کمائی اسی کی جان پر پڑے اور اللہ علم و حکمت والا ہے (ف۲۹۵)
112اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے (ف۲۹۶) پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا،
113اور اے محبوب! اگر اللہ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتا (ف۲۹۷) تو ان میں کے کچھ لوگ یہ چاہتے کہ تمہیں دھوکا دے دیں اور وہ اپنے ہی آپ کو بہکا رہے ہیں (ف۲۹۸) اور تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے (ف۲۹۹) اور اللہ نے تم پر کتاب (ف۳۰۰) اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے (ف۳۰۱) اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے (ف۳۰۲)
114ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں (ف۳۰۳) مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے،
115اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی (ف۳۰۴)
116اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے (ف۳۰۵) اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا،
117یہ شرک والے اللہ سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو (ف۳۰۶) اور نہیں پوجتے مگر سرکش شیطان کو(ف۳۰۷)
118جس پر اللہ نے لعنت کی اور بولا (ف۳۰۸) قسم ہے میں ضرور تیرے بندوں میں سے کچھ ٹھہرایا ہوا حصہ لوں گا (ف۳۰۹)
119قسم ہے میں ضرور بہکادوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا (ف۳۱۰) اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے (ف۳۱۱) اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے، اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے وہ صریح ٹوٹے میں پڑا
120شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے (ف۳۱۳) اور شیطان انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب کے (ف۳۱۴)
121اُن کا ٹھکانا دوزخ ہے اس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے،
122اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کچھ دیر جاتی ہے کہ ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کا سچا وعدہ اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی،
123کام نہ کچھ تمہارے خیالوں پر ہے (ف۳۱۵) اور نہ کتاب والوں کی ہوس پر (ف۳۱۶) جو برائی کرے گا (ف۳۱۷) اس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گا نہ مددگار (ف۳۱۸)
124اور جو کچھ بھلے کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان (ف۳۱۹) تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے اور انہیں تِل بھر نقصان نہ دیا جائے گا
125اور اس سے بہتر کس کا دین جس نے اپنا منہ اللہ کے لئے جھکا دیا (ف۳۲۰) اور وہ نیکی والا ہے اور ابراہیم کے دین پر (ف۳۲۱) جو ہر باطل سے جدا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست بنایا (ف۳۲۲)
126اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے (ف۳۲۳)
127اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں (ف۳۲۴) تم فرمادو کہ اللہ تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انہیں نہیں دیتے جو ان کا مقرر ہے (ف۳۲۵) اور انہیں نکاح میں بھی لانے سے منہ پھیرتے ہو اور کمزور (ف۳۲۶) بچوں کے بارے میں اور یہ کہ یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو (ف۳۲۷) اور تم جو بھلائی کرو تو اللہ کو اس کی خبر ہے،
128اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے (ف۳۲۸) تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں (ف۳۲۹) اور صلح خوب ہے (ف۳۳۰) اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں (ف۳۳۱) اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو (ف۳۳۲) تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے(ف۳۳۳)
129اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو اور چاہے کتنی ہی حرص کرو (ف۳۳۴) تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر میں لٹکتی چھوڑ دو (ف۳۳۵) اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
130اور اگر وہ دونوں (ف۳۳۶) جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی کشائش سے تم میں ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گا (ف۳۳۷) اور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے،
131اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور بیشک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو (ف۳۳۸) اور اگر کفر کرو تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۳۳۹) اور اللہ بے نیاز ہے (ف۳۴۰) سب خوبیوں سراہا،
132اور اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور اللہ کافی ہے کارساز،
133اے لوگوں وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۳۴۱) اور اوروں کو لے آئے اور اللہ کو اس کی قدرت ہے،
134جو دنیا کا انعام چاہے تو اللہ ہی کے پاس دنیا و آخرت دونوں کا انعام ہے (ف۳۴۲) اور اللہ ہی سنتا دیکھتا ہے،
135اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لئے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر ہو (ف۳۴۳) بہرحال اللہ کو اس کا سب سے زیادہ اختیار ہے تو خواہش کے پیچھے نہ جاؤ کہ حق سے الگ پڑو اگر تم ہیر پھیر کرو (ف۳۴۴) یا منہ پھیرو (ف۳۴۵) تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (ف۳۴۶)
136اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر (ف۳۴۷) اور اس کتاب پر جو اپنے ان رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتاردی (ف۳۴۸) اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو (ف۳۴۹) تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا،
137بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۳۵۰) اللہ ہرگز نہ انہیں بخشے (ف۳۵۱) نہ انہیں راہ دکھائے،
138خوشخبری دو منافقوں کو کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے
139وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں (ف۳۵۲) کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں تو عزت تو ساری اللہ کے لیے ہے(ف۳۵۳)
140اور بیشک اللہ تم پر کتاب (ف۳۵۴) میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں (ف۳۵۵) ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو (ف۳۵۶) بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا
141وہ جو تمہاری حالت تکا کرتے ہیں تو اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے کہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف۳۵۷) اور اگر کافروں کا حصہ ہو تو ان سے کہیں کیا ہمیں تم پر قابو نہ تھا (ف۳۵۸) اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچایا (ف۳۵۹) تو اللہ تم سب میں (ف۳۶۰) قیامت کے دن فیصلہ کردے گا (ف۳۶۱) اور اللہ کافروں کو مسلمان پر کوئی راہ نہ دے گا (ف۳۶۲)
142بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں (ف۳۶۳) اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں (ف۳۶۴) تو ہارے جی سے (ف۳۶۵) لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا (ف۳۶۶)
143بیچ میں ڈگمگا رہے ہیں (ف۳۶۷) نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے (ف۳۶۸) اور جسے اللہ گمراہ کرے تو اس کے لئے کوئی راہ نہ پائے گا،
144اے ایمان والو! کافروں کو دوست نہ بناؤ مسلمانوں کے سوا (ف۳۶۹) کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کے لئے صریح حجت کرلو (ف۳۷۰)
145بیشک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں (ف۳۷۱) اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا
146مگر وہ جنہوں نے توبہ کی (ف۳۷۲) اور سنورے اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی اور اپنا دین خالص اللہ کے لئے کرلیا تو یہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں (ف۳۷۳) اور عنقریب اللہ مسلمانوں کو بڑا ثواب دے گا،
147اور اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم حق مانو، اور ایمان لاؤ اور اللہ ہے صلہ دینے والا جاننے والا،
148اللہ پسند نہیں کرتا بری بات کا اعلان کرنا (ف۳۷۴) مگر مظلوم سے (ف۳۷۵) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
149اگر تم کوئی بھلائی اعلانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزرو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا قدرت والا ہے (ف۳۷۶)
150وہ جو اللہ اور اس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اللہ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں (ف۳۷۷) اور کہتے ہیں ہم کسی پر ایمان لائے اور کسی کے منکر ہوئے (ف۳۷۸) اور چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے بیچ میں کوئی راہ نکال لیں
151یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر (ف۳۷۹) اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے،
152اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اللہ ان کے ثواب دے گا (ف۳۸۰) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۸۱)
153اے محبوب! اہل کتاب (ف۳۸۲) تم سے سوال کرتے ہیں کہ ان پر آسمان سے ایک کتاب اتاردو (ف۳۸۳) تو وہ تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے (ف۳۸۴) کہ بولے ہمیں ا لله کو اعلانیہ دکھادو تو انہیں کڑک نے آ لیا ان کے گناہوں پر پھر بچھڑا لے بیٹھے (ف۳۸۵) بعداس کے لئے روشن آیتیں (ف۳۸۶) ان کے پاس آچکیں تو ہم نے یہ معاف فرمادیا (ف۳۸۷) اور ہم نے موسیٰ کو روشن غلبہ دیا (ف۳۸۸)
154پھر ہم نے ان پر طور کو اونچا کیا ان سے عہد لینے کو اور ان سے فرمایا کہ دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو اور ان سے فرمایا کہ ہفتہ میں حد سے نہ بڑھو (ف۳۸۹) اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا(ف۳۹۰)
155تو ان کی کیسی بدعہدیوں کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور اس لئے کہ وہ آیات الٰہی کے منکر ہوئے (ف۳۹۱) اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے (ف۳۹۲) اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں (ف۳۹۳) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے،
156اور اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا (ف۳۹۴) اور مریم پر بڑا بہتان اٹھایا،
157اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا (ف۳۹۵) اور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے ان کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا (ف۳۹۶) اور وہ جو اس کے بارہ میں اختلاف کررہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں (ف۳۹۷) انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں (ف۳۹۸) مگر یہی گمان کی پیروی (ف۳۹۹) اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا (ف۴۰۰)
158بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا (ف۴۰۱) اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
159کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے (ف۴۰۲) اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا (ف۴۰۳)
160تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے (ف۴۰۴) سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں کہ ان کے لئے حلال تھیں (ف۴۰۵) ان پر حرام فرمادیں اور اس لئے کہ انہوں نے بہتوں کو اللہ کی راہ سے روکا،
161اور اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے (ف۴۰۶) اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
162ہاں جو اُن میں علم کے پکے (ف۴۰۷) اور ایمان والے ہیں وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اُترا اور جو تم سے پہلے اُترا (ف۴۰۸) اور نماز قائم رکھنے والے اور زکوٰة دینے والے اور اللہ اور قیامت پر ایمان لانے والے ایسوں کو عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے،
163بیشک اے محبوب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے دحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی (ف۴۰۹) اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی
164اور رسولوں کو جن کا ذکر آگے ہم تم سے (ف۴۱۰) فرماچکے اور ان رسولوں کو جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا (ف۴۱۱) اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا (ف۴۱۲)
165رسول خوشخبری دیتے (ف۴۱۳) اور ڈر سناتے (ف۴۱۴) کہ رسولوں کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے (ف۴۱۵) اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
166لیکن اے محبوب! اللہ اس کا گواہ ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا وہ اس نے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے گواہ ہیں اور اللہ کی گواہی کافی،
167وہ جنہوں نے کفر کیا (ف۴۱۶) اور اللہ کی راہ سے روکا (ف۴۱۷) بیشک وہ دور کی گمراہی میں پڑے،
168بیشک جنہوں نے کفر کیا (ف۳۱۸) اور حد سے بڑھے (ف۴۱۹) اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا(ف۴۲۰) اور نہ انہیں کوئی راہ دکھائے،
169مگر جہنم کا راستہ کہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیتں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے،
170اے لوگو! تمہارے پاس یہ رسول (ف۴۲۱) حق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے تشریف لائے تو ایمان لاؤ اپنے بھلے کو اور اگر تم کفر کرو (ف۴۲۲) تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
171اے کتاب والو! اپنے دین میں زیادتی نہ کرو (ف۴۲۳) اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ (ف۴۲۴) مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا (ف۴۲۵) ا لله کا رسول ہی ہے اور اس کا ایک کلمہ (ف۴۲۶) کہ مریم کی طرف بھیجا اور اس کے یہاں کی ایک روح تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ (ف۴۲۷) اور تین نہ کہو (ف۴۲۸) باز رہو اپنے بھلے کو اللہ تو ایک ہی خدا ہے (ف۴۲۹) پاکی اُسے اس سے کہ اس کے کوئی بچہ ہو اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (ف۴۳۰) اور اللہ کافی کارساز،
172مسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ نفرت نہیں کرتا (ف۴۳۱) اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے تو کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان سب کو اپنی طرف ہانکے گا (ف۴۳۲)
173تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کی مزدوری انہیں بھرپور دے کر اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا اور وہ جنہوں نے (ف۴۳۳) نفرت اور تکبر کیا تھا انہیں دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار،
174اے لوگو! بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی (ف۴۳۴) اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور اتارا (ف۴۳۵)
175تو وہ جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رسی مضبوط تھامی تو عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل میں داخل کرے گا (ف۴۳۶) اور انہیں اپنی طرف سیدھی راہ دکھائے گا،
176اے محبوب! تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اللہ تمہیں کلالہ (ف۴۳۷) میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے (ف۴۳۸) اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے (ف۴۳۹) اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو (ف۴۴۰) پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر، ا لله تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ، اور اللہ ہرچیز جانتا ہے،
Chapter 5 (Sura 5)
1اے ایمان والو! اپنے قول پورے کرو (ف۲) تمہارے لئے حلال ہوئے بے زبان مویشی مگر وہ جو آگے سنایا جائے گا تم کو (ف۳) لیکن شکار حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو (ف۴) بیشک اللہ حکم فرماتا ہے جو چاہے،
2اے ایمان والو! حلال نہ ٹھہرالو اللہ کے نشان (ف۵) اور نہ ادب والے مہینے (ف۶) اور نہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں اور نہ (ف۷) جن کے گلے میں علامتیں آویزاں (ف۸) اور نہ ان کا مال و آبرو جو عزت والے گھر کا قصد کرکے آئیں (ف۹) اپنے رب کا فضل اوراس کی خوشی چاہتے اور جب احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو (ف۱۰) اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا، زیادتی کرنے پر نہ ابھارے (ف۱۱) اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو (ف۱۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
3تم پر حرام ہے (ف۱۳) مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کرلو، اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کا م ہے، آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس نوٹ گئی (ف۱۴) تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا (ف۱۵) اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی (ف۱۶) اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (ف۱۷) تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے (ف۱۸) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
4اے محبوب! تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا حلال ہوا تم فرمادو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں (ف۱۹) اور جو شکاری جانور تم نے سدھالیے (ف۲۰) انہیں شکار پر دوڑاتے جو علم تمہیں خدا نے دیا اس سے انہیں سکھاتے تو کھاؤ اس میں سے جو وہ مار کر تمہارے لیے رہنے دیں (ف۲۱) اور اس پر اللہ کا نام لو (ف۲۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو حساب کرتے دیر نہیں لگتی،
5آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں، اور کتابیوں کا کھانا (ف۲۳) تمہارے لیے حلال ہوا، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے، اور پارسا عورتیں مسلمان (ف۲۴) اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی جب تم انہیں ان کے مہر دو قید میں لاتے ہوئے (ف۲۵) نہ مستی نکالتے اور نہ ناآشنا بناتے (ف۲۶) اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں زیاں کار ہے(ف۲۷)
6اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو (ف۲۸) تو اپنا منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ (ف۲۹) اور سروں کا مسح کرو (ف۳۰) اور گٹوں تک پاؤ ں دھوؤ (ف۳۱) اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو (ف۳۲) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے کہ کہیں تم احسان مانو،
7اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر (ف۳۳) اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا (ف۳۴) جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
8اے ایمان والوں اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے (ف۳۶) اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کو تمہارے کامو ں کی خبر ہے،
9ایمان والے نیکو کاروں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
10اور وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وحی دوزخ والے ہیں(ف۳۷)
11اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب ایک قوم نے چاہا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دیئے (ف۳۸) اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
12اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد کیا (ف۳۹) اور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے (ف۴۰) اور اللہ نے فرمایا بیشک میں (ف۴۱) تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور میرے سوالوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو (ف۴۲) بیشک میں تمہارے گناہ اتار دوں گا اور ضرور تمہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں، پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا (ف۴۳)
13تو ان کی کیسی بد عہدیوں (ف۴۴) پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیئے اللہ کی باتوں کو (ف۴۵) ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں اور بُھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں (ف۴۶) اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے (ف۴۷) سوا تھوڑوں کے (ف۴۸) تو انہیں معاف کردو اور ان سے درگزرو (ف۴۹) بیشک احسان والے ا لله کو محبوب ہیں،
14اور وہ جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے عہد لیا (ف۵۰) تو وہ بھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں (ف۵۱) تو ہم نے ان کے آپس میں قیامت کے دن تک بَیر اور بغض ڈال دیا (ف۵۲) اور عنقریب اللہ انہیں بتادے گا جو کچھ کرتے تھے (ف۵۳)
15اے کتاب والو (ف۵۴) بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (ف۵۵) تشریف لائے کہ تم پر ظاہر فرماتے ہیں بہت سی وہ چیزیں جو تم نے کتاب میں چھپا ڈالی تھیں (ف۵۶) اور بہت سی معاف فرماتے ہیں (ف۵۷) بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا (ف۵۸) اور روشن کتاب(ف۵۹)
16اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے ساتھ اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے،
17بیشک کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے (ف۶۰) تم فرما دو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو (ف۶۱) اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی جو چاہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
18اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں (ف۶۲) تم فرما دو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے (ف۶۳) بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے، اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی، اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
19اے کتاب والو! بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (ف۶۴) تشریف لائے کہ تم پر ہمارے احکام ظاہر فرماتے ہیں بعد اس کے کہ رسولوں کا آنا مدتوں بند رہا تھا (ف۶۵) کہ کبھی کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی اور ڈر سنانے والا نہ آیا تو یہ خوشی اور ڈر سنانے والے تمہارے پاس تشریف لائے ہیں، اور اللہ کو سب قدرت ہے،
20اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے اے میری قوم اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے اور تمہیں بادشاہ کیا (ف۶۷) اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا (ف۶۸)
21اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے اور پیچھے نہ پلٹو (ف۶۹) کہ نقصان پر پلٹو گے،
22بولے اے موسیٰ اس میں تو بڑے زبردست لوگ ہیں، اور ہم اس میں ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہاں وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم وہاں جائیں،
23دو مرد کہ اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے (ف۷۰) ا لله نے انہیں نوازا (ف۷۱) بولے کہ زبردستی دروازے میں (ف۷۲) ان پر داخل ہو اگر تم دروازے میں داخل ہوگئے تو تمہارا ہی غلبہ ہے (ف۷۳) اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے،
24بولے (ف۷۴) اے موسیٰ ہم تو وہاں (ف۷۵) کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ جائیے اور آپ کا رب تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں،
25موسیٰ نے عرض کی کہ اے رب! میرے مجھے اختیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو تو ہم کو ان بے حکموں سے جدا رکھ (ف۷۶)
26فرمایا تو وہ زمین ان پر حرام ہے (ف۷۷) چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں (ف۷۸) تو تم ان بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ،
27اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر (ف۷۹) جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی بولا قسم ہے میں تجھے قتل کردوں گا (ف۸۰) کہا اللہ اسی سے قبول کرتا ہے، سے ڈر ہے (ف۸۱)
28بیشک اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر بڑھائے گا کہ مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ تجھ پر نہ بڑھاؤں گا کہ تجھے قتل کروں (ف۸۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو مالک ہے سارے جہاں کا،
29میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا (ف۷۳) اور تیرا گناہ (ف۸۴) دونوں تیرے ہی پلہ پڑے تو تو دوز خی ہوجائے، اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے،
30تو اسکے نفس نے اسے بھائی کے قتل کا چاؤ دلایا تو اسے قتل کردیا تو رہ گیا نقصان میں(ف۸۵)
31تو اللہ نے ایک کوا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے (ف۸۶) بولا ہائے خرابی میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچتاتا رہ گیا(ف۸۷)
32اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے (ف۸۸) تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا (ف۸۹) اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا (ف۹۰) اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا، اور بیشک ان کے (ف۹۱) پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے (ف۹۲) پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں(ف۹۳)
33وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے (ف۹۴) اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیے جائیں، یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا غداب،
34مگر وہ جنہوں نے توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ (ف۹۵) تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
35اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو (ف۶۶) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ،
36بیشک وہ جو کافر ہوئے جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کی برابر اور اگر ان کی ملک ہو کہ اسے دے کر قیامت کے عذاب سے اپنی جان چھڑائیں تو ان سے نہ لیا جائے گا اور ان کے لئے دکھ کا عذاب ہے(ف۹۷)
37دوزخ سے نکلنا چاہیں گے اور وہ اس سے نہ نکلیں گے اور ان کو دوامی سزا ہے،
38اور جو مرد یا عورت چور ہو (ف۹۸) تو ان کا ہاتھ کاٹو (ف۹۹) ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
39تو جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو اللہ اپنی مہر سے اس پر رجوع فرمائے گا (ف۱۰۰) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
40کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، سزا دیتا ہے جسے چاہے اور بخشتا ہے جسے چاہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، (ف۱۰۱)
41اے رسول! تمہیں غمگین نہ کریں وہ جو کفر پڑ دوڑتے ہیں (ف۱۰۲) جو کچھ وہ اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ان کے دل مسلمان نہیں (ف۱۰۳) اور کچھ یہودی جھوٹ خوب سنتے ہیں (ف۱۰۴) اور لوگوں کی خوب سنتے ہیں (ف۱۰۵) جو تمہارے پاس حاضر نہ ہوئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں کے بعد بدل دیتے ہیں، کہتے ہیں یہ حکم تمہیں ملے تو مانو اور یہ نہ ملے تو بچو (ف۱۰۶) اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ہرگز تو اللہ سے اس کا کچھ بنا نہ سکے گا، وہ ہیں کہ اللہ نے ان کا دل پاک کرنا نہ چاہا، انہیں دنیا میں رسوائی ہے، اور انہیں آخرت میں بڑا عذاب،
42بڑے جھوٹ سننے والے بڑے حرام خور (ف۱۰۷) تو اگر تمہارے حضور حاضر ہوں (ف۱۰۸) تو ان میں فیصلہ فرماؤ یا ان سے منہ پھیرلو (ف۱۰۹) اور اگر تم ان سے منہ پھیرلو گے تو وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے (ف۱۱۰) اور اگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو، بیشک انصاف والے اللہ کو پسند ہیں،
43اور وہ تم سے کیونکر فیصلہ چاہیں گے، حالانکہ ان کے پاس توریت ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے (ف۱۱۱) بایں ہمہ اسی سے منہ پھیرتے ہیں (ف۱۱۲) اور وہ ایمان لانے والے نہیں،
44بیشک ہم نے توریت اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے، اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی اور عالم اور فقیہہ کہ ان سے کتاب اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی (ف۱۱۳) اور وہ اس پر گواہ تھے تو (ف۱۱۴) لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے ذلیل قیمت نہ لو (ف۱۱۵) اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے (ف۱۱۶) وہی لوگ کافر ہیں،
45اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا (ف۱۱۷) کہ جان کے بدلے جان (ف۱۱۸) اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے (ف۱۱۹) پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا (ف۱۲۰) اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں،
46اور ہم ان نبیوں کے پیچھے ان کے نشانِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو لائے تصدیق کرتا ہوا توریت کی جو اس سے پہلے تھی (ف۱۲۱) اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تصدیق فرماتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلی تھی اور ہدایت (ف۱۲۲) اور نصیحت پرہیزگاروں کو،
47اور چاہئے کہ انجیل والے حکم کریں اس پر جو اللہ نے اس میں اتارا (ف۱۲۳) اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں،
48اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی (ف۱۲۴) اور ان پر محافظ و گواہ تو ان میں فیصلہ کرو اللہ کے اتارے سے (ف۱۲۵) اور اسے سننے والے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کر، ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا (ف۱۲۶) اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا اس میں تمہیں آزمائے (ف۱۲۷) تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے
49اور یہ کہ اے مسلمان! اللہ کے اتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہ کہیں تجھے لغزش نہ دے دیں کسی حکم میں جو تیری طرف اترا پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۲۸) تو جان لو کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کی (ف۱۲۹) سزا ان کو پہنچایا چاہتا ہے (ف۱۳۰) اور بیشک بہت آدمی بے حکم ہیں،
50تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں (ف۱۳۱) اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے لیے،
51اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ (ف۱۳۲) وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف۱۳۳) اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے (ف۱۳۴) بیشک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا (ف۱۳۵)
52اب تم انہیں دیکھو گے جن کے دلوں میں آزار ہے (ف۱۳۶) کہ یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے ہیں کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی گردش آجائے (ف۱۳۷) تو نزدیک ہے کہ اللہ فتح لائے (ف۱۳۸) یا اپنی طرف سے کوئی حکم (ف۱۳۹) پھر اس پر جو اپنے دلوں میں چھپایا تھا (ف۱۴۰) پچھتائے رہ جائیں
53اور (ف۱۴۱) ایمان والے کہتے ہیں کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ان کا کیا دھرا سب اکارت گیا تو رہ گئے نقصان میں (ف۱۴۲)
54اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا (ف۱۴۳) تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے (ف۱۴۴) یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
55تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے (ف۱۴۵) کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں (ف۱۴۶)
56اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے،
57اے ایمان والو! جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے (ف۱۴۷) وہ جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے اور کافر (ف۱۴۸) ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو(ف۱۴۹)
58اور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں (ف۱۵۰) یہ اس لئے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں (ف۱۵۱)
59تم فرماؤ اے کتابیوں تمہیں ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور اس پر جو پہلے اترا (ف۱۵۲) اور یہ کہ تم میں اکثر بے حکم ہیں،
60تم فرماؤ کیا میں بتادوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں (ف۱۵۳) وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے کردیے بندر اور سور (ف۱۵۴) اور شیطان کے پجاری ان کا ٹھکانا زیادہ برا ہے (ف۱۵۵) اور یہ سیدھی راہ سے زیادہ بہکے،
61اور جب تمہارے پاس آئیں (ف۱۵۶) ہم مسلمان ہیں اور وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافر، اور اللہ خوب جانتا ہے جو چھپا رہے ہیں
62اور ان (ف۱۵۷) میں تم بہتوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں (ف۱۵۸) بیشک بہت ہی برے کام کرتے ہیں،
63انہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے، بیشک بہت ہی برے کام کررہے ہیں (ف۱۵۹)
64اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (ف۱۶۰) ان کے ہاتھ باندھے جائیں (ف۱۶۱) اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں (ف۱۶۲) عطا فرماتا ہے جیسے چاہے (ف۱۶۳) اور اے محبوب! یہ (ف۱۶۴) جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں ترقی ہوگی (ف۱۶۵) اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بیر ڈال دیا (ف۱۶۶) جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے (ف۱۶۷) اور زمین میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا،
65اور اگر کتاب والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ضرور ہم ان کے گناہ اتار دیتے اور ضرور انہیں چین کے باغوں میں لے جاتے
66اور اگر وہ قائم رکھتے توریت اور انجیل (ف۱۶۸) اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اترا (ف۱۶۹) تو انہیں رزق ملتا اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے (ف۱۷۰) ان میں کوئی گروہ اگر اعتدال پر ہے (ف۱۷۱) اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کررہے ہیں(ف۱۷۲)
67اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے (ف۱۷۳) اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے (ف۱۷۴) بیشک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
68تم فرمادو، اے کتابیو! تم کچھ بھی نہیں ہو (ف۱۷۵) جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۱۷۶) اور بیشک اے محبوب! وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس میں بہتوں کو شرارت اور کفر کی اور ترقی ہوگی (ف۱۷۷) تو تم کافروں کا کچھ غم نہ کھاؤ،
69بیشک وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں (ف۱۷۸) اور اسی طرح یہودی اور ستارہ پرت اور نصرانی ان میں جو کوئی سچے دل سے اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اور اچھے کام کرے توان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،
70بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا (ف۱۷۹) اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو ان کے نفس کی خواہش نہ تھی (ف۱۸۰) ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہیں(ف۱۸۱)
71اور اس گمان میں ہیں کہ کوئی سزا نہ ہوگی (ف۱۸۲) تو اندھے اور بہرے ہوگئے (ف۱۸۳) پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی (ف۱۸۴) پھر ان میں بہتیرے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،
72بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے (ف۱۸۵) اور مسیح نے تو یہ کہا تھا، اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب (ف۱۸۶) اور تمہارا رب، بیشک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
73بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے (ف۱۸۷) اور خدا تو نہیں مگر ایک خدا (ف۱۸۸) اور اگر اپنی بات سے باز نہ آئے (ف۱۸۹) تو جو ان میں کافر مریں گے ان کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا،
74تو کیوں نہیں رجوع کرتے اللہ کی طرف اور اس سے بخشش مانگتے، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
75مسیح بن مریم نہیں مگر ایک رسول (ف۱۹۰) اس سے پہلے بہت رسول ہو گزرے (ف۱۹۱) اور اس کی ماں صدیقہ ہے (ف۱۹۲) دونوں کھانا کھاتے تھے (ف۱۹۳) دیکھو تو ہم کیسی صاف نشانیاں ان کے لئے بیان کرتے ہیں پھر دیکھو وہ کیسے اوندھے جاتے ہیں،
76تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو تمہارے نقصان کا مالک نہ نفع کا (ف۱۹۴) اور اللہ ہی سنتا جانتا ہے،
77تم فرماؤ اے کتاب والو! اپنے دین میں ناحق زیادتی نہ کرو (ف۱۹۵) اور ایسے لوگوں کی خواہش پر نہ چلو (ف۱۹۶) جو پہلے گمراہ ہوچکے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ سے بہک گئے
78لعنت کیے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پر (ف۱۹۷)یہ بدلہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا،
79جو بری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے(ف۱۹۹)
80ان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، کیا ہی بری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے (ف۲۰۰)
81اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۲۰۱) اللہ اور ان نبی پر اور اس پر جو ان کی طرف اترا تو کافروں سے دوستی نہ کرتے (ف۲۰۲) مگر ان میں تو بہتیرے فاسق ہیں،
82ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جو کہتے تھے ہم نصاریٰ ہیں (ف۲۰۳) یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے -(ف۲۰۴)
83اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا (ف۲۰۵) تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں (ف۲۰۶) اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے، کہتے ہیں اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے (ف۲۰۷) تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے (ف۲۰۸)
84اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر کہ ہمارے پاس آیا اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے(ف۲۰۹)
85تو اللہ نے ان کے اس کہنے کے بدلے انہیں باغ دیے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بدلہ ہے نیکوں کا (ف ۲۱۰)
86اور وہ جنہوں کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ ہیں دوزخ والے،
87اے ایمان والو! (ف۲۱۱) حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں (ف۲۱۲) اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں،
88اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ او ر ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے،
89اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر (ف۲۱۳) ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتے ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا (ف۲۱۴) تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا (ف۲۱۵) اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے (ف۲۱۶) یا انہیں کپڑے دینا (ف۲۱۷) یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے (ف۲۱۸) یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا، جب قسم کھاؤ (ف۲۱۹) اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو (ف۲۲۰) اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو،
90اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ،
91شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے (ف۲۲۱) تو کیا تم باز آئے،
92اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو، پھر اگر تم پھر جاؤ (ف۲۲۲) تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچادینا ہے (ف۲۲۳)
93جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں (ف۲۲۴) جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں، اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۲۲۵)
94اے ایمان والوں ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارا ہاتھ اور نیزے پہنچیں (ف۲۲۶) کہ اللہ پہچان کرادے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے (ف۲۲۷) اس کے لئے دردناک عذاب ہے،
95اے ایمان والو! شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو (ف۲۲۸) اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے (ف۲۲۹) تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے (ف۲۳۰) تم میں کہ دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں (ف۲۳۱) یہ قربانی ہو کہ کعبہ کو پہنچتی (ف۲۳۲) یا کفار ہ دے چند مسکینوں کا کھانا (ف۲۳۳) یا اس کے برابر روزے کہ اپنے کام کا وبال چکھے اللہ نے معاف کیا جو ہو گزرا (ف۲۳۴) اور جو اب کرے گا اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا،
96حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پرحرام ہے خشکی کا شکار (ف۲۳۵) جب تک تم احرام میں ہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے،
97اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث کیا (ف۲۳۶) اور حرمت والے مہینہ (ف۲۳۷) اور حرم کی قربانی اور گلے میں علامت آویزاں جانوروں کو (ف۲۳۸) یہ اس لیے کہ تم یقین کرو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور یہ کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے،
98جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲۳۹) اور اللہ بخشنے والا مہربان،
99رسول پر نہیں مگر حکم پہنچانا (ف۲۴۰) اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو(ف۲۴۱)
100تم فرمادو کہ گندہ اور ستھرا برابر نہیں (ف۲۴۲) اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے، تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والو! کہ تم فلاح پاؤ،
101اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں (ف۲۴۳) اور اگر انہیں اس وقت پوچھو گے کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی، اللہ انہیں معاف کرچکا ہے (ف۲۴۴) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
102تم سے اگلی ایک قوم نے انہیں پوچھا (ف ۲۴۵) پھر ان سے منکر ہو بیٹھے،
103اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چِرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی (ف۲۴۶) ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں (ف۲۴۷) اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہیں(ف۲۴۸)
104اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اُتارا اور رسول کی طرف (ف۲۴۹) کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں (ف۲۵۰)
105اے ایمان والو! تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو (ف۲۵۱) تم سب کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے،
106اے ایمان والوں (ف۲۵۲) تمہاری آپس کی گواہی جب تم میں کسی کو موت آئے (ف۲۵۳) وصیت کرتے وقت تم میں کے دو معتبر شخص ہیں یا غیروں میں کے دو جب تم ملک میں سفر کو جاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہنچے، ان دونوں کو نماز کے بعد روکو (ف۲۵۴) وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں کچھ شک پڑے (ف۲۵۵) ہم حلف کے بدلے کچھ مال نہ خریدیں گے (ف۲۵۶) اگرچہ قریب کا رشتہ دار ہو اور اللہ کی گواہی نہ چھپائیں گے ایسا کریں تو ہم ضرور گنہگاروں میں ہیں،
107پھر اگر پتہ چلے کہ وہ کسی گناہ کے سزاوار ہوئے (ف۲۵۷) تو ان کی جگہ دو اور کھڑے ہوں ان میں سے کہ اس گناہ یعنی جھوٹی گواہی نے ان کا حق لے کر ان کو نقصان پہنچایا (ف۲۵۸) جو میت سے زیادہ قریب ہوں تو اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دو کی گواہی سے اور ہم حد سے نہ بڑھے (ف۲۵۹) ایسا ہو تو ہم ظالموں میں ہوں،
108یہ قریب تر ہے اس سے کہ گواہی جیسی چاہیے ادا کریں یا ڈریں کہ کچھ قسمیں رد کردی جائیں ان کی قسموں کے بعد (ف۲۶۰) اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو، اور اللہ بے حکموں کو راہ نہیں دیتا،
109جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کو (ف۲۶۱) پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا (ف۲۶۲) عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا جاننے والا(ف۲۶۳)
110جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! یاد کر میرا احسان اپنے اوپر اور اپنی ماں پر (ف۲۶۴) جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی (ف۲۶۵) تو لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں (ف۲۶۶) اور پکی عمر ہوکر (ف۲۶۷) اور جب میں نے تجھے سکھائی کتاب اور حکمت (ف۲۶۸) اور توریت اور انجیل اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتی (ف۲۶۹) اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا اور جب تو مُردوں کو میرے حکم سے زندہ نکالتا (ف۲۷۰) اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا (ف۲۷۱) جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے کہ یہ (ف۲۷۲) تو نہیں مگر کھلا جادو،
111اور جب میں نے حواریوں (ف۲۷۳) کے دل میں ڈالا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر (ف۲۷۴) ایمان لاؤ بولے ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں(ف۲۷۵)
112جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے (ف۲۷۶) کہا اللہ سے ڈرو ! اگر ایمان رکھتے ہو(ف۲۷۷)
113بولے ہم چاہتے ہیں (ف۲۷۸) کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل ٹھہریں (ف۲۷۹) اور ہم آنکھوں دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا (ف۲۸۰) اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں(ف۲۸۱)
114عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو (ف۲۸۲) ہمارے اگلے پچھلوں کی (ف۲۸۳) اور تیری طرف سے نشانی (ف۲۸۴) اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے،
115اللہ نے فرمایا کہ میں اسے تم پر اُتارتا ہوں، پھر اب جو تم میں کفر کرے گا (ف۲۸۵) تو بیشک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی پر نہ کروں گا(ف۲۸۶)
116اور جب اللہ فرمائے گا (ف۲۸۷) اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا (ف۲۸۸) عرض کرے گا، پاکی ہے تجھے (ف۲۸۹) مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہنچتی (ف۲۹۰) اگر میں نے ایسا کہا ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے، بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا (ف۲۹۱)
117میں نے تو ان سے نہ کہا مگر وہی جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ ا لله کو پوجو جو میرا بھی رب اور تمھا ر ا بھی رب اور میں ان پر مطلع تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا (ف۲۹۲) تو تُو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا، اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے(ف۲۹۳)
118اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا (ف۲۹۴)
119اللہ نے فرمایا کہ یہ (ف۲۹۵) ہے وہ دن جس میں سچوں کو (ف۲۹۶) ان کا سچ کام آئے گا، ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ ہے بڑی کامیابی،
120اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی سلطنت، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے(ف۲۹۷)
Chapter 6 (Sura 6)
1سب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے (ف۲) اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی (ف۳) اس پر (ف۴) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں(ف۵)
2وہی ہے جس نے تمہیں (ف۶) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک میعاد کا حکم رکھا (ف۷) اور ایک مقررہ وعدہ اس کے یہاں ہے (ف۸) پھر تم لوگ شک کرتے ہو،
3اور وہی اللہ ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۹) اسے تمہارا چھپا اور ظاہر سب معلوم ہے اور تمہارے کام جانتا ہے،
4اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی اپنے رب کی نشانیوں سے نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیرلیتے ہیں،
5تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا (ف۱۰) جب ان کے پاس آیا، تو اب انہیں خبر ہوا چاہتی ہے اس چیز کی جس پر ہنس رہے تھے (ف۱۱)
6کیا انہوں نے نہ د یکھا کہ ہم نے ان سے پہلے (ف۱۲) کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا (ف۱۳) جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا (ف۱۴) اور ان کے نیچے نہریں بہائیں (ف۱۵) تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا (ف۱۶) اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی (ف۱۷)
7اور اگر ہم تم پر کاغذ میں کچھ لکھا ہوا اتارتے (ف۱۸) کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے جب بھی کافر کہتے کہ یہ نہیں مگر کھلا جادو،
8اور بولے (ف۱۹) ان پر (ف۲۰) کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا، اور اگر ہم فرشتہ اتارتے (ف۲۱) تو کام تمام ہوگیا ہوتا (ف۲۲) پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی (ف۲۳)
9اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے (ف۲۴) جب بھی اسے مرد ہی بناتے (ف۲۵) اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں،
10اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹھا کیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی (ف۲۶)
11تم فرمادو (ف۲۷) زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا(ف۲۸)
12تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (ف۲۹) تم فرماؤ اللہ کا ہے (ف۳۰) اس نے اپنے کرم کے ذمہ پر رحمت لکھ لی ہے (ف ۳۱) بیشک ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا (ف۳۲) اس میں کچھ شک نہیں، وہ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی (ف۳۳) ایمان نہیں لاتے،
13اور اسی کا ہے جو بستا ہے رات اور دن میں (ف۳۴) اور وہی ہے سنتا جانتا(ف۳۵)
14تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا کسی اور کو والی بناؤں (ف۳۶) وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین پیدا کیے اور وہ کھلاتا ہے اور کھانے سے پاک ہے (ف۳۷) تم فرماؤ مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۸) اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا،
15تم فرماؤ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن (ف۳۹) کے عذاب کا ڈر ہے،
16اس دن جس سے عذاب پھیر دیا جائے (ف۴۰) ضرور اس پر اللہ کی مہر ہوئی، اور یہی کھلی کامیابی ہے،
17اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی (ف۴۱) پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے (ف۴۲) تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے(ف۴۳)
18اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر، اور وہی ہے حکمت والا خبردار،
19تم فرماؤ سب سے بڑی گواہی کس کی (ف۴۴) تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں (ف۴۵) اور میر ی طر ف اس قر آ ن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمھیں ڈراؤ ں (ف۴۶) اورجن جن کو پہنچے (ف۴۷) تو کیا تم (ف۴۸)یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور خدا ہیں، تم فرماؤ (ف۴۹) کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا (ف۵۰) تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے (ف۵۱) اور میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو(ف۵۲)
20جن کو ہم نے کتاب دی (ف۵۳) اس نبی کو پہچانتے ہیں (ف۵۴) جیسا اپنے بیٹے کو پہچانتے ہیں (ف۵۵) جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی وہ ایمان نہیں لاتے،
21اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۵۶) یا اس کی آیتیں جھٹلائے، بیشک ظالم فلاح نہ پائیں گے،
22اور جس دن ہم سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے،
23پھر ان کی کچھ بناوٹ نہ رہی (ف۵۷) مگر یہ کہ بولے ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے،
24دیکھو کیسا جھوٹ باندھا خود اپنے اوپر (ف۵۸) اور گم گئیں ان سے جو باتیں بناتے تھے،
25اور ان میں کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاتا ہے (ف۵۹) اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانٹ میں ٹینٹ (روئی) اور اگر ساری نشانیاں دیکھیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب تمہارے حضور تم سے جھگڑتے حاضر ہوں تو کافر کہیں یہ تو نہیں مگر اگلوں کی داستانیں (ف۶۰)
26اور وہ اس سے روکتے (ف۶۱) اور اس سے دور بھاگتے ہیں اور بلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانیں (ف۶۲) اور انہیں شعور نہیں،
27اور کبھی تم دیکھو جب وہ آگ پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے کاش کسی طرح ہم واپس بھیجے جائیں (ف۶۳) اور اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں،
28بلکہ ان پر کھل گیا جو پہلے چھپاتے تھے (ف۶۴) اور اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کیے گئے تھے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں،
29اور بولے (ف۶۵) وہ تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں اٹھنا نہیں(ف۶۶)
30اور کبھی تم دیکھو جب اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے، فرمائے گا کیا یہ حق نہیں (ف۶۷) کہیں گے کیوں نہیں، ہمیں اپنے رب کی قسم، فرمائے گا تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا،
31بیشک ہار میں رہے وہ جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کا انکار کیا، یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آگئی بولے ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں ہم نے تقصیر کی، اور وہ اپنے (ف۶۸) بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہیں ارے کتنا برُا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں (ف۶۹)
32اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود (ف۷۰) اور بیشک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں (ف۷۱) تو کیا تمہیں سمجھ نہیں،
33ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں (ف۷۲) تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے (ف۷۳) بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں (ف۷۴)
34اور تم سے پہلے رسول جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا اس جھٹلانے اور ایذائیں پانے پر یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد آئی (ف۷۵) اور اللہ کی باتیں بدلنے والا کوئی نہیں (ف۷۶) اور تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آ ہی چکیں ہیں(ف۷۷)
35اور اگر ان کا منہ پھیرنا تم پر شاق گزرا ہے (ف۷۸) تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلو یا آسمان میں زینہ پھر ان کے لیے نشانی لے آؤ (ف۷۹) اور اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے تو ہرگز نادان نہ بن،
36مانتے تو وہی ہیں جو سنتے ہیں (ف۸۰) اور ان مردہ دلوں (ف۸۱) کو اللہ اٹھائے گا(ف۸۲) پھر اس کی طرف ہانکے جائیں گے(ف۸۳)
37اور بولے (ف۸۴) ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے (ف۸۵) تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے (بالکل) جاہل ہیں(ف۸۶)
38اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرند کہ اپنے پروں پر اڑتا ہے مگر تم جیسی اُمتیں (ف۸۷) ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا (ف۸۸) پھر اپنے رب کی طرف اٹھائے جائیں گے (ف۸۹)
39اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں بہرے اور گونگے ہیں (ف۹۰) اندھیروں میں (ف۹۱) اللہ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے راستہ ڈال دے(ف۹۲)
40تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے (ف۹۳) اگر سچے ہو (ف۹۴)
41بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے (ف۹۵) جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے (ف۹۶)
42اور بیشک ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف سے پکڑا (ف۹۷) کہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں(ف۹۸)
43تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے دل تو سخت ہوگئے (ف۹۹) اور شیطان نے ان کے کام ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے،
44پھر جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئیں تھیں (ف۱۰۰) ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے (ف۱۰۱) یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملا (ف۱۰۲) تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا (ف۱۰۳) اب وہ آس ٹوٹے رہ گئے،
45تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی (ف۱۰۴) اور سب خوبیاں سراہا اللہ رب سارے جہاں کا(ف۱۰۵)
46تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اللہ تمہارے کان آنکھ لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے (ف۱۰۶) تو اللہ سوا کون خدا ہے کہ تمہیں یہ چیزیں لادے (ف۱۰۷) دیکھو ہم کس کس رنگ سے آیتیں بیان کرتے ہیں پھر وہ منہ پھیر لیتے ہیں،
47تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے اچانک (ف۱۰۸) یا کھلم کھلا (ف۱۰۹) تو کون تباہ ہوگا سوا ظالموں کے (ف۱۱۰)
48اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے (ف۱۱۱) تو جو ایمان لائے اور سنورے (ف۱۱۲) ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم،
49اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں انہیں عذاب پہنچے گا بدلہ ان کی بے حکمی کا،
50تم فرمادو میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں (ف۱۱۳) میں تو اسی کا تا بع ہوں جو مجھے وحی آتی ہے (ف۱۱۴) تم فر ماؤ کیا برابر ہو جائیں گے اندھے اور انکھیا رے (ف۱۱۵) تو کیا تم غور نہیں کرتے،
51اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو کہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سفارشی اس امید پر کہ وہ پرہیزگار ہوجائیں
52اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے (ف۱۱۶) تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں (ف۱۱۷) پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے
53اور یونہی ہم نے ان میں ایک دوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر (ف۱۱۸) کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے (ف۱۱۹)کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو،
54اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے (ف۱۲۰) کہ تم میں جو کوئی نادانی سے کچھ برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
55اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفصل بیان فرماتے ہیں (ف۱۲۱) اور اس لیے کہ مجرموں کا راستہ ظاہر ہوجائے (ف۱۲۲)
56تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۲۳) تم فرماؤ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا (ف۱۲۴) یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں،
57تم فرماؤ میں تو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں (ف۱۲۵) اور تم اسے جھٹلاتے ہو میرے پاس نہیں جس کی تم جلدی مچارہے ہو (ف۱۲۶) حکم نہیں مگر اللہ کا وہ حق فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا،
58تم فرماؤ اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز جس کی تم جلدی کررہے ہو (ف۱۲۷) تو مجھ میں تم میں کام ختم ہوچکا ہوتا (ف۱۲۸) اور اللہ خوب جانتا ہے ستمگاروں کو،
59اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی انہیں وہی جانتا ہے (ف۱۲۹) اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے، اور جو پتّا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو(ف۱۳۰)
60اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے (ف۱۳۱) اور جانتا ہے جو کچھ دن میں کماؤ پھر تمہیں دن میں اٹھاتا ہے کہ ٹھہرائی ہوئی میعاد پوری ہو (ف۱۳۲) پھر اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۱۳۳) پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے،
61اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے (ف۱۳۴) یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں (ف۱۳۵) اور وہ قصور نہیں کرتے(ف۱۳۶)
62پھر پھیرے جاتے ہیں اپنے سچے مولیٰ اللہ کی طرف سنتا ہے اسی کا حکم (ف۱۳۷) اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا (ف۱۳۸)
63تم فرماؤ وہ کون ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے جسے پکارتے ہو گِڑ گِڑا کر اور آہستہ کہ اگر وہ ہمیں اس سے بچاوے تو ہم ضرور احسان مانیں گے(ف۱۳۹)
64تم فرماؤ اللہ تمہیں نجات دیتا ہے اس سے اور ہر بے چینی سے پھر تم شریک ٹھہراتے ہو(ف۱۴۰)
65تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے تلے (نیچے) سے یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے، دیکھو ہم کیونکر طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں کہ کہیں ان کو سمجھ ہو(ف۱۴۱)
66اور اسے (ف۱۴۲) جھٹلایا تمہاری قوم نے اور یہی حق ہے، تم فرماؤ میں تم پر کچھ کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) نہیں (ف۱۴۳)
67ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے (ف۱۴۴) اور عنقریب جان جاؤ گے
68اور اے سننے والے! جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں (ف۱۴۵) تو ان سے منہ پھیر لے (ف۱۴۶) جب تک اور بات میں پڑیں، اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ،
69اور پرہیز گاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں (ف۱۴۷) ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں (ف۱۴۸)
70اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنا لیا اور انہیں دنیا کی زندگانی نے فریب دیا اور قرآن سے نصیحت دو (ف۱۴۹) کہ کہیں کوئی جان اپنے کئے پر پکڑی نہ جائے اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے عوض سارے بدلے دے تو اس سے نہ لیے جائیں یہ ہیں (ف۱۵۱) وہ جو اپنے کیے پر پکڑے گئے انہیں پینے کا کھولتا پانی اور درد ناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا،
71تم فرماؤ (ف۱۵۲) کیا ہم اللہ کے سوا اس کو پوجیں جو ہمارا نہ بھلا کرے نہ برُا (ف۱۵۳) اور الٹے پاؤں پلٹا دیے جائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں راہ دکھائی (ف۱۵۴) اس کی طرح جسے شیطان نے زمین میں راہ بھلادی (ف۱۵۵) حیران ہے اس کے رفیق اسے راہ کی طرف بلا رہے ہیں کہ ادھر آ، تم فرماؤ کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۱۵۶) اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کے لیے گردن رکھ دیں (ف۱۵۷) جو رب ہے سارے جہان
72اور یہ کہ نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرو، اور وہی ہے جس کی طرف اٹھنا ہے،
73اور وہی ہے جس نے آسمان و زمین ٹھیک بنائے (ف۱۵۸) اور جس دن فنا ہوئی ہر چیز کو کہے گا ہو جا وہ فوراً ہوجائے گی، اس کی بات سچی ہے، اور اسی کی سلطنت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا (ف۱۵۹) ہر چھپے اور ظاہر کو جاننے والا، اور وہی حکمت والا خبردار،
74اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ (ف۱۶۰) آزر سے کہا، کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو، بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں(ف۱۶۱)
75اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی (ف۱۶۲) اور اس لیے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے (ف۱۶۳)
76پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا ایک تارا دیکھا (ف۱۶۴) بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے،
77پھر جب چاند چمکتا دیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں ہوتا(ف۱۶۵)
78پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا بولے اسے میرا رب کہتے ہو (ف۱۶۶) یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۱۶۷)
79میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ایک اسی کا ہوکر (ف۱۶۸) اور میں مشرکین میں نہیں،
80اور ان کی قوم ان سے جھگڑے لگی کہا کیا اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو تو وہ مجھے راہ بتا چکا (ف۱۶۹) اور مجھے ان کا ڈر نہیں جنہیں تم شریک بتاتے ہو (ف۱۷۰) ہاں جو میرا ہی رب کوئی بات چاہے (ف۱۷۱) میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے
81اور میں تمہارے شریکوں سے کیونکر ڈروں (ف۱۷۲) اور تم نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی تم پر اس نے کوئی سند نہ اتاری، تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ سزا وار کون ہے (ف۱۷۳) اگر تم جانتے ہو،
82وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں،
83اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی، ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۴) بیشک تمہارا رب علم و حکمت والا ہے
84اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے نوح کو راہ دکھائی اور میں اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو، اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو،
85اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو یہ سب ہمارے قرب کے لائق ہیں
86اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو، اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی (ف۱۷۵)
87اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو (ف۱۷۶) اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی،
88یہ اللہ کی ہدایت ہے کہ اپنے بندوں میں جسے چاہے دے، اور اگر وہ شرک کرتے تو ضرور ان کا کیا اکارت جاتا،
89یہ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تو اگر یہ لوگ (ف۱۷۷) اس سے منکر ہوں تو ہم نے اس کیلئے ایک ایسی قوم لگا رکھی ہے جو انکار والی نہیں(ف۱۷۸)
90یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو (ف۱۷۹) تم فرماؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کو(ف۱۸۰)
91اور یہود نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی (ف۱۸۱) جب بولے ا لله نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا، تم فرماؤ کس نے اُتاری وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے ظاہر کرتے ہو (ف۱۸۲) اور بہت سے چھپالیتے ہو (ف۱۸۳) اور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے (ف۱۸۴) جو نہ تم کو معلوم تھا نہ تمہارے باپ دادا کو، اللہ کہو (ف۱۸۵) پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں انہیں کھیلتا(ف۱۸۶)
92اور یہ ہے برکت والی کتاب کہ ہم نے اُتاری (ف۱۸۷) تصدیق فرماتی ان کتابوں کی جو آگے تھیں اور اس لیے کہ تم ڈر سناؤ سب بستیوں کے سردار کو (ف۱۸۸) اور جو کوئی سارے جہاں میں اس کے گرد ہیں اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۸۹) اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں،
93اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۹۰) یا کہے مجھے وحی ہوئی اور اسے کچھ وحی نہ ہوئی (ف۱۹۱) اور جو کہے ابھی میں اُتارتا ہوں ایسا جیسا اللہ نے اُتارا (ف۱۹۲) اور کبھی تم دیکھوں جس وقت ظالم موت کی سختیوں میں ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہوئے ہیں (ف۱۹۳) کہ نکالو اپنی جانیں، آج تمہیں خواری کا عذاب دیا جائے گا بدلہ اس کا کہ اللہ پر جھوٹ لگاتے تھے (ف۱۹۴) اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے،
94اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا (ف۱۹۵) اور پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے جو مال و متاع ہم نے تمہیں دیا تھا اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جن کا تم اپنے میں ساجھا بتاتے تھے (ف۱۹۶) بیشک تمہارے آپس کی ڈور کٹ گئی (ف۱۹۷) اور تم سے گئے جو دعوے کرتے تھے (ف۱۹۸)
95بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو چیر نے والا ہے (ف۱۹۹) زندہ کو مردہ سے نکالنے (ف۲۰۰) اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا (ف۲۰۱) یہ ہے اللہ تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۲۰۲)
96تاریکی چاک کرکے صبح نکالنے والا اور اس نے رات کو چین بنایا (ف۲۰۳) اور سورج اور چاند کو حساب (ف۲۰۴) یہ سادھا (سدھایا ہوا) ہے زبردست جاننے والے کا،
97اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تارے بنائے کہ ان سے راہ پاؤ خشکی اور تری کے اندھیروں میں، ہم نے نشانیاں مفصل بیان کردیں علم والوں کے لیے،
98اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا (ف۲۰۵) پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے (ف۲۰۶) اور کہیں امانت رہنا (ف۲۰۷) بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لیے،
99اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اُتارا، تو ہم نے اس سے ہر اُگنے والی چیز نکالی (ف۲۰۸) تو ہم نے اس سے نکالی سبزی جس میں سے دانے نکالتے ہیں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گابھے سے پاس پاس گچھے اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی بات میں الگ، اس کا پھل دیکھو جب پھلے اور اس کا پکنا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
100اور (ف۲۰۹) اللہ کا شریک ٹھہرایا جنوں کو (ف۲۱۰) حالانکہ اسی نے ان کو بنایا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گڑھ لیں جہالت سے، پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے،
101بے کسی نمو نہ کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، اسکے بچہ کہاں سے ہو حالانکہ اس کی عورت نہیں (ف۲۱۱) اور اس نے ہر چیز پیدا کی (ف۲۱۲) اور وہ سب کچھ جانتا ہے،
102یہ ہے اللہ تمہارا رب (ف۲۱۳) اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو وہ ہر چیز پر نگہبان ہے(ف۲۱۴)
103آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں (ف۲۱۵) اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں اور وہی ہے پورا باطن پورا خبردار،
104تمہارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں آئیں تمہارے رب کی طرف سے تو جس نے دیکھا تو اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا اپنے برُے کو، اور میں تم پر نگہبان نہیں،
105اور ہم اسی طرح آیتیں طرح طرح سے بیان کرتے (ف۲۱۶) اور اس لیے کہ کافر بول اٹھیں کہ تم تو پڑھے ہو اور اس لیے کہ اسے علم والوں پر واضح کردیں،
106اس پر چلو جو تمہیں تمہارے رب کی طرف سے وحی ہوتی ہے (ف۲۱۷) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیر لو
107اور اللہ چاہتا تو وہ شرک نہیں کرتے، اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں کیا اور تم ان پر کڑوڑے (حاکمِ اعلیٰ) نہیں،
108اور انہیں گالی نہ دو وہ جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے (ف۲۱۸) یونہی ہم نے ہر اُمت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کردیے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتادے گا جو کرتے تھے،
109اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے، م فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں (ف۲۱۹) اور تمہیں (ف۲۲۰) کیا خبر کہ جب وہ آئیں تو یہ ایمان نہ لائینگے
110اور ہم پھیردیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو (ف۲۲۱) جیسا وہ پہلی بار ایمان نہ لائے تھے (ف۲۲۲) اور انہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،
111اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اُتارتے (ف۲۲۳) اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے اٹھا لاتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے (ف۲۲۴) مگر یہ کہ خدا چاہتا (ف۲۲۵) و لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں (ف۲۲۶)
112اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کیے ہیں آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان کہ ان میں ایک دوسرے پر خفیہ ڈالتا ہے بناوٹ کی بات (ف۲۲۷) دھوکے کو، اور تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے (ف۲۲۸) تو انہیں ان کی بناوٹوں پر چھوڑ دو (ف۲۲۹)
113اور اس لیے کہ اس (ف۲۳۰) کی طرف ان کے دل جھکیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور گناہ کمائیں جو انہیں کمانا ہے،
114تو کیا اللہ کے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں اور وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اُتاری (ف۲۳۱) اور جنکو ہم نے کتاب دی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے سچ اترا ہے (ف۲۳۲) تو اے سننے والے تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو،
115اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں (ف۲۳۳) اور وہی ہے سنتا جانتا،
116اور اے سننے والے زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں، وہ صرف گمان کے پیچھے ہیں (ف۲۳۴) اور نری اٹکلیں (فضول اندازے) دوڑاتے ہیں (ف۲۳۵)
117تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون بہکا اس کی راہ سے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو،
118تو کھاؤ اسمیں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا (ف۲۳۶) اگر تم اسکی آیتیں مانتے ہو،
119اور تمہیں کیا ہوا کہ اس میں سے نہ کھاؤ جس (ف۲۳۷) پر اللہ کا نام لیا گیا وہ تم سے مفصل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا (ف۲۳۸) مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو (ف۲۳۹) اور بیشک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بے جانے بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے،
120اور چھوڑ دو کھلا اور چھپا گناہ، وہ جو گناہ کماتے ہیں عنقریب اپنی کمائی کی سزا پائیں گے،
121اور اُسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا (ف۲۴۰) اور وہ بیشک حکم عدولی ہے، اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو (ف۲۴۱) تو اس وقت تم مشرک ہو (ف۲۴۲)
122اور کیا وہ کہ مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا (ف۲۴۳) اور اس کے لیے ایک نور کردیا (ف۲۴۴) جس سے لوگوں میں چلتا ہے (ف۲۴۵) وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیریوں میں ہے (ف۲۴۶) ان سے نکلنے والا نہیں، یونہی کافروں کی آنکھ میں ان کے اعمال بھلے کردیے گئے ہیں،
123اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کے سرغنہ کیے کہ اس میں داؤ کھیلیں (ف۲۴۷) اور داؤں نہیں کھیلتے مگر اپنی جانوں پر اور انہیں شعورنہیں(ف۲۴۸)
124اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو کہتے ہی ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو ملا (ف۲۴۹) اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے (ف۲۵۰) عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب بدلہ ان کے مکر کا،
125اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے (ف۲۵۱) اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کر دیتا ہے (ف۲۵۲) گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے، اللہ یونہی عذاب ڈالتا ہے ایمان نہ لانے والوں کو،
126اور یہ (ف۲۵۳) تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے ہم نے آیتیں مفصل بیان کردیں نصیحت ماننے والوں کے لیے،
127ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے اپنے رب کے یہاں اور وہ ان کا مولیٰ ہے یہ ان کے کاموں کا پھل ہے،
128اور جس دن اُن سب کو اٹھانے گا اور فرمائے گا، اے جن کے گروہ! تم نے بہت آدمی گھیرلیے (ف۲۵۴) اور ان کے دوست آدمی عرض کریں گے اے ہمارے رب! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا (ف۲۵۵) اور ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی (ف۲۵۶) فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اس میں رہو مگر جسے خدا چاہے (ف۲۵۷) اے محبوب! بیشک تمہارا رب حکمت والا علم والا ہے،
129اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا(ف۲۵۸)
130اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم میں کے رسول نہ آئے تھے تم پر میری آیتیں پڑھتے اور تمہیں یہ دن (ف۲۵۹) دیکھنے سے ڈراتے (ف۲۶۰) کہیں گے ہم نے اپنی جانوں پر گواہی دی (ف۲۶۱) اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے(ف۲۶۲)
131یہ (ف۲۶۳) اس لیے کہ تیرا رب بستیوں کو (ف۲۶۴) ظلم سے تباہ نہیں کرتا کہ ان کے لوگ بے خبر ہوں(ف۲۶۵)
132اور ہر ایک کے لیے (ف۲۶۶) ان کے کاموں سے درجے ہیں اور تیرا رب ان کے اعمال سے بے خبر نہیں،
133اور اے محبوب! تمہارا رب بے پروا ہے رحمت والا، اے لوگو! وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۲۶۷) اور جسے چاہے تمہاری جگہ لادے جیسے تمہیں اوروں کی اولاد سے پیدا کیا(ف۲۶۸)
134بیشک جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۲۶۹) ضرور آنے والی ہے اور تم تھکا نہیں سکتے،
135تم فرماؤ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں تو اب جاننا چاہتے ہو کس کا رہتا ہے آحرت کا گھر، بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے،
136اور (ف۲۷۰) اللہ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کیے ان میں اسے ایک حصہ دار ٹھہرایا تو بولے یہ اللہ کا ہے ان کے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کا (ف۲۷۱) تو وہ جو ان کے شریکوں کا ہے وہ تو خدا کو نہیں پہنچتا، اور جو خدا کا ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچتا ہے، کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں (ف۲۷۲)
137اور یوں ہی بہت مشرکوں کی نگاہ میں ان کے شریکوں نے اولاد کا قتل بھلا کر دکھایا ہے (ف۲۷۳) کہ انہیں ہلاک کریں اور ان کا دین اُن پر مشتبہ کردیں (ف۲۷۴) اور اللہ چاہتا تو ایسا نہ کرتے تو تم انہیں چھوڑ دو وہ ہیں اور ان کے افتراء،
138اور بولے (ف۲۷۵) یہ مویشی اور کھیتی روکی ہوئی (ف۲۷۶) ہے اسے وہی کھائے جسے ہم چاہیں اپنے جھوٹے خیال سے (ف۲۷۷) اور کچھ مویشی ہیں جن پر چڑھنا حرام ٹھہرایا (ف۲۷۸) اور کچھ مویشی کے ذبح پر اللہ کا نام نہیں لیتے (ف۲۷۹) یہ سب اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے، عنقریب وہ انہیں بدلے دے گا ان کے افتراؤں کا،
139اور بولے جو ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے وہ نرا (خالص) ہمارے مردوں کا ہے (ف۲۸۰) اور ہماری عورتوں پر حرام ہے، اور مرا ہوا نکلے تو وہ سب (ف۲۸۱) اس میں شریک ہیں، قریب ہے کہ اللہ انہیں اِن کی اُن باتوں کا بدلہ دے گا، بیشک وہ حکمت و علم والا ہے،
140بیشک تباہ ہوئے وہ جو اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں احمقانہ جہالت سے (ف۲۸۲) اور حرام ٹھہراتے ہیں وہ جو اللہ نے انہیں روزی دی (ف۲۸۳) اللہ پر جھوٹ باندھنے کو (ف۲۸۴) بیشک وہ بہکے اور راہ نہ پائی (ف۲۸۵)
141اور وہی ہے جس نے پیدا کیے باغ کچھ زمین پر چھئے (چھائے) ہوئے (ف۲۸۶) اور کچھ بے چھئے (پھیلے) اور کھجور اور کھیتی جس میں رنگ رنگ کے کھانے (ف۲۸۷) اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے (ف۲۸۸) اور کسی میں الگ (ف۲۸۹) کھاؤ اس کا پھل جب پھل لائے اور اس کا حق دو جس دن کٹے (ف۲۹۰) اور بے جا نہ خرچو (ف۲۹۱) بیشک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں،
142اور مویشی میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے (ف۲۹۲) کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمہیں روزی دی اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے،
143آٹھ نر و مادہ ایک جوڑا بھیڑ کا اور ایک جوڑا بکری کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دنوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں (ف۲۹۳) کسی علم سے بتاؤ اگر تم سچے ہو
144اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں (ف۲۹۴) کیا تم موجود تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا (ف۲۹۵) تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو اپنی جہالت سے گمراہ کرے، بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا،
145تم فرماؤ (ف۲۹۶) میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام (ف۲۹۷) مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون (ف۲۹۸) یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے یا وہ بے حکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا تو جو ناچار ہوا (ف۲۹۹) نہ یوں کہ آپ خواہش کرے اور نہ یوں کہ ضرورت سے بڑھے تو بے شیک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۰۰)
146اور یہودیوں پر ہم نے حرام کیا ہر ناخن والا جانور (ف۳۰۱) اور گائے اور بکری کی چربی ان پر حرام کی مگر جو ان کی پیٹھ میں لگی ہو یا آنت یا ہڈی سے ملی ہو، ہم نے یہ ان کی سرکشی کا بدلہ دیا (ف۳۰۲) اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں،
147پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرماؤ کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے (ف۳۰۳) اور اس کا عذاب مجرموں پر سے نہیں ٹالا جاتا (ف۳۰۴)
148اب کہیں گے مشرک کہ (ف۳۰۵) اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے (ف۳۰۶) ایسا ہی ان کے اگلوں نے جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا (ف۳۰۷) تم فرماؤ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ اسے ہمارے لیے نکالو، تم تو نرے گمان (خام خیال)کے پیچھے ہو اور تم یونہی تخمینے کرتے ہو (ف۳۰۸)
149تم فرماؤ تو اللہ ہی کی حجت پوری ہے (ف۳۰۹) تو وہ چاہتا تو سب کی ہدایت فرماتا،
150تم فرماؤ لاؤ اپنے وہ گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ نے اسے حرام کیا (ف۳۱۰) پھر اگر وہ گواہی دے بیٹھیں (ف۳۱۱) تو تُو اے سننے والے! ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا جو ہماری آیتیں جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے رب کا برابر والا ٹھہراتے ہیں(ف۳۱۲)
151تم فرماؤ آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا (ف۳۱۳) یہ کہ اس کا کوئی شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو (ف۳۱۴) اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث، ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے (ف۲۱۵) اور بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی (ف۳۱۶) اور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو (ف۳۱۷) یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو
152اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے (ف۳۱۸) جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے (ف۳۱۹) اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو، ہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر، اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو، یہ تمہیں تاکید فرمائی کہ کہیں تم نصیحت مانو،
153اور یہ کہ (ف۳۲۰) یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور اور راہیں نہ چلو (ف۳۲۱) کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گی، یہ تمہیں حکم فرمایا کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے،
154پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۳۲۲) پورا احسان کرنے کو اس پر جو نیکوکار ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت کہ کہیں وہ (ف۳۲۳) اپنے رب سے ملنے پر ایمان لائیں(ف۳۲۴)
155اور یہ برکت والی کتاب (ف۳۲۵) ہم نے اُتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری کرو کہ تم پر رحم ہو،
156کبھی کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اُتری تھی (ف۳۲۶) اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی(ف۳۲۷)
157یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اُترتی تو ہم ان سے زیادہ ٹھیک راہ پر ہوتے (ف۳۲۸) تو تمہارے پاس تمہارے رب کی روشن دلیل اور ہدایت او ر رحمت آئی (ف۳۲۹) تو اس سے زیادہ ظالم کون جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ پھیرے عنقریب وہ جو ہماری آیتوں سے منہ پھیرتے ہیں ہم انہیں بڑے عذاب کی سزا دیں گے بدلہ ان کے منہ پھیرنے کا،
158کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۳۰) مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے (ف۳۳۱) یا تمہارے رب کا عذاب یا تمہارے رب کی ایک نشانی آئے (ف۳۳۲) جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی یا اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی (ف۳۳۳) تم فرماؤ رستہ دیکھو (ف۳۳۴) ہم بھی دیکھتے ہیں،
159وہ جنہوں نے اپنے دین میں جُدا جُدا راہیں نکالیں او رکئی گروہ ہوگئے (ف۳۳۵) اے محبوب ! تمہیں ان سے کچھ علا قہ نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کرتے تھے(ف۳۳۶)
160جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں (ف۳۳۷) اور جو برائی لائے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اس کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
161تم فرماؤ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی (ف۳۳۸) ٹھیک دین ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جُدا تھے، اور مشرک نہ تھے(ف۳۳۹)
162تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا
163اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۳۴۰)
164تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا اور رب چاہوں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے (ف۳۴۱) اور جو کوئی کچھ کمائے وہ اسی کے ذمہ ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۳۴۲) پھر تمہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے (ف۳۴۳) وہ تمہیں بتادے گا جس میں اختلاف کرتے تھے،
165اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا (ف۳۴۴) اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی (ف۳۴۵) کہ تمہیں آزمائے (ف۳۴۶) اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بیشک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
Chapter 7 (Sura 7)
1المص
2اے محبوب! ایک کتاب تمہاری طرف اُتاری گئی تو تمہارا جی اس سے نہ رُکے (ف۲) اس لیے کہ تم اس سے ڈر سناؤ اور مسلمانوں کو نصیحت،
3اے لوگو! اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اُترا (ف۳) اور اسے چھوڑ کر اور حاکموں کے پیچھے نہ جاؤ، بہت ہی کم سمجھتے ہو،
4اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں (ف۴) تو ان پر ہمارا عذاب رات میں آیا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے(ف۵)
5تو ان کے منہ سے کچھ نہ نکلا جب ہمارا عذاب ان پر آیا مگر یہی بولے کہ ہم ظالم تھے (ف۶)
6تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے (ف۷) اور بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے (ف۸)
7تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے (ف۹) اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے،
8اور اس دن تول ضرور ہونی ہے (ف۱۰) تو جن کے پلے بھاری ہوئے (ف۱۱) وہی مراد کو پہنچے،
9اور جن کے پلے ہلکے ہوئے (ف۱۲) تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی ان زیادتیوں کا بدلہ جو ہماری آیتوں پر کرتے تھے(ف۱۳)
10اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ (ٹھکانا) دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے (ف۱۴) بہت ہی کم شکر کرتے ہو(ف۱۵)
11اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس، یہ سجدہ کرنے والوں میں نہ ہوا،
12فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا (ف۱۶) بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا (ف۱۷)
13فرمایا تو یہاں سے اُ تر جا تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل (ف۱۸) تو ہے ذلت والوں میں(ف۱۹)
14بولا مجھے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں،
15فرمایا تجھے مہلت ہے(ف۲۰)
16بولا تو قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا(ف۲۱)
17پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور ان کے پیچھے او ر ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے (ف۲۲) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا (ف۲۳)
18فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا، ضرور جو اُن میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھردوں گا (ف۲۴)
19اور اے آدم تو اور تیرا جوڑا (ف۲۵) جنت میں رہو تو اُس سے جہاں چاہو کھاؤ اور اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہو گے،
20پھر شیطان نے ان کے جی میں خطرہ ڈالا کہ ان پر کھول دے ان کی شرم کی چیزیں (ف۲۶) جو ان سے چھپی تھیں (ف۲۷) اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس پیڑ سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دو فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ جینے والے (ف ۲۸)
21اور ان سے قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں،
22تو اُتار لایا انہیں فریب سے (ف۲۹) پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر اُن کی شرم کی چیزیں کھل گئیں (ف۳۰) اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے، اور انہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے،
23دونوں نے عرض کی، اے رب ہمارے! ہم نے اپنا آپ بُرا کیا، تو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے،
24فرمایا اُترو (ف۳۱) تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تمہیں زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور برتنا ہے،
25فرمایا اسی میں جیوگے اور اسی میں مرو گے اور اسی میں اٹھائے جاؤ گے (ف۳۲)
26اے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو (ف۳۳) اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا (ف۳۴) یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں،
27اے آدم کی اولاد! (ف۳۵) خبردار! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں، بیشک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے (ف۳۶) بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے،
28اور جب کوئی بے حیائی کریں (ف۳۷) تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا (ف۳۸) تو فرماؤ بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں،
29تم فرماؤ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے، اور اپنے منہ سیدھے کرو ہر نماز کے وقت اور اس کی عبادت کرو نرے (خالص) اس کے بندے ہوکر، جیسے اس نے تمہارا آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے (ف۳۹)
30ایک فرقے کو راہ دکھائی (ف۴۰) اور ایک فرقے کو گمراہی ثابت ہوئی (ف۴۱) انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو والی بنایا (ف۴۲) اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں،
31اے آدم کی اولاد! اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ (ف۴۳) اور کھاؤ اور پیو (ف۴۴) اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں،
32تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندو ں کے لیے نکالی (ف۴۵) اور پاک رزق (ف۴۶) تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا میں اور قیامت میں تو خاص انہی کی ہے، ہم یونہی مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں (ف۴۷) علم والوں کے لیے(ف۴۸)
33تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں (ف۴۹) جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ (ف۵۰) کہ اللہ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ (ف۵۱) کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے،
34اور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے (ف۵۲) تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے،
35اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں (ف۵۳) میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے (ف۵۴) اور سنورے (ف۵۵) تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم،
36اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوز خی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
37تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتیں جھٹلائیں، انہیں ان کے نصیب کا لکھا پہنچے گا (ف۵۶) یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (ف۵۷) ان کی جان نکالنے آئیں تو ان سے کہتے ہیں کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے، کہتے ہیں وہ ہم سے گم گئے (ف۵۸) اور اپنی جانوں پر آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے،
38اللہ ان سے (ف۵۹) فرماتا ہے کہ تم سے پہلے جو اور جماعتیں جن اور آدمیوں کی آگ میں گئیں، انہیں میں جاؤ جب ایک گروہ (ف۶۰) داخل ہوتا ہے دوسرے پر لعنت کرتا ہے (ف۶۱) یہاں تک کہ جب سب اس میں جا پڑے تو پچھلے پہلوں کو کہیں گے (ف۶۲) اے رب ہمارے! انہوں نے ہم کو بہکایا تھا تو انہیں آگ کا دُونا عذاب دے، فرمائے گا سب کو دُونا ہے (ف۶۳) مگر تمہیں خبر نہیں (ف۶۴)
39اور پہلے پچھلوں سے کہیں گے تو تم کچھ ہم سے اچھے نہ رہے (ف۶۵) تو چکھو عذاب بدلہ اپنے کیے کا(ف۶۶)
40وہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے (ف۶۷) اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں جب تک سوئی کے ناکے اونٹ داخل نہ ہو (ف۶۸) اور مجرموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں (ف۶۹)
41انہیں آگ ہی بچھونا اور آگ ہی اوڑھنا (ف۷۰) اور ظالموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں،
42اور وہ جو ایمان لائے اور طاقت بھر اچھے کام کیے ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے، وہ جنت والے ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
43اور ہم نے ان کے سینوں سے کینے کھینچ لیے (ف۷۱) ان کے نیچے نہریں بہیں گی اور کہیں گے (ف۷۲) سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی (ف۷۳) اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہمیں راہ نہ دکھاتا، بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے (ف۷۴) اور ندا ہوئی کہ یہ جنت تمہیں میراث ملی (ف۷۵) صلہ تمہارے اعمال کا،
44اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا (ف۷۶) تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے (ف۷۷) سچا وعدہ تمہیں دیا تھا بولے، ہاں! اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر
45جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (ف۷۸) اور اسے کجی چاہتے ہیں (ف۷۹) اور آخرت کا انکار رکھتے ہیں،
46اور جنت و دوزخ کے بیچ میں ایک پردہ ہے (ف۸۰) اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے (ف۸۱) کہ دونوں فریق کو ان کی پیشانیوں سے پہچانیں گے (ف۸۲) اور وہ جنتیوں کو پکاریں گے کہ سلام تم پر یہ (ف۸۳) جنت میں نہ گئے اور اس کی طمع رکھتے ہیں،
47اور جب ان کی(ف۸۴) آنکھیں دوزخیوں کی طرف پھریں گی کہیں گے اے ہمارے رب! ظالموں کے ساتھ نہ کر،
48اور اعراف والے کچھ مردوں کو (ف۸۵) پکاریں گے جنہیں ان کی پیشانی سے پہچانتے ہیں کہیں گے تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے(ف۸۶)
49کیا یہ ہیں وہ لوگ (ف۸۷) جن پر تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر اپنی رحمت کچھ نہ کرے گا (ف۸۸) ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم،
50اور دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا فیض دو یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا (ف۸۹) کہیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا ہے
51جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا (ف۹۰) اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا (ف۹۱) تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے،
52اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے (ف۹۲) جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لیے،
53کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اس کا بتایا انجام واقع ہوگا (ف۹۳) بول اٹھیں گے وہ جو اسے پہلے سے بھلائے بیٹھے تھے (ف۹۴) کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم واپس بھیجے جائیں کہ پہلے کاموں کے خلاف کام کریں (ف۹۵) بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے (ف۹۶)
54بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین (ف۹۷) چھ دن میں بنائے (ف۹۸) پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے (ف۹۹) رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اس کے حکم کے دبے ہوئے، سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا، بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،
55اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں، (ف۱۰۰)
56اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ (ف۱۰۱) اس کے سنورنے کے بعد (ف۱۰۲) اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طمع کرتے، بیشک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے،
57اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی (ف۱۰۳) یہاں تک کہ جب اٹھا لائیں بھاری بادل ہم نے اسے کسی مردہ شہر کی طرف چلایا (ف۱۰۴) پھر اس سے پانی اتارا پھر اس سے طرح طرح کے پھل نکالے اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے (ف۱۰۵) کہیں تم نصیحت مانو،
58اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے (ف۱۰۶) اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل (ف۱۰۷) ہم یونہی طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں (ف۱۰۸) ان کے لیے جو احسان مانیں،
59بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (ف۱۰۹) تو اس نے کہا میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اسکے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۱۱) بیشک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۱۱۲)
60اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں،
61کہا اے میری قوم مجھ میں گمراہی کچھ نہیں میں تو رب العالمین کا رسول ہوں،
62تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا اور تمہارا بھلا چاہتا اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے،
63اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت (ف۱۱۳) کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم ڈرو اور کہیں تم پر رحم ہو،
64تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو (ف۱۱۵) اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور اپنی آیتیں جھٹلانے والوں کو ڈبو دیا، بیشک وہ اندھا گروہ تھا (ف۱۱۶)
65اور عاد کی طرف (ف۱۱۷) ان کی برادری سے ہود کو بھیجا (ف۱۱۸) کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں (ف۱۱۹)
66اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں جھوٹوں میں گمان کرتے ہیں (ف۱۲۰)
67کہا اے میری قوم مجھے بے وقوفی سے کیا علاقہ میں تو پروردگار عالم کا رسول ہوں،
68تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا ہوں اور تمہارا معتمد خیرخواہ ہوں (ف۱۲۱)
69اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں سے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا (ف۱۲۲) اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا (ف۱۲۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱۲۴) کہ کہیں تمہارا بھلا ہو،
70بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو (ف۱۲۵) کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو (ف۱۲۶) ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ (ف۱۲۷) جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو،
71کہا (ف۱۲۸) ضرور تم پر تمہارے رب کا عذاب اور غضب پڑ گیا (ف۱۲۹) کیا مجھ سے خالی ان ناموں میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے (ف۱۳۰) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، تو راستہ دیکھو (ف۱۳۱) میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں،
72تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو (ف۱۳۲) اپنی ایک بڑی رحمت فرماکر نجات دی (ف۱۳۳) اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے (ف۱۳۴) تھے ان کی جڑ کاٹ دی (ف۱۳۵) اور وہ ایمان والے نہ تھے،
73اور ثمود کی طرف (ف۱۳۶) ان کی برادری سے صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے (ف۱۳۷) روشن دلیل آئی (ف۱۳۸) یہ اللہ کا ناقہ ہے (ف۱۳۹) تمہارے لیے نشانی، تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ (ف۱۴۰) کہ تمہیں درد ناک عذاب آئے گا،
74اور یاد کرو (ف۱۴۱) جب تم کو عاد کا جانشین کیا اور ملک میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو (ف۱۴۲) اور پہاڑوں میں مکان تراشتے ہو (ف۱۴۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱۴۴) اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو،
75اس کی قوم کے تکبر والے کمزور مسلمانوں سے بولے کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کے رسول ہیں، بولے وہ جو کچھ لے کے بھیجے گئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں (ف۱۴۵)
76متکبر بولے جس پر تم ایمان لائے ہمیں اس سے انکار ہے،
77پس (ف۱۴۶) ناقہ کی کُوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ (ف۱۴۷) جس کا تم سے وعد دے رہے ہو اگر تم رسول ہو،
78تو انہیں زلزلے نے ا ٓلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،
79تو صالح نے ان سے منہ پھیرا (ف۱۴۸) اور کہا اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی (پسند کرنے والے) ہی نہیں،
80اور لوط کو بھیجا (ف۱۴۹) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی،
81تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو (ف۱۵۰) عورتیں چھوڑ کر، بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے (ف۱۵۱)
82اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان (ف۱۵۲) کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں (ف۱۵۳)
83تو ہم نے اسے (ف۱۵۴) اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی(ف۱۵۵)
84اور ہم نے ان پر ایک مینھ برسایا (ف۱۵۶) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا(ف۱۵۷)
85اور مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا (ف۱۵۸) کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی (ف۱۵۹) تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو (ف۱۶۰) اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ،
86اور ہر راستہ پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو (ف۱۶۱) جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو، اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اس نے تمہیں بڑھادیا (ف۱۶۲) اور دیکھو (ف۱۶۳) فسادیوں کا کیسا انجام ہوا،
87اور اگر تم میں ایک گروہ اس پر ایمان لایا جو میں لے کر بھیجا گیا اور ایک گروہ نے نہ مانا (ف۱۶۴) تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ ہم میں فیصلہ کرے (ف۱۶۵) اور اللہ کا فیصلہ سب سے بہتر (ف۱۶۶)
88اس کی قوم کے متکبر سردار بولے، اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکا ل دیں گے یا تم ہمارے دین میں ا ٓجا ؤ کہا (ف۱۶۷) کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں(ف۱۶۸)
89ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر تمہارے دین میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے (ف۱۶۹) اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۱۷۰) جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۷۱) اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر (ف۱۷۲) اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے،
90اور اسکی قوم کے کافر سردار بولے کہ اگر تم شعیب کے تابع ہوئے تو ضرور نقصان میں رہو گے،
91تو انہیں زلز لہ نے ا ٓ لیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (ف۱۷۳)
92شعیب کو جھٹلانے والے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے، شعیب کو جھٹلانے والے ہی تباہی میں پڑے،
93تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا (ف۱۷۴) اور کہا اے میری قوم! میں تمہیں رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی (ف۱۷۵) تو کیونکر غم کروں کافروں کا،
94اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی (ف۱۷۶) مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا (ف۱۷۷) کہ وہ کسی طرح زاری کریں (ف۱۷۸)
95پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی (ف۱۷۹) یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے (ف۱۸۰) اور بولے بیشک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے (ف۱۸۱) تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا (ف۱۸۲)
96اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور ڈرتے (ف۱۸۳) تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے (ف۱۸۴) مگر انہوں نے تو جھٹلایا (ف۱۸۵) تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا(ف۱۸۶)
97کیا بستیوں والے (ف۱۸۷) نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں
98یا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں(ف۱۸۸)
99کیا اللہ کی خفی تدبیر سے بے خبر ہیں (ف۱۸۹) تو اللہ کی خفی تدبیر سے نذر نہیں ہوتے مگر تباہی والے (ف۱۹۰)
100اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آ فت پہنچائیں (ف۱۹۱) اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے(ف۱۹۲)
101یہ بستیاں ہیں (ف۱۹۳) جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۱۹۴) اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں (ف۱۹۵) لے کر آئے تو وہ (ف۱۹۶) اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے (ف۱۹۷) اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کا فروں کے دلوں پر(ف۱۹۸)
102اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا (ف۱۹۹) اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا،
103پھر ان (ف۲۰۰) کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں (ف۲۰۱) کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی (ف۲۰۲) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مفسدوں کا،
104اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! میں پرور دگا ر عالم کا رسول ہوں،
105مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات (ف۲۰۳) میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لےکر آیا ہوں (ف۲۰۴) تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے(ف۲۰۵)
106بولا اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ اگر سچے ہو،
107تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا ہوگیا (ف۲۰۶)
108اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا (ف۲۰۷)
109قوم فرعون کے سردار بولے یہ تو ایک علم والا جادوگر ہے (ف۲۰۸)
110تمہیں تمہارے ملک (ف۲۰۹) سے نکا لا چاہتا ہے تو تمہارا کیا مشورہ ہے،
111بولے انہیں اور ان کے بھائی (ف۲۱۰) کو ٹھہرا اور شہروں میں لوگ جمع کرنے والے بھیج دے،
112کہ ہر علم والے جادوگر کو تیرے پاس لے آئیں (ف۲۱۱)
113اور جادوگر فرعون کے پاس آئے بولے کچھ ہمیں انعام ملے گا اگر ہم غالب آئیں،
114بولا ہاں اور اس وقت تم مقرب ہوجا ؤ گے،
115بولے اے موسیٰ یا تو (ف۲۱۲) آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں(ف۲۱۳)
116کہا تمہیں ڈالو (ف۲۱۴) جب انہوں نے ڈالا (ف۲۱۵) لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں ڈرایا اور بڑا جادو لائے،
117اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف۲۱۶)
118تو حق ثابت ہوا اور ان کا کام باطل ہوا،
119تو یہاں وہ مغلوب پڑے اور ذلیل ہوکر پلٹے
120اور جادوگر سجدے میں گرادیے گئے (ف۲۱۷)
121بولے ہم ایمان لائے جہان کے رب پر،
122جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا،
123فرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، یہ تو بڑا جعل (فریب) ہے جو تم سب نے (ف۲۱۸) شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو (ف۲۱۹) تو اب جان جاؤ گے (ف۲۲۰)
124قسم ہے کہ میں تمہارے ایک طرف کہ ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سُو لی دوں گا (ف۲۲۱)
125بولے ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں (ف۲۲۲)
126اور تجھے ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے رب ہمارے! ہم پر صبر انڈیل دے (ف۲۲۳) اور ہمیں مسلمان اٹھا (ف۲۲۴)
127اور قوم فرعون کے سردار بولے کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑ تا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں (ف۲۲۵) اور موسیٰ تجھے اور تیرے ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو چھوڑدے (ف۲۲۶) بولا اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیاں زندہ رکھیں گے اور ہم بیشک ان پر غالب ہیں (ف۲۲۷)
128موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو (ف۲۲۸) اور صبر کرو (ف۲۲۹) بیشک زمین کا مالک اللہ ہے (ف۲۳۰) اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے (ف۲۳۱) اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے (ف۲۳۲)
129بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے (ف۲۳۳) اور آپ کے تشریف لانے کے بعد (ف۲۳۴) کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو (ف۲۳۵)
130اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا (ف۲۳۶) کہ کہیں وہ نصیحت مانیں (ف۲۳۷)
131تو جب انہیں بھلائی ملتی (ف۲۳۸) کہتے یہ ہمارے لیے ہے (ف۲۳۹) اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے (ف۲۴۰) سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے (ف۲۴۱) لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں،
132اور بولے تم کیسی بھی نشانی لے کر ہمارے پاس آؤ کہ ہم پر اس سے جادو کرو ہم کسی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں (ف۲۴۲)
133تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان (ف۲۴۳) اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں (ف۲۴۴) تو انہوں نے تکبر کیا (ف۲۴۵) اور وہ مجرم قوم تھی
134اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے (ف۲۴۶) بیشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے،
135پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے ایک مدت کے کیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے،
136تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا (ف۲۴۷) اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے (ف۲۴۸)
137اور ہم نے اس قوم کو (ف۲۴۹) جو دبا لی گئی تھی اس زمین (ف۲۵۰) کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی (ف۲۵۱) اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا، بدلہ ان کے صبر کا، اور ہم نے برباد کردیا (ف۲۵۲) جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو چنائیاں اٹھاتے (تعمیر کرتے) تھے،
138اور ہم نے (ف۲۵۳) بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے (جم کر بیٹھے) تھے (ف۲۵۴) بولے اے موسیٰ! ہمیں ایک خدا بنادے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں، بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو، (ف۲۵۵)
139یہ حال تو بربادی کا ہے جس میں یہ (ف۲۵۶) لوگ ہیں اور جو کچھ کررہے ہیں نرا باطل ہے،
140کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی(ف۲۵۷)
141اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بحشی کہ تمہیں بری مار دیتے تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے، اور اس میں رب کا بڑا فضل ہوا (ف۲۵۸)
142اور ہم نے موسیٰ سے (ف۲۵۹) تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں (ف۲۶۰) دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا (ف۲۶۱) اور موسیٰ نے (ف۲۶۲) اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا،
143اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا (ف۲۶۳) عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا (ف۲۶۴) ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا (ف۲۶۵) پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نو ر چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۲۶۶)
144فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو،
145اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں (ف۲۶۷) لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کر اس کی اچھی باتیں اختیار کریں (ف۲۶۸) عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بے حکموں کا گھر (ف۲۶۹)
146اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑا ئی چاہتے ہیں (ف۲۷۰) اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں (ف۳۲۷۱) اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں، یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بے خبر بنے،
147اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اَکارت گیا، انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے،
148اور موسیٰ کے (ف۲۷۲) بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے (ف۲۷۳) ایک بچھڑا بنا بیٹھی بے جان کا دھڑ (ف۲۷۴) گائے کی طرف آواز کرتا، کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے (ف۲۷۵) اسے لیا اور وہ ظالم تھے (ف۲۷۶)
149اور جب پچھتائے اور سمجھے کہ ہم بہکے بولے اگر ہمارا رب ہم پر مہر ہ کرے اور ہمیں نہ بخشے تو ہم تباہ ہوئے،
150اور جب موسیٰ (ف۲۷۷) اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا جھنجلایا ہوا (ف۲۷۸) کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد (ف۲۷۹) کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی (ف۲۸۰) اور تختیاں ڈال دیں (ف۲۸۱) اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا (ف۲۸۲) کہا اے میرے ماں جائے (ف۲۸۳) قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا (ف۲۸۴) اور مجھے ظالموں میں نہ ملا (ف۲۸۵)
151عرض کی اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے (ف۲۸۶) اور ہمیں اپنی رحمت کے اندر لے لے اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا
152بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انہیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچناہے دنیا کی زندگی میں، اور ہم ایسی ہی بدلہ دیتے ہیں بہتان ہایوں (باندھنے والوں) کو،
153اور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۸۷)
154اور جب موسیٰ کا غصہ تھما تختیاں اٹھالیں اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں،
155اور موسیٰ نے اپنی قوم سے سترّ ۷۰، مرد ہمارے وعدہ کے لیے چنے (ف۲۸۸) پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا (ف۲۸۹) موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے! تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا (ف۲۹۰) کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بے عقلوں نے کیا (ف۲۹۱) وہ نہیں مگر تیرا آزمانا، تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،
156اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ (ف۲۹۲) اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے، فرمایا (ف۲۹۳) میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں (ف۲۹۴) اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے (ف۲۹۵) تو عنقریب میں (ف۲۹۶) نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں،
157وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی (ف۲۹۷) جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں (ف۲۹۸) وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ (ف۲۹۹) اور گلے کے پھندے (ف۳۰۰) جو ان پر تھے اتا رے گا، تو وہ جو اس پر (ف۳۰۱) ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا (ف۳۰۲) وہی بامراد ہوئے،
158تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں (ف۳۰۳) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ،
159اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے کہ حق کی راہ بتا تا اور اسی سے (ف۳۰۴) انصاف کرتا،
160اور ہم نے انہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ، اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو جب اس سے اس کی قوم نے (ف۳۰۵) پانی ما نگا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (ف۳۰۶) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اور ہم نے ان پر ابر کا سائبان کیا (ف۳۰۷) اور ان پر من و سلویٰ اتارا، کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں اور انہوں نے (ف۳۰۸) ہمارا کچھ نقصان نہ کیا لیکن اپنی ہی جانوں کا برا کرتے ہیں،
161اور یاد کرو جب ان (ف۳۰۹) سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو (ف۳۱۰) اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اترے اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے، عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے،
162تو ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا (ف۳۱۱) تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا بدلہ ان کے ظلم کا (ف۳۱۲)
163اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی (ف۳۱۳) جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے (ف۳۱۴) جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزمانتے تھے ان کی بے حکمی کے سبب،
164اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا، بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو (ف۳۱۵) اور شاید انہیں ڈر ہو(ف۳۱۶)
165پھر جب بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچالیے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا،
166پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بند ر دھتکارے ہوئے(ف۲۱۷)
167اور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان (ف۳۱۸) پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے (ف۳۱۹) بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے (ف۳۲۰) اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۲۱)
168اور انہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ، ان میں کچھ نیک ہیں (ف۳۲۲) اور کچھ اور طرح کے (ف۳۲۳) اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں (ف۳۲۴)
169پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ (ف۳۲۵) ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۲۶) اس دنیا کا مال لیتے ہیں (ف۳۲۷) اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی (ف۳۲۸) اور اگر ویسا ہی مال ان کے پاس اور آئے تو لے لیں (ف۳۲۹) کیا ان پر کتاب میں عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا (ف۳۳۰) اور بیشک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو (ف۳۳۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں،
170اور وہ جو کتاب کو مضبوط تھامتے ہیں (ف۳۳۲) اور انہوں نے نماز قائم رکھی، ہم نیکوں کا نیگ (اجر) نہیں گنواتے،
171اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا (ف۳۳۳) تو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے (ف۳۳۴) اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو،
172اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں (ف۳۳۵) سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے (ف۳۳۶) کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی (ف۳۳۷)
173یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے (ف۳۳۸) تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا (ف۳۳۹)
174اور ہم اسی طرح آیتیں رنگ رنگ سے بیان کرتے ہیں (ف۳۴۰) اور اس لیے کہ کہیں وہ پھر آئیں(ف۳۴۱)
175اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں (ف۳۴۲) تو وہ ان سے صاف نکل گیا (ف۳۴۳) تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا،
176اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے (ف۳۴۴) مگر وہ تو زمین پکڑ گیا (ف۳۴۵) اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے (ف۲۴۶) یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں،
177کیا بری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا برا کرتے تھے،
178جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے،
179اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی (ف۳۴۷) اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں (ف۳۴۸) اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں (ف۳۴۹) اور وہ کان جن سے سنتے نہیں (ف۳۵۰) وہ چوپایوں کی طرح ہیں (ف۳۵۱) بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ (ف۳۵۲) وہی غفلت میں پڑے ہیں،
180اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام (ف۳۵۳) تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں (ف۳۵۴) وہ جلد اپنا کیا پائیں گے،
181اور ہمارے بنائے ہوؤں میں ایک گروہ وہ ہے کہ حق بتائیں اور اس پر انصاف کریں(ف۳۵۵)
182اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ (ف۳۵۶) عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی
183اور میں انہیں ڈھیل دوں گا (ف۳۵۷) بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے(ف۳۵۸)
184کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو جنوں سے کچھ علاقہ نہیں، وہ تو صا ف ڈر سنانے والے ہیں(ف۳۵۹)
185کیا انہو ں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو جو چیز اللہ نے بنائی (ف۳۶۰) اور یہ کہ شاید ان کا وعدہ نزدیک آگیا ہو (ف۳۶۱) تو اس کے بعد اور کونسی بات پر یقین لائیں گے(ف۳۶۲)
186جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،
187تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں (ف۳۶۳) کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا (ف۳۶۴) بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں او رزمین میں، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک، تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے، تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے اس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں (ف۳۶۵)
188تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں (ف۳۶۶) مگر جو اللہ چاہے (ف۳۶۷) اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی (ف۳۶۸) میں تو یہی ڈر (ف۳۶۹) اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،
189وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳۷۰) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا (ف۳۷۱) کہ اس سے چین پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا (ف۳۷۲) تو اسے لیے پھراکی پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بیشک ہم شکر گزار ہوں گے،
190پھر جب اس نے انہیں جیسا چاہیے بچہ عطا فرمایا انہوں نے اس کی عطا میں اس کے ساجھی ٹھہرائے تو اللہ کو برتری ہے ان کے شرک سے (ف۳۷۳)
191کیا اسے شریک کرتے ہیں جو کچھ نہ بنائے (ف۳۷۴) اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں،
192اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچاسکیں اور نہ اپنی جانو ں کی مدد کریں (ف۳۷۵)
193اور اگر تم انہیں (ف۳۷۶) راہ کی طرف بلاؤ تو تمہارے پیچھے نہ آئیں (ف۳۷۷) تم پر ایک سا ہے چاہے انہیں پکارو یا چپ رہو(ف۳۷۸)
194بیشک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں (ف۳۷۹) تو انہیں پکارو پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو،
195کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے گرفت کریں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنیں (ف۳۸۰) تم فرماؤ کہ اپنے شریکوں کو پکارو اور مجھ پر داؤ چلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۳۸۱)
196بیشک میرا والی اللہ ہے جس نے کتاب ا تاری (ف۳۸۲) اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے(ف۳۸۳)
197اور جنہیں اس کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے، اور نہ خود اپنی مدد کریں (ف۳۸۴)
198اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو نہ سنیں اور تو انہیں دیکھے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں (ف۳۸۵) اور انہیں کچھ بھی نہیں سوجھتا،
199اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو،
200اور اے سننے والے اگر شیطان تجھے کوئی کونچا دے (کسی برے کام پر اکسائے) تو اللہ کی پناہ مانگ بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
201بیشک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں(ف۳۸۷)
202اور وہ جو شیطانوں کے بھائی ہیں (ف۳۸۸) شیطان انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر کمی نہیں کرتے،
203اور اے محبوب! جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی تم فرما ؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے،
204اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو(ف۳۸۹)
205اور اپنے رب کو اپن ے دل میں یاد کرو (ف۳۹۰) زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام (ف۳۹۱) اور غافلوں میں نہ ہونا،
206بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں (ف۳۹۲) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹۳) السجدة ۔۵
Chapter 8 (Sura 8)
1اے محبوب! تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں (ف۲) تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں (ف۳) تو اللہ ڈرو (ف۴) اور اپنے آ پس میں میل (صلح صفائی) رکھو اور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو،
2ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے (ف۵) ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں (ف۶)
3وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں،
4یہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس (ف۷) اور بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۸)
5جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا (ف۹) اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا (ف۱۰)
6سچی بات میں تم سے جھگڑتے تھے (ف۱۱) بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی (ف۱۲) گویا وہ آنکھوں دیکھی موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں (ف۱۳)
7اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں (ف۱۴) میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو) (ف۱۵) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے (ف۱۶) اور کافروں کی جڑ کا ٹ دے(ف۱۷)
8کہ سچ کو سچ کرے اور جھوٹ کو جھوٹا (ف۱۸) پڑے برا مانیں مجرم،
9جب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے (ف۱۹) تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے (ف۲۰)
10اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں، اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے (ف۲۱) بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
11جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی (ف۲۲) اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلو ں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے(ف۲۳)
12جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو (ف۲۴) عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگا ؤ (ف۲۵)
13یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
14یہ تو چکھو (ف۲۶) اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ کافروں کو آ گ کا عذاب ہے (ف۲۷)
15اے ایمان والو! جب کافروں کے لام (لشکر) سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو (ف۲۸)
16اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنرَ کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو، تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی، (ف۲۹)
17تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے (ف۳۰) انہیں قتل کیا، اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
18یہ (ف۳۱) تو لو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ کافروں کا داؤ سست کرنے والا ہے،
19اے کافرو! اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آچکا (ف۳۲) اور اگر با ز ا ٓ ؤ (ف۳۳) تو تمہارا بھلا ہے اور اگر تم پھر شرارت کرو تو ہم پھر نہ دیں گے اور تمہارا جتھا تمہیں کچھ کام نہ دے گا چاہے کتنا ہی بہت ہو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے،
20اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو (ف۳۴) اور سن سنا کہ اسے نہ پھرو،
21اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا او ر وہ نہیں سنتے (ف۳۵)
22بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں(ف۳۶)
23اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی (ف۳۷) جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر (ف۳۸) سنا دیتا جب بھی انجام کا ر منہ پھیر کر پلٹ جاتے (ف۳۹)
24اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو (ف۴۰) جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی (ف۴۱) اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے،
25اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا (ف۴۲) اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،
26اور یاد کرو (ف۴۳) جب تم تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے (ف۴۴) ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں (ف۴۵) جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور ستھری چیزیں تمہیں روزی دیں (ف۴۶) کہ کہیں تم احسان مانو،
27اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو (ف۴۷) اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت،
28اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے (ف۴۸) اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے(ف۴۹)
29اے ایمان والو! اگر اللہ سے ڈرو گے (ف۵۰) تو تمہیں وہ دیگا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
30اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکا ل دیں (ف۱۵۱) اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر،
31اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے (ف۵۲)
32اور جب بولے (ف۵۳) کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا،
33اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۵۴) اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں (ف۵۵)
34اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں (ف۵۶) اور وہ اس کے اہل نہیں (ف۵۷) اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں،
35اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی (ف۵۸) تو اب عذاب چکھو (ف۵۹) بدلہ اپنے کفر کا،
36بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں (ف۶۰) تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے (ف۶۱) پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا،
37اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے (ف۶۲) اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں (ف۶۳)
38تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا (ف۶۴) اور اگر پھر وہی کریں تو اگلوں کا دستور گزر چکا ہے (ف۶۵)
39اور اگر ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد (ف۶۶) باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے، اگر پھر وہ باز رہیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،
40اور اگر وہ پھریں (ف۲۷) تو جان لو کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے (ف۶۸) تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،
41اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو (ف۶۹) تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول و قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے (ف۷۰) اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن اتارا جس دن دونوں فوجیں ملیں تھیں (ف۷۱) اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
42جب تم نالے کے کنا رے تھے (ف۷۲) اور کافر پرلے کنا رے اور قا فلہ (ف۷۳) تم سے ترائی میں (ف۷۴) اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے (ف۷۵) لیکن یہ اس لیے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے (ف۷۶) کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو (ف۷۷) اور جو جئے دلیل سے جئے (ف۷۸) اور بیشک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے،
43جب کہ اے محبوب! اللہ ٹمہیں کافروں کو تمہاری خواب میں تھو ڑا دکھاتا تھا (ف۷۹) اور اے مسلمانو! اگر وہ تمہیں بہت کرکے دکھاتا تو ضرور تم بزدلی کرتے اور معاملہ میں جھگڑا ڈالتے (ف۸۰) مگر اللہ نے بچا لیا (ف۸۱) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
44او ر جب لڑتے وقت (ف۸۲) تمہیں کا فر تھو ڑے کرکے دکھائے (ف۸۳) اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھو ڑا کیا (ف۷۴) کہ اللہ پو را کرے جو کام ہونا ہے (ف۸۵) اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے،
45اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو (ف۸۶) کہ تم مراد کو پہنچو،
46اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑ و نہیں کہ پھر بز د لی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی (ف۸۷) اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے (ف۸۸)
47اور ان جیسے نہ ہوتا جو اپنے گھر سے نکلے اتراتے اور لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸۹) اور ان کے سب کام اللہ کے قابو میں ہیں،
48اور جبکہ شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے کام بھلے کر دکھائے (ف۹۰) اور بولا آج تم پر کوئی شخص غالب آنے والا نہیں اور تم میری پناہ میں ہو تو جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے الٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں (ف۹۱) میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا (ف۹۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں (ف۹۳) اور اللہ کا عذاب سخت ہے،
49جب کہتے تھے منافق (ف۹۴) اور وہ جن کے دلوں میں ا ٓزا ر ہے (ف۹۵) کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں (ف۹۶) اور جو اللہ پر بھروسہ کرے (ف۹۷) تو بیشک اللہ (ف۹۸) غالب حکمت والا ہے،
50اور کبھی تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں مار رہے ہیں ان کے منہ پر او ر ان کی پیٹھ پر (ف۹۹) اور چکھو آ گ کا عذاب،
51یہ (ف۱۰۰) بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۰۱) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۲)
52جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور (ف۱۰۳) وہ اللہ کی آیتوں کے منکر ہوئے تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا بیشک اللہ قوت والا سخت عذاب و ا لا ہے،
53یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں (ف۱۰۴) اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے
54جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور، انہوں نے اپنے رب کی آیتیں جھٹلائیں تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ہم نے فرعون والوں کو ڈبو دیا (ف۱۰۵) اور وہ سب ظالم تھے،
55بیشک سب جانوروں (کا فر و ں) میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتے،
56وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر با ر اپنا عہد توڑ دیتے ہیں (ف۱۰۶) اور ڈرتے نہیں (ف۱۰۷)
57تو اگر تم انہیں کہیں لڑائی میں پا ؤ تو انہیں ایسا قتل کرو جس سے ان کے پس ماندوں کو بھگاؤ (ف۱۰۸) اس امید پر کہ شاید انہیں عبرت ہو (ف۱۰۹)
58اور اگر تم کسی قوم سے دغا کا اندیشہ کرو (ف۱۱۰) تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر (ف۱۱۱) بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں،
59اور ہرگز کا فر اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ وہ (ف۱۱۲) ہاتھ سے نکل گئے بیشک وہ عاجز نہیں کرتے (ف۱۱۳)
60اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے (ف۱۱۴) اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن ہیں (ف۱۱۵) اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے (ف۱۱۶) اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا (ف۱۱۷) اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے،
61اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھکو (ف۱۱۸) اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بیشک وہی ہے سنتا جانتا،
62اور اگر وہ تمہیں فریب دیا چاہیں (ف۱۱۹) تو بیشک اللہ تمہیں کافی ہے، وہی ہے جس نے تمہیں زور دیا اپنی مدد کا اور مسلمانوں کا،
63اور ان کے دلوں میں میل کردیا (ف۱۲۰) اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملا سکتے (ف۱۲۱) لیکن اللہ نے ان کے دل ملادیئے، بیشک وہی ہے غالب حکمت والا،
64اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے، (ف۱۲۲)
65اے غیب کی خبریں بتانے والے! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو کافروں کے ہزا ر پر غالب آئیں گے اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے، (ف۱۲۳)
66اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمائی اور اسے علم کہ تم کمزو ر ہو تو اگر تم میں سو صبر والے ہوں د و سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں کے ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب ہوں گے اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے،
67کسی نبی کو لائئق نہیں کہ کافروں کو زندہ قید کرلے جب تک زمین میں ان کا خون خوب نہ بہائے (ف۱۲۴) تم لوگ دنیا کا مال چا ہتے ہو (ف۱۲۵) او ر اللہ آخرت چاہتا ہے (ف۱۲۶) اور اللہ غالب حکمت والا ہے
68اگراللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا (ف۱۲۷) تو اے مسلمانو! تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا،
69تو کھاؤ جو غنیمت تمہیں ملی حلال پاکیزہ (ف۱۲۸) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
70اے غیب کی خبریں بتانے والے جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ (ف۱۲۹) اگر اللہ نے تمہارے دل میں بھلائی جانی (ف۱۳۰) تو جو تم سے لیا گیا (ف۱۳۱) اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۲)
71اور اے محبوب اگر وہ (ف۱۳۳) تم سے دغا چاہیں گے (ف۱۳۴) تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دے دیے (ف۱۳۵) اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے،
72بیشک جو ایمان لائے اور اللہ کے لیے (ف۱۳۶) گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے (ف۱۳۷) اور وہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی (ف۱۳۸) وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱۳۹) اور وہ جو ایمان لائے (ف۱۴۰) اور ہجرت نہ کی انہیں ان کا ترکہ کچھ نہیں پہنچتا جب تک ہجرت نہ کریں اور اگر وہ دین میں تم سے مدد چاہیں تو تم پر مدد دینا واجب ہے مگر ایسی قوم پر کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
73اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱۴۱) ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا (ف۱۴۲)
74اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۱۴۳)
75اور جو بعد کو ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں (ف۴۴) اور رشتہ والے ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کی کتاب میں (ف۱۴۵) بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
Chapter 9 (Sura 9)
1بیزاری کا حکم سنانا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ قائم نہ رہے (ف۲)
2تو چا ر مہینے زمین پر چلو پھرو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے (ف۳) اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے (ف۴)
3اور منادی پکار دیتا اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن (ف۵) کہ اللہ بیزار ہے، مشرکوں سے اور اس کا رسول تو اگر تم توبہ کرو (ف۶) تو تمہا را بھلا ہے اور اگر منہ پھیرو (ف۷) تو جان لو کہ اللہ کو نہ تھکا سکو گے (ف۸) اور کافروں کو خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی،
4مگر وہ مشرک جن سے تمہارہ معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ کمی نہیں کی (ف۹) اور تمہارے مقابل کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے،
5پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو (ف۱۰) جہاں پا ؤ (ف۱۱) اور انہیں پکڑو اور قید کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں (ف۱۲) اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو (ف۱۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
6اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے (ف۱۴) تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو (ف۱۵) یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں (ف۱۶)
7مشرکوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے پاس کوئی عہد کیونکر ہوگا (ف۱۷) مگر وہ جن سے تمہارا معاہدہ مسجد حرام کے پاس ہوا (ف۱۸) تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں تم ان کے لیے قائم رہو، بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں،
8بھلا کیونکر (ف۱۹) ان کا حال تو یہ ہے کہ تم پر قابو پائیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا، اپنے منہ سے تمہیں راضی کرتے ہیں (ف۲۰) اور ان کے دلوں میں انکار ہے اور ان میں اکثر بے حکم ہیں (ف۲۱)
9اللہ کی آیتوں کے بدلے تھو ڑے دام مول لیے (ف۲۲) تو اس کی راہ سے روکا (ف۲۳) بیشک وہ بہت ہی بڑے کام کرتے ہیں،
10کسی مسلمان میں نہ قراب کا لحاظ کریں نہ عہد کا (ف۲۴) اور وہی سرکش ہیں،
11پھر اگر وہ (ف۲۵) توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں (ف۲۶) اور ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں جاننے والوں کے لیے (ف۲۷)
12اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو (ف۲۸) بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں (ف۲۹)
13کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں (ف۳۰) اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا (ف۳۱) حالانکہ انہیں کی طرف سے پہلی ہوتی ہے، کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو،
14تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دیگا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا (ف۳۲) اور تمہیں ان پر مدد دے گا (ف۳۳) اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا،
15اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا (ف۳۴) اور اللہ جس کی چاہے تو یہ قبول فرمائے (ف۳۵) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
16کیا اس گمان میں ہو کہ یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے پہچان نہ کرائی ان کی جو تم میں سے جہاد کریں گے (ف۳۶) اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا محرم راز نہ بنائیں گے (ف۳۷) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
17مشرکوں کو نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں (ف۳۸) خود اپنے کفر کی گواہی دے کر (ف۳۹) ان کا تو سب کیا دھرا اِکا رت ہے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے (ف۴۰)
18اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نما ز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں (ف۴۱) اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے (ف۴۲) تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں،
19تو کیا تم نے حا جیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرا لی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا (ف۴۳)
20وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں لڑے، اللہ کے یہاں ان کا درجہ بڑا ہے (ف۴۴) اور وہی مراد کو پہنچے (ف۴۵)
21ان کا رب انہیں خوشی سنا تا ہے اپنی رحمت اور اپنی رضا کی (ف۴۶) اور ان باغوں کی جن میں انہیں دائمی نعمت ہے
22ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے،
23اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں، اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں (ف۴۷)
24تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کا مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑے سے زیاد ہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے (ف۴۸) اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا،
25بیشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی (ف۴۹) اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ ا ٓئی (ف۵۰) اور زمین اتنی وسیع ہوکر تم پر تنگ ہوگئی (ف۵۱) پھر تم پیٹھ دے کر پھرگئے،
26پھر اللہ نے اپنی تسکین اتا ری اپنے رسول پر (ف۵۲) اور مسلمانوں پر (ف۵۳) اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے (ف۵۴) اور کافروں کو عذاب دیا (ف۵۵) اور منکروں کی یہی سزا ہے،
27پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ دے گا (ف۵۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
28اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں (ف۵۷) تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں (ف۵۸) اور اگر تمہاری محتاجی کا ڈر ہے (ف۵۹) تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے (ف۶۰) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
29لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر (ف۶۱) اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۶۲) اور سچے دین (ف۶۳) کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر (ف۶۴)
30اور یہودی بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے (ف۶۵) اور نصرانی بولے مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ باتیں وہ اپنے منہ سے بکتے ہیں (ف۶۶) اگلے کافرو ں کی سی بات بناتے ہیں، اللہ انہیں مارے، کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۶۷)
31انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا (ف۶۸) اور مسیح بن مریم کو (ف۶۹) اور انہیں حکم نہ تھا (ف۷۰) مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسے پاکی ہے ان کے شرک سے،
32چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور (ف۷۱) اپنے منہ سے بُجھا دیں اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا (ف۷۲) پڑے برا مانیں کافر،
33وہی ہے جس نے اپنا رسول (ف۷۳) ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۷۴) پڑے برا مانیں مشرک،
34اے ایمان والو! بیشک بہت پادری اور جوگی لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں (ف۷۵) اور اللہ کی راہ سے (ف۷۶) روکتے ہیں، اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (ف۷۷) انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی،
35جس دن تپایا جائے گا جہنم کی آ گ میں (ف۷۸) پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں (ف۷۹) یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا،
36بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے (ف۸۰) اللہ کی کتاب میں (ف۸۱) جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں (ف۸۲) یہ سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں (ف۸۳) اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (ف۸۴)
37ان کا مہینے پیچھے ہٹانا نہیں مگر اور کفر میں بڑھنا (ف۸۵) اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں ایک برس اسے حلال (ف۸۶) ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابر ہوجائیں جو اللہ نے حرام فرمائی (ف۸۷) اور اللہ کے حرام کیے ہوئے حلال کرلیں، ان کے برے کا م ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
38اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ خدا کی راہ میں کوچ کرو تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہو (ف۸۸) کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کرلی اور جیتی دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا (ف۸۹)
39اگر نہ کوچ کرو گے (ف۹۰) انہیں سخت سزا دے گا اور تمہاری جگہ اور تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا (ف۹۱) اور تم اس کا کچھ نہ بگا ڑ سکوگے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
40اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا (ف۹۲) صرف دو جان سے جب وہ دونوں (ف۹۳) غار میں تھے جب اپنے یار سے (ف۹۴) فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ اتارا (ف۹۵) اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں (ف۹۶) اور کافروں کی بات نیچے ڈالی (ف۹۷) اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
41کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے (ف۹۸) اور اللہ کی راہ میں لڑو اپنے مال اور جان سے، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر جانو (ف۹۹)
42اگر کوئی قریب مال یا متوسط سفر ہوتا (ف۱۰۰) تو ضرور تمہارے ساتھ جاتے (ف۱۰۱) مگر ان پر تو مشقت کا راستہ دور پڑ گیا، اور اب اللہ کی قسم کھائیں گے (ف۱۰۲) کہ ہم سے بن پڑتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے (ف۱۰۳) اپنی جانو کو ہلاک کرتے ہیں (ف۱۰۴) اور اللہ جانتا ہے کہ وہ بیشک ضرور جھوٹے ہیں،
43اللہ تمہیں معاف کرے (ف۱۰۵) تم نے انہیں کیوں اِذن دے دیا جب تک نہ کھلے تھے تم پر سچے اور ظاہر نہ ہوئے تھے جھوٹے،
44اور وہ جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم سے چھٹی نہ مانگیں گے اس سے کہ اپنے مال اور جان سے جہاد کریں، اور اللہ خوب جا نتا ہے پرہیزگا روں کو،
45تم سے یہ چھٹی وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے (ف۱۰۶) اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہیں (ف۱۰۷)
46انہیں نکلنا منظور ہوتا (ف۱۰۸) تو اس کا سامان کرتے مگر خدا ہی کو ان کا اٹھنا پسند ہوا تو ان میں کاہلی بھردی اور (ف۱۰۹) فرمایا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھ رہنے والے کے ساتھ (ف۱۱۰)
47اگر وہ تم میں نکلتے تو ان سے سوا نقصان کے تمہیں کچھ نہ بڑھتنا اور تم میں فتنہ ڈالنے کو تمہارے بیچ یں غرابیں دوڑاتے (فساد ڈالتے) (ف۱۱۱) اور تم میں ان کے جاسوس موجود ہیں (ف۱۱۲) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو،
48بیشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ چا ہا تھا (ف۱۱۳) اور اے محبوب! تمہارے لیے تدبیریں الٹی پلٹیں (ف۱۱۴) یہاں تک کہ حق آیا (ف۱۱۵) اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا (ف۱۱۶) اور انہیں ناگوار تھا،
49اور ان میں کوئی تم سے یوں عرض کرتا ہے کہ مجھے رخصت دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالیے (ف۱۱۷) سن لو وہ فتنہ ہی میں پڑے (ف۱۱۸) اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو،
50اگر تمہیں بھلائی پہنچے (ف۱۱۹) تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۱۲۰) تو کہیں (ف۱۲۱) ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے پھر جائیں،
51تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،
52تم فرماؤ تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو خوبیوں میں سے ایک کا (ف۱۲۲) اور ہم تم پر اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تم پر عذاب ڈالے اپنے پاس سے (ف۱۲۳) یا ہمارے ہاتھوں (ف۱۲۴) تو اب راہ دیکھو ہم بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہے ہیں (ف۱۲۵)
53تم فرماؤ کہ دل سے خرچ کرو یا ناگواری سے تم سے ہر گز قبول نہ ہوگا (ف۱۲۶) بیشک تم بے حکم لوگ ہو،
54اور وہ جو خرچ کرتے ہیں اس کا قبول ہونا بند نہ ہوا مگر اسی لیے کہ وہ اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور نماز کو نہیں آتے مگر جی ہارے اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری سے (ف۱۲۷)
55تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے، اللہ ہی چاہتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان چیزوں سے ان پر وبال ڈالے اور اگر کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے (ف۱۲۸)
56اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں (ف۱۲۹) کہ وہ تم میں سے ہیں (ف۱۳۰) اور تم میں سے ہیں نہیں (ف۱۳۱) ہاں وہ لوگ ڈرتے ہیں (ف۱۳۲)
57اگر پائیں کوئی پناہ یا غار یا سما جانے کی جگہ تو رسیاں تڑاتے ادھر پھر جائیں گے (ف۱۳۳)
58اور ان میں کوئی وہ ہے کہ صدقے بانٹنے میں تم پر طعن کرتا ہے (ف۱۳۴) تو اگر ان (ف۱۳۵) میں سے کچھ ملے تو راضی ہوجائیں اور نہ ملے تو جبھی وہ ناراض ہیں،
59اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول، ہمیں اللہ ہی کی طرف رغبت ہے (ف۱۳۶)
60زکوٰة تو انہیں لوگوں کے لیے ہے (ف۱۳۷) محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ علم و حکمت والا ہے
61اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ ان غیب کی خبریں دینے والے کو ستاتے ہیں (ف۱۳۸) اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں، تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کا ن ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں (ف۱۳۹) اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں، اور جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
62تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں (ف۱۴۰) کہ تمہیں راضی کرلیں (ف۱۴۱) اور اللہ و رسول کا حق زائد تھا کہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے،
63کیا انہیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ اور اس کے رسول کا تو اس کے لیے جہنم کی آ گ ہے کہ ہمیشہ اس میں رہے گا، یہی بڑی رسوائی ہے،
64منافق ڈرتے ہیں کہ ان (ف۱۴۲) پر کوئی سورة ایسی اترے جو ان (ف۱۴۳) کے دلوں کی چھپی (ف۱۴۴) جتادے تم فرماؤ ہنسے جاؤ اللہ کو ضرور ظاہر کرنا ہے جس کا تمہیں ڈر ہے،
65اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے (ف۱۴۵) تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو،
66بہانے نہ بنا ؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر (ف۱۴۶) اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں (ف۱۴۵)تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے (ف۱۴۸)
67منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں (ف۱۴۹) برائی کا حکم دیں (ف۱۵۰) اور بھلائی سے منع کریں (ف۱۵۱) اور اپنی مٹھی بند رکھیں (ف۱۵۲) وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے (ف۱۵۳) تو اللہ نے انہیں چھوڑدیا (ف۱۵۴) بیشک منافق وہی پکے بے حکم ہیں،
68اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے، وہ انہیں بس ہے اور اللہ کی ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے
69جیسے وہ جو تم سے پہلے تھے تم سے زور میں بڑھ کر تھے اور ان کے مال اور اولاد سے زیادہ، تو وہ اپنا حصہ (ف۱۵۵) برت گئے تو تم نے اپنا حصہ برتا جیسے اگلے اپنا حصہ برت گئے اور تم بیہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے (ف۱۵۶) ان کے عمل اکارت گئے دنیا اور آخرت میں اور وہی لوگ گھاٹے میں ہیں (ف۱۵۷)
70کیا انہیں (ف۱۵۸) اپنے سے اگلوں کی خبر نہ آئی (ف۱۵۹) نوح کی قوم (ف۱۶۰) اور عاد (ف۱۶۱) اور ثمود (ف۱۶۲) اور ابراہیم کی قوم (ف۱۶۳) اور مدین والے (ف۱۶۴) اور وہ بستیاں کہ الٹ دی گئیں (ف۱۶۵) ان کے رسول روشن دلیلیں ان کے پاس لائے تھے (ف۱۶۶) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱۶۷) بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظالم تھے (ف۱۶۸)
71اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں (ف۱۶۹) بھلائی کا حکم دیں (ف۱۷۰) اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں، یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
72اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکانوں کا (ف۱۷۱) بسنے کے باغوں میں، اور اللہ کی رضا سب سے بڑی (ف۱۷۲) یہی ہے بڑی مراد پانی،
73اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر (ف۱۷۳) اور ان پر سختی کرو، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی،
74اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا (ف۱۷۴) اور بیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر کافر ہوگئے اور وہ چاہا تھا جو انہیں نہ ملا (ف۱۷۵) اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اللہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا (ف۱۷۶) تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کا بھلا ہے، اور اگر منہ پھیریں (ف۱۷۷) تو اللہ انہیں سخت عذاب کرے گا دنیا اور آخرت میں، اور زمین میں کوئی نہ ان کا حمایتی ہوگا اور نہ مددگار (ف۱۷۸)
75اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے (ف۱۷۹)
76تو جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اس میں بخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے،
77تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے (ف۱۸۰)
78کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ان کے دل کی چھپی اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور یہ کہ اللہ سب غیبوں کا بہت جاننے والا ہے (ف۱۸۱)
79اور جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں (ف۱۸۲) اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے (ف۱۸۳) تو ان سے ہنستے ہیں (ف۱۸۴) اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
80تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا (ف۱۸۵) یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے، اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا (ف۱۸۶)
81پیچھے رہ جانے والے اس پر خوش ہوئے کہ وہ رسول کے پیچھے بیٹھ رہے (ف۱۸۷) اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں لڑیں اور بولے اس گرمی میں نہ نکلو، تم فرماؤ جہنم کی آگ سب سے سخت گرم ہے، کسی طرح انہیں سمجھ ہو تی (ف۱۸۸)
82تو انہیں چاہیے تھوڑا ہنسیں اور بہت روئیں (ف۱۸۹) بدلہ اس کا جو کماتے تھے (ف۱۹۰)
83پھر اے محبوب! (ف۱۹۱) اگر اللہ تمہیں ان (ف۱۹۲) میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ (ف۱۹۳) تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگے تو تم فرمانا کہ تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو، تم نے پہلی دفعہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو بیٹھ رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ (ف۱۹۴)
84اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے (ف۱۹۵)
85اور ان کے مال یا اولاد پر تعجب نہ کرنا، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اسے دنیا م یں ان پر وبال کرے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے،
86اور جب کوئی سورت اترے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو تو ان کے مقدور والے تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجیے کہ بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہولیں،
87انہیں پسند آیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہُر کردی گئیں (ف۱۹۶) تو وہ کچھ نہیں سمجھتے (ف۱۹۷)
88لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مالوں جانوں سے جہاد کیا، اور انہیں کے لیے بھلائیاں ہیں (ف۱۹۸) اور یہی مراد کو پہنچے،
89اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں بہشتیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہی بڑی مراد ملنی ہے،
90اور بہانے بنانے والے گنوار آئے (ف۱۹۹) کہ انہیں رخصت دی جائے اور بیٹھ رہے وہ جنہوں نے اللہ و رسول سے جھوٹ بولا تھا (ف۲۰۰) جلد ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب پہنچے گا (ف۲۰۱)
91ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں (ف۲۰۲) اور نہ بیماروں پر (ف۲۰۳) اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور نہ ہو (ف۲۰۴) جب کہ اللہ اور رسول کے خیر خواہ رہیں (ف۲۰۵) نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں (ف۲۰۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
92اور نہ ان پر جو تمہارے حضور حاضر ہوں کہ تم انہیں سواری عطا فرماؤ (ف۲۰۷) تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں اس پر یوں واپس جائیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدور نہ پایا،
93مؤاخذہ تو ان سے ہے جو تم سے رخصت مانگتے ہیں اور وہ دولت مند ہیں (ف۲۰۸) انہیں پسند آیا کہ عورتوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تو وہ کچھ نہیں جانتے (ف۲۰۹)
94تم سے بہانے بنائیں گے (ف۲۱۰) جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تم فرمانا، بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے اللہ نے ہمیں تمہاری خبریں دے دی ہیں، اور اب اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے (ف۲۱۱) پھر اس کی طرف پلٹ کر جاؤ گے جو چھپے اور ظاہر سب کو جانتا ہے وہ تمہیں جتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے،
95اب تمہارے آگے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب (ف۲۱۲) تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے اس لیے کہ تم ان کے خیال میں نہ پڑو (ف۲۱۳) تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑو (ف۲۱۴) وہ تو نرے پلید ہیں (ف۲۱۵) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ اس کا جو کماتے تھے (ف۲۱۶)
96تمہارے آگے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہوجاؤ (ف۲۱۷) تو بیشک اللہ تو فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا (ف۲۱۸)
97گنوار (ف۲۱۹) کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں (ف۲۲۰) اور اسی قابل ہیں کہ اللہ نے جو حکم اپنے رسول پر اتارے اس سے جاہل رہیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
98اور کچھ گنوار وہ ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو اسے تاوان سمجھیں (ف۲۲۱) اور تم پر گردشیں آنے کے انتظار میں رہیں (ف۲۲۲) انہیں پر ہے بری گردش (ف۲۲۳) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
99اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں (ف۲۲۴) اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں (ف۲۲۵) ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعث قرب ہے اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
100اور سب میں اگلے پہلے مہاجر (ف۲۲۶) اور انصار (ف۲۲۷) اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے (ف۲۲۸) اللہ ان سے راضی (ف۲۲۹) اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
101اور تمہارے آس پاس (ف۲۳۱) کے کچھ گنوار منافق ہیں، اور کچھ مدینہ والے، ان کی خو ہوگئی ہے نفاق، تم انہیں نہیں جانتے، ہم انھیں جانتے ہیں (ف۲۳۲) جلد ہم انہیں دوبارہ (ف۲۳۳) عذاب کریں گے پھر بڑے عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے (ف۲۳۴)
102اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مقر ہوئے (ف۲۳۵) اور ملایا ایک کام اچھا (ف۲۳۶) اور دوسرا بڑا (ف۲۳۷) قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
103اے محبوب! ان کے مال میں سے زکوٰة تحصیل کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو (ف۲۳۸) بیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے، اور اللہ سنتا جانتا ہے،
104کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنی دست قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۲۳۹)
105اور تم فرما ؤ کام کرو اب تمہارے کام دیکھے گا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان، اور جلد اس کی طرف پلٹوگے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے تو وہ تمہارے کام تمہیں جتاوے گا،
106اور کچھ (ف۲۴۰) موقوف رکھے گئے اللہ کے حکم پر، یا ان پر عذاب کرے یا ان کی توبہ قبول کرے (ف۲۴۱) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
107اور وہ جنہوں نے مسجد بنائی (ف۲۴۲) نقصان پہنچانے کو (ف۲۴۳) اور کفر کے سبب (ف۲۴۴) اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو (ف۲۴۵) اور اس کے انتظار میں جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے (ف۲۴۶) اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے ہم نے تو بھلائی چاہی، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بیشک جھوٹے ہیں،
108اس مسجد میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا، (ف۲۴۷) بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے (ف۲۴۸) وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو، اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں (ف۲۴۹) اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں،
109تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی اللہ سے ڈر اور اس کی رضا پر (ف۲۵۰) وہ بھلا یا وہ جس نے اپنی نیو چنی ایک گراؤ (ٹوٹے ہوئے کناروں والے) گڑھے کے کنارے (ف۲۵۱) تو وہ اسے لے کر جہنم کی آ گ میں ڈھے پڑا (ف۲۵۲) اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
110وہ تعمیر جو چنی (کی) ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی (ف۲۵۳) مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں (ف۲۵۴) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
111بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے (ف۲۵۵) اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں (ف۲۵۶) اور مریں (ف۲۵۷) اس کے ذمہ کرم پر سچا وعدہ توریت اور انجیل اور قرآن میں (ف۲۵۸) اور اللہ سے زیادہ قول کا پورا کون تو خوشیاں مناؤ اپنے سودے کی جو تم نے اس سے کیا ہے، اور یہی بڑی کامیابی ہے،
112توبہ والے (ف۲۵۹) عبادت والے (ف۲۶۰) سراہنے والے (ف۲۶۱) روزے والے رکوع والے سجدہ والے (ف۲۶۲) بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے (ف۲۶۳) اور خوشی سناؤ مسلمانوں (ف۲۶۴)
113نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں (ف۲۶۵) جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں (ف۲۶۶)
114اور ابراہیم کا اپنے باپ (ف۲۶۷) کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کرچکا تھا (ف۲۶۸) پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا (لاتعلق ہوگیا) (ف۲۶۹) بیشک ابراہیم بہت آہیں کرنے والا (ف۲۷۰) متحمل ہے،
115اور اللہ کی شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے گمراہ فرمائے (ف۲۷۱) جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کسی چیز سے انہیں بچنا ہے (ف۲۷۲) بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
116بیشک اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جِلاتا ہے اور مارتا ہے، اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی والی اور نہ مددگار،
117بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا (ف۲۷۳) بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں (ف۲۷۴) پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا (ف۲۷۵) بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے
118اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے (ف۲۷۶) یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہوکر ان پر تنگ ہوگئی (ف۲۷۷) اور ہو اپنی جان سے تنگ آئے (ف۲۷۸) اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس، پھر (ف۲۷۹) ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں، بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،
119اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو (ف۲۸۰) اور سچوں کے ساتھ ہو (ف۲۸۱)
120مدینہ والوں (ف۲۸۲) اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں (ف۲۸۳) اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں (ف۲۸۴) یہ اس لیے کہ انہیں جو پیاس یا تکلیف یا بھوک اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں ایسی جگہ قدم رکھتے ہیں (ف۲۸۵) جس سے کافروں کو غیظ آئے اور جو کچھ کسی دشمن کا بگاڑتے ہیں (ف۲۸۶) اس سب کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھا جاتا ہے (ف۲۸۷) بیشک اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،
121اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں چھوٹا (ف۲۸۸) یا بڑا (ف۲۸۹) اور جو نالا طے کرتے ہیں سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے سب سے بہتر کاموں کا انہیں صلہ دے (ف۲۹۰)
122اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں (ف۲۹۱) تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے (ف۲۹۲) ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں (ف۲۹۳) اس امید پر کہ وہ بچیں (ف۲۹۴)
123اے ايما ن والوں جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قريب ہيں(ف۲۹۵) اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی پائیں، اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (ف۲۹۶)
124اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس نے تم میں کس کے ایمان کو ترقی دی (ف۲۹۷) تو وہ جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان کو ترقی دی اور وہ خوشیاں منارہے ہیں،
125اور جن کے دلوں میں آزار ہے (ف۲۹۸) انہیں اور پلیدی پر پلیدی بڑھائی (ف۲۹۹) اور وہ کفر ہی پر مر گئے،
126کیا انہیں (ف۳۰۰) نہیں سوجھتا ک ہ ہر سال ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں (ف۳۰۱) پھر نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں،
127اور جب کوئی سورت اترتی ہے ان میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے (ف۳۰۲) کہ کوئی تمہیں دیکھتا تو نہیں (ف۳۰۳) پھر پلٹ جاتے ہیں (ف۳۰۴) اللہ نے ان کے دل پلٹ دیئے ہیں(ف۳۰۵) کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (ف۳۰۶)
128بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول (ف۳۹۷) جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان (ف۳۰۸)
129پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۳۰۹) تو تم فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے (ف۳۱۰)
Chapter 10 (Sura 10)
1یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،
2کیا لوگوں کو اس کا اچنبا ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کو وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤ (ف۲) اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے، کافر بولے بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے (ف۳)
3بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے کام کی تدبیر فرما تا ہے (ف۴) کوئی سفارشی نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد (ف۵) یہ ہے اللہ تمہارا رب (ف۶) تو اس کی بندگی کرو تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
4اسی کی طرف تم سب کو پھرنا ہے (ف۷) اللہ کا سچا وعدہ بیشک وہ پہلی بار بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا کہ ان کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے انصاف کا صلہ دے (ف۸) اور کافروں کے لیے پینے کو کھولتا پانی اور دردناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا،
5وہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنا یا اور چاند چمکتا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں (ف۹) کہ تم برسوں کی گنتی اور (ف۱۰) حساب جانو، اللہ نے اسے نہ بنایا مگر حق (ف۱۱) نشانیاں مفصل بیان فرماتا ہے علم والوں کے لیے (ف۱۲)
6بیشک رات اور دن کا بدلتا آنا اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ان میں نشانیاں ہیں ڈر والوں کے لیے،
7بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے (ف۱۳) اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے (ف۱۴) اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں (ف۱۵)
8ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ ان کی کمائی کا،
9بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب انھیں راہ دے گا (ف۱۶) ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے باغوں میں،
10ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے (ف۱۷) اور ان کے ملتے وقت خوشی کا پہلا بول سلام ہے (ف۱۸) اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں کو سراہا اللہ جو رب ہے سارے جہان کا (ف۱۹)
11اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلدبھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا (ف۲۰) تو ہم چھوڑتے انہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں (ف۲۱)
12اور جب آدمی کو (ف۲۲) تکلیف پہنچتی ہے ہمیں پکارتا ہے لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے (ف۲۳) پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں چل دیتا ہے (ف۲۴) گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا یونہی بھلے کر دکھائے ہیں حد سے بڑھنے والے کو (ف۲۵) ان کے کام (ف۲۶)
13اور بیشک ہم نے تم سے پہلی سنگتیں (قومیں) (ف۲۷) ہلاک فرمادیں جب وہ حد سے بڑھے (ف۲۸) اور ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۹) اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے، ہم یونہی بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو،
14پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو (ف۳۰)
15اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف۳۱) پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں (ف۳۲) کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے (ف۳۳) یا اسی کو بدل دیجیے (ف۳۴) تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے (ف۳۵) میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں (ف۳۶) تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۳۷)
16تم فرماؤ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا نہ وہ تم کو اس سے خبردار کرتا (ف۳۸) تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں (ف۳۹) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۴۰)
17تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۴۱) یا اس کی آیتیں جھٹلائے، بیشک مجرموں کا بھلا نہ ہوگا،
18اور اللہ کے سوا ایسی چیز (ف۴۲) کو پوجتے ہیں جو ان کا کچھ بھلا نہ کرے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں (ف۴۳) تم فرماؤ کیا اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں (ف۴۴) اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرک سے،
19اور لوگ ایک ہی امت تھے (ف۴۵) پھر مختلف ہوئے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی (ف۴۶) تو یہیں ان کے اختلافوں کا ان پر فیصلہ ہوگیا ہوتا (ف۴۷)
20اور کہتے ہیں ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (ف۴۸) تم فرماؤ غیب تو اللہ کے لیے ہے اب راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں،
21اور جب کہ ہمارے آدمیوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے ساتھ داؤں چلتے ہیں (ف۴۹) تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے (ف۵۰) بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر لکھ رہے ہیں (ف۵۱)
22وہی ہے کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے (ف۵۲) یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ (ف۵۳) اچھی ہوا سے انھیں لے کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے (ف۵۴) ان پر آندھی کا جھونکا آیا اور ہر طرف لہروں نے انہیں آلیا اور سمجھ لے کہ ہم گِھر گئے اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس کے بندے ہوکر، کہ اگر تو اس سے ہمیں بچالے گا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے (ف۵۵)
23پھر اللہ جب انہیں بچا لیتا ہے جبھی وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں (ف۵۶) اے لوگو! تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے دنیا کے جیتے جی برت لو (فائد اٹھالو)، پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے جو تمہارے کوتک تھے (ف۵۷)
24دنیا کی زندگی کی کہا وت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں سب گھنی ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں (ف۵۸) یہاں تک کہ جب زمین میں اپنا سنگھار لے لیا (ف۵۹) اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی (ف۶۰) ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں (ف۶۱) تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں (ف۶۲) ہم یونہی آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے (ف۶۳)
25اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے (ف۶۴) اور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے (ف۶۵)
26بھلائی والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد (ف۶۶) اور ان کے منہ پر نہ چڑھے گی سیاہی اور نہ خواری (ف۶۷) وہی جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
27اور جنہوں نے برائیاں کمائیں (ف۶۸) تو برائی کا بدلہ اسی جیسا (ف۶۹) اور ان پر ذلت چڑھے گی، انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھا دیئے ہیں (ف۷۰) وہی دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
28اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے (ف۷۱) پھر مشرکوں سے فرمائیں گے اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے شریک (ف۷۲) تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے تم ہمیں کب پوجتے تھے (ف۷۳)
29تو اللہ گواہ کافی ہے ہم میں اور تم میں کہ ہمیں تمہارے پوجنے کی خبر بھی نہ تھی،
30یہاں ہر جان جا نچ لے گی جو آگے بھیجا (ف۷۴) اور اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے جو ان کا سچا مولیٰ ہے اور ان کی ساری بناوٹیں (ف۷۵) ان سے گم ہوجائیں گی (ف۷۶)
31تم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے (ف۷۷) یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا (ف۷۸) اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے (ف۷۹) اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو اب کہیں گے کہ اللہ (ف۸۰) تو تم فرماؤ تو کیوں نہیں ڈرتے (ف۸۱)
32تو یہ اللہ ہے تمہارا سچا رب (ف۸۲) پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی (ف۸۳) پھر کہاں پھرے جاتے ہو،
33یونہی ثابت ہوچکی ہے تیرے رب کی بات فاسقوں پر (ف۸۴) تو وہ ایمان نہیں لائیں گے،
34تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں (ف۸۵) کوئی ایسا ہے کہ اول بنائے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے (ف۸۶) تم فرماؤ اللہ اوّل بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا تو کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۸۷)
35تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ حق کی راہ دکھائے (ف۸۸) تم فرماؤ کہ اللہ حق کی راہ دکھاتا ہے، تو کیا جو حق کی راہ دکھائے اس کے حکم پر چلنا چاہیے یا اس کے جو خود ہی راہ نہ پائے جب تک راہ نہ دکھایا جائے (ف۸۹) تو تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو،
36اور ان (ف۹۰) میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر (ف۹۱) بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا، بیشک اللہ ان کاموں کو جانتا ہے،
37اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ کوئی اپنی طرف سے بنالے بے اللہ کے اتارے (ف۹۲) ہاں وہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے (ف۹۳) اور لوح میں جو کچھ لکھا ہے سب کی تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں ہے پروردگار عالم کی طرف سے ہے،
38کیا یہ کہتے ہیں (ف۹۴) کہ انہوں نے اسے بنالیا ہے تم فرماؤ (ف۹۵) تو اس جیسی کوئی ایک سورة لے آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر جو مل سکیں سب کو بلا لاؤ (ف۹۶) اگر تم سچے ہو،
39بلکہ اسے جھٹلایا جس کے علم پر قابو نہ پایا (ف۹۷) اور ابھی انہوں نے اس کا انجام نہیں دیکھا (ف۹۸) ایسے ہی ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا (ف۹۹) تو دیکھو ظالموں کیسا انجام ہوا (ف۱۰۰)
40اور ان (ف۱۰۱) میں کوئی اس (ف۱۰۲) پر ایمان لاتا ہے اور ان میں کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا ہے، اور تمہارا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے (ف۱۰۳)
41اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں (ف۱۰۴) تو فرمادو کہ میرے لیے میری کرنی اور تمہارے لیے تمہاری کرنی (اعمال) (ف۱۰۵) تمہیں میرے کام سے علاقہ نہیں اور مجھے تمہارے کام سے لاتعلق نہیں (ف۱۰۶)
42اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں (ف۱۰۷) تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے اگرچہ انہیں عقل نہ ہو (ف۱۰۸)
43اور ان میں کوئی تمہاری طرف تکتا ہے (ف۱۰۹) کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے اگرچہ وہ نہ سوجھیں،
44بیشک اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۰) ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (ف۱۱۱)
45اور جس دن انہیں اٹھائے گا (ف۱۱۲) گویا دنیا میں نہ رہے تھے مگر اس دن کی ایک گھڑی (ف۱۱۳) آپس میں پہچان کریں گے (ف۱۱۴) کہ پورے گھاٹے میں رہے وہ جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا اور ہدایت پر نہ تھے (ف۱۱۵)
46اور اگر ہم تمہیں دکھا دیں کچھ (ف۱۱۶) اس میں سے جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں (ف۱۱۷) یا تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں (ف۱۱۸) بہرحال انہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے (ف۱۱۹) ان کے کاموں پر،
47اور ہر امت میں ایک رسول ہوا (ف۱۲۰) جب ان کا رسول ان کے پاس آتا (ف۱۲۱) ان پر انصاف کا فیصلہ کردیا جاتا (ف۱۲۲) اور ان پر ظلم نہیں ہوتا،
48اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو (ف۱۲۳)
49تم فرماؤ میں اپنی جان کے برے بھلے کا (ذاتی) اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے (ف۱۲۴) ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے (ف۱۲۵) جب ان کا وعدہ آئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں،
50تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اس کا عذاب (ف۱۲۶) تم پر رات کو آئے (ف۱۲۷) یا دن کو (ف۱۲۸) تو اس میں وہ کونسی چیز ہے کہ مجرموں کو جس کی جلدی ہے،
51تو کیا جب (ف۱۲۹) ہو پڑے گا اس وقت اس کا یقین کرو گے (ف۱۳۰) کیا اب مانتے ہو پہلے تو (ف۱۳۱) اس کی جلدی مچارہے تھے،
52پھر ظالموں سے کہا جائے گا ہمیشہ کا عذاب چکھو تمہیں کچھ اور بدلہ نہ ملے گا مگر وہی جو کماتے تھے (ف۱۳۲)
53اور تم سے پوچھتے ہیں کیا وہ (ف۱۳۳) حق ہے، تم فرماؤ، ہاں! میرے رب کی قسم بیشک وہ ضرور حق ہے، اور تم کچھ تھکا نہ سکو گے (ف۱۳۴)
54اور اگر ہر ظالم جان، زمین میں جو کچھ ہے (ف۱۳۵) سب کی مالک ہوتی، ضرور اپنی جان چھڑانے میں دیتی (ف۱۳۶) اور دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوئے جب عذاب دیکھا اور ان میں انصاف سے فیصلہ کردیا گیا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
55سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں (ف۱۳۷) سن لو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں،
56وہ جِلاتا اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھرو گے،
57اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی (ف۱۳۸) اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے،
58تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں (ف۱۳۹) وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے،
59تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرالیا (ف۱۴۰) تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو (ف۱۴۱)
60اور کیا گمان ہے ان کا، جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرتا ہے (ف۱۴۲) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے،
61اور تم کسی کام میں ہو (ف۱۴۳) اور اس کی طرف سے کچھ قرآن پڑھو اور تم لوگ (ف۱۴۴) کوئی کام کرو ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس کو شروع کرتے ہو، اور تمہارے رب سے ذرہ بھر کوئی چیز غائب نہیں زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز نہیں جو ایک روشن کتاب میں نہ ہو (ف۱۴۵)
62سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم (ف۱۴۶)
63وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں،
64انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں (ف۱۴۷) اور آخرت میں، اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں (ف۱۴۸) یہی بڑی کامیابی ہے،
65اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو (ف۱۴۹) بیشک عزت ساری اللہ کے لیے ہے (ف۱۵۰) وہی سنتا جانتا ہے،
66سن لو بیشک اللہ ہی کے مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں (ف۱۵۱) اور کاہے کے پیچھے جارہے ہیں (ف۱۵۲) وہ جو اللہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں، وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے (ف۱۵۳)
67وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ (ف۱۵۴) اور دن بنایا تمہاری آنکھوں کھولتا (ف۱۵۵) بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے (ف۱۵۶)
68بولے اللہ نے اپنے لیے اولاد بنائی (ف۱۵۷) پاکی اس کو، وہی بے نیاز ہے، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۱۵۸) تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں، کیا اللہ پر وہ بات بتاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں،
69تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،
70دنیا میں کچھ برت لینا (فائدہ اٹھانا) ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا،
71اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم پر شاق گزرا ہے میرا کھڑا ہونا (ف۱۵۹) اور اللہ کی نشانیاں یاد دلانا (ف۱۶۰) تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۶۱) تو مِل کر کام کرو اور اپنے جھوٹے معبودوں سمیت اپنا کام پکا کرلو تمہارے کام میں تم پر کچھ گنجلک (الجھن) نہ رہے پھر جو ہو سکے میرا کرلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۱۶۲)
72پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۱۶۳) تو میں تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف۱۶۴) میرا اجر تو نہیں مگر اللہ پر (ف۱۶۵) اور مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں،
73تو انہوں نے اسے (ف۱۶۶) جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور انہیں ہم نے نائب کیا (ف۱۶۷) اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو ہم نے ڈبو دیا تو دیکھو ڈرائے ہوؤں کا انجام کیسا ہوا،
74پھر اس کے بعد اور رسول (ف۱۶۸) ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھے، ہم یونہی مہر لگادیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر،
75پھر ان کے بعد ہم نے موسٰی اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے،
76تو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا (ف۱۶۹) بولے یہ تو ضرور کھلا جادو ہے،
77موسیٰ نے کہا کیا حق کی نسبت ایسا کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آیا کیا یہ جادو ہے (ف۱۷۰) اور جادوگر مراد کو نہیں پہنچتے،
78بولے (ف۱۷۱) کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس (ف۱۷۲) سے پھیردو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور زمین میں تمہیں دونوں کی بڑائی رہے، اور ہم تم پر ایمان لانے کے نہیں،
79اور فرعون (ف۱۷۳) بولا ہر جادوگر علم والے کو میرے پاس لے آؤ،
80پھر جب جادوگر آئے ان سے موسیٰ نے کہا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے (ف۱۷۴)
81پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا یہ جو تم لائے یہ جادو ہے (ف۱۷۵) اب اللہ اسے باطل کردے گا، اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا،
82اور اللہ اپنی باتوں سے (ف۱۷۶) حق کو حق کر دکھاتا ہے پڑے برا مانیں مجرم،
83تو موسیٰ پر ایمان نہ لائے مگر اس کی قوم کی اولاد سے کچھ لوگ (ف۱۷۷) فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں انہیں (ف۱۷۸) ہٹنے پر مجبور نہ کردیں اور بیشک فرعون زمین پر سر اٹھانے والا تھا، اور بیشک وہ حد سے گزر گیا (ف۱۷۹)
84اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو اسی پر بھروسہ کرو (ف۱۸۰) اگر تم اسلام رکھتے ہو،
85بولے ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا الہٰی ہم کو ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا (ف۱۸۱)
86اور اپنی رحمت فرماکر ہمیں کافروں سے نجات دے (ف۱۸۲)
87اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ کرو (ف۱۸۳) اور نماز قائم رکھو، اور مسلمانوں کو خوشخبری سناؤ (ف۱۸۴)
88اور موسیٰ نے عرض کی اے رب ہمارے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو آرائش (ف۱۸۵) اور مال دنیا کی زندگی میں دیے، اے رب ہمارے! اس لیے کہ تیری راہ سے بہکادیں، اے رب ہمارے! ان کے مال برباد کردے (ف۱۸۶) اور ان کے دل سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (ف۱۸۷)
89فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوئی (ف۱۸۸) تو ثابت قدم رہو اور (ف۱۸۹) نادانوں کی راہ نہ چلو (ف۱۹۰)
90اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے ا ٓ لیا (ف۱۹۱) بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں (ف۱۹۲)
91کیا اب (ف۱۹۳) اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا (ف۱۹۴)
92آج ہم تیری لاش کو اوترا دیں (باقی رکھیں) گے تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو (ف۱۹۵) اور بیشک لوگ ہما ری آ یتو ں سے غافل ہیں،
93اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی (ف۱۹۶) اور انہیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے (ف۱۹۷) مگر علم آنے کے بعد (ف۱۹۸) بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑتے تھے (ف۱۹۹)
94اور اے سننے والے! اگر تجھے کچھ شبہ ہو اس میں جو ہم نے تیری طرف اتارا (ف۲۰۰) تو ان سے پوچھ دیکھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں (ف۲۰۱) بیشک تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا (ف۲۰۲) تو تُو ہر گز شک والوں میں نہ ہو،
95اور ہرگز ان میں نہ ہونا جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں کہ تو خسارے والوں میں ہوجائے گا،
96بیشک وہ جن پر تیرے رب کی بات ٹھیک پڑچکی ہے (ف۲۰۳) ایمان نہ لائیں گے،
97اگرچہ سب نشانیاں ان کے پاس آئیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (ف۲۰۴)
98تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی (ف۲۰۵) کہ ایمان لاتی (ف۲۰۶) تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم، جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا (ف۲۰۷)
99اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے (ف۲۰۸) تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں (ف۲۰۹)
100اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے آئے مگر اللہ کے حکم سے (ف۲۱۰) اور عذاب ان پر ڈالنا ہے جنہیں عقل نہیں،
101تم فرماؤ دیکھو (ف۲۱۱) آسمانوں اور زمین میں کیا ہے (ف۲۱۲) اور آیتیں اور رسول انہیں کچھ نہیں دیتے جن کے نصیب میں ایمان نہیں،
102تو انہیں کاہے کا انتظار ہے مگر انہیں لوگوں کے سے دنوں کا جو ان سے پہلے ہو گزرے (ف۲۱۳) تم فرماؤ تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں (ف۲۱۴)
103پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے بات یہی ہے ہمارے ذمہ کرم پر حق ہے مسلمانوں کو نجات دینا،
104تم فرماؤ، اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہ میں ہو تو میں تو اسے نہ پوجوں کا جسے تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۲۱۵) ہاں اس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمہاری جان نکالے گا (ف۲۱۶) اور مجھے حکم ہے کہ ایمان والوں میں ہوں،
105اور یہ کہ اپنا منہ دین کے لیے سیدھا رکھ سب سے الگ ہوکر (ف۲۱۷) اور ہرگز شرک والوں میں نہ ہونا،
106اور اللہ کے سوا اس کی بندگی نہ کر جو نہ تیرا بھلا کرسکے نہ برا، پھر اگر ایسا کرے تو اس وقت تو ظالموں سے ہوگا،
107اور اگر تجھے اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں اس کے سوا، اور اگر تیرا بھلا چاہے تو اس کے فضل کے رد کرنے والا کوئی نہیں (ف۲۱۸) اسے پہنچا تا ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے،
108تم فرماؤ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا (ف۲۱۹) تو جو راہ پر آیا وہ اپنے بھلے کو راہ پر آیا (ف۲۲۰) اور جو بہکا وہ اپنے برے کو بہکا (ف۲۲۱) اور کچھ میں کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) نہیں (ف۲۲۲)
109اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو (ف۲۲۳) یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے (ف۲۲۴) اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے (ف۲۲۵)
Chapter 11 (Sura 11)
1یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں (ف۲) پھر تفصیل کی گئیں (ف۳) حکمت والے خبردار کی طرف سے،
2کہ بندگی نہ کرو مگر اللہ کی بیشک میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں
3اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کرو تمہیں بہت اچھا برتنا (فائدہ اٹھانا) دے گا (ف۴) ایک ٹھہرائے وعدہ تک اور ہر فضیلت والے (ف۵) کو اس کا فضل پہنچائے گا (ف۶) اور اگر منہ پھیرو تو میں تم پر بڑے دن (ف۷) کے عذاب کا خوف کرتا ہوں،
4تمہیں اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۸) اور وہ ہر شے پر قادر (ف۹)
5سنو وہ اپنے سینے دوہرے کرتے (منہ چھپاتے) ہیں کہ اللہ سے پردہ کریں (ف۱۰) سنو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے،
6اور زمین پر چلنے والا کوئی (ف۱۱) ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہٴ کرم پر نہ ہو (ف۱۲) اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا (ف۱۳) اور کہاں سپرد ہوگا (ف۱۴) سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب (ف۱۵) میں ہے،
7اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا (ف۱۶) کہ تمہیں آزمائے(ف۱۷) تم میں کس کا کام اچھا ہے، اور اگر تم فرماؤ کہ بیشک تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ (ف۱۸) تو نہیں مگر کھلا جادو (ف۱۹)
8اور اگر ہم ان سے عذاب (ف۲۰) کچھ گنتی کی مدت تک ہٹادیں تو ضرور کہیں گے کس چیز نے روکا ہے (ف۲۱) سن لو جس دن ان پر آئے گا ان سے پھیرا نہ جائے گا، اور انہیں گھیرے گا وہی عذاب جس کی ہنسی اڑاتے تھے
9اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں (ف۲۲) پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے (ف۲۳)
10اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جس اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوئیں بیشک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے (ف۲۴)
11مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے (ف۲۵) ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
12تو کیا جو وحی تمہاری طرف ہوتی ہے اس میں سے کچھ تم چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے (ف۲۶) اس بناء پر کہ وہ کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ اترا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا، تم تو ڈر سنانے والے ہو (ف۲۷) اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے،
13کیا (ف۲۸) یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے جی سے بنالیا، تم فرماؤ کہ تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ (ف۲۹) اور اللہ کے سوا جو مل سکیں (ف۳۰) سب کو بلالو اگر تم سچے ہو (ف۳۱)
14تو اے مسلمانو اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہکے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں تو کیا اب تم مانو گے (ف۳۲)
15جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو (ف۳۳) ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے (ف۳۴) اور اس میں کمی نہ دیں گے،
16یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آ گ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے (ف۳۵)
17تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳۶) اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے (ف۳۷) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۸) پیشوا اور رحمت وہ اس پر (ف۳۹) ایمان لاتے ہیں، اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں (ف۴۰) تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے! تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو، بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے،
18اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۴۱) اور اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے (ف۴۲) اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا، ارے ظا لموں پر خدا کی لعنت (ف۴۳)
19جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں، اور وہی آخرت کے منکر ہیں،
20وہ تھکانے والے نہیں زمین میں (ف۴۴) اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی (ف۴۵) انہیں عذاب پر عذاب ہوگا (ف۴۶) وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے (ف۴۷)
21وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں اور ان سے کھوئی گئیں جو باتیں جوڑتے تھے خواہ نخواہ
22(ضرور) وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہیں (ف۴۸)
23بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اپنے رب کی طرف رجوع لائے وہ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
24دونوں فریق (ف۴۹) کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا (ف۵۰)کيا ان دونوں حال کا ايک سا ہے (ف۱۵) تو کياتم دہيان نہيں کرتے
25اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھيجا (ف۵۲) کہ میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں
26کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، بیشک میں تم پر ایک مصیبت والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (ف۵۳)
27تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں (ف۵۴) اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے (ف۵۵) سرسری نظر سے (ف۵۶) اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے (ف۵۷) بلکہ ہم تمہیں (ف۵۸) جھوٹا خیال کرتے ہیں،
28بولا اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں (ف۵۹) اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف۶۰) تو تم اس سے اندھے رہے، کیا ہم اسے تمہارے گلے چپیٹ (چپکا) دیں اور تم بیزار ہو (ف۶۱)
29اور اے قوم! میں تم سے کچھ اس پر (ف۶۲) مال نہیں مانگتا (ف۶۳) میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں (ف۶۴) بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں (ف۶۵) لیکن میں تم کو نرے جاہل لوگ پا تا ہوں (ف۶۶)
30اور اے قوم مجھے اللہ سے کون بچالے گا اگر میں انہیں دور کروں گا، تو کیا تمہیں دھیان نہیں،
31اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جان جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (ف۶۷) اور میں انہیں نہیں کہتا جن کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں کہ ہرگز انہیں اللہ کوئی بھلائی نہ دے گا، اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے (ف۶۸) ایسا کروں (ف۶۹) تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں (ف۷۰)
32بولے اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے تو لے ا ٓ ؤ جس (ف۷۱) کا ہمیں وعدے دے رہے ہو اگر تم سچے ہو،
33بولا وہ تو اللہ تم پر لائے گا اگر چاہے اور تم تھکا نہ سکو گے (ف۷۲)
34اور تمہیں میری نصیحت نفع نہ دے گی اگر میں تمہارا بھلا چاہوں جبکہ اللہ تمہاری گمراہی چاہے، وہ تمہارا رب ہے، اور اسی کی طرف پھرو گے (ف۷۳)
35کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جی سے بنالیا (ف۷۴) تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے (ف۷۵) اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں،
36اور نوح کو وحی ہوئی تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں (ف۷۶)
37اور کشتی بناؤ ہمارے سامنے (ف۷۷) اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا (ف۷۸) وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے (ف۷۹)
38اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے (ف۸۰) بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے (ف۸۱) جیسا تم ہنستے ہو (ف۸۲)
39تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے (ف۸۳) اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے (ف۸۴)
40یہاں تک کہ کہ جب ہمارا حکم آیا (ف۸۵) اور تنور اُبلا (ف۸۶) ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر و مادہ اور جن پر بات پڑچکی ہے (ف۸۷) ان کے سوا اپنے گھر والوں اور باقی مسلمانوں کو اور اس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے (ف۸۸)
41اور بولا اس میں سوار ہو (ف۸۹) اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا (ف۹۰) بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
42اور وہی انہیں لیے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ (ف۹۱) اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا (ف۹۲) اے میرے بچے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو (ف۹۳)
43بولا اب میں کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا، کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور ان کے بیچ میں موج آڑے آئی تو وہ ڈوبتوں میں رہ گیا (ف۹۴)
44اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی (ف۹۵) کوہ ِ جودی پر ٹھہری (ف۹۶) اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ،
45اور نوح نے اپنے رب کو پکارا عرض کی اے میرے رب میرا بیٹا بھی تو میرا گھر والا ہے (ف۹۷) اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حکم والا (ف۹۸)
46فرمایا اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں (ف۹۹) بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں، تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں (ف۱۰۰) میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن،
47عرض کی اے رب میرے میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار ہوجاؤں،
48فرمایا گیا اے نوح! کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کےساتھ (ف۱۰۱) جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر (ف۱۰۲) اور کچھ گروہ ہیں جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گے (ف۱۰۳) پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا (ف۱۰۴)
49یہ غیب کی خبریں ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں (ف۱۰۵) انہیں نہ تم جانتے تھے نہ تمہاری قوم اس (ف۱۰۶) سے پہلے، تو صبر کرو (ف۱۰۷) بیشک بھلا انجام پرہیزگاروں کا (ف۱۰۸)
50اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو (ف۱۰۹) کہا اے میری قوم! اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو بڑے مفتری (بالکل جھوٹے الزام عائد کرنے والے) ہو (ف۱۱۱)
51اے قوم! میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، میری مزدوری تو اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا (ف۱۱۲) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۱۳)
52اور اے میری قوم اپنے رب سے معافی چاہو (ف۱۱۴) پھر اس کی طرف رجوع لاؤ تم پر زور کا پانی بھیجے گا، اور تم میں جتنی قوت ہے اس سے زیادہ دے گا (ف۱۱۵) اور جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو (ف۱۱۶)
53بولے اے ہود تم کوئی دلیل لے کر ہمارے پاس نہ آئے (ف۱۱۷) اور ہم خالی تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے کے نہیں نہ تمہاری بات پر یقین لائیں،
54ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی خدا کی تمہیں بری جھپٹ (پکڑ) پہنچی (ف۱۱۸) کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو،
55تم سب مل کر میرا برا چاہو (ف۱۱۹) پھر مجھے مہلت نہ دو (ف۱۲۰)
56میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب، کوئی چلنے والا نہیں (ف۱۲۱) جس کی چوٹی اس کے قبضہٴ قدرت میں نہ ہو (ف۱۲۲) بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے،
57پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تمہیں پہنچا چکا جو تمہاری طرف لے کر بھیجا گیا (ف۱۲۳) اور میرا رب تمہاری جگہ اوروں کو لے آئے گا (ف۱۲۴) اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے (ف۱۲۵) بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے (ف۱۲۶)
58اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے ہود اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو (ف۱۲۷) اپنی رحمت فرما کر بچالیا (ف۱۲۸) اور انہیں (ف۱۲۹) سخت عذاب سے نجات دی،
59اور یہ عاد ہیں (ف۱۳۰) کہ اپنے رب کی آیتوں سے منکر ہوئے اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر بڑے سرکش ہٹ دھرم کے کہنے پر چلے،
60اور ان کے پیچھے لگی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن، سن لو! بیشک عاد اپنے رب سے منکر ہوئے، ارے دور ہوں عاد ہود کی قوم،
61اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا لح کو (ف۱۳۱) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۳۲) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۳۳) اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا (ف۱۳۴) اور اس میں تمہیں بسایا (ف۱۳۵) تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا،
62بولے اے صا لح! اس سے پہلے تو تم ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے (ف۱۳۶) کیا تم ہمیں اس سے منع کرتے ہو کہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کو پوجیں اور بیشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،
63بولا اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف۱۳۷) تو مجھے اس سے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں (ف۱۳۸) تو تم مجھے سوا نقصان کے کچھ نہ بڑھاؤ گے (ف۱۳۹)
64اور اے میری قوم! یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے بری طرح ہاتھ نہ لگانا کہ تم کو نزدیک عذاب پہنچے گا (ف۱۴۰)
65تو انہوں نے (ف۱۴۱) اس کی کونچیں کاٹیں تو صا لح نے کہا اپنے گھرو ں میں تین دن اور برت لو (فائدہ اٹھالو) (ف۱۴۲) یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا (ف۱۴۳)
66پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے صا لح اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر (ف۱۴۴) بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے، بیشک تمہارا رب قومی عزت والا ہے،
67اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا (ف۱۴۵) تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے،
68گویا کبھی یہاں بسے ہی نہ تھے، سن لو! بیشک ثمود اپنے رب سے منکر ہوئے ارے لعنت ہو ثمود پر،
69اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس (ف۱۴۶) مژدہ لے کر آئے بولے سلام کہا (ف۱۴۷) کہا سلام پھر کچھ دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا بھنا لے آئے (ف۱۴۸)
70پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں پہنچتے ان کو اوپری سمجھا اور جی ہی جی میں ان سے ڈرنے لگا، بولے ڈریے نہیں ہم قوم لوط کی طرف (ف۱۴۹) بھیجے گئے ہیں،
71اور اس کی بی بی (ف۱۵۰) کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے (ف۱۵۱) اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے (ف۱۵۲) یعقوب کی (ف۱۵۳)
72بولی ہائے خرابی کیا میرے بچہ ہوگا اور میں بوڑھی ہوں (ف۱۵۴) اور یہ ہیں میرے شوہر بوڑھے (ف۱۵۵) بیشک یہ تو اچنبھے کی بات ہے،
73فرشتے بولے کیا اللہ کے کام کا اچنبھا کرتی ہو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اس گھر والو! بیشک (ف۱۵۶) وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا،
74پھر جب ابراہیم کا خوف زائل ہوا اور اسے خوشخبری ملی ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا، (ف۱۵۷)
75بیشک ابراہیم تحمل والا بہت آہیں کرنے والا رجوع کرنے والا ہے (ف۱۵۷)
76اے ابراہیم اس خیال میں نہ پڑ بیشک تیرے رب کا حکم آچکا اور بیشک ان پر عذاب آنے والا ہے کہ پھیرا نہ جائے گا،
77اور جب لوط کے یہاں ہمارے فرشتے آئے (ف۱۵۹) اسے ان کا غم ہوا او ر ان کے سبب دل تنگ ہوا اور بولا یہ بڑی سختی کا دن ہے (ف۱۶۰)
78اور اس کے پاس کی قوم دوڑتی آئی، ور انہیں آگے ہی سے برے کاموں کی عادت پڑی تھی (ف۱۶۱) کہا اے قوم! یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے ستھری ہیں تو اللہ سے ڈرو (ف۱۶۲) اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک آدمی بھی نیک چلن نہیں،
79بولے تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں (ف۱۶۳) اور تم ضرور جانتے ہو جو ہماری خواہش ہے،
80بولے اے کاش! مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا (ف۱۶۴)
81فرشتے بولے اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں (ف۱۶۵) وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے (ف۱۶۶) تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے (ف۱۶۷) سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے گا (ف۱۶۸) بیشک ان کا وعدہ صبح کے وقت کا ہے (ف۱۶۹) کیا صبح قریب نہیں،
82پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا (ف۱۷۰) اور اس پر کنکر کے پتھر لگا تار برسائے،
83جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں (ف۱۷۱) اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں (ف۱۷۲)
84اور (ف۱۷۳) مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو (ف۱۷۴) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۱۷۵) اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں (ف۱۷۶) اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کا عذاب کا ڈر ہے (ف۱۷۷)
85اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو،
86اللہ کا دیا جو بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو (ف۱۷۸) اور میں کچھ تم پر نگہبان نہیں (ف۱۷۹)
87بولے اے شعیب!کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں (ف۱۸۰) یا اپنے مال میں جو چا ہیں نہ کریں (ف۱۸۱) ہاں جی تمہیں بڑے عقلمند نیک چلن ہو،
88کہا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں (ف۱۸۲) او راس نے مجھے اپنے پاس سے اچھی روزی دی (ف۱۸۳) اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کے خلاف کرنے لگوں (ف۱۸۴) میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں، اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں،
89اور اے میری قوم تمہیں میری ضد یہ نہ کموادے کہ تم پر پڑے جو پڑا تھا نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صا لح کی قوم پر، اور لوط کی قوم تو کچھ تم سے دور نہیں (ف۱۸۵)
90اور اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب مہربان محبت والا ہے،
91بولے اے شعیب! ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں اور بیشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں (ف۱۸۶) اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا (ف۱۸۷) تو ہم نے تمہیں پتھراؤ کردیا ہوتا اور کچھ ہماری نگاہ میں تمہیں عزت نہیں،
92کہا اے میری قوم کیا تم پر میرے کنبہ کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے (ف۱۸۸) اور اسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا (ف۱۸۹) بیشک جو کچھ تم کرتے ہو سب میرے رب کے بس میں ہے،
93اور اے قوم تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جا ؤ میں اپنا کام کرتا ہوں، اب جاننا چاہتے ہو کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کون جھوٹا ہے، (ف۱۹۰) اور انتظار کرو (ف۱۹۱) میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں،
94اور جب (ف۱۹۲) ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر بچالیا اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا (ف۱۹۳) تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے،
95گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے، ارے دُور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود (ف۱۹۴)
96اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں (ف۱۹۵) اور صریح غلبے کے ساتھ،
97فرعون اور ا س کے درباریوں کی طرف بھیجا تو وہ فرعون کے کہنے پر چلے (ف۱۹۶) اور فرعون کا کام راستی کا نہ تھا (ف۱۹۷)
98اپنی قوم کے آگے ہوگا قیامت کے دن تو انہیں دوزخ میں لا اتارے گا (ف۱۹۸) اور و ه کیا ہی برا گھاٹ اترنے کا،
99اور ان کے پیچھے پڑی اس جہان میں لعنت اور قیامت کے دن (ف۱۹۹)کیا ہی برا انعام جو انہیں ملا،
100یہ بستیوں (ف۲۰۰) کی خبریں ہیں کہ ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۲۰۱) ان میں کوئی کھڑی ہے (ف۲۰۲) اور کوئی کٹ گئی (ف۲۰۳)
101اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا خود انہوں نے (ف۲۰۴) اپنا برا کیا تو ان کے معبود جنہیں (ف۲۰۵) اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے (ف۲۰۶) جب تمہارے رب کا حکم آیا اور ان (ف۲۰۷) سے انہیں ہلاک کے سوا کچھ نہ بڑھا،
102اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر، بیشک اس کی پکڑ دردناک کرّ ی ہے (ف۲۰۸)
103بیشک اس میں نشانی (ف۲۰۹) ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ (ف۲۰۱) اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے (ف۲۱۱)
104اور ہم اسے (ف۲۱۲) پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لیئے (ف۲۱۳)
105جب وہ دن آئے گا کوئی بے حکم خدا بات نہ کرے گا (ف۲۱۴) تو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی خوش نصیب (ف۲۱۵)
106تو وہ جو بدبخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس گدھے کی طرح رینکیں گے
107وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا (ف۲۱۶) بیشک تمہارا رب جب جو چاہے کرے،
108اور وہ جو خوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا (ف۲۱۷) یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی،
109تو اے سننے والے! دھوکا میں نہ پڑ اس سے جیسے یہ کافر پوجتے ہیں (ف۲۱۸) یہ ویسا ہی پوجتے ہیں جیسا پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۱۹) اور بیشک ہم ان کا حصہ انہیں پورا پھیردیں گے جس میں کمی نہ ہوگی،
110اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (ف۲۲۰) تو اس میں پھوٹ پڑگئی (ف۲۲۱) اگر تمہارے رب کی ایک بات (ف۲۲۲) پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ کردیا جاتا (ف۲۲۳) اور بیشک وہ اس کی طرف سے (ف۲۲۴) دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۲۲۵)
111اور بیشک جتنے ہیں (ف۲۲۶) ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا اسے ان کے کا موں کی خبر ہے (ف۲۲۷)،
112تو قائم رہو (ف۲۲۸) جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے (ف۲۲۰) اور اے لوگو! سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
113اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی (ف۲۳۰) اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں (ف۲۳۱) پھر مدد نہ پاؤ گے،
114اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں (ف۲۳۲) اور کچھ رات کے حصوں میں (ف۲۳۳) بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں، (ف۲۳۳) یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو،
115اور صبر کرو کہ اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،
116تو کیوں نہ ہوئے تم میں سے اگلی سنگتوں (قوموں) میں (ف۲۳۵) ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے (ف۲۳۶) ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی (ف۲۳۷) اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا (ف۲۳۸) اور وہ گنہگار تھے،
117اور تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو بے وجہ ہلاک کردے اور ان کے لوگ اچھے ہوں،
118اور اگرتمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت کردیتا (ف۲۳۹) اور وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے (ف۲۴۰)
119مگر جن پر تمہارے رب نے رحم کیا (ف۲۴۱) اور لوگ اسی لیے بنائے ہیں (ف۲۴۲) اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک ضرور جہنم بھر دوں گا جنوں اور آدمیوں کو ملا کر (ف۲۴۳)
120اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہا را دل ٹھیرائیں (ف۲۴۴) اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا (ف۲۴۵) اور مسلمانوں کو پند و نصیحت (ف۲۴۶)
121اور کافروں سے فرماؤ تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۲۴۷) ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۲۴۸)
122اور راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں (ف۲۴۹)
123اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب (ف۲۵۰) اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے تو اس کی بندگی کرو اور اس پر بھروسہ رکھو، اور تمہارا رب تمہارے کا موں سے غافل نہیں،
Chapter 12 (Sura 12)
1یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲)
2بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو،
3ہم تمہیں سب اچھا بیان سناتے ہیں (ف۳) اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی،
4یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ (ف۴) سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا (ف۵)
5کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا (ف۶) وہ تیرے ساتھ کوئی چا ل چلیں گے (ف۷) بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (ف۸)
6اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا (ف۹) اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا (ف۱۰) اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر (ف۱۱) جس طرح تیرے پہلے دنوں باپ دادا ابراہیم ؑ اور اسحق ؑ پر پوری کی (ف۱۲) بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے،
7بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں (ف۱۳) پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں (ف۱۴)
8جب بولے (ف۱۵) کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی (ف۱۶) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں (ف۱۷) بیشک ہمارے باپ صراحةً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں (ف۱۸)
9یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ (ف۱۹) کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے (ف۲۰) اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا (ف۲۱)
10ان میں ایک کہنے والا (ف۲۲) بولا یوسف کو مارو نہیں (ف۲۳) اور اسے اندھے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آکر لے جائے (ف۲۴) اگر تمہیں کرنا ہے (ف۲۵)
11بولے اے ہمارے باپ ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معامل ہ میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں،
12کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے (ف۲۶) اور بیشک ہم اس کے نگہبان ہیں (ف۲۷)
13بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ اسے لے جاؤ (ف۲۸) اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے (ف۲۹) اور تم اس سے بے خبر رہو (ف۳۰)
14بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں (ف۳۱)
15پھر جب اسے لے گئے (ف۳۲) اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (ف۳۳) اور ہم نے اسے وحی بھیجی (ف۳۴) کہ ضرور تو انہیں ان کا یہ کام جتادے گا (ف۳۵) ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے (ف۳۶)
16اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے (ف۳۷)
17بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے (ف۳۸) اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں (ف۳۹)
18اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے (ف۴۰) کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے (ف۴۱) تو صبر اچھا، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتارہے ہو (ف۴۲)
19اور ایک قافلہ آیا (ف۴۳) انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا (ف۴۴) تو اس نے اپنا ڈول ڈال (ف۴۵) بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا (ف۴۶) اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں،
20اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا (ف۴۷) اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی (ف۴۸)
21اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا (ف۴۹) انہیں عزت سے رکھو (ف۵۰) شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے (ف۵۱) یا ان کو ہم بیٹا بنالیں (ف۵۲) اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کا ٹھکانا) دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں ۰ف۵۳) اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے،
22اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا (ف۵۴) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۵۵) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
23اور وہ جس عورت (ف۵۶) کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے (ف۵۷) اور دروازے سب بند کردیے (ف۵۸) اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں (ف۵۹) کہا اللہ کی پناہ (ف۶۰) وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا (ف۶۱) بیشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا،
24اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا (ف۶۲) ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں (ف۶۳) بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے (ف۶۴)
25اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے (ف۶۵) اور عورت نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں (ف۶۶) دروازے کے پاس ملا (ف۶۷) بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی (ف۶۸) مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار (ف۶۹)
26کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں (ف۷۰) اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (ف۷۱) گواہی دی اگر ان کا کر ُتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا (ف۷۲)
27اور اگر ان کا کر ُتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے (ف۷۳)
28پھر جب عزیز نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چرا دیکھا (ف۷۴) بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر (فریب) ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب) بڑا ہے (ف۷۵)
29اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو (ف۷۶) اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ (ف۷۷) بیشک تو خطاواروں میں ہے (ف۷۸)
30اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں (ف۷۹) کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہ ے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی (سماگئی) ہے ہم تو اسے صر یح خود رفتہ پاتے ہیں (ف۸۰)
31تو جب زلیخا نے ان کا چرچا سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا (ف۸۱) اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں (ف۸۲) اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دی (ف۸۳) اور یوسف (ف۸۴) سے کہا ان پر نکل آؤ (ف۸۵) جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں (ف۸۶) اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے (ف۸۷) اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنس بشر سے نہیں (ف۸۸) یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ،
32زلیخا نے کہا تو يہ ہیں وہ جن پر مجھے طعنہ دیتی تھیں (ف۸۹) اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچا یا (ف۹۰) اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے (ف۹۱)
33یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا (ف۹۲) تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا،
34تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا، بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۹۳)
35پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں (ف۹۴)
36اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے (ف۹۵) ان میں ایک (ف۹۶) بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ (ف۹۷) شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا (ف۹۸) میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتایے، بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں (ف۹۹)
37یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا (ف۱۰۰) یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں،
38اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم ؑ اور اسحق ؑ اور یعقوب کا دین اختیار کیا (ف۱۰۱) ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں، یہ (ف۱۰۲) اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (ف۱۰۳)
39اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب (ف۱۰۴) اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب، (ف۱۰۵)
40تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام (فرضی نام) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں (ف۱۰۶) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو (ف۱۰۷) یہ سیدھا دین ہے (ف۱۰۸) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۰۹)
41اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ) کو شراب پلائے گا (ف۱۱۰) رہا دوسرا (ف۱۱۱) وہ سو ُلی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے (ف۱۱۲) حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے (ف۱۱۳)
42اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا (ف۱۱۴) اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا (ف۱۱۵) تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا (ف۱۱۶)
43اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انہیں سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی (ف۱۱۷) اے درباریو! میرے خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہو،
44بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے،
45اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا (ف۱۱۸) اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا (ف۱۱۹) میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو (ف۱۲۰)
46اے یوسف! اے صدیق! ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی (ف۱۲۱) شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں (ف۱۲۲)
47کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگارتار (ف۱۲۳) تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو (ف۱۲۴) مگر تھوڑا جتنا کھالو (ف۱۲۵)
48پھر اس کے بعد سات برس کرّے (سخت تنگی والے) آئیں گے (ف۱۲۶) کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھا تھا (ف۱۲۷) مگر تھوڑا جو بچالو (ف۱۲۸)
49پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے (ف۱۲۹)
50اور بادشاہ بولا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا (ف۱۳۰) کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ (ف۱۳۱) کیا حال ہے اور عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے (ف۱۳۲)
51بادشاہ نے کہا اے عورتو! تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا، بولیں اللہ کو پاکی ہے ہم نے ان میں کوئی بدی نہیں پائی عزیز کی عورت (ف۱۳۳) بولی اب اصلی بات کھل گئی، میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تھا اور وہ بیشک سچے ہیں (ف۱۳۴)
52یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا،
53اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا (ف۱۳۵) بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے (ف۱۳۶) بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۷)
54اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لیے چن لوں (ف۱۳۸) پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں (ف۱۳۹)
55یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں (ف۱۴۰)
56اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے (ف۱۴۱) ہم اپنی رحمت (ف۱۴۲) جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ (اَجر) ضائع نہیں کرتے،
57اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (ف۱۴۳)
58اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انہیں (ف۱۴۴) پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے (ف۱۴۵)
59اور جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱۴۶) کہ اپنا سوتیلا بھائی (ف۱۴۷) میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں (ف۱۴۸) اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں،
60پھر اگر اسے لیکر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لیے میرے یہاں ماپ نہیں اور میرے پاس نہ پھٹکنا،
61بولے ہم اس کی خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہمیں یہ ضرور کرنا،
62اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خورجیوں میں رکھ دو (ف۱۴۹) شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں (ف۱۵۰) شاید وہ واپس آئیں،
63پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے (ف۱۵۱) بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے (ف۱۵۲) تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے،
64کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا (ف۱۵۳) تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان،
65اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے، بولے اے ہمارے باپ اب اور کیا چاہیں، یہ ہے ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں، یہ دنیا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں (ف۱۵۴)
66کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو (ف۱۵۵) کہ ضرور اسے لے کر آ ؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ (ف۱۵۶) پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا (ف۱۵۷) اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں،
67اور کہا اے میرے بیٹوں! (ف۱۵۸) ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا (ف۱۵۹) میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا (ف۱۶۰) حکم تو سب اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے،
68اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا (ف۱۶۱) وہ کچھ انہیں کچھ انہیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی، اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۶۲)
69اور جب وہ یوسف کے پاس گئے (ف۱۶۳) اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (ف۱۶۴) کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی (ف۱۶۵) ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا (ف۱۶۶)
70پھر جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱۶۷) پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا (ف۱۶۸) پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بیشک تم چور ہو،
71بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تم کیا نہیں پاتے،
72بولے، بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو اسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں،
73بولے خدا کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہ آئے اور نہ ہم چور ہیں،
74بولے پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے ہو (ف۱۶۹)
75بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے (ف۱۷۰) ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے (ف۱۷۱)
76تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی (ف۱۷۲) کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا (ف۱۷۳) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ف۱۷۴) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے (ف۱۷۵) مگر یہ کہ خدا چاہے (ف۱۷۶) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۷) اور ہر علم والے اوپر ایک علم والا ہے (ف۱۷۸)
77بھائی بولے اگر یہ چوری کرے (ف۱۷۹) تو بیشک اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے (ف۱۸۰) تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی، جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو (ف۱۸۱) اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو،
78بولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے (ف۱۸۲) تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو، بیشک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں،
79کہا (ف۱۸۳) خدا کی پناہ کہ ہم میں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا (ف۱۸۴) جب تو ہم ظالم ہوں گے،
80پھر جب اس سے نا امید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے، ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ (ف۱۸۵) اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے (ف۱۸۶) اور اس کا حکم سب سے بہتر،
81اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (ف۱۸۷) اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی (ف۱۸۸) اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (ف۱۸۹)
82اور اس بستی سے پوچھ دیکھئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے، اور ہم بیشک سچے ہیں (ف۱۹۰)
83کہا (ف۱۹۱) تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا، تو اچھا صبر ہے، قریب ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا، ملائے (ف۱۹۲) بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،
84اور ان سے منہ پھیرا (ف۱۹۳) اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں (ف۱۹۴) وہ غصہ کھا تا رہا،
85بولے (ف۱۹۵) خدا کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گور کنارے جا لگیں یا جان سے گزر جائیں،
86کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں (ف۱۹۶) اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۱۹۷)
87اے بیٹو! جا ؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ (ف۱۹۸)
88پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی (ف۱۹۹) اور ہم بے قدر پونجی لے کر آئے ہیں (ف۲۰۰) تو آپ ہمیں پورا ناپ دیجئے (ف۲۰۱) اور ہم پر خیرات کیجئے (ف۲۰۲) بیشک اللہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے (ف۲۰۳)
89بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے (ف۲۰۴)
90بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۰۵) بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا (ف۲۰۶)
91بولے خدا کی قسم! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاوار تھے (ف۲۰۷)
92کہا آج (ف۲۰۸) تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے (ف۲۰۹)
93میرا یہ کرتا لے جاؤ (ف۲۱۰) اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آ ؤ،
94جب قافلہ مصر سے جدا ہوا (ف۲۱۱) یہاں ان کے باپ نے (ف۲۱۲) کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پا تا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ (بہک) گیا ہے،
95بیٹے بولے خدا کی قسم! آپ اپنی اسی پرانی خود رفتگی میں ہیں (ف۲۱۳)
96پھر جب خوشی سنانے والا آیا (ف۲۱۴) اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۲۱۵)
97بولے اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بیشک ہم خطاوار ہیں،
98کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہو ں گا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱۶)
99پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے ماں (ف۲۱۷) باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں (ف۲۱۸) داخل ہو اللہ چاہے تو امان کے ساتھ (ف۲۱۹)
100اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب (ف۲۲۰) اس کے لیے سجدے میں گرے (ف۲۲۱) اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے (ف۲۲۲) بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا (ف۲۲۳) اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی، بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے (ف۲۲۴)
101اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قرب خاص کے لائق ہیں (ف۲۲۵)
102یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے (ف۲۲۶) جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے (ف۲۲۷)
103اور اکثر آدمی تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے،
104اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہ مانگتے یہ (ف۲۲۸) تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت،
105اور کتنی نشانیاں ہیں (ف۲۲۹) آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں (ف۲۳۰) اور ان سے بے خبر رہتے ہیں،
106اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے (ف۲۳۱)
107کیا اس سے نڈر ہو بیٹھے کہ اللہ کا عذاب انہیں آکر گھیر لے یا قیامت ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،
108تم فرماؤ (ف۲۳۲) یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں ۰ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے (ف۲۳۴) اور میں شریک کرنے والا نہیں،
109اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے (ف۲۳۵) جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے (ف۲۳۶) تو یہ لوگ زمین پرچلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا (ف۲۳۷) اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں،
110یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی (ف۲۳۸) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا (ف۲۳۹) اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا (ف۲۴۰) اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا،
111بیشک ان کی خبروں سے (ف۲۴۱) عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں (ف۲۴۲) یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں (ف۲۴۳) لیکن اپنوں سے اگلے کاموں کی (ف۲۴۴) تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت،
Chapter 13 (Sura 13)
1یہ کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲) اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۳) حق ہے (ف۴) مگر اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے (ف۵)
2اللہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بے ستونوں کے کہ تم دیکھو (ف۶) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا (ف۷) ہر ایک، ایک ٹھہرائے ہوئے وعدہ تک چلتا ہے (ف۸) اللہ کام کی تدبیر فرماتا اور مفصل نشانیاں بتاتا ہے (ف۹) کہیں تم اپنے رب رب کا ملنا یقین کرو (ف۱۰)
3اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا اور اس میں لنگر (ف۱۱) اور نہریں بنائیں، اور زمین ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے (ف۱۲) رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو (ف۱۳)
4اور زمین کے مختلف قطعے ہیں اور ہیں پاس پاس (ف۱۴) اور باغ ہیں انگوروں کے اور کھیتی اور کھجور کے پیڑ ایک تھالے (تھال) سے اُگے اور الگ الگ سب کو ایک ہی پانی دیا جا تا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر کرتے ہیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (ف۱۵)
5اور اگر تم تعجب کرو (ف۱۶) تو اچنبھا تو ان کے اس کہنے کا ہے کہ کیا ہم مٹی ہو کر پھر نئے بنیں گے (ف۱۷) وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے اور وہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے (ف۱۸) اور وہ دوزخ والے ہیں انھیں اسی میں رہنا،
6اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے (ف۱۹) اور ان اگلوں کی سزائیں ہوچکیں (ف۲۰) اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انہیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے (ف۲۱) اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے (ف۲۲)
7اور کا فر کہتے ہیں ان پر ان کی طرف سے کوئی نشانی کیو ں نہیں اتری (ف۲۳) تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی (ف۲۴)
8اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے (ف۲۵) اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں (ف۲۶) اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے (ف۲۵)
9ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا سب سے بڑا بلندی والا (ف۲۸)
10برابر ہیں جو تم میں بات آہستہ کہے اور جو آواز سے اور جو رات میں چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے (ف۲۹)
11آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے پیچھے (ف۳۰) کہ بحکم خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں (ف۳۱) بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود (ف۳۲) اپنی حالت نہ بدلیں، اور جب کسی قوم سے برائی چاہے (ف۳۳) تو وہ پھر نہیں سکتی، اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں (ف۳۴)
12وہی ہے تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈر کو اور امید کو (ف۳۵) اور بھاری بدلیاں اٹھاتا ہے،
13اور گر ج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے (ف۳۶) اور فرشتے اس کے ڈر سے (ف۳۷) اور کڑک بھیجتا ہے (ف۳۸) تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں (ف۳۹) اور اس کی پکڑ سخت ہے،
14اسی کا پکارنا سچا ہے (ف۴۰) اور اُس کے سوا جن کو پکارتے ہیں (ف۴۱) وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے (ف۴۲) اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا، اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے،
15اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے (ف۴۳) خواہ مجبوری سے (ف۴۴) اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام (ف۴۵) السجدة ۔۲
16تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا، تم خود ہی فرما ؤ اللہ (ف۴۶) تم فرما ؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنائے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں (ف۴۷) تم فرما ؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (بینا) (ف۴۸) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا (ف۴۹) کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انہیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا (ف۵۰) تم فرما ؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے (ف۵۱) اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے (ف۵۲)
17اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی، اور جس پر آگ دہکاتے ہیں (ف۵۳) گہنا یا اور اسباب (ف۵۴) بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے، تو جھاگ تو پھک (جل) کر دور ہوجاتا ہے، اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے (ف۵۵) اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے،
18جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے (ف۵۶) اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ف۵۷) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی ملِک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برُ ا حساب ہوگا (ف۵۸) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی بُرا بچھونا،
19تو کیا وہ جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے (ف۵۹) وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے (ف۶۰) نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے،
20وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں (ف۶۱) اور قول باندھ کر پھرتے نہیں
21اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا (ف۶۲) اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور حساب کی بُرائی سے اندیشہ رکھتے ہیں (ف۶۳)
22اور وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۶۴) اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا (ف۶۵) اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں (ف۶۶) انہیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے،
23بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں (ف۶۷) ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف۶۸) اور فرشتے (ف۶۹) ہر دروازے سے ان پر (ف۷۰) یہ کہتے آئیں گے،
24سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا،
25اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے (ف۷۱) کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۷۲) ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر (ف۷۳)
26اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور (ف۷۴) تنگ کرتا ہے، اور کا فر دنیا کی زندگی پر اترا گئے (نازاں ہوئے) (ف۷۵) اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا،
27اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری، تم فرماؤ بیشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے (ف۷۶) اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے،
28وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے (ف۷۷)
29وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام (ف۷۸)
30اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں (ف۷۹) کہ تم انہیں پڑھ کر سناؤ (ف۸۰) جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمن کے منکر ہورہے ہیں (ف۸۱) تم فرماؤ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میری رجوع ہے،
31اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے (ف۸۲) یا زمین پھٹ جاتی یا مردے باتیں کرتے جب بھی یہ کافر نہ مانتے (ف۸۳) بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار ميں ہیں (ف۸۴) تو کیا مسلمان اس سے نا امید نہ ہوئے (ف۸۵) کہ اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا (ف۸۶) اور کافروں کو ہمیشہ کے لیے یہ سخت دھمک (ہلادینے والی مصیبت) پہنچتی رہے گی (ف۸۷) یا ان کے گھروں کے نزدیک اترے گی (ف۸۸) یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آئے (ف۸۹) بیشک اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا (ف۹۰)
32اور بیشک تم سے اگلے رسولوں سے بھی ہنسی کی گئی تو میں نے کافروں کو کچھ دنوں ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا (ف۹۱) تو میرا عذاب کیسا تھا،
33تو کیا وہ ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہداشت رکھتا ہے (ف۹۲) اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، تم فرماؤ ان کا نام تو لو (ف۹۳) یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں (ف۹۴) یا یوں ہی اوپری بات (ف۹۵) بلکہ کافروں کی نگاہ میں ان کا فریب اچھا ٹھہرا ہے اور راہ سے روکے گئے (ف۹۶) اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
34انہیں دنیا کے جیتے عذاب ہوگا (ف۹۷) اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں،
35احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے، اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ (ف۹۸) ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے (ف۹۹) اور کافروں کا انجام آ گ،
36اور جن کو ہم نے کتاب دی (ف۱۰۰) وہ اس پر خوش ہوتے جو تمہاری طرف اترا اور ان گروہوں میں (ف۱۰۱) کچھ وہ ہیں کہ اس کے بعض سے منکر ہیں، تم فرماؤ مجھے تو یہی حکم ہے کہ اللہ کی بندگی کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں، ميں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا (ف۱۰۲)
37اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فیصلہ اتارا (ف۱۰۳) اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا (ف۱۰۴) بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا،
38اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں (ف۱۰۵) اور بچے کیے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے حکم سے، ہر وعدہ کی ایک لکھت ہے (ف۱۰۶)
39اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے (ف۱۰۷) اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس (ف۱۰۸)
40اور اگر ہمیں تمہیں دکھا د یں کوئی وعدہ (ف۱۰۹) جو انہیں دیا جاتا ہے یا پہلے ہی (ف۱۱۰) اپنے پاس بلائیں تو بہرحال تم پر تو ضرور پہنچانا ہے اور حساب لینا (ف۱۱۱) ہمارا ذمہ (ف۱۱۲)
41کیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں (ف۱۱۳) اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں (ف۱۱۴) اور اسے حساب لیتے دیر نہیں لگتی،
42اور ان سے اگلے (ف۱۱۵) فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے (ف۱۱۶) جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے (ف۱۱۷) اور اب جاننا چاہتے ہیں کافر، کسے ملتا ہے پچھلا گھر (ف۱۱۸)
43اور کافر کہتے ہی تم رسول نہیں، تم فرماؤ اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں (ف۱۱۹) اور وہ جسے کتاب کا علم ہے (ف۱۲۰)
Chapter 14 (Sura 14)
1ایک کتاب ہے (ف۲) کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو (ف۳) اندھیریوں سے (ف۴) اجالے میں لا ؤ (ف۵) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ (ف۶) کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے
2اللہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۷) اور کافروں کی خرابی ہے ایک سخت عذاب سے
3جنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸) اور اس میں کجی چاہتے ہیں، وہ دور کی گمراہی میں ہیں (ف۹)
4اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا (ف۱۰) کہ وہ انہیں صاف بتائے (ف۱۱) پھراللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
5اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (ف۱۲) دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے (ف۱۳) اجالے میں لا، اور انہیں اللہ کے دن یا د دِلا (ف۱۴) بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو،
6اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۵) یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے، اور اس میں (ف۱۶) تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا،
7اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دونگا (ف۱۷) اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے،
8اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور زمین میں جتنے ہیں سب کا فر ہوجاؤ (ف۱۸) تو بیشک اللہ بے پروہ سب خوبیوں والا ہے،
9کیا تمہیں ان کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے، انہیں اللہ ہی جانے (ف۱۹) ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۰) تو وہ اپنے ہاتھ (ف۲۱) اپنے منہ کی طرف لے گئے (ف۲۲) اور بولے ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور جس راہ (ف۲۳) کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا،
10ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے (ف۲۴) آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے (ف۲۵) کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے (ف۲۶) اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بے عذاب کاٹ دے، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو (ف۲۷) تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۸) اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ (ف۲۹)
11ان کے رسولوں نے ان سے کہا (ف۳۰) ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے (ف۳۱) اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۲)
12اور ہمیں کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں (ف۳۳) اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھادیں (ف۳۴) اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،
13اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین (ف۳۵) سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر کچھ ہوجاؤ، تو انہیں ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے
14اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے (ف۳۶) یہ اس لیے ہے جو (ف۳۷) میرے حضو ر کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے، اس سے خوف کرے،
15اور انہوں نے (ف۳۸) فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا مُراد ہوا (ف۳۹)
16جہنم اس کے پیچھے لگی اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا،
17بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی (ف۴۰) اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور مرے گا نہیں، اور اس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب (ف۴۱)
18اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں (ف ۴۲) جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں (ف۴۳) ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی،
19کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے (ف۴۴) اگر چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۴۵) اور ایک نئی مخلوق لے آئے (ف۴۶)
20اور یہ (ف۴۷) اللہ پر کچھ دشوار نہیں،
21اور سب اللہ کے حضور (ف۴۸) اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے (ف۴۹) بڑائی والوں سے کہیں گے (ف۵۰) ہم تمہارے تابع تھے کیا تم سے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم پر سے ٹال دو (ف۵۱) کہیں گے اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں کرتے (ف۴۲) ہم پر ایک سا ہے چاہے بے قراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں،
22اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا (ف۵۳) بیشک اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا (ف۵۴) اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا (ف۵۵) وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۵۶) مگر یہی کہ میں نے تم کو (ف۵۷) بلایا تم نے میری مان لی (ف۵۸) تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو (ف۵۹) خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا (ف۶۰) میں اس سے سخت بیزار ہوں، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے،
23اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اپنے رب کے حکم سے، اس میں ان کے ملتے وقت کا اکرام سلام ہے (ف۶۱)
24کیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی (ف۶۲) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں،
25ہر وقت پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے (ف۶۳) اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں (ف۶۴)
26اور گندی بات (ف۶۵) کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ (ف۶۶) کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں (ف۶۷)
27اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات (ف۶۸) پر دنیا کی زندگی میں (ف۶۹) اور آخرت میں (ف۷۰) اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے (ف۷۱) اور اللہ جو چاہے کرے،
28کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (ف۷۲) اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتار،
29وہ جو دوزخ ہے اس کے اندر جائیں گے، اور کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ،
30اور اللہ کے لیے برابر والے ٹھہراے (ف۷۳) کہ اس کی راہ سے بہکاویں تم فرماؤ (ف۷۴) کچھ برت لو کہ تمہارا انجام آگ ہے (ف۷۵)
31میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی (ف۷۶) نہ یارانہ (ف۷۷)
32اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے (ف۷۸) اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں، (ف۷۹)
33اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں (ف۸۰) اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے (ف۸۱)
34اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا، اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے (ف۸۲)
35اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر (ف۸۳) کو امان والا کردے (ف۸۴) اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا (ف۸۵)
36اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکائے دیے (ف۸۶) تو جس نے میرا ساتھ دیا (ف۸۷) وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے (ف۸۸)
37اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس (ف۸۹) اے میرے رب اس لیے کہ وہ (ف۹۰) نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے (ف۹۱) اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے (ف۹۲) شاید وہ احسان مانیں،
38اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے اور اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں (ف۹۳)
39سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے،
40اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو (ف۹۴) اے ہمارے رب اور ہماری دعا سن لے،
41اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف۹۵) اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا،
42اور ہرگز اللہ کو بےخبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے (ف۹۶) انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں (ف۹۷)
43آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بے تحاشا دوڑے نکلیں گے (ف۹۸) اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں (ف۹۹) اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی (ف۱۰۰)
44اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ (ف۱۰۱) جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم (ف۱۰۲) کہیں گے اے ہمارے رب! تھوڑی دیر ہمیں (ف۱۰۳) مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں (ف۱۰۴) اور رسولوں کی غلامی کریں (ف۱۰۵) تو کیا تم پہلے (ف۱۰۶) قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں (ف۱۰۷)
45اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا (ف۱۰۸) اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا (ف۱۰۹) اور ہم نے تمہیں مثالیں دے کر بتادیا (ف۱۱۰)
46اور بیشک وہ (ف۱۱۱) اپنا سا داؤں (فریب) چلے (ف۱۱۲) اور ان کا داؤں اللہ کے قابو میں ہے، اور ان کا داؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں (ف۱۱۳)
47تو ہر گز خیال نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلاف کرے گا (ف۱۱۴) بیشک اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا،
48جس دن (ف۱۱۵) بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان (ف۱۱۶) اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے (ف۱۱۷) ایک اللہکے سامنے جو سب پر غالب ہے
49اور اس دن تم مجرموں (ف۱۱۸) کو دیکھو گے کہ بیڑیوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے (ف۱۱۹)
50ان کے کرُتے رال ہوں گے (ف۱۲۰) اور ان کے چہرے آ گ ڈھانپ لے گی
51اس لیے کہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے، بیشک اللہ کو حساب کرتے کچھ دیر نہیں لگتی،
52یہ (ف۱۲۱) لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے (ف۱۲۲) اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں،
Chapter 15 (Sura 15)
1یہ آیتیں ہیں کتاب اور روشن قرآن کی-
2بہت آرزوئیں کریں گے کافر (ف۲) کاش مسلمان ہوتے،
3انہیں چھوڑو (ف۳) کہ کھائیں اور برتیں (ف۴) اور امید (ف۵) انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہیں (ف۶)
4اور جو بستی ہم نے ہلاک کی اس کا ایک جانا ہوا نوشتہ تھا (ف۷)
5کو ئی گروہ اپنے وعدہ سے آگے نہ بڑھے نہ پیچھے ہٹے،
6اور بولے (ف۸) کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک مجنون ہو (ف۹)
7ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے (ف۱۰) اگر تم سچے ہو (ف۱۱)
8ہم فرشتے بیکار نہیں اتارتے اور وہ اتریں تو انہیں مہلت نہ ملے (ف۱۲)
9بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں (ف۱۳)
10اور بیشک ہم نے تم سے پہلے اگلی امتوں میں رسول بھیجے،
11اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے ہیں (ف۱۴)
12ایسے ہی ہم اس ہنسی کو ان مجرموں (ف۱۵) کے دلوں میں راہ دیتے ہیں،
13وہ اس پر (ف۱۶) ایمان نہیں لاتے اور اگلوں کی راہ پڑچکی ہے (ف۱۷)
14اور اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں کہ دن کو اس میں چڑھتے،
15جب بھی یہی کہتے کہ ہماری نگاہ باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو ہوا ہے (ف۱۸)
16اور بیشک ہم نے آسمان میں برج بنائے (ف۱۹) اور اسے دیکھنے والو ں کے لیے آراستہ کیا (ف۲۰)
17اور اسے ہم نے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا (ف۲۱)
18مگر جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے پڑتا ہے روشن شعلہ (ف۲۲)
19اور ہم نے زمین پھیلائی اور اس میں لنگر ڈالے (ف۲۳) اور اس میں ہر چیز اندازے سے اگائی،
20اور تمہارے لیے اس میں روزیاں کردیں (ف۲۴) اور وہ کردیے جنہیں تم رزق نہیں دیتے (ف۲۵)
21اور کوئی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں (ف۲۶) اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم انداز سے،
22اور ہم نے ہوائیں بھیجیں بادلوں کو با رور کرنے والیاں (ف۲۷) تو ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر وہ تمہیں پینے کو دیا اور تم کچھ اس کے خزانچی نہیں (ف۲۸)
23اور بیشک ہم ہی جِلائیں اور ہم ہی ماریں اور ہم ہی وارث ہیں (ف۲۹)
24اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں آگے بڑھے اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں پیچھے رہے، (ف۳۰)
25اور بیشک تمہارا رب ہی تمہیں قیامت میں اٹھائے گا (ف۳۱) بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،
26اور بیشک ہم نے آدمی کو (ف۳۲) بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی، ف۳۳)
27اور جِن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے، (ف۳۴)
28اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدمی کو بنانے والا ہوں بجتی مٹی سے جو بدبودار سیاہ گارے سے ہے،
29تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور اور میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح پھونک دوں (ف۳۵) تو اس (ف۳۶) کے لیے سجدے میں گر پڑنا،
30تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرے،
31سوا ابلیس کے، اس نے سجدہ والوں کا ساتھ نہ مانا (ف۳۷)
32فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں سے الگ رہا،
33بولا مجھے زیبا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی مٹی سے بنایا جو سیاہ بودار گارے سے تھی،
34فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو مردود ہے،
35اور بیشک قیامت تک تجھ پر لعنت ہے (ف۳۸)
36بولا اے میرے رب تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں (ف۳۹)
37فرمایا تو ان میں سے ہے جن کو اس معلوم،
38وقت کے دن تک مہلت ہے، (ف۴۰)
39بولا اے رب میرے! قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں انہیں زمین میں بھلاوے دوں گا (ف۴۱) اور ضرور میں ان سب کو (ف۴۲) بے راہ کروں گا
40مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں، (ف۴۳)
41فرمایا یہ راستہ سیدھا میری طرف آتا ہے،
42بیشک میرے (ف۴۴) بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں سوا ان گمراہوں کے جو تیرا ساتھ دیں، (ف۴۵)
43اور بیشک جہنم ان سب کا وعدہ ہے، (ف۴۶)
44اس کے سات دروازے ہیں، (ف۴۷) ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے، (ف۴۸)
45بیشک ڈر والے باغوں اور چشموں میں ہیں (ف۴۹)
46ان میں داخل ہو سلامتی کے ساتھ امان میں، (ف۵۰)
47اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ (ف۵۱) کینے تھے سب کھینچ لیے (ف۵۲) آپس میں بھائی ہیں (ف۵۳) تختوں پر روبرو بیٹھے،
48نہ انہیں اس میں کچھ تکلیف پہنچے نہ وہ اس میں سے نکالے جائیں،
49خبردو (۵۴) میرے بندوں کو کہ بیشک میں ہی ہوں بخشے والا مہربان،
50اور میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے،
51اور انہیں احوال سناؤ ابراہیم کے مہمانوں کا، (ف۵۵)
52جب وہ اس کے پاس آئے تو بولے سلام (ف۵۶) کہا ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے، (ف۵۷)
53انہوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں، (ف۵۸)
54کہا کیا اس پر مجھے بشارت دیتے ہو کہ مجھے بڑھاپا پہنچ گیا اب کاہے پر بشارت دیتے ہو، (ف۵۹)
55کہا ہم نے آپ کو سچی بشارت دی ہے (ف۶۰) آپ ناامید نہ ہوں،
56کہا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے، ف۶۱)
57کہا پھر تمہارا کیا کام ہے اے فرشتو! (ف۶۲)
58بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں، (ف۶۳)
59مگر لوط کے گھر والے، ان سب کو ہم بچالیں گے، (ف۶۴)
60مگر اس کی عورت ہم ٹھہراچکے ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے، ف۶۵)
61تو جب لوط کے گھر فرشتے آئے، ۶۶)
62کہا تم تو کچھ بیگانہ لوگ ہو، ف۶۷)
63کہا بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ (ف۶۸) لائے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے تھے، (ف۶۹)
64اور ہم آپ کے پاس سچا حکم لائے ہیں اور ہم بیشک سچے ہیں،
65تو اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے کر باہر جایے اور آپ ان کے پیچھے چلئے اور تم میں کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے (ف۷۰) اور جہاں کو حکم ہے سیدھے چلے جایئے، (ف۷۱)
66اور ہم نے اسے اس حکم کا فیصلہ سنادیا کہ صبح ہوتے ان کافروں کی جڑ کٹ جائے گی،
67اور شہر والے (ف۷۳) خوشیاں مناتے آئے،
68لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں (ف۷۴) مجھے فضیحت (رُسوا) نہ کرو، ف۷۵)
69اور اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو، (ف۷۶)
70بولے کیا ہم نے تمہیں منع نہ کیا تھا کہ اوروں کے معاملہ میں دخل نہ دو،
71کہا یہ قوم کی عورتیں میری بیٹیاں ہیں اگر تمہیں کرنا ہے، (ف۷۷)
72اے محبوب تمہاری جان کی قسم (ف۷۸) بیشک وہ اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں،
73تو دن نکلتے انہیں چنگھاڑ نے آلیا (ف۷۹)
74تو ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ اس نے نیچے کا حصہ کردیا (ف۸۰) اور ان پر کنکر کے پتھر برسائے،
75بیشک اس میں نشانیاں ہیں فراست والوں کے لیے،
76اور بیشک وہ بستی اس راہ پر ہے جو اب تک چلتی ہے، (ف۸۱)
77بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کو،
78اور بیشک جھاڑی والے ضرور ظالم تھے، ف۸۲)
79تو ہم نے ان سے بدلہ لیا (ف۸۳) اور بیشک دونوں بستیاں (ف۸۴) کھلے راستہ پر پڑتی ہیں، (ف۸۵)
80اور بیشک حجر والو ں نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۸۶)
81اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں (ف۸۷) تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے، (ف۸۸)
82اور وہ پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے بے خوف (ف۸۹)
83تو انہیں صبح ہوتے چنگھاڑ نے آلیا (ف۹۰)
84تو ان کی کمائی کچھ ان کے کام نہ آئی (ف۹۱)
85اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنایا، اور بیشک قیامت آنے والی ہے (ف۹۲) تو تم اچھی طرح درگزر کرو، ف۹۳)
86بیشک تمہارا رب ہی بہت پیدا کرنے والا جاننے والا ہے (ف۹۴)
87اور بیشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں (ف۹۵) اور عظمت والا قرآن،
88اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے جوڑوں کو برتنے کو دی (ف۹۶) اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ (ف۹۷) اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو، (ف۹۸)
89اور فرماؤ کہ میں ہی ہوں صاف ڈر سنانے والا (اس عذاب سے)،
90جیسا ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا،
91جنہوں نے کلامِ الٰہی کو تکے بوٹی کرلیا، ف۹۹)
92تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے، (ف۱۰۰)
93جو کچھ وہ کرتے تھے، (ف۱۰۱)
94تو اعلانیہ کہہ دو جس بات کا تمہیں حکم ہے (ف۱۰۲) اور مشرکوں سے منہ پھیر لو، ف۱۰۳)
95بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفا یت کرتے ہیں (ف۱۰۴)
96جو ا لله کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں تو اب جان جائیں گے، (ف۱۰۵)
97اور بیشک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے تم دل تنگ ہوتے ہو، (ف۱۰۶)
98تو اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہو، (ف۱۰۷)
99اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو،
Chapter 16 (Sura 16)
1اب آتا ہے اللہ کا حکم تو اس کی جلدی نہ کرو (ف۲) پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے، (ف۳)
2ملائکہ کو ایمان کی جان یعنی وحی لے کر اپنے جن بندوں پر چاہے اتارتا ہے (ف ۴) کہ ڈر سناؤ کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہیں تو مجھ سے ڈرو (ف۵)
3اس نے آسمان اور زمین بجا بنائے (ف۶) وہ ان کے شرک سے برتر ہے،
4(اس نے) آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا (ف۷) تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے،
5اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں (ف۸) اور ان میں سے کھاتے ہو،
6اور تمہارا ان میں تجمل ہے جب انہیں شام کو واپس لاتے ہو اور جب چرنے کو چھوڑتے ہو،
7اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ایسے شہر کی طرف کہ اس تک نہ پہنچتے مگر ادھ مرے ہوکر، بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے (ف۹)
8اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے، اور وہ پیدا کرے گا (ف۱۰) جس کی تمہیں خبر نہیں، (ف۱۱)
9اور بیچ کی راہ (ف۱۲) ٹھیک اللہ تک ہے اور کوئی راہ ٹیڑھی ہے (ف۱۳) اور چاہتا تو تم سب کو راہ پر لاتا، (ف۱۴)
10وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اس سے تمہارا پینا ہے اور اس سے درخت ہیں جن سے چَراتے ہو (ف۱۵)
11اس پانی سے تمہارے لیے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (ف۱۶) بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۷) دھیان کرنے والوں کو،
12اور اس نے تمہارے لیے مسخر کیے رات اور دن اور سورج اور چاند، اور ستارے اس کے حکم کے باندھے ہیں بیشک اس آیت میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کو (ف۱۸)
13اور وہ جو تمہارے لیے زمین میں پیدا کیا رنگ برنگ (ف۱۹) بیشک اس میں نشانی ہے یاد کرنے والوں کو
14اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا مسخر کیا (ف۲۰) کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو (ف۲۱) اور اس میں سے گہنا (زیور) نکالتے ہو جسے پہنتے ہو (ف۲۲) اور تو اس میں کشتیاں دیکھے کہ پانی چیر کر چلتی ہیں اور اس لیے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور کہیں احسان مانو،
15اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے (ف۲۳) کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے اور ندیاں اور رستے کہ تم راہ پاؤ (ف۲۴)
16اور علامتیں (ف۲۵) اور ستارے سے وہ راہ پاتے ہیں (ف۲۶)
17تو کیا جو بنائے (ف۲۷) وہ ایسا ہوجائے گا جو نہ بنائے (ف۲۸) تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے،
18اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کرسکو گے (ف۲۹) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۰)
19اور اللہ جانتا ہے (ف۳۱) جو چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو،
20اور اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہو ہیں (۳۲) وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور (ف۳۳) وہ خود بنائے ہوئے ہیں (ف۳۴)
21مُردے ہیں (ف۳۵) زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں لوگ کب اٹھائے جایں گے (ف۳۶)
22تمہارا معبوثد ایک معبود ہے (ف۳۷) تو وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہیں (ف۳۸) اور وہ مغرور ہیں (ف۳۹)
23فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا،
24اور جب ان سے کہا جائے (ف۴۰) تمہارے رب نے کیا اتارا (ف۴۱) کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۴۲)
25کہ قیامت کے دن اپنے (ف۴۳) بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں، سن لو کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں،
26بیشک ان سے اگلوں نے (ف۴۴) فریب کیا تھا تو اللہ نے ان کی چنائی کو نیو سے (تعمیر کو بنیاد) سے لیا تو اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں کی انہیں خبر نہ تھی (ف۴۵)
27پھر قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک (ف۴۶) جن میں تم جھگڑتے تھے (ف۴۷) علم والے (ف۴۸) کہیں گے آج ساری رسوائی اور برائی (ف۴۹) کافروں پر ہے
28وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کیا وہ اپنا برا کررہے تھے (ف۵۰) اب صلح ڈالیں گے (ف۵۱) کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے (ف۵۲) ہاں کیوں نہیں، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (برے اعمال) تھے (ف۵۳)
29اب جہنم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا،
30اور ڈر والوں (ف۵۴) سے کہا گیا تمہارے رب رب نے کیا اتارا، بولے خوبی (ف۵۵) جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی (ف۵۶) ان کے لیے بھلائی ہے (ف۵۷) اور بیشک پچھلا گھر سب سے بہتر، اور ضرور (ف۵۸) کیا ہی اچھا گھر پرہیزگاروں کا
31بسنے کے باغ جن میں جائیں گے ان کے نیچے نہریں رواں انہیں وہاں ملے گا جو چاہیں (ف۵۹) اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے پرہیزگاروں کو
32وہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے ستھرے پن میں (ف۶۰) یہ کہتے ہوئے کہ سلامتی ہو تم پر (ف۶۱) جنت میں جاؤ بدلہ اپنے کیے کا،
33کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۶۲) مگر اس کے کہ فرشتے ان پر آئیں (ف۶۳) یا تمہارے رب کا عذاب آئے (ف۶۴) ان سے اگلوں نے ایسا ہی کیا (ف۶۵) اور اللہ نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی (ف۶۶) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
34تو ان کی بری کمائیاں ان پر پڑیں (ف۶۷) اور انہیں گھیرلیا اس (ف۶۸) نے جس پر ہنستے تھے،
35اور مشرک بولے اللہ چاہتا تو اس کے سوا کچھ نہ پوجنے نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ اس سے جدا ہو کر ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے (ف۶۹) جیسا ہی ان سے اگلوں نے کیا (ف۷۰) تو رسولوں پر کیا ہے مگر صاف پہنچا دینا، (ف۷۱)
36اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا (ف۷۲) کہ اللہ کو پوجو اور شیطان سے بچو تو ان (ف۷۳) میں کسی کو اللہ نے راہ دکھائی (ف۷۴) اور کسی پر گمراہی ٹھیک اتری (ف۷۵) تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۷۶)
37اگر تم ان کی ہدایت کی حرص کرو (ف ۷۷) تو بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کرے اور ان کا کوئی مددگار نہیں،
38اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اللہ مُردے نہ اٹھائے گا (ف۷۸) ہاں کیوں نہیں (۷۹) سچا وعدہ اس کے ذمہ پر لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۸۰)
39اس لیے کہ انہیں صاف بتادے جس بات میں جھگڑتے تھے (ف۸۱) اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے (ف۸۲)
40جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے، (ف۸۳)
41اور جنہوں نے اللہ کی راہ مں ی (ف۸۴) اپنے گھر بار چھوڑے مظلوم ہوکر ضرور ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے (ف۸۵) اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کسی طرح لوگ جانتے، ف۸۶)
42وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۸۷) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۸۸)
43اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد (ف۸۹) جن کی طرف ہم وحی کرتے، تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں، ف۹۰)
44روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر (ف۹۱) اور اے محبوب ہم نے تمہاری ہی طرف یہ یاد گار اتاری (ف۹۲) کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو (ف۹۳) ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں،
45تو کیا جو لوگ بڑے مکر کرتے ہیں (ف۹۴) اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے (ف۹۵) یا انہیں وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر نہ ہو، (ف۹۶)
46یا انہیں چلتے پھرتے (ف۹۷) پکڑ لے کہ وہ تھکا نہیں سکتے، ف۹۸)
47یا انہیں نقصان دیتے دیتے گرفتار کرلے کہ بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے، (ف۹۹)
48اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو (ف۱۰۰) چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں دائیں اور بائیں جھکتی ہیں (ف۱۰۱) اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں (ف۱۰۲)
49اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں چلنے والا ہے (ف۱۰۳) اور فرشتے اور وہ غرور نہیں کرتے،
50اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم ہو، (ف۱۰۴)
51اور اللہ نے فرمادیا دو خدا نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۵) وہ تو ایک ہی معبود ہے تو مجھ ہی سے ڈرو، ف۱۰۶)
52اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی فرمانبرداری لازم ہے، تو اللہ کے سوا کسی دوسرے سے ڈرو گے، (ف۱۰۷)
53اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے (ف۱۰۸) تو اسی کی طرف پناہ لے جاتے ہو، ف۱۰۹)
54پھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے تو تم میں ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے، ف۱۱۰)
55کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں، تو کچھ برت لو (۱۱۱) کہ عنقریب جان جاؤ گے، (ف۱۱۲)
56اور انجانی چیزوں کے لیے (ف۱۱۳) ہماری دی ہوئی روزی میں سے (ف۱۱۴) حصہ مقرر کرتے ہیں خدا کی قسم تم سے ضرور سوال ہونا ہے جو کچھ جھوٹ باندھتے تھے (ف۱۱۵)
57اور اللہ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں (ف۱۱۶) پاکی ہے اس کو (ف۱۱۷) اور اپنے لیے جو اپنا جی چاہتا ہے، (ف۱۱۸)
58اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ (ف۱۱۹) کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھا تا ہے،
59لوگوں سے (ف۱۲۰) چھپا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب، کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا (ف۱۲۱) ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں، (ف۱۲۲)
60جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے انہیں کا بر ا حال ہے، اور اللہ کی شان سب سے بلند، (ف۱۲۳) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
61اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر گرفت کرتا (ف۱۲۴) تو زمین پر کوئی چلنے والا نہیں چھوڑتا (ف۱۲۵) لیکن انہیں ایک ٹھہرائے وعدے تک مہلت دیتا ہے (ف۱۲۶) پھر جب ان کا وعدہ آئے گا نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں،
62اور اللہ کے لیے وہ ٹھہراتے ہیں جو اپنے لیے ناگوار ہے (ف۱۲۷) اور ان کی زبانیں جھوٹ کہتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے (ف۱۲۸) تو آپ ہی ہوا کہ ان کے لیے آگ ہے اور وہ حد سے گزارے ہوئے ہیں، (ف۱۲۹)
63خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے کوتک (برُے اعمال) ان کی آنکھوں میں بھلے کر دکھائے (ف۱۳۰) تو آج وہی ان کا رفیق ہے (ف۱۳۱) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، (ف۱۳۲)
64اور ہم نے تم پر یہ کتاب نہ اتاری (ف۱۳۳) مگر اس لیے کہ تم لوگوں پر روشن کردو جس بات میں اختلاف کریں (ف۱۳۴) اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے،
65اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس سے زمین کو (ف۱۳۵) زندہ کردیا اس کے مرے پیچھے (ف۱۳۶) بیشک اس میں نشانی ہے ان کو جو کان رکھتے ہیں، (ف۱۳۷)
66اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے (ف۱۳۸) ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے، گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے، (ف۱۳۹)
67اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے (ف۱۴۰) کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق (ف۱۴۱) بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو،
68اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں،
69پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور (ف۱۴۲) اپنے رب کی راہیں چل کر تیرے لیے نرم و آسان ہیں، (ف۱۴۳) اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے، جس میں لوگوں کی تندرستی ہے، بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۴۷) دھیان کرنے والوں کو، (ف۱۴۸)
70اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا (ف۱۴۹) پھر تمہاری جان قبض کرے گا (ف۱۵۰) اور تم میں کوئی سب سے ناقض عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے (ف۱۵۱) کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (ف۱۵۲) بیشک اللہ کچھ جانتا ہے سب کچھ کرسکتا ہے،
71اور اللہ نے تم میں ایک دوسرے پر رزق میں بڑائی دی (ف۱۵۳) تو جنہیں بڑائی دی ہے وہ اپنا رزق اپنے باندی غلاموں کو نہ پھیر دیں گے کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں (ف۱۵۴) تو کیا اللہ کی نعمت سے مکرتے ہیں، (ف۱۵۵)
72اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روز ی دی (ف۱۵۶) تو کیا جھوٹی بات (ف۱۵۷) پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کے فضل (ف۱۵۸) سے منکر ہوتے ہیں،
73اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۱۵۹) جو انہیں آسمان اور زمین سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے نہ کچھ کرسکتے ہیں،
74تو اللہ کے لیے مانند نہ ٹھہراؤ (ف۱۶۰) بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
75اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی (ف۱۶۱) ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک آپ کچھ مقدور نہیں رکھتا اور ایک جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر (ف۱۶۲) کیا وہ برابر ہوجائیں گے (ف۱۶۳) سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں (ف۱۶۴)
76اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا (ف۱۶۵) اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے (ف۱۶۶) کیا برابر ہوجائے گا ہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے، ف۱۶۷)
77اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں (ف۱۶۸) اور قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے ایک پلک کا مارنا بلکہ اس سے بھی قریب (ف۱۶۹) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
78اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤوں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے (ف۱۷۰) اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیئے (ف۱۷۱) کہ تم احسان مانو، ف۱۷۲)
79کیا انہوں نے پرندے نے پرندے نہ دیکھے حکم کے باندھے آسمان کی فضا میں، انہیں کوئی نہیں روکتا (ف۱۷۳) سوا اللہ کے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کو، ف۱۷۴)
80اور اللہ نے تمہیں گھر دیئے بسنے کو (ف۱۷۵) اور تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے کچھ گھر بناےٴ جو تمھیں ہلکے پڑتے ہیں تمھارے سفر کے دن اور منزلوں پرٹھہر نے کے دن، اور ان کی اون اور ببری (رونگٹوں) اور بالوں سے کچھ گرہستی (خانگی ضروریات) کا سامان (ف۱۷۷) اور برتنے کی چیزیں ایک وقت تک،
81اور اللہ نے تمہیں اپنی بنائی ہوئی چیزوں (ف۱۷۸) سے سائے دیئے (ف۱۷۹) اور تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی (ف۱۸۰) اور تمہارے لیے کچھ پہنادے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں اور کچھ پہناوے (ف۱۸۱) کہ لڑائیں میں تمہاری حفاظت کریں (ف۱۸۲) یونہی اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے (ف۱۸۳) کہ تم فرمان مانو (ف۱۸۴)
82پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۸۵) تو اے محبوب! تم پر نہیں مگر صاف پہنچا دینا، (ف۱۸۶)
83اللہ کی نعمت پہنچانتے ہیں (ف۱۸۷) پھر اس سے منکر ہوتے ہیں (ف۱۸۸) اور ان میں اکثر کافر ہیں، (ف۱۸۹)
84اور جس دن (ف۱۹۰) ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ (ف۱۹۱) پھر کافروں کو نہ اجازت ہو (ف۱۹۲) نہ وہ منائے جائیں، ف۱۹۳)
85اور ظلم کرنے والے (ف۱۹۴) جب عذاب دیکھیں گے اسی وقت سے نہ وہ ان پر سے ہلکا ہو نہ انہیں مہلت ملے،
86اور شرک کرنے والے جب اپنے شریکوں کو دیکھیں گے (ف۱۹۵) کہیں گے اے ہمارے رب! یہ ہیں ہمارے شریک کہ ہم تیرے سوا پوجتے تھے، تو وہ ان پر بات پھینکیں گے کہ تم بیشک جھوٹے ہو، (ف۱۹۶)
87اور اس دن (ف۱۹۷) اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے (ف۱۹۸) اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے، ف۱۹۹)
88جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا (ف۲۰۰) بدلہ ان کے فساد کا،
89اور جس دن ہم ہر گروہ میں ایک گواہ انہیں میں سے اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے (ف۲۰۱) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر (ف۲۰۲) شاہد بناکر لائیں گے، اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے (ف۲۰۳) اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو،
90بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی (ف۲۰۴) اور رشتہ داروں کے دینے کا (ف۲۰۵) اور منع فرماتا بے حیائی (ف۲۰۶) اور برُی بات (ف۲۰۷) اور سرکشی سے (ف۲۰۸) تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو،
91اور اللہ کا عہد پورا کرو (ف۲۰۹) جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو (ف۲۱۰) اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، بیشک تمہارے کام جانتا ہے،
92اور (ف۲۱۱) اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا (ف۲۱۲) اپنی قسمیں آپس میں ایک بے اصل بہانہ بناتے ہو کہ کہیں ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ نہ ہو (ف۲۱۳) اللہ تو اس سے تمہیں آزماتا ہے (ف۲۱۴) اور ضرور تم پر صاف ظاہر کردے گا قیامت کے دن (ف۲۱۹) جس بات میں جھگڑتے تھے، (ف۲۱۶)
93اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا (ف۲۱۷) لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے (ف۲۱۸) جسے چاہے، اور راہ دیتا ہے (ف۲۱۹) جسے چاہے، اور ضرور تم سے (ف۲۲۰) تمہارے کام پوچھے جائیں گے، (ف۲۲۱)
94اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں (ف۲۲۲) جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو (ف۲۲۳) بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو (ف۲۲۴)
95اور اللہ کے عہد پر تھوڑے دام مول نہ لو (ف۲۲۵) بیشک وہ (ف۲۲۶) جو اللہ کے پاس ہے تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو،
96جو تمہارے پاس ہے (ف۲۲۷) ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے (ف۲۲۸) ہمیشہ رہنے والا، اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو، (ف۲۲۹)
97جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان (ف۲۳۰) تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے (ف۲۳۱) اور ضرور انہیں ان کا نیگ (اجر) دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہوں،
98تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے، (ف۲۳۲)،
99بیشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۲۳۳)
100اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں،
101اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں (ف۲۳۴) اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے (ف۲۳۵) کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو (ف۲۳۶) بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں، (ف۲۳۷)
102تم فرماؤ اسے پاکیزگی کی روح (ف۲۳۸) نے اتارا تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک ٹھیک کہ اس سے ایمان والوں کو ثابت قدم کرے اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کو،
103اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں، یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے، جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان (ف۲۳۹)
104بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ انھیں راہ نهیں دیتا اور ان کے لے درد ناک عذاب ہے، (ف۲۴۸)
105جھوٹ بہتان دہی باندھتے ہین جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور دہی جھوٹے ہیں،
106جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو سوا اس کے مجبور کیا جا ےٴ اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو، ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑاعذاب ہے،
107یہ اس لےٴ کہ انھوں نے دنیا کی زندگی آخرت سے پیاری جانی، اور اس لےٴ کہ اللہ (ایسے) کافروں کو راہ نہیں دیتا،
108یہ ہیں وه جن کے دل اور کان اور آنکھو ں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وہی غفلت مین پڑے ہیں،
109آپ ہی ہوا کہ آخرت میں وہی خراب (ف۲۴۹)
110پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے (ف۲۵۰) بعد اس کے کہ ستائے گئے (ف۲۵۱) پھر انہوں نے (ف۲۵۲) جہاد کیا اور صابر رہے بیشک تمہارا رب اس (ف۲۵۳) کے بعد ضرور بخشنے والا ہے مہربان،
111جس دن ہر جان اپنی ہی طرف جھگڑتی آئے گی (ف۲۵۴) اور ہر جان کو اس کا کیا پورا بھردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف۲۵۵)
112اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی (ف۲۵۶) ایک بستی (ف۲۵۷) کہ امان و اطمینان سے تھی (ف۲۵۸) ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی (ف۲۵۹) تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا (ف۲۶۰) بدلہ ان کے کیے کا،
113اور بیشک ن کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا (ف۲۶۱) تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑا (ف۲۶۲) اور وہ بے انصاف تھے،
114تو اللہ کی دی ہوئی روزی (ف۲۶۳) حلال پاکیزہ کھاؤ (ف۲۶۴) اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو،
115تم پر تو یہی حرام کیا ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا (ف۲۶۵) پھر جو لاچار ہو (ف۲۶۶) نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا (ف۲۶۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
116اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو (ف۲۶۸) بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،
117تھوڑا برتنا ہے (ف۲۶۹) اور ان کے لیے دردناک عذاب (ف۲۷۰)
118اور خاص یہودیوں پر ہم نے حرام فرمائیں وہ چیزیں جو پہلے تمہیں ہم نے سنائیں (ف۲۷۱) اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے، (ف۲۷۲)
119پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جو نادانی سے (ف۲۷۳) برائی کر بیٹھیں پھر اس کے بعد توبہ کریں اور سنور جائیں بیشک تمہارا رب اس کے بعد (ف۲۷۴) ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
120بیشک ابراہیم ایک امام تھا (ف۳۷۵) اللہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا (ف۲۷۶) اور مشرک نہ تھا، (ف۲۷۷)
121اس کے احسانوں پر شکر کرنے والا، اللہ نے اسے چن لیا (ف۲۷۸) اور اسے سیدھی راہ دکھائی،
122اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی (ف۲۷۹) اور بیشک وہ آخرت میں شایان قرب ہے،
123پھر ہم نے تمہیں وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی کرو جو ہر باطل سے الگ تھا اور مشرک نہ تھا، (ف۲۸۰)
124ہفتہ تو انہیں پر رکھا گیا تھا جو اس میں مختلف ہوگئے (ف۲۸۱) اور بیشک تمہارا رب قیا مت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے تھے، (ف۲۸۲)
125اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ (ف۲۸۳) پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے (ف۲۸۴) اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو (ف۲۸۵) بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو،
126اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہونچائی تھی (ف۲۸۶) اور اگر تم صبر کرو (ف۲۸۷) تو بیشک صبر والوں کو صبر سب سے اچھا،
127اور اے محبوب! تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ (ف۲۸۸) اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو، ف۲۸۹)
128بیشک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں،
Chapter 17 (Sura 17)
1پاکی ہے اسے (ف۲) جو اپنے بندے (ف۳) کو، راتوں رات لے گیا (ف۴) مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک (ف۵) جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی (ف۶) کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے،
2اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف۷) عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا کہ میرے سوا کسی کو کارسام نہ ٹھہراؤ،
3اے ان کی اولاد! جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (ف۸) سوار کیا بیشک وہ بڑا شکرا گزار بندہ تھا (ف۹)
4اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ف۱۰) میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دوبارہ فساد مچاؤ گے (ف۱۱) اور ضرور بڑا غرور کرو گے (ف۱۲)
5پھر جب ان میں پہلی بار (ف۱۳) کا وعدہ آیا (ف۱۴) ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے سخت لڑائی والے (ف۱۵) تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کو گھسے (ف۱۶) اور یہ ایک وعدہ تھا (ف۱۷) جسے پورا ہونا تھا،
6پھر ہم نے ان پر اُلٹ کر تمہارا حملہ کردیا (ف۱۸) اور تم کو مالوں اور بیٹوں سے مدد دی اور تمہارا جتھا بڑھا دیا،
7اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے (ف۱۹) اور اگر بُرا کرو گے تو اپنا، پھر جب دوسری بار کا وعدہ آیا (ف۲۰) کہ دشمن تمہارا منہ بگاڑ دیں (ف۲۱) اور مسجد میں داخل ہوں (ف۲۲) جیسے پہلی بار داخل ہوئے تھے (ف۲۳) اور جس چیز پر قابو پائیں (ف۲۴) تباہ کرکے برباد کردیں،
8قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے (ف۲۵) اور اگر تم پھر شرارت کرو (ف۲۶) تو ہم پھر عذاب کریں گے (ف۲۷) اور ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنایا ہے،
9بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے (ف۲۸) اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں کہ ان کے لیے بڑا ثواب ہے
10اور یہ کہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
11اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے (ف۲۹) جیسے بھلائی مانگتا ہے (ف۳۰) اور آدمی بڑا جلد باز ہے (ف۳۱)
12اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا (ف۳۲) تو رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی (ف۳۳) اور دن کی نشانیاں دکھانے والی (ف۳۴) کہ اپنے کا فضل تلاش کرو (ف۳۵) اور (ف۳۶) برسوں کی گنتی اور حساب جانو (ف۳۷) اور ہم نے ہر چیز خوب جدا جدا ظاہر فرمادی (ف۳۸)
13اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے سے لگادی (ف۳۹) اور اس کے لیے قیامت کے دن ایک نوشتہ نکالیں گے جسے کھلا ہوا پائے گا (ف۴۰)
14فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ (نامہٴ اعمال) پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے،
15جو راہ پر آیا وہ اپنے ہی بھلے کو راہ پر آیا (ف۴۱) اور جو بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا (ف۴۲) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۴۳) اور ہم عذاب کرنے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج لیں (ف۴۴)
16اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اس کے خوشحالوں (ف۴۵) پر احکام بھیجتے ہیں پھر وہ اس میں بے حکمی کرتے ہیں تو اس پر بات پوری ہوجاتی ہے تو ہم اسے تباہ کرکے برباد کردیتے ہیں،
17اور ہم نے کتنی ہی سنگتیں (قومیں) (ف۴۶) نوح کے بعد ہلاک کردیں (ف۴۷) اور تمہارا رب کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار دیکھنے والا (ف۴۸)
18جو یہ جلدی والی چاہے (ف۴۹) ہم اسے اس میں جلد دے دیں جو چاہیں جسے چاہیں (ف۵۰) پھر اس کے لیے جہنم کردیں کہ اس میں جائے مذمت کیا ہوا دھکے کھاتا،
19اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے (ف۵۱) اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی، (ف۵۲)
20ہم سب کو مدد دیتے ہیں اُن کو بھی (ف۵۳) اور اُن کو بھی، تمہارے رب کی عطا سے (ف۵۵) اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں، (ف۵۶)
21دیکھو ہم نے ان میں ایک کو ایک پر کیسی بڑائی دی (ف۵۷) اور بیشک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اور فضل میں سب سے اعلیٰ ہے،
22اے سننے والے اللہ کے ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تُو بیٹھ رہے گا مذمت کیا جاتا بیکس (ف۵۸)
23اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں (ف۵۹) تو ان سے ہُوں، نہ کہنا (ف۶۰) اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا (ف۶۱)
24اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا (ف۶۲) نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن (بچپن) میں پالا (ف۶۳)
25تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے (ف۶۴) اگر تم لائق ہوئے (ف۶۵) تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے،
26اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے (ف۶۶) اور مسکین اور مسافر کو (ف۶۷) اور فضول نہ اڑا (ف۶۸)
27بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں (ف۶۹) اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے (ف۷۰)
28اور اگر تو ان سے (ف۷۱) منہ پھیرے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہے تو ان سے آسان بات کہہ (ف۷۲)
29اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا (ف۷۳)
30بیشک تمہارا رب جسے چاہے رزق کشادہ دیتا اور (ف۷۴) کستا ہے (تنگی دیتا ہے) بیشک وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا (ف۷۵) دیکھتا ہے،
31اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے (ف۷۶) ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، بیشک ان کا قتل بڑی خطا ہے،
32اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے، اور بہت ہی بری راہ،
33اور کوئی جان جس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے ناحق نہ مارو، اور جو ناحق نہ مارا جائے تو بیشک ہم نے اس کے وارث کو قابو دیا (ف۷۷) تو وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے (ف۷۸) ضرور اس کی مدد ہونی ہے (ف۷۹)
34اور یتیم کے مال کے پاس تو جاؤ مگر اس راہ سے جو سب سے بھلی ہے (ف۸۰) یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے (ف۸۱) اور عہد پورا کرو (ف۸۲) بیشک عہد سے سوال ہونا ہے،
35اور ماپو تو پورا ماپو اور برابر ترازو سے تولو، یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا،
36اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں (ف۷۳) بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے (ف۸۴)
37اور زمین میں اتراتا نہ چل (ف۸۵) بیشک ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا، اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا (ف۸۶)
38یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے،
39یہ ان وحیوں میں سے ہے جو تمہارے رب نے تمہاری طرف بھیجی حکمت کی باتیں (ف۸۷) اور اے سننے والے اللہ ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تو جہنم میں پھینکا جائے گا طعنہ پاتا دھکے کھاتا،
40کیا تمہارے رب نے تم کو بیٹے چن دیے اور اپنے لیے فرشتوں سے بیٹیاں بنائیں (ف۸۸) بیشک تم بڑا بول بولتے ہو (ف۸۹)
41اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا (ف۹۰) کہ وہ سمجھیں (ف۹۱) اور اس سے انھیں نہیں بڑھتی مگر نفرت (ف۹۲)
42تم فرماؤ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے جیسا یہ بکتے ہیں جب تو وہ عرش کے مالک کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے (ف۹۳)
43اسے پاکی اور برتری ان کی باتوں سے بڑی برتری،
44اس کی پاکی بولتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں (ف۹۴) اور کوئی چیز نہیں (ف۹۵) جو اسے سراہتی ہوتی اس کی پاکی نہ بولے (ف۹۶) ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے (ف۹۷) بیشک وہ حلم والا بخشنے والا ہے (ف۹۸)
45اور اے محبوب! تم نے قرآن پڑھا ہم نے تم پر اور ان میں کہ آخرت پر ایمان ہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ کردیا (ف۹۹)
46اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) (ف۱۰۰) اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے،
47ہم خوب جانتے ہیں جس لیے وہ سنتے ہیں (ف۱۰۱) جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور جب آپس میں مشورہ کرتے ہیں جبکہ ظالم کہتے ہیں تم پیچھے نہیں چلے مگر ایک ایسے مرد کے جس پر جادو ہوا (ف۱۰۲)
48دیکھو انہوں نے تمہیں کیسی تشبیہیں دیں تو گمراہ ہوئے کہ راہ نہیں پاسکتے،
49اور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے کیا سچ مچ نئے بن کر اٹھیں گے (ف۱۰۳)
50تم فرماؤ کہ پتھر یا لوہا ہوجاؤ،
51یا اور کوئی مخلوق جو تمہارے خیال میں بڑی ہو (۱۰۴) تو اب کہیں گے ہمیں کون پھر پیدا کرتے گا، تم فرماؤ وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا، تو اب تمہاری طرف مسخرگی سے سر ہِلا کر کہیں گے یہ کب ہے (ف۱۰۵) تم فرماؤ شاید نزدیک ہی ہو،
52جس دن وہ تمہیں بُلائے گا (ف۱۰۶) تو تم اس کی حمد کرتے چلے آؤ گے اور (ف۱۰۷) سمجھو گے کہ نہ رہے (۱۰۸) تھے مگر تھوڑا،
53اور میرے (ف۱۰۹) بندوں سے فرماؤ (ف۱۱۰) وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو (ف۱۱۱) بیشک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈالتا ہے، بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے،
54تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے (ف۱۱۲) چاہے تو تمہیں عذاب کرے، اور ہم نے تم کو ان پر کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) بناکر نہ بھیجا (ف۱۱۳)
55اور تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱۱۴) اور بیشک ہم نے نبیوں میں ایک کو ایک پر بڑائی دی (ف۱۱۵) اور داؤد کو زبور عطا فرمائی (ف۱۱۶)
56تم فرماؤ پکارو انہیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دو کرنے اور نہ پھیر دینے کا (ف۱۱۷)
57وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں (ف۱۱۸) وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے (ف۱۱۹) اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں (ف۱۲۰) بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈر کی چیز ہے،
58اور کوئی بستی نہیں مگر یہ کہ ہم اسے روزِ قیامت سے پہلے نیست کردیں گے یا اسے سخت عذاب دیں گے (ف۱۲۱) یہ کتاب میں (ف۱۲۲) لکھا ہوا ہے،
59اور ہم ایسی نشانیاں بھیجنے سے یوں ہی باز رہے کہ انہیں اگلوں نے جھٹلایا (ف۱۲۳) اور ہم نے ثمود کو (ف۱۲۴) ناقہ دیا آنکھیں کھولنے کو (ف۱۲۵) تو انہوں نے اس پر ظلم کیا (ف۱۲۶) اور ہم ایسی نشانیاں نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کو (ف۱۲۷)
60اور جب ہم نے تم سے فرمایا کہ سب لوگ تمہارے رب کے قابو میں ہیں (ف۱۲۸) اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا (ف۱۲۹) جو تمہیں دکھایا تھا (ف۱۳۰) مگر لوگوں کی آزمائش کو (ف۱۳۱) اور وہ پیڑ جس پر قرآن میں لعنت ہے (ف۱۳۲) اور ہم انہیں ڈراتے ہیں (ف۱۳۳) تو انھیں نہیں بڑھتی مگر بڑی سرکشی،
61اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو (ف۱۳۴) تو ان سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے، بولا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا
62بولا (ف۱۳۵) دیکھ تو جو یہ تو نے مجھ سے معزز رکھا (ف۱۳۶) اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو ضرور میں اس کی اولاد کو پیس ڈالوں گا (ف۱۳۷) مگر تھوڑا (ف۱۳۸)
63فرمایا، دور ہو (ف۱۳۹) تو ان میں جو تیری پیروی کرے گا تو بیشک سب کا بدلہ جہنم ہے بھرپور سزا،
64اور ڈگا دے (بہکادے) ان میں سے جس پر قدرت پائے اپنی آواز سے (ف۱۴۰) اور ان پر لام باندھ (فوج چڑھا) لا اپنے سواروں اور اپنے پیادوں کا (ف۱۴۱) اور ان کا ساجھی ہو مالوں اور بچو ں میں (ف۱۴۲) اور انہیں وعدہ دے (ف۱۴۳) اور شیطان انہیں وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے،
65بیشک جو میرے بندے ہیں (ف۱۴۴) ان پر تیرا کچھ قابو نہیں، اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے کو (ف۱۴۵)
66تمہارا رب وہ ہے کہ تمہارے لیے دریا میں کشتی رواں کرتا ہے کہ (ف۱۴۶) تم اس کا فضل تلاش کرو، بیشک وہ تم پر مہربان ہے،
67اور جب تمہیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے (ف۱۴۷) تو اس کے سوا جنہیں پوجتے ہیں سب گم ہوجاتے ہیں (ف۱۴۸) پھر جب تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں (ف۱۴۹) اور انسان بڑا ناشکرا ہے،
68کیا تم (ف۱۵۰) اس سے نڈر ہوئے کہ وہ خشکی ہی کا کوئی کنارہ تمہارے ساتھ دھنسادے (ف۱۵۱) یا تم پر پتھراؤ بھیجے (ف۱۵۲) پھر اپنا کوئی حمایتی نہ پاؤ (ف۱۵۳)
69یا اس سے نڈر ہوئے کہ تمہیں دوبارہ دریا میں لے جائے پھر تم پر جہاز توڑنے والی آندھی بھیجے تو تم کو تمہارے کفر کے سبب ڈبو دے پھر اپنے لیے کوئی ایسا نہ پاؤ کہ اس پر ہمارا پیچھا کرے (ف۱۵۴)
70اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی (ف۱۵۵) اور ان کی خشکی اور تری میں (ف۱۵۶) سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں (ف۱۵۷) اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا (ف۱۵۸)
71جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے (ف۱۵۹) تو جو اپنا نامہ داہنے ہاتھ میں دیا گیا یہ لوگ اپنا نامہ پڑھیں گے (ف۱۶۰) اور تاگے بھر ان کا حق نہ دبایا جائے گا (ف۱۶۱)
72اور جو اس زندگی میں (ف۱۶۲) اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے (ف۱۶۳) اور اوربھی زیادہ گمراہ،
73اور وہ تو قریب تھا کہ تمہیں کچھ لغزش دیتے ہماری وحی سے جو ہم نے تم کو بھیجی کہ تم ہماری طرف کچھ اور نسبت کردو، اور ایسا ہوتا تو وہ تم کو اپنا گہرا دو ست بنالیتے (ف۱۶۴)
74اور اگر ہم تمہیں (ف۱۶۵) ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ تھوڑا سا جھکتے
75اور ایسا ہوتا تو ہم تم کو دُونی عمر اور دو چند موت (ف۱۶۶) کا مزہ دیتے پھر تم ہمارے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پاتے،
76اور بیشک قریب تھا کہ وہ تمہیں اس زمین سے (ف۱۶۷) ڈگا دیں (کھسکادیں) کہ تمہیں اس سے باہر کردیں اور ایسا ہوتا تو وہ تمہارے پیچھے نہ ٹھہرتے مگر تھوڑا (ف۱۶۸)
77دستور ان کا جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے (ف۱۶۹) اور تم ہمارا قانون بدلتا نہ پاؤ گے،
78نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک (ف۱۷۰) اور صبح کا قرآن (ف۱۷۱) بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں (ف۱۷۲)
79اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے (ف۱۷۳) قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں (ف۱۷۴)
80اور یوں عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا (ف۱۷۵) اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ دے (ف۱۷۶)
81اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا (ف۱۷۷) بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا (ف۱۷۸)
82اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز (۱۷۹) جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے (ف۱۸۰) اور اس سے ظالموں کو (ف۱۸۱) نقصان ہی بڑھتا ہے،
83اور جب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں (ف۱۸۲) منہ پھیرلیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے (ف۱۸۳) اور جب اسے برائی پہنچے (ف۱۸۴) تو ناامید ہوجاتا ہے (ف۱۸۵)
84تم فرماؤ سب اپنے کینڈے (انداز) پر کام کرتے ہیں (ف۱۸۶) تو تمہارا رب خوب جانتا ہے کون زیادہ راہ پر ہے،
85اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں ہیں، تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا (ف۱۸۷)
86اور اگر ہم چاہتے تو یہ وحی جو ہم نے تمہاری طرف کی اسے لے جاتے (ف۱۸۸) پھر تم کوئی نہ پاتے کہ تمہارے لیے ہمارے حضور اس پر وکالت کرتا
87مگر تمہارے رب کی رحمت (ف۱۸۹) بیشک تم پر اس کا بڑا فضل ہے (ف۱۹۰)
88تم فرماؤ اگر آدمی اور جن سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ (ف۱۹۱) اس قرآن کی مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لاسکیں گے اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو (ف۱۹۲)
89اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہم قسم کی مثل طرح طرح بیان فرمائی تو اکثر آدمیوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا (ف۱۹۳)
90اور بولے کہ ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ بہا دو (ف۱۹۴)
91یا تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو پھر تم اس کے لیے اندر بہتی نہریں رواں کرو
92یا تم ہم پر آسمان گرا دو جیسا تم نے کہا ہے ٹکڑے ٹکڑے یااللہ اور فرشتوں کو ضامن لے آؤ (ف۱۹۵)
93یا تمہارے لیے طلائی گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھ جانے پر بھی ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم پر ایک کتاب نہ اتارو جو ہم پڑھیں، تم فرماؤ پاکی ہے میرے رب کو میں کون ہوں مگر آدمی اللہ کا بھیجا ہوا (ف۱۹۶)
94اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی اللہ کا بھیجا ہوا (ف۱۹۶) اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا (ف۱۹۷)
95تم فرماؤ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (ف۱۹۸) چین سے چلتے تو ان پر ہم رسول بھی فرشتہ اتارتے (ف۱۹۹)
96تم فرماؤ اللہ بس ہے گواہ میرے تمہارے درمیان (۲۰۰) بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا دیکھتا ہے،
97اور جسے اللہ راہ دے وہی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے (ف۲۰۱) تو ان کے لیے اس کے سوا کوئی حمایت والے نہ پاؤ گے (ف۲۰۲) اور ہم انہیں قیامت کے دن ان کے منہ کے بل (ف۲۰۳) اٹھائیں گے اندھے اور گونگے اور بہرے (ف۲۰۴) ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکادیں گے،
98یہ ان کی سزا ہے اس پر کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا اور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا سچ مچ ہم نئے بن کر اٹھائے جائیں گے،
99اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے (ف۲۰۵) ان لوگوں کی مثل بناسکتا ہے (ف۲۰۶) اور اس نے ان کے لیے (ف۲۰۷) ایک میعاد ٹھہرا رکھی ہے جس میں کچھ شبہ نہیں تو ظالم نہیں مانتے بے ناشکری کیے (ف۲۰۸)
100تم فرماؤ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے (ف۲۰۹) تو انہیں بھی روک رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں، اور آدمی بڑا کنجوس ہے،
101اور بیشک ہم نے موسیٰ کو نو روشن نشانیاں دیں (ف۲۱۰) تو بنی اسرائیل سے پوچھو جب وہ (ف۲۱۱) ان کے پاس آیا تو اس سے فرعون نے کہا، اے موسیٰ! میرے خیال میں تو تم پر جادو ہوا (ف۲۱۲)
102کہا یقیناً تو خوب جانتا ہے (ف۲۱۳) کہ انہیں نہ اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے مالک نے دل کی آنکھیں کھولنے والیاں (ف۲۱۴) اور میرے گمان میں تو اے فرعون! تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے (ف۲۱۵)
103تو اس نے چاہا کہ ان کو (ف۲۱۶) زمین سے نکال دے تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو سب کو ڈبو دیا (ف۲۱۷)
104اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا اس زمین میں بسو (ف۲۱۸) پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا (ف۲۱۹) ہم تم سب کو گھال میل (لپیٹ کر) لے آئیں گے (ف۲۲۰)
105اور ہم نے قرآن کو حق ہی کے ساتھ اتارا اور حق وہی کے لیے اترا (ف۲۲۱) اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا،
106اور قرآن ہم نے جدا جدا کرکے (ف۲۲۲) اتارا کہ تم اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو (ف۲۲۳) اور ہم نے اسے بتدریج رہ رہ کر اتارا (ف۲۲۴)
107تم فرماؤ کہ تم لوگ اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (ف۲۲۵) بیشک وہ جنہیں اس کے اترنے سے پہلے علم ملا (ف۲۲۶) اب ان پر پڑھا جاتا ہے، ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں،
108اور کہتے ہیں پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہمارے اب کا وعدہ پورا ہوتا تھا (ف۲۲۷)
109اور تھوڑی کے بل گرتے ہیں (ف۲۲۸) روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے، (ف۲۲۹) (السجدة) ۴
110تم فرماؤ اللہ کہہ کر پکارو رحمان کہہ کر، جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں (ف۲۳۰) اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ اور ان دنوں کے بیچ میں راستہ چاہو (ف۲۳۱)
111اور یوں کہو سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنے لیے بچہ اختیار نہ فرمایا (ف۲۳۲) اور بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں (ف۲۳۳) اور کمزوری سے کوئی اس کا حمایتی نہیں (ف۲۳۴) اور اس کی بڑائی بولنے کو تکبیر کہو (ف۲۳۵)
Chapter 18 (Sura 18)
1سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنے بندے (ف۲) پر کتاب اتاری (ف۳) اور اس میں اصلاً (بالکل، ذرا بھی) کجی نہ رکھی، (ف۴)
2عدل والی کتاب کہ (ف۵) اللہ کے سخت عذاب سے ڈرائے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کریں بشارت دے کہ ان کے لیے اچھا ثواب ہے،
3جس میں ہمیشہ رہیں گے،
4اور ان (ف۶) کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنا کوئی بچہ بنایا،
5اس بارے میں نہ وہ کچھ علم رکھتے ہیں نہ ان کے باپ دادا (ف۷) کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے، نِرا جھوٹ کہہ رہے ہیں،
6تو کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے پیچھے اگر وہ اس بات پر (ف۸) ایمان نہ لائیں غم سے (ف۹)
7بیشک ہم نے زمین کا سنگھار کیا جو کچھ اس پر ہے (ف۱۰) کہ انہیں آزمائیں ان میں کس کے کام بہتر ہیں (ف۱۱)
8اور بیشک جو کچھ اس پر ہے ایک دن ہم اسے پٹ پر میدان (سفید زمین) کو چھوڑیں گے (ف۱۲)
9کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے (ف۱۳) ہماری ایک عجیب نشانی تھے،
10جب ان نوجوانوں نے (ف۱۴) غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے (ف۱۵) اور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہ یابی کے سامان کر،
11تو ہم نے اس غار میں ان کے کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا (ف۱۶)
12پھر ہم نے انھیں جگایا کہ دیکھیں (ف۱۷) دو گروہوں میں کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے،
13ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں، وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی،
14اور ہم نے ان کی ڈھارس بندھائی جب (ف۱۸) کھڑے ہوکر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی،
15یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا خدا بنا رکھے ہیں، کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند، تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۹)
16اور جب تم ان سے اور جو کچھ وہ اللہ سوا پوجتے ہیں سب سے الگ ہوجاؤ تو غار میں پناہ لو تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلادے گا اور تمہارے کام میں آسانی کے سامان بنادے گا،
17اور اے محبوب! تم سورج کو دیکھو گے کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غار سے داہنی طرف بچ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے (ف۲۰) حالانکہ وہ اس غار کے کھلے میدان میں میں ہیں (ف۲۱) یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ راہ دے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پاؤ گے،
18اور تم انھیں جاگتا سمجھو (ف۲۲) اور وہ سوتے ہیں اور ہم ان کی داہنی بائیں کروٹیں بدلتے ہیں (ف۲۳) اور ان کا کتا اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے غار کی چوکھٹ پر (ف۲۴) اے سننے! والے اگر تو انہیں جھانک کر دیکھے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور ان سے ہیبت میں بھر جائے (ف۲۵)
19اور یوں ہی ہم نے ان کو جگایا (ف۲۶) کہ آپس میں ایک دوسرے سے احوال پوچھیں (ف۲۷) ان میں ایک کہنے والا بولا (ف۲۸) تم یہاں کتنی دیر رہے، کچھ بولے کہ ایک دن رہے یا دن سے کم (ف۲۹) دوسرے بولے تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے (ف۳۰) تو اپنے میں ایک کو یہ چاندی لے کر (ف۳۱) شہر میں بھیجو پھر وہ غور کرے کہ وہاں کون سا کھانا زیادہ ستھرا ہے (ف۳۲) کہ تمہارے لیے اس میں سے کھانے کو لائے اور چاہیے کہ نرمی کرے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے،
20بیشک اگر وہ تمہیں جان لیں گے تو تمہیں پتھراؤ کریں گے (ف۳۳) یا اپنے دین (ف۳۴) میں پھیر لیں گے اور ایسا ہوا تو تمہارا کبھی بھلا نہ ہوگا،
21اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی (ف۳۵) کہ لوگ جان لیں (ف۳۶) کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں، جب وہ لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے (ف۳۷) تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ، ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے، وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے (ف۳۸) قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے (ف۳۹)
22اب کہیں گے (ف۴۰) کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور کچھ کہیں گے پانچ ہیں، چھٹا ان کا کتا بے دیکھے الاؤتکا (تیر تکا) بات (ف۴۱) اور کچھ کہیں گے سات ہیں (ف۴۲) اور آٹھواں ان کا کتا تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتا ہے (ف۴۳) انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے (ف۴۴) تو ان کے بارے میں (ف۴۵) بحث نہ کرو مگر اتنی ہی بحث جو ظاہر ہوچکی (ف۴۶)
23اور ان کے (ف ۴۷) بارے میں کسی کتابی سے کچھ نہ پوچھو، اور ہر گز کسی بات کو نہ کہنا میں کل یہ کردوں گا،
24مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۴۸) اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے (ف۴۹) اور یوں کہو کہ قریب ہے میرا رب مجھے اس (ف۵۰) سے نزدیک تو راستی کی راہ دکھائے، (ف۵۱)
25اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے نو اوپر، ف۵۲)
26تم فرماؤ اللہ خوب جانتا ہے وہ جتنا ٹھہرے (ف۵۳) اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمینوں کے سب غیب، وہ کیا ہی دیکھتا اور کیا ہی سنتا ہے (ف۵۴) اس کے سوا ان کا (ف۵۵) کوئی والی نہیں، اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا،
27اور تلاوت کرو جو تمہارے رب کی کتاب (ف۵۶) تمہیں وحی ہوئی اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں (ف۵۷) اور ہرگز تم اس کے سوا پناہ نہ پاؤ گے،
28اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں (ف۵۸) اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگانی کا سنگھار چاہو گے، اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا،
29اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے (ف۵۹) تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے (ف۶۰) بیشک ہم نے ظالموں (ف۶۱) کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر (ف۶۲) پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے (ف۶۳) اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ،
30بیشک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں، (ف۶۴)
31ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں وہ اس میں سونے کے کنگن بہنائے جایں گے (ف۶۵) اور سبز کپڑے کریب اور قناویز کے پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیہ لگائے (ف۶۶) کیا ہی اچھا ثواب اور جنت کی کیا ہی اچھی آرام کی جگہ،
32اور ان کے سامنے دو مردوں کا حال بیان کرو (ف۶۷) کہ ان میں ایک کو (ف۶۸) ہم نے انگوروں کے دو باغ دیے اور ان کو کھجوروں سے ڈھانپ لیا اور ان کے بیچ میں کھیتی رکھی (ف۶۹)
33دونوں باغ اپنے پھل لائے اور اس میں کچھ کمی نہ دی (ف۷۰) اور دونوں کے بیچ میں ہم نے نہر بہائی
34اور وہ (ف۷۱) پھل رکھتا تھا (ف۷۲) تو اپنے ساتھی (ف۷۳) سے بولا اور وہ اس سے رد و بدل کرتا تھا (ف۷۴) میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور آدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں (ف۷۵)
35اپنے باغ میں گیا (ف۷۶) اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا (ف۷۷) بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو،
36اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو اور اگر میں (ف۷۸) اپنے رب کی طرف پھر گیا بھی تو ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گا (ف۷۹)
37اس کے ساتھی (ف۸۰) نے اس سے اُلٹ پھیر کرتے ہوئے جواب دیا کیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تجھے ٹھیک مرد کیا (ف۸۱)
38لیکن میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے او ر میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کرتا ہوں،
39اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ، ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ کی مدد کا (ف۸۲) اگر تو مجھے اپنے سے مال و اولاد میں کم دیکھتا تھا (ف۸۳)
40تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے اچھا دے (ف۸۴) اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں اتارے تو وہ پٹ پر میدان (سفید زمین) ہوکر رہ جائے (ف۸۵)
41یا اس کا پانی زمین میں دھنس جائے (ف۸۶) پھر تو اسے ہرگز تلاش نہ کرسکے (ف۸۷)
42اور اس کے پھل گھیر لیے گئے (ف۸۸) تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا (ف۸۹) اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹیٹوں پر (اوندھے منہ) گرا ہوا تھا (ف۹۰) اور کہہ رہا ہے، اے کاش! میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا،
43اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا (ف۹۱)
44یہاں کھلتا ہے (ف۹۲) کہ اختیار سچے اللہ کا ہے، اس کا ثواب سب سے بہتر اور اسے ماننے کا انجام سب سے بھلا،
45اور ان کے سامنے (ف۹۳) زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو (ف۹۴) جیسے ایک پانی ہم نے آسمان اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا (ف۹۵) کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں (ف۹۶) اور اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے (ف۹۷)
46مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگھار ہے (ف۹۸) اور باقی رہنے والی اچھی باتیں (ف۹۹) ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی،
47اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے (ف۱۰۰) اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے (ف۱۰۱) اور ہم انہیں اٹھائیں گے (ف۱۰۲) تو ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے،
48اور سب تمہارے رب کے حضور پرا باندھے پیش ہوں گے (ف۱۰۳) بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آئےجیسا ہم نے تمہیں پہلی بار بنایا تھا (ف۱۰۴) بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہر گز تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے، (ف۱۰۵)
49اور نامہٴ اعمال رکھا جائے گا (ف۱۰۶) تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور (ف۱۰۷) کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا، اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۸)
50اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو (ف۱۰۹) تو سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے، قومِ جن سے تھا تو اپنے رب کے حکم سے نکل گیا (ف۱۱۰) بھلا کیا اسے اور اس کی اولاد و میرے سوا دوست بناتے ہو (ف۱۱۱) اور وہ ہمارے دشمن ہیں ظالموں کو کیا ہی برا بدل (بدلہ) ملا، (ف۱۱۲)
51نہ میں نے آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت انہیں سامنے بٹھالیا تھا، نہ خود ان کے بناتے وقت اور نہ میری شان، کہ گمراہ کرنے والوں کو بازوں بناؤں (ف۱۱۳)
52اور جس دن فرمائے گا (ف۱۱۴) کہ پکارو میرے شریکوں کو جو تم گمان کرتے تھے تو انہیں پکاریں گے وہ انہیں جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے (ف۱۱۵) درمیان ایک ہلاکت کا میدان کردیں گے(ف۱۱۶)
53اور مجرم دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کریں گا کہ انہیں اس میں گرنا ہے اور اس سے پھرنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے،
54اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثل طرح طرح بیان فرمائی (ف۱۱۷) اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے (ف۱۱۸)
55اور آدمیوں کو کسی چیز نے اس سے روکا کہ ایمان لاتے جب ہدایت (ف۱۱۹) ان کے پاس آئی اور اپنے رب سے معافی مانگتے (ف۱۱۳) مگر یہ کہ ان پر اگلوں کا دستور آئے (ف۱۲۱) یا ان پر قسم قسم کا عذاب آئے،
56اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر (ف۱۲۲) خوشی (ف۱۲۳) ڈر سنانے والے اور جو کافر ہیں وہ باطل کے ساتھ جھگڑتے ہیں (ف۱۲۴) کہ اس سے حق کو ہٹادیں اور انہوں نے میری آیتوں کی اور جو ڈر انہیں سناتے گئے تھے، (ف۱۲۵)
57ان کی ہنسی بنالی اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو وہ ان سے منہ پھیرلے (ف۱۲۶) اور اس کے ہاتھ جو آگے بھیج چکے (ف۱۲۷) اسے بھول جائے ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ قرآن نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی (ف۱۲۸) اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہرگز کبھی راہ نہ پائیں گے (ف۱۲۹)
58اور تمہارا رب بخشنے والا مہر وا لا ہے، اگر وہ انہیں (ف۱۳۰) ان کے کیے پر پکڑتا تو جلد ان پر عذاب بھیجتا (ف۱۳۱) بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے (ف۱۳۲) جس کے سامنے کوئی پناہ نہ پائیں گے،
59اور یہ بستیاں ہم نے تباہ کردیں (ف۱۳۳) جب انہوں نے ظلم کیا (ف۱۳۴) اور ہم نے ان کی بربادی کا ایک وعدہ رکھا تھا،
60اور یاد کرو جب موسیٰ (ف۱۳۵) نے اپنے خادم سے کہا (ف۱۳۶) میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملے ہیں (ف۱۳۷) یا قرنوں (مدتوں تک) چلا جاؤں (ف۱۳۸)
61پھر جب وہ دونوں ان دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے (ف۱۳۹) اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے سمندر میں اپنی راہ لی سرنگ بناتی،
62پھر جبب وہاں سے گزر گئے (ف۱۴۰) موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا، (ف۱۴۱)
63بولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا، اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا مذکور کروں اور اس نے (ف۱۴۲) تو سمندر میں اپنی راہ لی، اچنبھا ہے،
64موسیٰ نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے (ف۱۴۳) تو پیچھے پلٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے،
65تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا (ف۱۴۴) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی (ف۱۴۵) اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا (ف۱۴۶)
66اس سے موسیٰ نے کہا کیا میں تمہارے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تم مجھے سکھادو گے نیک بات جو تمہیں تعلیم ہوئی (ف۱۴۷)
67کہا آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے (ف۱۴۸)
68اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں (ف۱۴۹)
69کہا عنقریب اللہ چاہے تو تم مجھے صابر پاؤ گے اور میں تمہارے کسی حکم کے خلاف نہ کروں گا،
70کہا تو اگر آپ میرے ساتھ رہنے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں (ف۱۵۰)
71اب دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے (ف۱۵۱) اس بندہ نے اسے چیر ڈالا (ف۱۵۲) موسیٰ نے کہا کیا تم نے اسے اس لیے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈبا دو بیشک یہ تم نے بری بات کی، (ف۱۵۳)
72کہا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے (ف۱۵۴)
73کہا مجھ سے میری بھول پر گرفت نہ کرو (ف۱۵۵) اور مجھ پر میرے کام میں مشکل نہ ڈالو،
74پھر دونوں چلے (ف۱۵۶) یہاں تک کہ جب ایک لڑکا ملا (ف۱۵۷) اس بندہ نے اسے قتل کردیا، موسیٰ نے کہا کیا تم نے ایک ستھری جان (ف۱۵۸) بے کسی جان کے بدلے قتل کردی، بیشک تم نے بہت بری بات کی،
75کہا (ف۱۵۹) میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہرسکیں گے (ف۱۶۰)
76کہا اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر میرے ساتھ نہ رہنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا،
77پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں کے پاس آئے (ف۱۶۱) ان دہقانوں سے کھانا مانگا انہوں نے انہیں دعوت دینی قبول نہ کی (ف۱۶۲) پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پا ئی کہ گرا چاہتی ہے اس بندہ نے (ف۱۶۳) اسے سیدھا کردیا، موسیٰ نے کہا تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے (ف۱۶۴)
78کہا یہ (ف۱۶۵) میری اور آپ کی جدائی ہے اب میں آپ کو ان باتوں کا پھیر (بھید) بتاؤں گا جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (ف۱۶۶)
79وہ جو کشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی (ف۱۶۷) کہ دریا میں کام کرتے تھے، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا (ف۱۶۸) کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا (ف۱۶۹)
80اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر پر چڑھاوے (ف۱۷۰)
81تو ہم نے چاہا کہ ان دونوں کا رب اس سے بہتر (ف۱۷۱) ستھرا اور اس سے زیادہ مہربانی میں قریب عطا کرے (ف۱۷۲)
82رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی (ف۱۷۳) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا (ف۱۷۴) اور ان کا باپ نیک آدمی تھا (ف۱۷۵) تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں (ف۱۷۶) اور اپنا خزانہ نکالیں، آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا (ف۱۷۷) یہ پھیر ہے ان باتوں کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (ف۱۷۸)
83اور تم سے (ف۱۷۹) ذوالقرنین کو پوچھتے ہیں (ف۱۸۰) تم فرماؤ میں تمہیں اس کا مذکور پڑھ کر سناتا ہوں،
84بیشک ہم نے اسے زمین میں قابو دیا اور ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا (ف۱۸۱)
85تو وہ ایک سامان کے پیچھے چلا (ف۱۸۲)
86یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا (ف۱۸۳) اور وہاں (ف۱۸۴) ایک قوم ملی (ف۱۸۵) ہم نے فرمایا اے ذوالقرنین یا تو تُو انہیں عذاب دے (ف۱۸۶) یا ان کے ساتھ بھلائی اختیار کرے (ف۱۸۷)
87عرض کی کہ وہ جس نے ظلم کیا (ف۱۸۸) اسے تو ہم عنقریب سزادیں گے (ف۱۸۹) پھر اپنے رب کی طرف پھیرا جائے گا (ف۱۹۰) وہ اسے بری مار دے گا،
88اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے (ف۱۹۱) اور عنقریب ہم اسے آسان کام کہیں گے (ف۱۹۲)
89پھر ایک سامان کے پیچھے چلا (ف۱۹۳)
90یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، اسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی (ف۱۹۴)
91بات یہی ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا (ف۱۹۵) سب کو ہمارا علم محیط ہے (ف۱۹۶)
92پھر ایک ساما ن کے پیچھے چلا (ف۱۹۷)
93یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے بیچ پہنچا ان سے ادھر کچھ ایسے لوگ پائے کہ کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے (ف۱۹۸)
94انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج ماجوج (ف۱۹۹) زمین میں فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں اس پر کہ آپ ہم میں اور ان میں ایک دیوار بنادیں (ف۲۰۰)
95کہا وہ جس پر مجھے میرے رب نے قابو دیا ہے بہتر ہے (ف۲۰۱) تو میری مدد طاقت سے کرو (ف۲۰۲) میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط آڑ بنادوں (ف۲۰۳)
96میرے پاس لوہے کے تختے لاؤ (ف۲۰۴) یہاں تک کہ وہ جب دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں سے برابر کردی، کہا دھونکو، یہاں تک کہ جب اُسے آگ کردیا کہا لاؤ، میں اس پر گلا ہوا تانبہ اُنڈیل دوں،
97تو یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے،
98کہا (ف۲۰۵) یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا (ف۲۰۶) اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے (ف۲۰۷)
99اور اس دن ہم انہیں چھوڑ دیں گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر ریلا (سیلاب کی طرح) آوے گا اور صُور پھونکا جائے گا (ف۲۰۸) تو ہم سب کو (ف۲۰۹) اکٹھا کر لائیں گے
100اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے (ف۲۱۰)
101وہ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا (ف۲۱۱) اور حق بات سن نہ سکتے تھے (ف۲۱۲)
102تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو (ف۲۱۳) میرے سوا حمایتی بنالیں گے (ف۲۱۴) بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے،
103تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں (ف۲۱۵)
104ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی (ف۲۱۶) اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کررہے ہیں،
105یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا (ف۲۱۷) تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے (ف۲۱۸)
106یہ ان کا بدلہ ہے جہنم، اس پر کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی،
107بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے (ف۲۱۹)
108وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے (ف۲۲۰)
109تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے، سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں (ف۲۲۱)
110تو فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں (ف۲۲۲) مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے (ف۲۲۳) تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے (ف۲۲۴)
Chapter 19 (Sura 19)
1کھیٰعص
2یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی،
3جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا (ف۲)
4عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی (ف۳) اور سرے سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا (شعلہ چمکا) (ف۴) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا (ف۵)
5اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے (ف۶) اور میری عورت بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے (ف۷)
6وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب کا وارث ہو، اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ کر (ف۸)
7اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا،
8عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا (ف۹)
9فرمایا ایسا ہی ہے (ف۱۰) تیرے رب نے فرمایا وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تک کچھ بھی نہ تھا (ف۱۱)
10عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے (ف۱۲) فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر (ف۱۳)
11تو اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا (ف۱۴) تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو،
12اے یحییٰ کتاب (ف۱۶) مضبوط تھام، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی (ف۱۷)
13اور اپنی طرف سے مہربانی (ف۱۸) اور ستھرائی (ف۱۹) اور کمال ڈر والا تھا (ف۲۰)
14اور اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا زبردست و نافرمان نہ تھا (ف۲۱)
15اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اورجس دن مردہ اٹھایا جائے گا (ف۲۲)
16اور کتاب میں مریم کو یاد کرو (ف۲۳) جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی (ف۲۴)
17تو ان سے ادھر (ف۲۵) ایک پردہ کرلیا، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا (ف۲۶) وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا،
18بولی میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے،
19بولا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں،
20بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں،
21کہا یونہی ہے (ف۲۷) تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ (ف۲۸) مجھے آسان ہے، اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی (ف۲۹) کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت (ف۳۰) اور یہ کام ٹھہرچکا ہے (ف۳۱)
22اب مریم نے اسے پیٹ میں لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی (ف۳۲)
23پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا (ف۳۳) بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی،
24تو اسے (ف۳۴) اس کے تلے سے پکارا کہ غم نہ کھا (ف۳۵) بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے (ف۳۶)
25اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی (ف۳۷)
26تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ (ف۳۸) پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے (ف۳۹) تو کہہ دینا میں نے آج رحمان کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کرو ں گی (ف۴۰)
27تو اسے گود میں لے اپنی قوم کے پاس آئی (ف۴۱) بولے اے مریم! بیشک تو نے بہت بری بات کی،
28اے ہارون کی بہن (ف۴۲) تیرا باپ (ف۴۳) برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں (ف۴۴) بدکار،
29اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا (ف۴۵) وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے (ف۴۶)
30بچہ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ (ف۴۷) اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا (ف۴۸)
31اور اس نے مجھے مبارک کیا (ف۴۹) میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوٰة کی تاکید فرمائی جب تک جیوں،
32اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا (ف۵۰) اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا،
33اور وہی سلامتی مجھ پر (ف۵۱) جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں (ف۵۲)
34یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا سچی بات جس میں شک کرتے ہیں (ف۵۳)
35اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو (ف۵۴) جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاؤ وہ فوراًٰ ہوجاتا ہے،
36اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ رب ہے میرا اور تمہارا (ف۵۵) تو اس کی بندگی کرو، یہ راہ سیدھی ہے،
37پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں (ف۵۶) تو خرابی ہے، کافروں کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سے (ف۵۷)
38کتنا سنیں گے اور کتنا دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہونگے (ف۵۸) مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں (ف۵۹)
39اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا (ف۶۰) جب کام ہوچکے گا (ف۶۱) اور وہ غفلت میں ہیں (ف۶۲) اور نہیں مانتے،
40بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے (ف۶۳) اور وہ ہماری ہی طرف پھریں گے (ف۶۴)
41اور کتاب میں (ف۶۵) ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق (ف۶۶) تھا (نبی) غیب کی خبریں بتاتا،
42جب اپنے باپ سے بولا (ف۶۷) اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے (ف۶۸)
43اے میرے باپ بیشک میرے پاس (ف۶۹) وہ علم آیا جو تجھے نہ آیا تو تُو میرے پیچھے چلا آ (ف۷۰) میں تجھے سیدھی راہ دکھاؤں (ف۷۱)
44اے میرے باپ شیطان کا بندہ نہ بن (ف۷۲) بیشک شیطان رحمان کا نافرمان ہے،
45اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمن کا کوئی عذاب پہنچے تو تُو شیطان کا رفیق ہوجائے (ف۷۳)
46بولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے، اے ابراہیم بیشک اگر تو (ف۷۴) باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بے علاقہ ہوجا (ف۷۵)
47کہا بس تجھے سلام ہے (ف۷۶) قریب ہے کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا (ف۷۷) بیشک وہ مجھ مہربان ہے،
48اور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا (ف۷۸) تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا (ف۷۹) قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں (ف۸۰)
49پھر جب ان سے اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے کنارہ کر گیا (ف۸۱) ہم نے اسے اسحاق (ف۸۲) اور یعقوب (ف۸۳) عطا کیے، اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا،
50اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی (ف۸۴) اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی (ف۸۵)
51اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو، بیشک وہ چنا ہوا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتانے والا،
52اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی (ف۸۶) اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا (ف۸۷)
53اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی) (ف۸۸)
54اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو (ف۸۹) بیشک وہ وعدے کا سچا تھا (ف۹۰) اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا،
55اور اپنے گھر والوں کو (ف۹۱) نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھا (ف۹۲)
56اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو (ف۹۳) بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا،
57اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا (ف۹۴)
58یہ ہیں جن پر ا لله نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے میں سے آدم کی اولاد سے (ف۹۵) اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا (ف۹۶) اور ابراہیم (ف۹۷) اور یعقوب کی اولاد سے (ف۹۸) اور ان میں سے جنہیں ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا (ف۹۹) جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے (ف۱۰۰) (السجدة) ۵
59تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے (ف۱۰۱) جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے (ف۱۰۲) تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے (ف۱۰۳)
60مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا (ف۱۰۴)
61بسنے کے باغ جن کا وعدہ رحمن نے اپنے (ف۱۰۵) بندوں سے غیب میں کیا (ف۱۰۶) بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے،
62وہ اس میں کوئی بیکار بات نہ سنیں گے مگر سلام (ف۱۰۷) اور انہیں اس میں ان کا رزق ہے صبح و شام (ف۱۰۸)
63یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے،
64(اور جبریل نے محبوب سے عرض کی (ٖف ۱۰۹) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے (ف۱۱۰) اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں (ف۱۱۱)
65آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کا مالک تو اے پوجو اور اس کی بندگی پر ثابت رہو، کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو (ف۱۱۲)
66اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گا (ف۱۱۳)
67اور کیا آدمی کو یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اسے بنایا اور وہ کچھ نہ تھا (ف۱۱۴)
68تو تمہارے رب کی قسم ہم انہیں (ف۱۱۵) اور شیطانوں سب کو گھیر لائیں گے (ف۱۱۶) اور انہیں دوزخ کے آس پاس حاضر کریں گے گھٹنوں کے بل گرے،
69پھر ہم (ف۱۱۷) ہر گروہ سے نکالیں گے جو ان میں رحمن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا (ف۱۱۸)
70پھر ہم خوب جانتے ہیں جو اس آگ میں بھوننے کے زیادہ لائق ہیں،
71اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو (ف۱۱۹) تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے (ف۱۲۰)
72پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے (ف۱۲۱) اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے،
73اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں (ف۱۲۲) کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہے (ف۱۲۳)
74اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپادیں (قومیں ہلاک کردیں) (ف۱۲۴) کہ وہ ان سے بھی سامان اور نمود میں بہتر تھے،
75تم فرماؤ جو گمراہی میں ہو تو اسے رحمن خوب ڈھیل دے (ف۱۲۵) یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا تو عذاب (ف۱۲۶) یا قیامت (ف۱۲۷) تو اب جان لیں گے کہ کس کا برا درجہ ہے اور کس کی فوج کمزور (ف۱۲۸)
76او رجنہوں نے ہدایت پائی (ف۱۲۹) اللہ انھیں اور ہدایت بڑھائے گا (ف۱۳۰) اور باقی رہنے والی نیک باتوں کا (ف۱۳۱) تیرے رب کے یہاں سب سے بہتر ثواب اور سب سے بھلا انجام (ف۱۳۲)
77تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گے (ف۱۳۳)
78کیا غیب کو جھانک آیا ہے (ف۱۳۴) یا رحمن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے،
79ہرگز نہیں (ف۱۳۵) اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے،
80اور جو چیزیں کہہ رہا ہے (ف۱۳۶) ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا (ف۱۳۷)
81اور اللہ کے سوا اور خدا بنالیے (ف۱۳۸) کہ وہ انہیں زور دیں (ف۱۳۹)
82ہرگز نہیں (ف۱۴۰) کوئی دم جاتا ہے کہ وہ (ف۱۴۱) ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالفت ہوجائیں گے (ف۱۴۲)
83کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے (ف۱۴۳) کہ وہ انہیں خوب اچھالتے ہیں (ف۱۴۴)
84تو تم ان پر جلدی نہ کرو، ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں (ف۱۴۵)
85جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر (ف۱۴۶)
86اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے (ف۱۴۷)
87لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے (ف۱۴۸)
88اور کافر بولے (ف۱۴۹) رحمن نے اولاد اختیار کی،
89بیشک تم حد کی بھاری بات لائے (ف۱۵۰)
90قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ کر (مسمار ہوکر) (ف۱۵۱)
91اس پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد بتائی،
92اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے (ف۱۵۲)
93آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے، (ف۱۵۳)
94بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گن رکھا ہے (ف۱۵۴)
95اور ان میں ہر ایک روز قیامت اس کے حضور اکیلا حاضر ہوگا (ف۱۵۵)
96بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا (ف۱۵۶)
97تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناؤ،
98اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (قومیں ہلاک کیں) (ف۱۵۷) کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک (ذرا بھی آواز) سنتے ہو (ف۱۵۸)
Chapter 20 (Sura 20)
1طٰهٰ
2اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ مشقت میں پڑو (ف۲)
3ہاں اس کو نصیحت جو ڈر رکھتا ہو (ف۳)
4اس کا اتارا ہوا جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے،
5وہ بڑی مہر والا، اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے،
6اس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں اور جو کچھ اس گیلی مٹی کے نیچے ہے (ف۴)
7اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے (ف۵)
8اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف۶)
9اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۷)
10جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے لیے اس میں سے کوئی چنگاری لاؤں یا آ گ پر راستہ پاؤں،
11پھر جب آگ کے پاس آیا (ف۸) ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ،
12بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال (ف۹) بیشک تو پاک جنگل طویٰ میں ہے (ف۱۰)
13اور میں نے تجھے پسند کیا (ف۱۱) اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے،
14بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ (ف۱۲)
15بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں (ف۱۳) کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے (ف۱۴)
16تو ہرگز تجھے (ف۱۵) اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کےم پیچھے چلا (ف۱۶) پھر تو ہلاک ہوجائے،
17اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ (ف۱۷)
18عرض کی یہ میرا عصا ہے (ف۱۸) میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں (ف۱۹)
19فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ،
20تو موسیٰ نے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا (ف۲۰)
21فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے (ف۲۱)
22اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا (ف۲۲) خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے (ف۲۳) ایک اور نشانی (ف۲۴)
23کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،
24فرعون کے پاس جا (ف۲۵) اس نے سر اٹھایا (ف۲۶)
25عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے (ف۲۷)
26اور میرے لیے میرا کام آسان کر،
27اور میری زبان کی گرہ کھول دے، (ف۲۸)
28کہ وہ میری بات سمجھیں،
29اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے، (ف۲۹)
30وہ کون میرا بھائی ہارون،
31اس سے میری کمر مضبوط کر،
32اور اسے میرے کام میں شریک کر (ف۳۰)
33کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں،
34اور بکثرت تیری یاد کریں (ف۳۱)
35بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے (ف۳۲)
36فرمایا اے موسیٰ تیری مانگ تجھے عطا ہوئی،
37اور بیشک ہم نے (ف۳۳) تجھ پر ایک بار اور احسان فرمایا
38جب ہم نے تیری ماں کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا (ف۳۴)
39کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں (ف۳۵) ڈال دے، و دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن (ف۳۶) اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی (ف۳۷) اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو (ف۳۸)
40تیری بہن چلی (ف۳۹) پھر کہا کیا میں تمہیں وہ لوگ بتادوں جو اس بچہ کی پرورش کریں (ف۴۰) تو ہم تجھے تیری ماں کے پاس پھیر لائے کہ اس کی آنکھ (ف۴۱) ٹھنڈی ہو اور غم نہ کرے (ف۴۲) اور تو نے ایک جان کو قتل کیا (ف۴۳) تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھے خوب جانچ لیا (ف۴۴) تُو تو کئی برس مدین والوں میں رہا (ف۴۵) پھر تو ایک ٹھہرائے وعدہ پر حاضر ہوا اے موسیٰ! (ف۴۶)
41اور میں نے تجھے خاص اپنے لیے بنایا (ف۴۷)
42تو اور تیرا بھائی دونوں میری نشانیاں (ف۴۸) لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا،
43دونوں فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سر اٹھایا،
44تو اس سے نرم بات کہنا (ف۴۹) اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے (ف۵۰)
45دونوں نے عرض کیا، اے ہمارے رب! بیشک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت سے پیش آئے،
46فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں (ف۵۱) سنتا اور دیکھتا (ف۵۲)
47تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے (ف۵۳) اور انہیں تکلیف نہ دے (ف۵۴) بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں (ف۵۵) اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے (ف۵۶)
48بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے (ف۵۷) اور منہ پھیرے (ف۵۸)
49بولا تو تم دونوں کا خدا کون ہے اے موسیٰ،
50کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی (ف۵۹) پھر راہ دکھائی (ف۶۰)
51بولا (ف۶۱) اگلی سنگتوں (قوموں) کا کیا حال ہے (ف۶۲)
52کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے (ف۶۳) میرا رب نہ بہکے نہ بھولے،
53وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اور تمہارے لیے اس میں چلتی راہیں رکھیں اور آسمان سے پانی اتارا (ف۶۴) تو ہم نے اس سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے (ف۶۵)
54تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چَراؤ (ف۶۶) بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو،
55ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا (ف۲۷) اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے (ف۶۸) اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے (ف۶۹)
56اور بیشک ہم نے اسے (ف۷۰) اپنی سب نشانیاں (ف۷۱) دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا (ف۷۲)
57بولا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے سبب ہماری زمین سے نکال دو اے موسیٰ (ف۷۳)
58تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے (ف۷۴) تو ہم میں اور اپنے میں ایک وعدہ ٹھہرادو جس سے نہ ہم بدلہ لیں نہ تم ہموار جگہ ہو،
59موسیٰ نے کہا تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے (ف۷۵) اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں (ف۷۶)
60تو فرعون پھرا اور اپنے داؤں (فریب) اکٹھے کیے (ف۷۷) پھر آیا (ف۷۸)
61ان سے موسیٰ نے کہا تمہیں خرابی ہو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو (ف۷۹) کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے اور بیشک نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا (ف۸۰)
62تو اپنے معاملہ میں باہم مختلف ہوگئے (ف۸۱) اور چھپ کر مشاورت کی،
63بولے بیشک یہ دونوں (ف۸۲) ضرور جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری زمین زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور تمہارا اچھا دین لے جائیں،
64تو اپنا داؤ (فریب) پکا کرلو پھر پرا باندھ (صف باندھ) کر آ ؤ آج مراد کو پہنچا جو غالب رہا،
65بولے (ف۸۳) اے موسیٰ یا تو تم ڈالو (ف۸۴) یا ہم پہلے ڈالیں (ف۸۵)
66موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو (ف۸۶) جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں (ف۸۷)
67تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا،
68ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے،
69اور ڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے (ف۸۸) اور ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا، وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے (ف۸۹)
70تو سب جادوگر سجدے میں گرالیے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے (ف۹۰)
71فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا (ف۹۱) تو مجھے قسم ہے ضرور میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا (ف۹۲) اور تمہیں کھجور کے ڈھنڈ (تنے) پر سُولی چڑھاؤں گا، اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے (ف۹۳)
72بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں (ف۹۴) ہمیں اپنے پیدا کرنے والے والے کی قسم تو تُو کر چُک جو تجھے کرنا ہے (ف۹۵) تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا (ف۹۶)
73بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور وہ جو تو نے ہمیں مجبور کیا جادو پر (ف۹۷) اور ا لله بہتر ہے (ف۹۸) اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا (ف۹۹)
74بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم (ف۱۰۰) ہوکر آئے تو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے (ف۱۰۱) نہ جئے (ف۱۰۲)
75اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کیے ہوں (ف۱۰۳) تو انہیں کے درجے اونچے،
76بسنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں، اور یہ صلہ ہے اس کا جو پاک ہوا (ف۱۰۴)
77اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی کی (ف۱۰۵) کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے چل (ف۱۰۶) اور ان کے لیے دریا میں سوکھا راستہ نکال دے (ف۱۰۷) تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آلے اور نہ خطرہ (ف۱۰۸)
78تو ان کے پیچھے فرعون پڑا اپنے لشکر لے کر (ف۱۰۹) تو انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیسا ڈھانپ لیا، (ف۱۱۰)
79اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی (ف۱۱۱)
80اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن (ف۱۱۲) سے نجات دی اور تمہیں طور کی داہنی طرف کا وعدہ دیا (ف۱۱۳) اور تم پر من اور سلوی ٰ اتارا (ف۱۱۴)
81کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اس میں زیادتی نہ کرو (ف۱۱۵) کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بیشک وہ گرا (ف۱۱۶)
82اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی (ف۱۱۷) اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا (ف۱۱۸)
83اور تو نے اپنی قوم سے کیوں جلدی کی اے موسیٰ (ف۱۱۹)
84عرض کی کہ وہ یہ ہیں میرے پیچھے اور اے میرے رب تیری طرف میں جلدی کرکے حاضر ہوا کہ تو راضی ہو، (ف۱۲۰)
85فرمایا، تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم (ف۱۲۱) بلا میں ڈالا اور انہیں سامری نے گمراہ کردیا، (ف۱۲۲)
86تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا (ف۱۲۳) غصہ میں بھرا افسوس کرتا (ف۱۲۴) کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ تھا (ف۱۲۵) کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا (ف۱۲۶)
87بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے (ف۱۲۷) تو ہم نے انہیں (ف۱۲۸) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا (ف۱۲۹)
88تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بے جان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا (ف۱۳۰) یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود تو بھول گئے (ف۱۳۲)
89تو کیا نہیں دیکھتے کہ وہ (ف۱۳۳) انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور ان کے سوا کسی برے بھلے کا اختیار نہیں رکھتا (ف۱۳۴)
90اور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم یونہی ہے کہ تم اس کے سبب فتنے میں پڑے (ف۱۳۵) اور بیشک تمہارا رب رحمن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو،
91بولے ہم تو اس پر آسن مارے جمے (پوجا کے لیے بیٹھے) رہیں گے (ف۱۳۶) جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کے آئیں (ف۱۳۷)
92موسیٰ نے کہا، اے ہارون! تمہیں کس بات نے روکا تھا جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تھا کہ میرے پیچھے آتے (ف۱۳۸)
93تو کیا تم نے میرا حکم نہ مانا،
94کہا اے میرے ماں جائے! نہ میری ڈاڑھی پکڑو اور نہ میرے سر کے بال مجھے یہ ڈر ہوا کہ تم کہو گے تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا (ف۱۳۹)
95موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری! (ف۱۴۰)
96بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا (ف۱۴۱) تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا (ف۱۴۲) اور میرے جی کو یہی بھلا لگا (ف۱۴۳)
97کہا تو چلتا بن (ف۱۴۴) کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ (ف۱۴۵) تو کہے چھو نہ جا (ف۱۴۶) اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے (ف۱۴۷) جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھا) رہا (ف۱۴۸) قسم ہے ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے (ف۱۴۹)
98تمہارا معبود تو وہی اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کو اس کا علم محیط ہے،
99ہم ایسا ہی تمہارے سامنے اگلی خبریں بیان فرماتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا (ف۱۵۰)
100جو اس سے منہ پھیرے (ف۱۵۱) تو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بوجھ اٹھائے گا (ف۱۵۲)
101وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (ف۱۵۳) اور وہ قیامت کے دن ان کے حق میں کیا ہی بڑا بوجھ ہوگا،
102جس دن صُور پھونکا جائے گا (ف۱۵۴) اور ہم اس دن مجرموں کو (ف۱۵۵) اٹھائیں گے نیلی آنکھیں (ف۱۵۶)
103آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ تم دنیا میں نہ رہے مگر دس رات (ف۱۵۷)
104ہم خوب جانتے ہیں جو وہ (ف۱۵۸) کہیں گے جبکہ ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے (ف۱۵۹)
105اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں (ف۱۶۰) تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا،
106تو زمین کو پٹ پر (چٹیل میدان) ہموار کر چھوڑے گا
107کہ تو اس میں نیچا اونچا کچھ نہ دیکھے،
108اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں گے (ف۱۶۱) اس میں کجی نہ ہوگی (ف۱۶۲) اور سب آوازیں رحمن کے حضو ر (ف۱۶۳) پست ہوکر رہ جائیں گی تو تُو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز (ف۱۶۴)
109اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، مگر اس کی جسے رحمن نے (ف۱۶۵) اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی،
110وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۱۶۶) اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا (ف۱۶۷)
111اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور (ف۱۶۸) اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا (ف۱۶۹)
112اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا (ف۱۷۰)
113اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیے (ف۱۷۱) کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے (ف۱۷۲)
114تو سب سے بلند ہے ا لله سچا بادشاہ (ف۱۷۳) اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے (ف۱۷۴) اور عرض کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے،
115اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا (ف۱۷۵) تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا،
116اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گرے مگر ابلیس، اس نے نہ مانا،
117تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے (ف۱۷۶) تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے (ف۱۷۷)
118بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو اور نہ ننگا ہو،
119اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ (ف۱۷۸)
120تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا، اے آدم! کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ (ف۱۷۹) اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے (ف۱۸۰)
121تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں (ف۱۸۱) اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے (ف۱۸۲) اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی (ف۱۸۶)
122پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی،
123فرمایا تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے، پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے، (ف۱۸۴) تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے (ف۱۸۵) نہ بدبخت ہو (ف۱۸۶)
124اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا (ف۱۸۷) تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے (ف۱۸۸) اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،
125کہے گا اے رب میرے! مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں تو انکھیارا (بینا) تھا (ف۱۸۹)
126فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تھیں (ف۱۹۰) تو نے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی نہ لے گا (ف۱۹۱)
127اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت تر اور سب سے دیرپا ہے،
128تو کیا انہیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں (ف۱۹۲) کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں (ف۱۹۳) بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو (ف۱۹۴)
129اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی (ف۱۹۵) تو ضرور عذاب انھیں (ف۱۹۶) لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا (ف۱۹۷)
130تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے (ف۱۹۸) اور اس کے ڈوبنے سے پہلے (ف۱۹۹) اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو (ف۲۰۰) اور دن کے کناروں پر (ف۲۰۱) اس امید پر کہ تم راضی ہو (ف۲۰۲)
131اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لیے دی ہے جتنی دنیا کی تازگی (ف۲۰۳) کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں (ف۲۰۴) اور تیرے رب کا رزق (ف۲۰۵) سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے،
132اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے (ف۲۰۶) ہم تجھے روزی دیں گے (ف۲۰۷) اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے،
133اور کافر بولے یہ (ف۲۰۸) اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے (ف۲۰۹) اور کیا انہیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے (ف۲۱۰)
134اور اگر ہم انہیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے رسول کے آنے سے پہلے تو (ف۲۱۱) ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے قبل اس کے کہ ذلیل و رسوا ہوتے،
135تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں (ف۲۱۲) تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے (ف۲۱۳) کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی،
Chapter 21 (Sura 21)
1لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں (ف۲)
2جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے، (ف۳)
3ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں (ف۴) اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی (ف۵) کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں (ف۶) کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر،
4نبی نے فرمایا میرا رب جانتا ہے آسمانوں اور زمین میں ہر بات کو، اور وہی ہے سنتا جانتا (ف۷)
5بلکہ بولے پریشان خوابیں ہیں (ف۸) بلکہ ان کی گڑھت (گھڑی ہوئی چیز) ہے (ف۹) بلکہ یہ شاعر ہیں (ف۱۰) تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے اگلے بھیجے گئے تھے (ف۱۱)
6ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی جسے ہم نے ہلاک کیا، تو کیا یہ ایمان لائیں گے (ف۱۲)
7اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے (ف۱۳) تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو (ف۱۴)
8اور ہم نے انہیں (ف۱۵) خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں (ف۱۶) اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں،
9پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں سچا کر دکھایا (ف۱۷) تو انہیں نجات دی اور جن کو چاہی (ف۱۸) اور حد سے بڑھنے والوں کو (ف۱۹) ہلاک کردیا
10بیشک ہم سے تمہاری طرف (ف۲۰) ایک کتاب اتاری جس میں تمہاری ناموری ہے (ف۲۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۲۲)
11اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کردیں کہ وہ ستمگار تھیں (ف۲۳) اور ان کے بعد اور قوم پیدا کی،
12تو جب انہوں نے (ف۲۴) ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے (ف۲۵)
13نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ ان آسائشوں کی طرف جو تم کو دی گئیں تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو (ف۲۶)
14بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے (ف۲۷)
15تو وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کردیا کاٹے ہوئے (ف۲۸) بجھے ہوئے،
16اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے (ف۲۹)
17اگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے (ف۳۰) تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا (ف۳۱)
18بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے (ف۳۲) اور تمہاری خرابی ہے (ف۳۳) ان باتوں سے جو بناتے ہو (ف۳۴)
19اور اسی کے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳۵) اور اس کے پاس والے (ف۳۶) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں،
20رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور سستی نہیں کرتے،
21کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے خدا بنالیے ہیں (ف۳۸) کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں (ف۳۹)
22اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ (ف۴۰) تباہ ہوجاتے (ف۴۱) تو پاکی ہے اللہ عرش کے مالک کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف۴۲)
23اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے (ف۴۳) اور ان سب سے سوال ہوگا (ف۴۴)
24کیا اللہ کے سوا اور خدا بنا رکھے ہیں، تم فرماؤ (ف۴۵) اپنی دلیل لاؤ (ف۴۶) یہ قرآن میرے ساتھ والوں کا ذکر ہے (ف۴۷) اور مجھ سے اگلوں کا تذکرہ (ف۴۸) بلکہ ان میں اکثر حق کو نہیں جانتے تو وہ رو گرداں، ہیں (ف۴۹)
25اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی کو پوجو،
26اور بولے رحمن نے بیٹا اختیار کیا (ف۵۰) پاک ہے وہ (ف۵۱) بلکہ بندے ہیں عزت والے (ف۵۲)
27بات میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں،
28وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے (ف۵۳) اور شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے (ف۵۴) اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں،
29اور ان میں جو کوئی کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں (ف۵۵) تو اسے ہم جہنم کی جزا دیں گے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ستمگاروں کو،
30کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انہیں کھولا (ف۵۶) اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی (ف۵۷) تو کیا وہ ایمان لائیں گے،
31اور زمین میں ہم نے لنگر ڈالے (ف۵۸) کہ انھیں لے کر نہ کانپے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں رکھیں کہ کہیں وہ راہ پائیں (ف۵۹)
32اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی (ف۶۰) اور وہ (ف۶۱) اس کی نشانیوں سے روگرداں ہیں (ف۶۲)
33اور وہی ہے جس نے بنائے رات (ف۶۳) اور دن (ف۶۴) اور سورج اور چاند ہر ایک ایک گھیرے میں پیر رہا ہے (ف۶۵)
34اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی (ف۶۶) تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں گے (ف۶۷)
35ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے (ف۶۸) جانچنے کو (ف۶۹) اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے (ف۷۰)
36اور جب کافر تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا (ف۷۱) کیا یہ ہیں وہ جو تمہارے خداؤں کو برا کہتے ہیں اور وہ (ف۷۲) رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں (ف۷۳)
37آدمی جلد باز بنایا گیا، اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو (ف۷۴)
38اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ (ف۷۵) اگر تم سچے ہو،
39کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں گے اپنے مونہوں سے آگے (ف۷۶) اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد ہو (ف۷۷)
40بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی (ف۷۸) تو انہیں بے حواس کردے گی پھر نہ وہ اسے پھیرسکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی (ف۷۹)
41اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا (ف۸۰) تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انہیں کو لے بیٹھا (ف۸۱)
42تم فرماؤ شبانہ روز تمہاری کون نگہبانی کرتا ہے رحمان سے (ف۸۲) بلکہ وہ اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے ہیں (ف۸۳)
43کیا ان کے کچھ خدا ہیں (ف۸۴) جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں (ف۸۵) وہ اپنی ہی جانوں کو نہیں بچاسکتے (ف۸۶) اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو،
44بلکہ ہم نے ان کو (ف۸۷) اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا (ف۸۸) یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی (ف۸۹) تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم (ف۹۰) زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں (ف۹۱) تو کیا یہ غالب ہوں گے (ف۹۲)
45تم فرماؤ کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں (ف۹۳) اور بہرے پکارنا نہیں سنتے جب ڈرائے جائیں، (ف۹۴)
46اور اگر انہیں تمہارے رب کے عذاب کی ہوا چھو جائے تو ضرور کہیں گے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے (ف۹۵)
47اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، اور اگر کوئی چیز (ف۹۶) رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کو،
48اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ دیا (ف۹۷) اور اجالا (ف۹۸) اور پرہیزگاروں کو نصیحت (ف۹۹)
49وہ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور انہیں قیامت کا اندیشہ لگا ہوا ہے،
50اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اتارا (ف۱۰۰) تو کیا تم اس کے منکر ہو،
51اور بیشک ہم نے ابراہیم کو (ف۱۰۱) پہلے ہی سے اس کی نیک راہ عطا کردی اور ہم اس سے خبردار تھے، (ف۱۰۲)
52جب اس نے اپنے باپ اور قوم سے کہا یہ مورتیں کیا ہیں (ف۱۰۳) جن کے آگے تم آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھے) ہو (ف۱۰۴)
53بولے ہم نے اپنے دادا کو ان کی پوجا کرتے پایا (ف۱۰۴)
54کہا بے شک تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی گمراہی میں ہو،
55بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو (ف۱۰۶)
56کہا بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو رب ہے آسمان اور زمین کا جس نے انہیں پیدا کیا، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں،
57اور مجھے اللہ کی قسم ہے میں تمہارے بتوں کا برا چاہوں گا بعد اس کے کہ تم پھر جاؤ پیٹھ دے کر (ف۱۰۷)
58تو ان سب کو (ف۱۰۸) چورا کردیا مگر ایک کو جو ان کا سب سے بڑا تھا (ف۱۰۹) کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں (ف۱۱۰)
59بولے کس نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا بیشک وہ ظالم ہے،
60ان میں کے کچھ بولے ہم نے ایک جوان کو انہیں برا کہتے سنا جسے ابراہیم کہتے ہیں (ف۱۱۱)
61بولے تو اسے لوگوں کے سامنے لاؤ شاید وہ گواہی دیں (ف۱۱۲)
62بولے کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا اے ابراہیم (ف۱۱۳)
63فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا (ف۱۱۴) تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں (ف۱۱۵)
64تو اپنے جی کی طرف پلٹے (ف۱۱۶) اور بولے بیشک تمہیں ستمگار ہو (ف۱۱۷)
65پھر اپنے سروں کے بل اوندھائے گئے (ف۱۱۸) کہ تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں (ف۱۱۹)
66کہا تو کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے (ف۱۲۰) اور نہ نقصان پہنچائے (ف۱۲۱)
67تف ہے تم پر اور ان بتوں پر جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲۲)
68بولے ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کروں اگر تمہیں کرنا ہے (ف۱۲۳)
69ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر (ف۱۲۴)
70اور انہوں نے اس کا برا چاہا تو ہم نے انہیں سب سے بڑھ کر زیاں کار کردیا (ف۱۲۵)
71اور ہم اسے اور لوط کو (ف۱۲۶) نجات بخشی (ف۱۲۷) اس زمین کی طرف (ف۱۲۸) جس میں ہم نے جہاں والوں کے لیے برکت رکھی (ف۱۲۹)
72اور ہم نے اسے اسحاق عطا فرمایا (ف۱۳۰) اور یعقوب پوتا، اور ہم نے ان سب کو اپنے قرب خاص کا سزاوار کیا،
73اور ہم نے انہیں امام کیا کہ (ف۱۳۱) ہمارے حکم سے بلاتے ہیں اور ہم نے انہیں وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے،
74اور لوط کو ہم نے حکومت اور علم دیا اور اسے اس بستی سے نجات بخشی جو گندے کام کرتی تھی (ف۱۳۲) بیشک وہ برُے لوگ بے حکم تھے،
75اور ہم نے اسے (ف۱۳۳) اپنی رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ ہمارے قرب خاص سزاواروں میں ہے،
76اور نوح کو جب اس سے پہلے اس نے ہمیں پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی سختی سے نجات دی (ف۱۳۴)
77اور ہم نے ان لوگوں پر اس کو مدد دی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں، بیشک وہ برے لوگ تھے تو ہم نے ان سب کو ڈبو دیا،
78اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے، جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں (ف۱۳۵) اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے،
79ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھادیا (ف۱۳۶) اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا (ف۱۳۷) اور داؤد کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے اور پرندے (ف۱۳۸) اور یہ ہمارے کام تھے،
80اور ہم نے اسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے (زخمی ہونے سے) بچائے (ف۱۳۹) تو کیا تم شکر کروگے،
81اور سلیمان کے لیے تیز ہوا مسخر کردی کہ اس کے حکم سے چلتی اس زمین کی طرف جس میں ہم نے برکت رکھی (ف۱۴۰) اور ہم کو ہر چیز معلوم ہے،
82اور شیطانوں میں سے جو اس کے لیے غوطہ لگاتے (ف۱۴۱) اور اس کے سوا اور کام کرتے (ف۱۴۲) اور ہم انہیں روکے ہوئے تھے (ف۱۴۳)
83اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا (ف۱۴۴) کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ہے،
84تو ہم نے اس کی دعا سن لی تو ہم نے دور کردی جو تکلیف اسے تھی (ف۱۴۵) اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کیے (ف۱۴۶) اپنے پاس سے رحمت فرما کر اور بندی والوں کے لیے نصیحت (ف۱۴۷)
85اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (یاد کرو)، وہ سب صبر والے تھے (ف۱۴۸)
86اور انہیں ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں ہیں،
87اور ذوالنون، کو (یاد کرو) (ف۱۴۹) جب چلا غصہ میں بھرا (ف۱۵۰) تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے (ف۱۵۱) تو اندھیریوں میں پکارا (ف۱۵۲) کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو، بیشک مجھ سے بے جا ہوا (ف۱۵۳)
88تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور سے غم سے نجات بخشی (ف۱۵۴) اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو (ف۱۵۵)
89اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا، اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ (ف۱۵۶) اور تو سب سے بہتر اور وارث (ف۱۵۷)
90تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے (ف۱۵۸) یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بی بی سنواری (ف۱۵۹) بیشک وہ (ف۱۶۰) بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے، اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں،
91اور اس عورت کو اس نے اپنی پارسائی نگاہ رکھی (ف۱۶۱) تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی (ف۱۶۲) اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہاں کے لیے نشانی بنایا (ف۱۶۳)
92بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے (ف۱۶۴) اور میں تمہارا رب ہوں (ف۱۶۵) تو میری عبادت کرو،
93اور اَوروں نے اپنے کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیے (ف۱۶۶) سب کو ہماری طرف پھرنا ہے، (ف۱۶۷)
94تو جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں، اور ہم اسے لکھ رہے ہیں،
95اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں (ف۱۶۸)
96یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج (ف۱۶۹) اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے،
97اور قریب آیا سچا وعدہ (ف۱۷۰) تو جبھی آنکھیں پھٹ کر رہ جائیں گی کافروں کی (ف۱۷۱) کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم (ف۱۷۲) اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے (ف۱۷۳)
98بیشک تم (ف۱۷۴) اور جو کچھ اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (ف۱۷۵) سب جہنم کے ایندھن ہو، تمہیں اس میں جانا،
99اگر یہ (ف۱۷۶) خدا ہوتے جہنم میں نہ جاتے، اور ان سب کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۱۷۷)
100وہ اس میں رینکیں گے (ف۱۷۸) اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے (ف۱۷۹)
101بیشک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جنہم سے دور رکھے گئے ہیں (ف۱۸۰)
102وہ اس کی بھنک (ہلکی سی آواز بھی) نہ سنیں گے (ف۱۸۱) اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں (ف۱۸۲) ہمیشہ رہیں گے،
103انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ (ف۱۸۳) اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے (ف۱۸۴) کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا،
104جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ (ف۱۸۵) نامہٴ اعمال کو لپیٹتا ہے، جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے (ف۱۸۶) یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ، ہم کو اس کا ضرور کرنا،
105اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے (ف۱۸۷)
106بیشک یہ قرآن کافی ہے عبادت والوں کو (ف۱۸۸)
107اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے (ف۱۸۹)
108تم فرماؤ مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا نہیں مگر ایک اللہ تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو،
109پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۹۰) تو فرمادو میں نے تمہیں لڑائی کا اعلان کردیا، برابری پر اور میں کیا جانوں (ف۱۹۱) کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱۹۲)
110بیشک اللہ جانتا ہے آواز کی بات (ف۱۹۳) اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو (ف۱۹۴)
111اور میں کیا جانوں شاید وہ (ف۱۹۵) تمہاری جانچ ہو (ف۱۹۶) اور ایک وقت تک برتوانا (ف۱۹۷)
112نبی نے عرض کی کہ اے میرے رب حق فیصلہ فرمادے (ف۱۹۸) اور ہمارے رب رحمنٰ ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو، (ف۱۹۹)
Chapter 22 (Sura 22)
1اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو (ف۲) بیشک قیامت کا زلزلہ (ف۳) بڑی سخت چیز ہے،
2جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی (ف۴) اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھ (ف۵) اپنا گابھ ڈال دے گی (ف۶) اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور نشہ میں نہ ہوں گے (ف۷) مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے،
3اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ اللہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں بے جانے بوجھے، اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں (ف۸)
4جس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضرور اسے گمراہ کردے گا اور اسے عذاب دوزخ کی راہ بتائے گا (ف۹)
5اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے (ف۱۰) پھر پانی کی بوند سے (ف۱۱) پھر خون کی پھٹک سے (ف۹۱۲ پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بے بنی (ف۱۳) تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں (ف۱۴) اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہیں ایک مقرر میعاد تک (ف۱۵) پھر تمہیں نکالتے ہیں بچہ پھر (ف۱۶) اس لیے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو (ف ۱۷) اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب میں نکمی عمر تک ڈالا جاتا ہے (ف۱۸) کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (ف۱۹) اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی (ف۲۰) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا (ف۲۱) اُگا لائی (ف۲۲)
6یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے (ف۲۳) اور یہ کہ وہ مردے جِلائے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
7اور اس لیے کہ قیامت آنے والی اس میں کچھ شک نہیں، اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا انہیں جو قبروں میں ہیں،
8اور کوئی آدمی وہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یوں جھگڑتا ہے کہ نہ تو علم نہ کوئی دلیل اور نہ کوئی روشن نوشتہ (تحریر) (ف۲۴)
9حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے تاکہ اللہ کی راہ سے بہکادے (ف۲۵) اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۶) اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے (ف۲۷)
10یہ اس کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۲۸) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا (ف۲۹)
11اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں (ف۳۰) پھر اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچ گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آکر پڑی (ف۳۱) منہ کے بل پلٹ گئے، ف۳۲) دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا (ف۳۳) یہی ہے صر یح نقصان (ف۳۴)
12اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں جو ان کا برا بھلا کچھ نہ کرے (ف۳۵) یہی ہے دور کی گمراہی،
13ایسے کو پوجتے نہیں جس کے نفع سے (ف۳۶) نقصان کی توقع زیادہ ہے (ف۳۷) بیشک (ف۳۸) کیا ہی برا مولیٰ اور بیشک کیا ہی برا رفیق،
14بیشک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور بھلے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، بیشک اللہ کرتا ہے جو چاہے (ف۳۹)
15جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی (ف۴۰) کی مدد نہ فرمائے گا دنیا (ف۴۱) اور آخرت میں (ف۴۲) تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ داؤں کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے (ف۴۳)
16اور بات یہی ہے کہ ہم نے یہ قرآن اتارا روشن آیتیں اور یہ کہ اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہے،
17بیشک مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور مشرک، بیشک اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا (ف۴۴) بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
18کیا تم نے نہ دیکھا (ف۴۵) کہ اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے (ف۴۶) اور بہت آدمی (ف۴۷) اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا (ف۴۸) اور جسے اللہ ذلیل کرے (ف۴۹) اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ جو چاہے کرے، (السجدة)۶
19یہ دو فریق ہیں (ف۵۰) کہ اپنے رب میں جھگڑے (ف۵۱) تو جو کافر ہوئے ان کے لیے آگ کے کپڑے بیونتے (کاٹے) گئے ہیں (ف۵۲) اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا (ف۵۳)
20جس سے گل جائے گا جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے اور ان کی کھالیں (ف۵۴)
21اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہیں (ف۵۵)
22جب گھٹن کے سبب اس میں سے نکلنا چاہیں گے (ف۵۶) اور پھر اسی میں لوٹا دیے جائیں گے، اور حکم ہوگا کہ چکھو آگ کا عذاب،
23بیشک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہیں اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی (ف۵۷) اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے (ف۵۸)
24اور انہیں پاکیزہ بات کی ہدایت کی گئی (ف۵۹) اور سب خوبیوں سراہے کی راہ بتائی گئی (ف۶۰)
25بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور روکتے ہیں اللہ کی راہ (ف۶۱) اور اس ادب والی مسجد سے (ف۶۲) جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے مقرر کیا کہ اس میں ایک سا حق ہے وہاں کے رہنے والے اور پردیسی کا، اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے (ف۶۳)
26اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا (ف۶۴) اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میرا گھر ستھرا رکھ (ف۶۵) طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لیے (ف۶۶)
27اور لوگوں میں حج کی عام ندا کردے (ف۶۷) وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر کہ ہر دور کی راہ سے آتی ہیں (ف۶۸)
28تاکہ وہ اپنا فائدہ پائیں (ف۶۹) اور اللہ کا نام لیں (ف۷۰) جانے ہوئے دنوں میں (ف۷۱) اس پر کہ انہیں روزی دی بے زبان چوپائے (ف۷۲) تو ان میں سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ (ف۷۳)
29پھر اپنا میل کچیل اتاریں (ف۷۴) اور اپنی منتیں پوری کریں (ف۷۵) اور اس آزاد گھر کا طواف کریں (ف۷۶)
30بات یہ ہے اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے (ف۷۷) تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے، اور تمہارے لیے حلال کیے گئے بے زبان چوپائے (ف۷۸) سوا ان کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے (ف۷۹) تو دور ہو بتوں کی گندگی سے (ف۸۰) اور بچو جھوٹی بات سے،
31ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو، اور جو اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچک لے جاتے ہیں (ف۸۱) یا ہوا اسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے (ف۸۲)
32بات یہ ہے، اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے (ف۸۳)
33تمہارے لیے چوپایوں میں فائدے ہیں (ف۸۴) ایک مقررہ میعاد تک (ف۸۵) پھر ان کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تک (ف۸۶)
34اور ہر امت کے لیے (ف۸۷) ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر (ف۸۸) تو تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۸۹) تو اسی کے حضور گردن رکھو (ف۹۰) اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو،
35کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں (ف۹۱) اور جو افتاد پڑے اس کے سنے والے اور نماز برپا رکھنے والے اور ہمارے دیے سے خرچ کرتے ہیں (ف۹۲)
36اور قربانی کے ڈیل دار جانور اور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے کیے (ف۹۳) تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے (ف۹۴) تو ان پر اللہ کا نام لو (ف۹۵) ایک پاؤں بندھے تین پاؤں سے کھڑے (ف۹۶) پھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں (ف۹۷) تو ان میں سے خود کھاؤ (ف۹۸) اور صبر سے بیٹھنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ، ہم نے یونہی ان کو تمہارے بس میں دے دیا کہ تم احسان مانو،
37اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے (ف۹۹) یونہی ان کو تمہارے پس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی، اور اے محبوب! خوشخبری سناؤ نیکی والوں کو (ف۱۰۰)
38بیشک اللہ بلائیں ٹالتا ہے، مسلمانوں کی (ف۱۰۱) بیشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو (ف۱۰۲)
39پروانگی (اجازت) عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں (ف۱۰۳) اس بناء پر کہ ان پر ظلم ہوا (ف۱۰۴) اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے،
40وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے (ف۱۰۵) صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے (ف۱۰۶) اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا (ف۱۰۷) تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقاہیں (ف۱۰۸) اور گرجا (ف۱۰۹) اور کلیسے (ف۱۱۰) اور مسجدیں (ف۱۱۱) جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے، اور بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے (ف۱۰۹)،
41وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں (ف۱۱۲) تو نماز برپا رکھیں اور زکوٰة اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں (ف۱۱۳) اور اللہ ہی کے لیے سب کاموں کا انجام،
42اور اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں (ف۱۱۴) تو بیشک ان سے پہلے جھٹلا چکی ہے نوح کی قوم اور عاد (ف۱۱۵) اور ثمود (ف۱۱۶)
43اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم،
44اور مدین والے (ف۱۱۷) اور موسیٰ کی تکذیب ہوئی (ف۱۱۸) تو میں نے کافرو ں کو ڈھیل دی (ف۱۱۹) پھر انہیں پکڑا (ف۱۲۰) تو کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۲۱)
45اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں (ہلاک کردیں) (ف۱۲۲) کہ وہ ستمگار تھیں (ف۱۲۳) تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی (گری) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے (ف۱۲۴) اور کتنے محل گچ کیے ہوئے (ف۱۲۵)
46تو کیا زمین میں نہ چلے (ف۱۲۶) کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں (ف۱۲۷) یا کان ہوں جن سے سنیں (ف۱۲۸) تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں (ف۱۲۹) بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں، (ف۱۳۰)
47اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اللہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا (ف۱۳۲) اور بیشک تمہارے رب کے یہاں (ف۱۳۳) ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس (ف۱۳۴)
48اور کتنی بستیاں کہ ہم نے ان کو ڈھیل دی اس حال پر کہ وہ ستمگار تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا (ف۱۳۵) اور میری ہی طرف پلٹ کر آتا ہے (ف۱۳۶)
49تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تو یہی تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
50تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۱۳۷)
51اور وہ جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں میں ہار جیت کے ارادہ سے (ف۱۳۸) وہ جہنمی ہیں،
52اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے (ف۱۳۹) سب پر کبھی یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے (ف۱۴۰) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
53تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو فتنہ کردے (ف۱۴۱) ان کے لیے جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۴۲) اور جن کے دل سخت ہیں (ف۱۴۳) اور بیشک ستمگار (ف۱۴۴) دُھرکے (پرلے درجے کے) جھگڑالو ہیں،
54اور اس لیے کہ جان لیں وہ جن کو علم ملا ہے (ف۱۴۵) کہ وہ (ف۱۴۶) تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں تو جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل، اور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ چلانے والا ہے،
55اور کافر اس سے (ف۱۴۷) ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک (ف۱۴۸) یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو (ف۱۴۹)
56بادشاہی اس دن (ف۱۵۰) اللہ ہی کی ہے، وہ ان میں فیصلہ کردے گا، تو جو ایمان لائے اور (ف۱۵۱) اچھے کام کیے وہ چین کے باغوں میں ہیں،
57اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے،
58اور وہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے (ف۱۵۲) پھر مارے گئے یا مرگئے تواللہ ضرور انہیں اچھی روزی دے گا (ف۱۵۳) اور بیشک اللہ کی روزی سب سے بہتر ہے،
59ضرور انہیں ایسی جگہ لے جائے گا جسے وہ پسند کریں گے (ف۱۵۴) اور بیشک اللہ علم اور حلم والا ہے،
60بات یہ ہے اور جو بدلہ لے (ف۱۵۵) جیسی تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی جائے (ف۱۵۶) تو بیشک اللہ اس کی مدد فرمائے گا (ف۱۵۷) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،
61یہ (ف۱۵۸) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف۱۵۹) اور اس لیے کہ اللہ سنتا دیکھتا ہے،
62یہ اس لیے (ف۱۶۰) کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے پوجتے ہیں (ف۱۶۱) وہی باطل ہے اور اس لیے کہ اللہ ہی بلندی بڑائی والا ہے،
63کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو صبح کو زمین (ف۱۶۲) ہریالی ہوگئی، بیشک اللہ پاک خبردار ہے،
64اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور بیشک اللہ ہی بے نیاز سب خوبیوں سراہا ہے،
65کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے (ف۱۶۳) اور کشتی کہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے (ف۱۶۴) اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے، بیشک اللہ آدمیوں پر بڑی مہر والا مہربان ہے (ف۱۶۵)
66اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا (ف۱۶۶) اور پھر تمہیں مارے گا (ف۱۶۷) پھر تمہیں جِلائے گا (ف۱۶۸) بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے (ف۱۶۹)
67ہر امت کے لیے (ف۱۷۰) ہم نے عبادت کے قاعدے بنادیے کہ وہ ان پر چلے (ف۱۷۱) تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کریں (ف۱۷۲) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۱۷۳) بیشک تم سیدھی راہ پر ہو،
68اور اگر وہ (ف۱۷۴) تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ اللہ خوب جانتا ہے تمہارے کوتک (تمہاری کرتوت)
69اللہ تم پر فیصلہ کردے گا قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے ہو (ف۱۷۵)
70کیا تو نے نہ جانا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۱۷۶) بیشک یہ (ف۱۷۷) اللہ پر آسان ہے (ف۱۷۸)
71اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۱۷۹) جن کی کوئی سند اس نے نہ اتاری اور ایسوں کو جن کا خود انہیں کچھ علم نہیں (ف۱۸۰) اور ستمگاروں کا (ف۱۸۱) کوئی مددگار نہیں (ف۱۸۲)
72اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (ف۱۸۳) تو تم ان کے چہروں پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے جنہوں نے کفر کیا، قریب ہے کہ لپٹ پڑیں ان کو جو ہماری آیتیں ان پر پڑھتے ہیں، تم فرمادو کیا میں تمہیں بتادوں جو تمہارے اس حال سے بھی (ف۱۸۴) بدتر ہے وہ آگ ہے، اللہ نے اس کا وعدہ دیا ہے کافروں کو، اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ،
73اے لوگو! ایک کہاوت فرمائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو (ف۱۸۵) وہ جنہیں اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (ف۱۸۶) ایک مکھی نہ بناسکیں گے اگرچہ سب اس پر اکٹھے ہوجائیں (ف۱۸۷) اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے (ف۱۸۸) تو اس سے چھڑا نہ سکیں (ف۱۸۹) کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا (ف۱۹۰)
74اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی (ف۱۹۱) بیشک اللہ قوت والا غالب ہے،
75اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول (ف۱۹۲) اور آدمیوں میں سے (ف۱۹۳) بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
76جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے (ف۱۹۴) اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے،
77اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو (ف۱۹۵) اور اپنے رب کی بندگی کرو (ف۱۹۶) اور بھلے کام کرو (ف۱۹۷) اس امید پر کہ تمہیں چھٹکارا ہو، (السجدة) عندالشافعیؒ،
78اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا (ف۱۹۸) اس نے تمہیں پسند کیا (ف۱۹۹) اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی (ف۲۰۰) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (ف۲۰۱) اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تاکہ رسول تمہارا نگہبان و گواہ ہو (ف۲۰۲) اور تم اور لوگوں پر گواہی دو (ف۲۰۳) تو نماز برپا رکھو (ف۲۰۴) اور زکوٰة دو اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۲۰۵) وہ تمہارا مولیٰ ہے تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،
Chapter 23 (Sura 23)
1بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے
2جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں (ف۲)
3اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے (ف۳)
4اور وہ کہ زکوٰة دینے کا کام کرتے ہیں (ف۴)
5اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،
6مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں (ف۵)
7تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں(ف۶)
8اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں (ف۷)
9اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں (ف۸)
10یہی لوگ وارث ہیں،
11کہ فردوس کی میراث پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
12اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی (انتخاب کی) مٹی سے بنایا، (ف۹)
13پھر اسے (ف۱۰) پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں (ف۱۱)
14پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی (ف۱۲) تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بتانے والا،
15پھر اس کے بعد تم ضرور (ف۱۳) مرنے والے ہو،
16پھر تم سب قیامت کے دن (ف۱۴) اٹھائے جاؤ گے،
17اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راہیں بنائیں (ف۱۵) اور ہم خلق سے بے خبر نہیں (ف۱۶)
18اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا (ف۱۷) ایک اندازہ پر (ف۱۸) پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور بیشک ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں (ف۱۹)
19تو اس سے ہم نے تمہارے باغ پیدا کیے کھجوروں اور انگوروں کے تمہارے لیے ان میں بہت سے میوے ہیں (ف۲۰) اور ان میں سے کھاتے ہو (ف۲۱)
20اور وہ پیڑ پیدا کیا کہ طور سینا سے نکلتا ہے (ف۲۲) لے کر اگتا ہے تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن (ف۲۳)
21اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں سمجھنے کا مقام ہے، ہم تمہیں پلاتے ہیں اس میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے (ف۲۴) اور تمہارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں (ف۲۵) اور ان سے تمہاری خوراک ہے (ف۲۶)
22اور ان پر (ف۲۷) اور کشتی پر (ف۲۸) سوار کیے جاتے ہو،
23اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں (ف۲۹)
24تو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا بولے (ف۳۰) یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی چاہتا ہے کہ تمہارا بڑا بنے (ف۳۱) اور اللہ چاہتا (ف۳۲) تو فرشتے اتارتا ہم نے تو یہ اگلے باپ داداؤں میں نہ سنا (ف۳۳)
25وہ تو نہیں مگر ایک دیوانہ مرد تو کچھ زمانہ تک اس کا انتظار کیے رہو (ف۳۴)
26نوح نے عرض کی اے میرے رب! میری مدد فرما (ف۳۵) اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا،
27تو ہم نے اسے وحی بھیجی کہ ہماری نگاہ کے سامنے (ف۳۶) اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آئے (ف۳۷) اور تنور ابلے (ف۳۸) تو اس میں بٹھالے (ف۳۹) ہر جوڑے میں سے دو (ف۴۰) اور اپنے گھر والے (ف۴۱) مگر ان میں سے وہ جن پر بات پہلے پڑچکی (ف۴۲) اور ان ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات نہ کرنا (ف۴۳) یہ ضرور ڈبوئے جائیں گے،
28پھر جب ٹھیک بیٹھ لے کشتی پر تُو اور تیرے ساتھ والے تو کہہ سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں ان ظالموں سے نجات دی،
29اور عرض کر (ف۴۴) کہ اے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے،
30بیشک اس میں (ف۴۵) ضرو ر نشانیاں (ف۴۶) اور بیشک ضرور ہم جانچنے والے تھے (ف۴۷)
31پھر ان کے (ف۴۸) بعد ہم نے اور سنگت (قوم) پیدا کی (ف۴۹)
32تو ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیجا (ف۵۰) کہ اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں (ف۵۱)
33اور بولے اس قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری (ف۵۲) کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں چین دیا (ف۵۳) کہ یہ تو نہیں مگر جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے پیتا ہے (ف۵۴)
34اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو جب تو تم ضرور گھاٹے میں ہو،
35کیا تمہیں یہ وعدہ دیتا ہے کہ تم جب مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے اس کے بعد پھر (ف۵۵) نکالے جاؤ گے،
36کتنی دور ہے کتنی دور ہے جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۵۶)
37وہ تو نہیں مگر ہماری دنیا کی زندگی (ف۵۷) کہ ہم مرتے جیتے ہیں (ف۵۸) اور ہمیں اٹھنا نہیں (ف۵۹)
38وہ تو نہیں مگر ایک مرد جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا (ف۶۰) اور ہم اسے ماننے کے نہیں (ف۶۱)
39عرض کی کہ اے میرے رب میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا،
40اللہ نے فرمایا کچھ دیر جاتی ہے کہ یہ صبح کریں گے پچھتاتے ہوئے (ف۶۲)
41تو انہیں آلیا سچی چنگھاڑ نے (ف۶۳) تو ہم نے انہیں گھاس کوڑا کردیا (ف۶۴) تو دور ہوں (ف۶۵) ظالم لوگ،
42پھر ان کے بعد ہم نے اور سنگتیں (قومیں) پیدا کیں (ف۶۶)
43کوئی امت اپنی میعاد سے نہ پہلے جائے نہ پیچھے رہے (ف۶۷)
44پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایک پیچے دوسرا جب کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انہوں نے اسے جھٹلایا (ف۶۸) تو ہم نے اگلوں سے پچھلے ملادیے (ف۶۹) اور انہیں کہانیاں کر ڈالا (ف۷۰) تو دور ہوں وہ لوگ کہ ایمان نہیں لاتے،
45پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیتوں اور روشن سند (ف۷۱) کے ساتھ بھیجا،
46فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے غرور کیا (ف۷۲) اور وہ لوگ غلبہ پائے ہوئے تھے، (ف۷۳)
47تو بولے کیا ہم ایمان لے آئیں اپنے جیسے دو آدمیوں پر (ف۷۴) اور ان کی قوم ہماری بندگی کررہی ہے، (ف۷۵)
48تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تو ہلاک کیے ہوؤں میں ہوگئے (ف۷۶)
49اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۷۷) کہ ان کو (ف۷۸) ہدایت ہو،
50اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو (ف۷۹) نشانی کیا اور انہیں ٹھکانا دیا ایک بلند زمین (ف۸۰) جہاں بسنے کا مقام (ف۸۱) اور نگاہ کے سامنے بہتا پانی،
51اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ (ف۸۲) اور اچھا کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں (ف۸۳)
52اور بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے (ف۸۴) اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ڈرو،
53تو ان کی امتوں نے اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا (ف۸۵) ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے، (ف۸۶)
54تو تم ان کو چھوڑ دو ان کے نشہ میں (ف۸۷) ایک وقت تک (ف۸۸)
55کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کررہے ہیں مال اور بیٹوں سے (ف۸۹)
56یہ جلد جلد ان کو بھلائیاں دیتے ہیں (ف۹۰) بلکہ انہیں خبر نہیں (ف۹۱)
57بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں (ف۹۲)
58اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں (ف۹۳)
59اور وہ جو اپنے رب کا کوئی شریک نہیں کرتے،
60اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں (ف۹۴) اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے، (ف۹۵)
61یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے (ف۹۶)
62اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے کہ حق بولتی ہے (ف۹۷) اور ان پر ظلم نہ ہوگا، ف۹۸)
63بلکہ ان کے دل اس سے (ف۹۹) غفلت میں ہیں اور ان کے کام ان کاموں سے جدا ہیں (ف۱۰۰) جنہیں وہ کررہے ہیں،
64یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے امیروں کو عذاب میں پکڑا (ف۱۰۱) تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے، (ف۱۰۲)
65آج فریاد نہ کرو، ہماری طرف سے تمہاری مدد نہ ہوگی،
66بیشک میری آیتیں (ف۱۰۳) تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پلٹتے تھے (ف۱۰۴)
67خدمت حرم پر بڑائی مارتے ہو (ف۱۰۵) رات کو وہاں بیہودہ کہانیاں بکتے (ف۱۰۶)
68حق کو چھوڑے ہوئے (ف۱۰۷) کیا انہوں نے بات کو سوچا نہیں (ف۱۰۸) یا ان کے پاس وہ آیا جو ان کے باپ دادا کے پاس نہ آیا تھا (ف۱۰۹)
69یا انہوں نے اپنے رسول کو نہ پہچانا (ف۱۱۰) تو وہ اسے بیگانہ سمجھ رہے ہیں (ف۱۱۱)
70یا کہتے ہیں اسے سودا ہے (ف۱۱۲) بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لائے (ف۱۱۳) اور ان میں اکثر حق برا لگتا ہے (ف۱۱۴)
71اور اگر حق (ف۱۱۵) ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا (ف۱۱۶) تو ضرور آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے (ف۱۱۷) بلکہ ہم تو ان کے پاس وہ چیز لائے (ف۱۱۸) جس میں ان کی ناموری تھی تو وہ اپنی عزت سے ہی منہ پھیرے ہوئے ہیں،
72کیا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو (ف۱۱۹) تو تمہارے رب کا اجر سب سے بھلا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا (ف۱۲۰)
73اور بیشک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو (ف۱۲۱)
74اور بیشک جو آخرت پر ایما ن نہیں لاتے ضرور سیدھی راہ سے (ف۱۲۲) کترائے ہوئے ہیں،
75اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو مصیبت (ف۱۲۳) ان پر پڑی ہے ٹال دیں تو ضرور بھٹ پنا (احسان فراموشی) کریں گے اپنی سرکشی میں بہکتے ہوئے (ف۱۲۴)
76اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا (ف۱۲۵) تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں (ف۱۲۶)
77یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کھولا کسی سخت عذاب کا دروازہ (ف۱۲۷) تو وہ اب اس میں ناامید پڑے ہیں،
78اور وہی ہے جس نے بنائے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل (ف۱۲۸) تم بہت ہی کم حق مانتے ہو (ف۱۲۹)
79اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف اٹھنا ہے (ف۱۳۰)
80اور وہی جٕلائے اور مارے اور اسی کے لیے ہیں رات اور دن کی تبدیلیاں (ف۱۳۱) تو کیا تمہیں سمجھ نہیں (ف۱۳۲)
81بلکہ انہوں نے وہی کہی جو اگلے (ف۱۳۳) کہتے تھے،
82بولے کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں کیا پھر نکالے جائیں گے،
83بیشک یہ وعدہ ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا کو دیا گیا یہ تو نہیں مگر وہی اگلی داستانیں (ف۱۳۴)
84تم فرماؤ کس کا مال ہے زمین اور جو کچھ اس میں ہے اگر تم جانتے ہو (ف۱۳۵)
85اب کہیں گے کہ اللہ کا (ف۱۳۶) تم فرماؤ پھر کیوں نہیں سوچتے (ف۱۳۷)
86تم فرماؤ کون ہے مالک سوتوں آسمانوں کا اور مالک بڑے عرش کا،
87اب کہیں گے یہ اللہ ہی کی شان ہے، تم فرماؤ پھر کیوں نہیں ڈرتے (ف۱۳۸)
88تم فرماؤ کس کے ہاتھ ہے ہر چیز کا قابو (ف۱۳۹) اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا اگر تمہیں علم ہو (ف۱۴۰)
89اب کہیں گے یہ اللہ ہی کی شان ہے، تم فرماؤ پھر کس جادو کے فریب میں پڑے ہو (ف۱۴۱)
90بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے (ف۱۴۲) اور وہ بیشک جھوٹے ہیں (ف۱۴۳)
91اللہ نے کوئی بچہ اختیار نہ کیا (ف۱۴۴) اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا (ف۱۴۵) یوں ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق لے جاتا (ف۱۴۶) اور ضرور ایک دوسرے پر اپنی تعلی چاہتا (ف۱۴۷) پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف۱۴۸)
92جاننے والا ہر نہاں و عیاں کا تو اسے بلندی ہے ان کے شرک سے،
93تم عرض کرو کہ اے میرے رب! اگر تو مجھے دکھائے (ف۱۴۹) جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے،
94تو اے میرے رب! مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا (ف۱۵۰)
95اور بیشک ہم قادر ہیں کہ تمہیں دکھادیں جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں (ف۱۵۱)
96سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو (ف۱۵۲) ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ بناتے ہیں (ف۱۵۳)
97اور تم عرض کرو کہ اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسو ں سے (ف۱۵۴)
98اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں،
99یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے (ف۱۵۵) تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھر دیجئے، (ف۱۵۶)
100شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں (ف۱۵۷) ہشت یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے (ف۱۵۸) اور ان کے آگے ایک آڑ ہے (ف۱۵۹) اس دن تک جس دن اٹھائے جائیں گے،
101تو جب صُور پھونکا جائے گا (ف۱۶۰) تو نہ ان میں رشتے رہیں گے (ف۱۶۱) اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے (ف۱۶۲)
102تو جن کی تولیں (ف۱۶۳) بھاری ہولیں وہی مراد کچھ پہنچے،
103اور جن کی تولیں ہلکی پڑیں (ف۱۶۴) وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے،
104ان کے منہ پر آگ لپیٹ مارے گی اور وہ اس میں منہ چڑائے ہوں گے (ف۱۶۵)
105کیا تم پر میری آیتیں نہ پڑھی جاتی تھیں (ف۱۶۶) تو تم انہیں جھٹلاتے تھے،
106کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے،
107اے رب ہمارے ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں (ف۱۶۷)
108رب فرمائے گا دھتکارے (خائب و خاسر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو (ف۱۶۸)
109بیشک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے،
110تو تم نے انہیں ٹھٹھا بنالیا (ف۱۶۹) یہاں تک کہ انہیں بنانے کے شغل میں (ف۱۷۰) میری یاد بھول گئے اور تم ان سے ہنسا کرتے،
111بیشک آج میں نے ان کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں،
112فرمایا (ف۱۷۱) تم زمین میں کتنا ٹھہرے (ف۱۷۲) برسوں کی گنتی سے
113، بولے ہم ایک دن رہے یا دن کا حصہ (ف۱۷۳) تو گننے والوں سے دریافت فرما (ف۱۷۴)
114فرمایا تم نہ ٹھہرے مگر تھوڑا (ف۱۷۵) اگر تمہیں علم ہوتا،
115تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں (ف۱۷۶)
116تو بہت بلندی والا ہے اللہ سچا بادشاہ کوئی معبود نہیں سوا اس کے عزت والے عرش کا مالک،
117اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے خدا کو پوجے جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں (ف۱۷۷) تو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہے، بیشک کافروں کا چھٹکارا نہیں،
118اور تم عرض کرو، اے میرے رب بخش دے (ف۱۷۸) اور رحم فرما اور تو سب سے برتر رحم کرنے والا،
Chapter 24 (Sura 24)
1یہ ایک سورة ہے کہ ہم نے اتاری اور ہم نے اس کے احکام فرض کیے (ف۲) اور ہم نے اس میں روشن آیتیں نازل فرمائیں کہ تم دھیان کرو،
2جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ (ف۳) اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں (ف۴) اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو (ف۵)
3بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے، اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک (ف۶) اور یہ کام (ف۷) ایمان والوں پر حرام ہے (ف۸)
4اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو (ف۹) اور وہی فاسق ہیں،
5مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور سنور جائیں (ف۱۰) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
6اور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں (ف۱۱) اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے (ف۱۲)
7اور پانچویں یہ کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر جھوٹا ہو،
8اور عورت سے یوں سزا ٹل جائے گی کہ وہ اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ مرد جھوٹا ہے (ف۱۳)
9اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد جھوٹا ہے (ف۱۳) اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد سچا ہو (ف۱۴)
10اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ توبہ قبول فرماتا حکمت والا ہے،
11تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے (ف۱۵) اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے (ف۱۶) ان میں ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا (ف۱۷) اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا (ف۱۸) اس کے لیے بڑا عذاب ہے (ف۱۹)
12کیوں نہ ہوا ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا (ف۲۰) اور کہتے یہ کھلا بہتان ہے (ف۲۱)
13اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں،
14اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہو تی (ف۲۲) تو جس چرچے میں تم پڑے اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا،
15جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے (ف۲۳) اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے (ف۲۴)
16اور کیوں نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں (ف۲۵) الہٰی پاکی ہے تجھے (ف۲۶) یہ بڑا بہتان ہے،
17اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اب کبھی ایسا نہ کہنا اگر ایمان رکھتے ہو،
18اور اللہ تمہارے لیے آیتیں صاف بیان فرماتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
19وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا (ف۲۷) اور آخرت میں (ف۲۸) اور اللہ جانتا ہے (ف۲۹) اور تم نہیں جانتے،
20اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ تم پر نہایت مہربان مہروالا ہے،
21تو تم اس کا مزہ چکھتے (ف۳۰) اے ایمان والو! شیطان کے قدموں پر نہ چلو، اور جو شیطان کے قدموں پر چلے تو وہ تو بے حیائی اور بری ہی بات بتائے گا (ف۳۱) اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں کوئی بھی کبھی ستھرا نہ ہوسکتا (ف۳۲) ہاں اللہ ستھرا کردیتا ہے جسے چاہے (ف۳۳) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
22اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے (ف۳۴) اور گنجائش والے ہیں (ف۳۵) قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی، اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزریں، کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۶)
23بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان (ف۳۷) پارسا ایمان والیوں کو (ف۳۸) ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے (ف۳۹)
24جس دن (ف۴۰) ان پر گواہی دیں گے ان کی زبانیں (ف۴۱) اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے،
25اس دن اللہ انہیں ان کی سچی سزا پوری دے گا (ف۴۲) اور جان لیں گے کہ اللہ ہی صریح حق ہے،
26(ف۴۳) گندیاں گندوں کے لیے اور گندے گندیوں کے لیے (ف۴۴) اور ستھریاں ستھروں کے لیے اور ستھرے ستھریوں کے لیے وہ (ف۴۵) پاک ہیں ان باتوں سے جو یہ (ف۴۶) کہہ رہے ہیں، ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے (ف۴۷)
27اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو (ف۴۸) اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کرلو (ف۴۹) یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو،
28پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ (ف۵۰) جب بھی بے ما لکوں کی اجازت کے ان میں نہ جاؤ (ف۵۱) اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو (ف۵۲) یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے، اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
29اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے نہیں (ف۵۳) اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے، اور اللہ جانتا ہے جوتم ظاہر کرتے ہو، اور جو تم چھپاتے ہو،
30مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (ف۵۴) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (ف۵۵) یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے، بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے،
31اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (ف۵۶) اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں (ف۵۷) مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ (ف۵۸) یا شوہروں کے باپ (ف۵۹) یا اپنے بیٹوں (ف۶۰) یا شوہروں کے بیٹے (ف۶۱) یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے (ف۶۲) یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں (ف۶۳) یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں (ف۶۴) یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں (ف۶۵) اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار (ف۶۶) اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ،
32اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں (ف۶۷) اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب (ف۶۸) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
33اور چاہیے کہ بچے رہیں (ف۶۹) وہ جو نکاح کا مقدور نہیں رکھتے (ف۷۰) یہاں تک کہ اللہ مقدور والا کردے اپنے فضل سے (ف۷۱) اور تمہارے ہاتھ کی مِلک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انہیں آزادی لکھ دو تو لکھ دو (ف۷۲) اگر ان میں کچھ بھلائی جانو (ف۷۳) اور اس پر ان کی مدد کرو اللہ کے مال سے جو تم کو دیا (ف۷۴) اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں کو بدکاری پر جب کہ وہ بچنا چاہیں تاکہ تم دنیوی زندگی کا کچھ مال چاہو (ف۷۵) اور جو انہیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں بخشنے والا مہربان ہے (ف۷۶)
34اور بیشک ہم نے اتاریں تمہاری طرف روشن آیتیں (ف۷۷) اور کچھ ان لوگوں کا بیان جو تم سے پہلے ہو گزرے اور ڈر والوں کے لیے نصیحت،
35اللہ نور ہے (ف۷۸) آسمانوں اور زمینوں کا، اس کے نور کی (ف۷۹) مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے (ف۸۰) جو نہ پورب کا نہ پچھم کا (ف۸۱) قریب ہے کہ اس کا تیل (ف۸۲) بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے نور پر نور ہے (ف۸۳) اللہ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
36ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے (ف۸۴) اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے، اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام (ف۸۵)
37وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد (ف۸۶) اور نماز برپا رکھنے (ف۸۷) اور زکوٰة دینے سے (ف۸۸) ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں (ف۸۹)
38تاکہ اللہ انہیں بدلہ دے ان کے سب سے بہتر کام کام اور اپنے فضل سے انہیں انعام زیادہ دے، اور اللہ روزی دیتا ہے جسے چاہے بے گنتی،
39اور جو کافر ہوئے ان کے کام ایسے ہیں جیسے دھوپ میں چمکتا ریتا کسی جنگل میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھے، یہاں تک جب اس کے پاس آیا تو اسے کچھ نہ پایا (ف۹۰) اور اللہ کو اپنے قریب پایا تو اس نے اس کا حساب پورا بھردیا، اور اللہ جلد حساب کرلیتا ہے (ف۹۱)
40یا جیسے اندھیریاں کسی کنڈے کے (گہرائی والے) دریا میں (ف۹۲) اس کے اوپر موج مو ج کے اوپر اور موج اس کے اوپر بادل، اندھیرے ہیں ایک پر ایک (ف۹۳) جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی دیتا معلوم نہ ہو (ف۹۴) اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں (ف۹۵)
41کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے (ف۹۶) پر پھیلائے سب نے جان رکھی ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح، اور اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے،
42اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف پھر جانا،
43کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نرم نرم چلاتا ہے بادل کو (ف۹۷) پھر انہیں آپس میں مِلاتا ہے (ف۹۸) پھر انہیں تہہ پر تہہ کردیتا ہے تو تُو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو برف کے پہاڑ ہیں ان میں سے کچھ اولے (ف۹۹) پھر ڈالنا ہے انہیں جس پر چاہے (ف۱۰۰) اور پھیردیتا ہے انہیں جس سے چاہے (ف۱۰۱) قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھ لے جائے (ف۱۰۲)
44اللہ بدلی کرتا ہے رات اور دن کی (ف۱۰۳) بیشک اس میں سمجھنے کا مقام ہے نگاہ والوں کو،
45اور اللہ نے زمین پر ہر چلنے والا پانی سے بنایا (ف۱۰۴) تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے (ف۱۰۵) اور ان میں کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے (ف۱۰۶) اور ان میں کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے (ف۱۰۷) اللہ بناتا ہے جو چاہے، بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
46بیشک ہم نے اتاریں صاف بیان کرنے والی آیتیں (ف۱۰۸) اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے (ف۱۰۹)
47اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ اور رسول پر اور حکم مانا پھر کچھ ان میں کے اس کے بعد پھر جاتے ہیں (ف۱۱۰) اور وہ مسلمان نہیں (ف۱۱۱)
48اور جب بلائے جائیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو جبھی ان کا ایک فریق منہ پھیر جاتا ہے،
49اور اگر ان میں ڈگری ہو (ان کے حق میں فیصلہ ہو) تو اس کی طرف آئیں مانتے ہوئے (ف۱۱۲)
50کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۱۳) یا شک رکھتے ہیں (ف۱۱۴) کیا یہ ڈرتے ہیں کہ اللہ و رسول ان پر ظلم کریں گے (ف۱۱۵) بلکہ خود ہی ظالم ہیں،
51مسلمانوں کی بات تو یہی ہے (ف۱۱۶) جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے کہ عرض کریں ہم نے سنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے،
52اور جو حکم مانے اللہ اور اس کے رسول کا اور اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں،
53اور انہوں نے (ف۱۱۷) اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اگر تم انہیں حکم دو گے تو وہ ضرور جہاد کو نکلیں گے تم فرماؤ قسمیں نہ کھاؤ (ف۱۱۸) موافق شرع حکم برداری چاہیے، اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو (ف۱۱۹)
54تم فرماؤ حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۲۰) پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۱۲۱) تو رسول کے ذمہ وہی ہے جس اس پر لازم کیا گیا (ف۱۲۲) اور تم پر وہ ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیا (ف۱۲۳) اور اگر رسول کی فرمانبرداری کرو گے راہ پاؤ گے، اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا (ف۱۲۴)
55اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۲۵) کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا (ف۱۲۶) جیسی ان سے پہلوں کو دی (ف۱۲۷) اور ضرور ان کے لیے جمادے گا ان کا وہ دین جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے (ف۱۲۸) اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا (ف۱۲۹) میری عبادت کریں میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ بے حکم ہیں،
56اور نماز برپا رکھو اور زکوٰة دو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اس امید پر کہ تم پر رحم ہو،
57ہرگز کافروں کو خیال نہ کرنا کہ وہ کہیں ہمارے قابو سے نکل جائیں زمین میں اور ان کا ٹھکانا آ گ ہے، اور ضرور کیا ہی برا انجام،
58اے ایمان والو! چاہیے کہ تم سے اذن لیں تمہارے ہاتھ کے مال غلام (ف۱۳۰) اور جو تم میں ابھی جوانی کو نہ پہنچے (ف۱۳۱) تین وقت (ف۱۳۲) نمازِ صبح سے پہلے (ف۱۳۳) اور جب تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو دوپہر کو (ف۱۳۴) اور نماز عشاء کے بعد (ف۱۳۵) یہ تین وقت تمہاری شرم کے ہیں (ف۱۳۶) ان تین کے بعد کچھ گناہ نہیں تم پر نہ ان پر (ف۱۳۷) آمدورفت رکھتے ہیں تمہارے یہاں ایک دوسرے کے پاس (ف۱۳۸) اللہ یونہی بیان کرتا ہے تمہارے لیے آیتیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
59اور جب تم میں لڑکے (ف۱۳۹) جوانی کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اذن مانگیں (ف۱۴۰) جیسے ان کے اگلوں (ف۱۴۱) نے اذن مانگا، اللہ یونہی بیان فرماتا ہے تم سے اپنی آیتیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
60اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں (ف۱۴۲) جنہیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے بالائی کپڑے اتار رکھیں جب کہ سنگھار نہ چمکائیں (ف۱۴۳) اور ان سے بھی بچنا (ف۱۴۴) ان کے لیے اور بہتر ہے، ور اللہ سنتا جانتا ہے،
61نہ اندھے پر تنگی اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر روک اور نہ تم میں کسی پر کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھر (ف۱۴۶) یا اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر یا اپنے بھائیوں کے یہاں یا اپنی بہنوں کے گھر ے یا اپنے چچاؤں کے یہاں یا اپنی پھپیوں کے گھر یا اپنے ماموؤں کے یہاں یا اپنی خالاؤں کے گھر یا جہاں کی کنجیاں تمہارے قبضہ میں ہیں (ف۱۴۷) یا اپنے دوست کے یہاں تم پر کوئی الزام نہیں کہ مل کر کھاؤ یا الگ الگ (ف۱۴۰) پھر جب کسی گھر میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو (ف۱۵۰) ملتے وقت کی اچھی دعا اللہ کے پاس سے مبارک پاکیزہ، اللہ یونہی بیان فرماتا ہے تم سے آیتیں کہ تمہیں سمجھ ہو،
62ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں (ف۱۵۱) تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں وہ جو تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۵۲) پھر جب وہ تم سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے اللہ سے معافی مانگو (ف۱۵۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
63رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے (ف۱۵۴) بیشک اللہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر (ف۱۵۵) تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے (ف۱۵۶) یا ان پر دردناک عذاب پڑے (ف۱۵۷)
64سن لو ! بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک وہ جانتا ہے جس حال پر تم ہو (ف۱۵۸) اور اس دن کو جس میں اس کی طرف پھیرے جائیں گے (ف۱۵۹) تو وہ انہیں بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے، (ف۱۶۰)
Chapter 25 (Sura 25)
1بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر (ف۲) جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو (ف۳)
2وہ جس کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اور اس نے نہ اختیار فرمایا بچہ (ف۴) اور اس کی سلطنت میں کوئی ساجھی نہیں (ف۵) اس نے ہر چیز پیدا کرکے ٹھیک اندازہ پر رکھی،
3اور لوگوں نے اس کے سوا اور خدا ٹھہرالیے (ف۶) کہ وہ کچھ نہیں بناتے اور خود پیدا کیے گئے ہیں اور خود اپنی جانوں کے برے بھلے کے مالک نہیں اور نہ مرنے کا اختیار نہ جینے کا نہ اٹھنے کا،
4اور کافر بولے (ف۷) یہ تو نہیں مگر ایک بہتان جو انہوں نے بنالیا ہے (ف۸) اور اس پر اور لوگوں نے (ف۹) انہیں مدد دی ہے بیشک وہ (ف۱۰) ظلم اور جھوٹ پر آئے،
5اور بولے (ف۱۱) اگلوں کی کہانیاں ہیں جو انہوں نے (ف۱۲) لکھ لی ہیں تو وہ ان پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں،
6تم فرماؤ اسے تو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر بات جانتا ہے (ف۱۳) بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۴)
7اور بولے (ف۱۵) اور رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے (ف۹۱۶ کیوں نہ اتارا گیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کہ ان کے ساتھ ڈر سناتا (ف۱۷)
8یا غیب سے انہیں کوئی خزانہ مل جاتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جس میں سے کھاتے (ف۱۸) اور ظالم بولے (ف۱۹) تم تو پیروی نہیں کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا (ف۲۰)
9اے محبوب دیکھو کیسی کہاوتیں تمہارے لیے بنارہے ہیں تو گمراہ ہوئے کہ اب کوئی راہ نہیں پاتے،
10بڑی برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تمہارے لیے بہت بہتر اس سے کردے (ف۲۱) جنتیں جن کے نیچے نہریں بہیں اور کرے گا تمہارے لیے اونچے اونچے محل،
11بلکہ یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں، اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لیے تیار کر رکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ،
12جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی (ف۲۲) تو سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا،
13اور جب اس کی کسی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے (ف۲۳) زنجیروں میں جکڑے ہوئے (ف۲۴) تو وہاں موت مانگیں گے (ف۲۵)
14فرمایا جائے گا آج ایک موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں مانگو (ف۲۶)
15تم فرماؤ کیا یہ (ف۲۷) بھلا یا وہ ہمیشگی کے باغ جس کا وعدہ ڈر والوں کو ہے، وہ ان کا صلہ اور انجام ہے،
16ان کے لیے وہاں من مانی مرادیں ہیں جن میں ہمیشہ رہیں گے، تمہارے رب کے ذمہ وعدہ ہے مانگا ہوا، ف۲۸)
17اور جس دن اکٹھا کرے گا انہیں (ف۲۹) اور جن کوا لله کے سوا پوجتے ہیں (ف۳۰) پھر ان معبودو ں سے فرمائے گا کیا تم نے گمراہ کردیے یہ میرے بندے یا یہ خود ہی راہ بھولے (ف۳۱)
18وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو (ف۳۲) ہمیں سزاوار (حق) نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو مولیٰ بنائیں (ف۳۳) لیکن تو نے انہیں اور ان کے باپ داداؤں کو برتنے دیا (ف۳۴) یہاں تک کہ وہ تیری یاد بھول گئے اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے (ف۳۵)
19تو اب معبودوں نے تمہاری بات جھٹلادی تو اب تم نہ عذاب پھیرسکو نہ اپنی مدد کرسکو اور تم میں جو ظالم ہے ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے،
20اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے (ف۳۶) اور ہم نے تم میں ایک کو دوسرے کی جانچ کیا ہے (ف۳۷) اور اے لوگو! کیا تم صبر کرو گے (ف۳۸) اور اے محبوب! تمہارا رب دیکھتا ہے (ف۲۹)
21اور بولے وہ جو (ف۴۰) ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے (ف۴۱) یا ہم اپنے رب کو دیکھتے (ف۴۲) بیشک اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی (سرکشی کی) اور بڑی سرکشی پر آئے (ف۴۳)
22جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے (ف۴۴) وہ دن مجرموں کی کوئی خوشی کا نہ ہوگا (ف۴۵) اور کہیں گے الٰہی ہم میں ان میں کوئی آڑ کردے رکی ہوئی (ف۴۶)
23اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے (ف۴۷) ہم نے قصد فرماکر انہیں باریک باریک غبار، کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں (ف۴۸)
24جنت والوں کا اس دن اچھا ٹھکانا (ف۴۹) اور حساب کے دوپہر کے بعد اچھی آرام کی جگہ،
25اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادلوں سے اور فرشتے اتارے جائیں گے پوری طرح (ف۵۰)
26اس دن سچی بادشاہی رحمن کی ہے، اور وہ دن کافروں پر سخت ہے (ف۵۱)
27اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا چبا لے گا (ف۵۲) کہ ہائے کسی طرح سے میں نے رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی، (ف۵۳)
28وائے خرابی میری ہائے کسی طرح میں نے فلانے کو دوست نہ بنایا ہوتا،
29بیشک اس نے مجھے بہکادیا میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے (ف۵۴) اور شیطان آدمی کو بے مدد چھوڑ دیتا ہے (ف۵۵)
30اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرایا (ف۵۶)
31اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن بنادیے تھے مجرم لوگ (ف۵۷) اور تمہارا رب کافی ہے ہدایت کرنے اور مدد دینے کو،
32اور کافر بولے قرآن ان پر ایک ساتھ کیوں نہ اتار دیا (ف۵۸) ہم نے یونہی بتدریج سے اتارا ہے کہ اس سے تمہارا دل مضبوط کریں (ف۵۹) اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا (ف۶۰)
33اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے (ف۶۱) مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے،
34وہ جو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اپنے منہ کے بل ان کا ٹھکانا سب سے برا (ف۶۲) اور وہ سب سے گمراہ،
35اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اس کے بھائی ہارون کو وزیر کیا،
36تو ہم نے فرمایا تم دونوں جاؤ اس قوم کی طرف جس نے ہماری آیتیں جھٹلائیں (ف۶۳) پھر ہم نے انہیں تباہ کرکے ہلاک کردیا،
37اور نوح کی قوم کو (ف۶۴) جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۶۵) ہم نے ان کو ڈبو دیا اور انہیں لوگوں کے لیے نشانی کردیا (ف۶۶) اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
38اور عاد اور ثمود (ف۶۷) اور کنوئیں والوں کو (ف۶۸) اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں (قومیں) (ف۶۹)
39اور ہم نے سب سے مثالیں بیان فرمائیں (ف۷۰) اور سب کو تباہ کرکے مٹادیا،
40اور ضرور یہ (ف۷۱) ہو آئے ہیں اس بستی پر جس پر برا برساؤ برسا تھا (ف۷۲) تو کیا یہ اسے دیکھتے نہ تھے (ف۷۳) بلکہ انہیں جی اٹھنے کی امید تھی ہی نہیں (ف۷۴)
41اور جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا (ف۷۵) کیا یہ ہیں جن کو اللہ نے رسول بناکر بھیجا،
42قریب تھا کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بہکادیں اگر ہم ان پر صبر نہ کرتے (ف۷۶) اور اب جانا چاہتے ہیں جس دن عذاب دیکھیں گے (ف۷۷) کہ کون گمراہ تھا (ف۷۸)
43کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی جی کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا (ف۷۹) تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے (ف۸۰)
44یا یہ سمجھتے ہو کہ ان میں بہت کچھ سنتے یا سمجھتے ہیں (ف۸۱) وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ (ف۸۲)
45اے محبوب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا (ف۸۳) کہ کیسا پھیلا سایہ (ف۸۴) اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا کردیتا (ف۸۵) پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا،
46پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹا (ف۸۶)
47اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ کیا اور نیند کو آرام اور دن بنایا اٹھنے کے لیے (ف۸۷)
48اور وہی ہے جس نے ہوائیں بھیجیں اپنی رحمت کے آگے مژدہ سنائی ہوئی (ف۸۸) اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا پاک کرنے والا،
49تاکہ ہم ا سسے زندہ کریں کسی مردہ شہر کو (ف۸۹) اور اسے پلائیں اپنے بنائے ہوئے بہت سے چوپائے اور آدمیوں کو،
50اور بیشک ہم نے ان میں پانی کے پھیرے رکھے (ف۹۰) کہ وہ دھیان کریں (ف۹۱) تو بہت لوگوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا،
51اور ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈر سنانے والا بھیجتے (ف۹۲)
52تو کافروں کا کہا نہ مان اور اس قرآن سے ان پر جہاد کر بڑا جہاد،
53اور وہی ہے جس نے ملے ہوئے رواں کیے دو سمندر یہ میٹھا ہے نہایت شیریں اور یہ کھاری ہے نہایت تلخ اور ان کے بیچ میں پردہ رکھا اور روکی ہوئی آڑ (ف۹۳)
54اور وہی ہے جس نے پانی سے (ف۹۴) بنایا آدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کی (ف۹۵) اور تمہارا رب قدرت والا ہے (ف۹۶)
55اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۹۷) جو ان کا بھلا برا کچھ نہ کریں اور کافر اپنے رب کے مقابل شیطان کو مدد دیتا ہے (ف۹۸)
56اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر (ف۹۹) خوشی اور (ف۱۰۰) ڈر سناتا،
57تم فرماؤ میں اس (ف۱۰۱) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف راہ لے، (ف۱۰۲)
58اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا (ف۱۰۳) اور اسے سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو (ف۱۰۴) اور وہی کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں پر خبردار (ف۱۰۵)
59جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے (ف۱۰۶) پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے (ف۱۰۷) وہ بڑی مہر والا تو کسی جاننے والے سے اس کی تعریف پوچھ (ف۱۰۸)
60اور جب ان سے کہا جائے (ف۱۰۹) رحمن کو سجدہ کرو کہتے ہیں رحمن کیا ہے، کیا ہم سجدہ کرلیں جسے تم کہو (ف۱۱۰) اور اس حکم نے انہیں اور بدکنا بڑھایا (ف۱۱۱) السجدة ۔۷
61بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے (ف۱۱۲) اور ان میں چراغ رکھا (ف۱۱۳) اور چمکتا چاند،
62اور وہی ہے جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی (ف۱۱۴) اس کے لیے جو دھیان کرنا چاہے یا شکر کا ارادہ کرے،
63اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں (ف۱۱۵) اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں (ف۱۱۶) تو کہتے ہیں بس سلام (ف۱۱۷)
64اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام میں (ف۱۱۸)
65اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب، بیشک اس کا عذاب گلے کا غل (پھندا) ہے (ف۱۱۹)
66بیشک وہ بہت ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے،
67اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں (ف۱۲۰) اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں (ف۱۲۱)
68اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے (ف۱۲۲) اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی (ف۱۲۳) ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے (ف۱۲۴) اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا،
69بڑھایا جائے گا اس پر عذابِ قیامت کے دن (ف۱۲۵) اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا،
70مگر جو توبہ کرے (ف۱۲۶) اور ایمان لائے (ف۱۲۷) اور اچھا کام کرے (ف۱۲۷) اور اچھا کام کرے (ف۱۲۸) تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا (ف۱۲۹) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
71اور جو توبہ کرے اور اچھا کام کرے تو وہ اللہ کی طرف رجوع لایا جیسی چاہیے تھی،
72اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے (ف۱۳۰) اور جب بیہودہ پر گذرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں، (ف۱۳۱)
73اور وہ کہ جب کہ انہیں ان کے رب کی آیتیں یاد د لائی جائیں تو ان پر (ف۱۳۲) بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے (ف۱۳۳)
74اور وہ جو عرض کرتے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں دے ہماری بیبیوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک (ف۱۳۴) اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا (ف۱۳۵)
75ان کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے اور سلام کے ساتھ ان کی پیشوائی ہوگی (ف۱۳۶)
76ہمیشہ اس میں رہیں گے، کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ،
77تم فرماؤ (ف۱۳۷) تمہاری کچھ قدر نہیں میرے رب کے یہاں اگر تم اسے نہ پوجو تو تم نے تو جھٹلایا (ف۱۳۸) تو اب ہوگا وہ عذاب کہ لپٹ رہے گا (ف۱۳۹)
Chapter 26 (Sura 26)
1طٰسم
2یہ آیتیں ہیں روشن کتا ب کی (ف۲)
3کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے (ف۳)
4اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی اتاریں کہ ان کے اونچے اونچے اس کے حضور جھکے رہ جائیں (ف۴)
5اور نہیں آتی ان کے پاس رحمٰان کی طرف سے کوئی نئی نصیحت مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں (ف۵)
6تو بیشک انہوں نے جھٹلایا تو اب ان پر آیا چاہتی ہیں خبریں ان کے ٹھٹھے کی (ف۶)
7کیا انہوں نے زمین کو نہ دیکھا ہم نے اس میں کتنے عزت والے جوڑے اگائے (ف۷)
8بیشک اس میں ضرور نشانی ہے (ف۸) اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں،
9اور بیشک تمہارا رب ضرور وہی عزت والا مہربان ہے (ف۹)
10اور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسیٰ کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے پاس جا،
11جو فرعون کی قوم ہے (ف۱۰) کیا وہ نہ ڈریں گے (ف۱۱)
12عرض کی کہ اے میرے رب میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جھٹلا ئیں گے،
13اور میرا سینہ تنگی کرتا ہے (ف۱۲) اور میری زبان نہیں چلتی (ف۱۳) تو توُ ہا رون کو بھی رسول کر، (ف۱۴)
14اور ان کا مجھ پر ایک الزام ہے (ف۱۵) تو میں ڈرتا ہو ں کہیں مجھے (ف۱۶) کر دیں،
15فرما یا یوں نہیں (ف ۱۷) تم دو نوں میری آئتیں لے کر جا ؤ ہم تمھا رے ساتھ سنتے ہیں (ف۱۸)
16تو فرعون کے پاس جاؤ پھر اس سے کہو ہم دونو ں اسکے رسل ہیں جو رب ہے سارے جہا ں کا،
17کہ تو ہما رے ساتھ بنی اسرائیل کو چھوڑ دے (ف۱۹)
18بو لا کیا ہم نے تمھیں اپنے یہاں بچپن میں نہ پالا اور تم نے ہما رے یہا ں اپنی عمر کے کئی برس گزارے، ف۲۰)
19اور تم نے کیا اپنا وہ کام جو تم نے کیا (ف۲۱) اور تم نا شکر تھے (ف۲۲)
20موسٰی نے فر ما یا میں نے وہ کام کیا جب کہ مجھے راہ کی خبر نہ تھی (ف۲۳)
21تو میں تمھا رے یہا ں سے نکل گیا جب کے تم سے ڈرا (ف۲۴) تو میرے رب نے مجھے حکم عطا فرمایا (ف۲۵) اور مجھے پیغمبروں سے کیا،
22اور یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتاتا ہے کہ تو نے غَلام بناکر رکھے بنی اسرائیل (ف۲۶)
23فرعون بولا اور سارے جہان کا رب کیا ہے (ف۲۷)
24موسیٰ نے فرمایا رب آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، اگر تمہیں یقین ہو (ف۲۸)
25اپنے آس پاس والوں سے بولا کیا تم غور سے سنتے نہیں (ف۲۹)
26موسیٰ نے فرمایا رب تمہارا اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کا (ف۳۰)
27بولا تمہارے یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ضرور عقل نہیں رکھتے (ف۳۱)
28موسیٰ نے فرمایا رب پورب (مشرق) اور پچھم(مغرب) کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (ف۳۲) اگر تمہیں عقل ہو (ف۳۳)
29بولا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا ٹھہرایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا (ف۳۴)
30فرمایا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لاؤں (ف۳۵)
31کہا تو لاؤ اگر سچے ہو،
32تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا جبھی وہ صریح اژدہا ہوگیا (ف۳۶)
33اور اپنا ہاتھ (ف۳۷) نکالا تو جبھی وہ دیکھنے والوں کی نگاہ میں جگمگانے لگا (ف۳۸)
34بولا اپنے گرد کے سرداروں سے کہ بیشک یہ دانا جادوگر ہیں،
35چاہتے ہیں، کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اپنے جادو کے زور سے، تب تمہارا کیا مشورہ ہے (ف۳۹)
36وہ بولے انہیں ان کے بھائی کو ٹھہرائے رہو اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیجو،
37کہ وہ تیرے پاس لے آئیں ہر بڑے جادوگر دانا کو (ف۴۰)
38تو جمع کیے گئے جادوگر ایک مقرر دن کے وعدے پر (ف۴۱)
39اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہوگئے (ف۴۲)
40شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ غالب آئیں (ف۴۳)
41پھر جب جادوگر آئے فرعون سے بولے کیا ہمیں کچھ مزدوری ملے گی اگر ہم غالب آئے،
42بولا ہاں اور اس وقت تم میرے مقرب ہوجاؤ گے (ف۴۴)
43موسیٰ نے ان سے فرمایا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے (ف۴۵)
44تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور بولے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہماری ہی جیت ہے، (ف۴۶)
45تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا جبھی وہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف۴۷)
46اب سجدہ میں گرے،
47جادوگر، بولے ہم ایمان لائے اس پر جو سارے جہان کا رب ہے،
48جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے،
49فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا (ف۴۸) تو اب جاننا چاہتے ہو (ف۴۹) مجھے قسم ہے! بیشک میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا (ف۵۰)
50وہ بولے کچھ نقصان نہیں (ف۵۱) ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں (ف۵۲)
51ہمیں طمع ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے اس پر کہ سب سے پہلے ایمان لائے (ف۵۳)
52اور ہم نے موسٰی کو وحی بھیجی کہ راتوں را ت میرے بندو ں کو (ف ۵۴) لے نکل بیشک تمھارا پیچھا ہو نا ہے، ف۵۵)
53اب فرعون نے شہروں میں جمع کرنے والے بھیجے (ف۵۶)
54کہ یہ لوگ ایک تھوڑی جماعت ہیں،
55اور بیشک ہم سب کا دل جلاتے ہیں (ف۵۷)
56اور بیشک ہم سب چوکنے ہیں (ف۵۸)
57تو ہم نے انہیں (ف۵۹) باہر نکالا باغوں اور چشموں،
58اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے،
59ہم نے ایسا ہی کیا اور ان کا وارث کردیا بنی اسرائیل کو (ف۶۰)
60تو فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا دن نکلے،
61پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا (ف۶۱) موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا (ف۶۲)
62موسیٰ نے فرمایا یوں نہیں (ف۶۳) بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے،
63تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار (ف۶۴) تو جبھی دریا پھٹ گیا (ف۶۵) تو ہر حصہ ہوگیا جیسے بڑا پہاڑ (ف۶۶)
64اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو (ف۶۷)
65اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو (ف۶۸)
66پھر دوسروں کو ڈبو دیا (ف۶۹)
67بیشک اس میں ضرور نشانی ہے (ف۷۰) اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے (ف۷۱)
68اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا (ف۷۲) مہربان ہے (ف۷۳)
69اور ان پر پڑھو خبر ابراہیم کی (ف۷۴)
70جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا تم کیا پوجتے ہو (ف۷۵)
71بولے ہم بتوں کو پوجتے ہیں پھر ان کے سامنے آسن مارے رہتے ہیں،
72فرمایا کیا وہ تمہاری سنتے ہیں جب تم پکارو،
73یا تمہارا کچھ بھلا برا کرتے ہیں (ف۷۶)
74بولے بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا،
75فرمایا تو کیا تم دیکھتے ہو یہ جنہیں پوج رہے ہو،
76تم اور تمہارے اگلے باپ دادا (ف۷۷)
77بیشک وہ سب میرے دشمن ہیں (ف۷۸) مگر پروردگار عالم (ف۷۹)
78وہ جس نے مجھے پیدا کیا (ف۸۰) تو وہ مجھے راہ دے گا (ف۸۱)
79اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے (ف۸۲)
80اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے (ف۸۳)
81اور وہ مجھے وفات دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا (ف۸۴)
82اور وہ جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا (ف۸۵)
83اے میرے رب مجھے حکم عطا کر (ف۸۶) اور مجھے ان سے ملادے جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں (ف۸۷)
84اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں (ف۸۸)
85اور مجھے ان میں کر جو چین کے باغوں کے وارث ہیں (ف۸۹)
86اور میرے باپ کو بخش دے (ف۹۰) بیشک وہ گمراہ،
87اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے (ف۹۱)
88جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے،
89مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر (ف۹۲)
90اور قریب لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے لیے (ف۹۳)
91اور ظاہر کی جائے گی دوزخ گمراہوں کے لیے،
92اور ان سے کہا جائے گا (ف۹۴) کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے،
93اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے (ف۹۵) یا بدلہ لیں گے،
94تو اوندھا دیے گئے جہنم میں وہ اور سب گمراہ (ف۹۶)
95اور ابلیس کے لشکر سارے (ف۹۷)
96کہیں گے اور وہ اس میں باہم جھگڑے ہوں گے،
97خدا کی قسم بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے،
98جبکہ انہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے،
99اور ہمیں نہ بہکایا مگر مجرموں نے (ف۹۸)
100تو اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں (ف۹۹)
101اور نہ کوئی غم خوار دوست (ف۱۰۰)
102تو کسی طرح ہمیں پھر جانا ہوتا (ف۱۰۱) کہ ہم مسلمان ہوجاتے،
103بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت ایمان والے نہ تھے،
104اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا مہربان ہے،
105نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا (ف۱۰۲)
106جبکہ ان سے ان کے ہم قوم نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں (ف۱۰۳)
107بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا بھیجا ہوا امین ہوں (ف۱۰۴)
108تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو (ف۱۰۵)
109اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے،
110تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
111بولے کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں اور تمہارے ساتھ کمینے ہو ےٴ ہیں (ف۱۰۶)
112فرمایا مجھے کیا خبر ان کے کام کیا ہیں (ف۱۰۷)
113ان کا حساب تو میرے رب ہی پر ہے (ف۱۰۸) اگر تمہیں حِس ہو (ف۱۰۹)
114اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں (ف۱۱۰)
115میں تو نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا (ف۱۱۱)
116بولے اے نوح! اگر تم باز نہ آئے (ف۱۱۲) تو ضرور سنگسار کیے جاؤ گے (ف۱۱۳)
117عرض کی اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلایا (ف۱۱۴)
118تو مجھ میں اور ان میں پورا فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے ساتھ والے مسلمانوں کو نجات دے (ف۱۱۵)
119تو ہم نے بچالیا اسے اور اس کے ساتھ والوں کو بھری ہوئی کشتی میں (ف۱۱۶)
120پھر اس کے بعد (ف۱۱۷) ہم نے باقیوں کو ڈبو دیا،
121بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے،
122اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،
123عاد نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۱۱۸)
124جبکہ ان سے ان کے ہم قوم ہود نے فرمایا کیا تم ڈرتے نہیں،
125بیشک میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں،
126تو اللہ سے ڈرو (ف۱۱۹) اور میرا حکم مانو،
127اور میں تم سے اس پر کچھ اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب،
128کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے ہو راہ گیروں سے ہنسنے کو (ف۱۲۰)
129اور مضبوط محل چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے (ف۱۲۱)
130اور جب کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑی بیدردی سے گرفت کرتے ہو (ف۱۲۲)
131تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
132اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری مدد کی ان چیزوں سے کہ تمہیں معلوم ہیں (ف۱۲۳)
133تمہاری مدد کی چوپایوں اور بیٹوں،
134اور باغوں اور چشموں سے،
135بیشک مجھے تم پر ڈر ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا (ف۱۲۴)
136بولے ہمیں برابر ہے چاہے تم نصیحت کرو یا ناصحوں میں نہ ہو (ف۱۲۵)
137یہ تو نہیں مگر وہی اگلوں کی ریت (ف۱۲۶)
138اور ہمیں عذاب ہونا نہیں (ف۱۲۷)
139تو انہوں نے اسے جھٹلایا (ف۱۲۸) تو ہم نے انہیں بلاک کیا (ف۱۲۹) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،
140اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،
141ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا،
142جبکہ ان سے ان کے ہم قوم صا لح نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں،
143بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،
144تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
145اور میں تم سے کچھ اس پر اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے،
146کیا تم یہاں کی (ف۱۳۰) نعمتوں میں چین سے چھوڑ دیے جاؤ گے (ف۱۳۱)
147باغوں اور چشموں،
148اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا شگوفہ نرم نازک،
149اور پہاڑوں میں سے گھر تراشتے ہو استادی سے (ف۱۳۲)
150تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
151اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو (ف۱۳۳)
152وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۱۳۴) اور بناؤ نہیں کرتے (ف۱۳۵)
153بولے تم پر تو جادو ہوا ہے (ف۱۳۶)
154تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو، تو کوئی نشانی لاؤ (ف۱۳۷) اگر سچے ہو (ف۱۳۸)
155فرمایا یہ ناقہ ہے ایک دن اس کے پینے کی باری (ف۱۳۹) اور ایک معین دن تمہاری باری،
156اور اسے برائی کے ساتھ نہ چھوؤ (ف۱۴۰) کہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آلے گا (ف۱۴۱)
157اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں (ف۱۴۲) پھر صبح کو پچھتاتے رہ گئے (ف۱۴۳)
158تو انہیں عذاب نے آلیا (ف۱۴۴) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،
159اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،
160لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،
161جب کہ ان سے ان کے ہم قوم لوط نے فرمایا کیا تم نہیں ڈرتے،
162بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،
163تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
164اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جان کا رب ہے،
165کیا مخلوق میں مردوں سے بدفعلی کرتے ہو (ف۱۴۵)
166اور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جوروئیں بنائیں، بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو (ف۱۴۶)
167بولے اے لوط! اگر تم باز نہ آئے (ف۱۴۷) تو ضرور نکال دیے جاؤ گے (ف۱۴۸)
168فرمایا میں تمہارے کام سے بیزار ہوں (ف۱۴۹)
169اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے کام سے بچا (ف۱۵۰)
170تو ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی (ف۱۵۱)
171مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی (ف۱۵۲)
172پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا،
173اور ہم نے ان پر ایک برساؤ برسایا (ف۱۵۳) تو کیا ہی برا برساؤ تھا ڈرائے گئیوں کا،
174بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،
175اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،
176بن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۱۵۴)
177جب ان سے شعیب نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں،
178بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،
179تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
180اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے (ف۱۵۵)
181ناپ پورا کرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہو (ف۱۵۶)
182اور سیدھی ترازو سے تولو،
183اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو (ف۱۵۷)
184اور اس سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا اور اگلی مخلوق کو،
185بولے تم پر جادو ہوا ہے،
186تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی (ف۱۵۸) اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں،
187تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو (ف۱۵۹)
188فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (کرتوت) ہیں (ف۱۶۰)
189تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا، بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا (ف۱۶۱)
190بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،
191اور بیشک تمہارار ب ہی عزت والا مہربان ہے،
192اور بیشک یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے،
193اسے روح الا مین لے کر اترا (ف۱۶۲)
194تمہارے دل پر (ف۱۶۳) کہ تم ڈر سناؤ،
195روشن عربی زبان میں،
196اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے (ف۱۶۴)
197اور کیا یہ ان کے لیے نشانی نہ تھی (ف۱۶۵) کہ اس نبی کو جانتے ہیں بنی اسرائیل کے عالم (ف۱۶۶)
198اور اگر ہم اسے کسی غیر عربی شخص پر اتارتے،
199کہ وہ انہیں پڑھ کر سناتا جب بھی اس پر ایمان نہ لاتے (ف۱۶۷)
200ہم نے یونہی جھٹلانا پیرا دیا ہے مجرموں کے دلوں میں (ف۱۶۸)
201وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ دیکھیں دردناک عذاب،
202تو وہ اچانک ان پر آجائے گا اور انہیں خبر نہ ہوگی،
203تو کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی (ف۱۶۹)
204تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں،
205بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انہیں برتنے دیں (ف۱۷۰)
206پھر آئے ان پر جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں (ف۱۷۱)
207تو کیا کام آئے گا ان کے وہ جو برتتے تھے (ف۱۷۲)
208اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہ کی جسے ڈر سنانے والے نہ ہوں،
209نصیحت کے لیے، اور ہم ظلم نہیں کرتے (ف۱۷۳)
210او راس قرآن کو لے کر شیطان نہ اترے (ف۱۷۴)
211اور وہ اس قابل نہیں (ف۱۷۵) اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں (ف۱۷۶)
212وہ تو سننے کی جگہ سے دور کردیے گئے ہیں (ف۱۷۷)
213تو اللہ کے سوا دوسرا خدا نہ پوج کہ تجھ پر عذاب ہوگا،
214اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ (ف۱۷۸)
215اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ (ف۱۷۹) اپنے پیرو مسلمانوں کے لیے (ف۱۸۰)
216تو اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرمادو میں تمہارے کاموں سے بے علاقہ ہوں،
217اور اس پر بھروسہ کرو جو عزت والا مہر والا ہے (ف۱۸۱)
218جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو (ف۱۸۲)
219اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو (ف۱۸۳)
220بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۱۸۴)
221کیا میں تمہیں بتادوں کہ کس پر اترتے ہیں شیطان،
222اترتے ہیں بڑے بہتان والے گناہگار پر (ف۱۸۵)
223شیطان اپنی سنی ہوئی (ف۱۸۶) ان پر ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں (ف۱۸۷)
224اور شاعروں کی پیرو ی گمراہ کرتے ہیں (ف۱۸۸)
225کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں (ف۱۸۹)
226اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے (ف۱۹۰)
227مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۹۱) اور بکثرت اللہ کی یاد کی (ف۱۹۲) اور بدلہ لیا (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا (ف۱۹۴) اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم (ف۱۹۵) کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے (ف۱۹۶)
Chapter 27 (Sura 27)
1یہ آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی (ف۲)
2ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کو،
3وہ جو نماز برپا رکھتے ہیں (ف۳) اور زکوٰة دیتے ہیں (ف۴) اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں،
4وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے کوتک (برے اعمال) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے ہیں (ف۵)
5تو وہ بھٹک رہے ہیں یہ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے (ف۶) اور یہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نقصان میں (ف۷)
6اور بیشک تم قرآن سکھائے جاتے اور حکمت والے علم والے کی طرف سے (ف۸)
7جب کہ موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا (ف۹) مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے عنقریب میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں یا اس میں سے کوئی چمکتی چنگاری لاؤں گا کہ تم تاپو (ف۱۰)
8پھر جب آگ کے پاس آیا ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے یعنی موسیٰ اور جو اس کے آس پاس میں یعنی فرشتے (ف۱۱) اور پاکی ہے اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا،
9اے موسیٰ بات یہ ہے کہ میں ہی ہوں اللہ عزت والا حکمت والا،
10اور اپنا عصا ڈال دے (ف۱۲) پھر موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا، ہم نے فرمایا اے موسیٰ ڈر نہیں، بیشک میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا (ف۱۳)
11ہاں جو کوئی ز یادتی کرے (ف۱۴) پھر برائی کے بعد بھلائی سے بدلے تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں (ف۱۵)
12اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب (ف۱۶) نو نشانیوں میں (ف۱۷) فرعون اور اس کی قوم کی طرف، بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں،
13پھر جب ہماری نشانیاں آنکھیں کھولتی ان کے پاس آئیں (ف۱۸) بولے یہ تو صریح جادو ہے،
14اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا (ف۱۹) ظلم اور تکبر سے تو دیکھو کیسا انجام ہوا فسادیوں کا (ف۲۰)
15اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا (ف۲۱) اور دونوں نے کہا سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی (ف۲۲)
16اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا (ف۲۳) اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہر چیز میں سے ہم کو عطا ہوا (ف۲۴) بیشک یہی ظاہر فضل ہے (ف۲۵)
17اور جمع کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اور آدمیوں اور پرندوں سے تو وہ روکے جاتے تھے (ف۲۶)
18یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے نالے پر آئے (ف۲۷) ایک چیونٹی بولی (ف۲۸) اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ تمہیں کچل نہ ڈالیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں (ف۲۹)
19تو اس کی بات مسکرا کر ہنسا (ف۳۰) اور عرض کی اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے (ف۳۱) مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے اور یہ کہ میں وہ بھلا کام کرو ں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں (ف۳۲)
20اور پرندوں کا جائزہ لیا تو بولا مجھے کیا ہوا کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھتا یا وہ واقعی حاضر نہیں،
21ضرور میں اسے سخت عذاب کرو ں گا (ف۳۳) یا ذبح کردوں گا یا کوئی روشن سند میرے پاس لائے (ف۳۴)
22تو ہد ہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکر (ف۳۵) عرض کی کہ میں وہ بات دیکھ کر آیا ہوں جو حضور نے نہ دیکھی اور میں شہر سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں،
23میں نے ایک عورت دیکھی (ف۳۶) کہ ان پر بادشاہی کررہی ہے اور اسے ہر چیز میں سے ملا ہے (ف۳۷) اور اس کا بڑا تخت ہے (ف۳۸)
24میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹) اور شیطان نے ان کے اعمانل ان کی نگاہ میں سنوار کر ان کو سیدھی راہ سے روک دیا (ف۴۰) تو وہ راہ نہیں پاتے،
25کیوں نہیں سجدہ کرتے اللہ کو جو نکالتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں (ف۴۱) اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو (ف۴۲)
26اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ بڑے عرش کا مالک ہے، السجد ة۔۸)
27سلیمان نے فرمایا اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں ہے (ف۴۳)
28میرا یہ فرمان لے جان کر ان پر ڈال پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں (ف۴۴)
29وہ عورت بولی اے سردارو! بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا (ف۴۵)
30بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے نہایت مہربان رحم والا،
31یہ کہ مجھ پر بلندی نہ چاہو (ف۴۶) اور گردن رکھتے میرے حضور حاضر ہو (ف۴۷)
32بولی اے سردارو! میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو میں کسی معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو،
33وہ بولے ہم زور والے اور بڑی سخت لڑائی والے ہیں (ف۴۸) اور اختیار تیرا ہے تو نظر کر کہ کیا حکم دیتی ہے (ف۴۹)
34بولی بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں (ف۵۰) داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو (ف۵۱) ذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں (ف۵۲)
35اور میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹے (ف۵۳)
36پھر جب وہ (ف۵۴) سلیمان کے پاس آیا فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللہ نے دیا (ف۵۵) وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں دیا (ف۵۶) بلکہ تمہیں اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو (ف۵۷)
37پلٹ جا ان کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی انہیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں گے یوں کہ وہ پست ہوں گے (ف۵۸)
38سلیمان نے فرمایا، اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکر حاضر ہوں (ف۵۹)
39ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں (ف۶۰) اور میں بیشک اس پر قوت والا امانتدار ہوں (ف۶۱)
40اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا (ف۶۲) کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے (ف۶۳) پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہ یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے (ف۶۴) اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا،
41سلیمان نے حکم دیا عورت کا تخت اس کے سامنے وضع بدل کر بیگانہ کردو کہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پاتی ہے یا ان میں ہوتی ہے جو ناواقف رہے،
42پھر جب وہ آئی اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے، بولی گویا یہ وہی ہے (ف۶۵) اور ہم کو اس واقعہ سے پہلے خبر مل چکی (ف۶۶) اور ہم فرمانبردار ہوئے (ف۶۷)
43اور اسے روکا (ف۶۸) اس چیز نے جسے وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی، بیشک وہ کافر لوگوں میں سے تھی،
44اس سے کہا گیا صحن میں آ (ف۶۹) پھر جب اس نے اسے دیکھا گہرا پانی سمجھی اور اپنی ساقیں کھولیں (ف۷۰) سلیمان نے فرمایا یہ تو ایک چکنا صحن ہے شیشوں جڑا (ف۷۱) عورت نے عرض کی اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا (ف۷۲) اور اب سلیمانے کے ساتھ اللہ کے حضور گردن رکھتی ہوں جو رب سارے جہان کا (ف۷۳)
45اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ اللہ کو پوجو (ف۷۴) تو جبھی وہ دو گروہ ہوگئے (ف۷۵) جھگڑا کرتے (ف۷۶)
46صا لح نے فرمایا اے میری قوم! کیوں برائی کی جلدی کرتے ہو (ف۷۷) بھلائی سے پہلے (ف۷۸) اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے (ف۷۹) شاید تم پر رحم ہو (ف۸۰)
47بولے ہم نے برُا شگون کیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے (ف۸۱) فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے (ف۸۲) بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو (ف۸۳)
48اور شہر میں نو شخص تھے (ف۸۴) کہ زمین میں فساد کرتے اور سنوار نہ چاہتے،
49آپس میں اللہ کی قسمیں کھا کر بولے ہم ضرور رات کو چھاپا ماریں گے صا لح اور اس کے گھر والوں پر (ف۸۵) پھر اس کے وارث سے (ف۸۶) کہیں گے اس گھر والوں کے قتل کے وقت ہم حاضر نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں،
50او رانہوں نے اپنا سا مکر کیا اور ہم نے اپنی خفیہ تدبیر فرمائی (ف۸۷) اور وہ غافل رہے،
51تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان کے مکر کا ہم نے ہلاک کردیا انہیں (ف۸۸) اور ان کی ساری قوم کو (ف۸۹)
52تو یہ ہیں ان کے گھر ڈھے پڑے بدلہ ان کے ظلم کا، بیشک اس میں نشانی ہے جاننے والوں کے لیے،
53اور ہم نے ان کو بچالیا جو ایمان لائے (ف۹۰) اور ڈرتے تھے (ف۹۱)
54اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا بے حیائی پر آتے ہو (ف۹۲) اور تم سوجھ رہے ہو (ف۹۳)
55کیا تم مردوں کے پاس مستی سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر (ف۹۴) بلکہ تم جاہل لوگ ہو (ف۹۵)
56تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہ کہ بولے لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو ستھراپن چاہتے ہیں (ف۹۶)
57تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت کو ہم نے ٹھہرادیا تھا کہ وہ رہ جانے والوں میں ہے (ف۹۷)
58اور ہم نے ان پر ایک برساؤ برسایا (ف۹۸) تو کیا ہی برا برساؤ تھا ڈرا ئے ہوؤں کا،
59تم کہو سب خوبیاں اللہ کو (ف۹۹) اور سلام اس کے چنے ہوئے بندے پر (ف۱۰۰) کیا اللہ بہتر (ف۱۰۱) یا ان کے ساختہ شریک (ف۱۰۲)
60ا وہ جس نے آسمان و زمین بنائے (ف۱۰۳) اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے باغ اگائے رونق والے تمہاری طاقت نہ تھی کہ ان کے پیڑ اگاتے (ف۱۰۴) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے (ف۱۰۵) بلکہ وہ لوگ راہ سے کتراتے ہیں (ف۱۰۶)
61یا وہ جس نے زمین بسنے کو بنائی اور اس کے بیچ میں نہریں نکالیں اور اس کے لیے لنگر بنائے (ف۱۰۷) اور دونوں سمندروں میں آڑ رکھی (ف۱۰۸) کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے، بلکہ ان میں اکثر جاہل ہیں (ف۱۰۹)
62یا وہ جو لاچار کی سنتا ہے (ف۱۱۰) جب اسے پکارے اور دور کردیتا ہے برائی اور تمہیں زمین کا وارث کرتا ہے (ف۱۱۱) کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے، بہت ہی کم دھیان کرتے ہو،
63یا وہ جو تمہیں راہ دکھاتا ہے (ف۱۱۲) اندھیریوں میں خشکی اور تری کی (ف۱۱۳) اور وہ کہ ہوائیں بھیجتا ہے، اپنی رحمت کے آگے خوشحبری سناتی (ف۱۱۴) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، برتر ہے اللہ ان کے شرک سے،
64یا وہ جو خلق کی ابتداء فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۱۱۵) اور وہ جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے (ف۱۱۶) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، تم فرماؤ کہ اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو (ف۱۱۷)
65تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اللہ (ف۱۱۸) اور انہیں خبر نہیں کہ کب اٹھا ےٴ جائیں گے،
66کیا ان کے علم کا سلسلہ آخرت کے جانے تک پہو نچ گیا (ف۱۱۹) کوئی نہیں وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں (ف۱۲۰) بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں،
67اور کافر بولے کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے کیا ہم پھر نکالے جائیں گے (ف۱۲۱)
68بیشک اس کا وعدہ دیا گیا ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ داداؤں کو یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں، (ف۱۲۲)
69تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو، کیسا ہوا نجام مجرموں کا (ف۱۲۳)
70اور تم ان پر غم نہ کھاؤ (ف۱۲۴) اور ان کے مکر سے دل تنگ نہ ہو (ف۱۲۵)
71اور کہتے ہیں کب آئے گا یہ وعدہ (ف۱۲۶) اگر تم سچے ہو،
72تم فرماؤ قریب ہے کہ تمہارے پیچھے آ لگی ہو بعض وہ چیز جس کی تم جلدی مچارہے ہو (ف۱۲۷)
73اور بیشک تیرا رب فضل والا ہے آدمیوں پر (ف۱۲۸) لیکن اکثر آدمی حق نہیں مانتے (ف۱۲۹)
74اور بیشک تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپی ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں (ف۱۳۰)
75اور جتنے غیب ہیں آسمانوں اور زمین کے سب ایک بتانے والی کتاب میں ہیں (ف۱۳۱)
76بیشک یہ قرآن ذکر فرماتا ہے بنی اسرائیل سے اکثر وہ باتیں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں (ف۱۳۲)
77اور بیشک وہ ہدایت اور رحمت ہے مسلمانوں کے لیے،
78بیشک تمہارا رب ان کے آپس میں فیصلہ فرماتا ہے اپنے حکم سے اور وہی ہے عزت و الا علم والا،
79تو تم اللہ پر بھروسہ کرو، بیشک تم روشن حق پر ہو،
80بیشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے (ف۱۳۳) اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھریں پیٹھ دے کر (ف۱۳۴)
81اور اندھوں کو (ف۱۳۵) گمراہی سے تم ہدایت کرنے والے نہیں، تمہارے سنائے تو وہی سنتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۳۶) اور ہو مسلمان ہیں،
82اور جب بات ان پر آپڑے گی (ف۱۳۷) ہم زمین سے ان کے لیے ایک چوپایہ نکالیں گے (ف۱۳۸) جو لوگوں سے کلام کرے گا (ف۱۳۹) اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہ لاتے تھے (ف۱۴۰)
83اور جس دن اٹھائیں گے ہم ہر گروہ میں سے ایک فوج جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتی ہے (ف۱۴۱) تو ان کے اگلے روکے جائیں گے کہ پچھلے ان سے آملیں،
84یہاں تک کہ جب سب حاضر ہولیں گے (ف۱۴۲) فرمائے گا کیا تم نے میری آیتیں جھٹلائیں حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچتا تھا (ف۱۴۳) یا کیا کام کرتے تھے (ف۱۴۴)
85اور بات پڑچکی ان پر (ف۱۴۵) ان کے ظلم کے سبب تو وہ اب کچھ نہیں بولتے (ف۱۴۶)
86کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی کہ اس میں آرام کریں اور دن کو بنایا سوجھانے والا، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے کہ ایمان رکھتے ہیں (ف۱۴۷)
87اور جس دن پھونکا جائے گا صُور (ف۱۴۸) تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں (ف۱۴۹) مگر جسے خدا چاہے (ف۱۵۰) اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے (ف۱۵۱)
88اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال (ف۱۵۲) یہ کام ہے اللہ کا جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز، بیشک اسے خبر ہے تمہارے کاموں کی،
89جو نیکی لائے (ف۱۵۳) اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے (ف۱۵۴) اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے (ف۱۵۵)
90اور جو بدی لائے (ف۱۵۶) تو ان کے منہ اوندھائے گئے آ گ میں (ف۱۵۷) تمہیں کیا بدلہ ملے گا مگر اسی کا جو کرتے تھے (ف۱۵۸)
91مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں اس شہر کے رب کو (ف۱۵۹) جس نے اسے حرمت والا کیا ہے (ف۱۶۰) اور سب کچھ اسی کا ہے، اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں ہوں،
92اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں (ف۱۶۱) تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی (ف۱۶۲) اور جو بہکے (ف۱۶۳) تو فرمادو کہ میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں (ف۱۶۴)
93اور فرماؤ کہ سب خوبیاں اللہ کے لیے عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو انہیں پہچان لو گے (ف۱۶۵) اور اے محبوب! تمہارا رب غافل نہیں، اے لوگو! تمہارے اعمال سے،
Chapter 28 (Sura 28)
1طٰسم
2یہ آیتیں ہیں روشن کتاب (ف۲)
3ہم تم پر پڑھیں موسیٰ اور فرعون کی سچی خبر ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں،
4بیشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا (ف۳) اور اس کے لوگوں کو اپنا تابع بنایا ان میں ایک گروہ کو (ف۴) کمزور دیکھتا ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا (ف۵) بیشک وہ فسادی تھا،
5اور ہم چاہتے تھے کہ ان کمزوریوں پر احسان فرمائیں اور ان کو پیشوا بنائیں (ف۶) اور ان کے ملک و مال کا انہیں کو وارث بنائیں (ف۷)
6اور انہیں (ف۸) زمین میں قبضہ دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھادیں جس کا انہیں ان کی طرف سے خطرہ ہے (ف۹)
7اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام فرمایا (ف۱۰) کہ اسے دودھ پلا (ف۱۱) پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو (ف۱۲) تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر (ف۱۳) اور نہ غم کر (ف۱۴) بیشک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں اور اسے رسول بنائیں گے (ف۱۵)
8تو اسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں نے (ف۱۶) کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو (ف۱۷) بیشک فرعون اور ہامان (ف۱۸) اور ان کے لشکر خطا کار تھے (ف۱۹)
9اور فرعون کی بی بی نے کہا (ف۲۰) یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں (ف۲۱) اور وہ بے خبر تھے (ف۲۲)
10اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بے صبر ہوگیا (ف۲۳) ضرو ر قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھول دیتی (ف۲۴) اگر ہم نہ ڈھارس بندھاتے اس کے دل پر کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے (ف۲۵)
11اور اس کی ماں نے اس کی بہن سے کہا (ف۲۶) اس کے پیچھے چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان کو خبر نہ تھی (ف۲۷)
12اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں (ف۲۸) تو بولی کیا میں تمہیں بتادوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں (ف۲۹)
13تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف پھیرا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۳۰)
14اور جب اپنی جوانی کو پہنچا اور پورے زور پر آیا (ف۳۱) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۳۲) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
15اور اس شہر میں داخل ہوا (ف۳۳) جس وقت شہر والے دوپہر کے خواب میں بے خبر تھے (ف۳۴) تو اس میں دو مرد لڑتے پائے، ایک موسیٰ، کے گروہ سے تھا (ف۳۵) اور دوسرا اس کے دشمنوں سے (ف۳۶) تو وہ جو اس کے گروہ سے تھا (ف۳۸) اس نے موسیٰ سے مدد مانگی، اس پر جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا (ف۳۸) تو اس کا کام تما م کردیا (ف۳۹) کہا یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا (ف۴۰) بیشک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا،
16عرض کی، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر زیادتی کی (ف۴۱) تو مجھے بخش دے تو رب نے اسے بخش دیا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،
17عرض کی اے میرے رب جیسا تو نے مجھ پر احسان کیا تو اب (ف۴۲) ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا،
18تو صبح کی، اس شہر میں ڈرتے ہوئے اس انتظار میں کہ کیا ہوتا ہے (ف۴۳) جبھی دیکھا کہ وہ جس نے کل ان سے مدد چاہی تھی فریاد کررہا ہے (ف۴۴) موسیٰ نے اس سے فرمایا بیشک تو کھلا گمراہ ہے (ف۴۵)
19تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس پر گرفت کرے جو ان دونوں کا دشمن ہے (ف۴۶) وہ بولا اے موسیٰ کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں سخت گیر بنو اور اصلاح کرنا نہیں چاہتے (ف۴۷)
20اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص (ف۴۸) دوڑ تا آیا، کہا اے موسیٰ! بیشک دربار والے (ف۴۹) آپ کے قتل کا مشورہ کررہے ہیں تو نکل جایے (ف۵۰) میں آپ کا خیر خواہ ہوں (ف۵۱)
21تو اس شہر سے نکلا ڈرتا ہوا اس انتظار میں کہ اب کیا ہوتا ہے عرض کی، اے میرے رب! مجھے ستمگاروں سے بچالے (ف۵۲)
22اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوا (ف۵۳) کہا قریب ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ بتائے (ف۵۴)
23اور جب مدین کے پانی پر آیا (ف۵۵) وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں، اور ان سے اس طرف (ف۵۶) دو عورتیں دیکھیں کہ اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں (ف۵۷) موسیٰ نے فرمایا تم دونوں کا کیا حال ہے (ف۵۸) وہ بولیں ہم پانی نہیں پلاتے جب تک سب چرواہے پلاکر پھیر نہ لے جائیں (ف۵۹) اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں (ف۶۰)
24تو موسیٰ نے ان دونوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف پھرا (ف۶۱) عرض کی اے میرے رب! میں اس کھانے کا جو تو میرے لیے اتارے محتاج ہوں (ف۶۲)
25تو ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس آئی شرم سے چلتی ہوئی (ف۶۳) بولی میرا باپ تمہیں بلاتا ہے کہ تمہیں مزدوری دے اس کی جو تم نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے (ف۶۴) جب موسیٰ اس کے پاس آیا اور اسے باتیں کہہ سنائیں (ف۶۵) اس نے کہا ڈریے نہیں، آپ بچ گئے ظالموں سے (ف۶۶)
26ان میں کی ایک بولی (ف۶۷) اے میرے باپ! ان کو نوکر رکھ لو (ف۶۸) بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور اور امانتدار ہو (ف۶۹)
27کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں (ف۷۰) اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو (ف۷۱) پھر اگر پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے (ف۷۲) اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا (ف۷۳) قریب ہے انشاء اللہ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے (ف۷۴)
28موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہوچکا، میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کردوں (ف۷۵) تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں، اور ہمارے اس کہے پر اللہ کا ذمہ ہے (ف۷۶)
29پھر جب موسیٰ نے اپنی میعاد پوری کردی (ف۷۷) اور اپنی بی بی کو لے کر چلا (ف۷۸) طُور کی طرف سے ایک آگ دیکھی (ف۷۹) اپنی گھر والی سے کہا تم ٹھہرو مجھے طُور کی طرف سے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں وہاں سے کچھ خبر لاؤ ں (ف۸۰) یا تمہارے لیے کوئی آ گ کی چنگاری لاؤں کہ تم تاپو،
30پھر جب آگ کے پاس حاضر ہوا ندا کی گئی میدان کے دہنے کنارے سے (ف۸۱) برکت والے مقام میں پیڑ سے (ف۸۲) کہ اے موسیٰ! بیشک میں ہی ہوں اللہ رب سارے جہان کا (ف۵۳)
31اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا (ف۸۴) پھر جب موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا (ف۸۵) اے موسیٰ سامنے آ اور ڈر نہیں، بیشک تجھے امان ہے (ف۸۶)
32اپنا ہاتھ (ف۸۷) گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب (ف۸۸) اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو (ف۸۹) تو یہ دو حُجتیں ہیں تیرے رب کی (ف۹۰) فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں،
33عرض کی اے میرے رب! میں نے ان میں ایک جان مار ڈالی ہے (ف۹۱) تو ڈرتا ہوں کہ مجھے قتل کردیں،
34اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اسے میری مدد کے لیے رسول بنا، کہ میری تصدیق کرے مجھے ڈر ہے کہ وہ (ف۹۲) مجھے جھٹلائیں گے،
35فرمایا، قریب ہے کہ ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے قوت دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب آؤ گے (ف۹۳)
36پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لایا بولے یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو (ف۹۴) اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں ایسا نہ سنا (ف۹۵)
37اور موسیٰ نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا (ف۹۶) اور جس کے لیے آخرت کا گھر ہوگا (ف۹۷) بیشک ظالم مراد کو نہیں پہنچتے (ف۹۸)
38اور فرعون بولا، اے درباریو! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! میرے لیے گارا پکا کر (ف۹۹) ایک محل بنا (ف۱۰۰) کہ شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں (ف۱۰۱) اور بیشک میرے گمان میں تو وہ (ف۱۰۲) جھوٹا ہے (ف۱۰۳)
39اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بے جا بڑائی چاہی (ف۱۰۴) اور سمجھے کہ انہیں ہماری طرف پھرنا نہیں،
40تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا (ف۱۰۵) تو دیکھو کیسا انجام ہوا ستمگاروں کا،
41اور انہیں ہم نے (ف۱۰۶) دوزخیوں کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں (ف۱۰۷) اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی،
42اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگائی (ف۱۰۸) اور قیامت کے دن ان کا برا ہے،
43اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) بعد اس کے کہ اگلی سنگتیں (قومیں) (ف۱۱۰) ہلاک فرمادیں جس میں لوگوں کے دل کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت مانیں،
44اور تم (ف۱۱۱) طور کی جانت مغرب میں نہ تھے (ف۱۱۲) جبکہ ہم نے موسیٰ کو رسالت کا حکم بھیجا (ف۱۱۳) اور اس وقت تم حاضر نہ تھے،
45مگر ہوا یہ کہ ہم نے سنگتیں پیدا کیں (ف۱۱۴) کہ ان پر زمانہ دراز گزرا (ف۱۱۵) اور نہ تم اہلِ مدین میں مقیم تھے ان پر ہماری آیتیں پڑھتے ہوئے، ہاں ہم رسول بنانے والے ہوئے (ف۱۱۶)
46اور نہ تم طور کے کنارے تھے جب ہم نے ندا فرمائی (ف۱۱۷) ہاں تمہارے رب کی مہر ہے (کہ تمہیں غیب کے علم دیے) (ف۱۱۸) کہ تم ایسی قوم کو ڈر سناؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۱۱۹) یہ امید کرتے ہوئے کہ ان کو نصیحت ہو،
47اور اگر نہ ہوتا کہ کبھی پہنچتی انہیں کوئی مصیبت (ف۱۲۰) اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲۱) تو کہتے، اے ہمارے رب! تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لاتے (ف۱۲۲)
48پھر جب ان کے پاس حق آیا (ف۱۲۳) ہماری طرف سے بولے (ف۱۲۴) انہیں کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲۵) کیا اس کے منکر نہ ہوئے تھے جو پہلے موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲۶) بولے دو جادو ہیں ایک دوسرے کی پشتی (امداد) پر، اور بولے ہم ان دونوں کے منکر ہیں (ف۱۲۷)
49تم فرماؤ تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت کی ہو (ف۱۲۸) میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم سچے ہو (ف۱۲۹)
50پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں (ف۱۳۰) تو جان لو کہ (ف۱۳۱) بس وہ اپنی خواہشو ں ہی کے پیچھے ہیں، اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا، بیشک اللہ ہدایت ہیں فرماتا ظالم لوگوں کو،
51اور بیشک ہم نے ان کے لیے بات مسلسل اتاری (ف۱۳۲) کہ وہ دھیان کریں،
52جن کو ہم نے اس سے پہلے (ف۱۳۳) کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں،
53اور جب ان پر یہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہی حق ہے ہمارے رب کے پا س سے ہم اس سے پہلے ہی گردن رکھ چکے تھے (ف۱۳۴)
54ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا (ف۱۳۵) بدلہ ان کے صبر کا (ف۱۳۶) اور وہ بھلائی سے برائی کو ٹالتے ہیں (ف۱۳۷) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۱۳۸)
55اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں (ف۱۳۹) اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل، بس تم پر سلام (ف۱۴۰) ہم جاہلوں کے غرضی (چاہنے والے) نہیں (ف۱۴۱)
56بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو (ف۱۴۲)
57اور کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو لوگ ہمارے ملک سے ہمیں اچک لے جائیں گے (ف۱۴۳) کیا ہم نے انہیں جگہ نہ دی امان والی حرم میں (ف۱۴۴) جس کی طرف ہر چیز کے پھل لائے جاتے ہیں ہمارے پاس کی روزی لیکن ان میں اکثر کو علم نہیں (ف۱۴۵)
58اور کتنے شہر ہم نے ہلاک کردیے جو اپنے عیش پر اترا گئے تھے (ف۱۴۶) تو یہ ہیں ان کے مکان (ف۱۴۷) کہ ان کے بعد ان میں سکونت نہ ہوئی مگر کم (ف۱۴۸) اور ہمیں وارث ہیں (ف۱۴۹)
59اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے اصل مرجع میں رسول نہ بھیجے (ف۱۵۰) جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے (ف۱۵۱) اور ہم شہروں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جبکہ ان کے ساکن ستمگار ہوں (ف۱۵۲)
60اور جو کچھ چیز تمہیں دی گئی ہے اور دنیوی زندگی کا برتاوا اور اس کا سنگھارہے (ف۱۵۳) اور جواللہ کے پاس ہے (ف۱۵۴) اور وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا (ف۱۵۵) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۵۶)
61تو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا (ف۱۵۷) تو وہ اس سے ملے گا اس جیسا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا برتاؤ برتنے دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر لایا جائے گا (ف۱۵۸)
62اور جس دن انہیں ندا کرے گا (ف۱۵۹) تو فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جنہیں تم (ف۱۶۰) گمان کرتے تھے،
63کہیں گے وہ جن پر بات ثابت ہوچکی (ف۱۶۱) اے ہمارے رب یہ ہیں وہ جنہیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے تھے (ف۱۶۲) ہم ان سے بیزار ہوکر تیری طرف رجوع لاتے ہیں وہ ہم کو نہ پوجتے تھے (ف۱۶۳)
64اور ان سے فرمایا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو (ف۱۶۴) تو وہ پکاریں گے تو وہ ان کی نہ سنیں گے اور دیکھیں گے عذاب، کیا اچھا ہوتا اگر وہ راہ پاتے (ف۱۶۵)
65اور جس دن انہیں ندا کرتے گا تو فرمائے گا (ف۱۶۶) تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا (ف۱۶۷)
66تو اس دن ان پر خبریں اندھی ہوجائیں گی (ف۱۶۸) تو وہ کچھ پوجھ گچھ نہ کریں گے (ف۱۶۹)
67تو وہ جس نے توبہ کی (ف۱۷۰) اور ایمان لایا (ف۱۷۱) اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو،
68اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہے (ف۱۷۲) ان کا (ف۱۷۳) کچھ اختیار نہیں، پاکی اور برتری ہے اللہ کو ان کے شرک سے،
69اور تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپا ہے (ف۱۷۴) اور جو ظاہر کرتے ہیں (ف۱۷۵)
70اور وہی ہے اللہ کہ کوئی خدا نہیں اس کے سوا اسی کی تعریف ہے دنیا (ف۱۷۶) اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے (ف۱۷۷) اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،
71تم فرماؤ (ف۱۷۸) بھلا دیکھو تو اگر اللہ ہمیشہ تم پر قیامت تک رات رکھے (ف۱۷۹) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں روشنی لادے (ف۱۸۰) تو کیا تم سنتے نہیں (ف۱۸۱)
72تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ دن رکھے (ف۱۸۲) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں رات لادے جس میں آرام کرو (ف۱۸۳) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں (ف۱۸۴)
73اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو (ف۱۸۵) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۸۶)
74اور جس دن انہیں ندا کرتے گا تو فرمائے گا، کہاں ہیں؟ میرے وہ شریک جو تم بکتے تھے،
75اور ہر گروہ میں سے ایک گواہ نکال کر (ف۱۸۷) فرمائیں گے اپنی دلیل لاؤ (ف۱۸۸) تو جان لیں گے کہ (ف۱۸۹) حق اللہ کا ہے اور ان سے کھوئی جائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے (ف۱۹۰)
76بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا (ف۱۹۱) پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں، جب اس سے اس کی قوم (ف۱۹۲) نے کہا اِترا نہیں (ف۱۹۳) بیشک اللہ اِترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا،
77اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر (ف۱۹۴) اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول (ف۱۹۵) اور احسان کر (ف۱۹۶) جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور (ف۱۹۷) زمیں میں فساد نہ چاه بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا،
78بو لا یہ (ف۱۹۸) تو مجھے ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے (ف۱۹۹) اور کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے وہ سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جن کی قوتیں اس سے سخت تھیں اور جمع اس سے زیادہ (ف۲۰۰) اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پوچھ نہیں (ف۲۰۱)
79تو اپنی قومی پر نکلا اپنی آرائش میں (ف۲۰۲) بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بیشک اس کا بڑا نصیب ہے،
80اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا (ف۲۰۳) خرابی ہو تمہاری، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے (ف۲۰۴) اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں (ف۲۰۵)
81تو ہم نے اسے (ف۲۰۶) اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسایا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی (ف۲۰۷) اور نہ وہ بدلہ لے سکا (ف۲۰۸)
82اور کل جس نے اس کے مرتبہ کی آرزو کی تھی صبح (ف۲۰۹) کہنے لگے عجب بات ہے اللہ رزق وسیع کرتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۲۱۰) اگر اللہ ہم پر احسان فرماتا تو ہمیں بھی دھنسادیتا، اے عجب، کافروں کا بھلا نہیں،
83یہ آخرت کا گھر (ف۲۱۱) ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد، اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی (ف۲۱۲) ہے،
84جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر ہے (ف۲۱۳) اور جو بدی لائے بدکام والوں کو بدلہ نہ ملے گا مگر جتنا کیا تھا،
85بیشک جس نے تم پر قرآن فرض کیا (ف۲۱۴) وہ تمہیں پھیر لے جائے گا جہاں پھرنا چاہتے ہو (ف۲۱۵) تم فرماؤ، میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو ہدایت لایا اور جو کھلی گمراہی میں ہے (ف۲۱۶)
86اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ کتاب تم پر بھیجی جائے گی (ف۲۱۷) ہاں تمہارے رب نے رحمت فرمائی تو تم ہرگز کافروں کی پشتی (مدد) نہ کرنا (ف۲۱۸)
87اور ہرگز وہ تمہیں اللہ کی آیتوں سے نہ روکیں بعد اس کے کہ وہ تمہاری طرف اتاری گئیں (ف۲۱۹) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۲۲۰) اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا (ف۲۲۱)
88اور اللہ کے ساتھ دوسرے خدا کو نہ پوج اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہر چیز فانی ہے، سوا اس کی ذات کے، اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،
Chapter 29 (Sura 29)
1الم
2کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی (ف۲)
3اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا (ف۳) تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا (ف۴)
4یا یہ سمجھے ہوئے ہیں وہ جو برے کام کرتے ہیں (ف۵) کہ ہم سے کہیں نکل جائیں گے (ف۶) کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،
5جسے اللہ سے ملنے کی امید ہو (ف۷) تو بیشک اللہ کی میعاد ضرور آنے والی ہے (ف۸) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۹)
6اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے (ف۱۰) تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے (ف۱۱) بیشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے (ف۱۲)
7اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم ضرور ان کی برائیاں اتار دیں گے (ف۱۳) اور ضرور انہیں اس کام پر بدلہ دیں گے جو ان کے سب کاموں میں اچھا تھا (ف۱۴)
8اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی (ف۱۵) اور اگر تو وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کا کہا نہ مان (ف۱۶) میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں بتادوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے (ف۱۷)
9اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں نیکوں میں شامل کریں گے (ف۱۸)
10اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انہیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے (ف۱۹) تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں (ف۲۰) اور اگر تمہارے رب کے پاس سے مدد آئے (ف۲۱) تو ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے (ف۲۲) کیا اللہ خوب نہیں جانتا جو کچھ جہاں بھر کے دلوں میں ہے (ف۲۳)
11اور ضرور اللہ ظاہر کردے گا ایمان والوں کو (ف۲۴) اور ضرور ظاہر کردے گا منافقوں کو (ف۲۵)
12اور کافر مسلمانوں سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے (ف۲۶) حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ نہ اٹھائیں گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں،
13اور بیشک ضرور اپنے (ف۲۷) بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ (ف۲۸) اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے (ف۲۹)
14اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا (ف۳۰) تو انہیں طوفان نے ا ٓ لیا اور وہ ظالم تھے (ف۳۱)
15تو ہم نے اسے (ف۳۲) اور کشتی والوں کو (ف۳۳) بچالیا اور اس کشتی کو سارے جہاں کے لیے نشانی کیا (ف۳۴)
16اور ابراہیم کو (ف۳۵) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کو پوجو اور اس سے ڈرو، اس میں تمہارا بھلا ہے اگر تم جانتے،
17تم تو اللہ کے سوا بتوں کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گڑ ھتے ہو (ف۳۶) بے شک وه جنھیں تم اللہ کے سوا پو جتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو (ف۳۷) اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو، تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۲۸)
18اور اگر تم جھٹلاؤ (ف۳۹) تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں (ف۴۰) اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا،
19اور کیا انہوں نے نہ دیکھا اللہ کیونکر خلق کی ابتداء فرماتا ہے (ف۴۱) پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۴۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۴۳)
20تم فرماؤ زمین میں سفر کرکے دیکھو (ف۴۴) اللہ کیونکر پہلے بناتا ہے (ف۴۵) پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے (ف۴۶) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
21عذاب دیتا ہے جسے چاہے (ف۴۷) اور رحم فرماتا ہے جس پر چاہے (ف۴۸) اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے،
22اور نہ تم زمین میں (ف۴۹) قابو سے نکل سکو اور نہ آسمان میں(ف۵۰) اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کام بنانے والا اور نہ مددگار،
23اور وہ جنہوں نے میری آیتوں اور میرے ملنے کو نہ مانا (ف۵۱) وہ ہیں جنہیں میری رحمت کی آس نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۲)
24تو اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ بولے انہیں قتل کردو یا جلادو (ف۵۳) تو اللہ نے اسے (ف۵۴) آگ سے بچالیا (ف۵۵) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے (ف۵۶)
25اور ابراہیم نے (ف۵۷) فرمایا تم نے تو اللہ کے سوا یہ بت بنالیے ہیں جن سے تمہاری دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے (ف۵۸) پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کے ساتھ کفر کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے گا (ف۵۹) اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے (ف۶۰) اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف۶۱)
26تو لوط اس پر ایمان لایا (ف۶۲) اور ابراہیم نے کہا میں (ف۶۳) اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں (ف۶۴) بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے،
27اور ہم نے اسے (ف۶۵) اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت (ف۶۶) اور کتاب رکھی (ف۶۷) اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا (ف۶۸) اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں ہے (ف۶۹)
28اور لوط کو نجات دی جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا تم بیشک بے حیائی کا کام کرتے ہو، کہ تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا (ف۷۰)
29کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو (ف۷۱) اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو (ف۷۲) تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو (ف۷۳)
30عرض کی، اے میرے رب! میری مدد کر (ف۷۴) ان فسادی لوگوں پر (ف۷۵)
31اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے (ف۷۶) بولے ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کریں گے (ف۷۷) بیشک اس کے بسنے والے ستمگاروں ہیں،
32کہا (ف۷۸) اس میں تو لوط ہے (ف۷۹) فرشتے بولے ہمیں خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے، ضرور ہم اسے (ف۸۰) اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر اس کی عورت کو، وہ رہ جانے والوں میں ہے (ف۸۱)
33اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس (ف۸۲) آئے ان کا آنا اسے ناگوار ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا (ف۸۳) اور انہوں نے کہا نہ ڈریے (ف۸۴) اور نہ غم کیجئے (ف۸۵) بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے،
34بیشک ہم اس شہر والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں بدلہ ان کی نافرمانیوں کا،
35اور بیشک ہم نے اس سے روشن نشانی باقی رکھی عقل والوں کے لیے (ف۸۶)
36مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا، اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید رکھو (ف۸۷) اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،
37تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے (ف۸۸)
38اور عاد اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور تمہیں (ف۸۹) ان کی بستیاں معلوم ہوچکی ہیں (ف۹۰) اور شیطان نے ان کے کوتک (ف۹۱) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے اور انہیں راہ سے روکا اور انہیں سوجھتا تھا (ف۹۲)
39اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (ف۹۳) اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے (ف۹۴)
40تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ پر پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا (ف۹۵) اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا (ف۹۶) اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا (ف۹۷) اور ان میں کسی کو ڈبو دیا (ف۹۸) اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے (ف۹۹) ہاں وہ خود ہی (ف۱۰۰) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
41ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں (ف۱۰۱) مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا (ف۱۰۲) اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر (ف۱۰۳) کیا اچھا ہوتا اگر جانتے (ف۱۰۴)
42اللہ جانتا ہے جس چیز کی اس کے سوا پوجا کرتے ہیں (ف۱۰۵) اور وہی عزت و حکمت والا ہے (ف۱۰۶)
43اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں، اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے (ف۱۰۷)
44اللہ نے آسمان اور زمین حق بنائے، بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۰۸) مسلمانوں کے لیے،
45اے محبوب! پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی (ف۱۰۹) اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے (ف۱۱۰) اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا (ف۱۱۱) اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو،
46اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر (ف۱۱۲) مگر وہ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا (ف۱۱۳) اور کہو (ف۱۱۴) ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھتے ہیں (ف۱۱۵)
47اور اے محبوب! یونہی تمہاری طرف کتاب اتاری (ف۱۱۶) تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی (ف۱۱۷) اس پر ایمان لاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے ہیں (ف۱۱۸) جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر (ف۱۱۹)
48اور اس (ف۱۲۰) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا (ف۱۲۱) تو باطل ضرور شک لاتے (ف۱۲۲)
49بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا (ف۱۲۳) اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم (ف۱۲۴)
50اور بولے (ف۱۲۵) کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے (ف۱۲۶) تم فرماؤ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں (ف۱۲۷) اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں (ف۱۲۸)
51اور کیا یہ انہیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے (ف۱۲۹) بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے،
52تم فرماؤ اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ (ف۱۳۰) جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں،
53اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اگر ایک ٹھہرائی مدت نہ ہوتی (ف۱۳۲) تو ضرور ان پر عذاب آجاتا (ف۱۳۳) اور ضرور ان پر اچانک آئے گا جب وہ بے خبر ہوں گے،
54تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں، اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو (ف۱۳۴)
55جس دن انہیں ڈھانپے گا عذاب ان کے اوپر اور ان کے پاؤں کے نیچے سے اور فرمائے گا چکھو اپنے کیے کا مزہ (ف۱۳۵)
56اے میرے بندو! جو ایمان لائے بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو (ف۱۳۶)
57ہر جان کو موت کا مز ہ چکھنا ہے (ف۱۳۷) پھر ہماری ہی طرف پھروگے (ف۱۳۸)
58اور بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے، کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا (ف۱۳۹)
59وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۱۴۰) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۱۴۱)
60اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے (ف۱۴۲) اللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں (ف۱۴۳) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۱۴۴)
61اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۱۴۵) کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں لگائے سورج اور چاند تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تو کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۴۶)
62اللہ کشادہ کرتا ہے رزق اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
63اور جو تم ان سے پوچھو کس نے اتارا آسمان سے پانی تو اس کے سبب زمین زندہ کردی مَرے پیچھے ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۱۴۷) تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو، بلکہ ان میں اکثر بے عقل ہیں (ف۱۴۸)
64اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۱۴۹) اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے (ف۱۵۰) کیا اچھا تھا اگر جانتے (ف۱۵۱)
65پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں (ف۱۵۲) اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر (ف۱۵۳) پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے (ف۱۵۴) جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (ف۱۵۵)
66کہ ناشکری کریں ہماری دی ہوئی نعمت کی (ف۱۵۶) اور برتیں۔ (ف۱۵۷) تو اب جانا چاہتے ہیں، (ف۱۵۸)
67اور کیا انہوں نے (ف۱۵۹) یہ نہ دیکھا کہ ہم نے (ف۱۶۰) حرمت والی زمین پناہ بنائی (ف۱۶۱) اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں (ف۱۶۲) تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں (ف۱۶۳) اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے (ف۱۶۴) ناشکری کرتے ہیں،
68اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۶۵) یا حق کو جھٹلائے (ف۱۶۶) جب وہ اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں (ف۱۶۷)
69اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے (ف۱۶۸) اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (ف۱۶۹)
Chapter 30 (Sura 30)
1الم
2رومی مغلوب ہوئے، (ف۲)
3پاس کی زمین میں (ف۳) اور اپنی مغلوبی کے عنقریب غالب ہوں گے (ف۴)
4چند برس میں (ف۵) حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے (ف۶) اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے،
5اللہ کی مدد سے (ف۷) مدد کرتا ہے جس کی چاہے، اور وہی عزت والا مہربان،
6اللہ کا وعدہ (ف۸) اللہ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۹)
7جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی (ف۱۰) اور وہ آخرت سے پورے بے خبر ہیں،
8کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق (ف۱۱)اور ایک مقرر میعاد سے (ف۱۲) اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں (ف۱۳)
9اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا انجام کیسا ہوا (ف۱۴) وہ ان سے زیادہ زور آور تھے اور زمین جوتی اور آباد کی ان (ف۱۵) کی آبادی سے زیادہ اور ان کے رسول ان کے پاس روشن نشانیاں لائے (ف۱۶) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱۷) ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (ف۱۸)
10پھر جنہوں نے حد بھر کی برائی کی ان کا انجام یہ ہوا کہ اللہ کی آیتیں جھٹلانے لگے اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے،
11اللہ پہلے بناتا ہے پھر دوبارہ بنائے گا (ف۱۹) پھر اس کی طرف پھروگے (ف۲۰)
12اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی (ف۲۱)
13اور ان کے شریک (ف۲۲) ان کے سفارشی نہ ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے،
14اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن الگ ہوجائیں گے (ف۲۳)
15تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطرداری ہوگی (ف۲۴)
16اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتیں اور آخرت کا ملنا جھٹلایا (ف۲۵) وہ عذاب میں لادھرے (ڈال دیے) جائیں گے (ف۲۶)
17تو اللہ کی پاکی بولو (ف۲۷) جب شام کرو (ف۲۸) اور جب صبح ہو (ف۲۹)
18اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں (ف۳۰) اور کچھ دن رہے (ف۳۱) اور جب تمہیں دوپہر ہو (ف۳۲)
19وہ زندہ کو نکالتا ہے مردے سے (ف۳۳) اور مردے کو نکالتا ہے زندہ سے (ف۳۴) اور زمین کو جٕلا تا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۳۵) اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے (ف۳۶)
20اور اس کی نشانیوں سے ہے یہ کہ تمہیں پیدا کیا مٹی سے (ف۳۷) پھر جبھی تو انسان ہو دنیا میں پھیلے ہوئے،
21اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی (ف۳۸) بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے،
22اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (ف۳۹) بیشک اس میں نشانیاں ہیتں جاننے والوں کے لیے،
23اور اس کی نشانیوں میں ہے رات اور دن میں تمہارا سونا (ف۴۰) اور اس کا فضل تلاش کرنا (ف۴۱) بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے (ف۴۲)
24اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈراتی (ف۴۳) اور امید دلاتی (ف۴۴) اور آسمان سے پانی اتارتا ہے، تو اس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے (ف۴۵)
25اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں (ف۴۶) پھر جب تمہیں زمین سے ایک ندا فرمائے گا (ف۴۷) جبھی تم نکل پڑو گے (ف۴۸)
26اور اسی کے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب اس کے زیر حکم ہیں،
27اور وہی ہے کہ اول بنا تا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۴۹) اور یہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیا دہ آسان ہونا چاہیے (ف۵۰) اور اسی کے لیے ہے سب سے برتر شان آسمانوں اور زمین میں (ف۵۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
28تمہارے لیے (ف۵۲) ایک کہاوت بیان فرماتا ہے خود تمہارے اپنے حال سے (ف۵۳) کیا تمہارے لیے تمہارے ہاتھ کے غلاموں میں سے کچھ شریک ہیں (ف۵۴) اس میں جو ہم نے تمہیں روزی دی (ف۵۵) تو تم سب اس میں برابر ہو (ف۵۶) تم ان سے ڈرو (ف۵۷) جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو (ف۵۸) ہم ایسی مفصل نشانیاں بیان فرماتے ہیں عقل والوں کے لیے،
29بلکہ ظالم (ف۵۹) اپنی خواہشوں کے پیچھے ہولیے بے جانے (ف۶۰) تو اسے کون ہدایت کرے جسے خدا نے گمراہ کیا (ف۶۱) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۶۲)
30تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہوکر (ف۶۳) اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا (ف۶۴) اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا (ف۶۵) یہی سیدھا دین ہے، مگر بہت لوگ نہیں جانتے (ف۶۶)
31اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے (ف۶۷) اور اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہو،
32ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا (ف۶۸) اور ہوگئے گروہ گروہ، ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اسی پر خوش ہے (ف۶۹)
33اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے (ف۷۰) تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے (ف۷۱) جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے،
34کہ ہمارے دیے کی ناشکری کریں، تو برت لو (ف۷۲) اب قریب جاننا چاہتے ہو (ف۷۳)
35یا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری (ف۷۴) کہ ہو انہیں ہمارے شریک بتارہی ہے (ف۷۵)
36اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۷۶) اس پر خوش ہوجاتے ہیں (ف۷۷) اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۷۸) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے بھیجا (ف۷۹) جبھی وہ ناامید ہوجاتے ہیں (ف۸۰)
37اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ اللہ رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
38تو رشتہ دار کو اس کا حق دو (ف۸۱) اور مسکین اور مسافر کو (ف۸۲) یہ بہتر ہے ان کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں (ف۸۳) اور انہیں کا کام بنا،
39اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دو کہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی (ف۸۴) اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے (ف۸۵) تو انہیں کے دُونے ہیں (ف۸۶)
40اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا (ف۸۷) کیا تمہارے شریکوں میں (ف۸۸) بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے (ف۸۹) پاکی اور برتری ہے اسے ان کے شرک سے،
41چمکی خرابی خشکی اور تری میں (ف۹۰) ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں (برے کاموں) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں (ف۹۱)
42تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو کیا انجام ہوا اگلوں کا، ان میں بہت مشرک تھے (ف۹۲)
43تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے (ف۹۳) قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں (ف۹۴) اس دن الگ پھٹ جائیں گے (ف۹۵)
44جو کفر کرے اس کے کفر کا وبال اسی پر اور جو اچھا کام کریں وہ اپنے ہی لیے تیاری کررہے ہیں (ف۹۶)
45تاکہ صلہ دے (ف۹۷) انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اپنے فضل سے، بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا،
46اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے مژدہ سناتی (ف۹۸) اور اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ دے اور اس لیے کہ کشتی (ف۹۹) اس کے حکم سے چلے اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۰۰) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۰۱)
47اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے (ف۱۰۲) پھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا (ف۱۰۳) اور ہمارے ذمہٴ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا (ف۱۰۴)
48اللہ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں کہ ابھارتی ہیں بادل پھر اسے پھیلادیتا ہے آسمان میں جیسا چاہے (ف۱۰۵) اور اسے پارہ پارہ کرتا ہے (ف۱۰۶) تو تُو دیکھے کہ اس کے یبچ میں مینھ نکل رہا ہے پھر جب اسے پہنچاتا ہے (ف۱۰۷) اپنے بندوں میں جس کی طرف چاہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
49اگرچہ اس کے اتارنے سے پہلے آس توڑے ہوئے تھے،
50تو اللہ کی رحمت کے اثر دیکھو (ف۱۰۸) کیونکر زمین کو جِلاتا ہے اس کے مَرے پیچھے (ف۱۰۹) بیشک مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
51اور اگر ہم کوئی ہوا بھیجیں (ف۱۱۰) جس سے وہ کھیتی کو زرد دیکھیں (ف۱۱۱) تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگے (ف۱۱۲)
52اس لیے کہ تم مُردوں کو نہیں سناتے (ف۱۱۳) اور نہ بہروں کو پکارنا سناؤ جب وہ پیٹھ دے کر پھیریں (ف۱۱۴)
53اور نہ تم اندھوں کو (ف۱۱۵) ان کی گمراہی سے راہ پر لاؤ، تو تم اسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تو وہ گردن رکھے ہوئے ہیں،
54اللہ ہے جس نے تمہیں ابتداء میں کمزور بنایا (ف۱۱۶) پھر تمہیں ناتوانی سے طاقت بخشی (ف۱۱۷) پھر قوت کے بعد (ف۱۱۸) کمزوری اور بڑھاپا دیا، بناتا ہے جو چاہے (ف۱۱۹) اور وہی علم و قدرت والا ہے،
55اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی (ف۱۲۰) وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے (ف۱۲۱)
56اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان مِلا (ف۱۲۲) بیشک تم رہے اللہ کے لکھے ہوئے میں (ف۱۲۳) اٹھنے کے دن تک تو یہ ہے وہ دن اٹھنے کا (ف۱۲۴) لیکن تم نہ جانتے تھے (ف۱۲۵)
57تو اس دن ظالموں کو نفع نہ دے گی ان کی معذرت اور نہ ان سے کوئی راضی کرنا مانگے (ف۱۲۶)
58اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی (ف۱۲۷) اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر،
59یوں ہی مہر کردیتا ہے اللہ جاہلوں کے دلوں پر (ف۱۲۸)
60تو صبرکرو (ف۱۲۹) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۳۰) اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے (ف۱۳۱)
Chapter 31 (Sura 31)
1الم
2یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،
3ہدایت اور رحمت ہیں نیکوں کے لیے،
4وہ جو نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور آخرت پر یقین لائیں،
5وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور انہیں کا کام بنا،
6اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں (ف۲) کہ اللہ کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے (ف۳) اور اسے ہنسی بنالیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے،
7اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو تکبر کرتا ہوا پھرے (ف۴) جیسے انہیں سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ٹینٹ (روئی کا پھایا) ہے (ف۵) تو اسے دردناک عذاب کا مژدہ دو،
8بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے چین کے باغ ہیں،
9ہمیشہ ان میں رہیں گے، اللہ کا وعدہ ہے سچا، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
10اس نے آسمان بنائے بے ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں (ف۶) اور زمین میں ڈالے لنگر (ف۷) کہ تمہیں لے کر نہ کانپے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلائے، اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا (ف۸) تو زمین میں ہر نفیس جوڑا اگایا (ف۹)
11یہ تو اللہ کا بنایا ہوا ہے (ف۱۰) مجھے وہ دکھاؤ (ف۱۱) جو اس کے سوا اوروں نے بنایا (ف۱۲) بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں،
12اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی (ف۱۳) کہ اللہ کا شکر کر (ف۱۴) اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے (ف۱۵) اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ بے پرواہ ہے سب خوبیاں سراہا،
13اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا (ف۱۶) اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے (ف۱۷)
14اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی (ف۱۸) اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی (ف۱۹) اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا (ف۲۰) آخر مجھی تک آنا ہے،
15اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں (ف۲۱) تو ان کا کہنا نہ مان (ف۲۲) اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے (ف۲۳) اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا (ف۲۴) پھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵)
16اے میرے بیٹے برائی اگر رائی کے دانہ برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمان میں یا زمین میں کہیں ہو (ف۲۶) اللہ اسے لے آئے گا (ف۲۷) بیشک اللہ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے (ف۲۸)
17اے میرے بیٹے! نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے (ف۲۹) اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت کے کام ہیں (ف۳۰)
18اور کسی سے بات کرنے میں (ف۳۱) اپنا رخسارہ کج نہ کر (ف۳۲) اور زمین میں اِتراتا نہ چل، بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا،
19اور میانہ چال چل (ف۳۳) اور اپنی آواز کچھ پست کر (ف۳۴) بیشک سب آوازوں میں بری آواز، آواز گدھے کی (ف۳۵)
20کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳۶) اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی (ف۳۷) اور بعضے آدمی اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں یوں کہ نہ علم نہ عقل نہ کوئی روشن کتاب (ف۳۸)
21اور جب ان سے کہا جائے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا (ف۳۹) کیا اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو (ف۴۰)
22تو جو اپنا منہ اللہ کی طرف جھکادے (ف۴۱) اور ہو نیکوکار تو بیشک اس نے مضبوط گرہ تھامی، اور اللہ ہی کی طرف ہے سب کاموں کی انتہا،
23اور جو کفر کرے تو تم (ف۴۲) اس کے کفر سے غم نہ کھاؤ، انھیں ہماری ہماری ہی طرف پھرنا ہے ہم انہیں بتادیں گے جو کرتے تھے (ف۴۳) بیشک اللہ والوں کی بات جانتا ہے،
24ہم انہیں کچھ برتنے دیں گے (ف۴۴) پھر انہیں بے بس کرکے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے (ف۴۵)
25اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو (ف۴۶) بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں،
26اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۴۷) بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
27اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہوجائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اس کے پیچھے سات سمندر اور (ف۴۸) تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی (ف۴۹) بیشک اللہ عزت و حکمت والا ہے،
28تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا (ف۵۰) بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے
29اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ رات لاتا ہے دن کے حصے میں اور دن کرتا ہے رات کے حصے میں (ف۵۱) اور اس نے سورج اور چاند کام میں لگائے (ف۵۲) ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف۵۳) اور یہ کہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
30یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے (ف۵۴) اور اس کے سوا جن کو پوجتے ہیں سب باطل ہیں (ف۵۵) اور اس لیے کہ اللہ ہی بلند بڑائی والا ہے،
31کیا تو نے نہ دیکھا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے، اللہ کے فضل سے (ف۵۶) تاکہ تمہیں وہ اپنی (ف۵۷) کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکرگزار کو (ف۵۸)
32اور جب ان پر (ف۵۹) آپڑتی ہے کوئی موج پہاڑوں کی طرح تو اللہ کو پکارتے ہیں نرے اسی پر عقیدہ رکھتے ہوئے (ف۶۰) پھر جب انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو ان میں کوئی اعتدال پر رہتا ہے (ف۶۱) اور ہماری آیتوں کا انکار نہ کرے گا مگر ہر بڑا بے وفا ناشکرا،
33اے لوگو! (ف۶۲) اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ بچہ کے کام نہ آئے گا، اور نہ کوئی کامی (کاروباری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے (ف۶۳) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۶۴) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی (ف۶۵) اور ہرگز تمہیں اللہ کے علم پر دھوکہ نہ دے وہ بڑا فریبی (ف۶۶)
34بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم (ف۶۷) اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے (ف۶۸)
Chapter 32 (Sura 32)
1الم
2کتاب کا اتارنا (ف۲) بیشک پروردگار عالم کی طرف سے ہے،
3کیا کہتے ہیں (ف۳) ان کی بنائی ہوئی ہے (ف۴) بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۵) اس امید پر کہ وہ راہ پائیں،
4اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا (ف۶) اس سے چھوٹ کر (لا تعلق ہوکر) تمہارا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی (ف۷) تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
5کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک (ف۸) پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا (ف۹) اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں (ف۱۰)
6یہ (ف۱۱) ہے ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت و رحمت والا،
7وہ جس نے جو چیز بتائی خوب بنائی (ف۲۱) اور پیدائش انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی (ف۱۳)
8پھر اس کی نسل رکھی ایک بے قدر پانی کے خلاصہ سے (ف۱۴)
9پھر اسے ٹھیک کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی (ف۱۵) اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے (ف۱۶) کیا ہی تھوڑا حق مانتے ہو،
10اور بولے (ف۱۷) کیا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے (ف۱۸) کیا پھر نئے بنیں گے، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری سے منکر ہیں (ف۱۹)
11تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے (ف۲۰) پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (ف۲۱)
12اور کہیں تم دیکھو جب مجرم (ف۲۲) اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے (ف۲۳) اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا (ف۲۴) اور سنا (ف۲۵) ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آگیا (ف۲۶)
13اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے (ف۲۷) مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جِنوں اور آدمیوں سب سے (ف۲۸)
14اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے (ف۲۹) ہم نے تمہیں چھوڑ دیا (ف۳۰) اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ،
15ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ انہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں (ف۳۱) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے، السجدة۔۹
16ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں ہسے (ف۳۲) اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے (ف۳۳) اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،
17تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے (ف۳۴) صلہ ان کے کاموں کا (ف۳۵)
18تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بے حکم ہے (ف۳۶) یہ برابر نہیں،
19جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں، ان کے کاموں کے صلہ میں مہمانداری (ف۳۷)
20رہے وہ جو بے حکم ہیں (ف۳۸) ان کا ٹھکانا آ گ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے،
21اور ضرور ہم انہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب (ف۱۳۹) اس بڑے عذاب سے پہلے (ف۴۰) جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے،
22اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا (ف۴۱) بیشک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں،
23اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف۴۲) عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو (ف۴۳) اور ہم نے اسے (ف۴۴) بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا،
24اور ہم نے ان میں سے (ف۴۵) کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بناتے (ف۴۶) جبکہ انہوں نے صبر کیا (ف۴۷) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے،
25بیشک تمہارا رب ان میں فیصلہ کردے گا (ف۴۸) قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے (ف۴۹)
26اور کیا انہیں (ف۵۰) اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) (ف۵۱) ہلاک کردیں کہ آج یہ ان کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں (ف۵۲) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیا سنتے نہیں (ف۵۳)
27اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف (ف۵۴) پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں (ف۵۵) تو کیا انہیں سوجھتانہیں (ف۵۶)
28اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو (ف۵۷)
29تم فرماؤ فیصلہ کے دن (ف۵۸) کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت ملے (ف۵۹)
30تو ان سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو (ف۶۰) بیشک انہیں بھی انتظار کرنا ہے (ف۶۱)
Chapter 33 (Sura 33)
1اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) (ف۲) اللہ کا یوں ہی خوف رکھنا اور کافروں اور منافقوں کی نہ سننا (ف۳) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
2اور اس کی پیروی رکھنا جو تمہارے رب کی طرف سے تمہیں وحی ہوتی ہے، اے لوگو! اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
3اور اے محبوب! تم اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کام بنانے والا،
4اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے (ف۴) اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا (ف۵) اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا (ف۶) یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے (ف۷) اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے (ف۸)
5انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو (ف۹) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں (ف۱۰) تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد (ف۱۱) اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نا دانستہ تم سے صادر ہوا (ف۱۲) ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو (ف۱۳) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
6یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے (ف۱۴) اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (ف۱۵) اور رشتہ والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں (ف۱۶) بہ نسبت اور مسلمانوں اور مہاجروں کے (ف۱۷) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو (ف۱۸) یہ کتاب میں لکھا ہے (ف۱۹)
7اور اے محبوب! یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا (ف۲۰) اور تم سے (ف۲۱) اور نوح اور ابراہیم اور موسی ٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا،
8تاکہ سچوں سے (ف۲۲) ان کے سچ کا سوال کرے (ف۲۳) اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
9اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو (ف۲۴) جب تم پر کچھ لشکر آئے (ف۲۵) تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے (ف۲۶) اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے (ف۲۷)
10جب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے (ف۲۸) اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں (ف۲۹) اور دل گلوں کے پاس آگئے (ف۳۰) اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے امید و یاس کے (ف۳۱)
11وہ جگہ تھی کہ مسلمانوں کی جانچ ہوئی (ف۳۲) اور خوب سختی سے جھنجھوڑے گئے،
12اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا (ف۳۳) ہمیں اللہ و رسول نے وعدہ نہ دیا تھا مگر فریب کا (ف۳۴)
13اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا (ف۳۵) اے مدینہ والو! (ف۳۶) یہاں تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں (ف۳۷) تم گھروں کو واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ (ف۳۸) نبی سے اذن مانگتا تھا یہ کہہ کر ہمارے گھر بے حفاظت ہیں، اور وہ بے حفاظت نہ تھے، وہ تو نہ چاہتے تھے مگر بھاگنا،
14اور اگر ان پر فوجیں مدینہ کے اطراف سے آئیں پھر ان سے کفر چاہتیں تو ضرور ان کا مانگا دے بیٹھتے (ف۳۹) اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی
15اور بیشک اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ کا وعدہ پوچھا جائے گا (ف۴۰)
16تم فرماؤ ہرگز تمہیں بھاگنا نفع نہ دے گا اگر موت یا قتل سے بھاگو (ف۴۱) اور جب بھی دنیا نہ برتنے دیے جاؤ گے مگر تھوڑی (ف۴۲)
17تم فرماؤ وہ کون ہے جو اللہ کا حکم تم پر سے ٹال دے اگر وہ تمہارا برا چاہے (ف۴۳) یا تم پر مہر (رحم) فرمانا چاہے (ف۴۴) اور وہ اللہ کے سوا کوئی حامی نہ پائیں گے نہ مددگار،
18بیشک اللہ جانتا ہے تمہارے ان کو جو اوروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ہماری طرف چلے آؤ (ف۴۵) اور لڑائی میں نہیں آتے مگر تھوڑے (ف۴۶)
19تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انہیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے (ف۴۷) تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں (ف۴۸) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں (ف۴۹) تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیے (ف۵۰) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
20وہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہ گئے (ف۵۱) اور اگر لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی (ف۵۲) خواہش ہوگی کہ کسی طرح گا نؤں میں نکل کر (ف۵۳) تمہاری خبریں پوچھتے (ف۵۴) اور اگر وہ تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے (ف۵۵)
21بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (ف۵۶) اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے (ف۵۷)
22اور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے بولے یہ ہے وہ جو ہمیں وعدہ دیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۸) اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۹) اور اس سے انہیں نہ بڑھا مگر ایمان اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا،
23مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا (ف۶۰) تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا (ف۶۱) اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے (ف۶۲) اور وہ ذرا نہ بدلے (ف۶۳)
24تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب کرے اگر چاہے، یا انہیں توبہ دے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
25اور اللہ نے کافروں کو (ف۶۴) ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ پلٹایا کہ کچھ بھلا نہ پایا (ف۶۵) اور اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی (ف۶۶) اور اللہ زبردست عزت والا ہے،
26اور جن اہلِ کتاب نے ان کی مدد کی تھی (ف۶۷) انہیں ان کے قلعوں سے اتارا (ف۶۸) اور ان کے دلوں میں رُعب ڈالا ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو (ف۶۹) اور ایک گروہ کو قید (ف۷۰)
27اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال (ف۷۱) اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے (ف۷۲) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
28اے غیب بتانے والے (نبی)! اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو (ف۷۳) تو آؤ میں تمہیں مال دُوں (ف۷۴) اور اچھی طرح چھوڑ دُوں (ف۷۵)
29اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے،
30اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے (ف۷۶) اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا (ف۷۷) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
31اور (ف۷۸) جو تم میں فرمانبردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دُونا ثواب دیں گے (ف۷۹) اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے (ف۸۰)
32اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو (ف۸۱) اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے (ف۸۲) ہاں اچھی بات کہو (ف۸۳)
33اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی (ف۸۴) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو ا لله تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے (ف۸۵)
34اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت (ف۸۶) بیشک اللہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے،
35بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (ف۸۷) اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں (ف۸۸) اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اس نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے،
36اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے (ف۸۹) اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صر یح گمراہی بہکا،
37اور اے محبوب! یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللہ نے اسے نعمت دی (ف۹۰) اور تم نے اسے نعمت دی (ف۹۱) کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے (ف۹۲) اور اللہ سے ڈر (ف۹۳) اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا (ف۹۴) اور تمہیں لوگوں کے طعنہ کا اندیشہ تھا (ف۹۵) اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو (ف۹۶) پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی (ف۹۷) تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی (ف۹۸) کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے (ف۹۹) اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا،
38نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی (ف۱۰۰) اللہ کا دستور چلا آرہا ہے اس میں جو پہلے گزر چکے (ف۱۰۱) اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے
39وہ جو اللہ کے پیام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ کرے، اور اللہ بس ہے حساب لینے والا (ف۱۰۲)
40محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں (ف۱۰۳) ہاں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰۴) اور سب نبیوں کے پچھلے (ف۱۰۵) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
41اے ایمان والو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو،
42اور صبح و شام اس کی پاکی بولو (ف۱۰۶)
43وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے (ف۱۰۷) کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے (ف۱۰۸) اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے،
44ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے (ف۱۰۹) اور ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے،
45(اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر (ف۱۱۰) اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا (ف۱۱۱)
46اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا (ف۱۱۲) او ر چمکادینے دینے والا ا ٓ فتاب (ف۱۱۳)
47اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے،
48اور کافروں اور منافقوں کی خوشی نہ کرو اور ان کی ایذا پر درگزر فرماؤ (ف۱۱۴) اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کارساز،
49اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو (ف۱۱۵) تو انہیں کچھ فائدہ دو (ف۱۱۶) اور اچھی طرح سے چھوڑ دو (ف۱۱۷)
50اے غیب بتانے والے (نبی)! ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو (ف۱۱۸) اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں (ف۱۱۹) اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی (ف۱۲۰) اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے (ف۱۲۱) یہ خاص تمہارے لیے ہہے امت کے لیے نہیں (ف۱۲۲) ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں اور ان کے ہاتھ کی مال کنیزوں میں (ف۱۲۳) یہ خصوصیت تمہاری (ف۱۲۴) اس لیے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
51پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو (ف۱۲۵) اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۱۲۶) یہ امر اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور تم انہیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں (ف۱۲۷) اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے، اور اللہ علم و حلم والا ہے،
52ان کے بعد (ف۱۲۸) اور عورتیں تمہیں حلال نہیں (ف۱۲۹) اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو (ف۱۳۰) اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مالک (ف۱۳۱) اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،
53اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (ف۱۳۲) نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ (ف۱۳۳) مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو (ف۱۳۴) ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ (ف۱۳۵) بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے (ف۱۳۶) اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا، اور جب تم ان سے (ف۱۳۷) برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر مانگو، اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی (ف۱۳۸) اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو (ف۱۳۹) اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو (ف۱۴۰) بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے (ف۱۴۱)
54اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک سب کچھ جانتا ہے،
55ان پر مضائقہ نہیں (ف۱۴۲) ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں (ف۱۴۴) اور اپنی کنیزوں میں (ف۱۴۵) اور اللہ سے ڈرتی ہو، بیشک اللہ ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
56بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو (ف۱۴۶)
57بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں (ف۱۴۷) اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے (ف۱۴۸)
58اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا (ف۱۴۹)
59اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں (ف۱۵۰) یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو (ف۱۵۱) تو ستائی نہ جائیں (ف۱۵۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
60اگر باز نہ آئے منافق (ف۱۵۳) اور جن کے دلوں میں روگ ہے (ف۱۵۴) اور مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے (ف۱۵۵) تو ضرور ہم تمہیں ان پر شہ دیں گے (ف۱۵۶) پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن (ف۱۵۷)
61پھٹکارے ہوئے، جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں،
62اللہ کا دستور چلا آتا ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر گئے (ف۱۵۸) اور تم اللہ کا دستور ہرگز بدلتا نہ پاؤ گے،
63لوگ تم سے قیامت کا پوچھتے ہیں (ف۱۵۹) تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور تم کیا جانو شاید قیامت پاس ہی ہو (ف۱۶۰)
64بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،
65اس میں ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار (ف۱۶۱)
66جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کر آگ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا (ف۱۶۲)
67اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلے (ف۱۶۳) تو انہوں نے ہمیں راہ سے بہکادیا،
68اے ہمارے رب! انہیں آگ کا دُونا عذاب دے (ف۱۶۴) اور ان پر بڑی لعنت کر،
69اے ایمان والو! ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا (ف۱۶۶) تو اللہ نے اسے بَری فرمادیا اس بات سے جو انہوں نے کہی (ف۱۶۷) اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے (ف۱۶۸)
70اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو (ف۱۶۹)
71تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا (ف۱۷۰) اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی،
72بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی (ف۱۷۱) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے (ف۱۷۲) اور آدمی نے اٹھالی، بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے،
73تاکہ اللہ عذاب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو (ف۱۷۳) اور اللہ توبہ قبول فرمائے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Chapter 34 (Sura 34)
1سب خوبیاں اللہ کو کہ اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲) اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے (ف۳) اور وہی ہے حکمت والا خبردار،
2جانتا ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے (ف۴) اور جو زمین سے نکلتا ہے (ف۵) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف۶) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۷) اور وہی ہے مہربان بخشنے والا،
3اور کافر بولے ہم پر قیامت نہ آئے گی (ف۸) تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم بیشک ضرور آئے گی غیب جاننے والا (ف۹) اس سے غیب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر ایک صاف بتانے والی کتاب میں ہے (ف۱۰)
4تاکہ صلہ دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے یہ ہیں جن کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۱۱)
5اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کی (ف۱۲) ان کے لیے سخت عذاب دردناک میں سے عذاب ہے،
6اور جنہیں علم والا (ف۱۳) وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۱۴) وہی حق ہے اور عزت والے سب خوبیوں سراہے کی راہ بتاتا ہے،
7اور کافر بولے (ف۱۵) کیا ہم تمہیں ایسا مرد بتادیں (ف۱۶) جو تمہیں خبر دے کہ جب تم پرزہ ہوکر بالکل ریزہ ہوکر بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ تو پھر تمہیں نیا بَننا ہے،
8کیا اللہ پر اس نے جھوٹ باندھا یا اسے سودا ہے (ف۱۷) بلکہ وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۸) عذاب اور دور کی گمراہی میں ہیں،
9تو کیا انہوں نے نہ دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے آسمان اور زمین (ف۱۹) ہم چاہیں تو انہیں (ف۲۰) زمین میں دھنسادیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرادیں، بیشک اس (ف۲۱) میں نشانی ہے ہر رجوع لانے والے بندے کے لیے (ف۲۲)
10اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا (ف۲۳) اے پہاڑو! اس کے ساتھ اللہ کی رجوع کرو اور اے پرندو! (ف۲۴) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا (ف۲۵)
11کہ وسیع زِر ہیں بنا اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھ (ف۲۶) اور تم سب نیکی کرو، بیشک تمہارے کام دیکھ رہا ہوں،
12اور سلیمان کے بس میں ہوا کردی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ (ف۲۷) اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا (ف۲۸) اور جنوں میں سے وہ جو اس کے آگے کا م کرتے اس کے رب کے حکم سے (ف۲۹) ادر جو ان میں ہما رے حکم سے پھرے (ف ۳۰) ہم اسے بھڑ کتی آ گ کا عذاب چکھائیں گے،
13اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا اونچے اونچے محل (ف۳۱) اور تصویریں (ف۳۲) اور بڑے حوضوں کے برابر لگن (ف۳۳) اور لنگردار دیگیں (ف۳۴) اے داؤد والو! شکر کرو (ف۳۵) اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے،
14پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا (ف۳۶) جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی (ف۳۷) اگر غیب جانتے ہوتے (ف۳۸) تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے (ف۳۹)
15بیشک سبا (ف۴۰) کے لیے ان کی آبادی میں (ف۴۱) نشانی تھی (ف۴۲) دو باغ دہنے اور بائیں (ف۴۳) اپنے رب کا رزق کھاؤ (ف۴۴) اور اس کا شکر ادا کرو (ف۴۵) پاکیزہ شہر اور (ف۴۶) بخشنے والا رب (ف۴۷)
16تو انہوں نے منہ پھیرا (ف۴۸) تو ہم نے ان پر زور کا اہلا (سیلاب) بھیجا (ف۴۹) اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انہیں بدل دیے جن میں بکٹا (بدمزہ) میوہ (ف۵۰) اور جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں (ف۵۱)
17ہم نے انہیں یہ بدلہ دیا ان کی ناشکری (ف۵۲) کی سزا، اور ہم کسے سزا دیتے ہیں اسی کو جو نا شکرا ہے،
18اور ہم نے کیے تھے ان میں (ف۵۳) اور ان شہروں میں ہم نے برکت رکھی (ف۵۴) سر راہ کتنے شہر (ف۵۵) اور انہیں منزل کے اندازے پر رکھا (ف۵۶) ان میں چلو راتوں اور دنوں امن و امان سے (ف۵۷)
19تو بولے اے ہمارے رب! ہمیں سفر میں دوری ڈال (ف۵۸) اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں کردیا (ف۵۹) اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا (ف۶۰) بیشک اس میں ضروری نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے ہر بڑے شکر والے کے لیے (ف۶۱)
20اور بیشک ابلیس نے انہیں اپنا گمان سچ کر دکھایا (ف۶۲) تو وہ اس کے پیچھے ہولیے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا (ف۶۳)
21اور شیطان کا ان پر (ف۶۴) کچھ قابو نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم دکھادیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا اور کون اس سے شک میں ہے، اور تمہارا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،
22تم فرماؤ (ف۶۵) پکارو انہیں جنہیں اللہ کے سوا (ف۶۶) سمجھے بیٹھے ہو (ف۶۷) وہ ذرہ بھر کے مالک نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار،
23اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اذن فرمائے، یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے، ایک دوسرے سے (ف۶۸) کہتے ہیں تمہارے ربنے کیا ہی بات فرمائی، وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا (ف۶۹) اور وہی ہے بلند بڑائی والا،
24تم فرماؤ کون جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمانوں اور زمین سے (ف۷۰) تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف۷۱) اور بیشک ہم یا تم (ف۷۲) یا تو ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں (ف۷۳)
25تم فرماؤ ہم نے تمہارے گمان میں اگر کوئی جرم کیا تو اس کی تم سے پوچھ نہیں، نہ تمہارے کوتکوں کا ہم سے سوال (ف۷۴)
26تم فرماؤ ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا (ف۷۵) پھر ہم میں سچا فیصلہ فرمادے گا (ف۷۶) اور وہی ہے بڑا نیاؤ چکانے(درست فیصلہ کرنے) والا سب کچھ جانتا،
27تم فرماؤ مجھے دکھاؤ تو وہ شریک جو تم نے اس سے ملائے ہیں (ف۷۷) ہشت، بلکہ وہی ہے اللہ عزت والا حکمت والا،
28اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے (ف۷۸) خوشخبری دیتا (ف۷۹) اور ڈر سناتا (ف۸۰) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۸۱)
29اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا (ف۸۲) اگر تم سچے ہو،
30تم فرماؤ تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو اور نہ آگے بڑھ سکو (ف۸۳)
31اور کافر بولے ہم ہرگز نہ ایمان لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے آگے تھیں (ف۸۴) اور کسی طرح تو دیکھے جب ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے جائیں گے، ان میں ایک دوسرے پر بات ڈالے گا وہ جو دبے تھے (ف۸۵) ان سے کہیں گے جو اونچے کھینچتے (بڑے بنے ہوئے) تھے (ف۸۶) اگر تم نہ ہوتے (ف۸۷) تو ہم ضرور ایمان لے آتے،
32وہ جو اونچے کھینچتے تھے ان سے کہیں گے جو دبے ہوئے تھے کیا ہم نے تمہیں روک دیا ہدایت سے بعد اس کے کہ تمہارے پاس آئی بلکہ تم خود مجرم تھے،
33اور کہیں گے وہ جو دبے ہوئے تھے ان سے جو اونچے کھینچتے تھے بلکہ رات دن کا داؤں (فریب) تھا (ف۸۸) جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ اللہ کا انکار کریں اور اس کے برابر والے ٹھہرائیں، اور دل ہی دل میں پچھتانے لگے (ف۸۹) جب عذاب دیکھا (ف۹۰) اور ہم نے طوق ڈالے ان کی گردنوں میں جو منکر تھے (ف۹۱) وہ کیا بدلہ پائیں گے مگر وہی جو کچھ کرتے تھے (ف۹۲)
34اور ہم نے جب کبھی کسی شہر میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ تم جو لے کر بھیجے گئے ہم اس کے منکر ہیں (ف۹۳)
35اور بولے ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہم پر عذاب ہونا نہیں (ف۹۴)
36تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۹۵) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے،
37اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قریب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیکی کی (ف۹۶) ان کے لیے دُونا دُوں (کئی گنا) صلہ (ف۹۷) ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں (ف۹۸)
38اور ہو جو ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں (ف۹۹) وہ عذاب میں لادھرے جائیں گے (ف۱۰۰)
39تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے (ف۱۰۱) اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا (ف۱۰۲) اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا (ف۱۰۳)
40اور جس دن ان سب کو اٹھائے گا (ف۱۰۴) پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ تمہیں پوجتے تھے (ف۱۰۵)
41وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو تو ہمارا دوست ہے نہ وہ (ف۱۰۶) بلکہ وہ جِنوں کو پوجتے تھے (ف۱۰۷) ان میں اکثر انہیں پر یقین لائے تھے (ف۱۰۸)
42تو آج تم میں ایک دوسرے کو بھلے برے کا کچھ اختیار نہ رکھے گا (ف۱۰۹) او رہم فرمائیں گے ظالموں سے اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۱۰)
43اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف۱۱۱) پڑھی جائیں تو کہتے ہیں (ف۱۱۲) یہ تو نہیں مگر ایک مرد کہ تمہیں روکنا چاہتے ہیں تمہارے باپ دادا کے معبودو ں سے (ف۱۱۳) اور کہتے ہیں (ف۱۱۴) یہ تو نہیں مگر بہتان جوڑا ہوا، اور کافروں نے حق کو کہا (ف۱۱۵) جب ان کے پاس آیا یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،
44اور ہم نے انہیں کچھ کتابیں نہ دیں جنہیں پڑھتے ہوں نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا (ف۱۱۶)
45اور ان سے اگلوں نے (ف۱۱۷) جھٹلایا اور یہ اس کے دسویں کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے انہیں دیا تھا (ف۱۱۸) پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکا کرنا (ف۱۱۹)
46تم فرماؤ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں (ف۱۲۰) کہ اللہ کے لیے کھڑے رہو (ف۱۲۱) دو دو (ف۱۲۲) اور اکیلے اکیلے (ف۱۲۳) پھر سوچو (ف۱۲۴) کہ تمہارے ان صاحب میں جنون کی کوئی بات نہیں، وہ تو نہیں مگر نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے (ف۱۲۵) ایک سخت عذاب کے آگے (ف۱۲۶)
47تم فرماؤ میں نے تم سے اس پر کچھ اجر مانگا ہو تو وہ تمہیں کو (ف۱۲۷) میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے،
48تم فرماؤ بیشک میرا رب حق پر القا فرماتا ہے (ف۱۲۸) بہت جاننے والا سب نبیوں کا،
49تم فرماؤ حق آیا (ف ۱۲۹) اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر کر آئے (ف۱۳۰)
50تم فرماؤ اگر میں بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا (ف۱۳۱) اور اگر میں نے راہ پائی تو اس کے سبب جو میرا رب میری طرف وحی فرماتا ہے (ف۱۳۲) بیشک وہ سننے والا نزدیک ہے (ف۱۳۳)
51اور کسی طرح تو دیکھے (ف۱۳۴) جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے پھر بچ کر نہ نکل سکیں گے (ف۱۳۵) اور ایک قریب جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے (ف۱۳۶)
52اور کہیں گے ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۳۷) اور اب وہ اسے کیونکر پائیں اتنی دور جگہ سے (ف۱۳۸)
53کہ پہلے (ف۱۳۹) تو اس سے کفر کرچکے تھے، اور بے دیکھے پھینک مارتے ہیں (ف۱۴۰) دور مکان سے (ف۱۴۱)
54اور روک کردی گئی ان میں اور اس میں جسے چاہتے ہیں (ف۱۴۲) جیسے ان کے پہلے گروہوں سے کیا گیا تھا (ف۱۴۳) بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے (ف۱۴۴)
Chapter 35 (Sura 35)
1سب خوبیاں اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا فرشتوں کو رسول کرنے والا (ف۲) جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں، بڑھاتا ہے آفرینش (پیدائش) میں جو چاہے (ف۳) بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
2اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھولے (ف۴) اس کا کوئی روکنے والا نہیں، اور جو کچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کا کوئی چھوڑنے والا نہیں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
3اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو (ف۵) کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ آسمان اور زمین سے (ف۶) تمہیں روزی دے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۷)
4اور اگر یہ تمہیں جھٹلائیں (ف۸) تو بیشک تم سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے گئے (ف۹) اور سب کام اللہ ہی کی طرف سے پھرتے ہیں (ف۱۰)
5اے لوگو! بیشک اللہ کا وعدہ سچ ہے (ف۱۱) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی، (ف۱۲) اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی (ف۱۳)
6بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو (ف۱۴) وہ تو اپنے گروہ کو (ف۱۵) اسی لیے بلاتا ہے کہ دوزخیوں میں ہوں (ف۱۶)
7کافروں کے لیے (ف۱۷) سخت عذاب ہے، اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۸) ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
8تو کیا وہ جس کی نگاہ میں اس کا برا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بھلا سمجھا ہدایت والے کی طرح ہوجائے گا (ف۱۹) اس لیے اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، تو تمہاری جان ان پر حسرتوں میں نہ جائے (ف۲۰) اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،
9اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں (ف۲۱) تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے (ف۲۲) یونہی حشر میں اٹھنا ہے (ف۲۳)
10جسے عزت کی چاہ ہو تو عزت تو سب اللہ کے ہاتھ ہے (ف۲۴) اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام (ف۲۵) اور جو نیک کام سے وہ اسے بلند کرتا ہے (ف۲۶) اور وہ جو برے داؤں (فریب) کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف۲۷) اور انہیں کا مکر برباد ہوگا (ف۲۸
11اور اللہ نے تمہیں بنایا (ف۲۹) مٹی سے پھر (ف۳۰) پانی کی بوند سے پھر تمہیں کیا جوڑے جوڑے (ف۳۱) اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جتنی ہے مگر اس کے علم سے، اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۳۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۳۳)
12اور دونوں سمندر ایک سے نہیں (ف۳۴) یہ میٹھا ہے خوب میٹھا پانی خوشگوار اور یہ کھاری ہے تلخ اور ہر ایک میں سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت (ف۳۵) اور نکالتے ہو پہننے کا ایک گہنا (زیور) (ف۳۶) اور تو کشتیوں کو اس میں دیکھے کہ پانی چیرتی ہیں (ف۳۷) تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو (ف۳۸) اور کسی طرح حق مانو (ف۳۹)
13رات لاتا ہے دن کے حصہ میں (ف۴۰) اور دن لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف۴۱) اور اس نے کام میں لگائے سورج اور چاند ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف۴۲) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اور اس کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو (ف۴۳) دانہ خُرما کے چھلکے تک کے مالک نہیں،
14تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں، (ف۴۴) اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری حاجت روانہ کرسکیں (ف۴۵) اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوں گے (ف۴۶) اور تجھے کوئی نہ بتائے گا اس بتانے والے کی طرح (ف۴۷)
15اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج (ف۴۸) اور اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
16وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۴۹) اور نئی مخلوق لے آئے (ف۵۰)
17اور یہ اللہ پر کچھ دشوار نہیں،
18اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۵۱) اور اگر کوئی بوجھ والی اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو اس کے بوجھ میں سے کوئی کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قریب رشتہ دار ہو (ف۵۲) اے محبوب! تمہارا ڈر سناتا انہیں کو کام دیتا ہے جو بے دیکھے اپنے رب! سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں، اور جو ستھرا ہوا (ف۵۳) تو اپنے ہی بھلے کو ستھرا ہوا (ف۵۴) اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
19اور برابر نہیں اندھا اور انکھیارا (ف۵۵)
20اور نہ اندھیریاں (ف۵۶) اور اجالا (ف۵۷)
21اور نہ سایہ (ف۵۸) اور نہ تیز دھوپ (ف۵۹)
22اور برابر نہیں زندے اور مردے (ف۶۰) بیشک اللہ سنا تا ہے جسے چاہے (ف۶۱) اور تم نہیں سنانے والے انہیں جو قبروں میں پڑے ہیں (ف۶۲)
23تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو (ف۶۳)
24اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا (ف۶۴) اور ڈر سنا تا (ف۶۵) اور جو کوئی گروہ تھا سب میں ایک ڈر سنانے والا گزر چکا (ف۶۶)
25اور اگر یہ (ف۶۷) تمہیں جھٹلائیں تو ان سے اگلے بھی جھٹلاچکے ہیں (ف۶۸) ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن دلیلیں (ف۶۹) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۷۰) لے کر،
26پھر میں نے کافروں کو پکڑا (ف۷۱) تو کیسا ہوا میرا انکار (ف۷۲)
27کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا (ف۷۳) تو ہم نے اس سے پھل نکالے رنگ برنگ (ف۷۴) اور پہاڑوں میں راستے ہیں سفید اور سرخ رنگ رنگ کے او رکچھ کالے بھوچنگ (سیاہ کالے)
28اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں (ف۷۵) اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں (ف۷۶) بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے،
29بیشک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں (ف۷۷) جس میں ہرگز ٹوُٹا (نقصان) نہیں،
30تاکہ ان کے ثواب انہیں بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے، بیشک وہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،
31اور ہو کتاب جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی (ف۷۸) وہی حق ہے اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہوئی، بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے (ف۷۹)
32پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چُنے ہوئے بندوں کو (ف۸۰) تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور ان میں کوئی میانہ چال پر ہے، اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا (ف۸۱) یہی بڑا فضل ہے،
33بسنے کے باغوں میں داخل ہوں گے وہ (ف۸۲) ان میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشمی ہے،
34اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا (ف۸۳) بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے (ف۸۴)
35وہ جس نے ہمیں آرام کی جگہ اتارا اپنے فضل سے، ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف پہنچے نہ ہمیں اس میں کوئی تکان لاحق ہو،
36اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ ان کی قضا آئے کہ مرجائیں (ف۸۵) اور نہ ان پر اس کا (ف۸۶) عذاب کچھ ہلکا کیاجائے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ہر بڑے ناشکرے کو،
37اور وہ اس میں چلاتے ہوں گے (ف۸۷) اے ہمارے رب! ہمیں نکال (ف۸۸) کہ ہم اچھا کام کریں اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے (ف۸۹) اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا (ف۹۰) تمہارے پاس تشریف لایا تھا (ف۹۱) تو اب چکھو (ف۹۲) کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
38بیشک اللہ جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی بات کا، بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
39وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں اگلوں کا جانشین کیا (ف۹۳) تو جو کفر کرے (ف۹۴) اس کا کفر اسی پر پڑے (ف۹۵) اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے یہاں نہیں بڑھائے گا مگر بیزاری (ف۹۶) اور کافروں کو ان کا کفر نہ بڑھائے گا مگر نقصان (ف۹۷)
40تم فرماؤ بھلا بتلاؤ تو اپنے وہ شریک (ف۹۸) جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں سے کونسا حصہ بنایا یا آسمانوں میں کچھ ان کا ساجھا ہے (ف۹۹) یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی روشن دلیلوں پر ہیں (ف۱۰۰) بلکہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدہ نہیں دیتے مگر فریب کا (ف۱۰۱)
41بیشک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں (ف۱۰۲) اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا، بیشک وہ علم بخشنے والا ہے،
42اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور کسی نہ کسی گروہ سے زیادہ راہ پر ہوں گے (ف۱۰۳) پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۱۰۴) تو اس نے انہیں نہ بڑھا مگر نفرت کرنا (ف۱۰۵)
43اپنی جان کو زمین میں اونچا کھینچنا اور برا داؤں (ف۱۰۶) اور برا داؤں (فریب) اپنے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے (ف۱۰۷) تو کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر اسی کے جو اگلوں کا دستور ہوا (ف۱۰۸) تو تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کو ٹلتا نہ پاؤ گے،
44اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا (ف۱۰۹) اور وہ ان سے زور میں سخت تھے (ف۱۱۰) اور اللہ وہ نہیں جس کے قابو سے نکل سکے کوئی شئے آسمانوں اور نہ زمین میں، بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
45اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کیے پر پکڑتا (ف۱۱۱) تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا لیکن ایک مقرر میعاد (ف۱۱۲) تک انہیں ڈھیل دیتا ہے پھر جب ان کا وعدہ آئے گا تو بیشک اللہ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں (ف۱۱۳)
Chapter 36 (Sura 36)
1یسٰں
2حکمت والے قرآن کی قسم،
3بیشک تم (ف۲)
4سیدھی راہ پر بھیجے گئے ہو (ف۳)
5عزت والے مہربان کا اتارا ہوا،
6تاکہ تم اس قوم کو ڈر سناؤ جس کے باپ دادا نہ ڈرائے گئے (ف۴) تو وہ بے خبر ہیں،
7بیشک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے (ف۵) تو وہ ایمان نہ لائیں گے (ف۶)
8ہم نے ان کی گردنو ں میں طوق کردیے ہیں کہ وہ ٹھوڑیوں تک ہیں تو یہ اوپر کو منہ اٹھائے رہ گئے (ف۷)
9اور ہم نے ان کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور انہیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا (ف۸)
10اور انہیں ایک سا ہے تم انہیں ڈراؤٕ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں،
11تم تو اسی کو ڈر سناتے ہو (ف۹) جو نصیحت پر چلے اور رحمن سے بے دیکھے ڈرے، تو اسے بخشش اور عزت کے ثواب کی بشارت دو (ف۱۰)
12بیشک ہم مُردوں کو جِلائیں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا (ف۱۱) اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے (ف۱۲) اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایک بتانے والی کتاب میں (ف۱۳)
13اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی (ف۱۴) جب ان کے پاس فرستادے (رسول) آئے، (ف۱۵)
14جب ہم نے ان کی طرف دو بھیجے (ف۱۶) پھر انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے تیسرے سے زور دیا (ف۱۷) اب ان سب نے کہا (ف۱۸) کہ بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
15بولے تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا تم نرے جھوٹے ہو،
16وہ بولے ہمارا رب جانتا ہے کہ بیشک ضرور ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
17اور ہمارے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا (ف۱۹)
18بولے ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں (ف۲۰) بیشک اگر تم باز نہ آئے (ف۲۱) تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کریں گے بیشک ہمارے ہاتھوں تم پر دکھ کی مار پڑے گی،
19انہوں نے فرمایا تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے (ف۲۲) کیا اس پر بدکتے ہو کہ تم سمجھائے گئے (ف۲۳) بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو (ف۲۴)
20اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک مرد دوڑتا آیا (ف۲۵) بولا، اے میری قوم! بھیجے ہوؤں کی پیروی کرو،
21ایسوں کی پیروی کرو جو تم سے کچھ نیگ (اجر) نہیں مانگتے اور وہ راہ پر ہیں،
22(ف۲۶) اور مجھے کیا ہے کہ اس کی بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے، (ف۲۷)
23کیا اللہ کے سوا اور خدا ٹھہراؤں (ف۲۸) کہ اگر رحمٰن میرا کچھ برا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہ آئے اور نہ وہ مجھے بچاسکیں،
24بیشک جب تو میں کھلی گمراہی میں ہو (ف۲۹)
25مقرر میں تمہارے رب پر ایمان لایا تو میری سنو (ف۳۰)
26اس سے فرمایا گیا کہ جنت میں داخل ہو (ف۳۱) کہا کسی طرح میری قوم جانتی،
27جیسی میرے رب نے میری مغفرت کی اور مجھے عزت والوں میں کیا (ف۳۲)
28اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا (ف۳۳) اور نہ ہمیں وہاں کوئی لشکر اتارنا تھا،
29وہ تو بس ایک ہی چیخ تھی جبھی وہ بجھ کر رہ گئے (ف۳۴)،
30اور کہا گیا کہ ہائے افسوس ان بندوں پر (ف۳۵) جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا ہی کرتے ہیں،
31کیا انہوں نے نہ دیکھا (ف۳۶) ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں ہلاک فرمائیں کہ وہ اب ان کی طرف پلٹنے والے نہیں (ف۳۷)
32اور جتنے بھی ہیں سب کے سب ہمارے حضور حاضر لائے جائیں گے (ف۳۸)
33اور ان کے لیے ایک نشانی مردہ زمین ہے (ف۳۹) ہم نے اسے زندہ کیا (ف۴۰) اور پھر اس سے اناج نکالا تو اس میں سے کھاتے ہیں،
34اور ہم نے اس میں (ف۴۱) باغ بنائے کھجوروں اور انگو روں کے اور ہم نے اس میں کچھ چشمے بہائے کہ،
35اس کے پھلوں میں سے کھائیں اور یہ ان کے ہاتھ کے بنائے نہیں تو کیا حق نہ مانیں گے (ف۴۲)
36پاکی ہے اسے جس نے سب جوڑے بنائے (ف۴۳) ان چیزوں سے جنہیں زمین اگاتی ہے (ف۴۴) اور خود ان سے (ف۴۵) اور ان چیزوں سے جن کی انہیں خبر نہیں (ف۴۶)
37اور ان کے لیے ایک نشانی (ف۴۷) رات ہے ہم اس پر سے دن کھینچ لیتے ہیں (ف۴۸) جبھی وہ اندھیروں میں ہیں،
38اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے (ف۴۹) یہ حکم ہے زبردست علم والے کا (ف۵۰)
39اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کیں (ف۵۱) یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال (ٹہنی) (ف۵۲)
40سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑے (ف۵۳) اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے (ف۵۴) اور ہر ایک، ایک گھیرے میں پیر رہا ہے،
41اور ان کے لیے نشانی یہ ہے کہ انہیں ان بزرگوں کی پیٹھ میں ہم نے بھری کشتی میں سوار کیا (ف۵۵)
42اور ان کے لیے ویسی ہی کشتیاں بنادیں جن پر سوار ہوتے ہیں،
43اور ہم چاہیں تو انہیں ڈبودیں (ف۵۶) تو نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں،
44مگر ہماری طرف کی رحمت اور ایک وقت تک برتنے دینا (ف۵۷)
45اور جب ان سے فرمایا جاتا ہے ڈرو تم اس سے جو تمہارے سامنے ہے (ف۵۸) اور جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے (ف۵۹) اس امید پر کہ تم پر مہر ہو تو منہ پھیر لیتے ہیں،
46اور جب کبھی ان کے رب کی نشانیوں سے کوئی نشانی ان کے پاس آتی ہے تو اس سے منہ پھیرلیتے ہیں، (ف۶۰)
47اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا (ف۶۱) تم تو نہیں مگر کھلی گمراہی میں،
48اور کہتے ہیں کب آئے گا یہ وعدہ (ف۶۲) اگر تم سچے ہو (ف۶۳)
49راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی (ف۶۴) کہ انہیں آلے گی جب وہ دنیا کے جھگڑے میں پھنسے ہوں گے، (ف۶۵)
50تو نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر پلٹ کرجائیں (ف۶۶)
51اور پھونکا جائے گا صور (ف۶۷) جبھی وہ قبروں سے (ف۶۸) اپنے رب کی طرف دوڑتے چلیں گے،
52کہیں گے ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگادیا (ف۶۹) یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا (ف۷۰)
53وہ تو نہ ہوگی مگر ایک چنگھاڑ (ف۷۱) جبھی وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر ہوجائیں گے (ف۷۲)
54تو آج کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور تمہیں بدلا نہ ملے گا اپنے کیے کا،
55بیشک جنت والے آج دل کے بہلاووں میں چین کرتے ہیں (ف۷۳)
56وہ اور ان کی بیبیاں سایوں میں ہیں، تختوں پر تکیہ لگائے،
57ان کے لیے اس میں میوہ ہے اور ان کے لیے ہے اس میں جو مانگیں،
58ان پر سلام ہوگا، مہربان رب کا فرمایا ہوا (ف۷۴)
59اور آج الگ پھٹ جاؤ، اے مجرمو! (ف۷۵)
60اے اولاد آدم کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا (ف۷۶) کہ شیطان کو نہ پوجنا (ف۷۷) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
61اور میری بندگی کرنا (ف۷۸) یہ سیدھی راہ ہے،
62اور بیشک اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو بہکادیا، تو کیا تمہیں عقل نہ تھی (ف۷۹)
63یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ تھا،
64آج اسی میں جاؤ بدلہ اپنے کفر کا،
65آج ہم ان کے مونھوں پر مہر کردیں گے (ف۸۰) اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے (ف۸۱)
66اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹادیتے (ف۸۲) پھر لپک کر رستہ کی طرف جاتے تو انہیں کچھ نہ سوجھتا (ف۸۳)
67اور اگر ہم چاہتے تو ان کے گھر بیٹھے ان کی صورتیں بدل دیتے (ف۸۴) نہ آگے بڑھ سکتے نہ پیچھے لوٹتے (ف۸۵)
68اور جسے ہم بڑی عمر کا کریں اسے پیدائش میں الٹا پھیریں (ف۸۶) تو کیا سمجھے نہیں (ف۸۷)
69اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا (ف۸۸) اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے، وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن قرآن (ف۸۹)
70کہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو (ف۹۰) اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے (ف۹۱)
71اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے چوپائے ان کے لیے پیدا کیے تو یہ ان کے مالک ہیں،
72اور انہیں ان کے لیے نرم کردیا (ف۹۲) تو کسی پر سوار ہوتے ہیں اور کسی کو کھاتے ہیں،
73اور ان کے لیے ان میں کئی طرح کے نفع (ف۹۳) اور پینے کی چیزیں ہیں (ف۹۴) تو کیا شکر نہ کریں گے (ف۹۵)
74اور انہوں نے اللہ کے سوا اور خدا ٹھہرالیے (ف۹۶) کہ شاید ان کی مدد ہو (ف۹۷)
75وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے (ف۹۸) اور وہ ان کے لشکر سب گرفتار حاضر آئیں گے (ف۹۹)
76تو تم ان کی بات کا غم نہ کرو (ف۱۰۰) بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں (ف۱۰۱)
77اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے (ف۱۰۲)
78اور ہمارے لیے کہاوت کہتا ہے (ف۱۰۳) اور اپنی پیدائش بھول گیا (ف۱۰۴) بولا ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں،
79تم فرماؤ وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا، اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے (ف۱۰۵)
80جس نے تمہارے لیے ہرے پیڑ میں ا ٓ گ پیدا کی جبھی تم اس سے سلگاتے ہو (ف۱۰۶)
81اور کیا وہ جس نے آسمان اور زمین بنائے ان جیسے اور نہیں بناسکتا (ف۱۰۷) کیوں نہیں (ف۱۰۸) اور وہی بڑا پیدا کرنے والا سب کچھ جانتا،
82اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے (ف۱۰۹) تو اس سے فرمائے ہو جا وہ فوراً ہوجاتی ہے، (ف۱۱۰)
83تو پاکی ہے، اسے جس کے ہاتھ ہر چیز کا قبضہ ہے، اور اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے (ف۱۱۱)
Chapter 37 (Sura 37)
1قسم ان کی کہ باقاعدہ صف باندھیں (ف۲)
2پھر ان کی کہ جھڑک کر چلائیں (ف۳)
3پھر ان جماعتوں کی، کہ قرآن پڑھیں،
4بیشک تمہارا معبود ضرور ایک ہے،
5مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مالک مشرقوں کا (ف۴)
6اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۵) تاروں کے سنگھار سے آراستہ کیا،
7اور نگاہ رکھنے کو ہر شیطان سرکش سے (ف۶)
8عالم بالا کی طرف کان نہیں لگاسکتے (ف۷) اور ان پر ہر طرف سے مار پھینک ہوتی ہے (ف۸)
9انہیں بھگانے کو اور ان کے لیے (ف۹) ہمیشہ کا عذاب،
10مگر جو ایک آدھ بار اُچک لے چلا (ف۱۰) تو روشن انگار اس کے پیچھے لگا، (ف۱۱)
11تو ان سے پوچھو (ف۱۲) کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ کی (ف۱۳) بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا (ف۱۴)
12بلکہ تمہیں اچنبھا آیا (ف۱۵) اور وہ ہنسی کرتے ہیں (ف۱۶)
13اور سمجھائے نہیں سمجھتے،
14اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں (ف۱۷) ٹھٹھا کرتے ہیں،
15اور کہتے ہیں یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،
16کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے کیا ہم ضرور اٹھائے جائیں گے،
17اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (ف۱۸)
18تم فرماؤ ہاں یوں کہ ذلیل ہو کے،
19تو وہ (ف۱۹) تو ایک ہی جھڑک ہے (ف۲۰) جبھی وہ (ف۲۱) دیکھنے لگیں گے،
20اور کہیں گے ہائے ہماری خرابی ان سے کہا جائے گا یہ انصاف کا دن ہے (ف۲۲)
21یہ ہے وہ فیصلے کا دن جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۲۳)
22ہانکو ظالموں اور ان کے جوڑوں کو (ف۲۴) اور جو کچھ وہ پوجتے تھے،
23اللہ کے سوا، ان سب کو ہانکو راہِ دوزخ کی طرف،
24اور انہیں ٹھہراؤ (ف۲۵) ان سے پوچھنا ہے (ف۲۶)
25تمہیں کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے (ف۲۷)
26بلکہ وہ آج گردن ڈالے ہیں (ف۲۸)
27اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا آپس میں پوچھتے ہوئے،
28بولے (ف۲۹) تم ہمارے دہنی طرف سے بہکانے آتے تھے (ف۳۰)
29جواب دیں گے تم خود ہی ایمان نہ رکھتے تھے (ف۳۱)
30اور ہمارا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۳۲) بلکہ تم سرکش لوگ تھے،
31تو ثابت ہوگئی ہم پر ہمارے رب کی بات (ف۳۳) ہمیں ضرور چکھنا ہے (ف۳۴)
32تو ہم نے تمہیں گمراہ کیا کہ ہم خود گمراہ تھے،
33تو اس دن (ف۳۵) وہ سب کے سب عذاب میں شریک ہیں (ف۳۶)
34مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں،
35بیشک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اونچی کھینچتے (تکبر کرتے) تھے (ف۳۷)
36اور کہتے تھے کیا ہم اپنے خداؤں کو چھوڑدیں ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے (ف۳۸)
37بلکہ وہ تو حق لائے ہیں اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق فرمائی (ف۳۹)
38بیشک تمہیں ضرور دکھ کی مار چکھنی ہے،
39تو تمہیں بدلہ نہ ملے گا مگر اپنے کیے کا (ف۴۰)
40مگر جو اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہیں (ف۴۱)
41ان کے لیے وہ روزی ہے جو ہمارے علم میں ہیں،
42میوے (ف۴۲) اور ان کی عزت ہوگی،
43چین کے باغوں میں،
44تختوں پر ہوں گے آمنے سامنے (ف۴۳)
45ان پر دورہ ہوگا نگاہ کے سامنے بہتی شراب کے جام کا (ف۴۴)
46سفید رنگ (ف۴۵) پینے والوں کے لیے لذت (ف۴۶)
47نہ اس میں خمار ہے (ف۴۷) اور نہ اس سے ان کا سَر پِھرے (ف۴۸)
48اور ان کے پاس ہیں جو شوہروں کے سوا دوسری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں گی (ف۴۹)
49بڑی آنکھوں والیاں گویا وہ انڈے ہیں پوشیدہ رکھے ہوئے (ف۵۰)
50تو ان میں (ف۵۱) ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے (ف۵۲)
51ان میں سے کہنے والا بولا میرا ایک ہمنشین تھا (ف۵۳)
52مجھ سے کہا کرتا کیا تم اسے سچ مانتے ہو (ف۵۴)
53کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں جزا سزا دی جائے گی (ف۵۵)
54کہا کیا تم جھانک کر دیکھو گے (ف۵۶)
55پھر جھانکا تو اسے بیچ بھڑکتی آگ میں دیکھا (ف۵۷)
56کہا خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کردے (ف۵۸)
57اور میرا رب فضل نہ کرے (ف۵۹) تو ضرور میں بھی پکڑ کر حاضر کیا جاتا (ف۶۰)
58تو کیا ہمیں مرنا نہیں،
59مگر ہماری پہلی موت (ف۶۱) اور ہم پر عذاب نہ ہوگا (ف۶۳)
60بیشک یہی بڑی کامیابی ہے،
61ایسی ہی بات کے لیے کامیوں کو کام کرنا چاہیے،
62تو یہ مہمانی بھلی (ف۶۳) یا تھوہڑ کا پیڑ (ف۶۴)
63بیشک ہم نے اسے ظالموں کی جانچ کیا ہے (ف۶۵)
64بیشک وہ ایک پیڑ ہے کہ جہنم کی جڑ میں نکلتا ہے (ف۶۶)
65اس کا شگوفہ جیسے دیووں کے سر (ف۶۷)
66پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے (ف۶۸) پھر اس سے پیٹ بھریں گے،
67پھر بیشک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملونی (ملاوٹ) ہے (ف۶۹)
68پھر ان کی بازگشت ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے (ف۷۰)
69بیشک انہوں نے اپنے باپ دادا گمراہ پائے،
70تو وہ انہیں کے نشان قدم پر دوڑے جاتے ہیں (ف۷۱)
71اور بیشک ان سے پہلے بہت سے اگلے گمراہ ہوئے (ف۷۲)
72اور بیشک ہم نے ان میں ڈر سنانے والے بھیجے (ف۷۳)
73تو دیکھو ڈرائے گیوں کا کیسا انجام ہوا (ف۷۴)
74مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے (ف۷۵)
75اور بیشک ہمیں نوح نے پکارا (ف۷۶) تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے (ف۷۷)
76اور ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی تکلیف سے نجات دی،
77اور ہم نے اسی کی اولاد باقی رکھی (ف۷۸)
78اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی (ف۷۹)
79نوح پر سلام ہو جہاں والوں میں (ف۸۰)
80بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
81بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،
82پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا (ف۸۱)
83اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)
84جبکہ اپنے رب کے پاس حاضر ہوا غیر سے سلامت دل لے کر (ف۸۳)
85جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا (ف۸۴) تم کیا پوجتے ہو،
86کیا بہتان سے اللہ کے سوا اور خدا چاہتے ہو،
87تو تمہارا کیا گمان سے رب العالمین پر (ف۸۵)
88پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا (ف۸۶)
89پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں (ف۸۷)
90تو وہ اس پر پیٹھ دے کر پھر گئے (ف۸۸)
91پھر ان کے خداؤں کی طرف چھپ کر چلا تو کہا کیا تم نہیں کھاتے (ف۸۹)
92تمہیں کیا ہوا کہ نہیں بولتے (ف۹۰)
93تو لوگوں کی نظر بچا کر انہیں دہنے ہاتھ سے مارنے لگا (ف۹۱)
94تو کافر اس کی طرف جلدی کرتے آئے (ف۹۲)
95فرمایا کیا اپنے ہاتھ کے تراشوں کو پوجتے ہو،
96اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو (ف۹۳)
97بولے اس کے لیے ایک عمارت چنو (ف۹۴) پھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو،
98تو انہوں نے اس پر داؤں چلنا (فریب کرنا) چاہا ہم نے انہیں نیچا دکھایا (ف۹۵)
99اور کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں (ف۹۶) اب وہ مجھے راہ دے گا (ف۹۷)
100الٰہی مجھے لائق اولاد دے،
101تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی،
102پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں (ف۹۸) اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے (ف۹۹) کہا اے میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہتا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے،
103تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ (ف۱۰۰)
104اور ہم نے اسے ندائی فرمائی کہ اے ابراہیم،
105بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا (ف۱۰۱) ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
106بیشک یہ روشن جانچ تھی،
107اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا (ف۱۰۲)
108اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی،
109سلام ہو ابراہیم پر (ف۱۰۳)
110ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
111بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
112اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا نبی ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں (ف۱۰۴)
113اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحاق پر (ف۱۰۵) اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا (ف۱۰۶) اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا (ف۱۰۷)
114اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان فرمایا (ف۱۰۸)
115اور انہیں اور ان کی قوم (ف۱۰۹) کو بڑی سختی سے نجات بخشی (ف۱۱۰)
116اور ان کی ہم نے مدد فرمائی (ف۱۱۱) تو وہی غالب ہوئے (ف۱۱۲)
117اور ہم نے ان دونوں کو روشن کتاب عطا فرمائی (ف۱۱۳)
118اور ان کو سیدھی راہ دکھائی،
119اور پچھلوں میں ان کی تعریف باقی رکھی،
120سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر،
121بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
122بیشک وہ دونوں ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
123اور بیشک الیاس پیغمبروں سے ہے (ف۱۱۴)
124جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کیا تم ڈرتے نہیں (ف۱۱۵)
125کیا بعل کو پوجتے ہو (ف۱۱۶) اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو،
126جو رب ہے تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا (ف۱۱۷)
127پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پکڑے آئیں گے (ف۱۱۸)
128مگر اللہکے چُنے ہوئے بندے (ف۱۱۹)
129اور ہم نے پچھلوں میں اس کی ثنا باقی رکھی،
130سلام ہو الیاس پر،
131بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
132بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،
133اور بیشک لوط پیغمبروں میں ہے،
134جبکہ ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی،
135مگر ایک بڑھیا کہ رہ جانے والوں میں ہوئی (ف۱۲۰)
136پھر دوسروں کو ہم نے ہلاک فرمادیا (ف۱۲۱)
137او ربیشک تم (ف۱۲۲) ان پر گزرتے ہو صبح کو،
138اور رات میں (ف۱۲۳) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲۴)
139اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے،
140جبکہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا (ف۱۲۵)
141تو قرعہ ڈالا تو ڈھکیلے ہوؤں میں ہوا،
142پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا (ف۱۲۶)
143تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا (ف۱۲۷)
144ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے (ف۱۲۸)
145پھر ہم نے اسے (ف۱۲۹) میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا (ف۱۳۰)
146اور ہم نے اس پر (ف۱۳۱) کدو کا پیڑ اگایا (ف۱۳۲)
147اور ہم نے اسے (ف۱۳۳) لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ،
148تو وہ ایمان لے آئے (ف۱۳۴) تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا (ف۱۳۵)
149تو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں (ف۱۳۶) اور ان کے بیٹے (ف۱۳۷)
150یا ہم نے ملائکہ کو عورتیں پیدا کیا اور وہ حاضر تھے (ف۱۳۸)
151سنتے ہو بیشک وہ اپنے بہتان سے کہتے ہیں،
152کہ اللہ کی اولاد ہے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں،
153کیا اس نے بیٹیاں پسند کیں بیٹے چھوڑ کر،
154تمہیں کیا ہے، کیسا حکم لگاتے ہو (ف۱۳۹)
155تو کیا دھیان نہیں کرتے (ف۱۴۰)
156یا تمہارے لیے کوئی کھلی سند ہے،
157تو اپنی کتاب لاؤ (ف۱۴۱) اگر تم سچے ہو،
158اور اس میں اور جنوں میں رشتہ ٹھہرایا (ف۱۴۲) اور بیشک جنوں کو معلوم ہے کہ وہ (ف۱۴۳) ضرور حاضر لائے جائیں گے (ف۱۴۴)
159پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے کہ یہ بتاتے ہیں،
160مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے (ف۱۴۵)
161تو تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۴۶)
162تم اس کے خلاف کسی کو بہکانے والے نہیں (ف۱۴۷)
163مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں جانے والا ہے (ف۱۴۸)
164اور فرشتے کہتے ہیں ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے (ف۱۴۹)
165اور بیشک ہم پر پھیلائے حکم کے منتظر ہیں،
166اور بیشک ہم اس کی تسبیح کرنے والے ہیں،
167اور بیشک وہ کہتے تھے (ف۱۵۰)
168اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت ہوتی (ف۱۵۱)
169تو ضرور ہم اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہوتے (ف۱۵۲)
170تو اس کے منکر ہوئے تو عنقریب جان لیں گے (ف۱۵۳)
171اور بیشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے،
172کہ بیشک انہیں کی مدد ہوگی،
173اور بیشک ہمارا ہی لشکر (ف۱۵۴) غالب آئے گا،
174تو ایک وقت تم ان سے منہ پھیر لو (ف۱۵۵)
175اور انہیں دیکھتے رہو کہ عنقریب وہ دیکھیں گے (ف۱۵۶)
176تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں،
177پھر جب اترے گا ان کے آنگن میں تو ڈرائے گیوں کی کیا ہی بری صبح ہوگی،
178اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرلو،
179اور انتظار کرو کہ وہ عنقریب دیکھیں گے،
180پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے (ف۱۵۷)
181اور سلام ہے پیغمبروں پر (ف۱۵۸)
182اور سب خوبیاں اللہ کو سارے جہاں کا رب ہے،
Chapter 38 (Sura 38)
1اس نامور قرآن کی قسم (ف۲)
2بلکہ کافر تکبر اور خلاف میں ہیں (ف۳)
3ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (ف۴) تو اب وہ پکاریں (ف۵) اور چھوٹنے کا وقت نہ تھا (ف۶)
4اور انہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۷) اور کافر بولے یہ جادوگر ہے بڑا جھوٹا،
5کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کردیا (ف۸) بیشک یہ عجیب بات ہے،
6اور ان میں کے سردار چلے (ف۹) کہ اس کے پاس سے چل دو اور اپنے خداؤں پر صابر رہو بیشک اس میں اس کا کوئی مطلب ہے،
7یہ تو ہم نے سب سے پہلے دینِ نصرانیت میں بھی نہ سنی (ف۱۰) یہ تو نری نئی گڑھت ہے،
8کیا ان پر قرآن اتارا گیا ہم سب میں سے (ف۱۱) بلکہ وہ شک میں ہیں میری کتاب سے (ف۱۲) بلکہ ابھی میری مار نہیں چکھی ہے (ف۱۳)
9کیا وہ تمہارے رب کی رحمت کے خزانچی ہیں (ف۱۴) وہ عزت والا بہت عطا فرمانے والا ہے (ف۱۵)
10کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، تو رسیاں لٹکا کر چڑھ نہ جائیں (ف۱۶)
11یہ ایک ذلیل لشکر ہے انہیں لشکروں میں سے جو وہیں بھگادیا جائے گا (ف۱۷)
12ان سے پہلے جھٹلا چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور چومیخا کرنے والے فرعون (ف۱۸)
13اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن والے (ف۱۹) یہ ہیں وہ گروہ (ف۲۰)
14ان میں کوئی ایسا نہیں جس نے رسولوں کو نہ جھٹلایا ہو تو میرا عذاب لازم ہوا (ف۲۱)
15اور یہ راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی (ف۲۲) جسے کوئی پھیر نہیں سکتا،
16اور بولے اے ہمارے رب ہمارا حصہ ہمیں جلد دے دے حساب کے دن سے پہلے (ف۲۳)
17تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد نعمتوں والے کو یاد کرو (ف۲۴) بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے (ف۲۵)
18بیشک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے (ف۲۶) شام کو اور سورج چمکتے (ف۲۷)
19اور پرندے جمع کیے ہوئے (ف۲۸) سب اس کے فرمانبردار تھے (ف۲۹)
20اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا (ف۳۰) اور اسے حکمت (ف۳۱) اور قولِ فیصل دیا (ف۳۲)
21اور کیا تمہیں (ف۳۳) اس دعوے والوں کی بھی خبر آئی جب وہ دیوار کود کر داؤد کی مسجد میں آئے (ف۳۴)
22جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے گھبرا گیا انہوں نے عرض کی ڈریے نہیں ہم دو فریق ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے (ف۳۵) تو ہم میں سچا فیصلہ فرمادیجئے اور خلافِ حق نہ کیجئے (ف۳۶) اور ہمیں سیدھی راہ بتایے،
23بیشک یہ میرا بھائی ہے (ف۳۷) اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دُنبی، اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں مجھ پر زور ڈالتا ہے،
24داؤد نے فرمایا بیشک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دُنبی اپنی دُنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے، اور بیشک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور وہ بہت تھوڑے ہیں (ف۳۸) اب داؤد سمجھا کہ ہم نے یہ اس کی جانچ کی تھی (ف۳۹) تو اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر پڑا (ف۴۰) اور رجوع لایا، (السجدة ۱۰)
25تو ہم نے اسے یہ معاف فرمایا، اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے،
26اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا (ف۴۱) تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی، بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس پر کہ وہ حساب کے دن کو بھول بیٹھے (ف۴۲)
27اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بیکار نہ بنائے، یہ کافروں کا گمان ہے (ف۴۳) تو کافروں کی خرابی ہے آگ سے،
28کیا ہم انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان جیسا کردیں جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یا ہم پرہیزگاروں کو شریر بے حکموں کے برابر ٹھہرادیں (ف۴۴)
29یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری (ف۴۵) برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں،
30اور ہم نے داؤد کو (ف۴۶) سلیمان عطا فرمایا، کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا (ف۴۷)
31جبکہ اس پر پیش کیے گئے تیسرے پہر کو (ف۴۸) کہ روکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائے تو ہوا ہوجائیں (ف۴۹)
32تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے (ف۵۰) پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے (ف۵۱)
33پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا (ف۵۲)
34اور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا (ف۵۳) اور اس کے تخت پر ایک بے جان بدن ڈال دیا (ف۵۴) پھر رجوع لایا (ف۵۵)
35عرض کی اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو (ف۵۶) بیشک تو ہی بڑی دین والا،
36تو ہم نے ہوا اس کے بس میں کردی کہ اس کے حکم سے نرم نرم چلتی (ف۵۷) جہاں وہ چاہتا،
37اور دیو بس میں کردیے ہر معمار (ف۵۸) اور غوطہ خور (ف۵۹)
38اور دوسرے اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے (ف۶۰)
39یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کر (ف۶۱) یا روک رکھ (ف۶۲) تجھ پر کچھ حساب نہیں،
40اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے،
41اور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا لگادی، (ف۶۳)
42ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار (ف۶۴) یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو (ف۶۵)
43اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے برابر اور عطا فرمادیے اپنی رحمت کرنے (ف۶۶) اور عقلمندوں کی نصیحت کو،
44اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دے (ف۶۷) اور قسم نہ توڑ بے ہم نے اسے صابر پایا کیا اچھا بندہ (ف۶۸) بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے،
45اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو (ف۶۹)
46بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے (ف۷۰)
47اور بیشک وہ ہمارے نزدیک چُنے ہوئے پسندیدہ ہیں،
48اور یاد کرو اسماعیل اور یسع اور ذو الکفل کو (ف۷۱) اورسب اچھے ہیں،
49یہ نصیحت ہے اور بیشک (ف۷۲) پرہیزگاروں کا ٹھکانا،
50بھلا بسنے کے باغ ان کے لیے سب دروازے کھلے ہوئے،
51ان میں تکیہ لگائے (ف۷۳) ان میں بہت سے میوے اور شراب مانگتے ہیں،
52اور ان کے پاس وہ بیبیاں ہیں کہ اپنے شوہر کے سوا اور کی طرف آنکھ نہیں اٹھاتیں، ایک عمر کی (ف۷۴)
53یہ ہے وہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے حساب کے دن،
54بیشک یہ ہمارا رزق ہے کہ کبھی ختم نہ ہوگا (ف۷۵)
55ان کو تو یہ ہے (ف۷۶) اور بیشک سرکشوں کا برا ٹھکانا،
56جہنم کہ اس میں جائیں گے تو کیا ہی برا بچھونا (ف۷۷)
57ان کو یہ ہے تو اسے چکھیں کھولتا پانی اور پیپ (ف۷۸)
58اور اسی شکل کے اور جوڑے (ف۷۹)
59ان سے کہا جائے گا یہ ایک اور فوج تمہارے ساتھ دھنسی پڑتی ہے جو تمہاری تھی (ف۸۰) وہ کہیں گے ان کو کھلی جگہ نہ ملیو آگ میں تو ان کو جانا ہی ہے،
60وہاں بھی تنگ جگہ میں رہیں تابع بولے بلکہ تمہیں کھلی جگہ نہ ملیو، یہ مصیبت تم ہمارے آگے لائے (ف۸۱) تو کیا ہی برا ٹھکانا (ف۸۲)
61وہ بولے اے ہمارے رب جو یہ مصیبت ہمارے آگے لایا اسے آگ میں دُونا عذاب بڑھا،
62اور (ف۸۳) بولے ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہیں دیکھتے جنہیں برا سمجھتے تھے (ف۸۴)
63کیا ہم نے انہیں ہنسی بنالیا (ف۸۵) یا آنکھیں ان کی طرف سے پھر گئیں (ف۸۶)
64بیشک یہ ضرور حق ہے دوزخیوں کا باہم جھگڑ،
65تم فرماؤ (ف۸۷) میں ڈر سنانے والا ہی ہوں (ف۸۸) اور معبود کوئی نہیں مگر ایک اللہ سب پر غالب،
66مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے صاحب عزت بڑا بخشنے والا،
67تم فرماؤ وہ (ف۸۹) بڑی خبر ہے،
68تم اس سے غفلت میں ہو (ف۹۰)
69مجھے عالم بالا کی کیا خبر تھی جب وہ جھگڑتے تھے (ف۹۱)
70مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں نہیں مگر روشن ڈر سنانے والا (ف۹۲)
71جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بناؤں گا (ف۹۳)
72پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں (ف۹۴) اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں (ف۹۵) تو تم اس کے لیے سجدے میں گرنا،
73تو سب فرشتو ں نے سجدہ کیا ایک ایک نے کہ کوئی باقی نہ رہا،
74مگر ابلیس نے (ف۹۶) اس نے غرور کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں (ف۹۷)
75فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں (ف۹۸)
76بولا میں اس سے بہتر ہوں (ف۹۹) تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا،
77فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھا (لعنت کیا) گیا (ف۱۰۰)
78اور بیشک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک (ف۱۰۱)
79بولا اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں (ف۱۰۲)
80فرمایا تو تُو مہلت والوں میں ہے،
81اس جانے ہوئے وقت کے دن تک (ف۱۰۳)
82بولا تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کردوں گا،
83مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں،
84فرمایا تو سچ یہ ہے اور میں سچ ہی فرماتا ہوں،
85بیشک میں ضرور جہنم بھردوں گا تجھ سے (ف۱۰۴) اور ان میں سے (ف۱۰۵) جتنے تیری پیروی کریں گے سب سے،
86تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں سے نہیں،
87وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کے لیے،
88اور ضرور ایک وقت کے بعد تم اس کی خبر جانو گے (ف۱۰۶)
Chapter 39 (Sura 39)
1کتاب (ف۲) اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،
2بیشک ہم نے تمہاری طرف (ف۳) یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو کو پوجو نرے اس کے بندے ہوکر،
3ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے (ف۴) اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنالیے (ف۵) کہتے ہیں ہم تو انہیں (ف۶) صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں، اللہ ان پر فیصلہ کردے گا اس بات کا جس میں اختلاف کررہے ہیں (ف۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو (ف۸)
4اللہ اپنے لیے بچہ بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا (ف۹) پاکی ہے اسے (ف۱۰) وہی ہے ایک اللہ (ف۱۱) سب پر غالب،
5اس نے آسمان اور زمین حق بنائے رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے (ف۱۲) اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک، ایک ٹھہرائی میعاد کے لیے چلتا ہے (ف۱۳) سنتا ہے وہی صاحب عزت بخشنے والا ہے،
6اس نے تمہیں ایک جان سے بنایا (ف۱۴) پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا (ف۱۵) اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے (ف۱۶) آٹھ جوڑے تھے (ف۱۷) تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک طرح کے بعد اور طرح (ف۱۸) تین اندھیریوں میں (ف۱۹) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، پھر کہیں پھیرے جاتے ہو (ف۲۰)
7اگر تم ناشکری کرو تو بیشک اللہ بے نیاز ہے تم سے (ف۲۱) اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں، اور اگر شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے (ف۲۲) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ف۲۳) پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۲۴) تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
8اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے (ف۲۶) اپنے رب کو پکارتا ہے اسی طرف جھکا ہوا (ف۲۷) پھر جب اللہ نے اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت دی تو بھول جاتا ہے جس لیے پہلے پکارا تھا (ف۲۸) اور اللہ کے برابر والے ٹھہرانے لگتا ہے (ف۲۹) تاکہ اس کی راہ سے بہکادے تم فرماؤ (ف۳۰) تھوڑے دن اپنے کفر کے ساتھ برت لے (ف۳۱) بیشک تو دوزخیوں میں ہے،
9کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں (ف۳۲) آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے (ف۳۳) کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں،
10تم فرماؤ اے میرے بندو! جو ایمان لائے اپنے سے ڈرو، جنہوں نے بھلائی کی (ف۳۴) ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے (ف۳۵) اور اللہ کی زمین وسیع ہے (ف۳۶) صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی (ف۳۷)
11تم فرماؤ (ف۳۸) مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر،
12اور مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۹)
13تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۴۰)
14تم فرماؤ میں اللہ ہی کو پوجتا ہوں نرا اس کا بندہ ہوکر،
15تو تم اس کے سوا جسے چاہو پوجو(ف۴۱) تم فرماؤ پوری ہار انہیں جو اپنی جان اور اپنے گھر والے قیامت کے دن ہار بیٹھے (ف۴۲) ہاں ہاں یہی کھلی ہار ہے،
16ان کے اوپر آگ کے پہاڑ ہیں اور ان کے نیچے پہاڑ (ف۴۳) اس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں (ف۴۴) اے میرے بندو! تم مجھ سے ڈرو (ف۴۵)
17اور وہ جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو،
18جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں (ف۴۶) یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہیں (ف۴۷)
19تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی نجات والوں کے برابر ہوجائے گا تو کیا تم ہدایت دے کر آگ کے مستحق کو بچالو گے (ف۴۸)
20لیکن جو اپنے رب سے ڈرے (ف۴۹) ان کے لیے بالا خانے ہیں ان پر بالا خانے بنے (ف۵۰) ان کے نیچے نہریں بہیں، اللہ کا وعدہ، اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا،
21کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے پھر اس سے کھیتی نکالتا ہے کئی رنگت کی (ف۵۱) پھر سوکھ جاتی ہے تو تُو دیکھے کہ وہ (ف۵۲) پیلی پڑ گئی پھر اسے ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں دھیان کی بات ہے عقل مندوں کو (ف۵۳)
22تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا (ف۵۴) تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (ف۵۵) اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں (ف۵۶) وہ کھلی گمراہی میں ہیں،
23اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب (ف۵۷) کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے (ف۵۸) دوہرے بیان والی (ف۵۹) اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں (ف۶۰) یہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں،
24تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا (ف۶۱) نجات والے کی طرح ہوجائے گا (ف۶۲) اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو (ف۶۳)
25ان سے اگلوں نے جھٹلایا (ف۶۴) تو انہیں عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر نہ تھی (ف۶۵)
26اور اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مز ہ چکھایا (ف۶۶) اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے بڑا، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ف۶۷)
27اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو (ف۶۸)
28عربی زبان کا قرآن (ف۶۹) جس میں اصلاً کجی نہیں (ف۷۰) کہ کہیں وہ ڈریں (ف۷۱)
29اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے (ف۷۲) ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک اور ایک نرے ایک مولیٰ کا، کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے (ف۷۳) سب خوبیاں اللہ کو (ف۷۴) بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے (ف۷۵)
30بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے (ف۷۶)
31پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (ف۷۷)
32تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۷۸) اور حق کو جھٹلائے (ف۷۹) جب اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں،
33اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے (ف۸۰) اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی (ف۸۱)
34یہی ڈر والے ہیں، ان کے لےیے ہے، جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس، نیکوں کا یہی صلہ ہے،
35تاکہ اللہ ان سے اتار دے برے سے برا کام جو انہوں نے کیا اور انہیں ان کے ثواب کا صلہ دے اچھے سے اچھے کام پر (ف۸۲) جو وہ کرتے تھے،
36کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں (ف۸۳) اور تمہیں ڈراتے ہیں اس کے سوا اوروں سے (ف۸۴) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
37اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں، کیا اللہ عزت والا بدلہ لینے والا نہیں (ف۸۵)
38اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۸۶) تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۸۷) اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے (ف۸۸) تو کیا وہ اس کی بھیجی تکلیف ٹال دیں گے یا وہ مجھ پر مہر (رحم) فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہر کو روک رکھیں گے (ف۸۹) تم فرماؤ اللہ مجھے بس ہے (ف۹۰) بھروسے والے اس پر بھروسہ کریں،
39تم فرماؤ، اے میری قوم! اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۹۱) میں اپنا کام کرتا ہوں (ف۹۲) تو آگے جان جاؤ گے،
40کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا (ف۹۳) اور کس پر اترتا ہے عذاب کہ رہ پڑے گا (ف۹۴)
41بیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کو حق کے ساتھ اتاری (ف۹۵) تو جس نے راہ پائی تو اپنے بھلے کو (ف۹۶) اور جو بہکا وہ اپنے ہی برے کو بہکا (ف۹۷) اور تم کچھ ان کے ذمہ دار نہیں (ف۹۸)
42اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اسے روک رکھتا ہے (ف۹۹) اور دوسری (ف۱۰۰) ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے (ف۱۰۱) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے (ف۱۰۲)
43کیا انہوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں (ف۱۰۳) تم فرماؤ کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں (ف۱۰۴) اور نہ عقل رکھیں،
44تم فرماؤ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے (ف۱۰۵) اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، پھر تمہیں اسی کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۰۶)
45اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۰۷) اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے (ف۱۰۸) جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
46تم عرض کرو اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے نہاں اور عیاں کے جاننے والے تو اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے (ف۱۰۹)
47اور اگر ظالموں کے لیے ہوتا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کے ساتھ اس جیسا (ف۱۱۰) تو یہ سب چھڑائی (چھڑانے) میں دیتے روز ِ قیامت کے بڑے عذاب سے (ف۱۱۱) اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی (ف۱۱۲)
48اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں کھل گئیں (ف۱۱۳) اور ان پر آپڑا وہ جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۱۴)
49پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے (ف۱۱۵) بلکہ وہ تو آزمائش ہے (ف۱۱۶) مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں (ف۱۱۷)
50ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے (ف۱۱۸) تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،
51تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں (ف۱۱۹) اور وہ جو ان میں ظالم عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے (ف۱۲۰)
52کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
53تم فرماؤ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی (ف۱۲۱) اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے (ف۱۲۲) بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،
54اور اپنے رب کی طرف رجوع لاؤ (ف۱۲۳) اور اس کے حضور گردن رکھو (ف۱۲۴) قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ ہو،
55اور اس کی پیروی کرو جو اچھی سے اچھی تمہارے رب سے تمہاری طرف اتاری گئی (ف۱۲۵) قبل اس کے کہ عذاب تم پر اچانک آجائے اور تمہیں خبر نہ ہو (ف۱۲۶)
56کہ کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس! ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں (ف۱۲۷) اور بیشک میں ہنسی بنایا کرتا تھا (ف۱۲۸)
57یا کہے اگر اللہ مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا،
58یا کہے جب عذاب دیکھے کسی طرح مجھے واپسی ملے (ف۱۲۹) کہ میں نیکیاں کروں (ف۱۳۰)
59ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تُو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافر تھا (ف۱۳۱)
60اور قیامت کے دن تم دیکھو گے انہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا (ف۱۳۲) کہ ان کے منہ کالے ہیں کیا مغرور ٹھکانا جہنم میں نہیں (ف۱۳۳)
61اور اللہ بچائے گا پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ (ف۱۳۴) نہ انہیں عذاب چھوئے اور نہ انہیں غم ہو،
62اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہ ہرچیز کا مختار ہے،
63اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۱۳۵) اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں،
64تم فرماؤ (ف۱۳۶) تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہو، اے جاہلو! (ف۱۳۷)
65اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اَکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا،
66بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکر والوں سے ہو (ف۱۳۸)
67اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا (ف۱۳۹) اور وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیے جائیں گے (ف۱۴۰) اور ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے،
68اور صُور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے (ف۱۴۱) جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے (ف۱۴۲) پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا (ف۱۴۳) جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے (ف۱۴۴)
69اور زمین جگمگا اٹھے گی (ف۱۴۵) اپنے رب کے نور سے (ف۱۴۶) اور رکھی جائے گی کتاب (ف۱۴۷) اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہونگے (ف۱۴۸) اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
70اور ہر جان کو اس کا کیا بھرپور دیا جائے گا اور اسے خوب معلوم جو وہ کرتے تھے (ف۱۴۹)
71اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (ف۱۵۰) گروہ گروہ (ف۱۵۱) یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے (ف۱۵۲) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں (ف۱۵۳) مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا (ف۱۵۴)
72فرمایا جائے گا جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا متکبروں کا،
73اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کی سواریاں (ف۱۵۵) گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے (ف۱۵۶) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے،
74اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں، تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں (اچھے کام کرنیوالوں) کا (ف۱۵۷)
75اور تم فرشتوں کو دیکھو گے عرش کے آس پاس حلقہ کیے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ ا س کی پاکی بولتے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱۵۸) اور کہا جائے گا کہ سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب (ف۱۵۹)
Chapter 40 (Sura 40)
1حٰمٓ
2یہ کتاب اتارنا ہے اللہ کی طرف سے جو عزت والا، علم والا،
3گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا (ف۲) سخت عذاب کرنے والا (ف۳) بڑے انعام والا (ف۴) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۵)
4اللہ کی آیتوں میں جھگڑا نہیں کرتے مگر کافر (ف۶) تو اے سننے والے تجھے دھوکا نہ دے ان کا شہروں میں اہل گہلے (اِتراتے) پھرنا (ف۷)
5ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں (ف۸) نے جھٹلایا، اور ہر امت نے یہ قصد کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں (ف۹) اور باطل کے ساتھ جھگڑے کہ اس سے حق کو ٹال دیں (ف۱۰) تو میں نے انہیں پکڑا، پھر کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۱)
6اور یونہی تمہارے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں،
7وہ جو عرش اٹھاتے ہیں (ف۱۲) اور جو اس کے گرد ہیں (ف۱۳) اپنے کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے (ف۱۴) اور اس پر ایمان لاتے (ف۱۵) اور مسلمانوں کی مغفرت مانگتے ہیں (ف۱۶) اے رب ہمارے تیرے رحمت و علم میں ہر چیز کی سمائی ہے (ف۱۷) تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے (ف۱۸) اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
8اے ہمارے رب! اور انہیں بسنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کو جو نیک ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف۱۹) بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،
9اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے، اور جسے تو اس دن گناہوں کی شامت سے بچائے تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا، اور یہی بڑی کامیابی ہے،
10بیشک جنہوں نے کفر کیا ان کو ندا کی جائے گی (ف۲۰) کہ ضرور تم سے اللہ کی بیزاری اس سے بہت زیادہ ہے جیسے تم آج اپنی جان سے بیزار ہو جب کہ تم (ف۲۱) ایمان کی طرف بلائے جاتے تو تم کفر کرتے،
11کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبارہ مردہ کیا اور دوبارہ زندہ کیا (ف۲۲) اب ہم اپنے گناہوں پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے (ف۲۳)
12یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے (ف۲۴) اور ان کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے (ف۲۵) تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا،
13وہی ہے کہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۲۶) اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے (ف۲۷) اور نصیحت نہیں مانتا (ف۲۸) مگر جو رجوع لائے (ف۲۹)
14تو اللہ کی بندگی کرو نرے اس کے بندے ہوکر (ف۳۰) پڑے برا مانیں کافر،
15بلند درجے دینے والا (ف۳۱) عرش کامالک ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہے (ف۳۲) کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے (ف۳۳)
16جس دن وہ بالکل ظاہر ہوجائیں گے (ف۳۴) اللہ پر ان کا کچھ حال چھپا نہ ہوگا (ف۳۵) آج کسی کی بادشاہی ہے (ف۳۶) ایک اللہ سب پر غا لب کی، ف۳۷)
17آج ہر جان اپنے کےٴ کا بدلہ پاےٴ گی (ف ۳۸) آج کسی پر زیادتی نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے،
18اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے (ف۳۹) جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے (ف۴۰) غم میں بھرے، اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے (ف۴۱)
19اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ (ف۴۲) اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے (ف۴۳)
20اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے، اور اس کے سوا جن کو (ف۴۴) پوجتے ہیں وہ کچھ فیصلہ نہیں کرتے (ف۴۵) بیشک اللہ ہی سنتا اور دیکھتا ہے (ف۴۶)
21تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان سے اگلوں کا (ف۴۷) ان کی قوت اور زمین میں جو نشانیاں چھوڑ گئے (ف۴۸) ان سے زائد تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا، اور اللہ سے ان کا کوئی بچانے والا نہ ہوا (ف۴۹)
22یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے (ف۵۰) پھر وہ کفر کرتے تو اللہ نے انہیں پکڑا، بیشک اللہ زبردست عذاب والا ہے،
23اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ بھیجا،
24فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو وہ بولے جادوگر ہے بڑا جھوٹا (ف۵۱)
25پھر جب وہ ان پر ہمارے پاس سے حق لایا (ف۵۲) بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو (ف۵۳) اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا (ف۵۴)
26اور فرعون بولا (ف۵۵) مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کروں (ف۵۶) اور وہ اپنے رب کو پکارے (ف۵۷) میں ڈرتا ہوں کہیں وہ تمہارا دین بدل دے (ف۵۸) یا زمین میں فساد چمکائے (ف۵۹)
27اور موسیٰ نے (ف۶۰) کہا میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر متکبر سے کہ حساب کے دن پر یقین نہیں لاتا (ف۶۱)
28اور بولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور بیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے (ف۶۲) اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان پر، اور اگر وہ سچے ہیں تو تمہیں پہنچ جائے گا کچھ وہ جس کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں (ف۶۳) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو (ف۶۴)
29اے میری قوم! آج بادشاہی تمہاری ہے اس زمین میں غلبہ رکھتے ہو (ف۶۵) تو اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچالے گا اگر ہم پر آئے فرعون بولا میں تو تمہیں وہی سمجھاتا ہوں جو میری سوجھ ہے (ف۶۶) اور میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے،
30اور وہ ایمان والا بولا اے میری قوم! مجھے تم پر (ف۶۷) اگلے گروہوں کے دن کا سا خوف ہے (ف۶۸)
31جیسا دستور گزرا نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد اوروں کا (ف۶۹) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا (ف۷۰)
32اور اے میری قوم میں تم پر اس دن سے ڈراتا ہوں جس دن پکار مچے گی (ف۷۱)
33جس دن پیٹھ دے کر بھاگو گے (ف۷۲) اللہ سے (ف۷۳) تمہیں کوئی بچانے والا نہیں، اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی راہ دکھانے والا نہیں،
34اور بیشک اس سے پہلے (ف۷۴) تمہارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم ان کے لائے ہوئے سے شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا تم بولے ہرگز اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا (ف۷۵) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا شک لانے والا ہے (ف۷۶)
35وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں (ف۷۷) بغیر کسی سند کے، کہ انہیں ملی ہو، کس قدر سخت بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک، اللہ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر (ف۷۸)
36اور فرعون بولا (ف۷۹) اے ہامان! میرے لیے اونچا محل بنا شاید میں پہنچ جاؤں راستوں تک،
37کا ہے کے راستے آسمان کے تو موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے (ف۸۰) اور یونہی فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام (ف۸۱) بھلا کر دکھا گیا (ف۸۲) اور وہ راستے میں روکا گیا، اور فرعون کا داؤ (ف۸۳) ہلاک ہونے ہی کو تھا،
38اور وہ ایمان والا بولا، اے میری قوم! میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاؤں،
39اے میری قوم! یہ دنیا کا جینا تو کچھ برتنا ہی ہے (ف۸۴) اور بیشک وه پچھلا ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، (ف۸۵)
40جو برُا کام کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی اور جو اچھا کام کرے مرد خواه عورت اور جو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بے گنتی رزق پائیں گے (ف۸۷)
41اور اے میری قوم مجھے کیا ہوا میں تمہیں بلاتا ہوں نجات کی طرف (ف۸۸) اور تم مجھے بلاتے ہو دوزخ کی طرف (ف۸۹)
42مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ اللہ کا انکا کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں، اور میں تمہیں اس عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں،
43آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف مجھے بلاتے ہو (ف۹۰) اسے بلانا کہیں کام کا نہیں دنیا میں نہ آخرت میں (ف۹۱) اور یہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے (ف۹۲) اور یہ کہ حد سے گزرنے والے (ف۹۳) ہی دوزخی ہیں،
44تو جلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اسے یاد کرو گے (ف۹۴) اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۹۵)
45تو اللہ نے اسے بچالیا ان کے مکر کی برائیوں سے (ف۹۶) اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آ گھیرا، (ف۹۷)
46آ گ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں (ف۹۸) اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو،
47اور (ف۹۹) جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور ان سے کہیں گے جو بڑے بنتے تھے ہم تمہارے تابع تھے (ف۱۰۰) تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ گھٹا لوگے،
48وہ تکبر والے بولے (ف۱۰۱) ہم سب آگ میں ہیں (ف۱۰۲) بیشک اللہ بندوں میں فیصلہ فرماچکا (ف۱۰۳)
49اور جو آگ میں ہیں اس کے داروغوں سے بولے اپنے رب سے دعا کرو ہم پر عذاب کا ایک دن ہلکا کردے، (ف۱۰۴)
50انہوں نے کہا کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں نہ لاتے تھے (ف۱۰۵) بولے کیوں نہیں (ف۱۰۶) بولے تو تمہیں دعا کرو (ف۱۰۷) اور کافروں کی دعا نہیں، مگر بھٹکتے پھرنے کو،
51بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گے اور ایمان والوں کی (ف۱۰۸) دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (ف۱۰۹)
52جس دن ظالموں کو ان کے بہانے کچھ کام نہ دیں گے (ف۱۱۰) اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے بُرا گھر (ف۱۱۱)
53اور بیشک ہم نے موسیٰ کو رہنمائی عطا فرمائی (ف۱۱۲) اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث کیا (ف۱۱۳)
54عقلمندوں کی ہدایت اور نصیحت کو تو اے محبوب،
55تم صبر کرو (ف۱۱۴) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۱۵) اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو (ف۱۱۶) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو (ف۱۱۷)
56وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی سند کے جو انہیں ملی ہو (ف۱۱۸) ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہوس (ف۱۱۹) جسے نہ پہنچیں گے (ف۱۲۰) تو تم اللہ کی پناہ مانگو (ف۱۲۱) بیشک وہی سنتا دیکھتا ہے،
57بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی (ف۱۲۲) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۱۲۳)
58اور اندھا اور انکھیارا برابر نہیں (ف۱۲۴) اور نہ وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بدکار (ف۱۲۵) کتنا کم دھیان کرتے ہو،
59بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن بہت لوگ ایمان نہیں لاتے (ف۱۲۶)
60اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا (ف۱۲۷) بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے (تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر،
61اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں آرام پاؤ اور دن بنایا آنکھیں کھولتا (ف۱۲۸) بیشک اللہ لوگوں پر فضل والا ہے لیکن بہت آدمی شکر نہیں کرتے،
62وہ ہے اللہ تمہارا رب ہر چیز کا بنانے والا اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۱۲۹)
63یونہی اوندھے ہوتے ہیں (ف۱۳۰) وہ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں (ف۱۳۱)
64اللہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین ٹھہراؤ بنائی (ف۱۳۲) اور آسمان چھت (ف۱۳۳) اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں (ف۱۳۴) اور تمہیں ستھری چیزیں (ف۱۳۵) روزی دیں یہ ہے اللہ تمہارا رب، تو بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،
65وہی زندہ ہے (ف۱۳۶) اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اسے پوجو نرے اسی کے بندے ہوکر، سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب،
66تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۳۷) جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں (ف۱۳۸) میرے رب کی طرف سے آئیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں،
67وہی ہے جس نے تمہیں (ف۱۳۹) مٹی سے بنایا پھر (ف۱۴۰) پانی کی بوند سے (ف۱۴۱) پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں نکالتا ہے بچہ پھرتمہیں باقی رکھتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو (ف۱۴۲) پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے (ف۱۴۳) اور اس لیے کہ تم ایک مقرر وعدہ تک پہنچو (ف۱۴۴) اور اس لیے کہ سمجھو (ف۱۴۵)
68وہی ہے کہ جِلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب کوئی حکم فرماتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا جبھی وہ ہوجاتا ہے (ف۱۴۶)
69کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے ہیں (ف۱۴۷) کہاں پھیرے جاتے ہیں (ف۱۴۸)
70وہ جنہوں نے جھٹلائی کتاب (ف۱۴۹) اور جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا، ف۱۵۰) وہ عنقریب جان جائیں گے (ف۱۵۱)
71جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں (ف۱۵۲) گھسیٹے جائیں گے،
72کھولتے پانی میں، پھر آگ میں دہکائے جائیں گے (ف۱۵۳)
73پھر ان سے فرمایا جائے گا کہاں گئے وہ جو تم شریک بناتے تھے (ف۱۵۴)
74اللہ کے مقابل، کہیں گے وہ تو ہم سے گم گئے (ف۱۵۵) بلکہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے (ف۱۵۶) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے کافروں کو،
75یہ (ف۱۵۷) اس کا بدلہ ہے جو تم زمین میں باطل پر خوش ہوتے تھے (ف۱۵۸) اور اس کا بدلہ ہے جو تم اتراتے تھے،
76جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا (ف۱۵۹)
77تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ (ف۱۶۰) سچا ہے، تو اگر ہم تمہیں دکھادیں (ف۱۶۱) کچھ وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱۶۲) یا تمہیں پہلے ہی وفات دیں بہرحال انہیں ہماری ہی طرف پھرنا (ف۱۶۳)
78اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا (ف۱۶۴) اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا (ف۱۶۵) اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بے حکم خدا کے، پھر جب اللہ کا حکم آئے گا (ف۱۶۶) سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱۶۷) اور باطل والوں کا وہاں خسارہ،
79اللہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے کہ کسی پر سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ،
80اور تمہارے لیے ان میں کتنے ہی فائدے ہیں (ف۱۶۸) اور اس لیے کہ تم ان کی پیٹھ پر اپنے دل کی مرادوں کو پہنچو (ف۱۶۹) اور ان پر (ف۱۷۰) اور کشتیوں پر (ف۱۷۱) سوار ہوتے ہو،
81اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۱۷۲) تو اللہ کی کونسی نشانی کا انکار کرو گے (ف۱۷۳)
82کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے بہت تھے (ف۱۷۴) اور ان کی قوت (ف۱۷۵) اور زمین میں نشانیاں ان سے زیادہ (ف۱۷۶) تو ان کے کیا کام آیا جو انہوں نے کمایا، (ف۱۷۷)
83تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس دنیا کا علم تھا (ف۱۷۸) اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۷۹)
84پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور جو اس کے شریک کرتے تھے ان کے منکر ہوئے (ف۱۸۰)
85تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا (ف۱۸۱) اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے (ف۱۸۲)
Chapter 41 (Sura 41)
1حٰمٓ
2یہ اتارا ہے بڑے رحم والے مہربان کا،
3ایک کتاب ہے جس کی آیتیں مفصل فرمائی گئیں (ف۲) عربی قرآن عقل والوں کے لیے،
4خوشخبری دیتا (ف۳) اور ڈر سناتا (ف۴) تو ان میں اکثر نے منہ پھیرا تو وہ سنتے ہی نہیں (ف۵)
5اور بولے (ف۶) ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو (ف۷) اور ہمارے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۸) اور ہمارے اور تمہارے درمیان روک ہے (ف۹) تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۱۰)
6تم فرماؤ (ف۱۱) آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں (ف۱۲) مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو (ف۱۳) اور اس سے معافی مانگو (ف۱۴) اور خرابی ہے شرک والوں کو،
7وہ جو زکوٰة نہیں دیتے (ف۱۵) اور وہ آخرت کے منکر ہیں (ف۱۶)
8بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۱۷)
9تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی (ف۱۸) اور اس کے ہمسر ٹھہراتے رہو (ف۱۹) وہ ہے سارے جہان کا رب (ف۲۰)
10اور اس میں (ف۲۱) اس کے اوپر سے لنگر ڈالے (ف۲۲) (بھاری بوجھ رکھے) اور اس میں برکت رکھی (ف۲۳) اور اس میں اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملاکر چار دن میں (ف۲۴) ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو،
11پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا (ف۲۵) تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے،
12تو انہیں پورے سات آسمان کردیا دو دن میں (ف۲۶) اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے (ف۲۷) اور ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۲۸) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۲۹) اور نگہبانی کے لیے (ف۳۰) یہ اس عزت والے علم والے کا ٹھہرایا ہوا ہے،
13پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۳۱) تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک کڑ ک سے جیسی کڑ ک عاد اور ثمود پر آئی تھی (ف۳۲)
14جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے (ف۳۳) کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، بولے (ف۳۴) ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا (ف۳۵) تو جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳۶)
15تو وہ جو عاد تھے انہیں نے زمین میں ناحق تکبر کیا (ف۳۷) اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زور، اور کیا انہوں نے نہ جانا کہ اللہ جس نے انہیں بنایا ان سے زیادہ قوی ہے، اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
16تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی (ف۳۸) ان کی شامت کے دنوں میں کہ ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی،
17اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی (ف۳۹) تو انہوں نے سوجھنے پر اندھے ہونے کو پسند کیا (ف۴۰) تو انہیں ذلت کے عذاب کی کڑ ک نے آ لیا (ف۴۱) سزا ان کے کیے کی (ف۴۲)
18اور ہم نے (ف۴۳) انہیں بچالیا جو ایمان لائے (ف۴۴) اور ڈرتے تھے (ف۴۵)
19اور جس دن اللہ کے دشمن (ف۴۶) آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے اگلوں کو روکیں گے،
20یہاں تک کہ پچھلے آ ملیں (ف۴۷) یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر ان کے کیے کی گواہی دیں گے (ف۴۸)
21اور وه اپنی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہم پر کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی ہمیں اللہ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی اور اس نے تمہیں پہلی بار بنایا اور اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے،
22اور تم (ف۴۹) اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں (ف۵۰) لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا (ف۵۱)
23اور یہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اور اس نے تمہیں ہلاک کردیا (ف۵۲) تو اب رہ گئے ہارے ہوؤں میں،
24پھر اگر وہ صبر کریں (ف۵۳) تو آگ ان کا ٹھکانا ہے (ف۵۴) اور اگر وہ منانا چاہیں تو کوئی ان کا منانا نہ مانے، (ف۵۵)
25اور ہم نے ان پر کچھ ساتھی تعینات کیے (ف۵۶) انہوں نے انہیں بھلا کردیا جو ان کے آگے ہے (ف۵۷) اور جو ان کے پیچھے (ف۵۸) اور ان پر بات پوری ہوئی (ف۵۹) ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے جن اور آدمیوں کے، بیشک وہ زیاں کار تھے،
26اور کافر بولے (ف۶۰) یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بیہودہ غل کرو (ف۶۱) شاید یونہی تم غالب آؤ (ف۶۲)
27تو بیشک ضرور ہم کافروں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور بیشک ہم ان کے بُرے سے بُرے کام کا انہیں بدلہ دیں گے (ف۶۳)
28یہ ہے اللہ کے دشمنوں کا بدلہ آ گ، اس میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے، سزا اس کی کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
29اور کافر بولے (ف۶۴) اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا (ف۶۵) کہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ڈالیں (ف۶۶) کہ وہ ہر نیچے سے نیچے رہیں (ف۶۷)
30بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے (ف۶۸) ان پر فرشتے اترتے ہیں (ف۶۹) کہ نہ ڈرو (ف۷۰) اور نہ غم کرو (ف۷۱) اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا (ف۷۲)
31ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں (ف۷۳) اور آخرت میں (ف۷۴) اور تمہارے لیے ہے اس میں (ف۷۵) جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو،
32مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے،
33اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے (ف۷۶) اور نیکی کرے (ف۷۷) اور کہے میں مسلمان ہوں (ف۷۸)
34اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال (ف۷۹) جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست (ف۸۰)
35اور یہ دولت (ف۸۱) نہیں ملتی مگر صابروں کو، اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا،
36اور اگر تجھے شیطان کا کوئی کونچا (تکلیف) پہنچے (ف۸۲) تو اللہ کی پناہ مانگ (ف۸۳) بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
37اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند (ف۸۴) سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو (ف۸۵) اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا (ف۸۶) اگر تم اس کے بندے ہو،
38تو اگر یہ تکبر کریں (ف۸۷) تو وہ جو تمہارے رب کے پاس ہیں (ف۸۸) رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور اکتاتے نہیں، السجدة ۔۱۱)
39اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تو زمین کو دیکھے بے قدر پڑی (ف۸۹) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا (ف۹۰) تر و تازہ ہوئی اور بڑھ چلی، بیشک جس نے اسے جِلایا ضرور مردے جِلائے گا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
40بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں ٹیڑھے چلتے ہیں (ف۹۱) ہم سے چھپے نہیں (ف۹۲) تو کیا جو آ گ میں ڈالا جائے گا (ف۹۳) وہ بھلا، یا جو قیامت میں امان سے آئے گا (ف۹۴) جو جی میں آئے کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
41بیشک جو ذکر سے منکر ہوئے (ف۹۵) جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ، اور بیشک وہ عزت والی کتاب ہے (ف۹۶)
42باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے (ف۹۷) اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا،
43تم سے نہ فرمایا جائے (ف۹۸) مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا (ف۹۹) اور دردناک عذاب والا ہے (ف۱۰۰)
44اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن کرتے (ف۱۰۱) تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں (ف۱۰۲) کیا کتاب عجمی اور نبی عربی (ف۱۰۳) تم فرماؤ وہ (ف۱۰۴) ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے (ف۱۰۵) اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۱۰۶) اور وہ ان پر اندھا پن ہے (ف۱۰۷) گویا وہ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں (ف۱۰۸)
45اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) تو اس میں اختلاف کیا گیا (ف۱۱۰) اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے گزر نہ چکی ہوتی (ف۱۱۱) تو جبھی ان کا فیصلہ ہوجاتا (ف۱۱۲) اور بیشک وہ (ف۱۱۳) ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،
46جو نیکی کرے وہ اپنے بھلے کو اور جو برائی کرے اپنے بُرے کو، اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
47قیامت کے علم کا اسی پر حوالہ ہے (ف۱۱۴) اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کسی مادہ کو پیٹ رہے اور نہ جنے مگر اس کے علم سے (ف۱۱۵) اور جس دن انہیں ندا فرمائے گا (ف۱۱۶) کہاں ہیں میرے شریک (ف۱۱۷) کہیں گے ہم تجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں (ف۱۱۸)
48اور گم گیا ان سے جسے پہلے پوجتے تھے (ف۱۱۹) اور سمجھ لیے کہ انہیں کہیں (ف۱۲۰) بھاگنے کی جگہ نہیں،
49آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اُکتاتا (ف۱۲۱) اور کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۲) تو ناامید آس ٹوٹا (ف۱۲۳)
50اور اگر ہم اسے کچھ اپنی رحمت کا مزہ دیں (ف۱۲۴) اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی تو کہے گا یہ تو میری ہے (ف۱۲۵) اور میرے گمان میں قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر (ف۱۲۶) میں رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی خوبی ہی ہے (ف۱۲۷) تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو انہوں نے کیا (ف۱۲۸) اور ضرور انہیں گاڑھا عذاب چکھائیں گے (ف۱۲۹)
51اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے (ف۱۳۰) اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے (ف۱۳۱) اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے (ف۱۳۲) تو چوڑی دعا والا ہے (ف۱۳۳)
52تم فرماؤ (ف۱۳۴) بھلا بتاؤ اگر یہ قرآن اللہکے پاس سے ہے (ف۱۳۵) پھر تم اس کے منکر ہوئے تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے (ف۱۳۶)
53ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں (ف۱۳۷) اور خود ان کے آپے میں (ف۱۳۸) یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بیشک وہ حق ہے (ف۱۳۹) کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں،
54سنو انہیں ضرور اپنے رب سے ملنے میں شک ہے (ف۱۴۰) سنو ! وہ ہر چیز کو محیط ہے (ف۱۴۱)
Chapter 42 (Sura 42)
1حٰمٓ
2عٓسٓقٓ
3یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف (ف۲) اور تم سے اگلوں کی طرف (ف۳) اللہ عزت و حکمت والا،
4اسی کا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی بلندی و عظمت والا ہے،
5قریب ہوتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شق ہوجائیں (ف۴) اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں (ف۵) سن لو بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے،
6اور جنہوں نے اللہ کے سوا اور والی بنارکھے ہیں (ف۶) وہ اللہ کی نگاہ میں ہیں (ف۷) اور تم ان کے ذمہ دار نہیں، (ف۸)
7اور یونہی ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن وحی بھیجا کہ تم ڈراؤ سب شہروں کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گرد ہیں (ف۹) اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں (ف۱۰) ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں،
8اور اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا لیکن اللہ اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے (ف۱۱) اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار (ف۱۲)
9کیا اللہ کے سوا اور والی ٹھہرالیے ہیں (ف۱۳) تو اللہ ہی والی ہے اور وہ مُردے جِلائے گا، اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۱۴)
10تم جس بات میں (ف۱۵) اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے (ف۱۶) یہ ہے اللہ میرا رب میں نے اس پر بھروسہ کیا، اور میں اس کی طرف رجوع لاتا ہوں (ف۱۷)
11آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، تمہارے لیے تمہیں میں سے (ف۱۸) جوڑے بنائے اور نر و مادہ چوپائے، اس سے (ف۱۹) تمہاری نسل پھیلاتا ہے، اس جیسا کوئی نہیں، اور وہی سنتا دیکھتا ہے،
12اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۲۰) روزی وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے (ف۲۱) بیشک وہ سب کچھ جانتا ہے،
13تمہارے لیے دین کی وہ راہ ڈالی جس کا حکم اس نے نوح کو دیا (ف۲۲) اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی (ف۲۳) اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا (ف۲۴) کہ دین ٹھیک رکھو (ف۲۵) اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو (ف۲۶) مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ (ف۲۷) جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو، اور اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے (ف۲۸) اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے (ف۲۹)
14اور انہوں نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا تھا (ف۳۰) آپس کے حسد سے (ف۳۱) اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی (ف۳۲) ایک مقرر میعاد تک (ف۳۳) تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا (ف۳۴) اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۵) وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۳۶)
15تو اسی لیے بلاؤ (ف۳۷) اور ثابت قدم رہو (ف۳۸) جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری (ف۳۹) اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں (ف۴۰) اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے (ف۴۱) ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کیا (ف۴۲) کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں (ف۴۳) اللہ ہم سب کو جمع کرے گا (ف۴۴) اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
16اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں (ف۴۵) ان کی دلیل محض بے ثبات ہے ان کے رب کے پاس اور ان پر غضب ہے (ف۴۶) اور ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف۴۷)
17اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری (ف۴۸) اور انصاف کی ترازو (ف۴۹) اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو (ف۵۰)
18اس کی جلدی مچارہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے (ف۵۱) اور جنہیں اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈر رہے ہیں اورجانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے، سنتے ہو بیشک جو قیامت میں شک کرتے ہیں ضرور دُور کی گمراہی میں ہیں،
19اللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے (ف۵۲) جسے چاہے روزی دیتا ہے (ف۵۳) اور وہی قوت و عزت والا ہے،
20جو آخرت کی کھیتی چاہے (ف۵۴) ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں (ف۵۵) اور جو دنیا کی کھیتی چاہے (ف۵۶) ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے (ف۵۷) اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں (ف۵۸)
21یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں (ف۵۹) جنہوں نے ان کے لیے (ف۶۰) وہ دین نکال دیا ہے (ف۶۱) کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی (ف۶۲) اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا (ف۶۳) تو یہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا (ف۶۴) اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۶۵)
22تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں سے سہمے ہوئے ہوں گے (ف۶۶) اور وہ ان پر پڑ کر رہیں گی (ف۶۷) اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت کی پھلواریوں میں ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے جو چاہیں، یہی بڑا فضل ہے،
23یہ ہے وہ جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، تم فرماؤ میں اس (ف۶۸) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف۶۹) مگر قرابت کی محبت (ف۷۰) اور جو نیک کام کرے (ف۷۱) ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں، بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،
24یا (ف۷۲) یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا (ف۷۳) اور اللہ چاہے تو تمہارے اوپر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر فرمادے (ف۷۴) اور مٹا تا ہے باطل کو (ف۷۵) اور حق کو ثابت فرماتا ہے اپنی باتوں سے (ف۷۶) بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے،
25اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے (ف۷۷) اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،
26اور دعا قبول فرماتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور انہیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے، (ف۷۸) اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے،
27اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے (ف۷۹) لیکن وہ اندازہ سے اتارتا ہے جتنا چاہے، بیشک وہ بندوں سے خبردار ہے (ف۸۰) انہیں دیکھتا ہے،
28اور وہی ہے کہ مینہ اتارتا ہے ان کے نا امید ہونے پر اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے (ف۸۱) اور وہی کام بنانے والا ہے سب خوبیوں سراہا،
29اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو چلنے والے ان میں پھیلائے، اور وہ ان کے اکٹھا کرنے پر (ف۸۲) جب چاہے قادر ہے،
30اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا (ف۸۳) اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے،
31اور تم زمین میں قابو سے نہیں نکل سکتے (ف۸۴) اور نہ اللہ کے مقابل تمہارا کوئی دوست نہ مددگار (ف۸۵)
32اور اس کی نشانیوں سے ہیں (ف۸۶) دریا میں چلنے والیاں جیسے پہاڑیاں،
33وہ چاہے تو ہوا تھما دے (ف۸۷) اس کی پیٹھ پر (ف۸۸) ٹھہری رہ جائیں (ف۸۶) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کو (ف۹۰)
34یا انہیں تباہ کردے (ف۹۱) لوگوں کے گناہوں کے سبب (ف۹۲) اور بہت معاف فرمادے (ف۹۳)
35اور جان جائیں وہ جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں، کہ انہیں (ف۹۴) کہیں بھا گنے کی جگہ نہیں،
36تمہیں جو کچھ ملا ہے (ف۹۵) وہ جیتی دنیا میں برتنےکا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۹۷) بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۹۸)
37اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں،
38اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا (ف۹۹) اور نماز قائم رکھی (ف۱۰۰) اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے (ف۱۰۱) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں،
39اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں (ف۱۰۲)
40اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے (ف۱۰۳) تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو (ف۱۰۴)
41اور بے شک جس نے اپنی مظلو می پر بدلہ لیا ان پر کچھ مواخذہ کی راه نہیں،
42مواخذہ تو انہیں پر ہے جو (ف۱۰۵) لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں (ف۱۰۶) ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
43اور بیشک جس نے صبر کیا (ف۱۰۷) اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں،
44اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی رفیق نہیں اللہ کے مقابل (ف۱۰۸) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب عذاب دیکھیں گے (ف۱۰۹) کہیں گے کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے (ف۱۱۰)
45اور تم انہیں دیکھو گے کہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں دیکھتے ہیں (ف۱۱۱) اور ایمان والے کہیں گے بیشک ہار (نقصان) میں وہ ہیں جو اپنی جانیں اور اپنے گھر والے ہار بیٹھے قیامت کے دن (ف۱۱۲) سنتے ہو بیشک ظالم (ف۱۱۳) ہمیشہ کے عذاب میں ہیں،
46اور ان کے کوئی دوست نہ ہوئے کہ اللہ کے مقابل ان کی مدد کرتے (ف۱۱۴) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کہیں راستہ نہیں (ف۱۱۵)
47اپنے رب کا حکم مانو (ف۱۱۶) اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں (ف۱۱۷) اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے (ف۱۱۸)
48تو اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۱۹) تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا (ف۱۲۰) تم پر تو نہیں مگر پہنچادینا (ف۱۲۱) اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۱۲۲) اور اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۳) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲۴) تو انسان بڑا ناشکرا ہے (ف۱۲۵)
49اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت (ف۱۲۶) پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے (ف۱۲۷) اور جسے چاہے بیٹے دے (ف۱۲۸)
50یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے (ف۱۲۹) بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
51اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر (ف۱۳۰) یا یوں کہ وہ بشر پر وہ عظمت کے ادھر ہو (ف۱۳۱) یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے (ف۱۳۲) بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے،
52اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی (ف۱۳۳) ایک جان فزا چیز (ف۱۳۴) اپنے حکم سے، اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اسے (ف۱۳۵) نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں، اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو (ف۱۳۶)
53اللہ کی راہ (ف۱۳۷) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرتے ہیں،
Chapter 43 (Sura 43)
1حٰمٓ
2روشن کتاب کی قسم (ف۲)
3ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو (ف۳)
4اور بیشک وہ اصل کتاب میں (ف۴) ہمارے پاس ضرور بلندی و حکمت والا ہے،
5تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو (ف۵)
6اور ہم نے کتنے ہی غیب بتانے والے (نبی) اگلوں میں بھیجے،
7اور ان کے پاس جو غیب بتانے والا (نبی) آیا اس کی ہنسی ہی بنایا کیے (ف۶)
8تو ہم نے وہ ہلاک کردیے جو ان سے بھی پکڑ میں سخت تھے (ف۷) اور اگلوں کا حال گزر چکا ہے،
9اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۸) کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے انہیں بنایا اس عزت والے علم والے نے (ف۹)
10جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے کیے کہ تم راہ پاؤ (ف۱۰)
11اور وہ جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازے سے (ف۱۱) تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر زندہ فرمادیا، یونہی تم نکالے جاؤ گے (ف۱۲)
12اور جس نے سب جوڑے بنائے (ف۱۳) اور تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں سے سواریاں بنائیں،
13کہ تم ان کی پیٹھوں پر ٹھیک بیٹھو (ف۱۴) پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو جب اس پر ٹھیک بیٹھ لو اور یوں کہو پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بوتے (قابو) کی نہ تھی،
14اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۵)
15اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا ٹھہرایا (ف۱۶) بیشک آدمی (ف۱۷) کھلا ناشکرا ہے (ف۱۸)
16کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں لیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ خاص کیا (ف۱۹)
17اور جب ان میں کسی کو خوشخبری دی جائے اس چیز کی (ف۲۰) جس کا وصف رحمن کے لیے بتاچکا ہے (ف۲۱) تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے (ف۲۲)
18اور کیا (ف۲۳) وہ جو گہنے (زیور) میں پروان چڑھے (ف۲۴) اور بحث میں صاف بات نہ کرے (ف۲۵)
19اور انہوں نے فرشتوں کو، کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا (ف۲۶) کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے (ف۲۷) اب لکھ لی جائے گی ان کی گواہی (ف۲۸) اور ان سے جواب طلب ہوگا (ف۲۹)
20اور بولے اگر رحمٰن چاہتا ہم انہیں نہ پوجتے (ف۳۰) انہیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں (ف۳۱) یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں (ف۳۲)
21یا اس سے قبل ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے جسے وہ تھامے ہوئے ہیں (ف۳۳)
22بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں (ف۳۴)
23اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسُودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں (ف۳۵)
24نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں تمہارے پاس وہ (ف۳۶) لاؤں جو سیدھی راہ ہو اس سے (ف۳۷) جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳۸)
25تو ہم نے ان سے بدلہ لیا (ف۳۹) تو دیکھو جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا،
26اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا میں بیزار ہوں تمہارے معبودو ں سے،
27سوا اس کے جس نے مجھے پیدا کیا کہ ضرور وہ بہت جلد مجھے راہ دے گا،
28اور اسے (ف۴۰) اپنی نسل میں باقی کلام رکھا (ف۴۱) کہ کہیں وہ باز آئیں (ف۴۲)
29بلکہ میں نے انہیں (ف۴۳) اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دیے (ف۴۴) یہاں تک کہ ان کے پاس حق (ف۴۵) اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا (ف۴۶)
30اور جب ان کے پاس حق آیا بولے یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں،
31اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں (ف۴۷) کے کسی بڑے آدمی پر (ف۴۸)
32کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں (ف۴۹) ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا (ف۵۰) اور ان میں ایک دوسرے پر درجوں بلندی دی (ف۵۱) کہ ان میں ایک دوسرے کی ہنسی بنائے (ف۵۲) اور تمہارے رب کی رحمت (ف۵۳) ان کی جمع جتھا سے بہتر (ف۵۴)
33اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں (ف۵۵) تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے جن پر چڑھتے،
34اور ان کے گھروں کے لیے چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگاتے،
35اور طرح طرح کی آرائش (ف۵۶) اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے، اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے (ف۵۷)
36اور جسے رند تو آئے (شب کوری ہو) رحمن کے ذکر سے (ف۵۸) ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے،
37اور بیشک وہ شیاطین ان کو (ف۵۹) راہ سے روکتے ہیں اور (ف۶۰) سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں،
38یہاں تک کہ جب (ف۶۱) کافر ہمارے پاس آئے گا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورب پچھم کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی برا ساتھی ہے،
39اور ہرگز تمہارا اس (ف۶۲) سے بھلا نہ ہوگا آج جبکہ (ف۶۳) تم نے ظلم کیا کہ تم سب عذاب میں شریک ہو،
40تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے (ف۶۴) یا اندھوں کو راہ دکھاؤ گے (ف۶۵) اور انہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں (ف۶۶)
41تو اگر ہم تمہیں لے جائیں (ف۶۷) تو ان سے ہم ضرور بدلہ لیں گے (ف۶۸)
42یا تمہیں دکھادیں (ف۶۹) جس کا انہیں ہم نے وعدہ دیا ہے تو ہم ان پر بڑی قدرت والے ہیں،
43تو مضبوط تھامے رہو اسے جو تمہاری طرف وحی کی گئی (ف۷۰) بیشک تم سیدھی راہ پر ہو،
44اور بیشک وہ (ف۷۱) شرف ہے تمہارے لیے (ف۷۲) اور تمہاری قوم کے لیے (ف۱۷۳) اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (ف۷۴)
45اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے کیا ہم نے رحمان کے سوا کچھ اور خدا ٹھہرائے جن کو پوجا ہو (ف۷۵)
46اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشایوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا بیشک میں اس کا رسول ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے،
47پھر جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لایا (ف۷۶) جبھی وہ ان پر ہنسنے لگے (ف۷۷)
48اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے وہ پہلے سے بڑی ہوتی (ف۷۸) اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا کہ وہ بام آئیں (ف۷۹)
49اور بولے (ف۸۰) کہ اے جادوگر (ف۸۱) ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے (ف۸۲) بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے (ف۸۳)
50پھر جب ہم نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی جبھی وہ عہد توڑ گئے (ف۸۴)
51اور فرعون اپنی قوم میں (ف۸۵) پکارا کہ اے میری قوم! کیا میرے لیے مصر کی سلطنت نہیں اور یہ نہریں کہ میرے نیچے بہتی ہیں (ف۸۶) تو کیا تم دیکھتے نہیں (ف۸۷)
52یا میں بہتر ہوں (ف۸۸) اس سے کہ ذلیل ہے (ف۸۹) اور بات صاف کرتا معلوم نہیں ہوتا (ف۹۰)
53تو اس پر کیوں نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن (ف۹۱) یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کے پاس رہتے (ف۹۲)
54پھر اس نے اپنی قوم کو کم عقل کرلیا (ف۹۳) تو وہ اس کے کہنے پر چلے (ف۹۴) بیشک وہ بے حکم لوگ تھے،
55پھر جب انہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا ہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو ڈبودیا،
56انہیں ہم نے کردیا اگلی داستان اور کہاوت پچھلوں کے لیے (ف۹۵)
57اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جائے، جبھی تمہاری قوم اس سے ہنسنے لگتے ہیں (ف۹۶)
58اور کہتے ہیں کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ (ف۹۷) انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو (ف۹۸) بلکہ وہ ہیں جھگڑالو لوگ (ف۹۹)
59وہ تو نہیں مگر ایک بندہ جس پر ہم نے احسان فرمایا (ف۱۰۰) اور اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے عجیب نمونہ بنایا (ف۱۰۱)
60اور اگر ہم چاہتے تو (ف۱۰۲) زمین میں تمہارے بدلے فرشتے بساتے (ف۱۰۳)
61اور بیشک عیسی ٰ قیامت کی خبر ہے (ف۱۰۴) تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا (ف۱۰۵) یہ سیدھی راہ ہے،
62اور ہرگز شیطان تمہیں نہ روک دے (ف۱۰۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
63اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں (ف۱۰۷) لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا (ف۱۰۸) اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو (ف۱۰۹) تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
64بیشک اللہ میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو، یہ سیدھی راہ ہے (ف۱۱۰)
65پھر وہ گروہ آپس میں مختلف ہوگئے (ف۱۱۱) تو ظالموں کی خرابی ہے (ف۱۱۲) ایک درد ناک دن کے عذاب سے (ف۱۱۳)
66کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،
67گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار (ف۱۱۴)
68ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو،
69وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے،
70داخل ہو جنت میں تم اور تمہاری بیبیاں اور تمہاری خاطریں ہوتیں (ف۱۱۵)
71ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں اور جاموں کا اور اس میں جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذت پہنچے (ف۱۱۶) اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے،
72اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کیے گئے اپنے اعمال سے،
73تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ (ف۱۱۷)
74بیشک مجرم (ف۱۱۸) جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،
75وہ کبھی ان پر سے ہلکا نہ پڑے گا اور وہ اس میں بے آ س رہیں گے (ف۱۱۹)
76اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی ظالم تھے (ف۱۲۰)
77اور وہ پکاریں گے (ف۱۲۱) اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کرچکے (ف۱۲۲) وہ فرمائے گا (ف۱۲۳) تمہیں تو ٹھہرنا (ف۱۲۴)
78بیشک ہم تمہارے پاس حق لائے (ف۱۲۵) مگر تم میں اکثر کو حق ناگوار ہے،
79کیا انہوں نے (ف۱۲۶) اپنے خیال میں کوئی کام پکا کرلیا ہے (ف۱۲۷)
80تو ہم اپنا کام پکا کرنے والے ہیں (ف۱۲۸) کیا اس گھمنڈ میں ہیں کہ ہم ان کی آہستہ بات اور ان کی مشورت نہیں سنتے، ہاں کیوں نہیں (ف۱۲۹) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں،
81تم فرماؤ بفرض محال رحمٰن کے کوئی بچہ ہوتا، تو سب سے پہلے میں پوجتا (ف۱۳۰)
82پاکی ہے آسمانوں اور زمین کے رب کو، عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف۱۳۱)
83تو تم انہیں چھوڑو کہ بیہودہ باتیں کریں اور کھیلیں (ف۱۳۲) یہاں تک کہ اپنے اس دن کو پائیں جس کا ان سے وعدہ ہے (ف۱۳۳)
84اور وہی آسمان والوں کا خدا اور زمین والوں کا خدا (ف۱۳۴) اور وہی حکمت و علم والا ہے،
85اور بڑی برکت والا ہے وہ کہ اسی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم، اور تمہیں اس کی طرف پھرنا،
86اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں شفاعت کا اختیار انہیں ہے جو حق کی گواہی دیں (ف۱۳۵) اور علم رکھیں (ف۱۳۶)
87اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۱۳۷) انہیں کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۱۳۸) تو کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۳۹)
88مجھے رسول (ف۱۴۰) کے اس کہنے کی قسم (ف۱۴۱) کہ اے میرے رب! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے،
89تو ان سے درگزر کرو (ف۱۴۲) اور فرماؤ بس سلام ہے (ف۱۴۳) کہ آگے جان جائیں گے (ف۱۴۴)
Chapter 44 (Sura 44)
1حٰمٓ
2قسم اس روشن کتاب کی (ف۲)
3بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا (ف۳) بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں (ف۴)
4اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام (ف۵)
5ہمارے پاس کے حکم سے، بیشک ہم بھیجنے والے ہیں (ف۶)
6تمہارے رب کی طرف سے رحمت، بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
7وہ جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اگر تمہیں یقین ہو (ف۷)
8اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں وہ جِلائے اور مارے، تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب،
9بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں (ف۸)
10تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا،
11کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا (ف۹) یہ ہے دردناک عذاب،
12اس دن کہیں گے، اے ہمارے رب! ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں (ف۱۰)
13کہاں سے ہو انہیں نصیحت ماننا (ف۱۱) حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا (ف۱۲)
14اس سے روگرداں ہوئے اور بولے سکھایا ہوا دیوانہ ہے (ف۱۳)
15ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے (ف۱۴)
16جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے (ف۱۵) بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں،
17اور بیشک ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو جانچا اور ان کے پاس ایک معزز رسول تشریف لایا (ف۱۶)
18کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سپرد کردو (ف۱۷) بیشک میں تمہارے لیے امانت والا رسول ہوں،
19اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں (ف۱۸)
20اور میں پناہ لیتا ہوں اپنے رب اور تمہارے رب کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو (ف۱۹)
21اور اگر میرا یقین نہ لاؤ تو مجھ سے کنارے ہوجاؤ (ف۲۰)
22تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں،
23ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں (ف۲۱) کو راتوں رات لے نکل ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا (ف۲۲)
24اور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے چھوڑ دے (ف۲۳) بیشک وہ لشکر ڈبو دیا جائے گا (ف۲۴)
25کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے،
26او رکھیت اور عمدہ مکانات (ف۲۵)
27اور نعمتیں جن میں فارغ البال تھے (ف۲۶)
28ہم نے یونہی کیا اور ان کا وارث دوسری قوم کو کردیا (ف۲۷)
29تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے (ف۲۸) اور انہیں مہلت نہ دی گئی (ف۲۹)
30اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات بخشی (ف۳۰)
31فرعون سے، بیشک وہ متکبر حد سے بڑھنے والوں سے،
32اور بیشک ہم نے انہیں (ف۳۱) دانستہ چن لیا اس زمانے والوں سے،
33ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں صریح انعام تھا (ف۳۲)
34بیشک یہ (ف۳۳) کہتے ہیں،
35وہ تو نہیں مگر ہمارا ایک دفعہ کا مرنا (ف۳۴) اور ہم اٹھائے نہ جائیں گے (ف۳۵)
36تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو (ف۳۶)
37کیا وہ بہتر ہیں (ف۳۷) یا تبع کی قوم (ف۳۸) اور جو ان سے پہلے تھے (ف۳۹) ہم نے انہیں ہلاک کردیا (ف۴۰) بیشک وہ مجرم لوگ تھے (ف۴۱)
38اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر (ف۴۲)
39ہم نے انہیں نہ بنایا مگر حق کے ساتھ (ف۴۳) لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں (ف۴۴)
40بیشک فیصلہ کا دن (ف۴۵) ان سب کی میعاد ہے،
41جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا (ف۴۶) اور نہ ان کی مدد ہوگی (ف۴۷)
42مگر جس پر اللہ رحم کرے (ف۴۸) بیشک وہی عزت والا مہربان ہے،
43بیشک تھوہڑ کا پیڑ (ف۴۹)
44گنہگاروں کی خوراک ہے (ف۵۰)
45گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہے،
46جیسا کھولتا پانی جوش مارے (ف۵۱)
47اسے پکڑو (ف۵۲) ٹھیک بھڑکتی آگ کی طرف بزور گھسیٹتے لے جاؤ،
48پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب ڈالو (ف۵۳)
49چکھ، (ف۵۴) ہاں ہاں تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے (ف۵۵)
50بیشک یہ ہے وہ (ف۵۶) جس میں تم شبہہ کرتے تھے (ف۵۷)
51بیشک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں (ف۵۸)
52باغوں اور چشموں میں،
53پہنیں گے کریب اور قنادیز (ف۵۹) آمنے سامنے (ف۶۰)
54یونہی ہے، اور ہم نے انہیں بیاہ دیا نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والیوں سے،
55اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے (ف۶۱) امن و امان سے (ف۶۲)
56اس میں پہلی موت کے سوا (ف۶۳) پھر موت نہ چکھیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب سے بچالیا، (ف۶۴)
57تمہارے رب کے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے،
58تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں (ف۶۵) آسان کیا کہ وہ سمجھیں (ف۶۶)
59تو تم انتظار کرو (ف۶۷) وہ بھی کسی انتظار میں ہیں (ف۶۸)
Chapter 45 (Sura 45)
1حٰمٓ
2کتاب کا اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،
3بیشک آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے (ف۲)
4اور تمہاری پیدائش میں (ف۳) اور جو جو جانور وہ پھیلاتا ہے ان میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے،
5اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں (ف۴) اور اس میں کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اتارا تو اس سے زمین کو اس کے مَرے پیچھے زندہ کیا اور ہواؤں کی گردش میں (ف۵) نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے،
6یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی بات پر ایمان لائیں گے،
7خرابی ہے ہر بڑے بہتان ہائے گنہگار کے لیے (ف۶)
8اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر ہٹ پر جمتا ہے (ف۷) غرور کرتا (ف۸) گویا انہیں سنا ہی نہیں تو اسے خوشخبری سناؤ درد ناک عذاب کی،
9اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی پر اطلاع پائے اس کی ہنسی بناتا ہے ان کے لیے خواری کا عذاب،
10ان کے پیچھے جہنم ہے (ف۹) اور انہیں کچھ کام نہ دے گا ان کا کمایا ہوا (ف۱۰) اور نہ وہ جو اللہ کے سوا حمایتی ٹھہرا رکھے تھے (ف۱۱) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،
11یہ (ف۱۲) راہ دکھانا ہے اور جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے دردناک عذاب میں سے سخت تر عذاب ہے،
12اللہ ہے جس نے تمہارے بس میں دریا کردیا کہ اس میں اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۳) اور اس لیے کہ حق مانو (ف۱۴)
13اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمان میں ہیں (ف۱۵) اور جو کچھ زمین میں (ف۱۶) اپنے حکم سے بے شک اس میں نشا نیاں ہیں سوچنے والوں کے لئے،
14ایمان وا لوں سے فرماؤ درگزریں ان سے جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے (ف۱۷) تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے (ف۱۸)
15جو بھلا کام کرے تو اپنے لیے اور برا کرے تو اپنے برے کو (ف۱۹) پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے (ف۲۰)
16اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ف۲۱) اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی (ف۲۲) اور ہم نے انہیں ستھری روزیاں دیں (ف۲۳) اور انہیں ان کے زمانے والوں پر فضیلت بخشی،
17اور ہم نے انہیں اس کام کی (ف۲۴) روشن دلیلیں دیں تو انہوں نے اختلاف نہ کیا (ف۲۵) مگر بعد اس کے کہ علم ان کے پاس آچکا (ف۲۶) آپس کے حسد سے (ف۲۷) بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے یں،
18پھر ہم نے اس کام کے (ف۲۸) عمدہ راستہ پر تمہیں کیا (ف۲۹) تو اسی راہ پر چلو اور نادانوں کی خواہشوں کا ساتھ نہ دو (ف۳۰)
19بیشک وہ اللہ کے مقابل تمہیں کچھ کام نہ دیں گے، اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف۳۱) اور ڈر والوں کا دوست اللہ (ف۳۲)
20یہ لوگوں کی آنکھیں کھولنا ہے (ف۳۳) اور ایمان والوں کے لیے ہدایت و رحمت،
21کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا (ف۳۴) یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کی ان کی زندگی اور موت برابر ہوجائے (ف۳۵) کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،
22اور اللہ نے آسمان اور (ف۳۶) زمین کو حق کے ساتھ بنایا (ف۳۷) اور اس لیے کہ ہر جان اپنے کیے کا بدلہ پائے (ف۳۸) اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
23بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا (ف۳۹) اور اللہ نے اسے با وصف علم کے گمراہ کیا (ف۴۰) اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا (ف۴۱) تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
24اور بولے (ف۴۲) وہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی (ف۴۳) مرتے ہیں اور جیتے ہیں (ف۴۴) اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ (ف۴۵) اور انہیں اس کا علم نہیں (ف۴۶) وہ تو نرے گمان دوڑاتے ہیں (ف۴۷)
25اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (ف۴۸) تو بس ان کی حجت یہی ہوتی ہے کہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کو لے آؤ (ف۴۹) اگر تم سچے ہو (ف۵۰)
26تم فرماؤ اللہ تمہیں جِلاتا ہے (ف۵۱) پھر تم کو مارے گا (ف۵۲) پھر تم سب کو اکٹھا کریگا (ف۵۳) قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں لیکن بہت آدمی نہیں جانتے (ف۵۴)
27اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، اور جس دن قیامت قائم ہوگی باطل والوں کی اس دن ہار ہے (ف۵۵)
28اور تم ہر گرو ه (ف۵۶) کو دیکھو گے زانو کے بل گرے ہوئے ہر گروہ اپنے نامہٴ اعمال کی طرف بلایا جائے گا (ف۵۷) آج تمہیں تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا،
29ہمارا یہ نوشتہ تم پر حق بولتا ہے، ہم لکھتے رہے تھے (ف۵۸) جو تم نے کیا،
30تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں لے گا (ف۵۹) یہی کھلی کامیابی ہے،
31اور جو کافر ہوئے ان سے فرمایا جائے گا، کیا نہ تھا کہ میری آیتیں تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم تکبر کرتے تھے (ف۶۰) اور تم مجرم لوگ تھے،
32اور جب کہا جاتا بیشک اللہ کا وعدہ (ف۶۱) سچا ہے اور قیامت میں شک نہیں (ف۶۲) تم کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں (ف۶۳) یقین نہیں،
33اور ان پر کھل گئیں (ف۶۴) ان کے کاموں کی برائیاں (ف۶۵) اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،
34اور فرمایا جائے گا آج ہم تمہیں چھوڑدیں گے (ف۶۶) جیسے تم اپنے اس دن کے ملنے کو بھولے ہوئے تھے (ف۶۷) اور تمہارا ٹھکانا آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف۶۸)
35یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا ٹھٹھا (مذاق) بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا (ف۶۹) تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے کوئی منانا چاہے (ف۷۰)
36تو اللہ ہی کے لیے سب خوبیاں ہیں آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور سارے جہاں کا رب،
37اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
Chapter 46 (Sura 46)
1حٰمٓ
2یہ کتاب (ف۲) اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،
3ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ (ف۳) اور ایک مقرر میعاد پر (ف۴) اور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے (ف۵) منہ پھیرے ہیں (ف۶)
4تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۷) مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایا یا آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب (ف۸) یا کچھ بچا کھچا علم (ف۹) اگر تم سچے ہو (ف۱۰)
5اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کے سوا ایسوں کو پوجے (ف۱۱) جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں (ف۱۲)
6اور جب لوگوں کا حشر ہوگا وہ ان کے دشمن ہوں گے (ف۱۳) اور ان سے منکر ہوجائیں گے (ف۱۴)
7اور جب ان پر (ف۱۵) پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو (ف۱۶) کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے (ف۱۷)
8کیا کہتے ہیں انہوں نے اسے جی سے بنایا (ف۱۸) تم فرماؤ اگر میں نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے (ف۱۹) وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو (ف۲۰) اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱)
9تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں (ف۲۲) اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (ف۲۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے (ف۲۴) اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا،
10تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ (ف۲۵) اس پر گواہی دے چکا (ف۲۶) تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا (ف۲۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا ظالموں کو،
11اور کافروں نے مسلمانوں کو کہا اگر اس میں (ف۲۸) کچھ بھلائی ہو تو یہ (ف۲۹) ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے (ف۳۰) اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب (ف۳۱) کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے،
12اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۲) سے پیشوا اور مہربانی، اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی (ف۳۳) عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے، اور نیکوں کو بشارت،
13بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے (ف۳۴) نہ ان پر خوف (ف۳۵) نہ ان کو غم (ف۳۶)
14وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام،
15اور ہم نے آدمی کو حکم کیا اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، ا س کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے، اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے (ف۳۷) یہاں تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا (ف۳۸) اور چالیس برس کا ہوا (ف۳۹) عرض کی اے میرے رب! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی (ف۴۰) اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے (ف۴۱) اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (نیکی) رکھ (ف۴۲) میں تیری طرف رجوع لایا (ف۴۳) اور میں مسلمان ہوں (ف۴۴)
16یہ ہیں وہ جن کی نیکیاں ہم قبول فرمائیں گے (ف۴۵) اور ان کی تقصیروں سے درگزر فرمائیں گے جنت والوں میں، سچا وعدہ جو انہیں دیا جاتا تھا (ف۴۶)
17اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا (ف۴۷) اُف تم سے دل پک گیا (بیزار ہے) کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ پر سے پہلے سنگتیں گزر چکیں (ف۴۸) اور وہ دونوں (ف۴۹) اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۵۰) تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں
18یہ وہ ہیں جن پر بات ثابت ہوچکی (ف۵۱) ان گروہوں میں جو ان سے پلے گزرے جن اور آدمی، بیشک وہ زیاں کار تھے،
19اور ہر ایک کے لیے (ف۵۲) اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں (ف۵۳) اور تاکہ اللہ ان کے کام انہیں پورے بھردے (ف۵۴)
20اور ان پر ظلم نہ ہوگا، اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے (ف۵۵) تو آج تمہیں ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور سزا اس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے (ف۵۶)
21اور یاد کرو عاد کے ہم قوم (ف۵۷) کو جب اس نے ان کو سرزمینِ احقاف میں ڈرایا (ف۵۸) اور بیشک اس سے پہلے ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد آئے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے،
22بولے کیا تم اس لیے آئے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے پھیر دو، تو ہم پر لاؤ (ف۵۹) جس کا ہمیں وعدہ دیتے ہو اگر تم سچے ہو، (ف۶۰)
23اس نے فرمایا (ف۶۱) اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے (ف۶۲) میں تو تمہیں اپنے رب کے پیام پہنچاتا ہوں ہاں میری دانست میں تم نرے جاہل لوگ ہو (ف۶۳)
24پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا ان کی وادیوں کی طرف آتا (ف۶۴) بولے یہ بادل ہے کہ ہم پر برسے گا (ف۶۵) بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے، ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب،
25ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے (ف۶۶) تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو،
26اور بیشک ہم نے انہیں وہ مقدور دیے تھے جو تم کو نہ دیے (ف۶۷) اور ان کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف۶۸) تو ان کے کام کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،
27اور بیشک ہم نے ہلاک کردیں (ف۶۹) تمہارے آس پاس کی بستیاں (ف۷۰) اور طرح طرح کی نشانیاں لائے کہ وہ باز آئیں (ف۷۱)
28تو کیوں نہ مدد کی ان کی (ف۷۲) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا (ف۷۳) بلکہ وہ ان سے گم گئے (ف۷۴) اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے (ف۷۵)
29اور جبکہ ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے (ف۷۶) کان لگا کر قرآن سنتے، پھر جب وہاں حاضر ہوئے آپس میں بولے خاموش رہو (ف۷۷) پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے (ف۷۸)
30بولے اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب سنی (ف۷۹) کہ موسیٰ کے بعد اتاری گئی (ف۸۰) اگلی کتابوں کی تصدیق فرمائی حق اور سیدھی راہ دکھائی،
31اے ہماری قوم! اللہ کے منادی (ف۸۱) کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ کہ وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے (ف۸۲) اور تمہیں دردناک عذاب سے بچالے،
32اور جو اللہ کے منادی کی بات نہ مانے وہ زمین میں قابو سے نکل کر جانے والا نہیں (ف۸۳) اور اللہ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں (ف۸۴) وہ (ف۸۵) کھلی گمراہی میں ہیں،
33کیا انہوں نے (ف۸۶) نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں نہ تھکا قادر ہے کہ مردے جِلائے، کیوں نہیں بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
34اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا (ف۸۷)
35تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا (ف۸۸) اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (ف۸۹) گویا وہ جس دن دیکھیں گے (ف۹۰) جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۹۱) دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے (ف۹۲) تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بے حکم لوگ (ف۹۳)
Chapter 47 (Sura 47)
1جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا (ف۲) اللہ نے ان کے عمل برباد کیے (ف۳)
2اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا (ف۴) اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے اللہ نے ان کی برائیاں اتار دیں اور ان کی حالتیں سنوار دیں (ف۵)
3یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے (ف۶) اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے (ف۷)
4تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو(ف۸) تو گردنیں مارنا ہے (ف۹) یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرلو (ف۱۰) تو مضبوط باندھو، پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو (ف۱۱) یہاں تک کہ لڑائی اپنابوجھ رکھ دے (ف۱۲) بات یہ ہے اوراللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لیتا (ف۱۳) مگر اس لئے (ف۱۴)تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے (ف۱۵) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا (ف۱۶)
5جلد انہیں راہ دے گا (ف۱۷) اور ان کا کام بنادے گا،
6اور انہیں جنت میں لے جائے گا انہیں اس کی پہچان کرادی ہے (ف۱۸)
7اے ایمان والو اگر تم دین خدا کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا (ف۱۹) اور تمہارے قدم جمادے گا (ف۲۰)
8اور جنہوں نے کفر کیا تو ان پر تباہی پڑے اور اللہ ان کے اعمال برباد کرے،
9یہ اس لیے کہ انہیں ناگوار ہوا جو اللہ نے اتارا (ف۲۱) تو اللہ نے ان کا کیا دھرا اِکارت کیا،
10تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا (ف۲۲) کیسا انجام ہوا، اللہ نے ان پر تباہی ڈالی (ف۲۳) اور ان کافروں کے لیے بھی ویسی کتنی ہی ہیں (ف۲۴)
11یہ (ف۲۵) اس لیے کہ مسلمانوں کا مولیٰ اللہ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں،
12بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، اور کافر برتتے ہیں اور کھاتے ہیں (ف۲۶) جیسے چوپائے کھائیں (ف۲۷) اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے،
13اور کتنے ہی شہر کہ اس شہر سے (ف۲۸) قوت میں زیادہ تھے جس نے تمہیں تمہارے شہر سے باہر کیا، ہم نے انہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۲۹)
14تو کیا جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳۰) اُس (ف۳۱) جیسا ہوگا جس کے برے عمل اسے بھلے دکھائے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے (ف۳۲)
15احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے (ف۳۳) اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا (ف۳۴) اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے (ف۳۵) اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا (ف۳۶) اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت (ف۳۷) کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے،
16اور ان (ف۳۸) میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں (ف۳۹) یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں (ف۴۰) علم والوں سے کہتے ہیں (ف۴۱) ابھی انہوں نے کیا فرمایا (ف۴۲) یہ ہیں وہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی (ف۴۳) اور اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے (ف۴۲)
17اور جنہوں نے راہ پائی (ف۴۵) اللہ نے ان کی ہدایت (ف۴۶) اور زیادہ فرمائی اور ان کی پرہیزگاری انہیں عطا فرمائی (ف۴۷)
18تو کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۴۸) مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے، کہ اس کی علامتیں تو آہی چکی ہیں (ف۴۹) پھر جب آجائے گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا،
19تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو (ف۵۰) اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا (ف۵۱) اور رات کو تمہارا آرام لینا (ف۵۲)
20اور مسلمان کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی (ف۵۳) پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی (ف۵۴) اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۵۵) کہ تمہاری طرف (ف۵۶) اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر مُرونی چھائی ہو، تو ان کے حق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے (ف۵۷)
21اور اچھی بات کہتے پھر جب حکم ناطق ہوچکا (ف۵۸) تو اگر اللہ سے سچے رہتے (ف۵۹) تو ان کا بھلا تھا،
22تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ (ف۶۰) اور اپنے رشتے کاٹ دو،
23یہ ہیں وہ (ف۶۱) لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں (ف۶۲)
24تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں (ف۶۳) یا بعضے دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں (ف۶۴)
25بیشک وہ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے (ف۶۵) بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی (ف۶۶) شیطان نے انہیں فریب دیا (ف۶۷) اور انہیں دنیا میں مدتوں رہنے کی امید دلائی (ف۶۸)
26یہ اس لیے کہ انہوں نے (ف۶۹) کہا ان لوگوں سے (ف۷۰) جنہیں اللہ کا اتارا ہوا (ف۷۱) ناگوار ہے ایک کام میں ہم تمہاری مانیں گے (ف۷۲) اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے،
27تو کیسا ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے ان کے منہ اور ان کی پیٹھیں مارتے ہوئے (ف۷۳)
28یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں اللہ کی ناراضی ہے (ف۷۴) اور اس کی خوشی (ف۷۵) انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردیے،
29کیا جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۷۶) اس گھمنڈ میں ہیں کہ اللہ ان کے چھپے بَیر ظاہر نہ فرمائے گا (ف۷۷)
30اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھادیں کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو (ف۷۸) اور ضرور تم انہیں بات کے اسلوب میں پہچان لو گے (ف۷۹) اور اللہ تمہارے عمل جانتا ہے (ف۸۰)
31اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے (ف۸۱) یہاں تک کہ دیکھ لیں (ف۸۲) تمہارے جہاد کرنے والوں اور صابروں کو اور تمہاری خبریں آزمالیں (ف۸۳)
32بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے (ف۸۴) روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت ان پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہچائیں گے، اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا (ف۸۵)
33اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو (ف۸۶) اور اپنے عمل باطل نہ کرو (ف۸۷)
34بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ ہر گز انہیں نہ بخشے گا (ف۸۸)
35تو تم سستی نہ کرو (ف۸۹) اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ (ف۹۰) اور تم ہی غالب آؤ گے، اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۹۱)
36دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے (ف۹۲) اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا (ف۹۳)
37اگر انہیں (ف۹۴) تم سے طلب کرے اور زیادہ طلب کرے تم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کے میل ظاہر کردے گا،
38ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۹۵) تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے (ف۹۶) وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے (ف۹۷) اور تم سب محتاج (ف۹۸) اور اگر تم منہ پھیرو (ف۹۸) تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے (ف۱۰۰)
Chapter 48 (Sura 48)
1بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح دی (ف۲)
2تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے (ف۳) اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے (ف۴) اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے (ف۵)
3اور اللہ تمہاری زبردست مدد فرمائے (ف۶)
4وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے (ف۷) اور اللہ ہی کی ملک ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے (ف۸) اور اللہ علم و حکمت والا ہے (ف۹)
5تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور انکی برائیاں ان سے اتار دے، اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے،
6اور عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ پر گمان رکھتے ہیں (ف۱۰) انہیں پر ہے بری گردش (ف۱۱) اور اللہ نے اُن پر غضب فرمایا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا، اور وہ کیا ہی برا انجام ہے،
7اور اللہ ہی کی ملک ہیں آسمانوں اور زمین کے سب لشکر، اور اللہ عزت و حکمت والا ہے،
8بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر (ف۱۲) اور خوشی اور ڈر سناتا(ف۱۳)
9تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو (ف۱۴)
10وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں (ف۱۵) وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں (ف۱۶) ان کے ہاتھوں پر (ف۱۷) اللہ کا ہاتھ ہے، تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا (ف۱۸) اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب دے گا (ف۱۹)
11اب تم سے کہیں گے جو گنوار (اعرابی) پیچھے رہ گئے تھے (ف۲۰) کہ ہمیں ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں نے مشغول رکھا (ف۲۱) اب حضور ہماری مغفرت چاہیں (ف۲۲) اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں (ف۲۳) تم فرماؤ تو اللہ کے سامنے کسے تمہارا کچھ اختیار ہے اگر وہ تمہارا برا چاہے یا تمہاری بھلائی کا ارادہ فرمائے، بلکہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
12بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے (ف۲۴) اور اسی کو اپنے دلوں میں بھلا سمجھیں ہوئے تھے اور تم نے برا گمان کیا (ف۲۵) اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے (ف۲۶)
13اور جو ایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر (ف۲۷) تو بیشک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،
14اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے (ف۲۸) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
15اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے (ف۲۹) جب تم غنیمتیں لینے چلو (ف۳۰) تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو (ف۳۱) وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں (ف۳۲) تم فرماؤ ہرگز ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا (ف۳۳) تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو (ف۳۴) بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے (ف۳۵) مگر تھوڑی (ف۳۶)
16ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ (ف۳۷) عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے (ف۳۸) کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہوجائیں، پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا، ور اگر پھر گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمھیں درد ناک عذاب دے گا،
17اندھے پر تنگی نہیں (ف۴۱) اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر مواخذہ (ف۴۲) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور جو پھر جائے گا (ف۴۳) اسے دردناک عذاب فرمائے گا،
18بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے (ف۴۴) تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے (ف۴۵) تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا (ف۴۶)
19اور بہت سی غنیمتیں (ف۴۷) جن کو لیں، اور اللہ عزت و حکمت والا ہے،
20اور اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم لو گے (ف۴۸) تو تمہیں یہ جلد عطا فرمادی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے (ف۴۹) اور اس لیے کہ ایمان والوں کے لیے نشانی ہو (ف۵۰) اور تمہیں سیدھی راہ دکھائے (ف۵۱)
21اور ایک اور (ف۵۲) جو تمہارے بل (بس) کی نہ تھی (ف۵۳) وہ اللہ کے قبضہ میں ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
22اور اگر کافر تم سے لڑیں (ف۵۴) تو ضرور تمہارے مقابلہ سے پیٹھ پھیردیں گے (ف۵۵) پھر کوئی حمایتی نہ پائیں گے نہ مددگار،
23اللہ کا دستور ہے کہ پہلے سے چلا آتا ہے (ف۵۶) اور ہرگز تم اللہ کا دستور بدلتا نہ پاؤ گے،
24اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ (ف۵۷) تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے وادی مکہ میں (ف۵۸) بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا، اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے،
25وہ (ف۵۹) وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے (ف۶۰) روکا اور قربانی کے جانور رُکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے (ف۶۱) اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں (ف۶۲) جن کی تمہیں خبر نہیں (ف۶۳) کہیں تم انہیں روند ڈالو (ف۶۴) تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں ان کی قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جسے چاہے، اگر وہ جدا ہوجاتے (ف۶۵) تو ہم ضرور ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب دیتے (ف۶۶)
26جبکہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑ رکھی وہی زمانہٴ جاہلیت کی اَڑ (ضد) (ف۶۷) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا (ف۶۸) اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا (ف۶۹) اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے (ف۷۰) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۷۱)
27بیشک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب (ف۷۲) بیشک تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے اگر اللہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے (ف۷۳) بال منڈاتے یا (ف۷۴) ترشواتے بے خوف، تو اس نے جانا جو تمہیں معلوم نیں (ف۷۵) تو اس سے پہلے (ف۷۶) ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی (ف۷۷)
28وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۷۸) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۷۹)
29محمد اللہ کے رسول ہیں، اور ان کے ساتھ والے (ف۸۰) کافروں پر سخت ہیں (ف۸۱) اور آپس میں نرم دل (ف۸۲) تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے (ف۸۳) اللہ کا فضل و رضا چاہتے، ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے (ف۸۴) یہ ان کی صفت توریت میں ہے، اور ان کی صفت انجیل میں (ف۸۵) جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے (ف۸۶) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں، اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں (ف۸۷) بخشش اور بڑے ثواب کا،
Chapter 49 (Sura 49)
1اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو (ف۲) اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
2اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے (ف۳) اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو (ف۴)
3بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس (ف۵) وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
4بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں (ف۶)
5اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے(ف۷) تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۸)
6اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو (ف۹) کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ،
7اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰) بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں (ف۱۱) تو تم ضرور مشقت میں پڑو لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کر دی، ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں (ف۱۲)
8اللہ کا فضل اور احسان، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
9اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ (ف۱۳) پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے (ف۱۴) تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو، بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں،
10مسلمان مسلمان بھائی ہیں (ف۱۵) تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو (ف۱۶) اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو (ف۱۷)
11اے ایمان والو نہ مَرد مَردوں سے ہنسیں (ف۱۸) عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں (ف۱۹) اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں(ف۲۰) اور آپس میں طعنہ نہ کرو (ف۲۱) اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو (ف۲۲) کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا (ف۲۳) اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں،
12اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو (ف۲۴) بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے (ف۲۵) اور عیب نہ ڈھونڈھو (ف۲۶) اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو (ف۲۷) کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا (ف۲۸) اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،
13اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد (ف۲۹) اورایک عورت (ف۳۰) سے پیدا کیا (ف۳۱) اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو (ف۳۲) بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے (ف۳۳) بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے،
14گنوار بولے ہم ایمان لائے (ف۳۴) تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے (ف۳۵) ہاں یوں کہوں کہ ہم مطیع ہوئے (ف۳۶) اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا (ف۳۷) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے (ف۳۸) تو تمہارے کسی عمل کا تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۳۹) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
15ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا (ف۴۰) اور اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے ہیں (ف۴۱)
16تم فرماؤ کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہو، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (ف۴۲) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۳)
17اے محبوب وہ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے، تم فرماؤ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو (ف۴۴)
18بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے سب غیب، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۴۵)
Chapter 50 (Sura 50)
1عزت والے قرآن کی قسم (ف۲)
2بلکہ انھیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہی میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۳) تو کافر بولے یہ تو عجیب بات ہے،
3کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے پھر جیئں گے یہ پلٹنا دور ہے (ف۴)
4ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے گھٹاتی ہے (ف۵) اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے (ف۶)
5بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا (ف۷) جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بے ثبات بات میں ہیں (ف۸)
6تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا (ف۹) ہم نے اسے کیسے بنایا (ف۱۰) اور سنوارا (ف۱۱) اور اس میں کہیں رخنہ نہیں (ف۱۲)
7اور زمین کو ہم نے پھیلایا (ف۱۳) اور اس میں لنگر ڈالے (بھاری وزن رکھے) (ف۹۱۴ اور اس میں ہر بارونق جوڑا اُگایا،
8سوجھ اور سمجھ (ف۱۵) ہر رجوع والے بندے کے لیے (ف۱۶)
9اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا (ف۱۷) تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے (ف۱۸)
10اور کھجور کے لمبے درخت جن کا پکا گابھا،
11بندووں کی روزی کے لیے اور ہم نے اس (ف۱۹) سے مردہ شہر جِلایا (ف۲۰) یونہی قبروں سے تمہارا نکلنا ہے (ف۲۱)
12ان سے پہلے جھٹلایا (ف۲۲) نوح کی قوم اور رس والوں (ف۲۳) اور ثمود
13اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں
14اور بَن والوں اور تبع کی قوم نے (ف۲۴) ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا (ف۲۵)
15تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے (ف۲۶) بلکہ وہ نئے بننے سے (ف۲۷) شبہ میں ہیں،
16اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے (ف۲۸) اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں (ف۲۹)
17اور جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے (ف۳۰) ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں (ف۳۱)
18کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو (ف۳۲)
19اور آئی موت کی سختی (ف۳۳) حق کے ساتھ (ف۳۴) یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا،
20اور صُور پھونکا گیا (ف۳۵) یہ ہے وعدہٴ عذاب کا دن (ف۳۶)
21اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا (ف۳۷) اور ایک گواہ (ف۳۸)
22بیشک تو اس سے غفلت میں تھا (ف۳۹) تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا (ف۴۰) تو آج تیری نگاہ تیز ہے (ف۴۱)
23اور اس کا ہمنشین فرشتہ (ف۴۲) بولا یہ ہے (ف۴۳) جو میرے پاس حاضر ہے،
24حکم ہوگا تم دونوں جہنم میں ڈال دو ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو،
25جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا (ف۴۴)
26جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہرایا تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈالو،
27اس کے ساتھی شیطان نے کہا (ف۴۵) ہمارے رب میں نے اسے سرکش نہ کیا (ف۴۶) ہاں یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھا (ف۴۷)
28فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو (ف۴۸) میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا (ف۴۹)
29میرے یہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں،
30جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے کیا تو بھر گئی (ف۵۰) وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے (ف۵۱)
31اور پاس لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے کہ ان سے دور نہ ہوگی (ف۵۲)
32یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (ف۵۳) ہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے (ف۵۴)
33جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا (ف۵۵)
34ان سے فرمایا جائے گا جنت میں جاؤ سلامتی کے ساتھ (ف۵۶) یہ ہمیشگی کا دن ہے (ف۵۷)
35ان کے لیے ہے اس میں جو چاہیں اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے (ف۵۸)
36اور ان سے پہلے (ف۵۹) ہم نے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں کہ گرفت میں ان سے سخت تھیں (ف۶۰) تو شہروں میں کاوشیں کیں (ف۶۱) ہے کہیں بھاگنے کی جگہ (ف۶۲)
37بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو (ف۶۳) یا کان لگائے (ف۶۴) اور متوجہ ہو،
38اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی (ف۶۵)
39تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے (ف۶۶)
40اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو (ف۶۷) اور نمازوں کے بعد (ف۶۸)
41اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گا (ف۶۹) ایک پاس جگہ سے (ف۷۰)
42جس دن چنگھاڑ سنیں گے (ف۷۱) حق کے ساتھ، یہ دن ہے قبروں سے باہر آنے کا،
43بیشک ہم جِلائیں اور ہم ماریں اور ہماری طرف پھرنا ہے (ف۷۲)
44جس دن زمین ان سے پھٹے گی تو جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے (ف۷۳) یہ حشر ہے ہم کو آسان،
45ہم خوب جان رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں (ف۷۴) اور کچھ تم ان پر جبر کرنے والے نہیں (ف۷۵) تو قرآن سے نصیحت کرو اسے جو میری دھمکی سے ڈرے،
Chapter 51 (Sura 51)
1قسم ان کی جو بکھیر کر اڑانے والیاں (ف۲)
2پھر بوجھ اٹھانے والیاں (ف۳)
3پھر نرم چلنے والیاں (ف۴)
4پھر حکم سے بانٹنے والیاں (ف۵)
5بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۶) ضروری سچ ہے،
6اور بیشک انصاف ضرور ہونا (ف۷)
7آرائش والے آسمان کی قسم (ف۸)
8تم مختلف بات میں ہو (ف۹)
9اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھایا جانا ہو (ف۱۰)
10مارے جایں دل سے تراشنے والے
11جو نشے میں بھولے ہوئے ہیں (ف۱۱)
12پوچھتے ہیں (ف۱۲) انصاف کا دن کب ہوگا (ف۱۳)
13اس دن ہوگا جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے (ف۱۴)
14اور فرمایا جائے گا چکھو اپنا تپنا، یہ ہے وہ جس کی تمہیں جلدی تھی (ف۱۵)
15بیشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیں (ف۱۶)
16اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے، بیشک وہ اس سے پہلے (ف۱۷) نیکو کار تھے،
17وہ رات میں کم سویا کرتے (ف۱۸)
18اور پچھلی رات استغفار کرتے (ف۱۹)
19اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بے نصیب کا (ف۲۰)
20اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو (ف۲۱)
21اور خود تم میں (ف۲۲) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں،
22اور آسمان میں تمہارا رزق ہے (ف۲۳) اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۲۴)
23تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشک یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جو تم بولتے ہو،
24اے محبوب! کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی (ف۲۵)
25جب وہ اس کے پاس آکر بولے سلام کہا، سلام ناشناسا لوگ ہیں (ف۲۶)
26پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا (ف۲۷)
27پھر اسے ان کے پاس رکھا (ف۲۸) کہا کیا تم کھاتے نہیں،
28تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا (ف۲۹) وہ بولے ڈریے نہیں (ف۳۰) اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی،
29اس پر اس کی بی بی (ف۳۱) چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ (ف۳۲)
30انہوں نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرمادیا، اور وہی حکیم دانا ہے،
31ابراہیم نے فرمایا تو اے فرشتو! تم کس کام سے آئے (ف۳۳)
32بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (ف۳۴)
33کہ ان پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں،
34جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان کیے رکھے ہیں (ف۳۵)
35تو ہم نے اس شہر میں جو ایمان والے تھے نکال لیے،
36تو ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان پایا (ف۳۶)
37اور ہم نے اس میں (ف۳۷) نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں (ف۳۸)
38اور موسیٰ میں (ف۳۹) جب ہم نے اسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجا (ف۴۰)
39تو اپنے لشکر سمیت پھر گیا (ف۴۱) اورت بولا جادوگر ہے یا دیوانہ،
40تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا (ف۴۲)
41اور عاد میں (ف۴۳) جب ہم نے ان پر خشک آندھی بھیجی (ف۴۴)
42جس چیز پر گزرتی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح چھوڑتی (ف۴۵)
43اور ثمود میں (ف۴۶) جب ان سے فرمایا گیا ایک وقت تک برت لو (ف۴۷)
44تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی (ف۴۸) تو ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں کڑک نے آلیا (ف۴۹)
45تو وہ نہ کھڑے ہوسکے (ف۵۰) اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے،
46اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک فرمایا، بیشک وہ فاسق لوگ تھے،
47اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا (ف۵۱) اور بیشک ہم وسعت دینے والے ہیں (ف۵۲)
48اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھالے والے،
49اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے (ف۵۳) کہ تم دھیان کرو (ف۵۴)
50تو اللہ کی طرف بھاگو (ف۵۵) بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
51اور اللہ کے ساتھ اور معبود نہ ٹھہراؤ، بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
52یونہی (ف۵۶) جب ان سے اگلوں کے پاس کوئی رسول تشریف لایا تو یہی بولے کہ جادوگر ہے یا دیوانہ،
53کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں (ف۵۷)
54تو اے محبوب! تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کچھ الزام نہیں (ف۵۸)
55اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے،
56اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں (ف۵۹)
57میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا (ف۶۰) اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں (ف۶۱)
58بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قدرت والا ہے (ف۶۲)
59تو بیشک ان ظالموں کے لیے (ف۶۳) عذاب کی ایک باری ہے (ف۶۴) جیسے ان کے ساتھ والوں کے لیے ایک باری تھی (ف۶۵) تو مجھ سے جلدی نہ کریں (ف۶۶)
60تو کافروں کی خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں (ف۶۷)
Chapter 52 (Sura 52)
1طور کی قسم (ف۲)
2اور اس نوشتہ کی (ف۳)
3جو کھلے دفتر میں لکھا ہے
4اور بیت معمور (ف۴)
5اور بلند چھت (ف۵)
6اور سلگائے ہوئے سمندر کی (ف۶)
7بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہے (ف۷)
8اسے کوئی ٹالنے والا نہیں
9جس دن آسمان ہلنا سا ہلنا ہلیں گے (ف۸)
10اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں گے (ف۹)
11تو اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے (ف۱۰)
12وہ جو مشغلہ میں (ف۱۱) کھیل رہے ہیں،
13جس دن جہنم کی طرف دھکا دے کر دھکیلے جائیں گے (ف۱۲)
14یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۳)
15تو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیں (ف۱۴)
16اس میں جاؤ اب چاہے صبر کرو یا نہ کرو، سب تم پر ایک سا ہے (ف۱۵) تمہیں اسی کا بدلہ جو تم کرتے تھے (ف۱۶)
17بیشک پرہیزگار باغوں اور چین میں ہیں
18اپنے رب کے دین پر شاد شاد (ف۱۷) اور انہیں ان کے رب نے آگ کے عذاب سے بچالیا (ف۱۸)
19کھاؤ اور پیو خوشگواری سے صِلہ اپنے اعمال کا (ف۱۹)
20تختوں پر تکیہ لگائے جو قطار لگا کر بچھے ہیں اور ہم نے انہیں بیاہ دیا بڑی آنکھوں والی حوروں سے،
21اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی (ف۲۰) اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی (ف۲۱) سب آدمی اپنے کیے میں گرفتار ہیں (ف۲۲)
22اور ہم نے ان کی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چاہیں (ف۲۳)
23ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام جس میں نہ بیہودگی اور گنہگاری (ف۲۴)
24اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں گے (ف۲۵) گویا وہ موتی ہیں چھپا کر رکھے گئے (ف۲۶)
25اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے (ف۲۷)
26بولے بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے (ف۲۸)
27تو اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۹) اور ہمیں لُو کے عذاب سے بچالیا (ف۳۰)
28بیشک ہم نے اپنی پہلی زندگی میں (ف۳۱) اس کی عبادت کی تھی، بیشک وہی احسان فرمانے والا مہربان ہے،
29تو اے محبوب! تم نصیحت فرماؤ (ف۳۲) کہ تم اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہو نہ مجنون،
30یا کہتے ہیں (ف۳۳) یہ شاعر ہیں ہمیں ان پر حوادثِ زمانہ کا انتظارہے (ف۳۴)
31تم فرماؤ انتظار کیے جاؤ (ف۳۵) میں بھی تمہارے انتظار میں ہوں (ف۳۶)
32کیا ان کی عقلیں انہیں یہی بتاتی ہیں (ف۳۷) یا وہ سرکش لوگ ہیں (ف۳۸)
33یا کہتے ہیں انہوں نے (ف۳۹) یہ قرآن بنالیا، بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے (ف۴۰)
34تو اس جیسی ایک بات تو لے آئیں (ف۴۱) اگر سچے ہیں،
35کیا وہ کسی اصل سے نہ بنائے گئے (ف۴۲) یا وہی بنانے والے ہیں (ف۴۳)
36یا آسمان اور زمین انہوں نے پیدا کیے (ف۴۴) بلکہ انہیں یقین نہیں (ف۴۵)
37یا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں (ف۴۶) یا وہ کڑوڑے (حاکمِ اعلیٰ) ہیں (ف۴۷)
38یا ان کے پاس کوئی زینہ ہے (ف۴۸) جس میں چڑھ کر سن لیتے ہیں (ف۴۹) تو ان کا سننے والا کوئی روشن سند لائے،
39کیا اس کو بیٹیاں اور تم کو بیٹے (ف۵۰)
40یا تم ان سے (ف۵۱) کچھ اجرت مانگتے ہہو تو وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں (ف۵۲)
41یا ان کے پاس غیب ہیں جس سے وہ حکم لگاتے ہیں (ف۵۳)
42یا کسی داؤ ں(فریب) کے ارادہ میں ہیں (ف۵۴) تو کافروں پر ہی داؤں (فریب) پڑنا ہے (ف۵۵)
43یا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے (ف۵۶) اللہ کو پاکی ان کے شرک سے،
44اور اگر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا دیکھیں تو کہیں گے تہ بہ تہ بادل ہے (ف۵۷)
45تو تم انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملیں جس میں بے ہوش ہوں گے (ف۵۸)
46جس دن ان کا داؤ ں(فریب) کچھ کام نہ دے گا اور نہ ان کی مدد ہو (ف۵۹)
47اور بیشک ظالموں کے لیے اس سے پہلے ایک عذاب ہے (ف۶۰) مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں (ف۶۱)
48اور اے محبوب! تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو (ف۶۲) کہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں ہو (ف۶۳) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو جب تم کھڑے ہو (ف۶۴)
49اور کچھ رات میں اس کی پاکی بولو اور تاروں کے پیٹھ دیتے (ف۶۵)
Chapter 53 (Sura 53)
1اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم! جب یہ معراج سے اترے (ف۲)
2تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے (ف۳)
3اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے،
4وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے (ف۴)
5انہیں (ف۵) سکھایا (ف۶) سخت قوتوں والے طاقتور نے (ف۷)
6پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا (ف۸)
7اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارہ پر تھا (ف۹)
8پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا (ف۱۰) پھر خوب اتر آیا (ف۱۱)
9تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم (ف۱۲)
10اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی (ف۱۳)
11دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا (ف۱۴)
12تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو (ف۱۵)
13اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا (ف۱۶)
14سدرة المنتہیٰ کے پاس (ف۱۷)
15اس کے پاس جنت الماویٰ ہے،
16جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (ف۱۸)
17آنکھ نہ کسی طرف پھر نہ حد سے بڑھی (ف۱۹)
18بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں (ف۲۰)
19تو کیا تم نے دیکھ ا لات اور عزیٰ
20اور اس تیسری منات کو (ف۲۱)
21کیا تم کو بیٹا اور اس کو بیٹی (ف۲۲)
22جب تو یہ سخت بھونڈی تقسیم ہے (ف۲۳)
23وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں (ف۲۴) اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری، وہ تو نرے گمان اور نفس کی خواہشوں کے پیچھے ہیں (ف۲۵) حالانکہ بیشک ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آئی (ف۲۶)
24کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے (ف۲۷)
25تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے (ف۲۸)
26اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر جبکہ اللہ اجازت دے دے جس کے لیے چاہے اور پسند فرمائے (ف۲۹)
27بیشک وہ جو آخرت پر ایمان رکھتے نہیں (ف۳۰) ملائکہ کا نام عورتوں کا سا رکھتے ہیں (ف۳۱)
28اور انہیں اس کی کچھ خبر نہیں، وہ تو نرے گمان کے پیچھے ہیں، اور بیشک گمان یقین کی جگہ کچھ کام نہیں دیتا (ف۳۲)
29تو تم اس سے منہ پھیر لو، جو ہماری یاد سے پھرا (ف۳۳) اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی (ف۳۴)
30یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے (ف۳۵) بیشک تمہارا خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی،
31اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تاکہ برائی کرنے والوں کو ان کے کیے کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے،
32وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں (ف۳۶) مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے (ف۳۷) بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے (ف۳۸) تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے، تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ (ف۳۹) وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں (ف۴۰)
33تو کیا تم نے دیکھا جو پھر گیا (ف۴۱)
34اور کچھ تھوڑا سا دیا اور روک رکھا (ف۴۲)
35کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھ رہا ہے (ف۴۳)
36کیا اسے اس کی خبر نہ آئی جو صحیفوں میں ہے موسیٰ کے (ف۴۴)
37اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجالایا (ف۴۵)
38کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی (ف۴۶)
39اور یہ کہ آدمی نہ پاے گا مگر اپنی کوشش (ف۴۷)
40اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جاے گی (ف۴۸)
41پھر اس کا بھرپور بدلا دیا جائے گا
42اور یہ کہ بیشک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے (ف۴۹)
43اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا (ف۵۰)
44اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور جِلایا (ف۵۱)
45اور یہ کہ اسی نے دو جوڑے بنائے نر اور مادہ
46نطفہ سے جب ڈالا جائے (ف۵۲)
47اور یہ کہ اسی کے ذمہ ہے پچھلا اٹھانا (دوبارہ زندہ کرنا) (ف۵۳)
48اور یہ کہ اسی نے غنیٰ دی اور قناعت دی
49او ریہ کہ وہی ستارہ شِعریٰ کا رب ہے (ف۵۴)
50اور یہ کہ اسی نے پہلی عاد کو ہلاک فرمایا (ف۵۵)
51اور ثمود کو (ف۵۶) تو کوئی باقی نہ چھوڑا
52اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو (ف۵۷) بیشک وہ ان سے بھی ظالم اور سرکش تھے (ف۵۸)
53اور اس نے الٹنے والی بستی کو نیچے گرایا (ف۵۹)
54تو اس پر چھایا جو کچھ چھایا (ف۶۰)
55تو اے سننے والے اپنے رب کی کون سی نعمتوں میں شک کرے گا،
56یہ (ف۶۱) ایک ڈر سنانے والے ہیں اگلے ڈرانے والوں کی طرح (ف۶۲)
57پاس آئی پاس آنے والی (ف۶۳)
58اللہ کے سوا اس کا کوئی کھولنے والا نہیں (ف۶۴)
59تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو (ف۶۵)
60اور ہنستے ہو اور روتے نہیں (ف۶۶)
61اور تم کھیل میں پڑے ہو،
62تو اللہ کے لیے سجدہ اور اس کی بندگی کرو (ف۶۷)
Chapter 54 (Sura 54)
1پاس آئی قيامت اور (ف۲) شق ہوگیا چاند (ف۳)
2اور اگر دیکھیں (ف۴) کوئی نشانی تو منہ پھیرتے (ف۵) اور کہتے ہیں یہ تو جادو ہے چلا آتا،
3اور انہوں نے جھٹلایا (ف۶) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے (ف۷) اور ہر کام قرار پاچکا ہے (ف۸)
4اور بیشک ان کے پاس وہ خبریں آئیں (ف۹) جن میں کافی روک تھی (ف۱۰)
5انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پھر کیا کام دیں ڈر سنانے والے،
6تو تم ان سے منہ پھیرلو (ف۱۱) جس دن بلانے والا (ف۱۲) ایک سخت بے پہچانی بات کی طرف بلائے گا (ف۱۳)
7نیچی آنکھیں کیے ہوئے قبروں سے نکلیں گے گویا وہ ٹڈی ہیں پھیلی ہوئی (ف۱۴)
8بلانے والے کی طرف لپکتے ہوئے (ف۱۵) کافر کہیں گے یہ دن سخت ہے،
9ان سے (ف۱۶) پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو ہمارے بندہ (ف۱۷) کو جھوٹا بتایا اور بولے وہ مجنون ہے اور اسے جھڑکا (ف۱۸)
10تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے،
11تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے زور کے بہتے پانی سے (ف۱۹)
12اور زمین چشمے کرکے بہا دی (ف۲۰) تو دونوں پانی (ف۲۱) مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی (ف۲۲)
13اور ہم نے نوح کو سوار کیا (ف۲۳) تختوں اور کیلوں والی پر کہ
14ہماری نگاہ کے روبرو بہتی (ف۲۴) اس کے صلہ میں (ف۲۵) جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا،
15اور ہم نے اس (ف۲۶) نشانی چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والا (ف۲۷)
16تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میری دھمکیاں،
17اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا (ف۲۸)
18عاد نے جھٹلایا (ف۲۹) تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرے ڈر دلانے کے فرمان (ف۳۰)
19بیشک ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی (ف۳۱) ایسے دن میں جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لیے رہی (ف۳۲)
20لوگوں کو یوں دے مارتی تھی کہ گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے ڈنڈ (سوکھے تنے) ہیں
21تو کیا کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،
22اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،
23ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۳۳)
24تو بولے کیا ہم اپنے میں کے ایک آدمی کی تابعداری کریں (ف۳۴) جب تو ہم ضرور گمراہ اور دیوانے ہیں (ف۳۵)
25کیا ہم سب میں سے اس پر (ف۳۶) بلکہ یہ سخت جھوٹا اترونا (شیخی باز) ہے (ف۳۸)
26بہت جلد کل جان جائیں گے (ف۳۹) کون تھا بڑا جھوٹا اترونا (شیخی باز)
27ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں انکی جانچ کو (ف۴۰) تو اے صا لح! تو راہ دیکھ (ف۴۱) اور صبر کر (ف۴۲)
28اور انہیں خبر دے دے کہ پانی ان میں حصوں سے ہے (ف۴۳) ہر حصہ پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہے (ف۴۴)
29تو انہوں نے اپنے ساتھی کو (ف۴۵) پکارا تو اس نے (ف۴۶) لے کر اس کی کونچیں کاٹ دیں (ف۴۷)
30پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان (ف۴۸)
31بیشک ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی (ف۴۹) جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی (ف۵۰)
32اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،
33لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،
34بیشک ہم نے ان پر (ف۵۱) پتھراؤ بھیجا (ف۵۲) سوائے لو ط کے گھر والوں کے (ف۵۳) ہم نے انہیں پچھلے پہر (ف۵۴) بچالیا،
35اپنے پاس کی نعمت فرماکر، ہم یونہی صلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے (ف۵۵)
36اور بیشک اس نے (ف۵۶) انہیں ہماری گرفت سے (ف۵۷) ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرمانوں میں شک کیا (ف۵۸)
37انہوں نے اسے اس کے مہمانوں سے پھسلانا چاہا (ف۵۹) تو ہم نے ان کی آنکھیں میٹ دی (چوپٹ کردیں) (ف۶۰) فرمایا چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان (ف۶۱)
38اور بیشک صبح تڑکے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیا (ف۶۲)
39تو چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،
40اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،
41اور بیشک فرعون والوں کے پاس رسول آئے (ف۶۳)
42انہوں نے ہماری سب نشانیاں جھٹلائیں (ف۶۴) تو ہم نے ان پر (ف۶۵) گرفت کی جو ایک عزت والے اور عظیم قدرت والے کی شان تھی،
43کیا (ف۲۲) تمہارے کافر ان سے بہتر ہیں (ف۶۷) یا کتابوں میں تمہاری چھٹی لکھی ہوئی ہے (ف۶۸)
44یا یہ کہتے ہیں (ف۶۹) کہ ہم سب مل کر بدلہ لے لیں گے (ف۷۰)
45اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت (ف۷۱) اور پیٹھیں پھیردیں گے (ف۷۲)
46بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے (ف۷۳) اور قیامت نہایت کڑوی اور سخت کڑوی (ف۷۴)
47بیشک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیں (ف۷۵)
48جس دن آگ میں اپنے مونہوں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا، چکھو دوزخ کی آنچ،
49بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی (ف۷۶)
50اور ہمارا کام تو ایک بات کی بات ہے جیسے پلک مارنا (ف۷۷)
51اور بیشک ہم نے تمہاری وضع کے (ف۷۸) ہلاک کردیے تو ہے کوئی دھیان کرنے والا (ف۷۹)
52اور انہوں نے جو کچھ کیا سب کتابوں میں ہے (ف۸۰)
53اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے (ف۸۱)
54بیشک پرہیزگار باغوں اور نہر میں ہیں،
55سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور (ف۸۲)
Chapter 55 (Sura 55)
1رحمٰن
2نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا (ف۲)
3انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا،
4ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا (ف۳)
5سورج اور چاند حساب سے ہیں (ف۴)
6اور سبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں (ف۵)
7اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا (ف۶) اور ترازو رکھی (ف۷)
8کہ ترازو میں بے اعتدالی نہ کرو (ف۸)
9اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ،
10اور زمین رکھی مخلوق کے لیے (ف۹)
11اس میں میوے اور غلاف والی کھجوریں (ف۱۰)
12اور بھُس کے ساتھ اناج (ف۱۱) اور خوشبو کے پھول،
13تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے (ف۱۲)
14اس نے آدمی کو بنا یا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (ف۱۳)
15اور جن کو پیدا فرمایا آگ کے لُوکے (لپیٹ) سے (ف۱۴)
16تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
17دونوں پورب کا رب اور دونوں پچھم کا رب (ف۱۵)
18تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
19اس نے دو سمندر بہائے (ف۱۶) کہ دیکھنے میں معلوم ہوں ملے ہوئے (ف۱۷)
20اور ہے ان میں روک (ف۱۸) کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا (ف۱۹)
21تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
22ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے،
23تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
24اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ (ف۲۰)
25تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
26زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے (ف۲۱)
27اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا (ف۲۲)
28تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
29اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۲۳) اسے ہر دن ایک کام ہے (ف۲۴)
30تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
31جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ (ف۲۵)
32تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
33اے جن و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے (ف۲۶)
34تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
35تم پر (ف۲۷) چھوڑی جائے گی بے دھویں کی آگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں (ف۲۸) تو پھر بدلا نہ لے سکو گے (ف۲۹)
36تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
37پھر جب آسمان پھٹ ائے گا تو گلاب کے پھول کا سا ہوجائے گا (ف۳۰) جیسے سرخ نری (بکرے کی رنگی ہوئی کھال)
38تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
39تو اس دن (ف۳۱) گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جِن سے (ف۳۲)
40تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
41مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے (ف۳۳) تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے (ف۳۴)
42تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۳۵)
43یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے ہیں،
44پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں (ف۳۶)
45تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
46اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے (ف۳۷) اس کے لیے دو جنتیں ہیں (ف۳۸)
47تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
48بہت سی ڈالوں والیاں (ف۳۹)
49تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
50ان میں دو چشمے بہتے ہیں (ف۴۰)
51تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
52ان میں ہر میوہ دو دو قسم کا،
53تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
54اور ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قناویز کا (ف۴۱) اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو (ف۴۲)
55تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
56ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں (ف۴۳) ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جِن نے،
57تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
58گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں (ف۴۴)
59تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
60نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی (ف۴۵)
61تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
62اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں (ف۴۶)
63تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
64نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں،
65تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
66ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے،
67تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
68ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں،
69تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
70ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی
71تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
72حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین (ف۴۷)
73تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
74ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ کسی جِن نے،
75تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۴۸)
76تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقش خوبصورت چاندنیوں پر،
77تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
78بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا،
Chapter 56 (Sura 56)
1جب ہولے گی وہ ہونے والی (ف۲)
2اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی،
3کسی کو پست کرنے والی (ف۳) کسی کو بلندی دینے والی (ف۴)
4جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر (ف۵)
5اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے چُورا ہوکر
6تو ہوجائیں گے جیسے روزن کی دھوپ میں غبار کے باریک ذرے پھیلے ہوئے
7اور تین قسم کے ہوجاؤ گے،
8تو دہنی طرف والے (ف۶) کیسے دہنی طرف والے (ف۷)
9اور بائیں طرف والے (ف۸) کیسے بائیں طرف والے (ف۹)
10اور جو سبقت لے گئے (ف۱۰) وہ تو سبقت ہی لے گئے (ف۱۱)
11وہی مقربِ بارگاہ ہیں،
12چین کے باغوں میں،
13اگلوں میں سے ایک گروہ
14اور پچھلوں میں سے تھوڑے (ف۱۲)
15جڑاؤ تختوں پر ہوں گے (ف۱۳)
16ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے (ف۱۴)
17ان کے گرد لیے پھریں گے (ف۱۵) ہمیشہ رہنے والے لڑکے (ف۱۶)
18کوزے اور آفتابے اور جام اور آنکھوں کے سامنے بہتی شراب
19کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے (ف۱۷)
20اور میوے جو پسند کریں
21اور پرندوں کا گوشت جو چاہیں (ف۱۸)
22اور بڑی آنکھ والیاں حوریں (ف۱۹)
23جیسے چھپے رکھے ہوئے موتی (ف۲۰)
24صلہ ان کے اعمال کا (ف۲۱)
25اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری (ف۲۲)
26ہاں یہ کہنا ہوگا سلام سلام (ف۲۳)
27اور دہنی طرف والے کیسے دہنی طرف والے (ف۲۴)
28بے کانٹوں کی بیریوں میں
29اور کیلے کے گچھوں میں (ف۲۵)
30اور ہمیشہ کے سائے میں
31اور ہمیشہ جاری پانی میں
32اور بہت سے میووں میں
33جو نہ ختم ہوں (ف۲۶) اور نہ روکے جائیں (ف۲۷)
34اور بلند بچھونوں میں (ف۲۸)
35بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا،
36تو انہیں بنایا کنواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں،
37انہیں پیار دلائیاں ایک عمر والیاں (ف۲۹)
38دہنی طرف والوں کے لیے،
39اگلوں میں سے ایک گروہ،
40اور پچھلوں میں سے ایک گروہ (ف۳۰)
41اور بائیں طرف والے (ف۳۱) کیسے بائیں طرف والے (ف۳۲)
42جلتی ہوا اور کھولتے پانی میں،
43اور جلتے دھوئیں کی چھاؤں میں (ف۳۳)
44جو نہ ٹھنڈی نہ عزت کی،
45بیشک وہ اس سے پہلے (ف۳۴) نعمتوں میں تھے
46اور اس بڑے گناہ کی (ف۳۵) ہٹ (ضد) رکھتے تھے،
47اور کہتے تھے کیا جب ہم مرجائیں اور ہڈیاں ہوجائیں تو کیا ضرور ہم اٹھائے جائیں گے،
48اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی،
49تم فرماؤ بیشک سب اگلے اور پچھلے
50ضرور اکٹھے کیے جائیں گے، ایک جانے ہوئے دن کی میعاد پر (ف۳۶)
51پھر بیشک تم اے گمراہو (ف۳۷) جھٹلانے والو
52ضرور تھوہر کے پیڑ میں سے کھاؤ گے،
53پھر اس سے پیٹ بھرو گے،
54پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے،
55پھر ایسا پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پئیں (ف۳۸)
56یہ ان کی مہمانی ہے انصاف کے دن،
57ہم نے تمہیں پیدا کیا (ف۳۹) تو تم کیوں نہیں سچ مانتے (ف۴۰)
58تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو (ف۴۱)
59کیا تم اس کا آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں (ف۴۲)
60ہم نے تم میں مرنا ٹھہرایا (ف۴۳) اور ہم اس سے ہارے نہیں،
61کہ تم جیسے اور بدل دیں اور تمہاری صورتیں وہ کردیں جس کی تمہیں حبر نہیں (ف۴۴)
62اور بیشک تم جان چکے ہو پہلی اٹھان (ف۴۵) پھر کیوں نہیں سوچتے (ف۴۶)
63تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو،
64کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں (ف۴۷)
65ہم چاہیں تو (ف۴۸) اسے روندن (پامال) کردیں (ف۴۹) پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ (ف۵۰)
66کہ ہم پر چٹی پڑی (ف۵۱)
67بلکہ ہم بے نصیب رہے،
68تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو پیتے ہو،
69کیا تم نے اسے بادل سے اتارا یا ہم ہیں اتارنے والے (ف۵۲)
70ہم چاہیں تو اسے کھاری کردیں (ف۵۳) پھر کیوں نہیں شکر کرتے (ف۵۴)
71تو بھلا بتاؤں تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو (ف۵۵)
72کیا تم نے اس کا پیڑ پیدا کیا (ف۵۶) یا ہم ہیں پیدا کرنے والے،
73ہم نے اسے (ف۵۷) جہنم کا یادگار بنایا (ف۵۸) اور جنگل میں مسافروں کا فائدہ (ف۵۹)
74تو اے محبوب تم پاکی بولو اپنے عظمت والے رب کے نام کی،
75تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں (ف۶۰)
76اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے،
77بیشک یہ عزت والا قرآن ہے (ف۶۱)
78محفوظ نوشتہ میں (ف۶۲)
79اسے نہ چھوئیں مگر باوضو (ف۶۳)
80اتارا ہوا ہے سارے جہان کے رب کا،
81تو کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو (ف۶۴)
82اور اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ جھٹلاتے ہو (ف۶۵)
83پھر کیوں نہ ہو جب جان گلے تک پہنچے
84اور تم (ف۶۶) اس وقت دیکھ رہے ہو
85اور ہم (ف۶۷) اس کے زیادہ پاس ہیں تم سے مگر تمہیں نگاہ نیں (ف۶۸)
86تو کیوں نہ ہوا اگر تمہیں بدلہ ملنا نہیں (ف۶۹)
87کہ اسے لوٹا لاتے اگر تم سچے ہو (ف۷۰)
88پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے (ف۷۱)
89تو راحت ہے اور پھول (ف۷۲) اور چین کے باغ (ف۷۳)
90اور اگر (ف۷۴) دہنی طرف والوں سے ہو
91تو اے محبوب تم پر سلام دہنی طرف والوں سے (ف۷۵)
92اور اگر (ف۷۶) جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو (ف۷۷)
93تو اس کی مہمانی کھولتا پانی،
94اور بھڑکتی آگ میں دھنسانا (ف۷۸)
95یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے،
96تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو (ف۷۹)
Chapter 57 (Sura 57)
1اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے (ف۲) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
2اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جِلاتا ہے (ف۳) اور مارتا (ف۴) اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
3وہی اول (ف۵) وہی آخر (ف۶) وہی ظاہر (ف۷) وہی باطن (ف۸) اور وہی سب کچھ جانتا ہے،
4وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے (ف۹) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، جانتا ہے جو زمین کے اندر جا تا ہے (ف۱۰) اور جو اس سے باہر نکلتا ہے (ف۱۱) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف۱۲) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۱۳) اور وہ تمہارے ساتھ ہے (ف۱۴) تم کہیں ہو، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۱۵)
5اسی کی ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، اور اللہ ہی کی طرف، سب کاموں کی رجوع،
6رات کو دن کے حصے میں لاتا ہے (ف۱۶) اور دن کو رات کے حصے میں لاتا ہے (ف۱۷) اور وہ دلوں کی بات جانتا ہے (ف۱۸)
7اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا (ف۱۹) تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے،
8اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ، حالانکہ یہ رسول تمہیں بلارہے ہیں کہ اپنے ر ب پر ایمان لاؤ (ف۲۰) اور بیشک وہ (ف۲۱) تم سے پہلے سے عہد لے چکا ہے (ف۲۲) اگر تمہیں یقین ہو،
9وہی ہے کہ اپنے بندہ پر (ف۲۳) روشن آیتیں اتارتا ہے تاکہ تمہیں اندھیریوں سے (ف۲۴) اجالے کی طرف لے جائے (ف۲۵) اور بیشک ا لله تم پر ضرور مہربان رحم والا،
10اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے (ف۲۶) تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا (ف۲۷) وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا، اور ان سب سے (ف۲۸) اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا (ف۲۹) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
11کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض (ف۳۰) تو وہ اس کے لیے دونے کرے اور اللہ کو عزت کا ثواب دے،
12جس دن تم ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو (ف۳۱) دیکھو گے کہ ان کا نور ہے (ف۳۲) ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے (ف۳۳) ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں تم ان میں ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے،
13جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمیں یک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں، کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو (ُ۳۴) وہاں نور ڈھونڈو وہ لوٹیں گے، جبھی ان کے (ف۳۵) درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی (ف۳۶) جس میں ایک دروازہ ہے (ف۳۷) اس کے اندر کی طرف رحمت (ف۳۸) اور اس کے باہر کی طرف عذاب،
14منافق (ف۳۹) مسلمانوں کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف۴۰) وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں (ف۴۱) اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے (ف۴۲) اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا (ف۴۳) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا (ف۴۴) اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا (ف۴۵)
15تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے (ف۴۶) اور نہ کھلے کافروں سے، تمہارا ٹھکانا آگ ہے، وہ تمہاری رفیق ہے، اور کیا ہی برا انجام،
16کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا (ف۴۷) اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی (ف۴۸) پھر ان پر مدت دراز ہوئی (ف۴۹) تو ان کے دل سخت ہوگئے (ف۵۰) اور ان میں بہت فاسق ہیں (ف۵۱)
17جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۵۲) بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں کہ تمہیں سمجھ ہو،
18بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا (ف۵۳) ان کے دونے ہیں اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے (ف۵۴)
19اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اور اَوروں پر (ف۵۵) گواہ اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے ان کا ثواب (ف۵۶) اور ان کا نور ہے (ف۵۷) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں،
20جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۵۸) اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا (ف۵۹) اس مینھ کی طرح جس کا اُگایاسبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا (ف۶۰) کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا) ہوگیا (ف۶۱) اور آخرت میں سخت عذاب ہے (ف۶۲) اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا (ف۶۳) اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال (ف۶۴)
21بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف (ف۶۵) جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ (ف۶۶) تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے،
22نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں (ف۶۷) اور نہ تمہاری جانوں میں (ف۶۸) مگر وہ ایک کتاب میں ہے (ف۶۹) قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں (ف۷۰) بیشک یہ (ف۷۱) اللہ کو آسان ہے،
23اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس (ف۷۲) پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو (ف۷۳) اس پر جو تم کو دیا (ف۷۴) اور اللہ کو نہیں کوئی اترونا (شیخی بگھارنے والا) بڑائی مارنے والا،
24وہ جو آپ بخل کریں (ف۷۵) اور اوروں سے بخل کو کہیں (ف۷۶) اور جو منہ پھیرے (ف۷۷) تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
25بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب (ف۷۸) اور عدل کی ترازو اتاری (ف۷۹) کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں (ف۸۰) اور ہم نے لوہا اتارا (ف۸۱) اس میں سخت آنچ (نقصان) (ف۸۲) اور لوگوں کے فائدے (ف۸۳) اور اس لیے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بے دیکھے اس کی (ف۸۴) اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قورت والا غالب ہے (ف۸۵)
26اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی (ف۸۶) تو ان میں (ف۸۷) کوئی راہ پر آیا اور ان میں بہتیرے فاسق ہیں،
27پھر ہم نے ان کے پیچھے (ف۸۸) اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی (ف۸۹) اور راہب بننا (ف۹۰) تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے ا لله کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا (ف۹۱) تو ان کے ایمان والوں کو (ف۹۲) ہم نے ان کا ثواب عطا کیا، اور ان میں سے بہتیرے (ف۹۳) فاسق ہیں،
28اے ایمان والو! (ف۹۴) اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (ف۹۵) پر ایمان لاؤ وہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں عطا فرمائے گا (ف۹۶) اور تمہارے لیے نور کردے گا (ف۹۷) جس میں چلو اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
29یہ اس لیے کہ کتاب والے کافر جان جائیں کہ اللہ کے فضل پر ان کا کچھ قابو نہیں (ف۹۸) اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
Chapter 58 (Sura 58)
1بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے (ف۲) اور اللہ سے شکایت کرتی ہے، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
2وہ جو تم میں اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ بیٹھتے ہیں (ف۳) وہ ان کی مائیں نہیں (ف۴) ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں (ف۵) اور وہ بیشک بری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں (ف۶) اور بیشک اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے،
3اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں (ف۷) پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بری بات کہہ چکے (ف۸) تو ان پر لازم ہے (ف۹) ایک بردہ آزاد کرنا (ف۱۰) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱۱) یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
4پھر جسے بردہ نہ ملے تو (ف۱۲) لگاتار دو مہینے کے روزے (ف۱۳) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱۴) پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں (ف۱۵) تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا (ف۱۶) یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو (ف۱۷) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں (ف۱۸) اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے،
5بیشک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ذلیل کیے گئے جیسے ان سے اگلوں کو ذلت دی گئی (ف۱۹) اور بیشک ہم نے روشن آیتیں اتاریں (ف۲۰) اور کافروں کے لیے خواری کا عذاب ہے،
6جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا (ف۲۱) پھر انہیں ان کے کو تک جتادے گا (ف۲۲) اللہ نے انہیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے (ف۲۳) اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
7اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲۴) جہاں کہیں تین شخصوں کی سرگوشی ہو (ف۲۵) تو چوتھا وہ موجود ہے (ف۲۶) اور پانچ کی (ف۲۷) تو چھٹا وہ (ف۲۸) اور نہ اس سے کم (ف۲۹) اور نہ اس سے زیادہ کی مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہے (ف۳۰) جہاں کہیں ہوں پھر انہیں قیامت کے دن بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
8کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں بری مشورت سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں (ف۳۱) جس کی ممانعت ہوئی تھی اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے (ف۳۲) اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں (ف۳۳) اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں تو ان لفظوں سے تمہیں مجرا کرتے ہیں جو لفظ اللہ نے تمہارے اعزاز میں نہ کہے (ف۳۴) اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں کرتا ہمارے اس کہنے پر (ف۳۵) انہیں جہنم بس ہے، اس میں دھنسیں گے، تو کیا ہی برا انجام،
9اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو (ف۳۶) اور نیکی اورپرہیزگاری کی مشورت کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے،
10وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے (ف۳۷) اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بے حکم خدا کے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۸)
11اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا (ف۳۹) اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو (ف۴۰) تو اٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا (ف۴۱) درجے بلند فرمائے گا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
12اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو (ف۴۲) یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور بہت ستھرا ہے، پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
13کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو (ف۴۳) پھر جب تم نے یہ نہ کیا، اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی (ف۴۴) تو نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو، اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
14کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے (ف۴۵) وہ نہ تم میں سے نہ ان میں سے (ف۴۶) وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں (ف۴۷)
15اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں،
16انہوں نے اپنی قسموں کو (ف۴۸) ڈھال بنالیا ہے (ف۴۹) تو اللہ کی راہ سے روکا (ف۵۰) تو ان کے لیے خواری کا عذاب ہے (ف۵۱)
17ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ دیں گے (ف۵۲) وہ دوزخی ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
18جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسے ہی قسمیں کھائیں گے جیسی تمہارے سامنے کھارہے ہیں (ف۵۳) اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ کیا (ف۵۴) سنتے ہو بیشک وہی جھوٹے ہیں (ف۵۵)
19ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اللہ کی یاد بھلا دی، وہ شیطان کے گروہ ہیں، سنتا ہے بیشک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے (ف۵۶)
20بیشک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں،
21اللہ لکھ چکا (ف۵۷) کہ ضرور میں غالب آؤں گا اور میرے رسول (ف۵۸) بیشک اللہ قوت والا عزت والا ہے،
22تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی (ف۵۹) اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں (ف۶۰) یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی (ف۶۱) اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی (ف۶۲) اور وہ اللہ سے راضی (ف۶۳) یہ اللہ کی جماعت ہے، سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے،
Chapter 59 (Sura 59)
1اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور وہ وہی عزت و حکمت والا ہے (ف۲)
2وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو (ف۳) ان کے گھروں سے نکالا (ف۴) ان کے پہلے حشر کے لیے (ف۵) تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے (ف۶) اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے تو اللہ کا حکم ان کے پاس آیا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا (ف۷) اور اس نے ان کے دلوں میں رُعب ڈالا (ف۸) کہ اپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں (ف۹) اور مسلمانوں کے ہاتھوں (ف۱۰) تو عبرت لو اے نگاہ والو،
3اور اگر نہ ہوتا کہ اللہ نے ان پر گھر سے اجڑنا لکھ دیا تھا تو دنیا ہی میں ان پر عذاب فرماتا (ف۱۱) اور ان کے لیے (ف۱۲) آخرت میں آگ کا عذاب ہے،
4یہ اس لیے کہ وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے پھٹے (جدا) رہے (ف۱۳) اور جو اللہ اور اس کے رسول سے پھٹا رہے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
5جو درخت تم نے کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیے یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا (ف۱۴) اور اس لیے کہ فاسقوں کو رسوا کرے (ف۱۵)
6اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے (ف۱۶) تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ (ف۱۷) ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے (ف۱۸) اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
7جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے (ف۱۹) وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں (ف۲۰) اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ جائے (ف۹۲۱ اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو (ف۲۲) اور جس سے منع فرمائیں باز رہو، اور اللہ سے ڈرو (ف۲۳) بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲۴)
8ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے (ف۲۵) اللہ کا فضل (ف۲۶) اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے (ف۲۷) وہی سچے ہیں (ف۲۸)
9اور جنہوں نے پہلے سے (ف۲۹) اس شہر (ف۳۰) اور ایمان میں گھر بنالیا (ف۳۱) دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے (ف۳۲) اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے (ف۳۳) اس چیز کو جو دیے گئے (ف۳۴) اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں (ف۳۵) اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو (ف۳۶) اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا (ف۳۷) تو وہی کامیاب ہیں،
10اور وہ جو ان کے بعد آئے (ف۳۸) عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ (ف۳۹) اے ہمارے رب بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے،
11کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا (ف۴۰) کہ اپنے بھائیوں کافر کتابیوں (ف۴۱) سے کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے (ف۴۲) تو ضرور ہم تمہارے ساتھ جائیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کی نہ مانیں گے (ف۴۳) اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں (ف۴۴)
12اگر وہ نکالے گئے (ف۴۵) تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے، اور ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے (ف۴۶) اگر ان کی مدد کی بھی تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر (ف۴۷) مدد نہ پائیں گے،
13بیشک (ف۴۸) ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے (ف۴۹) یہ اس لیے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (ف۵۰)
14یہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دُھسّوں (شہر پناہ) کے پیچھے، آپس میں ان کی آنچ (جنگ) سخت ہے (ف۵۱) تم انہیں ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں (ف۵۲)
15ان کی سی کہاوت جو ابھی قریب زمانہ میں ان سے پہلے تھے (ف۵۳) انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا (ف۵۴) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۵)
16شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب (ف۵۶)
17تو ان دونوں کا (ف۵۷) انجام یہ ہوا کہ وہ دونوں آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہے، اور ظالموں کو یہی سزا ہے،
18اے ایمان والو اللہ سے ڈرو (ف۵۸) اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے آگے کیا بھیجا (ف۵۹) اور اللہ سے ڈرو (ف۶۰) بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
19اور ان جیسے نہ ہو جو اللہ کو بھول بیٹھے (ف۶۱) تو اللہ نے انہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں (ف۶۲) وہی فاسق ہیں،
20دوزخ والے (ف۶۳) اور جنت والے (ف۶۴) برابر نہیں جنت والے ہی مراد کو پہنچے،
21اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے (ف۶۵) تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے (ف۶۶) اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں،
22وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر نہاں و عیاں کا جاننے والا (ف۶۷) وہی ہے بڑا مہربان رحمت والا،
23وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ (ف۶۸) نہایت پاک (ف۶۹) سلامتی دینے والا (ف۷۰) امان بخشنے والا (ف۷۱) حفاظت فرمانے والا عزت والا عظمت والا تکبر والا (ف۷۲) اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے،
24وہی ہے اللہ بنانے والا پیدا کرنے والا (ف۷۳) ہر ایک کو صورت دینے والا (ف۷۴) اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف۷۵) اس کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
Chapter 60 (Sura 60)
1اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ (ف۲) تم انہیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمہارے پاس آیا (ف۳) گھر سے جدا کرتے ہیں (ف۴) رسول کو اور تمہیں اس پر کہ تم اپنے رب پر ایمان لائے، اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا چاہنے کو تو ان سے دوستی نہ کرو تم انہیں خفیہ پیامِ محبت بھیجتے ہو، اور میں خوب جانتا ہوں جو تم چھپاؤ اور جو ظاہر کرو، اور تم میں جو ایسا کرے بیشک وہ سیدھی راہ سے بہکا،
2اگر تمہیں پائیں (ف۵) تو تمہارے دشمن ہوں گے اور تمہاری طرف اپنے ہاتھ (ف۶) اور اپنی زبانیں (ف۷) برائی کے ساتھ دراز کریں گے اور ان کی تمنا ہے کہ کسی طرح تم کافر ہوجاؤ (ف۸)
3ہرگز کام نہ آئیں گے تمہیں تمہارے رشتے اور نہ تمہاری اولاد (ف۹) قیامت کے دن، تمہیں ان سے الگ کردے گا (ف۱۰) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
4بیشک تمہارے لیے اچھی پیروی تھی (ف۱۱) ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں میں (ف۱۲) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۳) بیشک ہم بیزار ہیں تم سے اور ان سے جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہارے منکر ہوئے (ف۱۴) اور ہم میں اور تم میں دشمنی اور عداوت ظاہر ہوگئی ہمیشہ کے لیے جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں ضرور تیری مغفرت چاہوں گا (ف۱۵) اور میں اللہ کے سامنے تیر ے کسی نفع کا مالک نہیں (ف۱۶) اے ہمارے رب ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے (ف۱۷)
5اے ہمارے رب ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال (ف۱۸) اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،
6بیشک تمہارے لیے (ف۱۹) ان میں اچھی پیروی تھی (ف۲۰) اسے جو اللہ اور پچھلے دن کا امیدوار ہو (ف۲۱) اور جو منہ پھیرے (ف۲۲) تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
7قریب ہے کہ اللہ تم میں اور ان میں جو ان میں سے (ف۲۳) تمہارے دشمن ہیں دوستی کردے (ف۲۴) اور اللہ قادر ہے (ف۲۵) اور بخشنے والا مہربان ہے،
8اللہ تمہیں ان سے (ف۲۶) منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو، بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں،
9اللہ تمہیں انہی سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو (ف۲۷) اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ستمگار ہیں،
10اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں کفرستان سے اپنے گھر چھوڑ کر آئیں تو ان کا امتحان کرو (ف۲۸) اللہ ان کے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے، پھر اگر تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو انہیں کافروں کو واپس نہ دو، نہ یہ (ف۲۹) انہیں حلال (ف۳۰) نہ وہ انہیں حلال (ف۳۱) اور ان کے کافر شوہروں کو دے دو جو ان کا خرچ ہوا (ف۳۲) اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کرلو (ف۳۳) جب ان کے مہر انہیں دو (ف۳۴) اور کافرنیوں کے نکاح پر جمے نہ رہو (ف۳۵) اور مانگ لو جو تمہارا خرچ ہوا (ف۳۶) اور کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا (ف۳۷) یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تم میں فیصلہ فرماتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
11اور اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ عورتیں کافروں کی طرف نکل جائیں (ف۳۸) پھر تم کافروں کو سزا دو (ف۳۹) تو جن کی عورتیں جاتی رہی تھیں (ف۴۰) غنیمت میں سے انہیں اتنا دیدو جو ان کا خرچ ہوا تھا (ف۴۱) اور اللہ سے ڈرو جس پر تمہیں ایمان ہے،
12اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی (ف۴۲) اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں (ف۴۳) اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرانی نہ کریں گی (ف۴۴) تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو (ف۴۵) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
13اے ایمان والو ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہے (ف۴۶) وہ آخرت سے آس توڑ بیٹھے ہیں (ف۴۷) جیسے کافر آس توڑ بیٹھے قبر والوں سے (ف۴۸)
Chapter 61 (Sura 61)
1اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
2اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے (ف۲)
3کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو،
4بیشک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف) باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی (سیسہ پلائی دیوار) (ف۳)
5اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم مجھے کیوں ستاتے ہو (ف۴) حالانکہ تم جانتے ہو (ف۵) کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں (ف۶) پھر جب وہ (ف۷) ٹیڑھے ہوئے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیے (ف۸) اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نہیں دیتا (ف۹)
6اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا (ف۱۰) اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے (ف۱۱) پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کھلا جادو،
7اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۲) حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو (ف۱۳) اور ظالم لوگوں کو اللہ راہ نہیں دیتا،
8چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور (ف۱۴) اپنے مونھوں سے بجھادیں (ف۱۵) اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر،
9وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۱۶) پڑے برا مانیں مشرک،
10اے ایمان والو (ف۱۷) کیا میں بتادوں وہ تجارت جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے (ف۱۸)
11ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے (ف۱۹) اگر تم جانو (ف۲۰)
12وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور پاکیزہ محلوں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
13اور ایک نعمت تمہیں اور دے گا (ف۲۱) جو تمہیں پیاری ہے اللہ کی مدد اور جلد آنے والی فتح (ف۲۲) اور اے محبوب مسلمانوں کو خوشی سنادو (ف۲۳)
14اے ایمان والو دین خدا کے مددگار ہو جیسے (ف۲۴) عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر میری مدد کریں حواری بولے (ف۲۵) ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان لایا (ف۲۶) اور ایک گروہ نے کفر کیا (ف۲۷) تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو غالب ہوگئے (ف۲۸)
Chapter 62 (Sura 62)
1اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (ف۲) بادشاہ کمال پاکی والا عزت والا حکمت والا،
2وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا (ف۳) کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں (ف۴) اور انہیں پاک کرتے ہیں (ف۵) اور انہیں کتاب و حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں (ف۶) اور بیشک وہ اس سے پہلے (ف۷) ضرور کھلی گمراہی میں تھے (ف۸)
3اور ان میں سے (ف۹) اوروں کو (ف۱۰) پاک کرتے اور علم عطا فرماتے ہیں، جو ان اگلوں سے نہ ملے (ف۱۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
4یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۱۲)
5ان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی (ف۱۳) پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی (ف۱۴) گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے (ف۱۵) کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
6تم فرماؤ اے یہودیو! اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو اور لوگ نہیں (ف۱۶) تو مرنے کی آرزو کرو (ف۱۷) اگر تم سچے ہو (ف۱۸)
7اور وہ کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے ان کوتکوں کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں (ف۱۹) اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے،
8تم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں ملنی ہے (ف۲۰) پھر اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو تم نے کیا تھا،
9اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن (ف۲۱) تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو (ف۲۲) اور خرید و فروخت چھوڑ دو (ف۲۳) یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو،
10پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو (ف۲۴) اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ،
11اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دیے (ف۲۵) اور تمہیں خطبے میں کھڑا چھوڑ گئے (ف۲۶) تم فرماؤ وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۲۷) کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے، اور اللہ کا رزق سب سے اچھا،
Chapter 63 (Sura 63)
1جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں (ف۲) کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں (ف۳)
2اور انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا (ف۴) تو اللہ کی راہ سے روکا (ف۵) بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں (ف۶)
3یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے،
4اور جب تو انہیں دیکھے (ف۷) ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں، اور اگر بات کریں تو تُو ان کی بات غور سے سنے (ف۸) گویا وہ کڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی (ف۹) ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں (ف۱۰) وہ دشمن ہیں (ف۱۱) تو ان سے بچتے رہو (ف۱۲) اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۳)
5اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ (ف۱۴) رسول اللہ تمہارے لیے معافی چاہیں تو اپنے سر گھماتے ہیں اور تم انہیں دیکھو کہ غور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں (ف۱۵)
6ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا (ف۱۶) بیشک اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا،
7وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہوجائیں، اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے (ف۱۷) مگر منافقوں کو سمجھ نہیں،
8کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے (ف۱۸) تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے (ف۱۹) اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں (ف۲۰)
9اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے (ف۲۱) اور جو ایسا کرے (ف۲۲) تو وہی لوگ نقصان میں ہیں (ف۲۳)
10اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو (ف۲۴) قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے، اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا،
11اور ہرگز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے (ف۲۵) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
Chapter 64 (Sura 64)
1اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف (ف۲) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
2وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا تو تم میں کوئی کافر اور تم میں کوئی مسلمان (ف۳) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
3اس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری اچھی صورت بنائی (ف۴) اور اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۵)
4جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو، اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
5کیا تمہیں (ف۶) ان کی خبر نہ آئی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا (ف۷) اور اپنے کام کا وبال چکھا (ف۸) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۹)
6یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے (ف۱۰) تو بولے، کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے (ف۱۱) تو کافر ہوئے (ف۱۲) اور پھر گئے (ف۱۳) اور اللہ نے بے نیازی کو کام فرمایا، اور اللہ بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
7کافروں نے بکا کہ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے، تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہارے کوتک تمہیں جتا دیے جائیں گے، اور یہ اللہ کو آسان ہے،
8تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر (ف۱۴) جو ہم نے اتارا، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
9جس دن تمہیں اکٹھا کرے گا سب جمع ہونے کے دن (ف۱۵) وہ دن ہے ہار والوں کی ہار کھلنے کا (ف۱۶) اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے اللہ اس کی برائیاں اتاردے گا اور اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں کہ وہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
10اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ آگ والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں، اور کیا ہی برا انجام،
11کوئی مصیبت نہیں پہنچتی (ف۱۷) مگر اللہ کے حکم سے، اور جو اللہ پر ایمان لائے (ف۱۸) اللہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا (ف۱۹) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
12اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۲۰) تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف صریح پہنچا دینا ہے (ف۲۱)
13اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اللہ ہی پر ایمان والے بھروسہ کریں،
14اے ایمان والو تمہاری کچھ بی بیا ں اور بچے تمہارے دشمن ہیں (ف۲۲) تو ان سے احتیاط رکھو (ف۲۳) اور اگر معاف کرو اور درگزرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
15تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں (ف۲۴) اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے (ف۲۵)
16تو اللہ سے ڈرو جہاں تک ہوسکے (ف۲۶) اور فرمان سنو اور حکم مانو (ف۲۷) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اپنے بھلے کو، اور جو اپنی جان کے لالچ سے بچایا گیا (ف۲۸) تو وہی فلاح پانے والے ہیں،
17اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (ف۲۹) وہ تمہارے لیے اس کے دونے کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ قدر فرمانے والے حلم والا ہے
18ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت والا حکمت والا،
Chapter 65 (Sura 65)
1اے نبی (ف۲) جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو (ف۳) اور اپنے رب اللہ سے ڈرو، عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں (ف۴) مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں (ف۵) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تمہیں نہیں معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے (ف۶)
2تو جب وہ اپنی میعاد تک پہنچنے کو ہوں (ف۷) تو انہیں بھلائی کے ساتھ روک لو یا بھلائی کے ساتھ جدا کرو (ف۸) اور اپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو اور اللہ کے لیے گواہی قائم کرو (ف۹) اس سے نصیحت فرمائی جاتی ہے اسے جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو (ف۱۰) اور جو اللہ سے ڈرے (ف۱۱) اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا (ف۱۲)
3اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے (ف۱۳) بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے،
4اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی (ف۱۴) اگر تمہیں کچھ شک ہو (ف۱۵) تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی جنہیں ابھی حیض نہ آیا (ف۱۶) اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں (ف۱۷) اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی فرمادے گا،
5یہ (ف۱۸) اللہ کا حکم ہے کہ اس نے تمہاری طرف اتارا، اور جو اللہ سے ڈرے (ف۱۹) اللہ اس کی برائیاں اتار دے گا اور اسے بڑا ثواب دے گا،
6عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر (ف۲۰) اور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو (ف۲۱) اور اگر (ف۲۲) حمل والیاں ہوں تو انہیں نان و نفقہ دو یہاں تک کہ ان کے بچہ پیدا ہو (ف۲۳) پھر اگر وہ تمہارے لیے بچہ کو دودھ پلائیں تو انہیں اس کی اجرت دو (ف۲۴) اور آپس میں معقول طور پر مشورہ کرو (ف۲۵) پھر اگر باہم مضائقہ کرو (دشوار سمجھو) (ف۲۶) تو قریب ہے کہ اسے اور دودھ پلانے والی مل جائے گی،
7مقدور والا (ف۲۷) اپنے مقدور کے قابل نفقہ دے، اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا وہ اس میں سے نفقہ دے جو اسے اللہ نے دیا، اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے، قریب ہے اللہ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا (ف۲۸)
8اور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا (ف۲۹) اور انہیں بری مار دی (ف۳۰)
9تو انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کے کام انجام گھاٹا ہوا،
10اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو اللہ سے ڈرو اے عقل والو! وہ جو ایمان لائے ہو، بیشک اللہ نے تمہارے لیے عزت اتاری ہے،
11وہ رسول (ف۳۱) کہ تم پر اللہ کی روشن آیتیں پڑھتا ہے تاکہ انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۳۲) اندھیریوں سے (ف۳۳) اجالے کی طرف لے جائے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے وہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، بیشک اللہ نے اس کے لیے اچھی روزی رکھی (ف۳۴)
12اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے (ف۳۵) اور انہی کی برابر زمینیں (ف۳۶) حکم ان کے درمیان اترتا ہے (ف۳۷) تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے،
Chapter 66 (Sura 66)
1اے غیب بتا نے والے (نبی) تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وه چیز جو اللہ نے تمھارے لئے حلال کی (ف۲) اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا ٴ مہربان ہے،
2بیشک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا اتار مقرر فرمادیا (ف۳) اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
3اور جب نبی نے اپنی ایک بی بی (ف۴) سے ایک راز کی بات فرمائی (ف۵) پھر جب وہ (ف۶) اس کا ذکر کر بیٹھی اور اللہ نے اسے نبی پر ظاہر کردیا تو نبی نے اسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی (ف۷) پھر جب نبی نے اسے اس کی خبر دی بولی (ف۸) حضور کو کس نے بتایا، فرمایا مجھے علم والے خبردار نے بتایا (ف۹)
4نبی کی دونوں بیبیو! اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو (ف۱۰) ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں (ف۱۱) اور اگر ان پر زور باندھو (ف۱۲) تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے، اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں،
5ان کا رب قریب ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں کہ انہیں تم سے بہتر بیبیاں بدل دے اطاعت والیاں ایمان والیاں ادب والیاں (ف۱۳) توبہ والیاں بندگی والیاں (ف۱۴) روزہ داریں بیاہیاں اور کنواریاں (ف۱۵)
6اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ (ف۱۶) جس کے ایندھن آدمی (ف۱۷) اور پتھر ہیں (ف۱۸) اس پر سخت کرّے (طاقتور) فرشتے مقرر ہیں (ف۱۹) جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں (ف۲۰)
7اے کافرو! آج بہانے نہ بناؤ (ف۲۱) تمہیں وہی بدلہ ملے گا جو تم کرتے تھے،
8اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے (ف۲۲) قریب ہے تمہارا رب (ف۲۳) تمہاری برائیاں تم سے اتار دے اور تمہیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہیں جس دن اللہ رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو (ف۲۴) ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے دہنے (ف۲۵) عرض کریں گے، اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے (ف۲۶) اور ہمیں بخش دے، بیشک تجھے ہر چیز پر قدرت ہے،
9اے غیب بتانے والے! (نبی) (ف۲۷) کافروں پر اور منافقوں پر (ف۲۸) جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی برا انجام،
10اللہ کافروں کی مثال دیتا ہے (ف۲۹) نوح کی عورت اور لوط کی عورت، وہ ہمارے بندوں میں دو سزا وارِ (لائق) قرب بندوں کے نکاح میں تمہیں پھر انہوں نے ان سے دغا کی (ف۳۰) تو وہ اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ آئے اور فرما دیا گیا (ف۳۱) کے تم دونوں عورتیں جہنم میں جاؤ جانے والوں کے ساتھ (ف۳۲)
11اور اللہ مسلمانو ں کی مثال بیان فر ماتا ہے (ف۳۳) فرعون کی بی بی (ف۳۴) جب اس نے عرض کی، اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا (ف۳۵) اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے (ف۳۶) اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش (ف۳۷)
12اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں (ف۳۸) اور اس کی کتابوں (ف۳۹) کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں ہوئی،
Chapter 67 (Sura 67)
1بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضہ میں سارا ملک (ف۲) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
2وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو (ف۳) تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے (ف۴) اور وہی عزت والا بخشش والا ہے،
3جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا، تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے (ف۵) تو نگاہ اٹھا کر دیکھ (ف۶) تجھے کوئی رخنہ نظر آتا ہے،
4پھر دوبارہ نگاہ اٹھا (ف۷) نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی (ف۸)
5اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۹) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۱۰) اور انہیں شیطانوں کے لیے مار کیا (ف۱۱) اور ان کے لیے (ف۱۲) بھڑکتی آگ کا عذاب تیار فرمایا (ف۱۳)
6اور جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا (ف۱۴) ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور کیا ہی برا انجام،
7جب اس میں ڈالے جائیں گے اس کا رینکنا (چنگھاڑنا) سنیں گے کہ جوش مارتی ہے
8معلوم ہوتا ہے کہ شدت غضب میں پھٹ جائے گی، جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے داروغہ (ف۱۵) ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا تھا (ف۱۶)
9کہیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس ڈر سنانے والے تشریف لائے (ف۱۷) پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا اللہ نے کچھ نہیں اُتارا، تم تو نہیں مگر بڑی گمراہی میں،
10اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے (ف۱۸) تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے،
11اب اپنے گناہ کا اقرار کیا (ف۱۹) تو پھٹکار ہو دوزخیوں کو،
12بیشک جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں (ف۲۰) ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے (ف۲۱)
13اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے، وہ تو دلوں کی جانتا ہے (ف۲۲)
14کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ (ف۲۳) اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار،
15وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین رام (تابع) کر دی تو اس کے رستوں میں چلو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ (ف۲۴) اور اسی کی طرف اٹھنا ہے (ف۲۵)
16کیا تم اس سےنڈر ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسادے (ف۲۶) جبھی وہ کانپتی رہے (ف۲۷)
17یا تم نڈر ہوگئے اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تم پر پتھراؤ بھیجے (ف۲۸) تو اب جانو گے (ف۲۹) کیسا تھا میرا ڈرانا،
18اور بیشک ان سے اگلوں نے جھٹلایا (ف۳۰) تو کیسا ہوا میرا انکار (ف۳۱)
19اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندے نہ دیکھے پر پھیلاتے (ف۳۲) اور سمیٹتے انہیں کوئی نہیں روکتا (ف۳۳) سوا رحمٰن کے (ف۳۴) بیشک وہ سب کچھ دیکھتا ہے،
20یا وہ کونسا تمہارا لشکر ہے کہ رحمٰن کے مقابل تمہاری مدد کرے (ف۳۵) کافر نہیں مگر دھوکے میں (ف۳۶)
21یا کونسا ایسا ہے جو تمہیں روزی دے اگر وہ اپنی روزی روک لے (ف۳۷) بلکہ وہ سرکش اور نفرت میں ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں (ف۳۸)
22تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے (ف۳۹) زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے (ف۴۰) سیدھی راہ پر (ف۴۱)
23تم فرماؤ (ف۴۲) وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف۴۳) کتنا کم حق مانتے ہو (ف۴۴)
24تم فرماؤ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف اٹھائے جاؤ گے (ف۴۵)
25اور کہتے ہیں (ف۴۶) یہ وعدہ (ف۴۷) کب آئے گا اگر تم سچے ہو،
26تم فرماؤ یہ علم تو اللہ کے پاس ہے، اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں (ف۴۸)
27پھر جب اسے (ف۴۹) پاس دیکھیں گے کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے (ف۵۰) اور ان سے فرمادیا جائے گا (ف۵۱) یہ ہے جو تم مانگتے تھے (ف۵۲)
28تم فرماؤ (ف۵۳) بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو (ف۵۴) بلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے (ف۵۵) تو وہ کونسا ہے جو کافروں کو دکھ کے عذاب سے بچالے گا (ف۵۶)
29تم فرماؤ وہی رحمٰن ہے (ف۵۷) ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ کیا، تو اب جان جاؤ گے (ف۵۸) کون کھلی گمراہی میں ہے،
30تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے (ف۵۹) تو وہ کون ہے جو تمہیں پانی لادے نگاہ کے سامنے بہتا (ف۶۰)
Chapter 68 (Sura 68)
1قلم (ف۲) اور ان کے لکھے کی قسم (ف۳)
2تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں (ف۴)
3اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۵)
4اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے (ف۶)
5تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے (ف۷)
6کہ تم میں کون مجنون تھا،
7بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،
8تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،
9وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو (ف۸) تو وہ بھی نرم پڑجائیں،
10اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا (ف۹) ذلیل
11بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا (ف۱۰)
12بھلائی سے بڑا روکنے والا (ف۱۱) حد سے بڑھنے والا گنہگار (ف۱۲)
13درشت خُو (ف۱۳) اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا (ف۱۴)
14اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،
15جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں (ف۱۵) کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۱۶)
16قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے (ف۱۷)
17بیشک ہم نے انہیں جانچا (ف۱۸) جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا (ف۱۹) جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے (ف۲۰)
18اور انشاء اللہ نہ کہا (ف۲۱)
19تو اس پر (ف۲۲) تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا (ف۲۳) اور وہ سوتے تھے،
20تو صبح رہ گیا (ف۲۴) جیسے پھل ٹوٹا ہوا (ف۲۵)
21پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا،
22کہ تڑکے اپنی کھیتی چلو اگر تمہیں کاٹنی ہے،
23تو چلے اور آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے کہ
24ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے،
25اور تڑکے چلے اپنے اس ارادہ پر قدرت سمجھتے (ف۲۶)
26پھر جب اسے (ف۲۷) بولے بیشک ہم راستہ بہک گئے (ف۲۸)
27بلکہ ہم بے نصیب ہوئے (ف۲۹)
28ان میں جو سب سے غنیمت تھا بولا کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے (ف۳۰)
29بولے پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہم ظالم تھے،
30اب ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتا متوجہ ہوا (ف۳۱)
31بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم سرکش تھے (ف۳۲)
32امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں (ف۳۳)
33مار ایسی ہوتی ہے (ف۳۴) اور بیشک آخرت کی مار سب سے بڑی، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ف۳۵)
34بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس (ف۳۶) چین کے باغ ہیں (ف۳۷)
35کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا سا کردیں (ف۳۸)
36تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو (ف۳۹)
37کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے اس میں پڑھتے ہو،
38کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو،
39یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی (ف۴۰) کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو (ف۴۱)
40تم ان سے (ف۴۲) پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے (ف۴۳)
41یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں (ف۴۴) تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں (ف۴۵)
42جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) (ف۴۶) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے (ف۴۷) تو نہ کرسکیں گے (ف۴۸)
43نیچی نگاہیں کیے ہوئے (ف۴۹) ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے (ف۵۰) جب تندرست تھے (ف۵۱)
44تو جو اس بات کو (ف۵۲) جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو (ف۵۳) قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے (ف۵۴) جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،
45اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے (ف۵۵)
46یا تم ان سے اجرت مانگتے ہو (ف۵۶) کہ وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں (ف۵۷)
47یا ان کے پاس غیب ہے (ف۵۸) کہ وہ لکھ رہے ہیں (ف۵۹)
48تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر و (ف۶۰) اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا (ف۶۱) جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا (ف۶۲)
49اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی (ف۶۳) تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا (ف۶۴)
50تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے سزاواروں (حقداروں) میں کرلیا،
51اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں (ف۶۵) اور کہتے ہیں (ف۶۶) یہ ضرور عقل سے دور ہیں،
52اور وہ (ف۶۷) تو نہیں مگر نصیحت سارے جہاں کے لیے (ف۶۸)
Chapter 69 (Sura 69)
1وہ حق ہونے والی (ف۲)
2کیسی وہ حق ہونے والی (ف۳)
3اور تم نے کیا جانا کیسی وہ حق ہونے والی (ف۴)
4ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا،
5تو ثمود تو ہلاک کیے گئے حد سے گزری ہوئی چنگھاڑ سے (ف۵)
6اور رہے عاد وہ ہلاک کیے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے،
7وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اور آٹھ دن (ف۶) لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں (ف۷) دیکھو بچھڑے ہوئے (ف۸) گویا وہ کھجور کے ڈھنڈ (سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے،
8تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو (ف۹)
9اور فرعون اور اس سے اگلے (ف۱۰) اور الٹنے والی بستیاں (ف۱۱) خطا لائے (ف۱۲)
10تو انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کا حکم نہ مانا (ف۱۳) تو اس نے انہیں بڑھی چڑھی گرفت سے پکڑا،
11بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا (ف۱۴) ہم نے تمہیں (ف۱۵) کشتی میں سوار کیا (ف۱۶)
12کہ اسے (ف۱۷) تمہارے لیے یادگار کریں (ف۱۸) اور اسے محفوظ رکھے وہ کان کہ سن کر محفوظ رکھتا ہو (ف۱۹)
13پھرجب صور پھونک دیا جائے ایک دم،
14اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعتا ً چُورا کردیے جائیں،
15وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی (ف۲۰)
16اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا (ف۲۱)
17اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے (ف۲۲) اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے (ف۲۳)
18اس دن تم سب پیش ہو گے (ف۲۴) کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی،
19تو وہ جو اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا (ف۲۵) کہے گا لو میرے نامہٴ اعمال پڑھو،
20مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا (ف۲۶)
21تو وہ من مانتے چین میں ہے،
22بلند باغ میں،
23جس کے خوشے جھکے ہوئے (ف۲۷)
24کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا (ف۲۸)
25اور وہ جو اپنا نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (ف۲۹) کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ نہ دیا جاتا،
26اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے،
27ہائے کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی (ف۳۰)
28میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال (ف۳۱)
29میرا سب زور جاتا رہا (ف۳۲)
30اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو (ف۳۳)
31پھر اسے بھڑکتی آگ میں دھنساؤ،
32پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے (ف۳۴) اسے پُرو دو (ف۳۵)
33بیشک وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہ لاتا تھا (ف۳۶)
34اور مسکین کو کھانے دینے کی رغبت نہ دیتا (ف۳۷)
35تو آج یہاں (ف۳۸) اس کا کوئی دوست نہیں (ف۳۹)
36اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ،
37اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار (ف۴۰)
38تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،
39اور جنہیں تم نہیں دیکھتے (ف۴۱)
40بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول (ف۴۲) سے باتیں ہیں (ف۴۳)
41اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں (ف۴۴) کتنا کم یقین رکھتے ہو (ف۴۵)
42اور نہ کسی کاہن کی بات (ف۴۶) کتنا کم دھیان کرتے ہو (ف۴۷)
43اس نے اتارا ہے جو سارے جہان کا رب ہے،
44اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے (ف۴۸)
45ضرور ہم ان سے بقوت بدلہ لیتے،
46پھر ان کی رگِ دل کاٹ دیتے (ف۴۹)
47پھر تم میں کوئی ان کا بچانے والا نہ ہوتا،
48اور بیشک یہ قرآن ڈر والوں کو نصیحت ہے،
49اور ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم کچھ جھٹلانے والے ہیں،
50اور بیشک وہ کافروں پر حسرت ہے (ف۵۰)
51اور بیشک وہ یقین حق ہے (ف۵۱)
52تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کی پاکی بولو (ف۵۲)
Chapter 70 (Sura 70)
1ایک مانگنے والا وہ عذاب مانگتا ہے،
2جو کافروں پر ہونے والا ہے، اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں (ف۲)،
3وہ ہوگا اللہ کی طرف سے جو بلندیوں کا مالک ہے (ف۳)
4ملائکہ اور جبریل (ف۴) اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں (ف۵) وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے (ف۶)
5تو تم اچھی طرح صبر کرو،
6وہ اسے (ف۷) دور سمجھ رہے ہیں (ف۸)
7اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں (ف۹)
8جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی،
9اور پہاڑ ایسے ہلکے ہوجائیں گے جیسے اون (ف۱۰)
10اور کوئی دوست کسی دوست کی بات نہ پوچھے گا (ف۱۱)
11ہوں گے انہیں دیکھتے ہوئے (ف۱۲) مجرم (ف۱۳) آرزو کرے گا، کاش! اس دن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں دے دے اپنے بیٹے،
12اور اپنی جورو اور اپنا بھائی،
13اور اپنا کنبہ جس میں اس کی جگہ ہے،
14اور جتنے زمین میں ہیں سب پھر یہ بدلہ دنیا اسے بچالے،
15ہرگز نہیں (ف۱۴) وہ تو بھڑکتی آگ ہے،
16کھال اتار لینے والی بلارہی ہے (ف۱۵)
17اس کو جس نے پیٹھ دی اور منہ پھیرا (ف۱۶)
18اور جوڑ کر سینت رکھا (محفوظ کرلیا) (ف۱۷)
19بیشک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بے صبرا حریص،
20جب اسے برائی پہنچے (ف۱۸) تو سخت گھبرانے والا،
21اور جب بھلائی پہنچے (ف۱۹) تو روک رکھنے والا (ف۲۰)
22مگر نمازی،
23جو اپنی نماز کے پابند ہیں (ف۲۱)
24اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے (ف۲۲)
25اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے (ف۲۳)
26اور ہو جو انصاف کا دن سچ جانتے ہیں (ف۲۴)
27اور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈر رہے ہیں،
28بیشک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں (ف۲۵)
29اور ہو جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،
30مگر اپنی بیبیوں یا اپنے ہاتھ کے مال کنیزوں سے کہ ان پر کچھ ملامت نہیں،
31تو جو ان دو (ف۲۶) کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں (ف۲۷)
32اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں (ف۲۸)
33اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم ہیں (ف۲۹)
34اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (ف۳۰)
35یہ ہیں جن کا باغوں میں اعزاز ہوگا (ف۳۱)
36تو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں (ف۳۲)
37داہنے اور بائیں گروہ کے گروہ،
38کیا ان میں ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ (ف۳۳) چین کے باغ میں داخل کیا جائے،
39ہرگز نہیں، بیشک ہم نے انہیں اس چیز سے بنایا جسے جانتے ہیں (ف۳۴)
40تو مجھے قسم ہے اس کی جو سب پُوربوں سب پچھموں کا مالک ہے (ف۳۵) کہ ضرور ہم قادر ہیں،
41کہ ان سے اچھے بدل دیں (ف۳۶) اور ہم سے کوئی نکل کر نہیں جاسکتا (ف۳۷)
42تو انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگیوں میں پڑے اور کھیلتے ہوئے یہاں تک کہ اپنے اس (ف۳۸) دن سے ملیں جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے،
43جس دن قبروں سے نکلیں گے جھپٹتے ہوئے (ف۳۹) گویا وہ نشانیوں کی طرف لپک رہے ہیں (ف۴۰)
44آنکھیں نیچی کیے ہوئے ان پر ذلت سوار، یہ ہے ان کا وہ دن (ف۴۱) جس کا ان سے وعدہ تھا (ف۴۲)
Chapter 71 (Sura 71)
1بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ ان کو ڈرا اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آئے (ف۲)
2اس نے فرمایا اے میری قوم! میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
3کہ اللہ کی بندگی کرو (ف۳) اور اس سے ڈرو (ف۴) اور میرا حکم مانو،
4وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا (ف۵) اور ایک مقرر میعاد تک (ف۶) تمہیں مہلت دے گا (ف۷) بیشک اللہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں جاتا کسی طرح تم جانتے (ف۸)
5عرض کی (ف۹) اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا (ف۱۰)
6تو میرے بلانے سے انہیں بھاگنا ہی بڑھا (ف۱۱)
7اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا (ف۱۲) کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں (ف۱۳) اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے (ف۱۴) اور ہٹ کی (ف۱۵) اور بڑا غرور کیا (ف۱۶)
8پھر میں نے انہیں علانیہ بلایا (ف۱۷)
9پھر میں نے ان سے با علان بھی کہا (ف۱۸) اور آہستہ خفیہ بھی کہا (ف۱۹)
10تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو (ف۲۰) وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے (ف۲۱)
11تم پر شراٹے کا (موسلا دھار) مینھ بھیجے گا،
12اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا (ف۲۲) اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا (ف۲۳)
13تمہیں کیا ہوا اللہ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے (ف۲۴)
14حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح بنایا (ف۲۵)
15کیا تم نہیں دیکھتے اللہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک،
16اور ان میں چاند کو روشن کیا (ف۲۶) اور سورج کو چراغ (ف۲۷)
17اور اللہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اُگایا (ف۲۸)
18پھر تمہیں اسی میں لے جائے گا (ف۲۹) اور دبارہ نکالے گا (ف۳۰)
19اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا،
20کہ اس کے وسیع راستوں میں چلو،
21نوح نے عرض کی، اے میرے رب! انہوں نے میری نافرمانی کی (ف۳۱) اور (ف۳۲) ایسے کے پیچھے ہولیے جیسے اس کے مال اور اولاد نے نقصان ہی بڑھایا (ف۳۳)
22اور (ف۳۴) بہت بڑا داؤ ں کھیلے (ف۳۵)
23اور بولے (ف۳۶) ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو (ف۳۷) اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (ف۳۸)
24اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا (ف۳۹) اور تو ظالموں کو (ف۴۰) زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی (ف۴۱)
25اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے (ف۴۲) پھر آگ میں داخل کیے گئے (ف۴۳) تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا (ف۴۴)
26اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ،
27بیشک اگر تو انہیں رہنے دے گا (ف۴۵) تو تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر (ف۴۶)
28اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف۴۷) اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو، اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی (ف۴۸)
Chapter 72 (Sura 72)
1تم فرماؤ (ف۲) مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے (ف۳) میرا پڑھنا کان لگا کر سنا (ف۴) تو بولے (ف۵) ہم نے ایک عجیب قرآن سنا (ف۶)
2کہ بھلائی کی راہ بتا تا ہے (ف۷) تو ہم اس پر ایمان لائے، اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کریں گے،
3اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے نہ اس نے عورت اختیار کی اور نہ بچہ (ف۸)
4اور یہ کہ ہم میں کا بے وقوف اللہ پر بڑھ کر بات کہتا تھا (ف۹)
5اور یہ کہ ہمیں خیال تھا کہ ہرگز آدمی اور جِن اللہ پر جھوٹ نہ باندھیں گے (ف۱۰)
6اور یہ کہ آدمیوں میں کچھ مرد جنوں کے کچھ مردوں کے پناہ لیتے تھے (ف۱۱) تو اس سے اور بھی ان کا تکبر بڑھا،
7اور یہ کہ انہوں نے (ف۱۲) گمان کیا جیسا تمہیں گمان ہے (ف۱۳) کہ اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا،
8اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا (ف۱۴) تو اسے پایا کہ (ف۱۵) سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں سے بھردیا گیا ہے (ف۱۶)
9اور یہ کہ ہم (ف۱۷) پہلے آسمان میں سننے کے لیے کچھ موقعوں پر بیٹھا کرتے تھے، پھر اب (ف۱۸) جو کوئی سنے وہ اپنی تاک میں آگ کا لُوکا (لپٹ) پائے (ف۱۹)
10اور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ (ف۲۰) زمین والوں سے کوئی برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے یا ان کے نے کوئی بھلائی چاہی ہے،
11اور یہ کہ ہم میں (ف۲۱) کچھ نیک ہیں (ف۲۲) اور کچھ دوسری طرح کے ہیں، ہم کئی راہیں پھٹے ہوئے ہیں (ف۲۳)
12اور یہ کہ ہم کو یقین ہوا کہ ہر گز زمین اللہ کے قابو سے نہ نکل سکیں گے اور نہ بھاگ کر اس کے قبضہ سے باہر ہوں،
13اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سنی (ف۲۴) اس پر ایمان لائے، تو جو اپنے رب پر ایمان لائے اسے نہ کسی کمی کا خوف (ف۲۵) اور نہ زیادگی کا (ف۲۶)
14اور یہ کہ ہم میں کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ظالم (ف۲۷) تو جو اسلام لائے انہوں نے بھلائی سوچی (ف۲۸)
15اور رہے ظالم (ف۲۹) وہ جہنم کے ایندھن ہوئے (ف۳۰)
16اور فرماؤ کہ مجھے یہ وحی ہوئی ہے کہ اگر وہ (ف۳۱) راہ پر سیدھے رہتے (ف۳۲) تو ضرور ہم انہیں وافر پانی دیتے (ف۳۳)
17کہ اس پر انہیں جانچیں (ف۳۴) اور جو اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے (ف۳۵) وہ اسے چڑھتے عذاب میں ڈالے گا (ف۳۶)
18اور یہ کہ مسجدیں (ف۳۷) اللہ ہی کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو (ف۳۸)
19اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ (ف۳۹) اس کی بندگی کرنے کھڑا ہوا (ف۴۰) تو قریب تھا کہ وہ جن اس پر ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہوجائیں (ف۴۱)
20تم فرماؤ میں تو اپنے رب ہی کی بندگی کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتا،
21تم فرماؤ میں تمہارے کسی برے بھلے کا مالک نہیں،
22تم فرماؤ ہرگز مجھے اللہ سے کوئی نہ بچائے گا (ف۴۲) اور ہرگز اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤں گا،
23مگر اللہ کے پیام پہنچاتا اور اس کی رسالتیں (ف۴۳) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے (ف۴۴) تو بیشک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں،
24یہاں تک کہ جب دیکھیں گے (ف۴۵) جو وعدہ دیا جاتا ہے تو اب جان جائیں گے کہ کس ک مددگار کمزور اور کس کی گنتی کم (ف۴۶)
25تم فرماؤ میں نہیں جانتا آیا نزدیک ہے وہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا میرا رب اسے کچھ وقفہ دے گا (ف۴۷)
26غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر (ف۴۸) کسی کو مسلط نہیں کرتا (ف۴۹)
27سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے (ف۵۰) کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرر کر دیتا ہے (ف۵۱)
28تا کہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیام پہنچا دیے اور جو کچھ ان کے پاس سب اس کے علم میں ہے اور اس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے (ف۵۲)
Chapter 73 (Sura 73)
1اے جھرمٹ مارنے والے (ف۲)
2رات میں قیام فرما (ف۳) سوا کچھ رات کے (ف۴)
3آدھی رات یا اس سے کچھ تم کرو،
4یا اس پر کچھ بڑھاؤ (ف۵) اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو (ف۶)
5بیشک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے (ف۷)
6بیشک رات کا اٹھنا (ف۸) وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہے (ف۹) اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے (ف۱۰)
7بیشک دن میں تو تم کو بہت سے کام ہیں (ف۱۱)
8اور اپنے رب کا نام یاد کرو (ف۱۲) اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو (ف۱۳)
9وہ پورب کا رب اور پچھم کا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ (ف۱۴)
10اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انہیں اچھی طرح چھوڑ دو (ف۱۵)
11اور مجھ پر چھوڑو ان جھٹلانے والے مالداروں کو اور انہیں تھوڑی مہلت دو (ف۱۶)
12بیشک ہمارے پاس (ف۱۷) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ،
13اور گلے میں پھنستا کھانا اور دردناک عذاب (ف۱۸)
14جس دن تھرتھرائیں گے زمین اور پہاڑ (ف۱۹) اور پہاڑ ہوجائیں گے ریتے کا ٹیلہ بہتا ہوا،
15بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے (ف۲۰) کہ تم پر حاضر ناظر ہیں (ف۲۱) جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے (ف۲۲)
16تو فرعون نے اس رسول کا حکم نہ مانا تو ہم نے اسے سخت گرفت سے پکڑا،
17پھر کیسے بچو گے (ف۲۳) اگر (ف۲۴) کفر کرو اس دن (ف۲۵) جو بچوں کو بوڑھا کردے گا (ف۲۴)
18آسمان اس کے صدمے سے پھٹ جائے گا، اللہ کا وعدہ ہوکر رہنا،
19بیشک یہ نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے (ف۲۷)
20بیشک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم قیام کرتے ہو کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی آدمی رات، کبھی تہائی اور ایک جماعت تمہارے ساتھ والی (ف۲۸) اور اللہ رات اور دن کا اندازہ فرماتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اے مسلمانو! تم سے رات کا شمار نہ ہوسکے گا (ف۲۹) تو اس نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو (ف۳۰) اسے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ تم میں سے بیمار ہوں گے اور کچھ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل تلاش کرنے (ف۳۱) اور کچھ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوں گے (ف۳۲) تو جتنا قرآن میسر ہو پڑھو (ف۳۳) اور نماز قائم رکھو (ف۳۴) اور زکوٰة دو اور اللہ کو اچھا قرض دو (ف۳۵) اور اپنے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤ گے، اور اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Chapter 74 (Sura 74)
1اے بالا پوش اوڑھنے والے! (ف۲)
2کھڑے ہوجاؤ (ف۳) پھر ڈر سناؤ (ف۴)
3اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو (ف۵)
4اور اپنے کپڑے پاک رکھو (ف۶)
5اور بتوں سے دور رہو،
6اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو (ف۷)
7اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو (ف۸)
8پھر جب صور پھونکا جائے گا (ف۹)
9تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے،
10کافروں پر آسان نہیں (ف۱۰)
11اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا (ف۱۱)
12اور اسے وسیع مال دیا (ف۱۲)
13اور بیٹے دیے سامنے حاضر رہتے (ف۱۳)
14اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں (ف۱۴)
15پھر یہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں (ف۱۵)
16ہرگز نہیں (ف۱۶) وہ تو میری آیتوں سے عناد رکھتا ہے،
17قریب ہے کہ میں اسے آگ کے پہاڑ صعود پر چڑھاؤں،
18بیشک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی
19تو اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،
20پھر اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،
21پھر نظر اٹھا کر دیکھا،
22پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا،
23پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا،
24پھر بولا یہ تو وہی جادو ہے اگلوں سے سیکھا،
25یہ نہیں مگر آدمی کا کلام (ف۱۷)
26کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں،
27اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے،
28نہ چھوڑے نہ لگی رکھے (ف۱۸)
29آدمی کی کھال اتار لیتی ہے (ف۱۹)
30اس پر اُنیس داروغہ ہیں (ف۲۰)
31اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو (ف۲۱) اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے (ف۲۲) اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے (ف۲۳) اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) (ف۲۴) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ (ف۲۵) تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت،
32ہاں ہاں چاند کی قسم،
33اور رات کی جب پیٹھ پھیرے،
34اور صبح کی جب اجا لا ڈالے (ف۲۶)
35بیشک دوزخ بہت بڑی چیزوں میں کی ایک ہے،
36آدمیوں کو ڈراؤ،
37اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے (ف۲۷) یا پیچھے رہے (ف۲۸)
38ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے،
39مگر دہنی طرف والے (ف۲۹)
40باغوں میں پوچھتے ہیں،
41مجرموں سے،
42تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،
43وہ بولے ہم (ف۳۰) نماز نہ پڑھتے تھے،
44اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے (ف۳۱)
45اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے،
46اور ہم انصاف کے دن کو (ف۳۲) جھٹلاتے رہے،
47یہاں تک کہ ہمیں موت آئی،
48تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی (ف۳۳)
49تو انہیں کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں (ف۳۴)
50گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں،
51کہ شیر سے بھاگے ہوں (ف۳۵)
52بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں (ف۳۶)
53ہرگز نہیں بلکہ ان کو آخرت کا ڈر نہیں (ف۳۷)
54ہاں ہاں بیشک وہ (ف۳۸) نصیحت ہے،
55تو جو چاہے اس سے نصیحت لے،
56اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا،
Chapter 75 (Sura 75)
1روزِ قیامت کی قسم! یاد فرماتا ہوں،
2اور اس جان کی قسم! جو اپنے اوپر ملامت کرے (ف۲)
3کیا آدمی (ف۳) یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے،
4کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنادیں (ف۴)
5بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بدی کرے (ف۵)
6پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہوگا،
7پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی (ف۶)
8اور چاند کہے گا (ف۷)
9اور سورج اور چاند ملادیے جائیں گے (ف۸)
10اس دن آدمی کہے گا کدھر بھاگ کر جاؤں (ف۹)
11ہرگز نہیں کوئی پناہ نہیں،
12اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے (ف۱۰)
13اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا جتادیا جائے گا (ف۱۱)
14بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے،
15اور اگر اس کے پاس جتنے بہانے ہوں سب لا ڈالے،
16جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو (ف۱۲)
17بیشک اس کا محفوظ کرنا (ف۱۳) اور پڑھنا (ف۱۴) ہمارے ذمہ ہے،
18تو جب ہم اسے پڑھ چکیں (ف۱۵) اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو (ف۱۶)
19پھر بیشک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے،
20کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز دوست رکھتے ہو (ف۱۷)
21اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو،
22کچھ منہ اس دن (ف۱۸) تر و تازہ ہوں گے (ف۱۹)
23اپنے رب کا دیکھتے (ف۲۰)
24اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے (ف۲۱)
25سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ کی جائے گی جو کمر کو توڑ دے (ف۲۲)
26ہاں ہاں جب جان گلے کو پہنچ جائے گی (ف۲۳)
27اور کہیں گے (ف۲۴) کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے (ف۲۵)
28سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے (ف۲۷)
29اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی (ف۲۸)
30اس دن تیرے رب ہی کی طرف ہانکنا ہے (ف۱۹)
31اس نے (ف۳۰) نہ تو سچ مانا (ف۳۱) اور نہ نماز پڑھی،
32ہاں جھٹلایا اور منہ پھیرا (ف۳۲)
33پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا (ف۳۳)
34تیری خرابی ا ٓ لگی اب آ لگی،
35پھر تیری خرابی آ لگی اب آ لگی، (ف۳۴)
36کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا (ف۳۵)
37کیا وہ ایک بوند نہ تھا اس منی کا کہ گرائی جائے (ف۳۶)
38پھر خون کی پھٹک ہوا تو اس نے پیدا فرمایا (ف۳۷) پھر ٹھیک بنایا (ف۳۸)
39تو اس سے (ف۳۹) دو جوڑ بنائے (ف۴۰) مرد اور عورت،
40کیا جس نے یہ کچھ کیا وہ مردے نہ جِلا سکے گا،
Chapter 76 (Sura 76)
1بیشک آدمی پر (ف۲) ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں اس کا نام بھی نہ تھا (ف۳)
2بیشک ہم نے آدمی کو کیا ملی ہوئی منی سے (ف۴) کہ وہ اسے جانچیں (ف۵) تو اسے سنتا دیکھتا کردیا (ف۶)
3بیشک ہم نے اسے راہ بتائی (ف۷) یا حق مانتا (ف۸) یا ناشکری کرتا (ف۹)
4بیشک ہم نے کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہیں زنجیریں (ف۱۰) اور طوق (ف۱۱) اور بھڑکتی آگ (ف۱۲)
5بیشک نیک پئیں گے اس جام میں سے جس کی ملونی کافور ہے وہ کافور کیا ایک چشمہ ہے (ف۱۳)
6جس میں سے اللہ کے نہایت خاص بندے پئیں گے اپنے محلوں میں اسے جہاں چاہیں بہا کر لے جائیں گے (ف۱۴)
7اپنی منتیں پوری کرتے ہیں (ف۱۵) اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی (ف۱۶) پھیلی ہوئی ہے (ف۱۷)
8اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر (ف۱۸) مسکین اور یتیم اور اسیر کو،
9ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتےہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے،
10بیشک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے (ف۱۹)
11تو انہیں اللہ نے اس دن کے شر سے بچالیا اور انہیں تازگی اور شادمانی دی،
12اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صلہ میں دیے،
13جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے، نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ ٹھٹر (سخت سردی) (ف۲۰)
14اور اس کے (ف۲۱) سائے ان پر جھکے ہوں گے اور اس کے گچھے جھکا کر نیچے کردیے گئے ہوں گے (ف۲۲)
15اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا جو شیشے کے مثل ہورہے ہوں گے،
16کیسے شیشے چاندی کے (ف۲۳) ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا (ف۲۴)
17اور اس میں وہ جام پلائے جائیں گے (ف۲۵) جس کی ملونی ادرک ہوگی (ف۲۶)
18وہ ادرک کیا ہے جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہتے ہیں (ف۲۷)
19اور ان کے آس پاس خدمت میں پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے (ف۲۸) جب تو انہیں دیکھے تو انہیں سمجھے کہ موتی ہیں بکھیرے ہوئے (ف۲۹)
20اور جب تو ادھر نظر اٹھائے ایک چین دیکھے (ف۳۰) اور بڑی سلطنت (ف۳۱)
21ان کے بدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے (ف۳۲) اور قنا ویز کے (ف۳۳) اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے گئے (ف۳۴) اور انہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی (ف۳۵)
22ان سے فرمایا جائے گا یہ تمہارا صلہ ہے (ف۳۶) اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی (ف۳۷)
23بیشک ہم نے تم پر (ف۳۸) قرآن بتدریج اتارا (ف۳۹)
24تو اپنے رب کے حکم پر صابر رہو (ف۴۰) اور ان میں کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو (ف۴۱)
25اور اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو (ف۴۲)
26اور کچھ میں اسے سجدہ کرو (ف۴۳) اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو (ف۴۴)
27بیشک یہ لوگ (ف۴۵) پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز رکھتے ہیں (ف۴۶) اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں (ف۴۷)
28ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں (ف۴۸) ان جیسے اور بدل دیں (ف۴۹)
29بیشک یہ نصیحت ہے (ف۵۰) تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے (ف۵۱)
30اور تم کیا چاہو مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۵۲) بیشک وہ علم و حکمت والا ہے،
31اپنی رحمت میں لیتا ہے (ف۵۳) جسے چاہے (ف۵۴) اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے (ف۵۵)
Chapter 77 (Sura 77)
1قسم ان کی جو بھیجی جاتی ہیں لگاتار (ف۲)
2پھر زور سے جھونکا دینے والیاں،
3پھر ابھار کر اٹھانے والیاں (ف۳)
4پھر حق ناحق کو خوب جدا کرنے والیاں،
5پھر ان کی قسم جو ذکر کا لقا کرتی ہیں (ف۴)
6حجت تمام کرنے یا ڈرانے کو،
7بیشک جس بات کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (ف۵) ضرور ہونی ہے (ف۶)
8پھر جب تارے محو کردیے جائیں،
9اور جب آسمان میں رخنے پڑیں،
10اور جب پہاڑ غبار کرکے اڑا دیے جا ئیں،
11اور جب رسولوں کا وقت آئے (ف۷)
12کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے،
13روز فیصلہ کے لیے،
14اور تو کیا جانے وہ روز فیصلہ کیا ہے (ف۸)
15جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی (ف۹)
16کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہ فرمایا (ف۱۰)
17پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے (ف۱۱)
18مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں،
19اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
20کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا (ف۱۲)
21پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا (ف۱۳)
22ایک معلوم اندازہ تک (ف۱۴)
23پھر ہم نے اندازہ فرمایا، تو ہم کیا ہی اچھے قادر (ف۱۵)
24اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
25کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ کیا،
26تمہارے زندوں اور مردوں کی (ف۱۶)
27اور ہم نے اس میں اونچے اونچے لنگر ڈالے (ف۱۷) اور ہم نے تمہیں خوب میٹھا پانی پلایا (ف۱۸)
28اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی (ف۱۹)
29چلو اس کی طرف (ف۲۰) جسے جھٹلاتے تھے،
30چلو اس دھوئیں کے سائے کی طرف جس کی تین شاخیں (ف۲۱)
31نہ سایہ دے (ف۲۲) نہ لپٹ سے بچائے (ف۲۳)
32بیشک دوزخ چنگاریاں اڑاتی ہے (ف۲۴)
33جیسے اونچے محل گویا وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں،
34اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
35یہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکیں گے (ف۲۵)
36اور نہ انہیں اجازت ملے کہ عذر کریں (ف۲۶)
37اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
38یہ ہے فیصلہ کا دن، ہم نے تمہیں جمع کیا (ف۲۷) اور سب اگلوں کو (ف۲۸)
39اب اگر تمہارا کوئی داؤ ہو تو مجھ پر چل لو (ف۲۹)
40اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
41بیشک ڈر والے (ف۳۰) سایوں اور چشموں میں ہیں،
42اور میووں میں جو ان کا جی چاہے (ف۳۱)
43کھاؤ اور پیو رچتا ہوا (ف۳۲) اپنے اعمال کا صلہ (ف۳۳)
44بیشک نیکوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں،
45اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی (ف۳۴)
46کچھ دن کھالو اور برت لو (ف۳۵) ضرور تم مجرم ہو (ف۳۶)
47اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
48اور جب ان سے کہا جائے کہ نماز پڑھو تو نہیں پڑھتے،
49اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
50پھر اس (ف۳۷) کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے (ف۳۸)
Chapter 78 (Sura 78)
1یہ (ف۲) آپس میں کاہے کی پوچھ گچھ کررہے ہیں (ف۳)
2بڑی خبر کی (ف۴)
3جس میں وہ کئی راہ ہیں (ف۵)
4ہاں ہاں اب جائیں گے،
5پھر ہاں ہاں جان جائیں گے (ف۶)
6کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا (ف۷)
7اور پہاڑوں کو میخیں (ف۸)
8اور تمہیں جوڑے بنایا (ف۹)
9اور تمہاری نیند کو آرام کیا (ف۱۰)
10اور رات کو پردہ پوش کیا (ف۱۱)
11اور دن کو روزگار کے لیے بنایا (ف۱۲)
12اور تمہارے اوپر سات مضبوط چنائیاں چنیں (تعمیر کیں) (ف۱۳)
13اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا (ف۱۴)
14اور پھر بدلیوں سے زور کا پانی اتارا،
15کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ،
16اور گھنے باغ (ف۱۵)
17بیشک فیصلہ کا دن (ف۱۶) ٹھہرا ہوا وقت ہے،
18جس دن صور پھونکا جائے گا (ف۱۷) تو تم چلے آؤ گے (ف۱۸) فوجوں کی فوجیں،
19اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا (ف۱۹)
20اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا،
21بیشک جہنم تاک میں ہے،
22سرکشوں کا ٹھکانا،
23اس میں قرنوں (مدتوں) رہیں گے (ف۲۰)
24اس میں کسی طرح کی ٹھنڈک کا مزہ نہ پائیں گے اور نہ کچھ پینے کو،
25مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں کا جلتا پیپ،
26جیسے کو تیسا بدلہ (ف۲۱)
27بیشک انہیں حساب کا خوف نہ تھا (ف۲۲)
28اور انہوں نے ہماری آیتیں حد بھر جھٹلائیں،
29اور ہم نے (ف۲۳) ہر چیز لکھ کر شمار کر رکھی ہے (ف۲۴)
30اب چکھو کہ ہم تمہیں نہ بڑھائیں گے مگر عذاب،
31بیشک ڈر والوں کو کامیابی کی جگہ ہے (ف۲۵)
32باغ ہیں (ف۲۶) اور انگور،
33اور اٹھتے جوبن والیاں ایک عمر کی،
34اور چھلکتا جام (ف۲۷)
35جس میں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں نہ جھٹلانا (ف۲۸)
36صلہ تمہارے رب کی طرف سے (ف۲۹) نہایت کافی عطا،
37وہ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے رحمن کہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے (ف۳۰)
38جس دن جبریل کھڑا ہوگا اور سب فرشتے پرا باندھے (صفیں بنائے) کوئی نہ بول سکے گا (ف۳۱) مگر جسے رحمن نے اذن دیا (ف۳۲) اور اس نے ٹھیک بات کہی (ف۳۳)
39وہ سچا دن ہے اب جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ بنالے (ف۳۴)
40ہم تمہیں (ف۳۵) ایک عذاب سے ڈراتے ہیں کہ نزدیک آگیا (ف۳۶) جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۳۷) اور کافر کہے گا ہائے میں کسی طرح خاک ہوجاتا (ف۳۸)
Chapter 79 (Sura 79)
1قسم ان کی (ف۲) کہ سختی سے جان کھینچیں (ف۳)
2اور نرمی سے بند کھولیں) (ف۴)
3اور آسانی سے پیریں (ف۵)
4پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں (ف۶)
5پھر کام کی تدبیر کریں (ف۷)
6کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی (ف۸)
7اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی (ف۹)
8کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے،
9آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے (ف۱۰)
10کافر (ف۱۱) کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے (ف۱۲)
11کیا ہم جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے (ف۱۳)
12بولے یوں تو یہ پلٹنا تو نرا نقصان ہے (ف۱۴)
13تو وہ (ف۱۵) نہیں مگر ایک جھڑکی (ف۱۶)
14جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے (ف۱۷)
15کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۱۸)
16جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں (ف۱۹) ندا فرمائی،
17کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا (ف۲۰)
18اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو (ف۲۱)
19اور تجھے تیرے رب کی طرف (ف۲۲) راہ بتاؤں کہ تو ڈرے (ف۲۳)
20پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی (ف۲۴)
21اس پر اس نے جھٹلایا (ف۲۵) اور نافرمانی کی،
22پھر پیٹھ دی (ف۲۶) اپنی کوشش میں لگا (ف۲۷)
23تو لوگوں کو جمع کیا (ف۲۸) پھر پکارا،
24پھر بولا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں (ف۲۹)
25تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا (ف۳۰)
26بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے (ف۳۱)
27کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا (ف۳۲) مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا،
28اس کی چھت اونچی کی (ف۳۳) پھر اسے ٹھیک کیا (ف۳۴)
29اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی (ف۳۵)
30اور اس کے بعد زمین پھیلائی (ف۳۶)
31اس میں سے (ف۳۷) اس کا پانی اور چارہ نکا لا (ف۳۸)
32اور پہاڑوں کو جمایا (ف۳۹)
33تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کو،
34پھر جب آئے گی وہ عام مصیبت سب سے بڑی (ف۴۰)
35اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی (ف۴۱)
36اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی (ف۴۲)
37تو وہ جس نے سرکشی کی (ف۴۳)
38اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی (ف۴۴)
39تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے،
40اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا (ف۴۵) اور نفس کو خواہش سے روکا (ف۴۶)
41تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے (ف۴۷)
42تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے،
43تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق (ف۴۸)
44تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے،
45تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے،
46گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے (ف۴۹) دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،
Chapter 80 (Sura 80)
1تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا (ف۲)
2اس پر کہ اس کے پاس وہ نابینا حاضر ہوا (ف۳)
3اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ ستھرا ہو (ف۴)
4یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے،
5وہ جو بے پرواہ بنتا ہے (ف۵)
6تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو (ف۶)
7اور تمہارا کچھ زیاں نہیں اس میں کہ وہ ستھرا نہ ہو (ف۷)
8اور وہ جو تمہارے حضور ملکتا (ناز سے دوڑتا ہوا) آتا (ف۸)
9اور وہ ڈر رہا ہے (ف۹)
10تو اسے چھوڑ کر اور طرف مشغول ہوتے ہو،
11یوں نہیں (ف۱۰) یہ تو سمجھانا ہے (ف۱۱)
12تو جو چاہے اسے یا د کرے (ف۱۲)
13ان صحیفوں میں کہ عزت والے ہیں (ف۱۳)
14بلندی والے (ف۱۴) پاکی والے (ف۱۵)
15ایسوں کے ہاتھ لکھے ہوئے،
16جو کرم والے نکوئی والے (ف۱۶)
17آدمی مارا جائیو کیا ناشکر ہے (ف۱۷)
18اسے کاہے سے بنایا،
19پانی کی بوند سے اسے پیدا فرمایا، پھر اسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھا (ف۱۸)
20پھر اسے راستہ آسان کیا (ف۱۹)
21پھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا (ف۲۰)
22پھر جب چاہا اسے باہر نکالا (ف۲۱)
23کوئی نہیں، اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکم ہوا تھا (ف۲۲)
24تو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے (ف۲۳)
25کہ ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا (ف۲۴)
26پھر زمین کو خوب چیرا،
27تو اس میں اُگایا اناج،
28اور انگور اور چارہ،
29اور زیتون اور کھجور،
30اور گھنے باغیچے،
31اور میوے اور دُوب (گھاس)
32تمہارے فائدے کو اور تمہارے چوپایوں کے،
33پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ (ف۲۵)
34اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی،
35اور ماں اور باپ،
36اور جُورو اور بیٹوں سے (ف۲۶)
37ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے (ف۲۷)
38کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے (ف۲۸)
39ہنستے خوشیاں مناتے (ف۲۹)
40اور کتنے مونہوں پر اس دن گرد پڑی ہوگی،
41ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے (ف۳۰)
42یہ وہی ہیں کافر بدکار،
Chapter 81 (Sura 81)
1جب دھوپ لپیٹی جائے (ف۲)
2اور جب تارے جھڑ پڑیں (ف۳)
3اور جب پہاڑ چلائے جائیں (ف۴)
4اور جب تھلکی (گابھن) اونٹنیاں (ف۵) چھوٹی پھریں (ف۶)
5اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں (ف۷)
6اور جب سمندر سلگائے جائیں (ف۸)
7اور جب جانوں کے جوڑ بنیں (ف۹)
8اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے (ف۱۰)
9کس خطا پر ماری گئی (ف۱۱)
10اور جب نامہٴ اعمال کھولے جائیں،
11اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے (ف۱۲)
12اور جب جہنم بھڑکایا جائے (ف۱۳)
13اور جب جنت پاس لائی جائے (ف۱۴)
14ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی (ف۱۵)
15تو قسم ہے ان (ف۱۶) کی جو الٹے پھریں،
16سیدھے چلیں تھم رہیں (ف۱۷)
17اور رات کی جب پیٹھ دے (ف۱۸)
18اور صبح کی جب دم لے (ف۱۹)
19بیشک یہ (ف۲۰) عزت والے رسول (ف۲۱) کا پڑھنا ہے،
20جو قوت والا ہے مالک عرش کے حضور عزت والا وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے (ف۲۲)
21امانت دار ہے (ف۲۳)
22اور تمہارے صاحب (ف۲۴) مجنون نہیں (ف۲۵)
23اور بیشک انہوں نے اسے (ف۲۶) روشن کنارہ پر دیکھا (ف۲۷)
24اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں،
25اور قرآن، مردود شیطان کا پڑھا ہوا نہیں،
26پھر کدھر جاتے ہو (ف۲۸)
27وہ تو نصیحت ہی ہے سارے جہان کے لیے،
28اس کے لیے جو تم میں سیدھا ہونا چاہے (ف۲۹)
29اور تم کیا چا ہو مگر یہ کہ چاہے اللہ سارے جہان کا رب،
Chapter 82 (Sura 82)
1جب آسمان پھٹ پڑے،
2اور جب تارے جھڑ پڑیں،
3اور جب سمندر بہادیے جائیں (ف۲)
4اور جب قبریں کریدی جائیں (ف۳)
5ہر جان، جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا (ف۴) اور جو پیچھے (ف۵)
6اے آدمی! تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے (ف۶)
7جس نے تجھے پیدا کیا (ف۷) پھر ٹھیک بنایا (ف۸) پھر ہموار فرمایا (ف۹)
8جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دیا (ف۱۰)
9کوئی نہیں (ف۱۱) بلکہ تم انصاف ہونے کو جھٹلانتے ہو (ف۱۲)
10اور بیشک تم پر کچھ نگہبان ہیں (ف۱۳)
11معزز لکھنے والے (ف۱۴)
12جانتے ہیں جو کچھ تم کرو (ف۱۵)
13بیشک نِکو کار (ف۱۶) ضرور چین میں ہیں (ف۱۷)
14اور بیشک بدکار (ف۱۸) ضرور دوزخ میں ہیں،
15انصاف کے دن اس میں جائیں گے،
16اور اس سے کہیں چھپ نہ سکیں گے،
17اور تو کیا جانیں کیسا انصاف کا دن،
18پھر تو کیا جانے کیسا انصاف کا دن،
19جس دن کوئی جان کسی جان کا کچھ اختیار نہ رکھے گی (ف۱۹) اور سارا حکم اس دن اللہ کا ہے،
Chapter 83 (Sura 83)
1کم تولنے والوں کی خرابی ہے،
2وہ کہ جب اوروں سے ناپ لیں پورا لیں،
3اور جب انہیں ناپ تول کردی کم کردیں،
4کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے،
5ایک عظمت والے دن کے لیے (ف۲)
6جس دن سب لوگ (ف۳) رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے،
7بیشک کافروں کی لکھت (ف۴) سب سے نیچی جگہ سجین میں ہے (ف۵)
8اور تو کیا جانے سجین کیسی ہے (ف۶)
9وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے (ف۷)
10اس دن (ف۸) جھٹلانے والوں کی خرابی ہے،
11جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں (ف۹)
12اور اسے نہ جھٹلائے گا مگر ہر سرکش (ف۱۰)
13جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہے (ف۱۱) اگلوں کی کہانیاں ہیں،
14کوئی نہیں (ف۱۲) بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے (ف۱۳)
15ہاں ہاں بیشک وہ اس دن (ف۱۴) اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں (ف۱۵)
16پھر بیشک انہیں جہنم میں داخل ہونا،
17پھر کہا جائے گا، یہ ہے وہ (ف۱۶) جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۷)
18ہاں ہاں بیشک نیکوں کی لکھت (ف۱۸) سب سے اونچا محل علیین میں ہے (ف۱۹)
19اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے (ف۲۰)
20وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے (ف۲۱)
21کہ مقرب (ف۲۲) جس کی زیارت کرتے ہیں،
22بیشک نیکوکار ضرور چین میں ہیں،
23تختوں پر دیکھتے ہیں (ف۲۳)
24تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہنچانے (ف۲۴)
25نتھری شراب پلائے جائیں گے جو مہُر کی ہوئی رکھی ہے (ف۲۵)
26اس کی مہُر مشک پر ہے، اور اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والے (ف۲۶)
27اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے (ف۲۷)
28وہ چشمہ جس سے مقربانِ بارگاہ پیتے ہیں (ف۲۸)
29بیشک مجرم لوگ (ف۲۹) ایمان والوں سے (ف۳۰) ہنسا کرتے تھے،
30اور جب وہ (ف۳۱) ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے (ف۳۲)
31اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے (ف۳۴)
32اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں (ف۳۵)
33اور یہ (ف۳۶) کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے (ف۳۷)
34تو آج (ف۳۸) ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں (ف۳۹)
35تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں (ف۴۰)
36کیوں کچھ بدلا ملا کافروں کو اپنے کیے کا (ف۴۱)
Chapter 84 (Sura 84)
1جب آسمان شق ہو (ف۲)
2اور اپنے رب کا حکم سنے (ف۳) اور اسے سزاوار ہی یہ ہے،
3اور جب زمین دراز کی جائے (ف۴)
4اور جو کچھ اس میں ہے (ف۵) ڈال دے اور خالی ہوجائے،
5اور اپنے رب کا حکم سنے (ف۶) اور اسے سزاوار ہی یہ ہے (ف۷)
6اے آدمی! بیشک تجھے اپنے رب کی طرف (ف۸) ضرور دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا (ف۹)
7تو وہ وہ اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے (ف۱۰)
8اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا (ف۱۱)
9اور اپنے گھر والوں کی طرف (ف۱۲) شاد شاد پلٹے گا (ف۱۳)
10اور وہ جس کا نامہٴ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے (ف۱۴)
11وہ عنقریب موت مانگے گا (ف۱۵)
12اور بھڑکتی ا ٓ گ میں جائے گا،
13بیشک وہ اپنے گھر میں (ف۱۶) خوش تھا (ف۱۷)
14وہ سمجھا کہ اسے پھرنا نہیں (ف۱۸)
15ہاں کیوں نہیں (ف۱۹) بیشک اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے،
16تو مجھے قسم ہے شام کے اجالے کی (ف۲۰)
17اور رات کی اور جو چیزیں اس میں جمع ہوتی ہیں (ف۲۱)
18اور چاند کی جب پورا ہو (ف۲۲)
19ضرور تم منزل بہ منزل چڑھو گے (ف۲۳)
20تو کیا ہوا انہیں ایمان نہیں لاتے (ف۲۴)
21اور جب قرآن پڑھا جائے سجدہ نہیں کرتے (ف۲۵) السجدة ۔۱۳
22بلکہ کافر جھٹلا رہے ہیں (ف۲۶)
23اور اللہ خوب جانتا ہے جو اپنے جی میں رکھتے ہیں (ف۲۷)
24تو تم انہیں دردناک عذاب کی بشارت دو (ف۲۸)
25مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے وہ ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا،
Chapter 85 (Sura 85)
1قسم آسمان کی، جس میں برج ہیں (ف۲)
2اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے (ف۳)
3اور اس دن کی جو گواہ ہے (ف۴) اور اس دن کی جس میں حاضر ہوتے ہیں (ف۵)
4کھائی والوں پر لعنت ہو (ف۶)
5اس بھڑکتی آ گ والے،
6جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے تھے (ف۷)
7اور وه خد گواه ہیں جو کہ مسلما نوں کے ساتھ کر رہے تھے (ف۸)
8اور انھیں مسلمانوں کا کیا برا لگا یہی نہ کے وہ ایمان لا ئے اللہ والے سب خو بیوں سرا ہے پر،
9کے اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اور اللہ ہر چیز پر گواه ہے،
10بے شک جنھو ں نے ایذا دی مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پھر تو بہ نہ کی ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے (ف۱۱) اور ان کے لئے آگ کا عذاب (ف۱۲)
11بے شک جو ایما ن لائے اور اچھے کام کئے ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں یہی بڑی کامیابی ہے،
12بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے (ف۱۳)
13بے شک وه پہلے اور پھر کرے (ف۱۴)
14اور وہی ہے بخشنے والا اپنے نیک بندوں پر پیارا،
15عزت والے عرش کا مالک،
16ہمیشہ جو چاہے کہ لینے والا،
17کیا تمھارے پاس لشکروں کے بات آئی (ف۱۵)
18وه لشکر کون فرعون اور ثمود (ف۱۶)
19بلکہ (ف۱۷) کافر جھٹلا نے میں ہیں (ف۱۸)
20اور اللہ ان کے پیچھے سے انھیں گھیرے ہوئے ہے (ف۱۹)
21بلکہ وه کمال شرف والا قران ہے،
22لو ح محفوظ میں،
Chapter 86 (Sura 86)
1آسمان کی قسم اور رات کے آنے والے کی، ف۲)
2اور کچھ تم نے جا نا وه رات کو آنے والا کیا ہے،
3خوب چمکتا تارا،
4کوئی جان نہیں جس پر نگہبان نہ ہو (ف۳)
5تو چاہئے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے بنا یا گیا (ف۴)
6جَست کرتے (اوچھلتے ہوئے) پانی سے، ف۵)
7جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینوں کے بیچ سے (ف۶)
8بے شک اللہ اس کے واپس کرینے پر(ف۷) قادر ہے
9جس دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی (ف۸)
10تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہوگا نہ کوئی مددگار (ف۹)
11آسمان کی قسم! جس سے مینھ اترتا ہے (ف۱۰)
12اور زمین کی جو اس سے کھلتی ہے (ف۱۱)
13بیشک قرآن ضرور فیصلہ کی بات ہے (ف۱۲)
14اور کوئی ہنسی کی بات نہیں (ف۱۳)
15بیشک کافر اپنا سا داؤ چلتے ہیں (ف۱۴)
16اور میں اپنی خفیہ تدبیر فرماتا ہوں (ف۱۵)
17تو تم کافروں کو ڈھیل دو (ف۱۶) انہیں کچھ تھوڑی مہلت دو (ف۱۷)
Chapter 87 (Sura 87)
1اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جب سے بلند ہے (ف۲)
2جس نے بناکر ٹھیک کیا (ف۳)
3اور جس نے اندازہ پر رکھ کر راہ دی (ف۴)
4اور جس نے چارہ نکالا،
5پھر اسے خشک سیاہ کردیا،
6اب ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم نہ بھولو گے
7مگر جو اللہ چاہے (ف۶) بیشک وہ جانتا ہے ہر کھلے اور چھپے کو،
8اور ہم تمہارے لیے آسانی کا سامان کردیں گے (ف۷)
9تو تم نصیحت فرماؤ (ف۸) اگر نصیحت کام دے (ف۹)
10عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے (ف۱۰)
11اور اس (ف۱۱) سے وہ بڑا بدبخت دور رہے گا،
12جو سب سے بڑی آگ میں جائے گا (ف۱۲)
13پھر نہ اس میں مرے (ف۱۳) اور نہ جیے (ف۱۴)
14بیشک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا (ف۱۵)
15اور اپنے رب کا نام لے کر (ف۱۶) نماز پڑھی (ف۱۷)
16بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو (ف۱۸)
17اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی،
18بیشک یہ (ف۱۹) اگلے صحیفوں میں ہے (ف۲۰)
19ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں،
Chapter 88 (Sura 88)
1بیشک تمہارے پاس (ف۲) اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی (ف۳)
2کتنے ہی منہ اس دن ذلیل ہوں گے،
3کام کریں مشقت جھیلیں،
4جائیں بھڑکتی آگ میں (ف۴)
5نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں،
6ان کے لیے کچھ کھانا نہیں مگر آگ کے کانٹے (ف۵)
7کہ نہ فربہی لائیں اور نہ بھوک میں کام دیں (ف۶)
8کتنے ہی منہ اس دن چین میں ہیں (ف۷)
9اپنی کوشش پر راضی (ف۸)
10بلند باغ میں،
11کہ اس میں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے،
12اس میں رواں چشمہ ہے،
13اس میں بلند تخت ہیں،
14اور چنے ہوئے کوزے (ف۹)
15اور برابر برابر بچھے ہوئے قالین
16اور پھیلی ہوئی چاندنیاں (ف۱۰)
17تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا،
18اور آسمان کو کیسا اونچا کیا گیا (ف۱۱)
19اور پہاڑوں کو، کیسے قائم کیے گئے،
20اور زمین کو، کیسے بچھائی گئی،
21تو تم نصیحت سناؤ (ف۱۲) تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو،
22تم کچھ ان پر کڑ وڑا (ضامن) نہیں (ف۱۳)
23ہاں جو منہ پھیرے (ف۱۴) اور کفر کرے (ف۱۵)
24تو اسے اللہ بڑا عذاب دے گا (ف۱۶)
25بیشک ہماری ہی طرف ان کا پھرنا (ف۱۷)
26پھر بیشک ہماری ہی طرف ان کا حساب ہے،
Chapter 89 (Sura 89)
1اس صبح کی قسم (ف۲)
2اور دس راتوں کی (ف۳)
3اور جفت اور طاق کی (ف۴)
4اور رات کی جب چل دے (ف۵)
5کیوں اس میں عقلمند کے لیے قسم ہوئی (ف۶)
6کیا تم نے نہ دیکھا (ف۷) تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا،
7وہ اِرم حد سے زیادہ طول والے (ف۸)
8کہ اس جیسا شہروں میں پیدا نہ ہوا (ف۹)
9اور ثمود جنہوں نے وادی میں (ف۱۰) پتھر کی چٹانیں کاٹیں (ف۱۱)
10اور فرعون کہ چومیخا کرتا (سخت سزائیں دیتا) (ف۱۲)
11جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی (ف۱۳)
12پھر ان میں بہت فساد پھیلایا (ف۱۴)
13تو ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا بقوت مارا،
14بیشک تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں،
15لیکن آدمی تو جب اسے اس کا رب آزمائے کہ اس کو جاہ اور نعمت دے، جب تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دی،
16اور اگر آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرے، تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خوار کیا،
17یوں نہیں (ف۱۵) بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے (ف۱۶)
18اور آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی رغبت نہیں دیتے،
19اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو (ف۱۷)
20اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو (ف۱۸)
21ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے (ف۱۹)
22اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار،
23اور اس دن جہنم لائے جائے (ف۲۰) اس دن آدمی سوچے گا (ف۲۱) اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں (ف۲۲)
24کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آگے بھیجی ہوتی،
25تو اس دن اس کا سا عذاب (ف۲۳) کوئی نہیں کرتا،
26اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا،
27اے اطمینان والی جان (ف۲۴)
28اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی،
29پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو،
30اور میری جنت میں آ،
Chapter 90 (Sura 90)
1مجھے اس شہر کی قسم (ف۲)
2کہ اے محبوب! تم اس شہر میں تشریف فرما ہو (ف۳)
3اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو (ف۴)
4بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا (ف۵)
5کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا (ف۶)
6کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کردیا (ف۷)
7کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا (ف۸)
8کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں (ف۹)
9اور زبان (ف۱۰) اور دو ہونٹ (ف۱۱)
10اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی (ف۱۲)
11پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا (ف۱۳)
12اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے (ف۱۴)
13کسی بندے کی گردن چھڑانا (ف۱۵)
14یا بھوک کے دن کھانا دینا (ف۱۶)
15رشتہ دار یتیم کو،
16یا خاک نشین مسکین کو (ف۱۷)
17پھر ہو ان سے جو ایمان لائے (ف۱۸) اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں (ف۱۹) اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں(ف۲۰)
18یہ دہنی طرف والے ہیں (ف۲۱)
19اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف والے (ف۲۲)
20ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی گئی (ف۲۳)
Chapter 91 (Sura 91)
1سورج اور اس کی روشنی کی قسم،
2اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے (ف۲)
3اور دن کی جب اسے چمکائے (ف۳)
4اور رات کی جب اسے چھپائے (ف۴)
5اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم،
6اور زمین اور اس کے پھیلانے والے کی قسم،
7اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا (ف۵)
8پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی (ف۶)
9بیشک مراد کو پہنچایا جس نے اسے (ف۷) ستھرا کیا (ف۸)
10اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا،
11ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا (ف۹)
12جبکہ اس کا سب سے بدبخت (ف۱۰) اٹھ کھڑا ہوا،
13تو ان سے اللہ کے رسول (ف۱۱) نے فرمایا اللہ کے ناقہ (ف۱۲) اور اس کی پینے کی باری سے بچو (ف۱۳)
14تو انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں تو ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب (ف۱۴) تباہی ڈال کر وہ بستی برابر کردی (ف۱۵)
15اور اس کے پیچھا کرنے والے کا اسے خوف نہیں (ف۱۶)
Chapter 92 (Sura 92)
1اور رات کی قسم جب چھائے (ف۲)
2اور دن کی جب چمکے (ف۳)
3اور اس (ف۴) کی جس نے نر و مادہ بنائے (ف۵)
4بیشک تمہاری کوشش مختلف ہے (ف۶)
5تو وہ جس نے دیا (ف۷) اور پرہیزگاری کی (ف۸)
6اور سب سے اچھی کو سچ مانا (ف۹)
7تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے (ف۱۰)
8اور وہ جس نے بخل کیا (ف۱۱) اور بے پرواہ بنا (ف۱۲)
9اور سب سے اچھی کو جھٹلایا (ف۱۳)
10تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے (ف۱۴)
11اور اس کا مال اسے کام نہ آئے گا جب ہلاکت میں پڑے گا (ف۱۵)
12بیشک ہدایت فرمانا (ف۱۶) ہمارے ذمہ ہے،
13اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہمیں مالک ہیں،
14تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑک رہی ہے،
15نہ جائے گا اس میں (ف۱۷) مگر بڑا بدبخت،
16جس نے جھٹلایا (ف۱۸) اور منہ پھیرا (ف۱۹)
17اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے زیادہ پرہیزگار،
18جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو (ف۲۰)
19اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے (ف۲۱)
20صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے،
21اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا (ف۲۲)
Chapter 93 (Sura 93)
1چاشت کی قسم (ف۲)
2اور رات کی جب پردہ ڈالے (ف۳)
3کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا، اور نہ مکروہ جانا،
4اور بیشک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے (ف۴)
5اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں (ف۵) اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے (ف۶)
6کیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی (ف۷)
7اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی (ف۸)
8اور تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا (ف۹)
9تو یتیم پر دباؤ نہ ڈالو (ف۱۰)
10اور منگتا کو نہ جھڑکو (ف۱۱)
11اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو (ف۱۲)
Chapter 94 (Sura 94)
1کیا ہم نے تمہارا سینہ کشادہ نہ کیا (ف۲)
2اور تم پر سے تمہارا بوجھ اتار لیا،
3جس نے تمہاری پیٹھ توڑی تھی (ف۳)
4اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا (ف۴)
5تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے،
6بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے (ف۵)
7تو جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں(ف۶) محنت کرو (ف۷)
8اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو (ف۸)
Chapter 95 (Sura 95)
1انجیر کی قسم اور زیتون (ف۲)
2اور طور سینا (ف۳)
3اور اس امان والے شہر کی (ف۴)
4بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا،
5پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا (ف۵)
6مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ انہیں بے حد ثواب ہے (ف۶)
7تو اب (ف۷) کیا چیز تجھے انصاف کے جھٹلانے پر باعث ہے (ف۸)
8کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں،
Chapter 96 (Sura 96)
1پڑھو اپنے رب کے نام سے (ف۲) جس نے پیدا کیا (ف۳)
2آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو (ف۴)
3اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم،
4جس نے قلم سے لکھنا سکھایا (ف۵)
5آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا (ف۶)
6ہاں ہاں بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے،
7اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا (ف۷)
8بیشک تمہارے رب ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۸)
9بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے،
10بندے کو جب وہ نماز پڑھے (ف۹)
11بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا،
12یا پرہیزگاری بتاتا تو کیا خوب تھا،
13بھلا دیکھو تو اگر جھٹلایا (ف۱۰) اور منہ پھیرا (ف۱۱)
14تو کیا حال ہوگا کیا نہ جانا (ف۱۲) کہ اللہ دیکھ رہا ہے (ف۱۳)
15ہاں ہاں اگر باز نہ آیا (ف۱۴) تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے (ف۱۵)
16کیسی پیشانی جھوٹی خطاکار،
17اب پکارے اپنی مجلس کو (ف۱۶)
18ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں (ف۱۷)
19ہاں ہاں، اس کی نہ سنو اور سجدہ کرو (ف۱۸) اور ہم سے قریب ہوجاؤ، (السجدة ۔۱۴)
Chapter 97 (Sura 97)
1بیشک ہم نے اسے (ف۲) شبِ قدر میں اتارا (ف۳)
2اور تم نے کیا جانا کیا شبِ قدر،
3شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر (ف۴)
4اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں (ف۵) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے (ف۶)
5وہ سلامتی ہے، صبح چمکتے تک (ف۷)
Chapter 98 (Sura 98)
1کتابی کافر (ف۲) اور مشرک (ف۳) اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے (ف۴)
2وہ کون وہ اللہ کا رسول (ف۵) کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے (ف۶)
3ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں (ف۷)
4اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں مگر بعد اس کے کہ وہ روشن دلیل (ف۸) ان کے پاس تشریف لائے (ف۹)
5اور ان لوگوں کو تو (ف۱۰) یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے (ف۱۱) ایک طرف کے ہوکر (ف۱۲) اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور یہ سیدھا دین ہے،
6بیشک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں،
7بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہی تمام مخلوق ہیں بہتر ہیں،
8ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی (ف۱۳) اور وہ اس سے راضی (ف۱۴) یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے (ف۱۵)
Chapter 99 (Sura 99)
1جب زمین تھرتھرا دی جائے (ف۲) جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے (ف۳)
2اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے (ف۴)
3اور آدمی کہے اسے کیا ہوا (ف۵)
4اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی (ف۶)
5اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا (ف۷)
6اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے (ف۸) کئی راہ ہوکر (ف۹) تاکہ اپنا کیا (ف۱۰) دکھائیں جائیں تو،
7جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا،
8اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا (ف۱۱)
Chapter 100 (Sura 100)
1قسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی (ف۲)
2پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مارکر (ف۳)
3پھر صبح ہوتے تاراج کرتے ہیں (ف۴)
4پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں،
5پھر دشمن کے بیچ لشکر میں جاتے ہیں،
6بیشک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے (ف۵)
7اور بیشک وہ اس پر خود گواہ ہے،
8اور بیشک وہ مال کی چاہت میں ضرور کرّا (تیز) ہے (ف۷)
9تو کیا نہیں جانتا جب اٹھائے جائیں گے (ف۸) جو قبروں میں ہیں،
10اور کھول دی جائے گی (ف۹) جو سینوں میں ہے،
11بیشک ان کے رب کو اس دن (ف۱۰) ان کی سب خبر ہے (ف۱۱)
Chapter 101 (Sura 101)
1دل دہلانے والی،
2کیا وہ دہلانے والی،
3اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی (ف۲)
4جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے (ف۳)
5اور پہاڑ ہوں گے جیسے دھنکی اون (ف۴)
6تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں (ف۵)
7وہ تو من مانتے عیش میں ہیں (ف۶)
8اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں (ف۷)
9وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے (ف۸)
10اور تو نے کیا جانا، کیا نیچا دکھانے والی،
11ایک آگ شعلے مارتی (ف۹)
Chapter 102 (Sura 102)
1تمہیں غافل رکھا (ف۳) مال کی زیادہ طلبی نے (ف۳)
2یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا (ف۴)
3ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے (ف۵)
4پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے (ف۶)
5ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے (ف۷)
6بیشک ضرور جنہم کو دیکھو گے (ف۸)
7پھر بیشک ضرور اسے یقینی دیکھنا دیکھو گے،
8پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کی پرسش ہوگی (ف۹)
Chapter 103 (Sura 103)
1اس زمانہ محبوب کی قسم (ف۲)
2بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے (ف۳)
3مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دورے کو حق کی تاکید کی (ف۴) اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی (ف۵)
Chapter 104 (Sura 104)
1خرابی ہے اس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے پیٹھ پیچھے بدی کرے (ف۲)
2جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھا،
3کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا (ف۳)
4ہر گز نہیں ضرور وہ روندنے والی میں پھینکا جائے گا (ف۴)
5اور تو نے کیا جانا کیا روندنے والی،
6اللہ کی آگ کہ بھڑک رہی ہے (ف۵)
7وہ جو دلوں پر چڑھ جائے گی (ف۶)
8بیشک وہ ان پر بند کردی جائے گی (ف۷)
9لمبے لمبے ستونوں میں (ف۸)
Chapter 105 (Sura 105)
1اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کیا حال کیا (ف۲)
2کیا ان کا داؤ تباہی میں نہ ڈالا،
3اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں (فوجیں) بھیجیں (ف۳)
4کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے (ف۴)
5تو انہیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی (بھوسہ) (ف۵)
Chapter 106 (Sura 106)
1اس لیے کہ قریش کو میل دلایا (ف۲)
2ان کے جاڑے اور گرمی دونوں کے کوچ میں میل دلایا (رغبت دلائی)
3تو انہیں چاہیے اس گھر کے (ف۳) رب کی بندگی کریں،
4جس نے انہیں بھوک میں (ف۴) کھانا دیا، اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا (ف۵)
Chapter 107 (Sura 107)
1بھلا دیکھو تو جو دین کو جھٹلاتا ہے (ف۲)
2پھر وہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (ف۳)
3اور مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا (ف۴)
4تو ان نمازیوں کی خرابی ہے،
5جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں (ف۵)
6وہ جو دکھاوا کرتے ہیں (ف۶)
7اور بر تنے کی چیز (ف۷) مانگے نہیں دیتے (ف۸)
Chapter 108 (Sura 108)
1اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں (ف۲)
2تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو (ف۳) اور قربانی کرو (ف۴)
3بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے (ف۵)
Chapter 109 (Sura 109)
1تم فرماؤ اے کافرو،
2نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو،
3اور نہ تم پوجتے ہو جو میں پوجتا ہوں،
4اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے پوجا،
5اور نہ تم پوجو گے جو میں پوجتا ہوں،
6تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین (ف۳)
Chapter 110 (Sura 110)
1جب اللہ کی مدد اور فتح آئے (ف۲)
2اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں (ف۳)
3تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو (ف۴) بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے (ف۵)
Chapter 111 (Sura 111)
1تباہ ہوجائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہوہی گیا (ف۲)
2اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا (ف۳)
3اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں وہ،
4اور اس کی جُورو (ف۴) لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی،
5اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسّا، (ف۵)
Chapter 112 (Sura 112)
1تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے (ف۲)
2اللہ بے نیاز ہے (ف۳)
3نہ اس کی کوئی اولاد (ف۴) اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا (ف۵)
4اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی (ف۶)
Chapter 113 (Sura 113)
1تم فرماؤ میں اس کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے (ف۲)
2اس کی سب مخلوق کی شر سے (ف۳)
3اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے (ف۴)
4اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکتی ہیں (ف۵)
5اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے (ف۶)
Chapter 114 (Sura 114)
1تم کہو میں اس کی پناہ میں آیا جو سب لوگوں کا رب (ف۲)
2سب لوگوں کا بادشاہ (ف۳)
3سب لوگوں کا خدا (ف۴)
4اس کے شر سے جو دل میں برے خطرے ڈالے (ف۵) اور دبک رہے (ف۶)
5وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں،
6جن اور آدمی (ف۷)