Quran translation in urdu language translated by ahmed ali

Chapter 1 (Sura 1)
1شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
2سب تعریفیں الله کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے
3بڑا مہربان نہایت رحم والا
4جزا کے دن کا مالک
5ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
6ہمیں سیدھا راستہ دکھا
7ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا نہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے
Chapter 2 (Sura 2)
1المۤ
2یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں پرہیز گارو ں کے لیے ہدایت ہے
3جو بن دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ا ور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں
4اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا آپ پراور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں
5وہی لوگ اپنے رب کے راستہ پر ہیں اور وہی نجات پانے والے ہیں
6بے شک جو لوگ انکار کر چکے ہیں برابر ہے انہیں تو ڈرائے یا نہ ڈرائے وہ ایمان نہیں لائیں گے
7الله نے ان کے دلوں اورکانوں پرمہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اوران کے لیے بڑا عذا ب ہے
8اور کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم الله اور قیامت کے دن پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان دار نہیں ہیں
9الله اور ایمان داروں کو دھوکا دیتے ہیں حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور نہیں سمجھتے
10انکے دلوں میں بیماری ہے پھر الله نے ان کی بیماری بڑھا دی اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے
11اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں
12خبردار بے شک وہی لوگ فسادی ہیں لیکن نہیں سمجھتے
13اور جب انہیں کہا جاتا ہے ایمان لاؤ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح بے وقوف ایمان لائے ہیں خبردار وہی بے وقوف ہیں لیکن نہیں جانتے
14اور جب ایمانداروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم توتمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف ہنسی کرنے والے ہیں
15الله ان سے ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی میں حیران رہیں
16یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی سو ان کی تجارت نے نفع نہ دیا اور ہدایت پانے والے نہ ہوئے
17ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب آگ نے اس کے آس پاس کو روشن کر دیا تو الله نے ان کی روشنی بجھا دی اور انہیں اندھیروں میں چھوڑا کہ کچھ نہیں دیکھتے
18بہرے گونگے اندھے ہیں سو وہ نہیں لوٹیں گے
19یا جیسا کہ آسمان سے بارش ہو جس میں اندھیرے اور گرج اور بجلی ہو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑک کے سبب سے موت کے ڈر سے دیتے ہوں اور الله کافروں کو گھیرے ہوئے ہے
20قریب ہے کہ بجلی ان کے آنکھیں اچک لے جب ان پر چمکتی ہے تو اس کی روشنی میں چلتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا ہوتا ہے تو ٹھر جاتے ہیں اور اگر الله چاہے تو ان کے کان اور آنکھیں لے جائے بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
21اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور انہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ
22جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل نکالے سو کسی کو الله کا شریک نہ بناؤ حالانکہ تم جانتے بھی ہو
23اور اگر تمہیں اس چیز میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو ایک سورت اس جیسی لے آؤ اور الله کے سوا جس قدر تمہارے حمایتی ہوں بلا لو اگر تم سچے ہو
24بھلا اگر ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو کافرو ں کے لیے تیار کی گئی ہے
25اوران لوگو ں کو خوشخبری دے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں جب انہیں وہاں کا کوئي پھل کھانے کو ملے گا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے ملا تھا اور انہیں ہم شکل پھل دیئے جائیں گے اور ان کے لیے وہاں پاکیزہ عورتیں ہوں گی اوروہ وہیں ہمیشہ رہیں گے
26بے شک الله نہیں شرماتا اس بات سے کہ کوئی مثال بیان کرے مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے سو جو لوگ مومن ہیں وہ اسے اپنے رب کی طرف سے صحیح جانتے ہیں اور جو کافر ہیں سو کہتے ہیں الله کا اس مثال سے کیا مطلب ہے الله اس مثال سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو اس سے ہدایت کرتا ہے اوراس سے گمراہ تو بدکاروں ہی کو کیا کرتا ہے
27جو الله کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس کے جوڑنے کا الله نے حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
28تم الله کا کیونکر انکار کرسکتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے پھر تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر تم اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے
29الله وہ ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا ہےپھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو انہیں سات آسمان بنایا اور وہ ہر چیز جانتا ہے
30اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو فساد پھیلائے اور خون بہائے حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں فرمایا میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے
31اور الله نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے پھر ان سب چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا پھر فرمایا مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو
32انہوں نے کہا تو پاک ہے ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں بتایاہے بے شک تو بڑے علم والا حکمت والا ہے
33فرمایا اے آدم ان چیزو ں کے نام بتا دو پھر جب آدم نے انہیں ان کے نام بتا دیئے فرمایا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہوں
34اورجب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا اورتکبر کیا اورکافروں میں سے ہو گیا
35اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں جا کر رہو اور اس میں جو چاہو اور جہاں سےچاہو کھاؤ اور اس درخت کے نزدیک نہ جاؤ پھر ظالموں میں سے ہو جاؤ گے
36پھر شیطان نے ان کو وہاں سے ڈگمگایا پھر انہیں اس عزت و راحت سے نکالا کہ جس میں تھے اور ہم نے کہا تم سب اترو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے اور سامان ایک وقت معین تک
37پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات حاصل کیے پھر اس کی توبہ قبول فرمائی بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
38ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے نیچے اتر جاؤ پھر اگرتمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے پس جو میری ہدایت پر چلیں گے ان پرنہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
39اور جو انکار کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہی دوزخی ہو ں گے جو اس میں ہمیشہ رہی گے
40اے بنی اسرائل میرے احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور تم میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرا کرو
41اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کی تصدیق کرتی ہے اس کی جو تمہارے پاس ہے اور تم ہی سب سے پہلے اس کےمنکر نہ بنو اور میری آیتو ں کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچو اور مجھ ہی سے ڈرو
42اور سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ
43اورنماز قائم کرو اوزکوةٰ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو
44کیا لوگوں کو تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو پھر کیوں نہیں سمجھتے
45اور صبر کرنے اور نماز پڑھنے سےمدد لیا کرو اوربے شک نماز مشکل ہے مگر ان پر جو عاجزی کرنے والے ہیں
46جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ضرور اپنے رب سے ملنا ہے اور ہمیں اس کے پاس لوٹ کر جانا ہے
47اے بنی اسرائیل میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تمہیں دی تھیں اور میں نے تمہیں جہان پر فضیلت دی تھی
48اوراس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کے لیے کوئی سفارش قبول ہو گی اورنہ اس کی طرف سے بدلہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی
49اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی و ہ تمہیں بری طرح عذاب دیا کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی
50اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں تو بچا لیا اور تمہارے دیکھتے دیکھتے فرعوینوں کو ڈبو دیا
51اورجب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا پھر اس کے بعد تم نے بچھڑا بنا لیا حالانکہ تم ظالم تھے
52پھر اس کے بعدبھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو
53اورجب ہم نے موسیٰ کو کتاب اورقانون فیصل دیا تاکہ تم ہدایت پاؤ
54اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم بے شک تم نے بچھڑا بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا سو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو پھر اپنے آپ کو قتل کرو تمہارے لیے تمہارے خالق کے نزدیک یہی بہتر ہے پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی بے شک وہی بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے
55اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تیرا یقین نہیں کریں گے جب تک کہ روبرو الله کو دیکھ نہ لیں تب تمہیں بجلی نے دیکھتے ہی دیکھتے آ لیا
56پھر ہم نے تمہیں تمہاری موت کے بعد زندہ کر اٹھایا تاکہ تم شکر کرو
57اور ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا جو کچھ ہم نے تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں ان میں سے کھاؤ اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے
58اور جب ہم نے کہا اس شہر میں داخل ہو جاؤ پھر اس میں جہاں سے چاہو بے تکلفی سے کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اور کہتے جاؤ بخش دے تو ہم تمہارے قصور معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو زیادہ بھی دیں گے
59پھر ظالموں نے بدل ڈالا کلمہ سوائے اس کے جو انہیں کہا گیا تھا سو ہم نے ان ظالموں پر ان کی نافرمانی کی وجہ سے آسمان سے عذاب نازل کیا
60پھر جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنے عصا کو پتھر پر مار سو اس سے بارہ چشمے بہہ نکلے ہر قوم نے اپنا گھاٹ پہچان لیا الله کے دیئے ہوئے رزق میں سے کھاؤ پیو اور زمین میں فساد مچاتےنہ پھرو
61اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر ہرگز صبر نہ کریں گے سو ہمارے لیے اپنے رب سے دعا مانگ کہ وہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار میں سے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز پیدا کر دے کہا کیا تم اس چیز کو لینا چاہتے ہو جو ادنیٰ ہے بدلہ اس کے جو بہتر ہے کسی شہر میں اُترو بے شک جو تم مانگتے ہو تمہیں ملے گا اور ان پر ذلت اور محتاجی ڈال دی گئی اور انہوں نے غضب الہیٰ کمایا یہ اس لیے کہ وہ الله کی نشانیوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے یہ اس لیے کہ نافرمان تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے
62جو کوئی مسلمان اور یہودی اور نصرانی اورصابئی الله اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھے کام بھی کرے تو ان کا اجر ان کے رب کے ہاں موجود ہے اور ان پر نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
63اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر کوہِ طور بلند کیا جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوط پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ
64پھر تم اس کے بعد پھر گئے سو اگر تم پر الله کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم تباہ ہوجاتے
65اور بے شک تمہیں وہ لوگ بھی معلوم ہیں جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن زیادتی کی تھی پھر ہم نے ان سے کہا تم ذلیل بندر ہو جاؤ
66پھر ہم نے اس واقعہ کو اس زمانہ کے لوگوں کے لیے اور ان سے پچھلوں کے لیے عبرت اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا
67اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ الله تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو انہوں نے کہا کیا تم ہم سے ہنسی کرتا ہے کہا میں الله کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ جاہلوں میں سے ہوں
68انہوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر ہمیں بتائے کہ وہ گائے کیسی ہے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ بچہ اس کے درمیان ہے پس کر ڈالو جو تمہیں حکم دیا جاتا ہے
69انہوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ ہمیں بتائے اس کا رنگ کیسا ہےکہاوہ فرماتا ہے کہ وہ ایک زرد گائے ہے اس کا رنگ خوب گہراہے دیکھنے والوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے
70انہوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر ہمیں بتائے کہ وہ کس قسم کی ہے کیوں کہ وہ گائے ہم پر مشتبہ ہو گئی ہے اور ہم اگر الله نے چاہا تو ضرور پتہ لگا لیں گے
71کہا و ہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے محنت کرنے والی نہیں جو زمین کو جوتتی ہو یا کھیتی کو پانی دیتی ہو بے عیب ہے اس میں کوئي داغ نہیں انہوں نے کہا اب تو نے ٹھیک بات بتائی پھر انہوں نے اسے ذبح کر دیا اور وہ کرنے والے تو نہیں تھے
72اور جب تم ایک شخص قتل کر کے اس میں جھگڑنے لگے اور الله ظاہر کرنے والا تھا اس چیز کو جسے تم چھپاتے تھے
73پھر ہم نے کہا اس مردہ پر اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو اسی طرح الله مردوں کو زندہ کرے گا اور تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو
74پھر ا سکے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے گویا کہ وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت اور بعض پتھر تو ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ کر نکلتی ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو پھٹتے ہیں پھر ان سے پانی نکلتا ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو الله کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور الله تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں
75کیا تمہیں امید ہے کہ یہود تمہارے کہنے پر ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں ایک ایسا گروہ بھی گزرا ہے جو الله کا کلام سنتا تھا پھر اسے سمجھنے کے بعد جان بوجھ کر بدل ڈالتا تھا
76اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لے آئےہیں اور جب وہ ایک دوسرے کے پاس علیحدٰہ ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کیا تم انہیں وہ راز بتا دیتےہو جو الله نے تم پر کھولے ہیں تاکہ وہ اس سے تمہیں تمہارے رب کے روبرو الزام دیں کیا تم نہیں سمجھتے
77کیا وہ نہیں جانتے کہ الله جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں
78اور بعض ان میں سے ان پڑھ ہیں جو کتاب نہیں جانتے سوائے جھوٹی آرزوؤں کے اور وہ محض اٹکل پچو باتیں بناتے ہیں
79سو افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ الله کی طرف سے ہے تاکہ اس سے کچھ روپیہ کمائیں پھر افسوس ہے ان کے ہاتھوں کے لکھنے پر اور افسوس ہے ان کی کمائی ہر
80اور کہتے ہیں ہمیں سوائے چند گنتی کے دنوں کے آگ نہیں چھوٹے گی کہہ دو کیا تم نے الله سے کوئی عہدلےلیا ہے کہ ہر گز الله اپنے عہد کا خلاف نہیں کرے گا یا تم الله پر وہ باتیں کہتے ہو جو تم نہیں جانتے
81ہاں جس نے کوئی گناہ کیا اور اسے اس کے گناہ نے گھیر لیا سو وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
82اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہی بہشتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
83اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں سے اچھا سلوک کرنا اور لوگوں سے اچھی بات کہنا اور نماز قائم کرنا اور زکوةٰ دینا پھر سوائے چند آدمیوں کے تم میں سے سب منہ موڑ کر پھر گئے
84اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں خونریزی نہ کرنا اور نہ اپنے لوگوں کو جلا وطن کرنا پھر تم نے اقرار کیا اور تم خود گواہ ہو
85پھر تم ہی وہ ہو کہ اپنے لوگوں کو قتل کرتے ہو اور ایک جماعت کو اپنے میں سے ان کے گھروں میں سے نکالتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرتے ہو اور اگر وہ تمہارے پاس قیدی ہو کر آئیں تو ان کا تاوان دیتے ہو حالانکہ تم پر ان کا نکالنا بھی حرام تھا کیا تم کتاب کے ایک حصہ پرایمان رکھتے ہو اور دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو پھرجو تم میں سے ایسا کرے اس کی یہی سزا ہے کہ دنیا میں ذلیل ہو اور قیامت کے دن بھی سخت عذاب میں دھکیلے جائیں اور الله اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو
86یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلہ خریدا سو ان سے عذاب ہلکانہ کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی
87اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد بھی پے در پے رسول بھیجتے رہے اور ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو نشانیاں دیں اور روح لقدس سے اس کی تائید کی کیا جب تمہارے پاس کوئی وہ حکم لایا جسے تمہارے دل نہیں چاہتے تھے تو تم اکڑ بیٹھے پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کیا
88اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہیں بلکہ الله نے ان کے کفر کے سبب سے لعنت کی ہے سو بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں
89اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کتاب آئی جو تصدیق کرتی ہے اس کی جو ان کے پاس ہے اور اس سے پہلے وہ کفار پر فتح مانگا کرتے تھے پھر جب ان کے پاس وہ چیز آئی جسے انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکارکیاسوکافروں پر الله کی لعنت ہے
90انہوں نے اپنی جانوں کو بہت ہی بری چیز کے لیے بیچ ڈالا یہ کہ الله کی نازل کی ہوئی چیزوں کا اس ضد میں آ کر انکار کرنے لگے کہ وہ پنے فضل کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے کیوں نازل کر دیتا ہے سوغضب پر غضب میں آ گئے اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے
91اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس پر ایمان لاؤ جو الله نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں ہم تو اسی کو مانتے ہیں جو ہم پر اترا ہے اور اسے نہیں مانتے ہیں جو اس کے سوا ہے حالانکہ وہ حق ہے اور تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس ہے کہہ دو پھر تم کیوں اس سے پہلے الله کے نبیوں کو قتل کرتے رہے اگر تم مومن تھے
92اور تمہارے پاس موسیٰ صریح معجزے لے کر آیا پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو بنالیا اور تم ظالم تھے
93اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر کوہِ طورکو اٹھایا کہ جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور سنو انہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور مانیں گے نہیں اور ان کے دلوں میں کفر کی وجہ سے بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی کہہ دو اگر تم ایمان دار ہو تو تمہارا ایمان تمہیں بہت ہی برا حکم دے رہا ہے
94کہہ دو اگر الله کے نزدیک آخرت کا گھر خصوصیت کے ساتھ سوائے اور لوگوں کے تمہارے ہی لئے ہے تو تم موت کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو
95وہ کبھی بھی اس کی ہر گز آرزو نہیں کریں گے ان گناہوں کی وجہ سے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں اور الله ظالموں کو خوب جانتا ہے
96اور آپ انہیں زندگی پر سب لوگوں سے زيادہ حریص پائیں گے اور ان سے بھی جو مشرک ہیں ہرایک ان میں سے چاہتا ہے کہ کاش اسے ہزار برس عمرملے اور اسے عمر کا ملنا عذاب سے بچانے والا نہیں اور الله دیکھتا ہے جو وہ کرتے ہیں
97کہہ دوجو کوئی جبرائیل کا دشمن ہو سواسی نے اتاراہے وہ قرآن اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر ان کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے ہیں اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے
98جو شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو بیشک اللہ بھی ان کافروں کا دشمن ہے
99اور ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں اتاری ہیں اور ان سے انکاری نہیں مگر فاسق
100کیا جب کبھی انہوں نے کوئی عہد باندھا تو اسے ان میں سے ایک جماعت نے پھینک دیا بلکہ ان میں سے اکثرایمان ہی نہیں رکھتے
101اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے وہ رسول آیا جو اس کی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پا س ہے تو اہلِ کتاب کی ایک جماعت نے الله کی کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے ایسا پھینکا کہ گویا اسے جانتے ہی نہیں
102اور انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت پڑھتے تھے اور سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا لیکن شیطانوں نے ہی کفر کیا لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس کی بھی جو شہر بابل میں ہاروت و ماروت دوفرشتوں پر اتارا گیا تھا اور وہ کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے ہم تو صرف آزمائش کے لیے ہیں تو کافر نہ بن پس ان سے وہ بات سیکھتے تھے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈالیں حالانکہ وہ اس سے کسی کو الله کے حکم کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے اور سیکھتے تھے وہ و ان کو نقصان دیتی تھی اورنہ نفع اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس نے جادو کو خریدا اس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور وہ چیز بہت بری ہے جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچا کاش وہ جانتے
103اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو البتہ الله کے ہاں کا اجر ان کے لیے بہتر تھا کاش وہ جانتے
104اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور انظرنا کہو اور سنا کرو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے
105اہل کتاب کے کافر اور مشرک نہیں چاہتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھی اچھی بات نازل ہو اور الله اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے جسے چاہے اور الله بڑے فضل والا ہے
106ہم جو کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے برابر لاتے ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ الله ہر چیز پر قاد رہے
107کیا تم نہیں جانتے الله ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور تمہارے لیے الله کے سوا نہ کوئی دوست ہے نہ مددگار
108کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے سوال کرو جیسے اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کیے گئے تھے اور جو کوئی ایمان کے عوض کفر کوبدل لے سو وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوا
109اکثر اہلِ کتاب تو اپنے حسد سے حق ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح سے تمہیں ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹا کر لے جائیں سو معاف کرو اور درگزر کرو جب تک کہ الله اپنا حکم بھیجے بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
110اور نماز قائم کرو اور زکوةٰ دو اور جو کچھ نیکی سے اپنےواسطے آگے بھیجو گے اسے الله کے ہاں پاؤ گے بے شک الله جو کچھ تم کرتے ہو سب دیکھتا ہے
111اور کہتے ہیں کہ سوائے یہود یا نصاریٰ کے اور کوئی جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگا یہ ان کے ڈھکوسلے ہیں کہہ دو اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو
112ہاں جس نے اپنا منہ الله کے سامنے جھکا دیا اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کے لیے اس کا بدلہ اس کے رب کے ہاں ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
113اور یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ ٹھیک راہ پر نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی راہے حق پر نہیں ہیں حالانکہ وہ سب کتاب پڑھتے ہیں ایسی ہی باتیں وہ لوگ بھی کہتے ہیں جو بے علم ہیں پھر الله قیامت کے دن ان باتوں کا کہ جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں خودفیصلہ کرے گا
114اوراس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے الله کی مسجدوں میں اس کا نام لینے کی ممانعت کردی اور ان کے ویران کرنے کی کوشش کی ایسے لوگوں کا حق نہیں ہے کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اوران کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے
115اورمشرق اور مغرب الله ہی کا ہے سو تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی الله کا رخ ہے بے شک الله وسعت ولا جاننے والا ہے
116اور کہتے ہیں الله نے بیٹا بنایاہے حالانکہ وہ پاک ہے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے سب اسی کے فرمانبردار ہیں
117آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور جب کوئی چیز کرنا چاہتا ہے تو صرف یہی کہہ دیتا ہے کہ ہو جا سو وہ ہو جاتی ہے
118اوربے علم کہتے ہیں کہ الله ہم سے کیوں کلام نہیں کرتا یا ہمارے اس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ان سے پہلے لوگ بھی ایسی ہی باتیں کہہ چکے ہیں ان کے دل ایک جیسے ہیں یقین کرنے والوں کے لیے تو ہم نشانیاں بیان کر چکے ہیں
119بے شک ہم نے تمہیں سچائ کے ساتھ بھیجا ہے خوشخبری سنانے کے لیے اور ڈرانے کے لیے اور تم سے دوزخیوں کے متعلق باز پرس نہ ہو گی
120اورتم سے یہود اور نصاریٰ ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہیں کرو گے کہہ دو بے شک ہدایت الله ہی کی ہدایت ہے اور اگر تم نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی اس کے بعد جو تمہارے پاس علم آ چکا تو تمہارے لیے الله کے ہاں کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا
121وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے وہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں جور اس سے انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں
122اے بنی اسرائل میرے احسان کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیے اور بے شک میں نے تمہیں سارے جہاں پر بزرگی دی تھی
123اوراس دن سے ڈرو جس دن کوئی بھی کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے گا اور نہ اسے کوئی سفارش نفع دے گی اور نہ وہ مدد دیے جائیں گے
124اور جب ابراھیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نےانہیں پورا کر دیا فرمایا بے شک میں تمہیں سب لوگوں کا پیشوا بنادوں گا کہا اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا
125اور جب ہم نے کعبہ لوگوں کے لیے عبادت گاہ اور امن کی جگہ بنایا (اور فرمایا) مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ اور ہم نے ابراھیم اور اسماعیل سے عہد لیا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو
126اورجب ابراھیم نے کہا اے میرے رب اسے امن کا شہر بنا دے اور اس کے رہنےو الوں کو پھلوں سے رزق دے جوکوئی ان میں سے الله اور قیامت کے دن پر ایمان لائے فرمایا اور جو کافر ہوگا سو اسے بھی تھوڑاسا فائدہ پہنچاؤں گا پھر اسے دوزخ کے عذاب میں دھکیل دوں گا اوروہ برا ٹھکانہ ہے
127اور جب ابراھیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اے ہمارے رب ہم سے قبول کر بے شک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے
128اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنافرمانبردار بنا اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے
129اے ہمارے رب اور ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھیں اور انہیں کتاب اور دانائی سکھائے اور انہیں پاک کرے بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے
130اور کون ہے جو ملت ابراھیمی سے روگردانی کرے سوائے اس کے جو خود ہی احمق ہو اور ہم نے تو اسے دنیا میں بھی بزرگی دی تھی اور بے شک وہ آخرت میں بھی اچھے لوگوں میں سے ہوگا
131جب اسے اس کے رب نے کہا فرمانبردار ہو جا تو کہا میں جہانوں کا پروردگار کا فرمانبردار ہوں
132اور اسی بات کی ابراھیم اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹو بے شک الله نےتمہارے لیے یہ دین چن لیا سو تم ہر گز نہ مرنا مگر درآنحالیکہ تم مسلمان ہو
133کیا تم حاضر تھے جب یعقوب کو موت آئی تب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے انہوں نے کہا ہم آپ کے اور آپ کے باپ دادا ابراھیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں
134یہ ایک جماعت تھی جو گزرچکی ان کے لیے ان کے اعمال میں اور تمہارے لیے اور تمہارے اعمال ہیں اور تم سے نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے
135اور کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تاکہ ہدایت پاؤ کہہ دو بلکہ ہم تو ملت ابراھیمی پر رہیں گے جو موحد تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا
136کہہ دو ہم الله پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر اتارا گیا اور جو ابراھیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر اتارا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا ہم کسی ایک میں ان میں سے فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں
137پس اگر وہ بھی ایمان لے آئيں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ بھی ہدایت پا گئے اور اگر وہ نہ مانیں تو وہی ضد میں پڑے ہوئے ہیں سو تمہیں ان سے الله کافی ہے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے
138الله کا رنگ اللہ کے رنگ سے اور کس کا رنگ بہتر ہے اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں
139کہہ دو کیا تم ہم سے الله کی نسبت جھگڑا کرتے ہو حالانکہ وہی ہمارا اور تمہارا رب ہے اور ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں اور تمہاری لئے تمہارے عمل او رہم تو خا لص اسی کی عبادت کرتے ہیں
140یا تم کہتے ہو کہ ابراھیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد یہودی یا نصرانی تھے کہہ دو کیا تم زیادہ جانتے ہو یا الله اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو گواہی چھپائے جو اس کے پاس الله کی طرف سے ہےاور الله بے خبر نہیں اس سے جو تم کرتے ہو
141وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لیے ان کے عمل ہیں اور تمہارے لیے تمہارے عمل ہیں اور تم سے ان کے اعمال کی نسبت نہیں پوچھا جائے گا
142بے وقوف لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ تھے کہہ دو مشرق اور مغرب الله ہی کا ہے وہ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے
143اور اسی طرح ہم نے تمہیں برگزیدہ امت بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو اور ہم نے وہ قبلہ نہیں بنایا تھا جس پر آپ پہلے تھے مگر اس لیے کہ ہم معلوم کریں اس کو جو رسول کی پیروی کرتا ہے اس سے جو الٹے پاؤں پھر جاتا ہےاور بے شک یہ بات بھاری ہے سوائے ان کے جنہیں الله نے ہدایت دی اور الله تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا بے شک الله لوگوں پر بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
144بے شک ہم آپ کے منہ کا آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں سو ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں پس اب اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیئے اور جہاں کہیں تم ہوا کرو اپنے مونہوں کو اسی کی طرف پھیر لیا کرو اور بے شک وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی ہے یقیناً جانتے ہیں کہ وہی حق ہے ان کے رب کی طرف سے اور الله اس سے بے خبر نہیں جو وہ کر رہے ہیں
145اور اگر آپ ان کے سامنے تمام دلیلیں لے آئيں جنہیں کتاب دی گئی تو بھی وہ آپ کے قبلے کو نہیں مانیں گے اور نہ آپ ہی ان کے قبلہ کو ماننے والے ہیں اور نہ ان میں کوئی دوسرے قبلہ کو ماننے والا ہے اور اگر آپ ان کی خواہشوں کی پیروی کریں گے بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آ چکا تو بے شک آپ بھی تب ظالموں میں سے ہوں گے
146وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بےشک کچھ لوگ ان میں سے حق کوچھپاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں
147آپ کے رب کی طرف سے حق وہی ہے پس شک کرنے والوں میں سے نہ ہو
148اور ہر ایک کے لیے ایک طرف ہے جس طرف وہ منہ کرتا ہے پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو الله سمیٹ کر لے آئے گا بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
149اور جہاں سے آپ نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کیا کریں اور آپ کے رب کی طرف سےیہی حق بھی ہے اور الله تمہارے کام سے غافل نہیں
150اور آپ جہاں کہیں سے نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کیا کریں اور تم بھی جہاں کہیں ہو تو اپنا منہ ا س کی طرف کیاکر و تاکہ لوگوں کو تم پر کوئی الزام نہ رہے مگر ان میں سے جو ہٹ دھرم ہیں تم بھی ان سے نہ ڈرو اور ہم سے ڈرتے رہا کرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اورتاکہ تم راہ پاؤ
151جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے
152پس مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور ناشکری نہ کرو
153اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
154اور جو الله کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے
155اور ہم تمہیں کچھ خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آز مائيں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو
156وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو الله کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
157یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے مہربانیاں ہیں اور رحمت اور یہی ہدایت پانے والے ہیں
158بے شک صفا اور مروہ الله کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو کعبہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان کے درمیان طواف کرے اورجو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے تو بے شک الله قدردان جاننے والا ہے
159بے شک جو لوگ ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت کو جسے ہم نے نازل کر دیا ہے اس کے بعد بھی چھپاتے ہیں کہ ہم نے ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کر دیا یہی لوگ ہیں کہ ان پر الله لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں
160مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور ظاہر کر دیا پس یہی لوگ ہیں کہ میں ان کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں بڑاتوبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہوں
161بے شک جنہوں نے انکار کیا اور انکار ہی کی حالت میں مر بھی گئے تو ان پر الله کی لعنت ہے اور فرشتوں اور سب لوگوں کی بھی
162وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ وہ مہلت دیئے جائیں گے
163اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
164بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے بدلنے میں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کی نفع دینے والی چیزیں لے کر چلتے ہیں اور اس پانی میں جسسے الله نے آسمان سے نازل کیا ہے پھر اس سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے اور اس میں ہر قسم کے چلنے والے جانور پھیلاتا ہے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان حکم کا تابع ہے البتہ عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں
165اورایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے الله کے سوا اور شریک بنا رکھے ہیں جن سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی کہ الله سے رکھنی چاہیئے اور ایمان والوں کو تو الله ہی سے زیادہ محبت ہوتی ہے اور کاش دیکھتے وہ لوگ جو ظالم ہیں جب عذاب دیکھیں گے کہ سب قوت الله ہی کے لیے ہے اور الله سخت عذاب دینے والا ہے
166جب وہ لوگ بیزار ہو جائیں گے جن کی پیروی کی گئی تھی ان لوگوں سے جنہوں نے پیروی کی تھی اور وہ عذاب دیکھ لیں گے اور ان کے تعلقات ٹوٹ جائیں گے
167اور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے پیروی کی تھی کاش ہمیں دوبارہ جانا ہوتا تو ہم بھی ان سے بیزار ہوجاتے جیسے یہ ہم سے بیزار ہو جاتے جیسے یہ ہم سے بیزار ہوئے ہیں اسی طرح الله انہیں ان کے اعمال حسرت دلانے کے لیے دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں
168اے لوگو ان چیزوں میں سے کھاؤ جو زمین میں حلال پاکیزہ ہیں اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے
169وہ تو تمہیں برائی اور بے حیائی ہی کا حکم دے گا اور یہ کہ الله کے ذمے تم وہ باتیں لگاؤ جنہیں تم نہیں جانتے
170اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو الله نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ پائی ہو
171اوران کی مثال جو کافر ہیں اس شخص کی سی ہے جو اس چیز کو پکارتا ہے جو سوائے پکار اور آواز کے نہیں سنتی وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں پس وہ نہیں سمجھتے
172اے ایمان والو پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی اور الله کا شکر کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو
173سوائے اس کے نہیں کہ تم پر مردار اور خون اورسؤر کا گوشت اور اور اس چیز کو کہ الله کے سوا اور کے نام سے پکاری گئی ہو حرام کیا ہے پس جو لاچار ہو جائے نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نے حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں بے شک الله بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
174بے شک جو لوگ الله کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے اور اس کے بدلے میں تھوڑا سا مول لیتے ہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں میں نہیں کھاتے مگر آگ اور الله ان سے قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
175یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو بدلے ہدایت کے خریدا اور عذاب کو بدلے بخشش کے پس دوزخ کی آگ پر ان کا کتنا بڑا صبر ہے
176یہ اس لیے کہ الله نے کتاب سچائی کے ساتھ اتاری اور بے شک جنہوں نے کتاب میں اختلاف کیا البتہ ضد میں بہت دور جا پڑے
177یہی نیکی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو بلکہ نیکی تو یہ ہے جو الله اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اورفرشتوں اور کتابوں او رنبیوں پر اور ا سکی محبت میں رشتہ دارو ں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سوال کرنے والوں کو اور گردنوں کے چھڑانے میں مال دے اور نماز پڑھے اور زکوةٰ دے اور جو اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں جب وہ عہد کر لیں اورتنگدستی میں اور بیماری میں اور لڑائی کےوقت صبر کرنے والے ہیں یہی سچے لوگ ہیں اوریہی پرہیزگار ہیں
178اے ایمان والو مقتولوں میں برابری کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے آزاد بدلے آزاد کے اور غلام بدلے غلام کے اور عورت بدلے عورت کے پس جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کیا جائے تو دستور کے موافق مطالبہ کرنا چاہیئے اور اسے نیکی کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور مہربانی ہے پس جو اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے
179اور اے عقلمندو تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم (خونریزی سے) بچو
180تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچے اگر وہ مال چھوڑے تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے مناسب طور پر وصیت کرے یہ پرہیزگاروں پرحق ہے
181پس جواسے اس کے سننے کےبعد بدل دے اس کا گناہ ان ہی پر ہے جو اسے بدلتے ہیں بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے
182پس جو وصیت کرنے والے سے طرف داری یا گناہ کا خوف کرے پھر ان کے درمیان اصلاح کر دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں بے شک الله بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
183اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ
184گنتی کے چند روز پھر جو کوئی تم میں سے بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنو ں سے گنتی پوری کر لےاور ان پر جو اس کی طاقت رکھتے ہیں فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا پھر جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اس کے لیےبہتر ہے اورروزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے اگرتم جانتے ہو
185رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے سو جو کوئی تم میں سے اس مہینے کو پالے تو اس کے روزے رکھے اور جو کوئی بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنو ں سے گنتی پوری کر ے اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم گنتی پوری کر لو اور تاکہ تم الله کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو
186اور جب آپ سےمیرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو میں نزدیک ہوں دعاا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے پھر چاہیئے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں
187تمہارے لیے روزوں کی راتو ں میں اپنی عورتوں سے مباثرت کرنا حلال کیا گیا ہے وہ تمہارے لیے پردہ ہیں اورتم ان کے لیے پردہ ہو الله کو معلوم ہے تم اپنے نفسوں سے خیانت کرتے تھے پس تمہاری توبہ قبول کر لی اور تمہیں معاف کر دیا سو اب ان سے مباثرت کرو اور طلب کرو وہ چیز جو الله نے تمہارے لیے لکھدی ہے اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری سیادہ دھاری سے فجر کے وقت صاف ظاہر ہو جاوے پھر روزوں کو رات پورا کرو اور ان سے مباثرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو یہ الله کی حدیں ہیں سو ان کے قریب نہ جاؤ اسی طرح الله اپنی آیتیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ وہ پرہیز گار ہو جائیں
188اور ایک دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طور پر نہ کھاؤ اور انہیں حاکموں تک نہ پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ سے کھا جاؤ حالانکہ تم جانتے ہو
189آپ سے چاندوں کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دو یہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے وقت کے اندازے ہیں اور نیکی یہ نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آؤ اور لیکن نیکی یہ ہے کہ جو کوئی الله سے ڈرے اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور الله سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ
190اور الله کی راہ میں ان سے لڑو جوتم سے لڑیں اور زیادتی نہ کرو بے شک الله زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
191اور انہیں قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں نکال دو جہاں سے انہوں نےتمہیں نکالا ہے اور غلبہ شرک قتل سے زیادہ سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے یہاں نہ لڑیں پھراگروہ تم سےلڑیں تم بھی انہیں قتل کرو کافروں کی یہی سزا ہے
192پھر اگر وہ باز آجائیں تو الله بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
193اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فساد باقی نہ رہے اور الله کا دین قائم ہو جائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر سختی جائز نہیں
194حرمت واے مہینے کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے اور سب قابلِ تعظیم باتوں کا بدلہ ہے پھر جو تم پر زیادتی کرےتم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی کہ اس نے تم پر زیادتی کی اور الله سے ڈرو اور جان لو کہ الله پرہیزگاروں کے ساتھ ہے
195اورالله کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کوپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو او رنیکی کرو بے شک الله نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
196اور الله کے لیے حج اور عمرہ پورا کرو پس اگر روکے جاؤ تو جو قربانی سے میسر ہو اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو تو روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے فدیہ دے پھر جب تم امن میں ہو تو عمرہ سے حج تک فائدہ اٹھائے تو قربانی سے جو میسر ہو (دے) پھر جو نہ پائے تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھےاور سات جب تم لوٹو یہ دس پورے ہو گئے یہ ا س کے لیے ہے جس کا گھر بار مکہ میں نہ ہو اور الله سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ الله سخت عذاب دینے والا ہے
197حج کے چند مہینے معلوم ہیں سو جو کوئي ان میں حج کا قصد کرے تو مباثرت جائز نہیں اور نہ گناہ کرنا اور نہ حج میں لڑائي جھگڑا کرنا اور تم جو نیکی کرتے ہو الله اس کو جانتا ہے اور زادِ راہ لے لیا کرو اور بہترین زادِ راہ پرہیزگاری ہے اور اے عقلمندوں مجھ سے ڈرو
198تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو پھر جب تم عرفات سے پھرو تو مشعر الحرام کے پاس الله کو یاد کرو اور اس کی یاد اس طرح کرو کہ جس طرح اس نے تمیں بتائی ہے اور اس سے پہلے تو تم گمراہوں میں سے تھے
199پھر تم لوٹ کر آؤ جہاں سے لوٹ کر آتے ہیں اور الله سے بخشش مانگو بے شک الله بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
200پھر جب حج کے ارکان ادا کر چکو تو الله کو یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے یا اس سے بھی بڑھ کر یاد کرنا پھر بعض تو یہ کہتے ہیں اےہمارے رب ہمیں دنیا میں دے اور اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے
201اوربعض یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی نیکی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا
202یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کی کمائی کا حصہ ملتا ہے اور الله جلد حساب لینے والا ہے
203اور الله کو چند گنتی کے دنوں میں یاد کرو پھر جس نے دو دن کے اندر کوچ کرنے میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں جو (الله سے) ڈرتا ہے اور الله سے ڈرو اور جان لو کہ تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے
204اور بعض ایسے بھی ہیں جن کی بات دنیا کی زندگی میں آپ کو بھلی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی دل کی باتوں پر الله کو گواہ کرتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
205اور جب پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو ملک میں فساد ڈالتا اور کھیتی اور مویشی کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے اور الله فساد کو پسندنہیں کرتا
206اور جب اسسے کہا جاتا ہے کہ الله سے ڈر تو شیخی میں آ کر اور بھی گناہ کرتا ہے سو اس کے لیے دوزخ کافی ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانہ ہے
207اوربعض ایسے بھی ہیں جو الله کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بھی بیچ دیتے ہیں اور الله کے بندوں پر بڑا مہربان ہے
208اے ایمان والو اسلام میں سارے کے سارے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو کیوں کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے
209پھر اگر تم کھلی کھلی نشانیاں آجانے کے بعد بھی پھسل گئے تو جان لو کہ الله غالب حکمت والا ہے
210کیا وہ انتظار کرتے ہیں کہ الله ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آ موجود ہو اور فرشتے بھی آجائیں اور کام پورا ہو جائے اور سب باتیں الله ہی کے اختیار میں ہیں
211بنی اسرائیل سے پوچھیئے کہ ہم نے انہیں کتنی روشن دلیلیں دیں اور جو الله کی نعمت کو بدل دیتا ہے بعد اس کے کہ وہ اس کے پاس آ چکی ہو تو بے شک الله سخت عذاب دینے والا ہے
212کافروں کو دنیا کی زندگی بھلی لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو ایمان لائے حالانکہ جولوگ پرہیزگار ہیں وہ قیامت کے دن ان سے بالاتر ہوں گے اور الله جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے
213سب لوگ ایک دین پر تھے پھر الله نے انبیاء خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل کیں تاکہ لوگوں میں اس بات میں فیصلہ کرے جس میں اختلاف کرتے تھےاور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر انہیں لوگوں نے جنھیں وہ (کتاب) دی گئی تھی اس کے بعد کہ ا ن کے پاس روشن دلیلیں آ چکی تھیں آپس کی ضد کی وجہ سے پھر الله نے اپنے حکم سے ہدایت کی ان کو جو ایمان والے ہیں اس حق بات کی جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے اور الله جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے
214کیا تم خیال کرتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تمہیں وہ (حالات) پیش نہیں آئے جو ان لوگو ں کو پیش آئے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں انہیں سختی اور تکلیف پہنچی اور ہلا دیئے گئے یہاں تک کہ رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ الله کی مدد کب ہوگی سنو بے شک الله کی مدد قریب ہے
215آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں کہہ دو جو مال بھی تم خرچ کرو وہ ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا حق ہے اور جو نیکی تم کرتے ہو سو بے شک الله خوب جانتا ہے
216تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے اور ممکن ہے تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے مضر ہو اور الله ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
217آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دو اس میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے اور الله کے راستہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس میں سے نکالنا الله کے نزدیک اس سے بڑا گناہ ہے اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی بڑا جرم ہے اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر ان کا بس چلےاور جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے پھر کافر ہی مرجائے پس یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے عمل دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور وہی دوزخی ہیں جو اسی میں ہمیشہ رہیں گے
218بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور الله کی راہ میں جہاد کیا وہی الله کی رحمت کے امیدوار ہیں اور الله بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
219آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دو ان میں بڑا گنا ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بہت بڑا ہے اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں کہہ دو جو زاید ہو ایسے ہی الله تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو
220دنیا اور آخرت کے بارے میں اور یتیموں کے متعلق آپ سے پوچھتے ہیں کہہ دو ان کی اصلاح کرنا بہتر ہے اور اگر تم انہیں ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور الله بگاڑنے والے کو اصلاح کرنےوالے سے جانتا ہے اور اگر الله چاہتا تو تمہیں تکلیف میں ڈالتا بے شک الله غالب حکمت والا ہے
221اور مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں ان سے نکاح نہ کرو اورمشرک عورتوں سے ایمان دار لونڈی بہتر ہے گو وہ تمہیں بھلی معلوم ہو اور مشرک مردوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور البتہ مومن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھا ہی لگے یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور الله جنت اور بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے اور لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
222اور آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو وہ نجاست ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدٰہ رہو اور ان کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو لیں پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نےتمہیں حکم دیا ہے بے شک الله توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اوربہت پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے
223تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ اور اپنے لیے آئندہ کی بھی تیاری کرو اور الله سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم ضرور اسے ملو گے اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دو
224اور الله کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ نیکی اور پرہیز گاری اور لوگو ں کے درمیان اصلاح کرنے سے اور الله سننے والا جاننے والا ہے
225الله تمہیں تمہاری قسموں میں بے ہودہ گوئی پر نہیں پکڑتا لیکن تم سے ان قسموں پر مواخذہ کرتا ہے جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہو اور الله بڑا بحشنے والا بردبار ہے
226جو لوگ اپنی بیویوں کے پاس جانے سے قسم کھا لیتے ہیں ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے پھر اگر وہ رجوع کر لیں تو الله بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
227اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارداہ کر لیا تو بے شک الله سننے والا جاننے والا ہے
228اور طلاق دی ہوئی عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور ان کے لیے جائز نہیں کہ چھپائیں جو الله نے ان کے پیٹوں میں پیدا کیاہے اگر وہ الله اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں اوران کے خاوند اس مدت میں ان کو لوٹالینے کے زیادہ حق دار ہیں اگر وہ اصلاح کا اردہ رکھتے ہیں اور دستور کے مطابق ان کا ویسا ہی حق ہےجیسا ان پر ہے اور مردوں کو ان پر فضیلت دی ہے اور الله غالب حکمت والا ہے
229طلاق دو مرتبہ ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دنیا ہے اور تمہارے یے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں جو تم نے انہیں دیا ہے مگر یہ کہ دونوں ڈریں کہ الله کی حدیں قائم نہیں رکھ سکیں گے پھر اگرتمہیں خوف ہو کہ دونوں الله کی حدیں قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ عورت معاوضہ دے کر پیچھا چھڑالے یہ الله کی حدیں ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو اورجو الله کی حدوں سے تجاوز کرے گا سو وہی ظالم ہیں
230پھر اگر اسے طلاق دے دی تو اس کے بعد اس کے لیے وہ حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں رجوع کر لیں اگر ان کا گمان غالب ہو کہ وہ الله کی حدیں قائم سکیں گے اور یہ الله کی حدیں ہیں وہ انہیں کھول کر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
231اور جب عورتوں کو طلاق دے دوپھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں حسن سلوک سے روک لو یا انہیں دستور کے مطابق چھوڑ دو اور انہیں تکلیف دینے کے یے نہ روکو تاکہ تم سختی کرو اور جو ایسا کرے گا تو وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا اور الله کی آیتوں کا تمسخر نہ اڑاؤ اورالله کے احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے اور جو اس نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے کہ تمہیں اس سے نصیحت کرے اور الله سے ڈرو اور جان لو کہ الله ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
232اورجب تم عورتوں کو طلاق دے دو پس وہ اپنی عدت تمام کر چکیں تو اب انہیں اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق راضی ہو جائیں تم میں سے یہ نصیحت اسے کی جاتی ہے جو الله اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے یہ تمہارے لیے بڑی پاکیزی اوربڑی صفائی کی بات ہے اور الله ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
233اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس دودھ پلائیں یہ اس کے لیے ہے جو دودھ کی مدت کو پورا کرنا چاہے اور باپ پر دودھ پلانے والیوں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق ہے کسی کو تکلیف نے دی جائے مگر اسی قدر کہ اس کی طاقت ہو نہ ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے تکلیف دی جائے اور نہ باپ ہی کو اس کی اولاد کی وجہ سے اور وارث پر بھی ویسا ہی نان نفقہ ہے پھر اگر دونوں اپنی رضا مندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے اور اگر کسی اور سے اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو اس میں بھی تم پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ تم دے دو جو دستور کے مطابق تم نے دینا ٹھرایا ہے اور الله سے ڈرو اور جان لو کہ الله اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھتا ہے
234اور جو تم میں سے مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائيں تو ان بیویوں کو چار مہینے دس دن تک اپنے نفس کو روکنا چاہیئے پھر جب وہ اپنی مدت پوری کر لیں تو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ دستور کے مطابق اپنے حق میں کریں اور الله اس سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے
235اورتم پر اس میں گناہ نہیں ہے کہ ان عورتوں کو اشارہ سے پیغام نکاح دو اور یا تم اسے اپنے دل میں چھپاؤ الله جانتاہے کہ تمہیں ان عورتوں کا خیال پیدا ہو گا لیکن مخفی طور پر ان سے نکاح کا وعدہ نہ کرو مگر یہ کہ قاعدہ کے مطابق کوئی بات کہو اورجب تک معیاد نوشتہ پوری نہ ہو اس وقت تک نکاح کا قصد بھی نہ کرو اور جان لو کہ الله جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے پس اس سے ڈرتے رہو اور جان لو الله بڑا بخشنے والا بردبار ہے
236تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو جب کہ انہیں ہاتھ بھی نہ لگایا ہو اور ان کے لیے کچھ مہر بھی مقرر نہ کیا ہو اور انہیں کچھ سامان دے دو وسعت والے پر اپنے قدر کے مطابق اور مفلس پر اپنے قدر کے مطابق سامان حسب دستور ہے نیکو کاروں پر یہ حق ہے
237اور اگر تمہیں انہیں طلاق دو اس سے پہلےکہ انہیں ہاتھ لگاؤ حالانکہ تم ان کے لیے مہر مقرر کر چکے ہو تو نصف اس کا جو تم نے مقرر کیا تھا مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور تمہارا معاف کر دینا پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور آپس میں احسان کرنا نہ بھولو کیوں کہ جو کچھ بھی تم کر رہے ہو الله اسے دیکھ رہا ہے
238سب نمازوں کی حفاظت کیا کرو اور (خاص کر) درمیانی نماز کی اور الله کے لیے ادب سے کھڑے رہا کرو
239پھر اگر تمہیں خوف ہو تو پیادہ یا سوار ہی (پڑھ لیا کرو) پھر جب امن پاؤ تو الله کو یادکیا کرو جیسا اس نے تمہیں سکھایا ہے جو تم نہ جانتے تھے
240اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اوربیویاں چھوڑ جائیں تو انہیں اپنی بیویوں کے لیے سال بھر کے لیے گزارہ کے واسطے وصیت کرنی چاہیئے گھر سے باہر گئے بغیر پھر اگر وہ خود نکل جائیں توتم پر اس میں کوئي گناہ نہیں جو وہ عورتیں اپنے حق میں دستور کے موافق کریں اور الله زبردست حکمت والا ہے
241اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے واسطے دستور کے موافق خرچ دینا پرہیزگارو ں پر یہ لازم ہے
242اسی طرح الله تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھ لو
243کیا تم نے ان لوگو ں کو نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے حالانکہ وہ ہزاروں تھے پھر الله نےان کو فرمایا کہ مرجاؤ پھر انہیں زندہ کر دیا بے شک الله لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
244اور الله کی راہ میں لڑو اور سمجھ لو کہ بے شک الله خوب سننے والا جاننے والا ہے
245ایسا کون شخص ہے جو الله کو اچھا قرض دے پھر الله اس کو کئی گناہ بڑھا کردے اور الله ہی تنگی کرتا ہے اور کشائش کرتا ہے اورتم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
246کیاتم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو موسیٰ کے بعد نہیں دیکھا جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم الله کی راہ میں لڑیں پیغمبر نے کہاکیا یہ بھی ممکن ہے اگر تمہیں لڑائی کا حکم ہو تو تم اس وقت نہ لڑو انہوں نے کہا ہم الله کی راہ میں کیوں نہیں لڑیں گے حالانکہ ہمیں اپنے گھروں اور اپنےبیٹوں سے نکال دیا گیا ہے پھر جب انہیں لڑائی کا حکم ہوا تو سوائے چند آدمیوں کے سب پھر گئے اور الله ظالموں کو خوب جانتا ہے
247ان کے نبی نے ان سے کہا بے شک الله نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر فرمایا ہے انہوں نے کہا اس کی حکومت ہم پر کیوں کر ہو سکتی ہے اس سے تو ہم ہی سلطنت کے زیادہ مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی کشائش نہیں دی گئی پیغمبر نے کہا بے شک الله نے اسے تم پر پسند فرمایا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ فراخ دی ہے اور الله اپنا ملک جسے چاہے دیتا ہے اور الله کشائش والا جاننے والا ہے
248اوربنی اسرائیل سے ان کے نبی نے کہاکہ طالوت کی بادشاہی کی یہ نشانی ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے اطمینان ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ان میں سے جو موسیٰ اور ہارون کی اولاد چھوڑ گئی تھی اس صندوق کو فرشتے اٹھا لائیں گے بے شک اس میں تمہارے لیے پوری نشانی ہے اگرتم ایمان والے ہو
249پھر جب طالوت فوجیں لے کر نکلا کہا بے شک الله ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے جس نے اس نہر کا پانی پیا تو وہ میرا نہیں ہے اور جس نے اسے نہ چکھا تو وہ بےشک میرا ہے مگر جو کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے (تو اسے معاف ہے) پھر ان میں سے سوائے چند آدمیوں کے سب نے اس کا پانی پی لیا پھر جب طالوت اور ایمان والے ا س کے ساتھ پار ہوئے تو کہنے لگے آج ہمیں جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی طاقت نہیں جن لوگو ں کو خیال تھا کہ انہیں الله سے ملنا ہے وہ کہنے لگے بار ہا بڑی جماعت پر چھوٹی جماعت الله کے حکم سے غالب ہوئی ہے اور الله صبر کرنے والو ں کے ساتھ ہے
250اورجب جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے ہوئے تو کہا اے رب ہمارے دلوں میں صبر ڈال دے اور ہمارے پاؤں جمائے رکھ اور اس کافر قوم پر ہماری مدد کر
251پھر الله کے حکم سے مومنو ں نے جالوت کے لشکروں کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو مار ڈالا اور الله نے سلطنت اور حکمت داؤد کو دی اور جو چاہا اسے سکھایا اور اگر الله کابعض کو بعض کے ذریعے سے دفع کرا دینا نہ ہوتا تو زمین فساد سے پُر ہو جاتی لیکن الله جہان والوں پر بہت مہربان ہے
252یہ الله کی آیتیں ہیں ہم تمہیں ٹھیک طور پر پڑھ کر سناتے ہیں اوربے شک تو ہمارے رسولوں میں سے ہے
253یہ سب رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے بعض وہ ہیں جن سے الله نے کلام فرمائی اور بعضوں کے درجے بلند کیے اور ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو صریح معجزے دیے تھے اور اسے روح القدس کے ساتھ قوت دی تھی اور اگر الله چاہتا تو وہ لوگ جو ان پیغمبروں کے بعد آئے وہ آپس میں نہ لڑتے بعد اس کے کہ ان کے پاس صاف حکم پہنچ چکے تھے لیکن ان میں اختلاف پیدا ہو گیا پھر کوئی ان میں سے ایمان لایا اور کوئی کافر ہوا اور اگر الله چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے لیکن الله جو چاہتا ہے کرتا ہے
254اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی سفارش اور کافر وہی ظالم ہیں
255الله کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ ہےسب کا تھامنے والا نہ اس کی اونگھ دبا سکتی ہے نہ نیند آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا ہے ایسا کون ہے جو اس کی اجازت کے سوا اس کے ہاں سفارش کر سکے مخلوقات کے تمام حاضر اور غائب حالات کو جانتا ہے اور وہ سب اس کی معلومات میں سےکسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا کہ وہ چاہے اس کی کرسی نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے اور الله کو ان دونوں کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی اور وہی سب سےبرتر عظمت والا ہے
256دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور الله پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیاجو ٹوٹنے والا نہیں اور الله سننے والا جاننے والا ہے
257الله ایمان والوں کا مددگار ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
258کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراھیم سے اس کے رب کی بابت جھگڑا کیا اس لیے کہ الله نے اسے سلطنت دی تھی جب ابراھیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اس نے کہا میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں کہا ابراھیم نے بے شک الله سورج مشرق سے لاتا ہے تو اسے مغرب سے لے آ تب وہ کافر حیران رہ گیا اور الله بے انصافوں کی سیدھی راہ نہیں دکھاتا
259یا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو ایک شہر پر گزرا اور وہ اپنی چھتوں پر گرا ہوا تھاکہا اسے الله مرنے کے بعد کیوں کر زندہ کرے گا پھر الله نے اسے سو برس تک مار ڈالا پھر اسے اٹھایا کہا تو یہاں کتنی دیر رہا کہا ایک دن یا اس سے کچھ کم رہا فرمایا بلکہ تو سو برس رہا ہے اب تو اپنا کھانا اور پینا دیکھ وہ تو سڑا نہیں اور اپنے گدھے کو دیکھ اور ہم نے تجھے لوگوں کے واسطے نمونہ چاہا ہے اور ہڈیوں کیطرف دیکھ کہ ہم انہیں کس طرح ابھار کر جوڑدیتے ہیں پھر ان پر گوشت پہناتے ہیں پھر اس پر یہ حال ظاہر ہوا تو کہا میں یقین کرتا ہو ں کہ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
260اور یاد کر جب ابراھیم نے کہا اے میرے پروردگار! مجھ کو دکھا کہ تو مردے کو کس طرح زندہ کرے گا فرمایا کہ کیا تم یقین نہیں لاتے کہا کیوں نہیں لیکن اس واسطے چاہتاہوں کہ میرے دل کو تسکین ہو جائے فرمایا تو چار جانور اڑنے والے پکڑے پھر انہیں اپنے ساتھ ہلا لے پھر ہر پہاڑ پر ان کے بدن کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دے پھر ان کو بلا تیرے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اور جان لے کہ بے شک الله زبردست حکمت والا ہے
261ان لوگوں کی مثال جو الله کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ کہ اگائے سات بالیں ہر بال میں سو سو دانے اور الله جس کے واسطے چاہے بڑھاتا ہے اور الله بڑی وسعت جاننے والا ہے
262جو لوگ اپنے مال الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں انہیں کے لیے اپنے رب کے ہاں ثواب ہے اوران پر نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
263مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو اور الله بے پرواا نہایت تحمل والا ہے
264اے ایمان والو! احسان رکھ کر اور ایذا دے کے اپنی خیرات کو ضائع نہ کرو اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور الله پر اور قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتا سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف پتھر کہ اس پر کچھ مٹی پڑی ہو پھر اس پر زور کا مینہ برساپھر اسی کو بالکل صاف کر دیا ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا ہاتھ بھی نہ لگے گی اور الله کافروں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا
265اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال الله کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور اپنے دلوں کو مضبوط کر کے خرچ کرتے ہیں ایسی ہے جس طرح بلند زمین پر ایک باغ ہو اس پر زور کا مینہ برسا تو وہ باغ اپنا پھل دوگنا لایا اور اگر اس پر مینہ نہ برسایا تو شبنم ہی کافی ہے اور الله تمہارے کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے
266کیا تم میں کسی کو یہ بات پسند آتی ہے کہ اس کا ایک باغ کھجور اور انگور کا ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں اسے اس باغ میں اوربھی ہر طرح کا میوہ حاصل ہو اور اس پر بڑھاپا آ گیا ہو اور اس کی اولاد ضعیف ہو تب اس باغ پرایک بگولہ آ پڑا جس میں آگ تھی جس سے وہ باغ جل گیا الله تمہیں اس طرح نشانیاں سمجھاتا ہے تاکہ تم سوچا کرو
267اے ایمان والو! اپنی کمائی میں سے ستھری چیزیں خرچ کرو اور اس چیز میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہے اور اس میں سے ردی چیز کا ارادہ نہ کرو کہ اس کو خرچ کرو حالانکہ تم اسے کبھی نہ لو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ اور سمجھ لو کہ بے شک الله بے پرواہ تعریف کیا ہوا ہے
268شیطان تمہیں تنگدستی کا وعدہ دیتا ہے اور بے حیائی کا حکم کرتا ہے اور الله تمہیں اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے اور الله بہت کشائش کرنے والا سب کچھ جاننے والا ہے
269جس کو چاہتا ہے سمجھ دے دیتا ہے اور جسے سمجھ دی گئی تو اسے بڑی خوبی ملی اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں
270اورجو تم خیرات کے طور پر خرچ کرو گے یا تم کوئی منت مانگوگے تو بے شک الله کو سب معلوم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے
271اگر تم خیرات ظاہر کرکے دو تو بھی اچھی بات ہے اور اگر اسے چھپا کردو اور فقیروں کو پہنچادو تو تمہارے حق میں وہ بہتر ہے اور الله تمہارے کچھ گناہ دور کر دے گا اور الله تمہارے کاموں سے خوب خبر رکھنے والا ہے
272انہیں راہ پر لانا تیرے ذمہ نہیں اور لیکن الله جسے چاہے راہ پر لاتا ہے اور جو مال تم خرچ کرو گے اس کا نفع تمہاری جان کے لیے ہےاور الله ہی کی رضا مندی کے لیے خرچ کرو اور جو اچھی چیز تم خرچ کرو گے اس کا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا ااور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا
273خیرات ان حاجت مندوں کے لیے ہے جو الله کی راہ میں رکےہوئے ہیں ملک میں چل پھر نہیں سکتے ناواقف ان کے سوال نہ کرنے سے انہیں مال دار سمجھتا ہے تو ان کے چہرے سے پہچان سکتا ہے لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے اور جو کام کی چیز تم خرچ کرو گے بے شک وہ الله کو معلوم ہے
274جو لوگ اپنے مال الله کی راہ میں رات اوردن چھپا کر اور ظاہر خرچ کرتے ہیں تو ان کے لیےاپنے رب کے ہاں ثواب ہے ان پر نہ کوئي ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
275جو لوگ سود کھاتے ہیں قیامت کے دن وہ نہیں اٹھیں گے مگر جس طرح کہ وہ شخص اٹھتا ہے جس کے حواس جن نے لپٹ کر کھو دیئے ہیں یہ حالت ان کی اس لیے ہوگی کہ انہوں نے کہا تھا کہ سوداگری بھی تو ایسی ہی ہے جیسےسود لینا حالانکہ الله نے سوداگری کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے پھر جسے اپنے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اوروہ باز آ گیا تو جو پہلے لے چکا ہے وہ اسی کا رہا اور اس کا معاملہ الله کے حوالہ ہے اور جو کوئی پھر سود لے وہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
276الله سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور الله کسی ناشکرے گناہگار کو پسندنہیں کرتا
277جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور نماز کو قائم رکھا اور زکواةٰ دیتے رہے تو ان کے رب کے ہاں ان کااجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
278اے ایمان والو! الله سے ڈرو اور جو کچھ باقی سود رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو
279اگر تم نے نہ چھوڑا تو الله اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارےخلاف اعلان جنگ ہے اور اگرتوبہ کرلوتو اصل مال تمھارا تمہارے واسطے ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا
280اور اگر وہ تنگ دست ہے تو آسودہ حالی تک مہلت دینی چاہیئے اور بخش دو تو تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
281اور اس دن سے ڈرو جس دن الله کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا
282اے ایمان والو! جب تم کسی وقت مقرر تک آپس میں ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور چاہیئے کہ تمہارے درمیان لکھنے والے انصاف سے لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اس کو الله نے سکھایا ہے سو اسے چاہیئے کہ لکھ دے اور وہ شخص بتلاتا جائے کہ جس پر قرض ہے اور الله سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں کچھ کم کر کے نہ لکھائے پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بے وقوف ہے یا کمزور ہے یا وہ بتلا نہیں سکتا تو اس کا کارکن ٹھیک طور پر لکھوا دے اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہو ں میں سے پسند کرتے ہوتاکہ اگر ایک ان میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو انکار نہ کریں اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کی معیاد تک لکھنے میں سستی نہ کرو یہ لکھ لینا الله کے نزدیک انصاف کو زیادہ قائم رکھنے والا ہے اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ تم کسی شبہ میں نہ پڑو مگر یہ کہ سوداگری ہاتھوں ہاتھ ہو جسے آپس میں لیتے دیتے ہو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اسے نہ لکھو اور جب آپس میں سودا کرو تو گواہ بنا لو اور لکھنے والے اور گواہ بنانے والے کو تکلیف نہ دی جائے اور اگر تم نے تکلیف دی تو تمہیں گناہ ہوگا اور الله سے ڈرو اور الله تمہیں سکھاتا ہے اور الله ہر چیز کا جاننے والا ہے
283اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو گروی پر قبضہ کیا جائے اور اگر ایک تم میں سے دوسرے پر اعتبار کرے تو چاہیئے کہ کہ وہ شخص امانت ادا کردے جس پر اعتبار کیا گیا اور اپنے الله سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو شخص اسے چھپائے گا تو بے شک اس کا دل گناہگار ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو الله خوب جانتا ہے
284جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور اگر تم اپنے دل کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے الله تم سے اس کا حساب لے گا پھر جس کو چاہے بخشے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا اور الله ہر چیز پر قادر ہے
285رسول نے مان لیا جو کچھ اس پر اس کے رب کی طرف سے اترا ہے اور مسلمانوں نے بھی مان لیا سب نے الله کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو مان لیا ہے کہتے ہیں کہ ہم الله کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور مان لیا اے ہمارے رب تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے
286الله کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا نیکی کا فائدہ بھی اسی کو ہو گا اور برائی کی زد بھی اسی پر پڑے گی اے رب ہمارے! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا اے رب ہمارے! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہیں اور ہمیں معاف کر دے اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا کارساز ہے کافروں کے مقابلہ میں تو ہماری مدد کر
Chapter 3 (Sura 3)
1المۤ
2الله اس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ ہے نظام کائنات کا سنبھالنے والا ہے
3اس نے تجھ پر یہ سچی کتاب نازل فرمائی جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے اس کتاب سے پہلے تورات اور انجیل نازل فرمائی
4وہ کتابیں لوگوں کے لیے راہ نما ہیں اور اسی نے فیصلہ کن چیزیں نازل فرمائیں بے شک جو لوگ الله کی آیتوں سے منکر ہوئے ان کے لیے سخت عذاب ہے اور الله تعالیٰ زبردست بدلہ دینے والا ہے
5الله پر زمین اور آسمان میں کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں
6وہی جس طرح چاہے ماں کے پیٹ میں تمہارا نقشہ بناتا ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں زبردست حکمت والا ہے
7وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اس میں بعض آیتیں محکم ہیں (جن کے معنیٰ واضح ہیں) وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری مشابہ ہیں (جن کے معنیٰ معلوم یا معین نہیں) سو جن لوگو ں کے دل ٹیڑھے ہیں وہ گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی غرض سے متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں اور حالانکہ ان کا مطلب سوائے الله کے اور کوئی نہیں جانتا اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہمارا ان چیزوں پر ایمان ہے یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت وہی لوگ مانتے ہیں جو عقلمند ہیں
8اے رب ہمارے! جب تو ہم کو ہدایت کر چکا تو ہمارے دلوں کا نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں رحمت عطافرما بے شک تو بہت زیادہ دینے والا ہے
9اے ہمارے رب! توایک دن سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے جس میں کوئی شک نہیں بے شک الله اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا
10بے شک جو لوگ کافر ہیں ان کے مال او ران کی اولاد الله کے مقابلے میں ہر گز کام نہیں آئیں گے اوروہ لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں
11جس طرح فرعون والوں اور ان سے پہلے لوگوں کا معاملہ تھا انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا پھر الله نے ان کے گناہوں کے سبب سے انہیں پکڑا اور الله سخت عذاب دینے والا ہے
12کافروں کو کہہ دے کہ اب تم مغلوب ہو گئے اور دوزخ کی طرف اکھٹے کیے جاؤ گے اوروہ برا ٹھکانہ ہے
13تمہارے سامنے ایک نمونہ دو فوجوں کا گزر چکا ہے جو آپس میں ملیں ایک فوج الله کی راہ میں لڑتی ہے اور دوسری فوج کافروں کی ہے وہ کافر مسلمانوں کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے آنکھوں کے دیکھنے سے اور االله جسے چاہے اپنی مدد سے قوت دیتا ہے اس واقعہ میں دیکھنے والوں کے لیے عبرت ہے
14لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہوا ہے جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور الله ہی کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے
15کہہ دے کیا میں تم کو اس سے بہتر بناؤں پرہیزگاروں کے لیے اپنے رب کے ہاں باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاک عورتیں ہیں اور الله کی رضا مندی ہے اور الله بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے
16وہ جو کہتے ہیں اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے ہیں سو ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے
17وہ صبر کرنے والے ہیں اور سچے ہیں اور فرمانبرداری کرنے والے ہیں اور خرچ کرنے والے ہیں اور پچھلی راتوں میں گناہ بخشوا نے والے ہیں
18الله نے اور فرشتوں نے اور علم والوں نے گواہی دی کہ اس کے سوا اورکوئی معبود نہیں وہی انصاف کا حاکم ہے اس کے سوا اورکوئی معبود نہیں زبردست حکمت والا ہے
19بےشک دین الله کے ہاں فرمابرداری ہی ہے اور جنہیں کتاب دی گئی تھی انہوں نے صحیح علم ہونے کے بعد آپس کی ضد کے باعث اختلاف کیا اور جو شخص الله کے حکموں کا انکار کرے تو الله جلد ہی حساب لینے والا ہے
20پھربھی اگر تجھ سے جھگڑیں تو ان سے کہہ دے کہ میں نے اپنا منہ الله کے تابع کیا ہے ان لوگوں نے بھی جو میرے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے کہہ دے جنہیں کتاب دی گئی ہے اور ان پڑھوں سے آیا تم بھی تابع ہوتے ہو پھر اگر وہ تابع ہو گئے تو انہوں نے بھی سیدھی راہ پالی اور اگر وہ منہ پھیریں تو تیرے ذمہ فقط پہنچا دینا ہے اور الله بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے
21بے شک جولوگ الله کے حکموں کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں سو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیے
22یہی وہ لوگ ہیں جنکی دنیا اور آخرت میں محنت ضائع ہو گئی اور ان کا کوئی مددگار نہیں
23کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں ایک حصہ کتاب کا ملا وہ الله کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ کتاب ان میں فیصلہ کرے پھر ایک فرقہ ان میں سے پھر جاتا ہے ایسے حال میں کہ وہ منہ پھیرنے والے ہوتے ہیں
24یہ ا سلیے ہےکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہرگز آگ نہیں لگے گی مگر چند دن گنتی کے اور ان کی بنائی ہوئی باتوں نے انہیں دین میں دھوکہ دیا ہوا ہے
25پھر ان کا کیا ہوگا جب ہم انہیں ایک دن جمع کریں گے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں اور ہر کسی کواپنی کمائی کا اجر پورا دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
26تو کہہ اے الله! بادشاہی کے مالک! جسے تو چاہتا ہے سلطنت دیتاہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے توچاہے ذلیل کرتا ہے سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز قادر ہے
27تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سےنکالتا ہے اور جسے تو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے
28مسلمان مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائيں اور جوکوئی یہ کام کریں اسے الله سے کوئی تعلق نہیں مگر اس صورت میں کہ تم ان سے بچاؤ کرنا چاہو اور الله تمہیں اپنے سے ڈراتا ہے اور الله ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
29تو کہہ دے اگر تم اپنے دل کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اسے الله جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اسے جانتا ہے اور الله ہر چیز ہر قادر ہے
30جس دن ہرشخص موجود پائے گا اپنے سامنے اس نیکی کو جو اس نے کی تھی اور جو کچھ کہ اس نے برائی کی تھی اس دن چاہے گا کہ کاش درمیان اس کے اور درمیان اس کی برائی کے مسافت دور کی ہو اور الله تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور الله بندوں پر شفقت کرنے والا ہے
31کہہ دو اگر تم الله کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے الله محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور الله بخشنے والا مہربان ہے
32کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر وہ منہ موڑیں تو الله کافروں کو دوست نہیں رکھتا
33بے شک اللهنے آدم کو اور نوح کو اور ابراھیم کی اولاد کو اور عمران کی اولاد کو سارے جہان سے پسند کیاہے
34جو ایک دوسرے کی اولاد تھے اور الله سننے والا جاننے والا ہے
35جب عمران کی عورت نے کہا اے میرے رب جو کچھ میرے پیٹ میں ہے سب سے آزاد کر کے میں نےتیری نذر کیا سو تو مجھ سے قبول فرما بے شک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے
36پھر جب اسے جنا کہا اے میرے رب! میں نے تو وہ لڑکی جنی ہے اور جو کچھ اس نے جنا ہے الله اسے خوب جانتا ہے اور بیٹا بیٹی کی طرح نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے بچا کر تیری پناہ میں دیتی ہوں
37پھر اسے اس کے رب نے اچھی طرح سے قبول کیا اور اسے اچھی طرح بڑھایا اور وہ زکریا کو سونپ دی جب زکریا اس کے پاس حجرہ میں آتے تو اس کے پاس کچھ کھانے کی چیز پاتے کہتے اے مریم! تیرے پاس یہ چیز کہاں سے آئی ہے وہ کہتی یہ الله کے ہاں سے آئی ہے الله جسے چاہے بے قیاس رزق دیتا ہے
38زکریا نے وہیں اپنے رب سے دعا کی کہا اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما بے شک تو دعا کا سننے والا ہے
39پھر فرشتوں نے اس کو آواز دی جب وہ حجرے کے اندر نماز میں کھڑے تھے کہ بے شک الله تجھ کو یحییٰ کو خوشخبری دیتا ہے جو الله کے ایک حکم کی گواہی دے گا اور سردار ہوگا اور عورت کے پاس نہ جائے گا اور صالحین میں سے نبی ہوگا
40کہا اے میرے رب! میرا لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ میں بڑھاپے کو پہنچ چکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے فرمایا الله اسی طرح جو چاہتا ہے کرتا ہے
41کہا اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر فرمایا تیرے لیے یہ نشانی ہے کہ تو لوگوں سے تین دن سوائے اشارہ کے بات نہ کر سکے گا اور اپنے رب کو بہت یاد کر اور شام اور صبح تسبیح کر
42اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک الله نے تجھے پسند کیا ہے تجھے پاک کیا ہے اور تجھے سب جہان کی عورتوں پر پسند کیا ہے
43اے مریم! اپنے رب کی بندگی کر اور سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر
44یہ غیب کی خبریں ہیں ہم بذریعہ وحی تمہیں اطلاع دیتے ہیں اورتو ان کے پاس نہیں تھا جب اپنا قلم ڈالنے لگے تھے کہ مریم کی کون پرورش کرے اور تو ان کے پاس نہیں تھا جب کہ وہ جھگڑتے تھے
45جب فرشتوں نے کہا اے مریم! الله تجھ کو ایک بات کی اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے اس کا نام مسیح عیسیٰ بیٹا مریم کا ہوگا دنیا اور آخرت میں مرتبے والا اور الله کے مقربوں میں سے ہو گا
46اور جب کہ وہ ماں کی گود میں ہوگا تو لوگوں سے باتیں کرے گا اور جبکہ وہ ادھیڑ عمر کا ہوگا اور نیکوں میں سے ہوگا
47مریم نے کہا اے میرے رب! مجھے بیٹا کیسے ہو گا حالانکہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا فرمایا اسی طرح الله جو چاہے پیدا کرتا ہےجب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے
48اور اس کو کتاب سکھائے گا اور دانش عطا فرمائے گا اور توریت اور انجیل
49اور اس کو بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گا بے شک میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانیاں لے کر آیا ہوں کہ میں تمہیں مٹی سے ایک پرندہ کی شکل بنادیتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں اور وہ الله کے حکم سے اڑتا جانور ہو جاتا ہے اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کردیتا ہوں اور الله کے حکم سے مردے زندہ کرتا ہوں اور تمہیں بتا دیتا ہوں جو کھا کر آؤ اور جواپنے گھروں میں رکھ کر آؤ اس میں تمہار لیے نشانیاں ہیں اگر تم ایماندار ہو
50اور مجھ سے پہلی کتاب جو تورات ہے اس کی تصدیق کرنے والاہوں اور تا کہ تم کو بعض چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام تھیں اور تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں سو الله سے ڈرو اور میرا کہنا مانو
51بے شک الله ہی میرا اور تمہارا رب ہے سو اسی کی بندگی کرو یہی سیدھا راستہ ہے
52جب عیسیٰ نے بنی اسرائیل کاکفر معلوم کیا تو کہاکہ الله کی راہ میں کون میرا مددگار ہے حواریو ں نے کہا ہم الله کے دین کی مدد کرنے والے ہیں ہم الله پر یقین لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم فرمانبرادر ہونے والے ہیں
53اے رب ہمارے! ہم اس چیز پر ایمان لائے جو تو نے نازل کی اور ہم رسول کے تابعدار ہوئے سو تو ہمیں گواہی دینے والوں میں لکھ لے
54اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور الله نے بھی خفیہ تدبیر فرمائی اور الله بہترین خفیہ تدبیر کرنے والو ں میں سے ہے
55جس وقت الله نے فرمایا اے عیسیٰ! بے شک میں تمہیں وفات دینے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور جو لوگ تیرے تابعدار ہوں گے انہیں ان لوگوں پر قیامت کے دن تک غالب رکھنے والا ہوں جو تیرے منکر ہیں پھر تم سب کو میری طرف لوٹ کر آنا ہوگا پھر میں تم میں فیصلہ کروں گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے
56سو جو لوگ کافر ہوئے انہیں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا
57اورجو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے انہیں ان کا حق پورا پورا دے گا اور الله ظالموں کو پسند نہیں کرتا
58یہ آیتیں ہم تمہیں پڑھ کر سناتے ہیں اور نصیحت حکمت والی
59بے شک عیسیٰ کی مثال الله کے نزدیک آدم کی سی ہے اسے مٹی سے بنایا پھر اسے کہا کہ ہو جا پھر ہو گیا
60حق وہی ہے جو تیرا رب کہے پھر تو شک کرنے والو ں میں سے نہ ہو
61پھر جو کوئی تجھ سے اس واقعہ میں جھگڑے بعد اس کے کہ تیرے پاس صحیح علم آ چکا ہے تو کہہ دے آؤ ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں بلائیں پھر سب التجا کریں اور الله کی لعنت ڈالیں ان پر جو جھوٹے ہوں
62بے شک یہی سچا بیان ہے اور الله کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور بے شک الله ہی زبردست حکمت والا ہے
63پھر اگر پھر جائیں تو بے شک الله فساد کرنے والوں کو جانتا ہے
64کہہ اے اہلِ کتاب! ایک بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ سوائے الله کے اور کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں اور سوائے الله کے کوئی کسی کو رب نہ بنائے پس اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ ہم تو فرمانبردار ہونے والے ہیں
65اے اہلِ کتاب! ابراھیم کے معاملہ میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل تو اس کے بعد اتری ہیں کیا تم یہ نہیں سجحھتے
66ہاں! تم وہ لوگ ہو جس چیز کا تمہیں علم تھا اس میں تو جھگڑے پس اس چیز میں کیوں جھگڑتے ہو جس چیز کا تمہیں علم ہی نہیں اور الله جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
67ابراھیم نہ یہوودی تھے اور نہ نصرانی لیکن سیدھے راستے والے مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
68لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ابراھیم کے وہ لوگ تھے جنہوں نے اس کی تابعداری کی اور یہ نبی اور جو اس نبی پر ایمان لائے اور الله ایمان والوں کا دوست ہے
69بعض اہلِ کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم کو گمراہ کردیں اور گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور نہیں سمجتے
70اے اہلِ کتاب! الله کی آیتو ں کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم گواہ ہو
71اے اہلِ کتاب! سچ میں جھوٹ کیوں ملاتے ہو اور سچی بات کو چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو
72اور اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے کہا جو کچھ مسلمانوں پر اترا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کر دو شاید کہ وہ پھر جائیں
73اوراپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو ان سے کہہ دو کہ بے شک ہدایت وہی ہے جو الله ہدایت کرے اور یہ بات نہ مانو کہ کوئی شخص دیا جا سکتا ہے مثل اس کے کہ تم دیے گئے ہو یا کوئی گروہ خدا کے ہاں تم پر الزام قائم کرسکتا ہے ان سے کہہ دو کہ فضل الله کے اختیار میں ہے جسے چاہے وہ دیتا ہے اور الله کشائش والا جاننے والا ہے
74جسے چاہے اپنی مہربانی سے خاص کرتا ہے اور الله بڑے فضل والا ہے
75اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ اگر تو ان کے پاس ایک ڈھیر مال کا امانت رکھے وہ تجھ کو ادا کریں اور بعضے ان میں سے وہ ہیں اگر تو ان کے پاس ایک اشرفی امانت رکھے تو بھی تجھے واپس نہیں کریں گے ہاں جب تک کہ تو اس کے سر پر کھڑا رہے یا اس واسطے ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم پر ان پڑھ لوگوں کا حق لینے میں کوئی گناہ نہیں اور الله پر وہ جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں
76گناہ کیوں نہ ہوگا جس شخص نے اپنا عہد پورا کیا اور الله سے ڈرا تو بے شک پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے
77بے شک جو لوگ الله کے عہد اور اپنی قسمو ں کے بدلے حقیر معاوضہ لیتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور ان سے الله کلام نہیں کرے گا اور قیامت کے دن ان کی طرف نہ دیکھے گا اور انہیں پاک بھی نہ کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
78اوربے شک ان میں سے ایک جماعت ہے کہ کتاب کو زبان مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم یہ خیال کرو کہ وہ کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اوروہ کہتے ہیں کہ الله کے ہاں سے ہے حالانکہ وہ الله کے ہاں سے نہیں ہے اور الله پر جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں
79کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ الله اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ الله کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ لیکن کہے گا کہ تم لوگ الله والے بن جاؤ اس لیے کہ تم الله کی کتاب سکھاتے ہو اوراس واسطے کہ تم پڑھتے ہو
80اورنہ یہ جائز ہے کہ تمہیں حکم کرے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو کیا وہ تمہیں کفر سکھائے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو چکے ہو
81اورجب الله نے نبیوں سے عہد لیا اور البتہ جو کچھ میں تمہیں کتاب ابور علم سے دوں پھر تمہارے پاس پیغنبر آئے جو اس چیز کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے البتہ اس پر ایمان لے آنا اور البتہ اس کی مدد کرنا فرمایا کیاتم نے اقرار کیا اور اس شرط پر میرا عہد قبول کیا انہوں نے کہا ہم نے اقرار کیا الله نے فرمایا تو اب تم گواہ رہو میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں
82پھر جو کوئی اس کے بعد پھر جائے تو وہی لوگ نافرمان ہیں
83کیا الله کے دین کے سوا کوئی اور دین تلاش کرتے ہیں حالانکہ جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے خوشی سے یا لاچاری سے سب اسی کے تابع ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے
84کہہ دو ہم الله پر ایمان لائے اور جو کچھ ہم پر نازل کیاگیا اور جو کچھ ابراھیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر نازل کیا گیا اور جو کچھ موسیٰ اور عیسیٰ اور سب نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ملا ہم ان میں سے کسی کو جدا نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں
85اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین چاہے تو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا
86الله ایسے لوگوں کو کیونکر راہ دکھائے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور گواہی دے چکے ہیں کہ بے شک یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں آئی ہیں اور الله ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا
87ایسے لوگوں کی یہ سزا ہے کہ ان پر الله اور فرشتوں اور سب لوگو ں کی لعنت ہو
88اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے
89مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور نیک کام کیے تو بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
90بے شک جو لوگ ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے پھر انکار میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہر گز قبول نہیں کی جائے گی اور وہی گمراہ ہیں
91بے شک جو لوگ کافر ہوئے اور کفر کی حالت میں مر گئے تو کسی ایسے سے زمین بھر کر سونا بھی قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ اس قدر سونا بدلے میں دے ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا
92ہر گز نیکی میں کمال حاصل نہ کر سکو گے یہاں تک کہ اپنی پیاری چیز سے کچھ خرچ کرو اور جو چیز تم خرچ کرو گے بے شک الله اسے جاننے والا ہے
93بنی اسرائیل کے لیے سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں مگر وہ چیز جو اسرائیل نے تورات نازل ہونے سے پہلےاپنے اوپر حرام کی تھی کہہ دو تورات لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو
94پھر جس شخص نے اس کے بعد الله پر جھوٹ بنایا وہی بڑے بے انصاف ہیں
95کہہ دو الله نے سچ فرمایا ہے اب ابراھیم کے دین کے تابع ہو جاؤ جوایک ہی کےہو گئے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
96بے شک لوگوں کے واسطے جو سب سے پہلا گھر مقرر ہوا یہی ہے جو مکہ میں برکت والا ہے اور جہان کے لوگوں کے لیے راہ نما ہے
97اس میں ظاہر نشانیاں ہیں مقام ابراھیم ہے اور جو اس میں داخل ہو جائے وہ امن والا ہو جاتا ہے اور لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا الله کا حق ہے جو شخص اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو اور جو انکار کرے تو پھر الله جہان والوں سے بے پرواہ ہے
98کہہ دواے اہلِ کتاب الله کیا آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو الله اس پر گواہ ہے
99کہہ دواے اہلِ کتاب الله کی راہ سے کیوں روکتے ہو اس شخص کو جو ایمان لائے اس میں عیب ڈھونڈتے ہو اورتم خود جانتے ہو اور تمہارے کام سے الله بے خبر نہیں ہے
100اے ایمان والو اگرتم اہلِ کتاب کی کسی جماعت کابھی کہا مانو گےتو وہ تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر کر دیں گے
101اور تم کس طرح کافر ہو گے حالانکہ تم پر الله کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور اس کا رسول تم میں موجود ہے اور جو شخص الله کو مضبوط پکڑے گا تو اسے ہی سیدھے راستے کی ہدایت کی جائے گی
102اے ایمان والو الله سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنا چاہیئے اور نہ مرد مگر ایسے حال میں کہ تم مسملمان ہو
103اور سب مل کر الله کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو اور الله کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم آپس میں دشمن تھے پھر تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پھر تم اس کے فضل سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے پھر تم کو اس سے نجات دی اس طرح تم پر الله اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ
104اور چاہیئے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو نیک کام کی طرف بلاتی رہے اوراچھے کاموں کا حکم کرتی رہے اور برے کاموں سے روکتی رہے اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں
105ان لوگو ں کی طرح مت ہو جو متفرق ہو گئے بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح احکام آئے انہوں نے اختلاف کیا اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے
106جس دن بعضے منہ سفید اور بعضے منہ سیاہ ہوں گے سو وہ جن کے منہ سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم ایمان لا کر کافر ہو گئے تھے اب اس کفر کرنےکے بدلے میں عذاب چکھو
107اور وہ لوگ جن کے منہ سفید ہوں گے تو وہ الله کی رحمت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
108یہ الله کے احکام ہیں ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں اور الله مخلوقات پر ظلم نہیں کرنا چاہتا
109اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب الله ہی کا ہے اور سب کام الله ہی کے طرف پھیرے جاتے ہیں
110تم سب امتوں میں سے بہتر ہو جو لوگوں کے لیے بھیجی گئی ہیں اچھے کاموں کا حکم کرتے رہو اور برے کاموں سے روکتے رہو اور الله پر ایمان لاتے ہو اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر تھا کچھ ان میں سے ایماندار ہیں اور اکثر ان میں سے نافرمان ہیں
111وہ زبان سے ستانے کے سوا تمہارا اور کچھ بگاڑ نہ سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر دیں گے پھر مدد نہیں دیے جائیں گے
112ان پر ذلت لازم کی گئی ہے جہاں وہ پائے جائیں گے مگر ساتھ الله کی پناہ کے اور لوگو ں کی پناہ کے اور وہ الله کے غضب کے مستحق ہوئے اور ان پر پستی لازم کی گئی یہ اس واسطے ہے کہ الله کی نشانیوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے نکل جاتے تھے
113وہ سب برابر نہیں اہل کتاب میں سے ایک فرقہ سیدھی راہ پر ہے وہ رات کے وقت الله کی آیتیں پڑھتے ہیں اور وہ سجدے کرتے ہیں
114الله اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور اچھی بات کا حکم کرتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑتے ہیں اور وہی لوگ نیک بخت ہیں
115وہ لوگ جو نیک کام کریں گے اس سے محروم نہ کیے جائیں گے اور الله پرہیزگارو ں کا جاننے والا ہے
116بے شک جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد الله کے مقابلے میں کچھ کام نہ آئیں گے اوروہی لوگ دوزخی ہیں وہ اس آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
117اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک ہوا ہو جس میں تیز سردی ہو وہ ایسے لوگو ں کی کھیتی کو لگ جائے جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تھا پھر ا سکو برباد کر گئی اور الله نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنے او پر ظلم کرتے ہیں
118اے ایمان والو اپنوں کے سوا کسی کو بھیدی نہ بناؤ وہ تمہاری خرابی میں قصور نہیں کرتے جو چیز تمہیں تکلیف دے وہ انہیں پسند آتی ہے ان کے مونہوں سے دشمنی نکل پڑتی ہے اور جو ان کے سینے میں چپھی ہوئي ہے وہ بہت زیادہ ہے ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو
119سن لو تم ان کے دوست ہو اور وہ تمہارے دوست نہیں اور تم تو سب کتابوں کو مانتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں کہہ دو تم اپنے غصہ میں مرو الله کو دلوں کی باتیں خوب معلوم ہیں
120اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے توانہیں بری لگتی ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری کرو تو ان کے فریب سے تمہارا کچھ نہ بگڑے گا بے شک الله ان کے اعمال پر احاطہ کرنے والا ہے
121اور جب تو صبح کو اپنے گھر سے نکلا مسلمانوں کو لڑائی کا ٹھکانے پر بٹھا رہا تھا اور الله سننے والا جاننے والا ہے
122جب تم میں سے دو جماعتوں نے قصد کیا کہ نامردی کریں اور الله ا ن کا مددگار تھا اور چاہیئے کہ الله ہی پر مسلمان بھروسہ کریں
123اور الله بدر کی لڑائی میں تمہاری مدد کر چکا ہے حالانکہ تم کمزور تھے پس الله سے ڈرو تاکہ تم شکر کرو
124جب تو مسلمانوں کو کہتا تھا کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کے لیے تین ہزار فرشتے آسمان سے اترنے والے بھیجے
125بلکہ اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری کرو اور وہ تم پر ایک دم سے آ پہنچیں تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتے نشان دار گھوڑوں پر مدد کے لیے بھیجے گا
126اوراس چیز کواللہ نے تمہارے دل کی خوشی کے لیے کیا ہے اور تاکہ تمہارے دلوں کو اس سے اطمینان ہو اورمدد تو صرف الله ہی کی طرف سے ہے جو زبردست حکمت والا ہے
127تاکہ بعض کافروں کو ہلاک کرے یا انہیں ذلیل کرے پھر وہ ناکام ہو کر لوٹ جائیں
128تیرا کوئی اختیار نہیں ہے یا الله انہیں توبہ کی توفیق دے یاانہیں عذاب کرے کیوں کہ وہ ظالم ہیں
129اور جو کچھ آسمانو ں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب الله ہی کا ہے جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور الله بخشنے والا مہربان ہے
130اے ایمان والو سود دونے پر دونا نہ کھاؤ اور الله سے ڈرو تاکہ تمہارا چھٹکارا ہو
131اوراس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے
132اور الله اور رسول کی تابعداری کرو تاکہ تم پر رحم کیے جاؤ
133اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اوربہشت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین ہے جوپرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے
134جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور الله نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
135اور وہ لوگ جب کوئی کھلا گناہ کر بیٹھیں یا اپنے حق میں ظلم کریں تو الله کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں سے بخشش مانگتے ہیں اور سوائے الله کے اور کون گناہ بخشنے والا ہے اور اپنے کیے پر وہ اڑتے نہیں اور وہ جانتے ہیں
136یہ لوگ ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں سے بخشش ہے اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان باغوں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور کام کرنے والوں کی کیسی اچھی مزدوری ہے
137تم سے پہلے کئی واقعات ہو چکے ہیں سو زمین میں سیر کرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا
138یہ لوگوں کے واسطے بیان ہے اور ڈرنے والوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے
139اورسست نہ ہو اور غم نہ کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے
140اگر تمہیں زخم پہنچا ہےتو انہیں بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں اور تاکہ الله ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے بعضوں کو شہید کرے اور الله ظالموں کو پسند نہیں کرتا
141اور تاکہ الله ایمان والوں کو پاک کردے اور کافروں کو مٹا دے
142کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور ابھی تک الله نے نہیں ظاہرکیا ان لوگوں کو جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور ابھی صبر کرنے والوں کو بھی ظاہر نہیں کیا
143اور تم موت سے پہلے اس کی ملاقات کی آرزو کرتے تھے سو اب تم نے اسے آنکھوں کے سامنہ دیکھ لیا
144اور محمد تو ایک رسول ہے اس سے پہلے بہت رسول گزرے پھرکیا اگر وہ مرجائے یا مارا جائے تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو کوئی الٹے پاؤں پھر جائے گا تو الله کا کچھ بھی نہیں بگاڑے گا اور الله شکر گزاروں کو ثواب دے گا
145اور الله کے حکم کے سوا کوئی مر نہیں سکتا ایک وقت مقرر لکھا ہوا ہے اور جو شخص دنیا کا بدلہ چاہے گا ہم اسے دنیا ہی میں دے دیں گے اور جو آخرت کا بدلہ چاہے گا ہم اسے دنیاہی میں دے دینگے اور ہم شکر گزاروں کو جزا دیں گے
146اور کئی نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت الله والے لڑے ہیں پھر الله کی راہ میں تکلیف پہنچنے پر نہ ہارے ہیں اور نہ سست ہوئے اور نہ وہ دبے ہیں اور الله ثابت قدم رہنے والوں کو پسند کرتا ہے
147اور انہوں نے سوائے اس کے کچھ نہیں کہا کہ اے ہمارے رب ہمارے گناہ بخش دے اور جو ہمارے کام میں ہم سے زیادتی ہوئی ہے او رہمارے قدم ثابت رکھ اور کافروں کی قوم پر ہمیں مدد دے
148پھر الله نے ان کو دنیا کا ثواب اور آخرت کا عمدہ بدلہ دیا اور الله نیک کاموں کو پسند کرتا ہے
149اے ایمان والو اگر تم کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تمہیں الٹے پاؤں پھیر دیں گے پھر تم نقصان میں جا پڑو گے
150بلکہ الله تمہارا مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے
151اب ہم کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈال دیں گے اس لیے کہ انہوں نے الله کا شریک ٹھیرایا جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا وہ بہت بڑاٹھکانا ہے
152اور الله تو اپنا وعدہ تم سے سچا کر چکا جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کرنے لگے یہاں تک کہ جب تم نے نامردی کی اور کام میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ تم کو دکھا دی وہ چیز جسے تم پسند کرتے تھے بعض تم میں سے دنیا چاہتے تھے اور بعض تم میں سے آخرت کے طالب تھےپھر تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے اورالبتہ تحقیق تمہیں اس نے معاف کردیا ہے اور اللہ ایمانداروں پر فضل والا ہے
153جس وقت تم چڑھے جاتے تھے اور کسی کو مڑ کر نہ دیکھتے تھے اور رسول تمہیں تمہارےپیچھے سے پکار رہا تھا سو الله نے تمہیں اس کی پاداش میں غم دیا بسبب غم دینے کے تاکہ تم مغموم نہ ہو اس پر جو ہاتھ سے نکل گئی اور نہ اس پر جو تمہیں پیش آئی اور الله خبردار ہے اس چیز سے جو تم کرتے ہو
154پھر الله نے اس غم کے بعد تم پر چین یعنی اونگھ بھیجی اس نے بعضوں کو تم میں سے ڈھانک لیا اور بعضوں کو اپنی جان کا فکر لڑ رہا تھا الله پر جھوٹے خیال جاہلوں جیسے کر رہے تھے کہتے تھے ہمارے ہاتھ میں کچھ کام ہے کہہ دو کہ سب کام الله کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے دل میں چھپاتے ہیں جو تیرے سامنے ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں اگر ہمارے ہاتھ میں کچھ کام ہوتا تو ہم اس جگہ مارے نہ جاتے کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے البتہ اپنے گرنے کی جگہ پرباہر نکل آتے وہ لوگ جن پر قتل ہونا لکھا جا چکا تھا اور تاکہ الله آزمائے جو تمہارے سینوں میں ہے اور تاکہ اس چیز کو صاف کردے جو تمہارے دلوں میں ہے اور الله دلوں کے بھید جاننے والا ہے
155بے شک وہ لوگ جو تم میں پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا اور الله نے ان کو معاف کر دیا ہے بے شک الله بخشنے والا تحمل کرنے والا ہے
156اے ایمان والو تم ان لوگو ں کی طرح نہ ہو جو کافر ہوئے اور وہ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں جب وہ ملک میں سفر پر نکلیں یا جہاد پر جائیں اگر ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے تاکہ الله اس خیال سے ان کے دلوں میں افسوس ڈالے اور الله ہی جلاتا اور مارتا ہے اور الله تمہارے سب کاموں کو دیکھنے والا ہے
157اور اگر تم الله کی راہ میں مارے گئے یا مر گئے تو الله کی بخشش اور اس کی مہربانی اس چیز سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں
158اوراگرتم مرگئے یا مارے گئے تو البتہ تم سب الله ہی کے ہاں جمع کیے جاؤ گے
159پھر الله کی رحمت کے سبب سے تو ان کے لیے نرم ہو گیا اور اگرتو تند خو اور سخت دل ہوتا تو البتہ تیرے گرد سے بھاگ جاتے پس انہیں معاف کردے اور ان کے واسطے بخشش مانگ او رکام میں ان سے مشورہ لیا کر پھر جب تو اس کام کا ارادہ کر چکا تو الله پر بھروسہ کر بے شک الله توکل کرنے والے لوگوں کو پسند کرتا ہے
160ااگر الله تمہاری مدد کرے گا تو تم پر کوئی غالب نہ ہوسکے گا اور اگر اس نے مدد چھوڑ دی تو پھر ایسا کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مسلمانوں کو الله ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے
161اور کسی نبی کو یہ لائق نہیں کہ خیانت کرے گااور جو کوئی خیانت کرے گا اس چیز کو قیامت کے دن لائے گا جو خیانت کی تھی پھر ہر کوئی پورا پالے گا جو اس نے کمایا تھا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے
162آیا وہ شخص جو الله کی رضا کا تابع ہے اس کے برابر ہو سکتا ہے جو غضب الہیٰ کا مستحق ہوا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کیسی وہ بری جگہ ہے
163الله کے ہاں لوگوں کے مختلف درجے ہیں اور الله دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں
164الله نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے جو ان میں انہیں میں سے رسول بھیجا ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور دانش سکھاتا ہے اگرچہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے
165کیا جب تمہیں ایک تکلیف پہنچی حالانکہ تم تو اس سے دو چند تکلیف پہنچا چکے ہو تو کہتے ہو یہ کہاں سے آئی کہہ دو یہ تکلیف تمہیں تمہاری طرف سے پہنچی ہے بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
166اور جو کچھ تمہیں اس دن پیش آیا جس دن دونوں جماعتیں ملیں سو الله کے حکم سے ہوا او رتاکہ الله ایمان دارو ں کو ظاہر کر دے
167اور تاکہ منافقوں کو ظاہر کر دے اور انہیں کہا گیا تھا کہ آؤ الله کی راہ میں لڑو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے کہا اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے وہ اس وقت بہ نسبت ایمان کے کفر سے زیادہ قریب تھے وہ اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلو ں میں نہیں ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں الله اس کو خوب جانتا ہے
168یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں حالانکہ خود بیٹھ رہے تھے اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ کیے جاتے کہہ دو اگر تم سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا دو
169اور جو لوگ الله کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں سے رزق دیے جاتے ہیں
170الله نے اپنے فضل سے جو انہیں دیا ہے اس پر خوش ہونے والے ہیں اور ان کی طرف سے بھی خوش ہوتے ہیں جو ابھی تک ان کے پیچھے سے ان کے پاس نہیں پہنچے اس لئے کہ نہ ان پر خوف ہے او رنہ وہ غم کھائیں گے
171الله کی نعمت اور فضل سے خوش ہوتے ہیں اوراس بات سے کہ الله ایمانداروں کی مزدوری کو ضائع نہیں کرتا
172جن لوگو ں نے الله اور اس کے رسول کا حکم مانا بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکے تھے جو ان میں سے نیک ہیں اور پرہیزگارہوئے ان کے لیے بڑا اجر ہے
173جنہیں لوگوں نے کہا کہ مکہ والوں نے تمہارے مقابلے کے لیے سامان جمع کیا ہے سوتم ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوا اور کہا کہ ہمیں الله کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے
174پھر مسلمان الله کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹ آئے انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور الله کی مرضی کے تابع ہوئے اور الله بڑے فضل والا ہے
175سویہ شیطان ہے کہ اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے پس تم ان سے مت ڈرو اورمجھ سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو
176اور وہ لوگ آپ ے غم میں نہ ڈال دیں جو کفر کی طرف دوڑتے ہیں وہ الله کا کچھ نہیں بگاڑیں گے الله ارادہ کرتا ہے کہ آخرت میں انہیں کوئی حصہ نہ دے اوران کے لیے بڑا عذاب ہے
177جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا وہ الله کا کچھ نہیں بگاڑیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
178اور کافر یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دیتے ہیں یہ ان کے حق میں بھلائی ہے ہم انہیں مہلت اس لیے دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں زیادتی کریں اور ان کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے
179الله مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر اب تم ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے اورالله کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے لیکن الله اپنے رسولوں میں جسے چاہے چن لیتا ہے سو تم الله اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے
180اور جو لوگ اس چیز پر بخل کرتے ہیں جو الله نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے وہ یہ خیال نہ کریں کہ بخل ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ یہ ان کے حق میں براہے قیامت کے دن وہ مال طوق بناا کر ان کے گلوں میں ڈالا جائے گا جس میں وہ بخل کرتے تھے اور الله ہی آسمانوں اور زمین کا وارث ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو الله اسے جانتا ہے
181بے شک الله نے ان کی بات سنی ہے جنہوں نے کہا کہ بے شک الله فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں اب ہم ان کی بات لکھ رکھیں گے اور جو انہوں نے انبیاء کے ناحق خون کیے ہیں اور کہیں گے کہ جلتی آگ کا عذاب چکھو
182یہ اس چیز کے بدلےہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور الله بندوں پر ظلم نہیں کرتا
183وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ الله نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس قربانی لائے کہ اسے آگ کھا جائے کہہ دو مجھ سے پہلے کتنے رسول نشانیاں لے کر تمہارے پاس آئے اور یہ نشانی بھی جو تم کہتے ہو پھر انہیں تم نے کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو
184پھر اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تجھ سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے گئے جو نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتاب لائے
185ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور تمہیں قیامت کے دن پورے پورے بدلے ملیں گے پھر جو کوئی دوزخ سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا سو وہ پورا کامیاب ہوا اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کی پونجی کے اور کچھ نہیں
186البتہ تم اپنے مالوں اور جانوں میں آزمائے جاؤ گے اور البتہ پہلی کتاب والوں اور مشرکوں سے تم بہت بدگوئی سنو گے اور اگر تم نے صبر کیا اور پرہیزگاری کی تو یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے
187اور جب الله نے اہلِ کتاب سے یہ عہد لیا کہ اسے لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اورنہ چھپاؤ گے انہوں نے وہ عہد اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے میں تھوڑا سا مول خرید کیا سو کیا ہی برا ہے جو وہ خریدتے ہیں
188مت گمان کر ان لوگوں کو جو خوش ہوتے ہیں جو کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس چیز کے ساتھ تعریف کیے جائیں جو انہوں نے کی پس ہر گز تو انہیں عذاب سے خلاصی پانے والا خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
189اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی الله ہی کے واسطے ہے اور الله ہر چیز پر قادر ہے
190بے شک آسمان اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آنے جانے میں البتہ عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں
191وہ جو الله کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے ہیں (کہتے ہیں) اے ہمارے رب تو نے یہ بےفائدہ نہیں بنایا توسب عیبوں سے پاک ہے سو ہمیں دوزح کے عذاب سے بچا
192اے رب ہمارے جسے تو نے دوزخ میں داخل کیا سو تو نے اے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا
193ہم نے ایک پکارنے والے سے سنا جو ایمان لانے کو پکارتا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ سو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے اب ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہمارا برائیاں دو رکردے اور ہمیں نیک لوگو ں کے ساتھ موت دے
194اے رب ہمارے او رہمیں دے جو تو نےہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے وعدہ کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر بے شک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا
195پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول کی کہ میں تم میں سے کسی کام کرنے والے کا کام ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک دوسرے کے جز ہو پھر جن لوگوں نے وطن چھوڑا اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے او رلڑے اور مارے گئے البتہ میں ان سے ان کی برائیاں دور کروں گا اور انہیں باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ الله کے ہاں سے بدلہ ہے
196تجھ کو کافروں کا شہرو ں میں چلنا پھرنا دھوکہ نہ دے
197یہ تھوڑا سا فائدہ ہے پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اوروہ بہت برا ٹھکاناہے
198ے لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ الله کے ہاں مہمانی ہے اور جو الله کے ہاں ہے وہ نیک بندوں کے لیے بدرجہا بہتر ہے
199اور اہل کتاب میں بعض ایسے بھی ہیں جو الله پر ایمان لاتے ہیں اور جو چیز تمہاری طرف نازل کی گئی اور جو ان کی طرف نازل کی گئی الله کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں الله کی آیتوں پر تھوڑا مول نہیں لیتے یہی ہیں جن کے لیے ان کے رب کے ہاں مزدوری ہے بے شک الله جلد حساب لینے والا ہے
200اے ایمان والو صبر کرو اور مقابلہ کے وقت مضبوط رہو اور لگے رہو اور الله سے ڈرتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ
Chapter 4 (Sura 4)
1اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ داری کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو بے شک الله تم پر نگرانی کر رہا ہے
2اوریتیموں کوان کے مال دے دو اور ناپاک کو پاک سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ یہ بڑا گناہ ہے
3اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہوتوجوعورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو جو لونڈی تمہارے ملک میں ہو وہی سہی یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے
4اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دو پھر اگر وہ اس میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ معاف کر دیں تو تم اسے مزہ دار خوشگوار سمجھ کر کھاؤ
5اور اپنے وہ مال جنہیں الله نے تمہاری زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے بے سمجھو کے حوالے نہ کرو البتہ انہیں ان مالوں سے کھلاتے او رپہناتے رہو اور انہیں نصیحت کی بات کہتے رہو
6اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر ان میں ہوشیاری دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو اور انصاف کی حد سے تجاوز کر کے یتیموں کا مال نہ کھا جاؤ اور ان کے بڑے ہونے کے ڈر سے ان کا مال جلدی نہ کھاؤ اور جسے ضرورت نہ ہو تو وہ یتیم کے مال سے بچے او رجو حاجت مند ہو تو مناسب مقدار کھالے پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کر و تو اس پر گواہ بنا لو اور حساب لینے کے لیے الله کافی ہے
7مردوں کا اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کا بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ دارو ں نے چھوڑا ہو تھوڑا ہو یہ بہت یہ حصہ مقرر ہے
8اور جب تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آئيں تو اس مال میں سے کچھ انہیں بھی دے دو اور ان کو معقول بات کہہ دو
9اور ایسے لوگو ں کو ڈرنا چاہيے اگر اپنے بعد چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ جائیں جن کی انہیں فکر ہو ان لوگو ں کو چاہیئے کہ خدا سے ڈریں اور سیدھی بات کہیں
10بے شک جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور عنقریب آگ میں داخل ہوں گے
11الله تعالیٰ تمہاری اولاد کے حق میں تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دوعورتوں کے برابر ہے پھر اگر دو سے زاید لڑکیاں ہوں تو ا ن کے لیے دو تہائی اس مال میں سے ہے جو میت نے چھوڑا اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے اور اگر میت کی اولاد ہے تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو کل مال کا چھٹا حصہ ملنا چاہیئے اور اگر اس کی کوئی اولاد نہیں اور ماں باپ ہی اس کے وارث ہیں تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہے پھر اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے (یہ حصہ اس) وصیت کے بعد ہوگا جو وہ کر گیا تھا اور بعد ادا کرنے قرض کے تم نہیں جانتے تمہارے باپوں اور تمہارے بیٹوں میں سے کون تمہیں زیادہ نفع پہنچانے والا ہے الله کی طرف سے یہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے بے شک الله خبردار حکمت والا ہے
12جو مال تمہارحی عورتیں چھوڑ مریں اس میں تمہارا آدھا حصہ ہے بشرطیکہ ان کی اولاد نہ ہو او راگر ان کی اولاد ہو تو اس میں سےجو چھوڑ جائیں ایک چوتھائي تمہاری ہے اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائیں یا قرض کے بعد اور عورتوں کے لیے چوتھائی مال ہے جو تم چھوڑ کر مرو بشرطیکہ تمہاری اولاد نہ ہوپس اگر تمہاری اولاد ہو تو جو تم نے چھوڑا اس میں ان کا آٹھواں حصہ ہے اس وصیت کے بعد جو تم کر جاؤ یا قرض کے بعد اوراگر وہ مرد یا عورت جس کی یہ میراث ہے باپ بیٹا کچھ نہیں رکھتا اور اس میت کا ایک بھائي یا بہن ہے تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے پس اگر اس سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں وصیت کی بات جوہو چکی ہو یا قرض کے بعد بشرطیکہ اورروں کا نقصان نہ ہو یہ الله کا حکم ہے اور الله جاننے والا تحمل کرنے والا ہے
13یہ الله کی باندھی ہوئی حدیں ہیں اور جو شخص الله اور اس کے رسول کے حکم پر چلے اسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی
14اور جو شخص الله اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اوراس کی حدوں سے نکل جائے اسے آگ میں ڈالے گا اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے ذلت کا عذاب ہے
15اور تمہاری عورتوں میں سے جوکوئی بدکاری کرے ان پر اپنوں میں سے چار مرد گواہ لاؤ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو ان گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا الله ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے
16اور تم میں سے جو دو مرد وہی بدکاری کریں تو ان کو تکلیف دو پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو بےشک الله توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
17الله پر توبہ قبول کرنے کا حق انہیں لوگو ں کے لیے ہے جو جہالت کی وجہ سے برا کام کرتے ہیں اس کے بعد جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں ان لوگو ں کو الله معاف کر دیتا ہے اور الله سب کچھ جاننے والا دانا ہے
18اور ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہے جو برے کام کرتےرہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے اس وقت کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اوراسی طرح ان لوگو ں کی توبہ قبول نہیں ہے جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کیا ہے
19اے ایمان والو! تمہیں یہ حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو میراث میں لے لو اور ان کو اس واسطے نہ روکے رکھو کہ ان سے کچھ اپنا دیا ہوا مال واپس لے لو ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کا ارتکاب کریں اور عورتوں کے ساتھ اچھی طرح سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں نا پسند ہوں تو ممکن ہے کہ تمہیں ایک چیز پسند نہ آئے مگر الله نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھی ہو
20اور اگر تم ایک عورت کی جگہ دوسری عورت کو بدلنا چاہو اور ایک کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے
21تم اسے کیوں کر لے سکتے ہو جب کہ تم میں سے ہر ایک دوسرے سے لطف اندوز ہو چکا ہے اور وہ عورتیں تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں
22ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے ماں باپ نکاح کر چکے ہیں مگر جو پہلے ہو چکا بے حیائی ہے اور غضب کا کام ہے اور برا چلن ہے
23تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور جن ماؤں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جنہوں نے تمہاری گود میں پرورش پائی ہے ان بیویو ں کی لڑکیاں جن سے تمہار تعلق زن و شو ہو چکاہے اور اگر تعلق زن و شو نہ ہوا ہو تو تم پر اس نکاح میں کچھ گناہ نہیں اور تمہارے بیٹو ں کی عورتیں جو تمہاری پشت سے ہیں یہ سب عورتیں تم پر حرام ہیں اور دو بہنوں کو (ایک نکاح میں) اکھٹا کرنا حرام ہے مگر جو پہلے ہو چکا بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
24اور خاوند والی عورتیں مگر تمہارے ہاتھ جن کے مالک ہو جائیں یہ الله کا قانون تم پر لازم ہے اور ان کے سوا تم پرسب عورتیں حلال ہیں بشرطیکہ انہیں اپنے مال کے بدلے میں طلب کرو ایسے حال میں کہ نکاح کرنے والے ہو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر ان عورتوں میں سے جسے تم کام میں لائے ہو تو ان کے حق جو مقرر ہوئے ہیں وہ انہیں دے دو البتہ مہر کے مقرر ہو جانے کے بعد آپس کی رضا مندی سے باہمی کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی گناہ نہیں بے شک الله خبردار حکمت والا ہے
25اور جو کوئی تم میں سے اس بات کی طاقت نہ رکھے کہ خاندانی مسلمان عورتیں نکاح میں لائے تو تمہاری ان لونڈیو ں میں سے کسی سے نکاح کر لے جو تمہارے قبضے میں ہوں اور ایماندار بھی ہوں اور الله تمہارے ایمانو ں کا حال خوب جانتا ہے تم آپس میں ایک ہو لہذا ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو اور دستور کے موافق ان کے مہر دے دو در آنحالیکہ نکاح میں آنے والیاں ہو ں آزاد شہوت رانیاں کرنے والیاں نہ ہوں اور نہ چھپی یاری کرنے والیاں پھر جب وہ قید نکاح میں آجائیں پھر اگر بے حیائی کا کام کریں تو ان پرآدھی سزاہے جو خاندانی عورتوں پر مقرر کی گئی ہے یہ سہولت اس کیلئے ہے جوکوئی تم سے تکلیف میں پڑنے سے دڑےاور صبر کروتو تمہارےحق میں بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
26الله چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے بیان کرے اور تمہیں پہلوں کی راہ پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
27اور الله چاہتا ہے کہ تم پر اپنی رحمت سے متوجہ ہو اور جو لوگ اپنے مزوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے بہت دور ہٹ جاؤ
28اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کر دے کیوں کہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے
29اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال نا حق نہ کھاؤ مگر یہ کہ آپس کی خوشی سے تجارت ہو اور آپس میں کسی کو قتل نہ کرو بے شک اللہ تم پر مہربان ہے
30اور جو شخص تعدّی اور ظلم سے یہ کام کرے گا تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے اور یہ اللہ پر آسان ہے
31اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا گیا تو ہم تم سے تمہارے چھوٹے گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مقام میں داخل کریں گے
32اور مت ہوس کرو اس فضیلت میں جو الله نے بعض کو بعض پر دی ہے مردوں کو اپنی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کو اپنی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بے شک اللہ کو ہر چیز کا علم ہے
33اور ہر شخص کے ہم نے وارث مقرر کر دیئے ہیں اس مال کے جو ماں باپ یا رشتہ دار چھوڑ کر مریں اور وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو انہیں ان کا حصہ دے دو بے شک الله ہر چیز پر گواہ ہے
34مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس واسطے کہ الله نے ایک کو ایک پر فضیلت دی ہے اور اس واسطے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں پھر جو عورتیں نیک ہیں وہ تابعدار ہیں مردوں کے پیٹھ پیچھے الله کی نگرانی میں (ان کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں اور جن عورتو ں سےتمہیں سرکشی کا خطرہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور سونے میں جدا کر دو اور مارو پھر اگر تمہارا کہا مان جائیں تو ان پر الزام لگانے کے لیے بہانے مت تلاش کرو بے شک الله سب سے اوپر بڑا ہے
35اور اگر تمہیں کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو الله ان دونو ں میں موافقت کر دے گا بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے
36اور الله کی بندگی کرو اورکسی کو اس کا شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اورپاس بیٹھنے والے او رمسافر او راپنے غلاموں کے ساتھ بھی نیکی کرو بے شک الله اترانے والے بڑائی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا
37جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگو ں کو بخل سکھاتے ہیں اور الله نے انہیں اپنے فضل سے جو دیا ہے اسے چھپاتے ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے
38اور جو لوگ اپنے مالوں کو لوگوں کے دکھانے میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جس کا شیطان ساتھی ہوا تو وہ بہت برا ساتھی ہے
39اور اگر یہ الله اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتے اور الله کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان تھا اور الله انہیں خوب جانتا ہے
40بے شک الله کسی کا ایک ذرہ برابر بھی حق نہیں رکھتا اور اگر نیکی ہو تو اس کو دگنا کر دیتا ہے اور اپنے ہاں سے بڑا ثواب دیتا ہے
41پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے گواہ بلائینگے اور تمیں ان پر گواہ کر کے لائیں گے
42جن لوگو ں نے کفر کیا تھا اور رسول کی نافرمانی کی تھی وہ اس دن کی آرزو کریں گے کہ زمین کے برابر ہو جائیں اور الله سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے
43اے ایمان والو! جس وقت کہ تم نشہ میں ہو نماز کے نزدیک نہ جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھو سکوکہ تم کیا کہہ رہے ہو اور جنبی ہونے کی حالت میں مگر راستہ گزرتے ہوئے یہاں تک کہ غسل کر لو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی شخص تم میں سے رفع حاجت کر کے آئے یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اسے اپنے مونہوں پر اور ہاتھوں پر ملو بے شک الله معاف کرنے والا بخشنے والا ہے
44کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کچھ حصہ کتاب سے ملا ہے وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ گم کر دو
45اور الله تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت اور مدد کے لیے الله ہی کافی ہے
46یہودیوں میں بعض ایسے ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں او ر کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا او رکہتے ہیں کہ سن نہ سنایا جائے تو اور کہتے ہیں راعِنا اپنی زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کرنے کے خیال سےاور اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہمنے مانا اور سن تو اور ہم پر نظر کو تو ان کے حق میں بہتر اور درست ہوتا لیکن ان کے کفر کے سبب سے الله نے ا ن پر لعنت کی سو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائیں گے
47اے کتاب والو اس پر ایمان لے آؤ جو ہم نے نازل کیا ہے اس کتاب کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس ہے اس سے پہلے کہ ہم بہت سے چہرو ں کو مٹا ڈالیں پھر انہیں پیٹھ کیطرف الٹ دیں یا ان پر لعنت کریں جسطرح ہم نے ہفتے کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور الله کا حکم تو نافذ ہو کر ہی رہتا ہے
48بے شک الله اسے نہیں بخشتا جو اس کا شریک کرے اور شرک کے ماسوا دوسرےگناہ جسے چاہے بخشتا ہے اور جس نے الله کا شریک ٹھیرایا اس نے بڑا ہی گناہ کیا
49کیا تم نے ان لوگو ں کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی کا دم بھرتے ہیں بلکہ الله جسے چاہے پاک کرتا ہے اور ان پر تاگے کے برابر بھی ظلم نہ ہوگا
50دیکھو یہ لوگ الله پر کیسا جھوٹ باندھتے ہیں یہی ایک صریح گنا ہ کافی ہے
51کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا وہ بتوں اور شیطانوں کو مانتے ہیں اور کافروں سے یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں سے زیادہ راہِ راست پر ہیں
52یہی وہ لوگ ہیں جن پر الله کی لعنت ہے اور جس پر الله لعنت کرے تو اس کا کوئي مددگار نہیں پائے گا
53کیا سلطنت میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے پھر تو یہ لوگوں کو ایک تِل بھر بھی نہیں دیں گے
54یا لوگو ں پر حسد کرتے ہیں جو الله نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے ہم نے تو ابراھیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت ادا کی ہے اور ان کوہم نے بڑی بادشاہی دی ہے
55پھران میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اورکوئی اس سے ہٹ گیا اور دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے
56بے شک جن لوگو ں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا انہیں ہم آگ میں ڈال دیں گے جس وقت ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم انکو اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ عذاب چکھتے رہیں بے شک الله زبردست حکمت والا ہے
57او رجو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے انہیں ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان کے لیے وہاں ستھری عورتیں ہوں گی اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں رکھیں گے
58بے شک الله تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو بے شک تمہیں نہایت اچھی نصیحت کرتا ہے بے شک الله سننے والا دیکھنے والا ہے
59اے ایمان والو الله کی فرمانبرداری کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور ان لوگوں کی جو تم میں سے حاکم ہوں پھر اگر آپس میں کوئی چیز میں جھگڑا کرو تو اسے الله اور اس کے رسول کی طرف پھیرو اگر تم الله اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہو یہی بات اچھی ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت بہتر ہے
60کیا تم لوگوں نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جواس چیز پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں جو تجھ پر نازل کی گئی ہے اور جو چیز تم سےپہلے نازل کی گئی ہے وہ چاہتے ہیں کہ اپنا فیصلہ شیطان سے کرائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اسے نہ مانیں اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دو رجا ڈالے
61اور جب انہیں کہا جاتا ہے جو چیز الله نے نازل کی ہے اس کی طرف آؤ اور رسول کی طرف آؤ توتو منافقوں کو دیکھے گا کہ تجھ سے پہلو تہی کرتے ہیں
62پھر کیاہوتا ہے جب ان کے اپنے ہاتھوں سے لائی ہوئی مصیبت ان پر آتی ہے پھر تیرے پاس آ کر خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم کو تو سوائے بھلائیا ور باہمی موافقت کے اور کوئی غرض نہ تھی
63یہ وہ لوگ ہیں کہ الله جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے تو ان سے منہ پھیر لے اور انہیں نصیحت کرو ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے
64اورہم نے کبھی کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ الله کے حکم سے اس کی تابعداری کی جائے اور جب انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تھا تیرے پاس آتے پھر الله سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کی معافی کی درخواست کرتا تو یقیناًیہ الله کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتے
65سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں پھر تیرے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں
66اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ اپنی جانوں کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے بہت ہی کم آدمی اس پر عمل کرتے اور اگر یہ لوگ کریں جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتا اور دین میں زیادہ ثابت رکھنے والا ہوتا
67اور اس وقت البتہ ہم ان کو اپنے ہاں سے بڑا ثواب دیتے
68اور البتہ انھیں سیدھا راستہ دکھاتے
69اورجو شخص الله اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہو تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر الله نے انعام کیا وہ نبی اور صدیق اور شہید اور صالح ہیں اور یہ رفیق کیسے اچھے ہیں
70یہ الله کی طرف سے احسان ہے اور الله کافی ہے جاننے والا
71اے ایمان والو! اپنے ہتھیار لے لو پھر جدا جدا فوج ہو کر نکلویا سب اکھٹے ہوکر نکلو
72اور بے شک تم میں بعض ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے پھر اگر تم پر کوئی مصیبت آجائے تو کہتا ہے الله نے مجھ پر فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ تھا
73اور اگر الله کی طرف سے تم پر فضل ہو تو اس طرح کہنے لگتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان دوستی کا کوئی تعلق ہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا
74سو چاہیئے کہ الله کی راہ میں وہ لوگ لڑیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچتے ہیں اور جو کوئی الله کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب رہے تو اسے ہم بڑا ثواب دیں گے
75اور کیا وجہ ہے کہ تم الله کی راہ میں ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے واسطے اپنے ہاں سے کوئی حمایتی کر دے اور ہمارے واسطےاپنے ہاں سے کوئی مددگار بنا دے
76جو ایمان والے ہیں وہ الله کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو تم شیطان کے ساتھیوں سے لڑو بے شک شیطان کا فریب کمزور ہے
77کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکواة دو پھر جب انہیں لڑنے کا حکم دیا گیا اس وقت ان میں سے ایک جماعت لوگوں سے ایسا ڈرنے لگی جیسا الله کا ڈر ہو یا اس سے بھی زیادہ ڈر اور کہنے لگے اے رب ہمارے تو نے ہم پر لڑنا یوں فرض کیا کیوں نہ ہمیں تھوڑی مدت اور مہلت دی ان سے کہ دو دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے اور آخرت پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے اور ایک تاگے کے برابر بھی تم سے بے انصافی نہیں کی جائے گی
78تم جہاں کہیں ہو گے موت تمہیں آ ہی پکڑے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہی ہو اور اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ الله کی طرف سے ہے اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی
79تجھے جو بھی بھلائی پہنچے وہ الله کی طرف سے ہے اور جو تجھے برائی پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے ہم نے تجھے لوگوں کو پیغام پہنچانے واا بنا کر بھیجا ہے اور الله کی گواہی کافی ہے
80جس نے رسول کا حکم مانا اس نے الله کا حکم مانا اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تجھے ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا
81اور کہتے ہیں قبول کیا پھر جب تیرے ہاں سے باہر گئے تو ان میں سے ایک گروہ رات کو جمع ہو کر تمہاری باتو ں کے خلاف مشورہ کرتا ہے اور الله لکھتا ہے جو وہ مشورہ کرتے ہیں تو ان کی پرواہ نہ کر اور الله پر بھروسہ کر اور الله کارساز کافی ہے
82کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگر یہ قرآن سوائے الله کے کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت اختلاف پاتے
83اور جب ان کے پاس کوئی خبر امن یا ڈر کی پہنچتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اسے رسول او راپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں اوراگر تم پر الله کا فضل اوراس کی مہربانی نہ ہوتی تو البتہ تم شیطان کے پیچھے ہو لیتے سوائے چند لوگوں کے
84سو تو الله کی راہ میں لڑ تو سوائے اپنی جان کے کسی کا ذمہ دار نہیں اور مسلمانوں کو تاکید کر قریب ہے کہ الله کافرو ں کی لڑائی بند کر دے اور الله لڑائی میں بہت ہی سخت ہےاور سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے
85جو کوئی اچھی بات میں سفارش کرے اسے بھی اس میں سے ایک حصہ ملے گا اور جو کوئی بری بات میں سفارش کرے اس میں سے ایک بوجھ اس پر بھی ہے اور الله ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
86اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا الٹ کر ویسی ہی کہو بے شک الله ہر چیز کا حساب لینے والا ہے
87الله وہ ہے جس کے سوا کوئی بندگی نہیں بے شک قیامت کے دن تم سب کو جمع کرے گا اس میں کوئی شک نہیں اور الله سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہو سکتی ہے
88پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقوں کے معاملہ میں دو گروہ ہو رہے ہیں اور الله نے ان کے اعمال کے سبب سےانہیں الٹ دیا ہے کیا تم چاہتے ہو جسے الله نے گمراہ کیا ہو اسے راہ پر لاؤ اور جسے الله گمراہ کرے تو اس کے لیے ہرگز کوئی راہ نہیں پائے گا
89وہ تو چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے ہیں تم بھی کافر ہو جاؤ پھر تم سب برابر ہو جاؤ لہذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک وہ الله کی راہ میں ہجرت کر کے نہ آ جائیں پھر اگر وہ اس بات کو قبول نہ کریں تو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو اور ان میں سے کسی کو اپنے دوست اور مددگار نہ بناؤ
90البتہ وہ منافق اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو یا وہ جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں نہ تم سے لڑتے ہیں اور نہ اپنی قوم سے اور اگر الله چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا ہے پھر وہ تم سے لڑتے ہیں سو اگر وہ تم سے یک سو رہیں اور تم سے نہ لڑیں او رتمہاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں تو الله نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہیں دی
91ایک اور قسم کے تم منافق دیکھو گے جو چاہتے ہیں تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی جب کبھی وہ فساد کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اس میں کود پڑتے ہیں پھر اگر وہ تم سے یک سو نہ رہیں اور تہارے آگے صلح پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو انہیں جہاں پا پکڑو او رمار ڈالو اور ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے
92اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ کسی مسلمان کو قتل کرے مگر غلطی سے اور جو مسلمان کو غلطی سے قتل کرے تو ایک مسلمان کی گردن آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے مگر یہ کہ وہ خون بہا معاف کر دیں پھر اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم میں تھا جس سے تمہاری دشمنی ہے تو ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اور اگر وہ مقتول مسلمان کسی ایسی قوم میں سے تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہے تو اس کے وارثوں کو خون بہا دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا پھر جو غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینے کے روزے رکھے الله سےگناہ بخشوانے کے لیے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
93اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان کر قتل کرے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر الله کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور الله نے اس کےلیے بڑا عذاب تیا رکیا ہے
94اے ایمان والو! جب الله کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو او جو تم پر سلام کہے اس کو مت کہو کہ مسلمان نہیں ہے تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو سو الله کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں تم بھی تو اس سے پہلے ایسے ہی تھے پھر الله نے تم پر احسان کیا لہذا تحقیق سے کام لیا کرو بے شک الله تمہارے کاموں سے باخبر ہے
95مسلمانوں میں سے جو لوگ کسی عذر کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو الله کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں دونوں برابر نہیں ہیں الله نے بیٹھنے والوں پر جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑھایا دیا ہے اگرچہ ہر ایک سے الله نے بھلائي کا وعدہ کیا ہے اور الله نے لڑنے والوں کو بیٹھنے والوں سے اجر عظیم میں زیادہ کیا ہے
96ان کے لیے الله کی طرف سے بڑے درجے اور مغفرت اور رحمت ہے اور الله معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے
97بے شک جو لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں توان سے پوچھا کہ تم کس حال میں تھے انہوں نے جواب دیا ہم اس ملک میں بے بس تھے فرتشوں نے کہا کیا الله کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتےسو ایسوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے
98ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے کافی کمزور ہیں جو نکلنے کا کوئی ذریعہ اور راستہ نہیں پاتے
99پس امید ہے کہ ایسوں کو الله معاف کر دے اور الله معاف کرنے والا بخشنے والا ہے
100اور جو کوئی الله کی راہ میں وطن چھوڑے اس کے عوض جگہ بہت اور کشائش پائے گا اور جو کوئی اپنے گھر سے الله اور رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اس کو موت پالے تو الله کے ہاں اس کا ثواب ہو چکا اور الله بخشنے والا مہربان ہے
101اور جب تم سفر کے لیے نکلو تو تم پر کوئی گناہ نہیں نماز میں سے کچھ کم کر دو اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے بےشک کافر تمہارے صریح دشمن ہیں
102اے نبی جب تم مسلمانو ں میں موجود ہو اور انہیں نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہو تو چاہیئے ان میں سے ایک جماعت تیرے ساتھ کھڑی ہو اور اپنے ہتھیار ساتھ لے لیں پھر جب یہ سجدہ کریں تو تیرے پیچھے سے ہٹ جائیں اور دوسری جماعت آئے جس نے نماز نہیں پڑھی وہ تیرے ساتھ نماز پڑھتے اور وہ بھی اپنے بچاؤ اور اپنے ہتھیار ساتھ رکھیں کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے ہتھیاروں اور اسباب سے بے خبر ہو جاؤ تاکہ تم پر یک بارگی ٹوٹ پڑیں اور اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرو یا بیمار ہو تو ہتھیار رکھ دینے میں کوئي مضائقہ نہیں اور (تب بھی) اپنا بچاؤ ساتھ رکھو بے شک الله نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے
103پھر جب نماز سے فارغ ہو جاؤ تو الله کو کھڑے او ربیٹھے اور لیٹے ہونے کی حالت میں یاد کرو پھر جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو پوری نماز پڑھو بے شک نماز اپنے مقرر وقتوں میں مسلمانوں پر فرض ہے
104اور ان لوگوں کا پیچھا کرنے سے ہمت نہ ہارو اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں حالانکہ تم الله سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں اور الله سب کچھ جاننے والا حکمت ولا ہے
105بے شک ہم نے تیری طرف سچی کتاب اتاری ہے تاکہ تو لوگوں میں انصاف کرے جو کچھ تمہیں الله سجھا دے اور تو بد دیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والا نہ ہو
106اور الله سے بخشش مانگ بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
107اور ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑو جو اپنے دل میں دغا رکھتے ہیں جو شخص دغا باز گناہگار ہو بے شک الله اسے پسند نہیں کرتا
108یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے
109ہاں تم لوگوں نے ان مجرمو ں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کر لیا پھر قیامت کے دن ان کی طرف سے الله سے کون جھگڑے گا یا ان کا وکیل کون ہوگا
110اور جو کوئی برا فعل کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے پھراس کے بعد اللهسےبخشوائے تو الله کو بخشنے والا مہربان پائے
111اور جو کوئی گناہ کرے سو اپنےہی حق میں کرتا ہے اور الله سب باتوں کا جاننے والا حکمت والا ہے
112اور جو کوئی خطا یا گناہ کرے پھر کسی بے گنا پر تہمت لگادے تو اس نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا
113اور اگر تجھ پر الله کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کرہی لیا تھا حالا نکہ وہ اپنے سوا کسی کو غلط فہمی میں مبتلانہیں کر سکتے تھے اور وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے اور الله نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تجھے وہ باتیں سکھائی ہیں جو تو نہ جانتا تھا اور الله کا تجھ پر بہت بڑا فضل ہے
114ان لوگو ں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ہاں مگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ کرنے یا کسی نیک کام کرنے یا لوگو ں میں صلح کرانے میں کی جائے تو یہ بھلی بات ہے اور جو شخص یہ کام الله کی رضا جوئی کے لیے کرے تو ہم اسے بڑا ثواب دیں گے
115اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ اس پر سیدھی راہ کھل چکی ہو اور سب مسلمانوں کے راستہ کے خلاف چلے تو ہم اسے اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ہے اور اسے دوزح میں ڈال دینگے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
116بے شک الله اس کو نہیں بخشتا جو کسی کو اس کا شریک بنائے اس کے سوا جسے چاہے بخش دے اور جس نے الله کا شریک ٹھیرایا وہ بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا
117یہ لوگ الله کے سوا عورتو ں کی عبادت کرتے ہیں اور صرف شیطان سرکش کی عبادت کرتے ہیں
118جس پر الله کی لعنت ہے اور شیطان نے کہا کہ اے الله میں تیرے بندوں میں سے حصہ مقرر لوں گا
119اور البتہ انہیں ضرور گمراہ کروں گا اور البتہ ضرور انہیں امیدیں دلاؤں گا اور البتہ ضرور انہیں حکم کروں گا کہ جانوروں کے کان چریں اور البتہ ضرور انہیں حکم دوں گا کہ جانورں کے کان چیریں اور البتہ ضرور انہیں حکم دوں گاکہ الله کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں اور جو شخص الله کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے گا وہ صریح نقصان میں جا پڑا
120شیطان ان سے وعدے کرتا ہےاور انہیں امیدیں دلاتا ہے اور شیطان ان سے صرف جھوٹے وعدے کرتا ہے
121ایسے لوگو ں کا ٹھکانہ دورخ ہے ااور اس ے کہیں بچنے کے لیے جگہ نہ پائیں گے
122اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے انہیں ہم باغوں میں داخل کر ینگے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے الله کا وعدہ سچا ہے اور الله سے زیادہ سچا کون ہے
123نہ تمہاری امیدوں پر مدار ہے اور نہ اہل کتاب کی امیدوں پر جو کوئی برائی کا کام کرے گا اس کی سزا دیا جائے گا اور الله کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں پائے گا
124اور جو کوئی اچھے کام کرے گا مرد ہے یا عورت درآنحالینکہ وہ ایما ندار ہو تو وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور کھجور کے شگاف برابر بھی ظلم نہیں کیے جائیں گے
125اس شخص سے بہتر دین میں کون ہے جس نے الله کے حکم پر پیشانی رکھی اور وہ نیکی کرنے والا ہو اور ابراھیم حنیف کے دین کی پیروی کرے اور الله نے ابراھیم کوخاص دوست بنا لیا ہے
126اور الله ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور الله سب چیزو ں کا احاطہ کیے ہوئے ہے
127اور تجھ سے عورتو ں کے نکاح کی رخصت مانگتے ہیں کہہ دے الله تمہیں ان کی اجازت دیتا ہے اور وہ جو تمہیں قرآن سنایا جاتا ہے سو ان یتیم عورتوں کا حکم ہے جنہیں تم نہیں دیتے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے او رچاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرو اور کمزور لڑکوں کے بارے میں ہے اور یہ کہ یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو اور جو تم نیکی کرو گے پس تحقیق الله اسے جاننے والا ہے
128اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے لڑنے یا منہ پھیرنے سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح صلح کر لیں اور یہ صلح بہتر ہے اور دلوں میں حرص موجود ہے اور اگر تم نیکی کرو او رپرہیزگاری کرو تو الله کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے
129اور تم عورتوں کو ہرگز برابر نہیں رکھ سکو گے اگرچہ اس کی حرص کرو سوتم بالکل ہی ایک طرف نہ جھک جاؤ کہ دوسری عورت کو لٹکی ہوئی چھوڑ دو اور اگر اصلاح کرتے رہو اور پرہیزگاری کرتے رہو تو الله بحشنے والا مہربان ہے
130اور اگر دونوں میاں بیوی جدا ہو جائیں تو الله اپنی و سعت سے ہر ایک کو بے پروا کردے گا اور الله وسعت کرنے والا حکمت والا ہے
131اور جو کچھ اسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ الله ہی کا ہے اور ہم نے پہلی کتاب والوں کو اور تمہیں حکم دیا ہے کہ الله سے ڈرو اور اگر ناشکری کرو گے تو جو کچھ آسمانو ں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب الله ہی کا ہے اور الله بے پرواہ تعریف کیا ہواہے
132اور جو کچھ آسمانو ں اور زمین میں سب الله ہی کا ہے اور الله کارسازکافی ہے
133اگر چاہے تو اے لوگو تمہیں لے جائے اوراوروں کو لے آئے اور الله اس پر قادر ہے
134جو شخص دنیا کا ثواب چاہتا ہے تو الله کے ہاں دنیا اور آخرت کا ثواب ہے اور الله سننے والا دیکھنے والا ہے
135اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو الله کی طرف گواہی دو اگرچہ اپنی جانوں پر ہو یا اپنے ماں باپ اور رشہ داروں پر اگر کوئی مالدار ہے یا فقیر ہے تو الله ان کا تم سے زیادہ خیر خوا ہ ہے سو تم انصاف کرنے میں دل کی خواہش کی پیروی نہ کرو اور اگر تم کج بیانی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو بلاشبہ الله تمہارے سب اعمال سے با خبر ہے
136اے ایمان والو! الله اور اس کے رسول پر یقین لاؤ اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہےاور اس کتاب پر جو پہلے نازل کی تھی اور جو کوئی الله کا انکار کرے اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور قیامت کے دن کا تو وہ شخص بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا
137بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے رہے تو الله ان کو ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ انہیں راہ دکھائے گا
138منافقوں کو خوشخبری سنا دے کہ ان کے واسطے دردناک عذاب ہے
139وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں کیا ان کے ہاں سے عزت چاہتے ہیں سو ساری عزت الله ہی کے قبضہ میں ہے
140اور الله نے تم پر قرآن میں حکم اتارا ہے کہ جب تم الله کی آیتوں پر انکار اور مذاق ہوتا سنو تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ کسی بات میں مشغول ہوں ورنہ تم بھی ان جیسے ہو جاؤ گے اور الله منافقوں اور کافروں کو دوزخ میں ایک ہی جگہ اکھٹا کرنے والا ہے
141وہ منافق جو تمہارے متعلق انتظار کرتے ہیں پھر اگر تمہیں الله کی طرف سے فتح ہو تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھےاور اگر کافرو ں کو کچھ حصہ مل جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا نہیں لیا سو الله تمہارا اور ان کا قیامت میں فیصلہ کرے گا اور (وہاں) الله کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں ہرگز غالب نہیں کرے گا
142منافق الله کو فریب دیتے ہیں اور وہی ان کو فریب دے گا اور جب وہ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو سست بن کر کھڑے ہوتے ہیں لوگو ں کو دکھا تے ہیں اور الله کو بہت کم یاد کرتے ہیں
143کفر اور ایمان کے درمیان ڈانوں ڈول ہیں نہ پورے اس طرف ہیں اور نہ پورے اس طرف اور جسے الله گمراہ کر دے تو اس کے واسطے ہرگزکہیں راہ نہ پائے گا
144اے ایمان والو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ کیا تم اپنے اوپر الله کا صریح الزام لینا چاہتے ہو
145بے شک منافق دوزخ کے سب سےنیچے درجہ میں ہوں گے تو ان کے واسطے کوئی مددگار ہرگز نہ پائے گا
146مگر جنہوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کی اور الله کو مضبوط پکڑا اور اپنے دین کو خالص الله ہی کے لیے کیاتو وہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہیں اور الله جلدی ایمان والوں کو بہت بڑا ثواب دے گا
147)اے منافقو) الله تمہیں سزادے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بنو اور ایمان لے آؤ اور الله قدردان جاننے والا ہے
148الله کو کسی کی بڑی بات کا ظاہر کرنا پسند نہیں مگر جس پر ظلم ہواہو اور الله سننے والا جاننے والا ہے
149اور اگرتم نیک کام اعلانیہ کر ویا اسے خفیہ کرو یا کسی برائی کو معاف کردو تو الله بڑا معاف کرنے والا قدرت والا ہے
150بے شک جو لوگ الله اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ الله اوراس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعضوں پر ایمان لائے ہیں اور بعضوں کے منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے درمیان ایک راہ نکالیں
151ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں اور ہم نے کافرو ں کے واسطے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے
152اور جو لوگ الله پر ایمان لائے اور رسولوں پر ان میں سے کسی کو جدا نہ کیاان لوگوں کو الله جلدان کے ثواب دے گا اور الله بخشنے والا مہربان ہے
153اہلِ کتاب تجھ سےدرخواست کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے لکھی ہوئی کتب اتار لائے سو موسیٰ سے اس سے بڑی چیز مانگ چکے ہیں اور کہا ہمیں الله کو بالکل سامنے لا کر دکھا دے ان کے اس ظلم کے باعث ان پر بجلی ٹوٹ پڑی پھر بہت سی نشانیاں پہنچ چکنے کے بعد بچھڑے کو بنا لیا پھر ہم نے وہ بھی معاف کر دیا اور ہم نے موسیٰ کو بڑا رعب دیاتھا
154اور لوگوں پر طور اٹھا کر ان سے عہد لیا اور ہم نے کہا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئےداخل ہو اور ہم نے کہا کہ ہفتے کے بارے میں زیادتی نہ کرو اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا
155پھر ان کی عہد شکنی پر اور الله کی آیتوں سے منکر ہونے پر اور پیغمبروں کا ناحق خون کرنے پر اور اس کہنے پرکہ ہمارے دلوں پرپر دے رہے ہیں انہیں سزا ملی پردے نہیں بلکہ الله نے ان کے دلوں پر کفر کے سبب سے مہر کر دی ہے سو ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے
156اور ان کے کفر او رمریم پر بڑا بہتان باندھنے کے سبب سے اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو قتل کیا جو الله کا رسول تھا حالانکہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اورجن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ان کے پا س بھی اس معاملہ میں کوئی یقین نہیں ہے محض گمان ہی کی پیروی ہے انہوں نے یقیناً مسیح کو قتل نہیں کیا
157بلکہ اسے الله نے اپنی طرف اٹھا لیا اور الله زبردست حکمت والا ہے
158اور اہلِ کتاب میں کوئی ایسانہ ہوگا جواسکی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے گا اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہو گا
159سویہود کے گناہوں کے سبب سے ہم نے ان پر بہت سی پاک چیزیں حرام کر دیں جو ان پر حلا ل تھیں اور اس سبب سے الله کی راہ سے بہت روکتے تھے
160اور ان کو سود لینے کے سبب سے حالانکہ اس سے منع کیے گئے تھے اور اس سبب سے کہ لوگو ں کا مال ناحق کھاتے تھے اور ان میں سے جو کافر ہیں ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
161لیکن ان میں سے جو علم میں پختہ ہیں اور مسلمان ہیں سومانتے ہیں اس کو جو تجھ پر نازل ہوا اور جو تجھ سے پہلے نازل ہو چکا ہے اور نماز قائم کرنے والے اور زکواة دینے والے اور اللهاور قیامت پر ایمان لانے والے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم بڑا ثواب عطا فرمائیں گے
162ہم نے تیری طرف وحی بھیجی جیسی نوح پر وحی بھیجی اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد آئے اور ابراھیمؑ اور اسماعیلؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ اور اس کی اولاد اور عیسیٰؑ اور ایوبؑ اوریونسؑ اور ھارونؑ اور سلیمانؑ پر وحی بھیجی اور ہم نے داؤدؑ کو زبور دی
163اور ایسے رسول بھیجے جن کا حال اس سے پہلےہم تمہیں سنا چکیں ہیں
164اور ایسے رسول جن کا ہم نے تم سے بیان نہیں کیا اور الله نے موسیٰ سے خاص طور پر کلام فرمایا
165ہم نے پیغمبر بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ ان لوگوں کا الله پر پیغمبرو ں کے بعد الزا م نہ رہے اور الله غالب حکمت والا ہے
166لیکن الله اس پر شاہد ہے جو تم پر نازل کیا کہ اسے اپنے علم سے نازل کیا اور فرشتے بھی گواہ ہیں اورالله گواہی دینے والا کافی ہے
167بے شک جو لوگ کافر ہوئے اور الله کی راہ سے روکا وہ بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑے
168بے شک جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کیا الله انہیں کبھی نہیں بخشے گا اور نہ ان کو سیدھی راہ دکھائے گا
169مگر دوزخ کی راہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور الله پر یہ آسان ہے
170اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک بات لے کر رسول آ چکا سو مان لو تاکہ تمہارا بھلا ہو اور اگر انکار کرو گے تو الله ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور الله سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
171اے اہِل کتاب تم اپنے دین میں حد سے نہ نکلو اور الله کی شان میں سوائے پکی بات کے نہ کہو بے شک مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا الله کا رسول ہے اور الله کا ایک کلمہ ہےجسے الله نے مریم تک پہنچایا اور الله کی طرف سے ایک جان ہے سو الله پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ خدا تین ہیں اس بات کو چھوڑ دو تمہارے لیے بہتر ہو گا بے شک الله اکیلا معبود ہے وہ اس سے پاک ہے اس کی اولاد ہو اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور الله کارساز کافی ہے
172مسیح خدا کا بندہ بننے سے ہرگز عار نہیں کرے گا اور نہ مقرب فرشتے اور جو کوئی اس کی بندگی سے انکار کرے گا اور تکبر کرے گا پھران سب کو اپنی طرف اکھٹاکرے گا
173پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور اچھے کام کیے ہوں گے انہیں تو ان کا پورا ثواب دے گا اور انہیں اپنے فضل سے زیادہ دے گا اور جن لوگوں نے انکار کیا اورتکبر کیا انہیں درد دینے والا عذاب دے گا اور وہ الله کے سوا اپنے واسطے کوئی دوست اور مددگار نہیں پائیں گے
174اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل آ چکی ہے اور ہم نےتمہاری طرف ایک ظاہر روشنی اتاری ہے
175سو جو لوگ الله پر ایمان لائے اور انھوں نے الله کومظبوط پکڑا انہیں الله اپنی رحمت اور اپنے فضل میں داخل کرے گا اور اپنے تک ان کو سیدھا راستہ دکھائے گا
176تجھ سے حکم دریافت کرتے ہیں کہہ دو الله تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اسے اس کے تمام ترکہ کانصف ملے گا اور وہ شخص اس بہن کا وارث ہو گا اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اگر دو بہنیں ہوں تو انہیں کل ترکہ میں سے دو تہائی ملے گا اور اگر چند وارث بھائی بہن ہوں مرد اور عورت تو ایک مرد کو دو عورتوں کے حصہ کے برابر ملے گا الله تم سے اس لیے بیان کرتا ہے کہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور الله ہر چیز کو جاننے والا ہے
Chapter 5 (Sura 5)
1اے ایمان والو! عہدوں کوپورا کرو تمہارے لیے چوپائے مویشی حلال ہیں سوائے ان کے جو تمہیں آگے سنائے جائیں گے مگر شکار کو احرام کی حالت میں حلال نہ جانو الله جو چاہے حکم دیتا ہے
2اے ایمان والو! الله کی نشانیوں کو حلال نہ سمجھو اور نہ حرمت والے مہینے کو اور نہ حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو اور نہ ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوئے ہوں اور نہ حرمت والے گھر کی طرف آنے والوں کو جو اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشی ڈھونڈتے ہیں اور جب تم احرام کھول دو پھر شکار کرو اور تمہیں اس قوم کی دشمنی جو کہ تمہیں حرمت والی مسجد سے روکتی تھی اس بات کا باعث نہ بنے کہ زیادتی کرنے لگو اور آپس میں نیک کام اور پرہیز گاری پر مدد کرو اورگناہ اور ظلم پر مدد نہ کرو اور الله سے ڈرو بے شک الله سخت عذاب دینے والا ہے
3تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کیا گیا ہے اور وہ جانور جس پر الله کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے جو گلا گھوٹ کر یا چوٹ سے یا بلندی سے گر کر یا سینگ مارنے سے مر گیا ہو اور وہ جسے کسی درندے نے پھاڑ ڈالا ہو مگر جسے تم نے ذبح کر لیا ہو اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ کہ جوئے کے تیروں سے تقسیم کرو یہ سب گناہ ہیں آج تمہارے دین سے کافر نا امید ہو گئے سو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے پھر جو کوئی بھوک سے بیتاب ہو جائے لیکن گناہ پر مائل نہ ہو تو الله معاف کرنے والا مہربان ہے
4تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا چیز حلال ہے کہہ دو تمہارے واسطے سب پاکیزہ چیزیں حلا ل کی گئی ہیں اور جو شکاری جانور جسے شکار پر دوڑنے کی تعلیم دو کہ انہیں سکھاتے ہو اس میں سے جو الله نے تمہیں سکھایا ہے سو اس میں سے کھاؤ جو وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں اور اس پر الله کا نا م لو اور الله سے ڈرتے رہو بیشک الله جلد حساب لینے والا ہے
5آج تمہارے واسطے سب پاکیزہ چیزیں حلا کی گئی ہیں اور اہلِ کتاب کا کھانا تمہیں حلال ہے اور تمہارا کھانا انہیں حلال ہے اور تمہارے لیے پاک دامن مسلمان عورتیں حلال ہیں اوران میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہےجب ان کے مہر انہیں دے دو ایسے حال میں کہ نکاح میں لانے والے ہو نہ بدکاری کرنے والے اورنہ خفیہ آشنائی کرنے والے اورجوایمان سے منکر ہوا تو اس کی محنت ضائع ہوئی اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا
6اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرور سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو
7اور الله کا انعام جو تم پر ہوا ہے اسے یاد کرو اور اس کا عہد جس کا تم سے معاہدہ کیا ہے جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مان لیا اور الله سے ڈرتے رہو الله دلو ں کی بات خوب جانتا ہے
8اے ایمان والو! الله کے واسطے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی کا باعث انصاف کو ہر گز نہ چھوڑو انصاف کرو یہی بات تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے اور الله سے ڈرتے رہو جو کچھ تم کرتے ہو بے شک الله اس سے خبردارہے
9الله نے ایمان والوں سے اور جو نیک کام کرتے ہیں بخشش اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے
10اور جن لوگو ں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں
11اے ایمان والو! الله کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب لوگو ں نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں پھر الله نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سےروک دیئے اور الله سے ڈرتے رہو اور ایمان والوں کو الله ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے
12اور الله نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے اور الله نےکہا میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز کی پابندی کرو گے اور زکواة دیتے رہو گے اور میرے سب رسولوں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور الله کواچھے طور پر قرض دیتے رہو گے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سےدور کردوں گا اور تمہیں باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں پھر جوکوئی تم میں سے اس کے بعد کافر ہوا وہ بے شک سیدھے راستے سے گمراہ ہوا
13پھر ان کی عہد شکنی کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی اوران کے دلوں کوسخت کر دیا وہ لوگ کلام کو ا سکے ٹھکانے سے بدلتے ہیں اور اس نصیحت سے نفع اٹھانا بھول گئے جو انہوں کی گئی تھی اور تو ہمشیہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر اطلاع پاتا رہے گا مگر تھوڑے ان میں سے سو انہیں معاف کر اور درگزر کر بے شک الله نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
14اورجو لوگ اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں ان سے بھی ہم نے عہد لیا تھا پھر وہ اس نصیحت سے نفع اٹھانا بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی پھر ہم نے ان کے درمیان ایک دوسرے دشمنی اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا اور الله ان کا کیا ہوا انہیں جتلا دے گا
15اے اہلِ کتاب تحقیق تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے جو بہت سی چیزیں تم پر ظاہر کرتا ہے جنہیں تم کتاب سے چھاپتے تھے اوربہت سی چیزوں سے درگزرکرتا ہے بے شک تمہارے پاس الله کی طرف سے روشنی اور واضح کتاب آئی ہے
16الله سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اسے جو اس کی رضا کا تابع ہو اور انہیں اپنے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور انہیں سیدھی راہ پر چلاتا ہے
17بے شک وہ کافر ہوئے جنہوں نے کہا الله تو وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے کہہ دے پھر الله کے سامنے کس کا بس چل سکتا ہے اگر وہ چاہے کہ مسیح مریم کے بیٹے اور اس کی ماں اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کر دے اور آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی سلطنت الله ہی کے واسطے ہے جو چاہے پیدا کرتا ہے اور الله ہر چیز پر قادر ہے
18اوریہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم الله کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہہ دو پھر تمہارے گناہوں کے باعث وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے بلکہ تم بھی اور مخلوقات کی طرح ایک آدمی ہو جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے اور آسمانوں اور زمین اوران دونوں کے درمیان کی سلطنت الله ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
19اے اہل کتاب تحقیق تمہارے پاس ہمارا پیغمبر آ یا جو تمہیں صاف صاف بتلاتا ہے ایسے وقت میں رسولوں کا سلسلہ موقوف تھا تاکہ تم یوں نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس کوئی خوشبخبری دینے والا اور ڈرانے والانہیں آیاسوتمہارےپاس خوشخبری دینے والااورڈرانےوالاآ گیا ہے اور الله ہر چیز پر قادر ہے
20اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہاکہ اے میری قوم الله کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم میں نبی پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ دیا جو جہان میں کسی کو نہ دیا تھا
21اے میری قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو الله نے تمہارے لیے مقرر کر دی اور پیچھے نہ ہٹو ورنہ نقصان میں جا پڑو گے
22انہوں نے کہا اے موسیٰ بے شک وہاں ایک زبردست قوم ہے اور ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے یہاں تک کہ وہ وہاں سے نکل جائیں پھراگروہ وہاں سےنکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہو ں گے
23الله سے ڈرنے والوں میں سے دو مردوں نے کہا جن پر الله کا فضل تھا کہ ان پر حملہ کر کے دروازہ میں گھس جاؤ پھر جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے اور الله پر بھروسہ رکھو اگر تم ایمان دار ہو
24کہا اے موسیٰ ہم کبھی وہاں داخل نہیں ہو ں گے جب تک کہ وہ اس میں ہیں سو تو اور تیرا رب جائے اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھیں ہیں
25موسیٰ نے کہا اے میرے رب میرے اختیار میں تو سوائے میری جان اور میرے بھائی کے اور کوئی نہیں سو ہمارے درمیان اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی ڈال دے
26فرمایا تحقیق وہ زمین ان پر چالیس بر س حرام کی گئی ہے اس ملک میں سرگرداں پھریں گے سو تو نافرمان قوم پر افسوس نہ کر
27تو اہلِ کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھکر سنا دے جب ان دونوں نے قربانی کی ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نہ ہوئی اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا اس نے جواب دیا الله پرہیز گاروں ہی سے قبول کرتا ہے
28اگرتو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا میں الله رب العالمین سے ڈرتا ہوں
29میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن جائے اور ظالموں کی یہی سزا ہے
30پھر اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے خون پر راضی کر لیا پھر اسے مار ڈالا پس وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا
31پھر الله نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا تاکہ اسے دکھلائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپاتا ہے اس نے کہا افسوس مجھ پر اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر کرتا پھر پچھتانے لگا
32اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اورجس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخشی اورہمارے رسولوں ان کے پاس کھلے حکم لا چکے ہیں پھر بھی ان میں سے بہت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں
33ان کی بھی یہی سزا ہے جو الله اوراس کے رسول سے لڑتے ہیں اورملک میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں یہ کہ ان کو قتل کیا جائے یا وہ سولی چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں یہ ذلت ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے
34مگر جنہوں نے تمہارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لی تو جان لو کہ الله بخشنے والا مہربان ہے
35اے ایمان والو الله سے ڈرو اور الله کا قرب تلاش کرو اور الله کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ
36بے شک جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس دنیا بھر کی چیزیں ہوں اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو تاکہ قیامت کے عذاب سے بچنے کے لیے بدلہ میں دیں تو بھی ان سے قبول نہ ہوگا اوران کے لیے دردناک عذاب ہے
37وہ چاہیں گے ُکہ آگ سے نکل جائیں حالانکہ وہ اس سے نکلنے والے نہیں اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے
38اور چور خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ ان کی کمائی کا بدلہ اور الله کی طرف سے عبرت ناک سزا ہے اور الله غالب حکمت والا ہے
39پھر جس نے اپنے ظلم کے بعد توبہ کی اور اصلاح کر لی تو الله اس کی توبہ قبول کر لے گا بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
40کیا تجھے معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت الله ہی کے واسطے ہے وہ جسے چاہے عذاب دے اور جسے چاہے بخش دے اور الله سب چیزوں پر قادر ہے
41اے رسول انکا غم نہ کر جو دوڑ کر کفر میں گرتے ہیں وہ لوگ جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں حالانکہ ان کے دل مومن نہیں ہیں اور وہ جو یہودی ہیں جھوٹ بولنے کے لیے جاسوسی کرتے ہیں وہ دوسری جماعت کے جاسوس ہیں جو تجھ تک نہیں آئی بات کو اس کےٹھکانے سے بدل دیتے ہیں کہتے ہیں کہ تمہیں یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو بچتے رہنا اور جسے الله گمراہ کرنا چاہے سو تو الله کے ہاں ا سکے لیے کچھ نہیں کر سکتا یہ وہی لوگ ہیں جن کے دل پاک کرنے کا الله نے ارادہ نہیں کیا ان کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں بڑا عذا ب ہے
42جھوٹ بولنے کے لیے جاسوسی کرنے والے ہیں اور بہت حرام کھانے والے ہیں سو اگر وہ تیرے پاس آئیں تو ان میں فیصلہ کر دے یا ان سے منہ پھیر لے اور اگر تو ان سے منہ پھیر لے گا تو وہ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان میں انصاف سے فیصلہ کر بے شک الله انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
43اور وہ تجھے کس طرح منصف بنائیں گے حالانکہ ان کے پاس تو تورات ہے جس میں الله کا حکم ہے پھر اس کے بعد ہٹ جاتے ہیں اور یہ مومن نہیں ہیں
44ہم نے تورات نازل کی کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے اس پر پیغمبر جو الله کے فرمانبردار تھے یہود کو حکم کرتے تھے اور اس کی خبر گیری پر مقرر تھے سوتم لوگو ں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے میں تھوڑا مول مت لو اور جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کر لے جو الله نے اتارا تو وہی لوگ کافر ہیں
45اور ہم نے ان پراس کتاب میں لکھا تھا کہ جان بدلے جان کے اور آنکھ بدلے آنکھ کے اور ناک بدلے ناک کے اور کان بدلے کان کے اور دانت بدلے دانت کے اور زخموں کا بدلہ ان کے برابر ہے پھر جس نے معاف کر دیا تو وہ گناہ سے پاک ہو گیا اور جو کوئی اس کے موافق حکم نہ کرے جو الله نے اتارا سو وہی لوگ ظالم ہیں
46اور ہم نے ان کے پیچھے ان ہی کے قدموں پر عیسیٰ مریم کے بیٹے کو بھیجا جو اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اسے انجیل دی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا تھا اور راہ بتانے والی اور ڈرنے والوں کیلئے نصیحت تھی
47اور چاہیئے کہ ابخیل والے اس کے موافق حکم کریں جو الله نےاس میں اتارا ہے اور جو چیز الله نے اتاری ہے جو شخص اس کے موافق حکم نہ کرے سو وہی لوگ نافرمان ہیں
48ہم نے تجھ پر سچی کتاب اتاری جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کے مضامین پر نگہبانی کرنے والی ہے سو تو ان میں اس کے موافق حکم کر جو الله نے اتارا ہے اور جو حق تیرے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور واضح راہ مقرر کر دی ہے اور اگر الله چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا لیکن وہ تمہیں اپنے دیے ہوئے حکموں میں آزمانا چاہتا ہے لہذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو تو سب کو الله کے پاس پہنچنا ہے پھر تمہیں جتائے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے
49اور فرمایا کہ تو ان میں اس کے موافق حکم کر جو الله نے تارا ہے اوران کی خواہشوں کی پیروی نہ کر اوران سے بچتا رہ کہ تجھے کسی ایسے حکم سے بہکا نہ دیں جو الله نے تجھ پر اتارا ہے پھر اگر یہ منہ موڑیں تو جان لو کہ الله کا اردہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں مصیبت میں مبتلا کرنے کا ہے اور لوگوں میں بہت سے نافرمان ہیں
50تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں ان کے ہاں الله سے بہتر اور کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں
51اے ایمان والو یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ ان میں سے ہے الله ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا
52پھر تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں بیماری ہے ان میں دوڑ کر جا ملتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آ جائے سو قریب ہے کہ الله جلدی فتح ظاہر فرماد ے یا کوئی اور حکم اپنے ہاں سے ظاہر کرے پھر یہ اپنے دل کی چھپی ہوئی بات پر شرمندہ ہوں گے
53اور مسلمان کہتے ہیں کیا یہ وہی لوگ ہیں جو الله کے نام کی پکی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے اعمال برباد ہو گئے پھر وہ نقصان اٹھانے والے ہو گئے
54اے ایمان والو جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب الله ایسی قوم کو لائے گا کہ الله ان کو چاہتا ہے اور وہ اس کو چاہتے ہیں مسلمانوں پر نرم دل ہوں گے اور کافروں پر زبردست الله کی راہ میں لڑیں گے اور کسی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ الله کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور الله کشائش والا جاننے والا ہے
55تمہارا دوست تو الله اور اس کا رسول اور ایمان دار لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکواة دیتے ہیں اور وہ عاجزی کرنے والے ہیں
56اور جو شخص الله اور اس کے رسول اور ایمان داروں کو دوست رکھے تو الله کی جماعت وہی غالب ہونے والی ہے
57اے ایمان والو! ان لوگوں کو اپنا دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے ان لوگو ں میں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور کافروں کو اور الله سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو
58اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو وہ لوگ اس کے ساتھ ہنسی اور کھیل کرتے ہیں یہ ا س واسطے کہ وہ لوگ بے عقل ہیں
59کہہ دو اے اہلِ کتاب تم ہم میں کون سا عیب پاتے ہو بجز اس کے کہ ہم الله پر ایمان لائے ہیں اوراس پر جو ہمارے پاس بھیجی گئی ہے اور اس پر جو پہلے بھیجی جا چکی ہے باوجود اس کے تم میں اکثر لوگ نافرمان ہیں
60کہہ دو میں تم کو بتلاؤں الله کے ہاں ان میں سے کس کی بری جزا ہے وہی جس پر الله نے لعنت کی اور اس پر غضب نازل کیا اور بعضوں کو ان میں سے بندربنا دیا اور بعضوں کو سور اورجنہوں نے شیطان کی بندگی کی وہی لوگ درجہ میں بدتر ہیں اور راہِ راست سے بھی بہت دور ہیں
61اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کافر ہی آئے تھے اور کافر ہی گئے اور الله خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے تھے
62اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا کہ گناہ اور ظلم پر اور حرام کھانے پر دوڑتے ہیں بہت برا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں
63ان کے فقراء اور علماء گناہ کی بات کہنے اور حرام مال کھانے سے انہیں کیوں نہیں منع کرتے البتہ بری ہے وہ چیز جو وہ کرتے ہیں
64اور یہود کہتے ہیں الله کا ہاتھ بند ہوگیا ہے انہیں کے ہاتھ بند ہوں اور انہیں اس کہنے پر لعنت ہے بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں جس طرح چاہے خرچ کرتا ہے جو کلام تیرے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور کفر میں زیادتی کا باعث بن گیا اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی لڑائی کے لیے آگ سلگاتے ہیں تو الله اس کو بجھا دیتا ہے یہ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور الله فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
65اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان میں سے ان کی برائياں دور کر دیتے اور ضرور انہیں نعمت کے باغوں میں داخل کر تے
66اور اگر وہ تورات اور انجیل کوقائم رکھتے اور اس کو جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے تو اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے کھاتے کچھ لوگ ان میں سیدھی راہ پر ہیں اور اکثر ان میں سے برے کام کر رہے ہیں
67اے رسول جو تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اترا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا اور الله تجھے لوگوں سے بچائے گا بے شک الله کافروں کی قوم کو راستہ نہیں دکھاتا
68کہہ دو اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں ہو جب تک کہ تم تورات اور انجیل اور جو چیز تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے قائم نہ کرو اور ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پرنازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زيادہ بڑھائے گا مگر انکار کرنے والاوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو
69بے شک جو مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور صائبی اور نصاریٰ جو کوئی الله اور قیامت پر ایمان لایا اور نیک کام کیے تو ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
70ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا تھا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے تھے جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس وہ حکم لایا جو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے تو ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کر ڈالا
71اور یہی گمان کیا کہ کوئی فتنہ نہیں ہوگا پھر اندھے اور بہرے ہوئے پھر الله نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں سے اکثر اندھے اور بہرے ہو گئے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں الله دیکھتا ہے
72البتہ تحقیق وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے کہا بے شک الله وہی مسیح مرین کا بیٹا ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل اس الله کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے بے شک جس نے الله کا شریک ٹھیرایا سو الله نے اس پر جنت حرام کی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہو گا
73جنہوں نے کہا الله تین میں سے ایک ہے بے شک وہ کافر ہوئے حالانکہ سوائے ایک معبود کے اورکوئی معبود نہیں اور اگر وہ اس بات سے باز نہ آئيں گے جو وہ کہتے ہیں تو ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو دردناک عذاب پہنچے گا
74الله کے آگے کیوں توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہ نہیں بخشواتے اور الله بخشنے والا مہربان ہے
75مسیح مریم کا بیٹا تو صرف ایک پیغمبر ہی ہے جس سے پہلے اور بھی پیغمبر گزر چکے ہیں اور اس کی ماں ولی ہے وہ دونوں کھانا کھاتے تھے دیکھ ہم انہیں کیسی دلیلیں بتلاتے ہیں پھر دیکھووہ کہاں الٹے جا تے ہیں
76کہہ دو تم الله کر چوڑ کر ایسی چیز کی بندگی کرتے ہو جو تمہارے نقصان اور نفع کے مالک نہیں اور الله وہی ہے سننے والا جاننے والا
77کہہ اے اہلِ کتاب تم اپنے دین میں ناحق زیادتی مت کرو اور ان لوگو ں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انہوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ سے دور ہو گئے
78بنی اسرائیل میں سے جو کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بیٹے مریم کی زبان پر لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گزر گئے تھے
79آپس می ں برے کام سے منع نہ کرتے تھے جو وہ کر رہے تھے کیسا ہی برا کام ہےجووہ کرتے تھے
80تو دیکھے گا تو ان میں سے بہت سے لوگ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے کیسا ہی برا سامان اپنے نفسوں کے لیے آگے بھیجا اور وہ یہ کہ ان پر الله کا غضب ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں
81اور اگر وہ الله اور نبی پر اور اس چیز پر جواس کی طرف سے نازل کی گئی ہے ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں
82تو سب لوگو ں سے زیادہ مسلمانوں کا دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائے گا اور تو سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں سے ان لوگوں کو پائے گا جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے اکہ ان میں علماء اور فقراء ہیں اور اس لیے کہ وہ تکبر نہیں کرتے
83اور جب اس چیز کو سنتے ہیں جو رسول پر اتری تو ان کی آنکھوں کو دیکھے گا کہ آنسوؤں سے بہتی ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا کہتے ہیں اے رب ہمارے کہ ہم ایمان لائے تو ہمیں ماننے والوں کے ساتھ لکھ لے
84اور ہمیں کیا ہے ہم الله پر ایمان نہ لائيں اور اس چیز پر جو ہمیں حق سے پہنچی ہے اور اس کی طمع رکھتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیکو ں میں داخل کر ے گا
85پھر الله نے انہیں اس کہنے کے بدلے ایسے باغ دئیے کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے
86اور وہ لوگ جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ کے رہنے والے ہیں
87اے ایمان والو ان ستھری چیزوں کو حرام نہ کرو جو الله نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو بے شک الله حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا
88اور الله کے رزق میں سے جو چیز حلال ستھری ہو کھاؤ اور الله سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو
89الله تمہیں تمہاری بی ہودہ قسموں پر نہیں پکڑتا لیکن ان قسموں پرپکڑتا ہے جنہیں تم مستحکم کر دو سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا دینا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو دیتے ہو یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنانا یا گردن آزاد کرنی پھر جو شخص یہ نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنے ہیں اسی طرح تمہای قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح تمہارے لیے اپنے حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر کرو
90اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ
91شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سےتم میں دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں الله کی یاد سے اور نماز سے روکے سو اب بھی باز آجاؤ
92اور الله اور رسول کا حکم مانو اور بچتے رہو پھر اگر تم پھر جاوگےتوجان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف کھول کر پہنچا دینا ہی ہے
93جو لو گ ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو پہلے کھا چکے جب کہ آئندہ کو پرہیزگار ہوئے اور ایمان لائے اور عمل نیک کیے پھر پرہیزگار ہوئے اور نیکی کی اور الله نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
94اے ایمان والو! البتہ ایک بات سے تمہیں آزمائے گا اس شکار سے جس پر تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچیں گے تاکہ الله معلوم کرے کہ بن دیکھے اس سے کون ڈرتا ہے پھر جس نے اس کے بعد زیادتی کی تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے
95اے ایمان والو! جس وقت تم احرام میں ہو تو شکار کونہ قتل کرو اور جو کوئی تم میں سے اسےجان بوجھ کر مارے تو اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے اس پر بدلہ لازم ہے جو تم میں سے دو معتبر آدمی تجویز کریں بشرطیکہ قربانی کعبہ تک پہنچنے والی ہو یا کفارہ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہو یا اس کے برابر روزے تاکہ اپنے کام کا وبال چکھے الله نے اس چیز کو معاف کیا جو گزر چکی اور جو کوئی پھر کرے گا الله اس سے بدلہ لے گا اور الله غالب بدلہ لینے والا ہے
96تمہارے لیے دریا کا شکار کرنا اوراس کا کھانا حلال کیا گیا ہے تمہارے واسطے اور مسافروں کے لیے فائدہ ہے اور تم پر جنگل کا شکار کرناحرام کیا گیا ہے جب تک کہ تم احرام میں ہو اور اس الله سے ڈرو جس کی طرف جمع کیے جاؤ گے
97الله نے کعبہ کو جو بزرگی والا گھر ہے لوگوں کے لیے قیام کا باعث کر دیا ہے اور عزت والے مہینے کو اور حرم میں قربانی والے جانور کو بھی اور جن کے گلے میں پٹہ ڈال کر کر کعبہ کو لے جائیں یہ اس لیے ہے کہ تم جان لو کہ بے شک الله کو معلوم ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور بے شک الله ہر چیز کو جاننے والا ہے
98جان لو بے شک الله سخت عذاب والا ہے اور بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
99رسول کے ذمہ سوائے پہنچانے کے اورکچھ نہیں اور الله کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپ کر کرتے ہو
100کہہ دو کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں اگرچہ تمہیں ناپاک کی کثرت بھی معلوم ہو سو اے عقل مندو الله سے ڈرتے رہو تاکہ تمہاری نجات ہو
101اے ایمان والو! ایسی بات مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر یہ باتیں یسے وقت میں پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی گذشتہ سوالات الله نے معاف کر دیے ہیں اور الله بخشنے والا بردبار ہے
102ایسی باتیں تم سے پہلے ایک جماعت پوچھ چکی ہے پھر وہ ان باتوں کے وہ مخالف ہوگئے
103الله نے بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام مقرر نہیں کیے لیکن کافر الله پر بہتان باندھتے ہیں اور ان میں سے اکثر بیوقوف ہیں
104اور جب انہیں کہا جاتا ہے اس کی طرف آؤ جو الله نے نازل کیا ہ اور رسول کی طرف تو کہتے ہیں ہمیں وہ کافی ہے جس پر ہم نے باپ دادا کو پایا بھلا اگر چہ ان کے باپ دادانہ کچھ علم رکھتے ہوں نہ انہوں نے ہدایت پائی ہو تو بھی ایسا ہی کریں گے
105اے ایمان والو! تم پر اپنی جان کی فکر لازم ہے تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو کوئی گمراہ ہو جب کہ تم ہدایت یافتہ ہو تم سب کو الله کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتلا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے
106اے ایمان والو! جب کہ تم میں سے کسی کو موت آ پہنچے تو وصیت کے وقت تمہارے درمیان تم میں سے معتبر آدمی گواہ ہو نے چاہیئیں یا تمہارے سوا دو گواہ اور ہوں اگر تم نے زمین پر سفر کیاہو پھر تمہیں موت کی مصیبت آ پہچنے ان دونوں کو نماز کے بعد کھڑا کرو وہ دونوں الله کی قسمیں کھائیں اگر تمہیں کہیں شبہ ہو کہ ہم قسم کے بدلے مال نہیں لیتے اگرچہ رشتہ داری ہی کیوں نہ ہو اور ہم الله کی گواہی نہیں چھپاتے ورنہ ہم بے شک گناہگار ہوں گے
107پھر اگر اس بات کی اطلاع ہو جائے کہ وہ دونوں گناہ کے مستحق ہوئے تو ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑےہوں ان میں سے جن کا حق دبایا گیا ہے جو سب سے زیادہ میت کے قریب ہوں پھر الله کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی ورنہ ہم بے شک ظالموں میں سے ہوں گے
108یہ اس امر کا قریب ذریعہ ہے کہ وہ لوگ واقع کو ٹھیک طور پر ظاہر کر دیں یہ اس بات سے ڈر جائیں کہ قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کی جائیں گی ارو الله سے ڈرتے رہو اور سنو اور الله نافرمانوں کو سیدھی راہ پر نہیں چلاتا
109جن دن الله سب پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر کہے گا تمہیں کیا جواب دیا گیا تھا وہ کہیں گے ہمیں کچھ خبر نہیں تو ہی چھپی باتو ں کا جاننے والا ہے
110جب الله کہے گا اے عیسیٰ مریم کے بیٹے میرا احسان یاد کر جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہوا ہےجب میں نے روح پاک سے تیری مدد کی تو لوگوں سے گود میں اور ادھیڑ عمر میں بات کرتا تھا اور جب میں نے تجھے کتاب اورحکمت اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تو مٹی سے جانور کی صورت میرے حکم سے بناتا تھا پھرتو اس میں پھونک مارتا تھا تب وہ میرے حکم سے اڑنے والا ہو جاتا تھا اور مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کومیرے حکم سے اچھا کرتا تھا اور جب مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتا تھا اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس نشانیاں لے کر آیا تو جو ان میں کافر تھے وہ کہنے لگے اور کچھ نہیں یہ تو صریح جادو ہے
111اورجب میں نے حواریوں کے دل میں ڈال دیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تو کہنے لگے ہم یمان لائے اور تو گواہ رہے کہ ہم الله کے فرمانبردار ہیں
112جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تیرا رب کر سکتا ہے کہ ہم پر خوان بھرا ہوا آسمان سے اتارے کہا الله سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو
113انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں اور ہم جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس پر گواہ ر ہیں
114عیسیٰ مریم کے بیٹے نے کہا اے اللهرب ہمارے ہم پر بھرا ہوا خوان آسمان سے اتار جو ہمارے پہلوں اور پچھلوں کیلئے عید ہو اور تیری طرف سےایک نشانی ہو اور ہمیں رزق دے اور تو ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
115الله نے فرمایا بے شک میں وہ خوان تم پر اتارو ں گا پھر اس کے بعد جو کوئی تم میں سے ناشکری کرے گا تو میں اسے ایسی سزا دوں گا جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہو گی
116اور جب الله فرمائے گا اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تو نے لوگو ں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو وہ عرض کرے گا تو پاک ہے مجھے لائق نہیں ایسی بات کہوں کہ جس کا مجھے حق نہیں اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھے ضرور معلوم ہو گا جو میرے دل میں ہے تو جانتا ہے اور جو تیرے دل میں ہے وہ میں نہیں جانتا بے شک تو ہی چھپی ہوئی باتو ں کا جاننے والا ہے
117میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ الله کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے اور میں اس وقت تک ان کا نگران تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے
118اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو ہی زبردست حکمت والا ہے
119الله فرمائے گا یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ کام آئے گا ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں سے ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان سے الله راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہی بڑی کامیابی ہے
120آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب الله ہی کی سلطنت ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے
Chapter 6 (Sura 6)
1سب تعریف الله ہی کے لیے ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور اندھیرا اوراجالا بنایا پھر بھی یہ کافر اوروں کو اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھیراتے ہیں
2الله وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک وقت مقرر کر دیا اور اس کےہاں ایک مدت مقرر ہے تم پھر بھی شک کرتے ہو
3اور وہی ایک الله آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی تمہارے ظاہر اور چھپے سب حال جانتا ہے او رجانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
4ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے منہ نہ موڑا ہو
5اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا جس چیز کا اب تک وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں ان کو پہنچیں گی
6کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم ان سے پہلے بھی کتنی امتیں ہلاک کر دیں ہم نے انہیں زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا اور ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اوران کے نیچے نہریں بہا دیں پھر ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور ہم نے ان کے بعد اور امتوں کو پیدا کیا
7اور اگر ہم تم پر کوئی کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب اتار دیتے اور لوگوں سے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تب بھی کافر یہی کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے
8اور کہتے ہیں اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اور اگر ہم فرشتہ اتارے تو اب تک فیصلہ ہو چکا ہوتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی
9اور اگر ہم کسی کو فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا اور انہیں اسی میں شبہ میں ڈالے جس میں اب مبتلا ہیں
10اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے پھر جن لوگوں نے ان سے مذاق کیا تھا انہیں اسی عذاب نے آ گھیرا جس کا مذاق اڑاتے تھے
11کہہ دو کہ ملک میں سیر کرو پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا
12ان سے پوچھو آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے کہہ دو سب کچھ الله ہی کا ہے اس نے اپنے اوپر رحم لازم کر لیا ہے وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور اکھٹا کرے گا جس میں کچھ شک نہیں جو لوگ اپنی جانوں کا نقصان میں ڈال چکے وہ ایمان نہیں لاتے
13اور الله ہی کا ہے جو کچھ رات اور دن میں پایا جاتا ہے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے
14کہہ دو جو الله آُسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے کیا اس کے سوا کسی اور کو اپنا مددگار بناؤں اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا کہہ دو مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے اس کا فرمانبردار ہو جاؤں اور تو ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو
15کہہ دو اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن کےعذاب سے ڈرتا ہوں
16جس سے اس دن عذاب ٹل گیا تو اس پر الله نے رحم کر دیا اور یہی بڑی کامیابی ہے
17اور اگر الله تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تواس کے سوا اور کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے
18اوراپنے بندوں پر اسی کا زور ہے اور وہی حکمت والا خبردار ہے
19تو پوچھ سب سے بڑا گواہ کون ہے کہہ دو الله میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور مجھ پر یہ قرآن اتارا گیا ہے تاکہ تمہیں اس کے ذریعہ سے ڈراؤں اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے کیا تم گواہی دیتے ہو کہ الله کے ساتھ اور بھی کوئی معبود ہیں کہہ دو میں تو گواہی نہیں دیتا کہہ دو وہی ایک معبود ہے اور میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں
20جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور جو لوگ اپنی جانوں کو نقصان میں ڈال چکے ہیں وہی ایمان نہیں لاتے
21جو شخص الله پر بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے اس سے زیادہ ظالم کون ہے بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے
22اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ان لوگوں سے کہیں گے جنہوں نے شرک کیا تھا تمہارے شریک کہاں ہیں جن کاتمہیں دعویٰ تھا
23پھر سوائے اس کے ان کا اورکوئی بہانہ نہ ہوگا کہیں گے ہمیں الله اپنے پرودگار کی قسم ہے کہ ہم تو مشرک نہیں تھے
24دیکھو اپنے اوپر انہوں نے کیسا جھوٹ بولا اور جو باتیں وہ بنایا کرتا تھے وہ سب غائب ہو گئیں
25اور بعض ان میں سے تیری طرف کان لگائے رہتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جس کی وجہ سے وہ کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانو ں میں گرانی ہے اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تو بھی ان پر ایمان نہ لادیں گے جب وہ تمہارے پاس آ کر تم سے جھگڑتے ہیں تو کافر کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگو ں کی کہانیاں ہی ہیں
26اور یہ لوگ اس سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور انہیں ہلاک کر تے مگر اپنے آپ کو اور سمجھتے نہیں
27کاش تم اس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت کہیں گے کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم واپس بھیج دیے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں ہوجائیں
28بلکہ جس چیز کو اس سے پہلے چھپاتے تھے وہ ظاہر ہو گئی اور اگر یہ واپس بھیج دیے جائیں تب بھی وہی کام کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا اور یقیناً یہ جھوٹے ہیں
29اور کہتےہیں اس دنیا کی زندگی کے سوا ہمارے لیے اور کوئی زندگی نہیں اور ہم اٹھائے نہیں جائیں گے
30اور کاش کہ تو دیکھے جس وقت وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے وہ فرمائے گا کیا یہ سچ نہیں کہیں گے ہاں ہمیں رب کی قسم ہے فرمائے گا تو اپنے کفر کے بدلے عذاب چکھو
31وہ لوگ تباہ ہوئے جنہوں نے اپنے رب کی ملاقات کو جھٹلایا یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آ پہنچے گی تو کہیں گے اے افسوس ہم نے اس میں کیسی کوتاہی کی اور وہ اپنے بوجھ اپنے پیٹوں پر اٹھائیں گےخبرداروہ برا بوجھ ہے جسے وہ اٹھائیں گے
32اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشہ ہے اور البتہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو پرہیزگار ہوئے کیا تم نہیں سمجھتے
33ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتیں تمہیں غم میں ڈالتی ہیں سو وہ تجھے نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم الله کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں
34اور بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے گئے پھر انہوں نےجھٹلائے جانے پر صبر کیا اور ایذا دیے گئے یہاں تک کہ ان کو ہماری مدد پہنچی اور الله کے فیصلے کوئی بدل نہیں سکتا اور تمہیں پیغمبروں کے حالات کچھ پہنچ چکے ہیں
35اور اگر ان کا منہ پھیرنا تم پر گراں ہو رہا ہے پھر اگر تم سے ہو سکے تو کوئی سرنگ زمین میں تلاش کر یا آسمان سے سیڑھی لگا پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لا اور اگر الله چاہتا تو سب کو سیدھی راہ پر جمع کر دیتا سو تو نادانوں میں سے نہ ہو
36وہی مانتے ہیں جو سنتے ہیں اور الله مردوں کو زندہ کرے گا پھر اس کی طرف لوٹائے جائیں گے
37اور کہتے ہیں اس کے رب کی طرف سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری کہہ دو الله اس پر قادر ہے کہ نشانی اتارے اور لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے
38اور کوئی چلنے والا زمین میں نہیں اور نہ کوئی پرندہ کہ اپنے دوبازؤں سے اڑ تا ہے مگر یہ تمہاری ہی طرح کی جماعتیں ہیں ہم نے ان کی تقدیر کےلکھنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع کیے جائیں گے
39اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرےاور گونگے ہیں اندھیروں میں ہیں الله جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر ڈال دے
40کہہ دو دیکھو تو سہی اگر تم پرخدا کا عذاب آئے یا تم پر قیامت ہی آ جائے تو کیا خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے اگر تم سچے ہو
41بلکہ اسی کو پکارتے ہو پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو دور کر دیتا ہے جس کے لیے اسے پکارتے ہو اور جنہیں تم الله کا شریک بناتے ہو انہیں بھول جاتے ہو
42اور ہم نے تجھ سے پہلے بہت سی امتوں کے ہاں رسول بھیجےتھے پھر ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں پکڑا تاکہ وہ عاجزی کریں
43پھر کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو عاجزی کرتے لیکن ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے انہیں وہ کام آراستہ کر دکھائے جو وہ کرتے تھے
44پھر جب وہ اس نصیحت کو بھول گئے جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں پر خوش ہو گئےجو انہیں دی گئیں تھیں ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا وہ اس وقت نا امید ہوکر کر رہ گئے
45پھر ان ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور الله ہی کے لیے سب تعریف ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے
46ان سے کہہ دو دیکھو تو سہی اگر الله ہی کے لیے سب تعریف ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہےاگر الله تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو الله کے سوا کوئی ایسا رب ہے جو تمہیں یہ چیزیں لادے دیکھ ہم کیوں کر طرح طرح کی نشانیاں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ منہ موڑتے ہیں
47کہہ دو اگرتم پر الله کا عذاب اچانک یا ظاہر آ جائے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہو گا
48اور ہم پیغبروں کو صرف اس لیے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور ڈرائیں پھر جو شخص ایمان لے آوے اور اپنی اصلاح کر لے سو ان پر کوئی ڈر نہ ہوگا اور نہ وہ غم کھائيں گے
49اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں عذاب پہنچے گا اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے
50کہہ دو میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے کہہ دو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں کیا تم غور نہیں کرتے
51اور اس قرآن کے ذریعے سے ان لوگو ں کو ڈرا جنہیں اس کا ڈر ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے جمع کیے جائیں گے اس طرح پر کہ الله کے سوا ان کوئی مددگار اور سفارش کرنے والا نہ ہو گا تاکہ وہ پرہیزگار ہوجائیں
52اور جو لوگ اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ کر جو الله کی رضا چاہتے ہیں تیرے ذمہ ان کا کوئی حساب نہیں ہے اور نہ تیرا کوئی حساب ان کے ذمہ اگر تو نے انہیں دو ہٹا یا پس تو بے انصافوں میں سے ہوگا
53اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمایا ہے تاکہ یہ لوگ کہیں کیا یہی ہیں ہم میں سے جن پر الله نے فضل کیا ہے کیا الله شکر گزارو ں کو جاننے والا نہیں ہے
54اور ہماری آیتوں کو ماننے والے جب تیرے پاس آئیں تو کہہ دو کہ تم پر سلام ہے تمہارے رب نے اپنے ذمہ رحمت لازم کی ہےجو تم میں سے ناواقفیت سے برائی کرے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور نیک ہو جائے تو بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
55اور اسی طرح ہم آیتوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں اور تاکہ گنہگاروں کا راستہ واضح ہو جائے
56کہہ دو مجھے منع کیا گیا ہے اس سے کہ میں بندگی کروں ان کی جنہیں تم الله کے سوا پکارتے ہو کہہ دو میں تمہاری خواہشات کے پیچھے نہیں چلتا کیوں کہ میں اس وقت گمراہ ہو جاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ رہوں گا
57کہہ دو میرے پاس تو میرے رب کی طرف سے ایک دلیل ہے اور تم اس کو جھٹلاتے ہو جس چیز کو تم جلدی چاہتے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے الله کے سوا اور کسی کا حکم نہیں ہے وہ حق بیان کرتا ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
58کہہ دو اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو اس معاملہ میں فیصلہ ہوگیا ہو تا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے اور الله ظالموں کو خوب جانتا ہے
59اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کےسوا کوئی نہیں جانتا جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے وہ سب جانتا ہے اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے بھی جانتاہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے مگر یہ سب کچھ کتاب روشن میں ہیں
60اور وہ وہی ہے جو تمہیں رات کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کر چکے ہو وہ جانتا ہے پھر تمہیں دن میں اٹھا دیتا ہے تاکہ وہ وعدہ پورا ہو جو مقرر ہو چکا ہے پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے پھر تمہیں خبر دے گا اس کی جو کچھ تم کرتے تھے
61اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے قبضہ میں لے لیتے اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے
62پھر الله کی طرف پہنچائیں جائیں گے جو ا نکا سچا مالک ہے خوب سن لو کہ فیصلہ الله ہی کا ہوگا اور بہت جلدی حساب لینے والا ہے
63کہہ دو تمہیں جنگل اور دریا کے اندھیروں سے کون بچا تا ہے جب اسے عاجزی سے اور چھپا کر پکارتے ہوکہ اگر ہمیں اس آفت سے بچا لے تو البتہ ہم ضرور شکر گزار کرنے والوں میں سے ہوں گے
64کہہ دو الله تمہیں اس سے اور ہر سختی سے بچا تا ہے تم پھر بھی شرک کرتے ہو
65کہہ دو وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر عذاب اوپر سے بھیجے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں مختلف فرقے کر کے ٹکرا دے اور ایک کودوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے دیکھو ہم کس طرح مختلف طریقوں سے دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھ جائیں
66اور تیری قوم نے اسے جھٹلایا ہے حالانکہ وہ حق ہے کہہ دو میں تمہارا ذمہ دار نہیں بنایا گیا
67ہر خبر کے ظاہر ہونے کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب جان لو گے
68اور جب تو ان لوگو ں کو دیکھے جو ہماری آیتو ں میں جھگڑتے ہیں تو ان سے الگ ہو جا یہاں تک کہ کسی اور بات میں بحث کرنے لگیں اور اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آجانے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ
69اور جھگڑنے والوں کے حساب میں سے پرہیزگاروں کے ذمہ کوئی چیز نہیں لیکن نصیحت کرنی ہے شاید کہ وہ ڈر جائیں
70اور انہیں چھوڑ دو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیاکی زندگی نے انہیں دھوکہ دیا ہے اور انہیں قرآن سے نصیحت کرتا تاکہ کوئی اپنے کیے میں گرفتار نہ ہو جائے کہ اس کے لیے الله کے سوا کوئی دوست اور سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور اگر دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے گا تب بھی اس سے نہ لیا جائے گا یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے کیے میں گرفتار ہوئے ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہوگا اور ان کے کفر کے بدلہ میں دردناک عذاب ہو گا
71انہیں کہہ دوکہ کیا ہم الله کے سوا انہیں پکاریں جو ہمیں نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان دے سکیں اور کیا ہم الٹے پاؤں پھر جائیں اس کے بعد کہ الله نے ہمیں سیدھی راہ دکھائی ہے اس شخص کی طرح جسےجنگل میں جنوں نے راستہ بھلا دیا ہو جب کہ وہ حیران ہو اس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلاتے ہوں کہ ہمارے پاس چلا آ کہہ دو الله نے جو راہ بتلائی وہی سیدھی ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے تابع رہیں
72اور یہ کہ نماز قائم رکھو اور الله سے ڈرتے رہو وہی ہے جس کے سامنے اکھٹے کیے جاؤ گے
73اور وہی ہے جس نے آسمانوں اورزمین کو ٹھیک طور پر بنایا ہے اور جس دن کہے گا کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گا اس کی بات سچی ہے جس دن صورمیں پھونکا جائے گاتو اسی کی بادشاہی ہو گی چھپی اور ظاہر باتوں کا جاننے والا ہے اور وہی حکمت والا خبردار ہے
74اور یاد کر جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا بتوں کو خدا جانتاہے میں تجھے اور تیرے قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں
75اور ہم نے اسی طرح ابراھیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھائے ابور تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے
76پھر جب رات نے اس ہر اندھیرا کیا اس نے ایک ستارہ دیکھا کہا یہ میرا رب ہے پھر جب وہ غائب ہو گیا تو کہا میں غائب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا
77پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے پھر جب وہ غائب ہو گیا تو کہا اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرے گا تو میں ضرور گمراہوں میں سے ہوجاؤں گا
78پھر جب آفتاب کو چمکتاہوا دیکھا کہا یہی میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے پھر جب وہ غائب ہو گیا کہا اے میری قوم میں ان سے بیزار ہوں جنہیں تم الله کا شریک بناتے ہو
79سب سے یک سو ہو کر میں نے اپنے منہ کو اسی کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمان اور زمین بنائی اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
80اور اس کی قوم نے اس سے جھگڑا کیا اس نے کہا کیا تم مجھ سے الله کے ایک ہونے میں جھگڑتے ہو اور اس نے میری رہنمائی کی ہے اور جنہیں تم شریک کرتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا مگر یہ کہ میرا رب مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے میرے رب نے علم کے لحاظ سے سب چیزوں پر احاطہ کیا ہوا ہے کیا تم سوچتے نہیں
81اور تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڑرتے کہ الله کا شریک ٹھیراتے ہو اس چیز کو جس کی الله نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری اگر تم کو کچھ سمجھ ہے تو (بتاؤ) دونوں جماعتوں میں سے امن کا زیادہ مستحق کون ہے
82جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں شرک نہیں ملایا امن انہیں کے لیے ہے اور وہی راہ راست پر ہیں
83اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی ہم جس کے چاہیں درجے بلند کرتے ہیں بے شک تیرا رب حکمت والا جاننے والا ہے
84اور ہم نے ابراھیم کو اسحاق اور یعقوب بخشا ہم نے سب کو ہدایت دی اور اس سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی اور اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون ہیں اور اسی طرح ہم نیکو کاروں کو بدلہ دیتے ہیں
85اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس سب نیکو کاروں سے ہیں
86اور اسماعیل اورالیسع اوریونس اور لوط او رہم نے سب کو سارے جہان والوں پر بزرگی دی
87اور ان کے باپ دادوں اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بعضوں کو ہم نے ہدایت دی اور ہم نے انہیں پسند کیا اور سیدھی راہ پر چلایا
88یہ الله کی ہدایت ہے اپنے بندوں کو جسے چاہے اس پر چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو البتہ جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب کچھ ضائع ہو جاتا
89یہی لوگ تھے جنہیں ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوت دی تھی پھر اگر مکہ والے ان باتو ں کو نہ مانیں تو ہم نے ان باتو ں کے ماننے کے لیے ایسے لوگ مقرر کر دیے جوان کے منکر نہیں ہیں
90یہ وہ لوگ تھے جنہیں الله نے ہدایت دی سو تو ان کے طریقہ پر چل کہہ دو میں تم سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا یہ تو جہان والوں کے لیے محض نصیحت ہے
91اور انہوں نے الله کو صحیح طور پر نہیں پہچانا جب انہوں نے کہا الله نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری تھی جو لوگو ں کے واسطے روشنی اور ہدایت تھی جسے تم نے ورق ورق کر کےد کھلا یا اوربہت سی باتو ں کو چھپا رکھا اور تمہیں وہ چیزیں سکھائیں جنہیں تم اور تمہارے باپ دااد نہیں جانتے تھے تو کہہ دو الله ہی نے اتاری تھی پھرانہیں چھوڑ دو کہ اپنی بحث میں کھیلتے رہیں
92اور یہ کتاب جسے ہم نے اتارا ہےبرکت والی ہے ان کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے تھیں اور تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو ڈرائے اور جو لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہی اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں
93اور اس سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو الله پربہتان باندھے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے حالانکہ اس پر وحی نہ اتری ہو اور جو کہے میں بھی ایسی چیز اتار سکتا ہوں جیسی کہ الله نے اتاری ہے اور اگر تو دیکھے جس وقت ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھانے والےہوں گے کہ اپنی جانوں کو نکالو آج تمہیں ذلت کا عذاب ملے گا اس سبب سے کہ تم الله پر جھوٹی باتیں کہتے تھے اور اس کی آیتوں کے ماننے سے تکبر کرتے تھے
94اور البتہ تم ہمارے پاس ایک ایک ہو کر آ گئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا وہ اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے ہو اور تمہارے ساتھ ان کی سفارش کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جنہیں تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملےمیں شریک ہیں تمہارا آپس میں قطع تعلق ہو گیا ہے اور جو تم خیال کرتے تھے وہ سب جاتا رہا
95بے شک الله دانے اور گٹھلی کا پھاڑنے والا ہے مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ نکالنے والا ہے الله یہی ہے پھر کدھر الٹے پھرے جا رہے ہو
96وہ صبح کا نکالنے والا ہے اور اس نے آرام کے لیے رات بنائی اسی نے چاند اور سورج کا حساب مقرر کیا ہے یہ غالب جاننے والے کا اندازہ ہے
97اور اسی نے تمہارے لیے ستارے بنائے ہیں تاکہ ان کے ذریعے سے جنگل اوردریا کےاندھیروں میں راستہ معلوم کر سکو تحقیق ہم نے کھول کر نشانیاں بیان کر دی ہیں ان لوگو ں کے لیے جو جانتے ہیں
98اور الله وہی ہے جس نے ایک شخص سے تم سب کو پیدا کیا پھر ایک تو تمہارا ٹھکانا ہے اور ایک امانت رکھے جانےکی جگہ تحقحق ہم نے کھول کر نشانیاں بیان کر دی ہیں ان کے لیے جو سوچتے ہیں
99اور اسی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے ہر چیز اگنے والی نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس سے ہم ایک دوسرے پرچڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھل کے جھکے ہوئے گچھے اور انگور اور زیتون اور انار کے باغ آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی ہر ایک درخت کے پھل کو دیکھو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں
100اور اللہ کے شریک جنوں کو ٹھیراتے ہیں حالانکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور جہالت سے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کرتے ہیں وہ پاک ہے اور ان باتوں سے بھی بلند ہے جو وہ بیان کرتے ہیں
101آسمانوں اور زمین کو از سر نو پیدا کرنے والا ہے اس کا بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز کو بنایاہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے
102یہی اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوائے اورکوئی معبود نہیں ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے پس اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کا رساز ہے
103اسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں اور وہ آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے اوثر وہ نہایت باریک بین خبردار ہے
104تحقیق تمہارے ہاں تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں آ چکی ہیں پھر جس نے دیکھ لیا تو خود ہی نفع اٹھایا اور جو اندھا رہا سو اپنا نقصان کیا اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں
105اور اسی طرح ہم مختلف طریقوں سے دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ وہ کہیں کہ تو نے کسی سے پڑھا ہے اور تاکہ ہم سمجھداروں کے لیے واضح کر دیں
106تو اس کی تابعداری کر جو تیرےرب کی طرف سے وحی کی گئی ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیرے
107اور اگر الله چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے تجھے ا ن پر نگہبان نہیں بنایا اور تو ان کا ذمہ دار نہیں ہے
108اور جن کی یہ الله کے سوا پرستش کر تےہیں انہیں برا نہ کہوورنہ وہ بے سمجھی سے زیادتی کرکے الله کو برا کہیں گے اس طرح ہر ایک جماعت کی نظر میں ان کے اعمال کوہم نے آراستہ کر دیا ہے پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر آنا ہے تب وہ انہیں بتلائے گا جو کچھ کیا کرتے تھے
109اور وہ الله کے نام کی پکی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو اس پر ضرور ایمان لاویں گے ان سے کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ کے ہاں ہیں اور تمہیں اے مسلمانو کیا خبر ہے کہ جب نشانیاں آہیں گی تو یہ لوگ ایمان لے ہی آئیں گے
110اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جس طرح یہ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لاتے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں حیران رہنے دیں گے
111اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیں اور ان سے مردے باتیں بھی کریں اور ان کے سامنے ہم ہر چیز کو زندہ بھی کر دیں تو بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں مگر یہ کہ الله چاہے لیکن اکثر ان میں سے جاہل ہیں
112اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے شریر آدمیوں اور جنوں کو دشمن بنایا جو کہ ایک دوسرے کو طمع کرہوئی باتیں فریب دینے کے لیے سکھاتے ہیں اور اگر تیرا رب چاہتا تو یہ کام نہ کرتے سو تو انہیں اور جوجھوٹ بناتے ہیں اسے چھوڑ دے
113اور تاکہ ان طمع کی ہوئی باتوں کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوں جنہیں آخرت پر یقین نہیں اور تاکہ وہ لوگ ان باتو ں کو پسند کریں اور تاکہ وہ کریں جو برے کام وہ کر رہے ہیں
114کیا میں الله کےسوا اور کسی کو منصف بناؤں حالانکہ اس نے تمہاری طرف ایک واضح کتاب اتاری ہے اور جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ ٹھیک تیرے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو
115اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف کی انتہائی حد تک پہنچی ہوئی ہیں اس کی باتو ں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور وہ سننے والا جاننے والا ہے
116اور اگر تو کہا مانے گا اکثر ان لوگو ں کا جو دنیا میں ہیں تو تجھے الله کی راہ سے ہٹا دیں گے وہ تو اپنے خیال پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں
117تیرا رب خوب جانتا ہے اسے جو اس کے راہ سے ہٹ جاتا ہے اور سیدھے راستہ پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے
118سو تم اس جانوروں میں سے کھاؤ جس پر الله کا نام لیا گیا ہے اگر تم اس کے حکموں پر ایمان لانے والے ہو
119کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر الله کا نام لیا گیا ہو حالانکہ وہ واضح کر چکا ہے جو کچھ اس نے تم پر حرام کیا ہے ہاں مگر وہ چیز جس کی طرف تم مجبور ہو جاؤ اوربہت سے لوگ بےعلمی کے باعث اپنے خیالات کے باعث اپنے خیالات کی بناء پر لوگو ں کو بہکاتے ہیں تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے
120تم ظاہری اورباطنی سب گناہ چھوڑ دو بے شک جو لوگ گناہ کرتے ہیں عنقریب اپنے کیے کی سزا پائیں گے
121اور جس چیز پر الله کا نام نہیں لیا گیا اس میں سے نہ کھاؤ اور بے شک یہ کھانا گناہ ہے اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلو ں میں ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم نے ان کا کہا مانا تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے
122بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کر دیا اور ہم نے اسے روشنی دی کہ اسے لوگوں میں لیے پھرتا ہےوہ اس کے برابر ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو وہاں سے نکل نہیں سکتا اسی طرح کافروں کی نظر میں ان کے کام آراستہ کر دیئے گئے ہیں
123اور اسی طرح ہر بستی میں ہم نے گناہگاروں کے سردار بنا دیےہیں تاکہ وہاں اپنے مکرو فریب کا جال پھیلائیں حالانکہ وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں
124جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم نہیں مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہمیں نہ دی جائے جو الله کے رسولوں کو دی گئی ہے اور الله بہتر جانتا ہے کہ پیغمبری کا کام کس سے لے وہ وقت قریب ہے جب یہ مجرم اپنی مکاریو ں کی پاداش میں الله کے ہاں ذلت اور سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے
125سو جسے الله چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے اسی طرح الله تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے
126اور یہ تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے آیتوں کو صاف صاف کر کے بیان کر دیا ہے
127ان کے لیے اپنے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کے اعمال کے سبب سے ان کا مددگار ہے
128اور جس دن ان سب کو جمع کرے گا جنوں کی جماعت سے فرمائے گا تم نے آدمیوں سے بہت سے اپنے تابع کر لئے تھے اور آدمیوں میں سے جو جنوں کے دوست تھے کہیں گے اے رب ہمارے ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کام نکالا اور ہم اپنی اس معیاد کو آ پہنچے جو تو نے ہمارے واسطے مقرر کی تھی فرمائے گا تم سب کا ٹھکانا آگ ہے اس میں ہمیشہ رہو گے اس سے صرف وہی بچیں گے جنہیں الله بچائے گا بے شک تیرا رب حکمت والا جاننے والا ہے
129اور اسی طرح ہم گنہگاروں کو ایک دوسرے کے ساتھ ان کے اعمال کے سبب سے ملا دیں گے
130اے جنو اور انسانو! کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں میرے احکام سناتے تھے وہ اس دن کی ملاقات سے تمہیں ڈراتے تھے کہیں گے ہم اپنے گناہ کا راقرار کرتے ہیں اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ دیا ہے او راپنے اوپر ہی گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے
131یہ اس لیے ہوا کہ تیار رب بستیوں کو ظلم کرنے کے باوجود ہلاک نہیں کیاکرتا اس حال میں کہ وہ بے خبر ہوں
132اور ہر ایک کے لیے ان کے عمل کے لحاظ سے درجے ہیں اور تیرا رب ان کے کاموں سے بے خبر نہیں
133اور تیرا رب بے پرواہ رحمت والا ہے اگر وہ چاہے تم سب کو اٹھالے اور تمہارے بعد جسے چاہے تمہاری جگہ آباد کردے جس طرح تمہیں ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے
134جس چیز کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ ضرور آنے والی ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے
135کہہ دو اے لوگو تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو اور میں بھی کرتا ہوں عنقریب معلوم کر لو گے آخرت کا گھر کس کے لیے ہوتا ہے بے شک ظالم نجات نہیں پاتے
136اور الله کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اس کے لیے مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال کے مطابق کہتے ہیں کہ یہ الله کا حصہ ہے اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے سو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہے وہ الله کی طرف نہیں جا سکتا اور جو الله کا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں
137اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے خیال میں ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کرنے کو خوشنما بنا دیا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں مبتلا کر دیں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں اگر الله تعالیٰ چاہتا تو ایسا نہ کرتے سو انہیں چھوڑ دو اور جو وہ افتراء کر تے ہیں
138اور کہتے ہیں یہ جانور اور کھیت محفوظ ہیں انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم چاہیں اورکچھ جانور ہیں جن پر سواری حرام کر دی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر الله کا نام نہیں لیتے یہ سب الله پر افتراء ہے عنقریب الله انہیں اس افترا کی سزا دے گا
139اور کہتے ہیں جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے خاص ہے اور ہماری عورتو ں پر حرام ہے اور جو بچہ مردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں برابر ہیں الله انہیں ان باتو ں کی سزا دے گا بے شک وہ حکمت والا جاننے والا ہے
140تحقیق خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت اور نادانی کی بنا پر قتل کیا اور الله پر بہتان باندھ کر اس رزق کو حرام کر لیا جو الله نے انہیں دیا تھا بے شک وہ گمراہ ہوئے اور سیدھی راہ پر نہ آئے
141اور اسی نے وہ باغ پیدا کیے جو چھتو ں پر چڑھائے جاتے ہیں او رجو نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت او رکھیتی جن کے پھل مختلف ہیں اور زیتون اور انار پیدا کیے جو ایک دوسرے سے مشابہاور جدا جدا بھی ہیں ان کے پھل کھاؤ جب وہ پھل لائیں اور جس دن اسے کاٹو اس کا حق ادا کرو اور بے جا خرچ نہ کرو بے شک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
142اور بوجھ اٹھانے والے مویشی پیدا کیے اور زمین سے لگے ہوئے اور الله کے رزق میں سے کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے
143آٹھ قسمیں پیدا کیں بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو تو پوچھ کہ دونوں نر الله نے حرام کیے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ جو دونوں مادہ کے رحم میں ہے مجھے اس کی سند بتلاؤ اگر سچے ہو
144اور اونٹ اور گائے سے دو دو قسمیں پیدا کیں تو پوچھ دونوں نر حرا م کیے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ جو دونوں مادہ کے رحم میں ہے کیا تم موجود تھے جس وقت الله نے تمہیں حکم دیا تھا پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو الله پر جھوٹا بہتان باندھے تاکہ لوگو ں کو بلا تحقیق گمراہ کرے بے شک الله ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا
145کہہ دو کہ میں اس وحی میں جو مجھے پہنچی ہے کسی چیز کو کھانے والے پر حرام نہیں پاتا جو اسے کھائے مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت کہ وہ ناپاک ہے یا وہ ناجائز ذبیحہ جس پر الله کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے پھر جو تمہیں بھوک سے بے اختیار ہوجائے ایسی حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا اور نہ حد سے گزرنے والا ہو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے
146یہود پرہم نے ایک ناخن والا جانور حرام کیا تھا اور گائے اوربکری میں سے ان دونوں کی چربی حرا م کی تھی مگر جو پشت پر یا انتڑیوں پر لگی ہوئی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہوئی ہو ہم نے ان کی شرارت کے باعث انہیں یہ سزا دی تھی اور بے شک ہم سچے ہیں
147پھر اگر تجھے جھٹلائیں تو کہہ دو تمہارا رب بہت وسیع رحمت والا ہے اورگناہگار لوگوں سے اس کا عذاب نہیں ٹلے گا
148اب مشرک کہیں گے اگر الله چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرتے اورنہ ہم کسی چیز کو حرام کرتے اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ انہو ں نے ہمارا عذاب چکھا کہہ دو تمہارے ہاں کوئی ثبوت ہے تو اسے ہمارے سامنے لاؤ تم فقط خیالی باتوں پر چلتے ہو اور صرف تخمینہ ہی کرتے ہو
149کہہ دو پس الله کا الزام پورا ہو چکا پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت کردیتا
150ان سے کہہ دو اپنے گواہ لاؤ جو اس بات کی گواہی دیں کہ الله نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے پھر اگر وہ ایسی گواہی دیں توتو ان کا اعتبار نہ کر اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت پریقین نہیں رکھتے اور وہ اوروں کو اپنے رب کے برابر کرتے ہیں
151کہہ دو آؤ میں تمہیں سنا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور تنگدستی کے سبب اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ہم تمہیں اور انہیں رزق دیں گے اور بے حیائی کے ظاہر اور پوشیدہ کاموں کے قریب نہ جاؤ اور نا حق کسی جان کو قتل نہ کرو جس کا قتل الله نے حرام کیا ہے تمہیں یہ حکم دیتا ہے تاکہ تم سمجھ جاؤ
152اور سوائے کسی بہتر طریقہ کے یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور ناپ اور تول کو انصاف سے پورا کرو ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور جب بات کہو انصاف سے کہو اگرچہ رشتہ داری ہو اور الله کا عہد پورا کرو تمہیں یہ حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
153اور بے شک یہی میرا سیدھا راستہ ہے سو اسی کا اتباع کرواور دوسرے راستوں پر مت چلو وہ تمہیں الله کی راہ سے ہٹا دیں گے تمہیں اسی کا حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ
154پھر ہم نےنیکوں پر نعمت پوری کرنے کے لیے موسیٰ کو کتاب دی جس میں ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں
155یہ برکت والی کتاب ہم نے اتاری ہے سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
156تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے دو فرقوں پر کتاب نازل ہوئی تھی اورہم تو ان کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے
157یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی جاتی تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلتے سو تمہارے پاس تمہارے رب کی ھرف سے ایک واضح کتاب اور ہدایت اور رحمت آ چکی ہے اب اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو الله کی آیتوں کوجھٹلائے اور ان سے منہ موڑے جو لوگ ہماری آیتوں سے منہ موڑتے ہیں ہم انہیں ان کے منہ موڑنے کے باعث برے عذاب کی سزا دیں گے
158یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پا س فرشتے آویں یا تیرا رب آئے یا تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی تو کسی ایسے شخص کا ایمان کام نہ آئے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے ایمان لانے کے بعد کوئی نیک کام نہ کیا ہو کہہ دو انتظار کرو ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں
159جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کئی جماعتیں بن گئے تیرا ان سے کوئی تعلق نہیں اس کا کام الله ہی کے حوالے ہے پھر وہی انہیں بتلائے گا جو کچھ وہ کرتے تھے
160جو کوئی ایک نیکی کرے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے اور جو بدی کرے گا سو اسے اسی کے برابر سزا دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا
161کہہ دو میرے رب نے مجھےایک سیدھا راستہ بتلا دیا ہے ایک صحیح دین ابراھیم کی ملت جو ایک ہی طرف کاتھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا
162کہہ دو بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا الله ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے
163اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا تھا اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہوں
164کہہ دو کیا اب میں الله کے سوا اور کوئی رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے اور جو شخص کوئی گناہ کرے گاتو وہ اسی کے ذمہ ہے اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہارے رب کے ہاں ہی سب کو لوٹ کر جانا ہے سو جن باتو ں میں تم جھگڑتے تھے وہ تمہیں بتلاد ے گا
165اس نے تمہیں زمین میں نائب بنا یا ہے اور بعض کے بعض پر درجے بلند کر دیے ہیں تاکہ تمہیں اپنے دیے ہوئے حکموں میں آزمائے بے شک تیرا رب جلدی عذاب دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے
Chapter 7 (Sura 7)
1المصۤ
2یہ کتاب تیری طرف بھیجی گئی ہے تاکہ تو اس کے ذریعہ سے ڈرائے اور اس سے تیرے دل میں تنگی نہ ہونی چاہیئے اور یہ ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے
3جو چیز تمہارے رب کی طرف سے تم پر اتری ہے اس کا اتباع کرو اور الله کو چھوڑ کر دوسرے دوستوں کی تابعداری نہ کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو
4اور کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کر دی ہیں جن پر ہمارا عذاب رات کو آیا ایسی حالت میں کہ دوپہر کوسونے والے تھے
5جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا پھر ان کی یہی پکار تھی کہتے تھے بے شک ہم ہی ظالم تھے
6پھر ہم ان لوگوں سے ضرور سوال کریں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ان پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے
7پھر اپنے علم کی بناء پر ان کے سامنے بیان کر دیں گے اور ہم کہیں حاضر نہ تھے
8اورواقعی اس دن وزن بھی ہوگا جس شخص کا پلہ بھاری ہو گا سو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے
9اور جس کا پلہ ہلکا ہو گا سو یہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کیا اس لیے کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے
10اور ہم نے تمہیں زمین میں جگہ دی اور اس میں تمہاری زندگی کا سامان بنا دیا تم بہت کم شکر کرتے ہو
11او رہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں بنائیں پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو پھر سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا
12فرمایاتجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا ہے جب کہ میں نے تجھے حکم دیا کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا ہے
13کہاتو یہاں سے اتر جا تجھے یہ لائق نہیں کہ یہاں تکبر کرے پس نکل جا بے شک تو ذلیلوں میں سے ہے
14کہا مجھے اس دن تک مہلت دے جس دن لوگ قبرو ں سے اٹھائے جائیں گے
15فرمایا تجھے مہلت دی گئی ہے
16کہا جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں بھی ضرور ان کی تاک میں تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا
17پھر ان کے پاس ان کے آگے ان کے پیچھے ان کے دائیں اور ان کے بائیں سےآؤں گا اور تو اکثر کو ان میں سے شکر گزار نہیں پائے گا
18فرمایا یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا جو شخص ان سے تیرا کہا مانے گا میں تم سب کو جہنم میں بھر دوں گا
19اور اے آدم تو اور تیری عورت جنت میں رہو پھر جہاں سے چاہو کھاؤ اور اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ بے انصافوں میں سے ہو جاؤ گے
20پھرانہیں شیطان نے بہکایا تاکہان کی شرم گاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اور کہا تمہیں تمہارے رب نے اس درخت سے نہیں روکا مگر اس لیے کہ کہیں تم فرشتے ہو جاؤ یا ہمیشہ رہنے والے ہو جاؤ
21اور ان کے روبرو قسم کھائی کہ البتہ میں تمہارا خیرا خواہ ہوں
22پھر انہیں دھوکہ سے مائل کر لیا پھرجب ان دونوں نے درخت کو چکھا تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں اور اپنے اوپر بہشت کے پتے جوڑنے لگے اورانہیں ان کے رب نے پکارا کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمہیں کہ نہ دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے
23ان دونوں نے کہا اے رب ہمارے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے
24فرمایا یہاں سے اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے اور ایک وقت تک نفع اٹھانا ہے
25فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے
26اے آدم کی اولاد ہم نے تم پر پوشاک اتاری جو تمہاری شرم گاہیں ڈھانکتی ہیں اور آرائش کے کپڑے بھی اتارے اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے یہ الله کی قدرت کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
27اے آدم کی اولاد تمہیں شیطان نہ بہکائے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکال دیا ان سے ان کے کپڑے اتروائے تاکہ تمہیں ان کی شرمگاہیں دکھائے وہ اور اس کی قوم تمہیں دیکھتی ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنادیا ہے جوایمان نہیں لاتے
28اور جب کوئی برا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اسی طرح اپنے باپ دادا کو کرتے دیکھا ہے اور الله نے بھی ہمیں یہ حکم دیا ہے کہہ دو بے شک الله بے حیائی کا حکم نہیں کرتا الله کے ذمہ وہ باتیں کیوں لگاتے ہو جو تمہیں معلوم نہیں
29کہہ دو میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور ہر نماز کےوقت اپنے منہ سیدھے کرو اور اس کے خالص فرمانبردار ہو کر اسے پکارو جس طرح تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اسی طرح دوبارہ پیدا ہو گے
30ایک جماعت کو ہدایت دی اور ایک جماعت پر گمراہی ثابت ہو چکی انہوں نے الله کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنایا ہے اور خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں
31اے آدم کی اولاد تم مسجد کی حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور کھاؤ اور پیئو اور حد سے نہ نکلو بے شک الله حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا
32کہہ دو الله کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندو ں کے واسطے پیدا کی ہے اورکس نے کھانے کی ستھری چیزیں (حرام کیں) کہہ دو دنیا کی زندگی میں یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے لیے ہیں قیامت کے دن خالص انہیں کے لیے ہوجائیں گی اسی طرح ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں ان کے لیے جو سمجھتے ہیں
33کہہ دو میرے رب نے صرف بے حیائی کی باتو ں کو حرام کیا ہے خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ اور ہر گناہ کواور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو بھی اور یہ کہ الله پر وہ باتیں کہو جو تم نہیں جانتے
34اور ہر ایک گروہ کے لیے ایک معیاد معین ہے پھر جب وہ معیاد ختم ہو گی اور وقت نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں گے اور نہ آگے بڑھیں گے
35اے ادم کی اولاد اگر تم میں سے تمہارے پاس رسول آئیں جو تمہیں میری آیتیں سنائیں پھر جو شخص ڈرے گا اور اصلاح کرے گا ایسوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے
36اور جنہوں نے ہماری آیتو ں کو جھٹلایا اوران سے تکبر کیا وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے
37پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا الله پر بہتان باندھے یا اس کے حکموں کو جھٹلائے ان لوگوں کا جو کچھ نصیب ہے وہ ان کو مل جائے گا یہاں تک کہ جب ان کے ہاں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئيں گے تو کہیں گے کہ وہ کہاں گئے الله کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے تھے کہیں گے ہم سے سب غائب ہو گئے اور اپنے کافر ہونے کااقرار کرنے لگیں گے
38فرمائے گا جنوں اور آدمیوں میں سے جو امتیں تم سے پہلے ہو چکی ہیں ان کے ساتھ دوزخ میں داخل ہو جاؤ جب ایک امت داخل ہو گی تو دوسری پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب اس میں سب گر جائیں گے تو ن کے پچھلے پہلوں سے کہیں گے اے رب ہمارے ہمیں انہوں نے گمراہ کیا سو تو انہیں آگ کا دگنا عذاب دے فرمائے گا کہ دونوں کو دگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے
39اور پہلے پچھلوں سے کہیں گے پس تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں پس بسب اپنی کمائی کے عذاب چکھو
40بے شک جنہوں نے ہماری آیتو ں کو جھٹلایا اوران کے مقابلہ میں تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اورنہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے اور ہم گناہگاروں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں
41ان کے لیے دوزخ کا بچھونا اور اوپر سے اوڑھنا ہے اور ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
42اور جو ایمان لانے اور نیکیاں کیں ہم کسی پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت کےموافق وہی بہشتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
43اور جوکچھ ان کے دلو ں میں خفگی ہو گی ہم اسے دور کردیں گے ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گےکہ الله کاشکر ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا اور ہم راہ نہ پاتے اگر الله ہماری رہنمائی نہ فرماتا بے شک ہمارے رب کے رسول سچی بات لائے تھے جور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث ہو گئے ہو
44اور بہشت والے دوزخیوں کو پکاریں گے کہ ہم نے وعدہ سچا پایا جو ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا آیاتم بھی اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا وہ کہیں گے ہاں پھر ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ان ظالمو ں پر الله کی لعنت ہے
45جو الله کی راہ سے روکتے تھے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے
46اور ان دونوں کے درمیان ایک دیوار ہو گی اور اعراف کے اوپر ایسے مرد ہوں گے کہ ہر ایک کو اس کی نشانی سے پہچان لیں گے اور جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلام ہو وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اور امیدوار ہیں
47اورجب ان کی نگاہ دوزخ والوں کی طرف پھرے گی تو کہیں گے اے رب ہمارے ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ ملا
48اور اعراف والے پکاریں گے جنہیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے کہیں گے تمہاری جماعت تمہارے کسی کام نہ آئی اور نہ وہ جو تم تکبر کیا کرتے تھے
49یہ وہی ہیں جن کے متعلق تم قسم کھاتے تھے کہ انہیں الله کی رحمت نہیں پہنچے گی (انہیں کہا گیا ہے) جنت میں چلے جاؤ تم پر نہ ڈر ہے اور نہ تم غمگین ہو گے
50اور دوزخ والے بہشت والوں کو پکاریں گے کہ ہم پر تھوڑا سا پانی بہا دو یا کچھ اس چیز میں سے دو جو تمہیں الله نے رزق دیا ہے کہیں گے بے شک الله نے انہیں دونوں چیزوں کو کافروں پر حرام کیا ہے
51جنہوں نے اپنا دین تماشا اور کھیل بنایا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے سو آج ہم انہیں بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور جیسا وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے
52اور ہم نے ان کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جسے ہم نے اپنے علم کامل سے بہت ہی واضح کر کے بیان کر دیا ہے وہ ہدایت ہے اوررحمت ہے
53ان لوگو ں کے لیے ےجو ایمان لے آئے ہیں انہیں اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف آخری نتیجہ کا انتظار ہے جس دن اس کا آخری نتیجہ سامنے آئے گا اس دن جو اسے پہلے بھولے ہوئے تھے کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے رسول کی سچی باتیں لائے تھے سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے جو ہماری سفارش کر ےیاکیا ہم پھر واپس بھیجے جا سکتے ہیں تاکہ ہم ان کے اعمال کے خلاف جنہیں کیا کرتے تھے دوسرے اعمال کریں بے شک انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈا ل دیا اور جو باتیں بناتے تھے وہ سب گم ہو گئیں
54بے شک تمہارا رب الله ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھرعرش پر قرار پکڑا رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے وہ اس کے پیچھے دوڑتا ہوا آتا ہے اور سورج اورچاند اور ستارے اپنے حکم کے تابعدار بنا کر پیدا کیے اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا الله بڑی برکت والا ہے جو سارے جہان کا رب ہے
55اپنے رب کو عاجزی اور چپکے سے پکارو اسے حد سے بڑھنے والے پسند نہیں آتے
56اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو اور اسے ڈر اور طمع سے پکارو بے شک اللهکی رحمت نیکو کاروں سے قریب ہے
57اور وہی ہے جو مینہ سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب ہوائیں بھاری بادلو ں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ا س بادل کو مردہ شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر ہم ا س بادل سے پانی اتارتے ہیں پھر اس سے سب طرح کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
58اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کا سبزہ اس کے رب کے حکم سے نکلتا ہے اور جو اس میں خراب ہے جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے ناقص ہی ہوتا ہے اسی طرح ہم شکر گزاروں کے لیے مختلف طریقوں سے آیتیں بیان کرتے ہیں
59بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا پس اس نے کہا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
60اس کی قو م کے سرداروں نے کہا ہم تجھے صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں
61فرمایا اے میری قوم میں ہرگز گمراہ نہیں ہوں لیکن میں جہان کے پروردگار کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں
62تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور الله کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
63کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک مرد کی زبانی تمہارے پاس نصیحت آئی ہے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اورتاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ اور تاکہ تم پرحم کیے جاؤ
64پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا پھر ہم نے اسے اور ا سکے ساتھیوں کو کشتی میں بچا لیا اور جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے انہیں غرق کر دیا بے شک وہ لوگ اندھے تھے
65اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا فرمایا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں
66اس کی قوم کےکافر سردار بولےہم تو تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں اور ہم تجھے جھوٹا خیال کرتے ہیں
67فرمایا اے میری قوم میں بے وقوف نہیں ہوں لیکن میں پروردگار عالم کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں
68تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیر خواہ ہوں
69کیا تمہیں تعجب ہوا کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں میں سے ایک مرد کی زبانی تمہارے پاس نصیحت آئی ہے تاکہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب کہ تمہیں قوم نوح کے بعد جانشین بنا یا اورڈیل ڈول میں تمہیں پھیلاؤ زیادہ دیا سو الله کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم نجات پاؤ
70انہوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم ایک الله کی بندگی کریں اور ہمارے باپ دادا جنہیں پوجتے رہے انہیں چھوڑ دیں پس جس چیز سے تو ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ اگرتو سچا ہے
71فرمایا تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور غصہ واقع ہو چکا مجھ سے ان ناموں پر کیوں جھگڑتے ہو جوتم نے اور تمہارے باپ دادؤں نے مقرر کیے ہیں الله نے ان کے لیے کوئی دلیل نہیں اتاری سو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں
72پھر ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ مومن نہیں تھے
73اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا فرمایا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تمہیں تمہراے رب کی طرف سے دلیل پہنچ چکی ہے یہ الله کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے سو اسے چھوڑ دو کہ الله کی زمین میں کھائے اور اسے بری طرح سے ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ تمہیں دردناک عذاب پکڑے گا
74اور یاد کرو جب کہ تمہیں عاد کے بعد جانشین بنایا اور تمہیں زمین میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو اور پہاڑو ں میں گھر تراشتے ہو سو الله کے احسان کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت مچاتے پھرو
75اس قوم کے متکبر سرداروں نے غریبوں سے کہا جو ایمان لاچکے تھے کیا تمہیں یقن ہے کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے انہوں نے کہا جو وہ لے کر آیا ہے ہم اس پرایمان لانے والے ہیں
76متکبروں نے کہا جس پر تمہیں یقین ہے ہم اسے نہیں مانتے
77پھر اونٹنی کے پاؤں کاٹ ڈالے اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہا اے صالح لے آ ہم پر جس سے تو ہمیں ڈراتا تھا اگر تو رسول ہے
78پس انہیں زلزلہ نے آ پکڑا پھر صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے
79پھر صالح ان سے منہ موڑ کر چلے اور فرمایا اے میری قوم میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا چکا اور تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے تھے
80اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم کو کہا کیا تم ایسی بے حیائی کرتے ہو کہ تم سے پہلے اسے جہان میں کسی نے نہیں کیا
81بے شک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم حد سے بڑھنے والے ہو
82اور اس کی قوم نے کوئی جواب نہیں دیا مگر یہی کہا کہ انہیں اپنےشہر سے نکال دو یہ لوگ بہت ہی پاک بننا چاہتے ہیں
83پھر ہم نے اسےاور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے بچا لیا کہ وہ وہاں رہنے والو ں میں رہ گئی
84اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پھر دیکھیئے گناہگاروں کا کیا انجام ہوا
85اورمدین کی طرف اس کے بھائی شعیب کو بھیجا فرمایااے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہار کوئی معبود نہیں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل پہنچ چکی ہے سو ناپ او رتول کو پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان دار ہو
86اور سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ الله پر ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دو اور الله کی راہ سے روکو اوراس میں ٹیڑھا پن تلاش کرو اور اس حلات کو یاد کرو جب کہ تم تھوڑے تھے پھر الله نے تمہیں زیادہ کر دیا اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا ہے
87اور اگر تم میں سے ایک جماعت اس پر ایمان لے آئی ہے جو میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی پس صبر کرو جب تک الله ہمارے درمیان فیصلہ کرے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
88اس کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا اے شعیب ہم تجھے اور انہیں جو تجھ پر ایمان لائے ہیں اپنے شہر سے ضرور نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آ جاؤ فرمایا کیا اگرچہ ہم اس دین کو ناپسند کرنے والے ہوں
89ہم تو الله پر بہتان باندھنے والے ہو جائیں اگر تمہارے مذہب میں واپس آئيں بعد اس کے کہ الله نے ہمیں اس سے نجات دی ہے اور ہمیں یہ حق نہیں کہ تمہارے دین میں لوٹ کر آئيں مگر یہ کہ الله چاہے جو ہمارا رب ہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے ہم الله ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
90اس کی قوم میں جو کافر سردار تھے انہوں نے کہا اگر تم شعیب کی تابعداری کرو گے تو بے شک نقصان اٹھاؤ گے
91پھر انہیں زلزلہ نے آ پکڑا پھر وہ صبح تک اپنے گھرو ں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے
92جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا گو وہ وہاں کبھی بسے ہی نہیں تھے جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی نقصان اٹھانے والے ہوئے
93پھر ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم تحقیق میں نے تمہیں اپنے رب کے احکام پہنچا دیے اور میں نے تمہارے لیے خیر خواہی کی پھر کافروں کی قوم پر میں کیوں کر غم کھاؤں
94او رہم نے کسی بستی میں کوئی پیغمبرنہیں بھیجا مگر وہاں کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا تاکہ وہ عاجزی کریں
95پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی یہاں تک کہ وہ زیادہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ داداؤں کو بھی تکلیف اور خوشی کا وقت آیا تھا پھر ہم نے انہیں اچانک پکڑا اور ان کو خبر نہ ہوئی
96اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے نعمتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا پھر ہم نے ان کے اعمال کے سبب سے گرفت کی
97کیا بستی والے نڈر ہو چکے ہیں کہ ہماری طرف سے ان پر رات کو عذاب آئے جب وہ سو رہے ہوں
98یا بستیوں والے اس بات سے نڈر ہو چکے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں
99کیا وہ الله کی اچانک پکڑ سے بے فکر ہوئے ہیں بس الله کی اچانک پکڑ سے بے فکر ہو گئے ہیں پس الله کی اچانک پکڑ سے بے فکر نہیں ہوتے مگر نقصان اٹھانے والے
100کیا ان لوگو ں پر جو زمین کے وارث ہوئے ہیں وہاں کے لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد یہ ظاہر نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لیں اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے پس وہ نہیں سنتے
101یہ بستیاں ہیں جن کے حالات ہم تمہیں سناتے ہیں بے شک ان کے پاس ان کے رسولروشن نشانیاں لے کر آئے تھے پھر اس بات پر ہرگز ایمان نہ لائے جسے پہلے جھٹلا چلے تھے کافروں کے دلوں پر الله اسی طرح مہر لگا دیتا ہے
102اور ہم نے ان کے اکثر لوگو ں میں عہد کا نباہ نہیں پایا اور ان میں سے اکثر نافرمان پایا
103اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا پھر انہوں نے نشانیوں سے بے انصافی کی پھر دیکھ مفسدوں کا انجام کیا ہوا
104اور موسیٰ نے کہا اے فرعون بے شک میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں
105میرے لیے یہی مناسب ہے کہ سوائے سچ کے کوئی بات خدا کی طرف منسوب نہ کروں میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک بڑی دلیل لایا ہوں پس بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے
106کہا اگرتو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ لا اگر تو سچا ہے
107پھر اس نے اپنا عصا ڈال دیا وہ اس وقت صریح اژدھا ہو گیا
108او راپنا ہاتھ نکالا تو اسی وقت دیکھنے والوں کے لیے سفید نظر آنے لگا
109فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا بے شک یہ بڑا ماہر جادو گر ہے
110تمہیں تمہارے ملک سے نکالنا چاہتا ہے پس تم کیا مشورہ دیتے ہو
111انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دے اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے
112تاکہ تیرے پاس ماہر جادوگر کو لے آئيں
113اور جادوگر فرعون کے پاس آئے کہا اگر ہم غالب آئے تو ہمیں کچھ صلہ بھی ملے گا
114کہا ہاں اور بے شک تم مقرب ہو جاؤ گے
115کہا اے موسیٰ یا تو تو ڈال یا ہم ڈالتے ہیں
116کہا تم ڈالوپس جب انہوں نے ڈالا تو لوگو ں کی نظر بندی کر دی اور انہیں ڈرایا اور اک طرح کا بڑا جادو دکھایا
117اور ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا اپنا عصا ڈال دے سو وہ اسی وقت نگلنے لگا جو کھیل انہو ں نے بنا رکھا تھا
118پھر حق ظاہر ہو گیا اور جو انہوں نے بنایا تھا وہ غلط ہو گیا
119پھر اس جگہ ہار گئے اور ذلیل ہو کر لوٹے
120اور جادوگر سجدہ میں گر پڑے
121کہاہم رب العالمین پر ایمان لائے
122جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے
123فرعون نے کہا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے یہ تو مکر ہے جو تم سب نے اس شہر میں بنایا ہے تاکہ اس شہر کے رہنے والوں کو نکال دو سو اب تمہیں معلوم ہو جائے گا
124میں ضرور تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف سے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھا دوں گا
125انہوں نے کہا ہمیں تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہی ہے
126اور تمہیں ہم سے یہی دشمنی ہے کہ ہم نے اپنے رب کی نشانیوں کو مان لیا جب وہ ہمارے پاس آئیں اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر ڈال اورہمیں مسلمان کر کے موت دے
127اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑتا ہے تاکہ وہ ملک میں فساد کریں اور تجھے اورتیرے معبودوں کو چھوڑ دے کہا ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتو ں کو زندہ رکھیں گے اور بے شک ہم ان پر غالب ہیں
128موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا الله سے مدد مانگو اور صبر کرو بے شک زمین الله کی ہے اپنے بندوں میں سے جسےچاہے اس کا وارث بنا دے اور انجام بخیر پرہیزگاروں کا ہی ہوتا ہے
129انہوں نے کہا تیرے آنے سےپہلے بھی ہمیں تکلیفیں دی گئیں اور تیرے آنے کے بعد بھی فرمایا تمہارا رب بہت جلد تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور اس کی بجائے تمہیں اس سرزمین کا مالک بنا دے گا پھر دیکھے گاتم کیا کرتے ہو
130اور ہم نے فرعون والوں کو قحطوں میں اور میوں کی کمی میں پکڑ لیا تاکہ وہ نصیحت مانیں
131جب ان پر خوشحالی آتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہیئے اور اگر انہیں کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے یاد رکھو ان کی نحوست الله کے علم میں ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
132اور کہا جوکوئی نشانی تو ہمارے پاس لائے گا ہم پر اس کے ذریعہ سے جادو کرے سو ہم تجھ پر ہر گز ایمان نہ لائیں گے
133پھر ہم نے ان پر طوفان اور ٹدی اور جوئیں اورمینڈک اور خون یہ سب کھلے کھلےمعجزے بھیجے پھر بھی انہوں نے تکبر ہی کیا اور لوگ گناہگار تھے
134اور جب ان پر کوئی عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر جس کا اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے اگر تو نے ہم سے یہ عذاب دور کر دیا تو بے شک ہم تجھ پر ایمان لے آئيں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے
135پھر جب ہم نےان سے ایک مدت تک عذاب اٹھا لیا کہ انہیں اس مدت تک پہنچنا تھا اس وقت وہ عہد توڑ ڈالتے
136پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا پھر ہم نے انہیں دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے
137اور ہم نے ان لوگوں کو وارث کر دیا جو اس زمین کے مشرق و مغرب میں کمزور سمجھے جاتے تھے کہ جس میں ہم نے برکت رکھی ہے او رتیرے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیلک کے حق میں ان کے صبر کے باعث پورا ہو گیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بنایا تھا ہم نے اسے تباہ کر دیا اور جو وہ اونچی عمارتیں بناتے تھے
138اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتارا تو ایک ایسی قوم پر پہنچے جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگے ہوئے تھے کہا اے موسیٰ ہمیں بھی ایک ایسا معبود بنا دے جیسے ان کے معبود ہیں فرمایا بے شک تم لوگ جاہل ہو
139یہ لوگ جس چیز میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ ہونے والی ہے اور جو وہ کر رہے ہیں وہ غلط ہے
140کہا کیا الله کے سوا تمہارے لیے اور معبود بنا دوں حالانکہ اس نے تمہیں سارے جہاں پر فضیلت دی ہے
141اور یا د کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں برا عذاب دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو مار ڈال دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کا بڑا احسان تھا
142اور موسیٰ سے ہم نے تیس رات کا وعدہ کیا اور انہیں اور دس سے پورا کیا پھر تیرے رب کی مدت چالیس راتیں پوری ہو گئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری قوم میں میرا جانشین رہ اور اصلاح کرتے رہو اور مفسدوں کی راہ پر مت چل
143اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا کہ تو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتا لیکن تو پہاڑ کی طرف دیکھتا رہ اگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ کی طرف تجلی کی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کی کہ تیری ذات پاک ہے میں تیری جانب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا یقین لانے والا ہوں
144فرمایا اے موسیٰ میں نے پیغمبری اور ہم کلامی سے دوسرے لوگوں پر تجھے امتیاز دیا ہے جو کچھ میں نے تجھے عطا کیا ہے اسے لے لو اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جاؤ
145اور ہم نے اسے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی سو انہیں مضبوطی سے پکڑ لے او راپنی قوم کو حکم کر کہ اس کی بہتر باتوں پر عمل کریں عنقریب میں تمہیں نافرمانوں کا ٹھکانہ دکھاؤں گا
146پھر میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو زمین میں نا حق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ ساری نشانیاں بھی دیکھ لیں تو بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اسے اپنا راہ نہیں بنائیں گے یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتو ں کو جھٹلایا اور ان سے بے خبر رہے
147اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہو گئے انہیں وہی سزا دی جائے گی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے
148اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے بچھڑا بنا لیا ایک جسم تھا جس میں گائے کی آواز تھی کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں راہ بتاتا ہے اسے معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے
149اور جب نادم ہوئے اور معلوم کیا کہ بیشک وہ گمراہ ہوگئے تھےتو کہنے لگے اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو بے شک ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوں گے
150اور جب موسیٰ اپنی قو م کےی طرف غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے واپس آئے تو فرمایا تم نے میرے بعد یہ بڑی نامعقول حرکت کی کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی جلد بازی کر لی اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ ا اسے پنی طرف کھینچنے لگا اس نے کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھے کہ مجھے مار ڈالیں سو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے گناہگار لوگو ں میں نہ ملا
151کہا اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر اور تو سب سے زيادہ رحم کرنے والا ہے
152بے شک جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا انہیں ان کے رب کی طرف سے غضب اور دنیا کی زندگی میں ذلت پہنچے گی او رہم بہتان باندھنے والوں کو یہی سزا دیتے ہیں
153اور جنہوں نے برے کام کیے پھراس کے بعد توبہ کی اور ایمان لے آئے تو بے شک تیرا رب توبہ کے بعد البتہ بخشنے والا مہربان ہے
154اور جب موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے تختیوں کو اٹھایا اور جو ان میں لکھا ہو ا تھا اس میں ان کے واسطے ہدایت اور رحمت تھی جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں
155اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے وعدہ گا ہ پر لانے کے لیے چن لیے پھر جب انہیں زلزلہ نے پکڑ ا تو کہا اے میرے رب اگر تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں ہلاک کر دیتا کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو ہماری قوموں کے بیوقوفوں نے کیا یہ سب تیری آزمائش ہے جسے تو چاہے اس سے گمراہ کر دے اور جسے چاہے سیدھا رکھے تو ہی ہمارا کارساز ہے سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے
156او رہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ ہم نے تیری طرف رجوع کیا فرمایا میں اپنا عذاب جسے چاہتا ہوں کرتا ہوں اور میری رحمت سب چیزوں سے وسیع ہے پس وہ رحمت ان کے لیے لکھوں گا جو ڈرتے ہیں اجور جو زکواة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں
157وہ لوگ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں اور جو نبی امی ہے جسے اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ ان کو نیکی کا حکم کرتا ہے اور برے کام سے روکتا ہے اوران کے لیے سب پاک چیزیں حلا ل کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں اتارتا ہے جو ان پر تھیں سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت کی اور اسے مدد دی اور اس کے نور کے تابع ہو ئے جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے یہی لوگ نجات پانے والے ہیں
158کہہ دو اے لوگو تم سب کی طرف الله کا رسول ہوں جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے پس الله پر ایمان لاؤ اوراس کے رسول نبی امی پر جو کہ الله پر اور اس کے سب کلاموں پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ
159اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو حق کی راہ بتاتے ہیں اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں
160اور ہم نے انہیں جدا جدا کر دیا بارہ دادوں کی اولاد جو بڑی بڑی جماعتیں تھیں اور موسیٰ کو ہم نے حکم بھیجا جب اس کی قوم نے اس سے پانی مانگا کہ اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ہر قبیلہ نے اپنے گھاٹ پہچان لیا اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کیا اور ہم نے من و سلویٰ اتارا ہم نے جو ستھری چیزیں تمہیں دی ہیں وہ کھاؤ اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے
161اور جب انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی میں جا کر رہو اور وہاں جہاں سے تم چاہو کھاؤ اور زباں سے یہ کہتے جاؤ توبہ ہے اور دروازہ میں جھک کر داخل ہو ہم تمہاری غلطیاں معاف کر دیں گے اور نیکو کاروں کو اور زیادہ اجر دیں گے
162سو ان میں سے ظالموں نے دوسرا لفظ اس کے سوا بدل دیا جو ان سے کہا گیا تھا پھر ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ وہ ظلم کرتے تھے
163اور ان سے اس بستی کا حال پوچھ جو دریا کے کنارے پر تھی جب ہفتہ کے معاملہ میں حد سے بڑھنے لگے جب ان کے پاس مچھلیاں ہفتہ کے دن پانی کے اوپر آنے لگیں اور جس دن ہفتہ نہ ہو تو نہ آتی تھیں ہم نے انہیں اس طرح آزمایا اس لیے کہ وہ نافرمان تھے
164اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں الله ہلاک کرنے والا ہے انہیں سخت عذاب دینے والا ہے انہوں نے کہا تمہارے رب کے روبر عذر کرنے کے لیے اور شاید کہ یہ ڈر جائیں
165پھر جب وہ بھول گئے اس چیز کو جو انہیں سمجھائی گئی تھی توہم نے انہیں نجات دی جو برے کام سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو ان کی نافرمانی کے باعث برے عذاب میں پکڑا
166پھر جب وہ اس کام میں حد سے آگے بڑھ گئے جس سے روکے گئے تھے تو ہم نے حکم دیا کہ ذلیل ہونے والے بندر ہو جاؤ
167اور یاد کر جب تیرے رب نے خبر دی تھی کہ یہودپر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو ضرور بھیجتا رہے گا جو انہیں براعذاب دیتا رہے بے شک تیرا رب جلدی عذاب دینے والا ہے اور تحقیق وہ بحشنے والا مہربان ہے
168اورہم نے انہیں ملک میں مختلف جماعتوں میں متفرق کر دیا بعضے ان میں سے نیک ہیں اور بعضے اور طرح کے اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایاتاکہ وہ لوٹ آئيں
169پھر ان کے بعد ان کے ایسے جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث بنے اس ادنیٰ زندگی کا مال و متاع لےلیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں معاف کر دیا جائے گا اور اگر ایسا ہی مال ان کے سامنے پھر آئے تو اسے لے لیتے ہیں کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لے لیا گیا تھا کہ الله کے سوا سچ کے اور کچھ نہ کہیں اور انہوں نے جو کچھ اس میں لکھا ہے پڑھا ہے اور آخرت کا گھر ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
170اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں بے شک ہم نیکی کرنے والوں کا ثواب ضائع نہیں کریں گے
171اورجب ہم نے ان پر پہاڑ اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے اور وہ ڈرے کہ ان پر گرے گا ہم نے کہا جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور جو اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ
172اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان کی جانوں پر اقرار کرایا کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں انہوں نے کہا ہاں ہے ہم اقرار کرتے ہیں کبھی قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہیں تھی
173یا کہنے لگو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے شرک کیاتھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد تھے کیاتو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا
174اور اسی طرح ہم کھول کر آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوٹ آئيں
175اور انہیں اس شخص کا حال سنا دے جسے ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں پھر وہ ان سے نکل گیا پھر اس کے پیچھے شیطان لگا تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا
176اور اگر ہم چاتے تو ان کی آیتو ں کی برکت سے اس کا رتبہ بلند کرتے لیکن وہ دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا اس کا تو ایسا حال ہے جیسے کتا اس پر تو سختی کرے تو بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تو بھی ہانپے یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا سو یہ حالات بیان کر دے شاید کہ وہ فکر کریں
177جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی بری مثال ہے اور وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے
178جسے الله تعالیٰ ہدایت دے وہی راہ پاتا ہے اور جسے گمراہ کر دےپس وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
179اور ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور آدمی پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی گمراہی میں زیادہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں
180اور سب اچھے نام الله ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں نامو ں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو الله کے نامو ں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے
181اور ان لوگوں میں سےجنہیں ہم نے پیدا کیا ایک جماعت ہے جو سچی راہ بتاتی ہے اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں
182اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم انہیں آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں انہیں خبر بھی نہ ہو گی
183اور میں انہیں مہلت دوں گا بے شک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے
184کیا انہوں نے غور نہیں کیاکہ ان کے ساتھی کو جنوں تو نہیں ہے وہ تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہے
185اور کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی سلطنت کو نہیں دیکھا اور دوسری چیزوں کو جو الله نے پیدا کی ہیں اور یہ کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی ہو پھرقرآن کے بعد کس بات پر یہ لوگ ایمان لائيں گے
186جسے الله گمراہ کر دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں الله چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں حیران پھیر یں
187قیامت کے متعلق تجھ سے پوچھتے ہیں کہ اس کی آمد کا کونسا وقت ہے کہہ دو اس کی خبر تو میرے رب ہی کے ہاں ہے وہی اس کے وقت پر ظاہر کر دکھائے گا وہ آسمانو ں اور زمین میں بھاری بات ہے وہ تم پر محض اچانک آجائے گی تجھ سے پوچھتے ہیں گویا کہ تو اس کی تلاش میں لگا ہوا ہے کہہ دو اس کی خبر خاص الله ہی کے ہاں ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے
188کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگرجو الله چاہے اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں
189وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ اس سے آرام پائے پھر جب میاں نے بیوی سے ہم بستری کی تو اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا پھر اسے لیے پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تب دونوں میاں بیوی نے الله سے جو ان کا مالک ہے دعا کی اگر آپ نے ہمیں صحیح سالم اولاد دے دی تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے
190پھر جب الله نے انکو صحیح سالم اولاد دی تو الله کی دی ہوئی چیزوں میں وہ دونوں الله کا شریک بنانے لگے سو الله ان کے شرک سے پاک ہے
191کیا ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھھی نہیں بنا سکتے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں
192اور نہ وہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں
193اور اگر تم انہیں راستہ کی طرف بلاؤ تو تمہاری تابعداری نہ کریں برابر ہے کہ تم انہیں پکارو یا چپکے رہو
194بے شک جنہیں تم الله کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہیں پھر انہیں پکار کر دیکھو پھر چاہے کہ وہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہو
195کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنیں کہ تو اپنے شریکوں کو پکارو پھر میری برائی کی تدبیر کرو پھر مجھے ذرا مہلت نہ دو
196بےشک میرا حمایتی الله ہے جس نے کتاب نازل فرمائی اور وہ نیکو کاروں کی حمایت کرتا ہے
197اور جنہیں تم پکارتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتے اور نہ اپنی جان کی مدد کر سکتے ہیں
198اور اگر تم انہیں راستہ کی طرف پکارو تو وہ کچھ نہیں سنیں گے اور تو دیکھے گا کہ وہ تیری طرف دیکھتے ہیں حالانکہ وہ کچھ نہیں دیکھتے
199درگزر کر اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے الگ رہ
200اور اگر تجھے کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تو الله کی پناہ مانگ لیا کر بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے
201بے شک جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں جب انہیں کوئي خطرہ شیطان کی طرف سے آتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں پھر اچانک ان کیآنکھیں کھل جاتی ہیں
202اور جو شیاطین کے تابع ہیں وہ انہیں گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں پھر وہ باز نہیں آتے
203اور جب توان کے پاس کوئی معجزہ نہیں لاتا تو کہتے ہیں کہ تو فلاں معجزہ کیوں نہیں لایا کہہ دو میں اس کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر میرے رب کی طرف سے بھیجا جاتا ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے بہت سی دلیلیں ہیں اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگو ں کے لیے جو ایمان دار ہیں
204اورجب قرآن پڑھا جاتا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
205اوراپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی کرتا ہوا اور ڈرتاہوا یاد کرتا رہ اور صبح اور شام بلند آواز کی نسبت ہلکی آواز سے اور غافلوں سے نہ ہو
206بے شک جو تیرے رب کے ہاں ہیں وہ اس کی بندگی سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاک ذات کو یاد کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں
Chapter 8 (Sura 8)
1تجھ سے غنیمت کا حکم پوچھتے ہیں کہہ دے غنیمت کا مال الله اور رسول کا ہے سو الله سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو اور الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر ایمان دار ہو
2ایمان والے وہی ہیں جب الله کا نام آئے تو ان کے دل ڈر جائیں اورجب اس کی آیتیں ان پر پڑھی جائیں تو ان کا ایمان زیادہ ہو جاتا ہے اور اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں
3وہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
4یہی سچے ایمان والے ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے درجے ہیں اور بخشش ہے اور عزت کا رزق ہے
5جیسے تیرے رب نے تیرے گھر سے سچائی کے ساتھ نکالا اور بے شک ایک جماعت مسلمانوں میں سے نا پسند کرنے والی تھی
6وہ تجھ سے حق بات میں اس کے ظاہر ہو چکنے کے بعد جھگڑتے تھے گویا وہ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں
7اور جس وقت دو جماعتوں میں سے ایک کا الله تم سے وعدہ کرتا تھا کہ وہ تمہارے ہاتھ لگے گی اور تم چاہتے تھے جس میں کانٹا نہ ہو وہ تمہیں ملے اور الله چاہتا تھا کہ اپنے حکم سے حق کو ثابت کردے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے
8تاکہ حق کو ثابت کر دے اور باطل کو مٹا دے اگرچہ گناہگار ناراض ہوں
9جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے اس نے جواب میں فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں
10اور یہ تو الله نے فقط خوش خبری دی تھی اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں اور مدد تو صرف الله ہی کی طرف سے ہے بے شک الله غالب حکمت والا ہے
11جس وقت اس نے تم پر اپنی طرف سے تسکین کے لیے اونگھ ڈال دی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس سے تمہیں پاک کر دے اور شیطان کی نجاست تم سے دور کر دے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے قدم جما دے
12جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کے دل ثابت رکھو میں کافروں کے دلوں میں دہشت ڈال دوں گا سو گردنوں پر مارواور ان کے پور پور پر مارو
13یہ اس لیے ہے کہ وہ الله اوراس کے رسول کے مخالف ہیں اور جو کوئی اللہ اور اس کےرسول کا مخالف ہو تو بے شک الله سخت عذب دینے والا ہے
14یہ تو چکھ لو اور جان لو کہ بے شک کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے
15اے ایمان والو جب تم کافروں سے میدان جنگ میں ملو تو ان سے پیٹھیں نہ پھیرو
16اور جو کوئی اس دن ان سے پیٹھ پھیرے گا مگر یہ کہ لڑائی کا ہنر کرتا ہو یا فوج میں جا ملتا ہو سو وہ الله کا غضب لے کر پھرا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور بہت برا ٹھکانا ہے
17سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ الله نے انہیں قتل کیا اور تو نے مٹھی نہیں پھینکی جب کہ پھینکی تھی بلکہ الله نے پھینکی تھی اور تاکہ ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان کرے بے شک الله سننے والا جاننے والا ہے
18یہ تو ہو چکا اور بےشک الله کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے
19اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو تمہارا فیصلہ آ چکا اور اگر باز آؤ تو تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر پھر یہی کرو گے تو ہم بھی پھر یہی کریں گے اور تمہاری جمعیت ذرا بھی کام نہیں آئے گی اگرچہ وہ بہت ہوں اوربے شک اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے
20اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو
21اور ان لوگو ں کی طرح نہ ہو جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں
22بے شک سب جانوں میں سے بدتر الله کے نزدیک وہی بہرے گونگے ہیں جو نہیں سمجھتے
23اور اگر الله ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنا دیتا اور اگر انہیں اب سنا دے تو منہ پھیر کر بھاگیں
24اے ایمان والو الله اور رسول کا حکم مانو جس وقت تمہیں اس کام کی طرف بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے اور جان لو کہ الله آدمی اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے اور بے شک اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے
25اور تم اس فتنہ سے بچتے رہو جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہ پڑے گا اور جان لو کہ بے شک الله سخت عذاب کرنے والا ہے
26اور یاد کرو جس وقت تم تھوڑے تھے ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لیں پھر اس نے تمہیں ٹھکانا بنا دیا اور اپنی مدد سے تمہیں قوت دی اور تمہیں ستھری چیزوں سے رزق دیاتاکہ تم شکر کرو
27اے ایمان والو الله اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور آپس کی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو حالانکہ تم جانتے ہو
28اور جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے اور بے شک الله کہ ہاں بڑا اجر ہے
29اے ایمان والو اگر تم الله سے ڑرتے رہو گے تو الله تمہیں ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور الله بڑے فضل والا ہے
30اور جب کافر تیرے متعلق تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تمہیں قید کر دیں یا تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں دیس بدر کر دیں وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور الله ہی اپنی تدبیر کر ہا تھا اور الله بہترین تدبیر کرنے والا ہے
31اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اگر ہم چاہیں تو اس کے برابر ہم بھی کہہ دیں اس میں پہلو ں کے قصے کے سوا اور کچھ نہیں
32اورجب انہوں نے کہا کہ اے الله اگر یہ دین تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر دردناک عذاب لا
33اور الله ایسا نہ کرے گا کہ انہیں تیرتے ہوئے عذاب دے اور الله عذاب کرنے الا نہیں درآنحالیکہ وہ بخشش مانگتے ہوں
34اور الله انہیں عذاب کیوں نہ دے حالانکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں اور وہ اس کے اہل نہیں ہیں اس میں تو اہل پرہیزگاری ہیں لیکن ان میں سے اکثر نہیں سمجھتے
35اورکعبہ کے پاس ان کی نماز سوائے سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے اور کچھ نہیں تھی سو عذاب سبب اس کے کہ تم کفر کرتے تھے
36بے شک جو لوگ کافر ہیں وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ الله کی راہ سے روکیں سو ابھی اور بھی خرچ کریں گے پھر وہ ان کے لیے حسرت ہو گا پھر مغلوب کیے جائیں گے اور جو کافر ہیں وہ دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے
37تاکہ الله ناپاک کو پاک سے جدا کر دے اور ایک ناپاک کو دوسرے پر دھر کر ڈھیر بنائے پھر اسے دوزخ میں ڈال دے وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
38کافروں سے کہہ دو اگر وہ باز آجائيں تو جو کچھ گزر چکا وہ انہیں معاف کر دیا جائے گا اور اگر لوٹیں گے تو پہلے کافروں کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے
39اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ شرک کا غلبہ نہ رہنے پائے اور سارا دین الله ہی کا ہو جکائے پھر اگر یہ باز آجائیں تو الله ان کے اعمال دیکھنے والا ہے
40اور اگر وہ پھر جائیں تو جان لو کہ الله تمہارا دوست ہے اور بہت اچھا دوست ہے اوربہت اچھا مددگار ہے
41اور جان لو کہ جو کچھ تمہیں بطور غنیمت ملے خواہ کوئی چیز ہو تو اس میں سے پانچواں حصہ الله اور اس کے رسول کا ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تمہیں الله پر یقین ہے اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن اتاری جس دن دونوں جماعتیں ملیں اور الله ہر چیز پر قادر ہے
42جس وقت تم درلے کنارے پر تھے اور وہ پرلےکنارے پر اور قافلہ تم سے نیچے اتر گیا تھا اور اگرتم آپس میں وعدہ کرتے تو ایک ساتھ وعدہ پر نہ پہنچتے لیکن الله کو ایک کام کرنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ اتمام حجت کے بعد زندہ رہے اور بے شک الله سننے والا جاننے والا ہے
43جب کہ الله نے وہ کافر تجھے تیرے خواب میں تھوڑے کر کے دکھلائے اور اگرتجھے بہت دکھلا دیتا تو تم لوگ نامردی کر تے اور کام میں جھگڑا ڈالتے لیکن الله نے بچا لیا جو بات دلوں میں ہے وہ اسے خوب معلوم ہے
44اور جب تمہیں وہ فوج مقابلہ کے وقت تمہاری آنکھوں میں تھوڑی کر کے دکھائی اور تمہیں ان کی آنکھوں میں تھوڑا کر کے دکھایا تاکہ الله ایک کام پورا کر دے جو مقرر ہو چکا تھا اور ہر کام الله تک ہی پہنچتا ہے
45اے ایمان والو! جب کسی فوج سے ملو تو ثابت قدم رہو اور الله کو بہت یاد کرو تاکہ تم نجات پاؤ
46اور الله اوراس کے رسول کا کہا مانو اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
47اور ان لوگوں جیسا نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور الله کی راہ سے روکتے تھے اور جو کچھ یہ کرتے ہیں الله اس پر احاطہ کرنے والا ہے
48اورجس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اورکہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تووہ اپنے ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیر دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں الله سے ڈرتا ہوں اور الله سخت عذاب کرنے والا ہے
49اس وقت منافق اور جن کے دلو ں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے اور جو کوئی الله پر بھروسہ کرے تو الله زبردست حکمت والا ہے
50اور اگر تو دیکھے جس وقت فرشتے کافروں کی جان قبض کرتے ہیں ان کے مونہوں او رپیٹہوں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں جلنے کا عذاب چکھو
51یہ اسی کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور بے شک الله بندوں پر ظلم نہیں کرتا
52جیسا فرعونیوں اوران سے پہلے لوگوں کا حال ہوا تھا انہوں نے الله کی آیتوں سے انکار کیا تو الله نے ان کے گناہوں کی سزا میں انہیں پکڑ لیا بے شک الله زبردست اور سخت عذاب کرنے والا ہے
53اس کا سبب یہ ہے کہ الله ہر گز اس نعمت کو نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو دی تھی جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدلیں اوراس لیے کہ الله سننے والا جاننے والا ہے
54جیسے فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کاحال ہوا تھا انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا اور سب ظالم تھے
55اور الله کے ہاں سب جانداروں میں سے بدتر وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا پھر وہ ایمان نہیں لاتے
56جن لوگوں سے تو نے عہد لیا پھر وہ ہر دفعہ اپنے عہد کو توڑتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے
57سو اگر کبھی تو انہیں لڑائی میں پائے تو انہیں ایسی سزا دے کہ ان کے پچھلے دیکھ کر بھاگ جائیں تاکہ انہیں عبرت ہو
58اور اگر تمہیں کسی قوم سے دغابازی کا ڈر ہو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو ایسی طرح پر کہ تم اور وہ برابر ہو جاؤ بے شک الله دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا
59اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں بے شک وہ ہمیں ہر گز عاجز نہ کر سکیں گے
60اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ (سپاہیانہ) قوت سے پلے ہوئے گھوڑوں سے جمع کر سکو سو تیار رکھو کہ اس سے الله کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کےسوا دوسروں پر جنہیں تم نہیں جانتے الله انہیں جانتا ہے ہیبت پڑے اور الله کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گےتمہیں (اس کا ثواب) پورا ملے گا اور تم سے بے انصافی نہیں ہو گی
61اور اگر وہ صلح کے لیے مائل ہوں تو تم بھی مائل ہو جاؤ اور الله پر بھروسہ کرو بے شک وہی سننے والا جاننے والا ہے
62اور اگر وہ چاہیں کہ تمہیں دھوکہ دیں تو تجھے الله کافی ہے جس نے تمہیں اپنی مدد سے اور مسلمانوں سے قوت بحشی
63اور ان کے دلو ں میں الفت ڈال دی جو کچھ زمین میں ہے اگر سارا تو خرچ کر دیتا ان کے دلوں میں الفت نہ ڈال سکتا لیکن الله نے ان میں الفت ڈال دی بے شک الله غالب حکمت والا ہے
64اے نبی! تجھے اور مومنوں کو جو تیرے تابعدار ہیں الله کافی ہے
65اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو وہ سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سو ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے اس لیے کہ وہ لوگ کچھ نہیں سمجھتے
66اب الله نےتم سے بوجھ ہلکا کر دیا اور معلوم کر لیا کہ تم میں کس قدر کمزوری ہے پس اگر تم سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئيں گے اور اگر ہرار ہوں گے تو الله کے حکم سے دو ہزار پر غالب آئيں گے اور الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
67نبی کو نہیں چاہیئے کہ اپنے ہاں قیدیوں کو رکھے یہاں تک کہ ملک میں خوب خونریزی کر لے تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو اور الله آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور الله غالب حکمت والا ہے
68اگر الله کا حکم پہلے نہ ہو چکا ہوتا تو جو تم نے لیا اس کے بدلے تم پربڑا عذاب ہوتا
69پس جو مال تمہیں غنیمت میں حلال اور طیب ملا ہے اسے کھاؤ اور الله سے ڈرو بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
70اے نبی! جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر الله تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کر ے گا تو تمہیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہیں بخشے گا اور الله بحشنے والا مہربان ہے
71اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گےیہ تو پہلے ہی الله سے دغا کر چکے ہیں پھر الله نے انہیں گرفتار کرا دیا اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
72بے شک جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑا اور اپنے مالوں اور جانوں سے الله کی راہ میں لڑے اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اورجو ایمان لائے اور گھر نہیں چھوڑا تمہیں ان کی وراثت سے کوئی تعلق نہیں یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین کے معاملہ میں مدد چاہیں تو تمہیں ان کی مدد کرنی لازم ہے مگران لوگو ں کے مقابلہ میں کہ ان میں اور تم میں عہد ہو اور جو تم کرتے ہو الله اسے دیکھتا ہے
73اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں اگر تم یوں نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ پھیلے گا اوروہ بڑا فساد ہوگا
74اور جو لوگ ایمان لائے اوراپنے گھر چھوڑے اور الله کی راہ میں لڑے اورجن لوگوں نے انہیں جگہ دی اور ان کی مدد کی وہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے
75اورجو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور گھر چھوڑے اور تمہارے ساتھ ہو کر لڑے سو وہ لوگ بھی تمہیں میں سے ہیں اور رشتہ دار آپس میں الله کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں بے شک الله ہر چیز سے خبردار ہے
Chapter 9 (Sura 9)
1الله اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں سے بیزاری ہے جن سے تم نے عہد کیا تھا
2سو اس ملک میں چار مہینے پھر لو اور جان لو کہ تم الله کو عاجز نہیں کر سکوگے اور بے شک الله کافروں کو ذلیل کرنے والا ہے
3اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بیزار ہیں پس اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز عاجز کرنے والے نہیں اور کافروں کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادو
4مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے تمہارے ساتھ کوئی قصور نہیں کیا اور تمہارے مقابلے میں کسی کی مد نہیں کی سو ان سے ان کا عہد ان کی مدت تک پورا کر دو بے شک الله پرہیز گارو ں کو پسند کرتا ہے
5پھر جب عزت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑو اور انہیں گھیر لو اور ان کی تاک میں ہر جگہ بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکواة دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
6اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ الله کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگ بے سمجھ ہیں
7بھلا مشرکوں کے لیے الله اور اس کے رسول کے ہاں عہدکیوں کر ہو سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ قائم رہیں توتم بھی قائم رہو بے شک الله پرہیزگاروں کو پسند کرتا ہے
8کیوں کر صلح ہو اور اگر وہ تم پر غلبہ پائیں تو نہ تمہاری قرابت کا لحاظ کریں اور نہ عہد کا تمہیں اپنی منہ کی باتوں سے راضی کرتے ہیں اور ان کے دل نہیں مانتے اور ان میں سے اکثر بد عہد ہیں
9انہوں نے الله کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا پھر الله کے راستے سے روکتے ہیں بے شک وہ برا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں
10یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ رشتہ داری کا خیال کرتے ہیں اور نہ عہد اور یہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں
11اگر یہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکواة دیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور ہم سمجھ داروں کے لیے کھول کھول کر احکام بیان کرتے ہیں
12اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں تو ڑ دیں اور تمہارے دین میں عیب نکالیں تو کفر کے سرداروں سے لڑو ان کی قسموں کوئی اعتبار نہیں تاکہ وہ باز آ آئیں
13خبردار! تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر کو جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے پہلے تم سے عہد شکنی کی کیا تم ان سے ڈرتے ہو الله زيادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو
14ان سے لڑو تاکہ الله انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے اور انہیں ذلیل کرے اور تمہیں ان پر غلبہ دے اور مسلمانوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرے
15اور ان کے دلوں سے غصہ دور کر ے اور الله جسے چاہے توبہ نصیب کرے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
16کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی الله نے ایسے لوگو ں کو جدا ہی نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا اور الله اور اس کے رسول اورمومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا اور الله تمہارے سب کاموں سے با خبر ہے
17مشرکوں کا کام نہیں کہ الله کی مسجدیں آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں ان لوگوں کے سب اعمال بے کار ہیں اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے
18الله کی مسجدیں وہی آباد کرتا ہے جو الله پر اور آخرت پر ایمان لایا اور نماز قائم کی اور زکواة دی اور الله کے سوا کسی سے نہ ڈرا سو وہ لوگ امیدوار ہیں کہ ہدایت والوں میں سے ہوں
19کیا تم نے حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد حرام کا آباد کرنا اس کے برابر کر دیا جو الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور الله کی راہ میں لڑا الله کہ ہاں یہ برابر نہیں ہیں اور الله ظالم لوگوں کو راستہ نہیں دکھاتا
20جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑے اور الله کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے الله کے ہاں ان کے لیے بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں
21انہیں ان کا رب اپنی طرف سے مہربانی اور رضا مندی اور باغوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں انہیں ہمیشہ آرام ہوگا
22ان میں ہمیشہ رہیں گے بے شک الله کے ہاں بڑا ثواب ہے
23اے ایمان والو! اپنے باپوں اور بھائیوں سے دوستی نہ رکھو اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کریں اور تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں
24کہہ دے اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اوربیویاں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں تم پسند کر تے ہو تمہیں الله اور اس کے رسول اوراس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ الله اپنا حکم بھیجے اور الله نافرمانوں کو راستہ نہیں دکھاتا
25الله بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کر چکا ہے اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر خوش ہوئے پھر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ پھیر کر ہٹ گئے
26پھر الله نے اپنی طرف سے اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر تسکین نازل فرمائی اور وہ فوجیں اتاریں کہ جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو عذاب دیا اور کافروں کو یہی سزا ہے
27پھر اس کے بعد جسے الله چاہے تو بہ نصیب کرے گا اور الله بخشنے والا مہربان ہے
28اے ایمان والو! مشرک تو پلید ہیں سو اس برس کے بعد مسجد حرام کے نزدیک نہ آنے پائیں اور اگر تم تنگدستی سے ڈرتے ہو تو آئندہ اگر الله چاہے تمہیں اپنے فضل سے غنسی کر دے گا بے شک الله جاننے والا حکمت والا ہے
29ان لوگوں سے لڑو جو الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے الله اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور سچا دین قبول نہیں کرتے ان لوگوں میں سے جو اہلِ کتاب ہیں یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں
30اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر الله کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں مسیح الله کا بیٹا ہے یہ ان کی منہ کی باتیں ہیں وہ کافروں کی سی باتیں بنانے لگے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں الله انہیں ہلاک کرے یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں
31انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا خدا بنا لیا ہے اور مسیح مریم کے بیٹےکو بھی حالانکہ انہیں حکم یہی ہوا تھا کہ ایک الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
32چاہتے ہیں کہ الله کی روشنی کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں الله اپنی روشنی کو پورا کیے بغیر نہیں رہے گا اور اگرچہ کافر ناپسند ہی کریں
33اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگرچہ مشرک نا پسندکریں
34اے ایمان والو! بہت سے عالم اور فقیر لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں اور الله کی راہ سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اورچاندی جمع کرتے ہیں اور اسے الله کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیئے
35جس دن وہ دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو اس کا مزہ چکھو جوتم جمع کرتے تھے
36بے شک الله کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں الله کی کتاب میں جس دن سے الله نے زمین اور آسمان پیدا کیے ان میں سے چار عزت والے ہیں یہی سیدھا دین ہے سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور جان لو کہ الله پرہیزگاروں کے ساتھ ہے
37یہ مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں اور ترقی ہے اس سے کا فر گمراہی میں پڑتے ہیں اس مہینے کو ایک برس تو حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام رکھتے ہیں تاکہ ان بارہ مہینوں کی گنتی پوری کر لیں جنہیں الله نے عزت دی ہے پھر حلا ل کر لیتے ہیں جو الله نے حرام کیا ہے ان کے برے اعمال انھیں بھلے دکھائی دیتے ہیں اور الله کافروں کو ہدایت نہیں کرتا
38اے ایمان والو تمہیں کیا ہوا جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ الله کی راہ میں کوچ کرو تو زمین پر گرے جاتے ہو کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو گئے ہو دنیا کی زندگی کا فائدہ تو آخرت کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے
39اگر تم نہ نکلو گے تو الله تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کر ے گا اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر ے گا اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے اور الله ہر چیز پر قادر ہے
40اگرتم رسول کی مدد نہ کرو گے تو اس کی الله نے مدد کی ہے جس وقت اسے کافروں نے نکالا تھا کہ وہ دو میں سے دوسرا تھاجب وہ دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا تو غم نہ کھا بے شک الله ہمارے ساتھ ہے پھر الله نے اپنی طرف سے اس پر تسکین اتاری اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں جنہیں تم نے نہیں دیکھا اورکافروں کی بات کو پست کر دیا اور بات تو الله ہی کی بلند ہے اور الله زبردست (اور) حکمت والا ہے
41تم ہلکے ہو یا بوجھل نکلو اور اپنے مالوں اور جانوں سے الله کی راہ میں لڑو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھتے ہو
42اگر مال نزدیک ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تیرے ساتھ ہوتے لیکن انہیں مسافت لمبی نظر آئی اور اب الله کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم سے ہو سکتا تو ہم تمہارے ساتھ ضرور چلتے اپنی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں اور الله جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں
43الله نے تمہیں معاف کر دیا تم نےانہیں کیوں رخصت دی یہاں تک کہ تیرے لیے سچے ظاہر ہو جاتے اور تو جھوٹوں کو جان لیتا
44جو لوگ الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں وہ تم سے رخصت نہیں مانگتے اس سے کہ اپنے مالوں اورجانوں سے جہاد کریں اور الله پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
45تم سے رخصت وہی مانگتے ہیں جو الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں سو وہ اپنے شک میں بھٹک رہے ہیں
46اور اگر وہ نکلنا چاہتے تو اس کے لیے کوئی سامان ضرور تیار کرتے لیکن الله نے ان کا اٹھنا پسند نہ کیا سو انہیں روک دیا اور حکم ہوا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
47اگر وہ تم میں نکلتے تو سوائے فساد کے اور کچھ نہ بڑھاتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے اورتم میں ان کے جاسوس بھی ہیں اور الله ظالموں کو خوب جانتا ہے
48یہ پہلے بھی فساد کے طالب رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لئےالٹ پھیر کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آ پہنچا اور الله کا حکم غالب ہوا اور وہ ناخوش ہی رہے
49اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ مجھے تو اجازت ہی دیجیئے اور فتنہ میں نہ ڈالیے خبردار! وہ فتنہ میں پڑ چکے ہیں اوربے شک دوزخ کافروں پر احاطہ کرنے والی ہے
50اگر تمہیں آسائش حاصل ہوتی ہے تو انہیں بری لگتی ہے اور اگر کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی سنبھال لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں
51کہہ دو ہمیں ہر گز نہ پہنچے گا مگر وہی جو الله نے ہمارے لیے لکھ دیا وہی ہمارا کارساز ہے اور الله ہی پر چاہیئے کہ مومن بھروسہ کریں
52کہہ دو تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ الله اپنے ہاں سے تم پرکوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں
53کہہ دو تم خوشی سے خر چ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا بے شک تم نافرمان لوگ ہو
54اور ان کے خر چ کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ انہوں نے الله اور اس کے رسول سے کفرکیا اورنماز میں سست ہو کر آتے ہیں اور ناخوش ہو کر خرچ کرتے ہیں
55سو تو ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کر الله یہی چاہتا ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے دنیا کی زندگی میں انہیں عذاب دے اور کفر کی حالت میں ان کی جانیں نکلیں
56اور الله کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ بے شک تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں لیکن وہ ڈرتے ہیں
57اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ یا غاریا گھسنے کی جگہ پائیں تو دوڑتے ہوئے ادھر جائیں
58اور بعضے ان میں سے وہ ہیں جو خیرات مانگتے ہیں تجھے طعن دیتے ہیں سو اگر انہیں اس میں سے مل جائے تو راضی ہوتے ہیں اور اگر نہ ملے تو فوراً ناراض ہو جاتے ہیں
59اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انہیں الله اور اس کے رسول نے دیا ہے اور کہتے ہیں ہمیں الله کافی ہے وہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول ہم الله ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں
60زکوة مفلسوں اور محتاجوں اوراس کا کام کرنے والوں کا حق ہے اورجن کی دلجوئی کرنی ہے اور غلاموں کی گردن چھوڑانے میں اور قرض داروں کے قرض میں اور الله کی راہ میں اورمسافر کو یہ الله کی طرف سے مقرر کیاہوا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
61اور بعضے ان میں سے پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نِرا کان ہے کہہ دے وہ کان تمہاری بھلائی کے لیے ہے الله پر یقین رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے ایمان والوں کے حق میں رحمت ہے اور جو لوگ رسول الله کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے
62تمہارے سامنے الله کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں اور الله اور اس کے رسول کو راضی کرنا بہت ضروری ہے اگر وہ ایمان رکھتے ہیں
63کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص الله اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتا ہے تو اس کے واسطے دوزخ کی آگ ہے اس میں ہمیشہ رہے گا یہ بڑی ذلت ہے
64منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورة نازل ہو کہ انہیں بتا دے جو منافقوں کے دل میں ہے کہہ دو ہنسی کیے جاؤ جس بات سے تم ڈرتے ہو الله اسے ضرور ظاہر کر دے گا
65اور اگر تم ان سے دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم یونہی بات چیت اور دل لگی کر رہے تھےکہہ دو کیا الله سے اور اس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے تم ہنسی کرتے تھے
66بہانے مت بناؤ ایمان لانے کے بعد تم کافر ہو گئے اگر ہم تم میں سے بعض کو معاف کر دیں گے تو بعض کو عذاب بھی دیں گے کیوں کہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں
67منافق مر د اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس ہیں برے کامو ں کا حکم کرتے ہیں اور نیک کاموں سے منع کرتے ہیں او رہاتھ بند کیے رہتے ہیں وہ الله کو بھول گئے سوالله نے انہیں بھلا دیا بے شک منافق وہی نافرمان ہیں
68الله نے منافق مردوں اورمنافق عورتوں اور کافروں کو دوزخ کی آگ کا وعدہ دیا ہے پڑے رہیں گے اس میں وہی انہیں کافی ہے اور الله نے ان پر لعنت کی ہے اوران کے لیے دائمی عذاب ہے
69جس طرح تم سے پہلے لوگ تم سے طاقت میں زيادہ تھے اور مال اور اولاد میں بھی زيادہ تھے پھر وہ اپنے حصہ سے فائدہ اٹھا گئے اور تم نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا جیسے تم سے پہلہے لوگ اپنے حصہ سے فائدہ اٹھا گئے اور تم بھی انہیں کی سی چال چلتے ہو یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور وہی نقصان اٹھانے والے ہیں
70کیا انہیں ان لوگو ں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اورابراھیم کی قوم اورمدین والوں کی اوران بستیوں کی خبر جو الٹ دی گئی تھیں ان کے پاس ان کے رسول صاف احکام لے کر پہنچے سو الله ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
71اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کےمددگار ہیں نیکی کا حکم کرتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں اورنماز قائم کرتے ہیں اور زکواة دیتے ہیں اور الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر الله رحم کرے گا بے شک الله زبردست حکمت والا ہے
72الله نے ایمان دار مردوں اورایمان والی عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گیان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اورعمدہ مکانوں اور ہمیشگی کے باغوں میں اور الله کی رضا ان سب سے بڑی ہے یہی وہ بڑی کامیابی ہے
73اے نبی!کافروں اور منافقوں سے لڑائی کر اوران پر سختی کر اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
74الله کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے نہیں کہا اوربے شک انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اورمسلمان ہونے کے بعد کافر ہوگئے اورانہوں نے قصد کیا تھا ایسی چیز کا جونہیں پا سکے اور یہ سب کچھ اسی کا بدلہ تھا کہ انہیں الله اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے دولتمند کر دیا ہے سو اگر وہ توبہ کریں تو ان کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو الله انہیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور انہیں روئے زمین پر کوئی دوست اور کوئی مددگار نہیں ملے گا
75اور بعضے ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے الله سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے دے تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکو ں میں سےہو جائیں
76پھر جب الله نے اپنے فضل سے دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اورمنہ موڑ کر پھر بیٹھے
77تو نتیجہ یہ ہوا کہ اس دن تک الله سے ملیں گے الله نے ان کے دلوں میں نفاق پیدا کر دیا اس لیے کہ انہوں نے جو الله سے وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا اوروہ اس لیے جھوٹ بولا کرتے تھے
78کیا وہ نہیں جانتے کہ الله ان کا بھید اور ان کا مشورہ جانتا ہے اوریہ کہ الله غیب کی باتیں جاننے والا ہے
79وہ لوگ جو ان مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں جودل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو لوگ اپنی محنت کے سوا طاقت نہیں رکھتے پھر ان پر ٹھٹھا کرتے ہیں الله ان سے ٹھٹھا کرتا ہے اوران کے لیے دردناک عذاب ہے
80تو ان کے لیے بخشش مانگ یا نہ مانگ اگر تو ان کے لیے ستر دفعہ بھی بخشش مانگے گا تو بھی الله انہیں ہر گز نہیں بخشے گا یہ اس لیے کہ انہوں نے الله اور اس کے رسول سےکفر کیا اور الله نافرمانوں کو راستہ نہیں دکھاتا
81جو لوگ پیچھے رہ گئے وہ رسول الله کی مرضی کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوتے ہیں اوراس بات کو ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور جانوں سے الله کی راہ میں جہاد کریں اور کہا گرمی میں مت نکلو کہہ دو کہ دوزخ کی آگ کہیں زیادہ گرم ہے کاش یہ سمجھ سکتے
82سووہ تھوڑا سا ہنسیں اور زیادہ روئیں ان کے اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں
83سواگر تجھے الله ان میں سے کسی فرقہ کی طرف پھر لے جائے پھر تجھ سے نکلنے کی اجازت چاہیں تو کہہ دو کہ تم میرے ساتھ کبھی بھی ہرگز نہ نکلو گے اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہ لڑو گے تمہیں پہلی مرتبہ بیٹھنا پسند آیا سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
84اوران میں سے جو مرجائے کسی پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہو بے شک انہوں نے الله اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نافرمانی کی حالت میں مر گئے
85اور ان کے مالوں اوراولاد سے تعجب نہ کر الله یہی چاہتا ہے کہ انہیں ان چیزوں کے باعث دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں نکلیں ایسے حال میں کہ وہ کافر ہی ہوں
86اور جب کوئی سورة نازل ہوتی ہے کہ الله پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کےساتھ ہو کر جہاد کرو تو ان میں سے دولت مند بھی تجھ سے رخصت مانگتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دے کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ ہو جائیں
87وہ خوش ہیں کہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے سووہ نہیں سمجھتے
88لیکن رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان والے ہیں وہ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں اور انہیں لوگو ں کے لیے بھلائیاں ہیں اور وہی نجات پانے والے ہیں
89الله نے ان کے لیے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گےیہی بڑی کامیابی ہے
90اور بہانے کرنے والے گنوار آئے تاکہ انہیں رخصت مل جائے اوربیٹھ رہے وہ جنہوں نے الله اوراس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا جو ان میں سے کافر ہیں عنقریب انہیں دردناک عذاب پہنچے گا
91ضعیفوں اور مریضوں پر اور ان لوگوں پر جو نہیں پاتے جو خر چ کریں کوئی گناہ نہیں ہے جب الله اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی کریں نیکو کاروں پر کوئی الزام نہیں ہے اور الله بخشنے والا مہربان ہے
92اور ان لوگو ں پر بھی کوئی گناہ نہیں کہ جب وہ تیرے پاس آئیں کہ انہیں سواری دے تو نے کہا میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ تمہیں اس پر سوار کر دوں تو وہ لوٹ گئے اوراس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہیں تھا ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
93الزام ان لوگوں پر ہے جو دولتمند ہیں اورتم سے اجازت طلب کرتے ہیں اس بات سے وہ خوش ہیں کہ پیچھے رہنے والیوں کے ساتھ رہ جائیں اور الله نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے پس وہ نہیں سمجھتے
94جب تم ان کی طرف واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے کہہ دو عذر مت کرو ہم تمہاری بات ہرگز نہیں مانیں گے تمہارے سب حالات اللہ ہمیں بتاچکا ہے اور ابھی الله اور اس کا رسول تمہارے کام کو دیکھے گا پھر تم غائب اور حاضر کے جاننے والےکی طرف لوٹائے جاؤ گے سو وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کر رہے تھے
95جب تم ان کی طرف پھر جاؤ گے تو تمہارے سامنے الله کی قسمیں کھائیں گےتاکہ تم ان سے در گزر کرو بے شک وہ پلید ہیں اور جو کام کرتے رہے ہیں ان کے بدلے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے
96وہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ اگر تم ان سے خوش بھی ہو جاؤ تو بھی الله نافرمانوں سے خوش نہیں ہوتا
97گنوار کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام الله نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف نہ ہوں اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
98اور بعض گنوار ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تم پر زمانہ کی گردشوں کا انتظار کرتے ہیں انہیں پر بری گردش آئے اور الله سننے والا جاننے والا ہے
99اور بعضے گنوار ایسے ہیں کہ الله پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے الله کے نزدیک ہونے اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں خبردار بے شک وہ ان کے لیے نزدیکی کا سبب ہے عنقریب انہیں اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
100اور جو لوگ قدیم میں پہلے ہجرت کرنے والوں اور مدد دینے والو ں میں سے اور وہ لوگ جو نیکی میں ان کی پیروی کرنے والے ہیں الله ان سے راضی ہوئےاوروہ اس سے راضی ہوئےان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے
101اور تمہارے گرد و نواح کے بعضے گنوار منافق ہیں اور بعض مدینہ والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں ہم انہیں دوہری سزا دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے
102اور کچھ اور بھی ہیں کہ انھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا ہے انہوں نے اپنے نیک اور بد کاموں کو ملا دیاہے قریب ہے کہ الله انہیں معاف کر دے بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
103ان کے مالوں میں سے زکواة لے کہ اس سے ان کے ظاہر کو پاک اور ان کے باطن کو صاف کر دے اورانہیں دعا دے بے شک تیری دعا ان کے لیے تسکین ہے اوراللہ سننے والا جاننے والا ہے
104کیا یہ لوگ نہیں جانتے الله ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات لیتا ہے اور بے شک الله ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
105اور کہہ دےکہ کام کیے جاؤ پھر عنقریب الله اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارے کام کو دیکھ لیں گے اور عنقریب تم غائب اور حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گےپھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے
106اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام الله کے حکم پر موقوف ہے خواہ انہیں عذاب دے یا انہیں معاف کر دے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
107اور جنہوں نے نقصان پہنچانے اور کفر کرنے اورمسلمانوں میں تفریق ڈالنے کے لیے مسجد بنائی ہے اورواسطے گھات لگانے ان لوگوں کے جو الله اور اس کے رسول سے پہلے لڑ چکے ہیں اور البتہ قسمیں کھائیں گہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی تھی اور اللهگواہی دیتا ہے کہ بے شک وہ جھوٹے ہیں
108تو اس میں کبھی کھڑانہ ہو البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس کے قابل ہے تو اس میں کھڑا ہو اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور الله پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے
109بھلا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد الله سے ڈرنے اوراس کی رضا مندی پر رکھی ہو وہ بہتر ہے یا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھائی کے کنارے پررکھی جو گرنے والی ہے پھر وہ اسے دوزخ کی آگ میں لے گری اور الله ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا
110جوعمارت انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلو ں میں کھٹکتی رہے گی مگر جب ان کے دل ٹکڑے ہوجائیں اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
111بے شک الله مسلمانوں سے ان کی جان اوران کا مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کی جنت ہے الله کی راہ میں لڑتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں اور قتل بھی کیے جاتے ہیں یہ توریت اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنااسے ضروری ہے اور الله سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہ بڑی کامیابی ہے
112توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے شکر کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے اچھے کاموں کا حکم کرنے والے بری باتوں سے روکنے والے الله کی حدوں کی حفاظت کرنے والے اور ایسے مومنو ں کو خوشخبری سنا دے
113پیغمبراور مسلمانوں کو یہ بات مناسب نہیں کہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں جب کہ ان پر ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ دوزخی ہیں
114اور ابراھیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا اور ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ الله کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے بے شک ابراھیم بڑے نرم دل تحمل والے تھے
115اورالله ایسا نہیں ہے کہ کسی قوم کو صحیح راستہ بتلانے کے بعد گمراہ کر دے جب تک ان پر واضح نہ کر دے وہ چیز جس سے انہیں بچنا چاہیے بے شک الله ہر چیز کو جاننے والا ہے
116آسمانوں اور زمین میں الله ہی کی سلطنت ہے وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے اور الله کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں
117الله نے نبی کے حال پر رحمت سے توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ ان میں سے بعض کے دل پھر جانے کے قریب تھے اپنی رحمت سے ان پر توجہ فرمائی بے شک وہ ان پر شفقت کرنے والا مہربان ہے
118اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا یہاں تک کہ جب ان پر زمین باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر تنگ ہوگئیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ الله سے کوئی پناہ نہیں سو اسی کی طرف آنے کے پھر بھی اپنی رحمت سے ان پر متوجہ ہوا تاکہ وہ توبہ کریں بے شک الله توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
119اے ایمان والو! الله سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو
120مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کو یہ مناسب نہیں تھا کہ الله کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں یہ اس لیے ہے کہ انہیں الله کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یاہ وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے بے شک الله نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا
121اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ الله انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے
122اورایسا تو نہیں ہوسکتا کہ مسلمان سب کے سب کوچ کریں سو کیوں نہ نکلا ہر فرقے میں سے ایک حصہ تاکہ دین میں سمجھ پیدا کریں اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آئیں تو ان کو ڈرائیں تاکہ وہ بچتے رہیں
123اے ایمان والو اپنے نزدیک کے کافروں سے لڑو اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ پر ہیزگاروں کے ساتھ ہے
124اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس سورت نےتم میں سے کس کے ایمان کو بڑھایا ہے سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو بڑھایا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں
125اور جن کے دلوں میں مرض ہے سوان کے حق میں نجاست پر نجاست بڑھا دی اور وہ مرتے دم تک کافر ہی رہے
126کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال میں ایک دفعہ یا دو دفعہ آزمائے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں
127اورجب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتا ہے کہ کیا تمہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے پھر چل نکلتے ہیں الله نے ان کے دل پھیر دئے ہیں اور لیے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے
128البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے تمہاری بھلائی پر وہ حریص ہے مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے
129پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں تو کہہ دو مجھے الله ہی کافی ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے
Chapter 10 (Sura 10)
1یہ حکمت والی کتا ب کی آیتیں ہیں
2کیا اس بات سے لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائے اور جو ایمان لائیں انہیں یہ خوشخبری سنائے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں پہنچ کر پورا مرتبہ ملے گا کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص صریح جادوگر ہے
3بے شک تمہارا رب الله ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر قائم ہوا وہی ہر کام کا انتظام کرتا ہے اس کی اجازت کے سوا کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے یہی الله تمہارا پروردگار ہے سو اسی کی عبادت کرو کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے
4تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے الله کا وعدہ سچا ہے وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اورنیک کام کیے انہیں انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور جن لوگو ں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ہوگا اوران کے کفر کے سبب سے دردناک عذاب ہوگا
5وہی ہے جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو منور فرمایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو یہ سب کچھ الله نے تدبیر سے پیدا کیا ہے وہ اپنی آیتیں سمجھداروں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
6رات اور دن کے آنے جانے میں اور جو چیزیں الله نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں ان میں ان لوگو ں کے لیے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں
7البتہ جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیاکی زندگی پر خوش ہوئے اور اسی پر مطمئن ہو گئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں
8ان کا ٹھکانا آگ ہے بسبب اس کے جو کرتے تھے
9بے شک جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے نیک کام کیے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کے سبب ہدایت کرے گا ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی
10اس جگہ ان کی دعا یہ ہو گی کہ اے الله تیری ذات پاک ہے اوروہاں ان کا باہمی تحفہ سلام ہوگا اور ان کی دعا کا خاتمہ اس پر ہوگا سب تعریف الله کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے
11اور اگر الله لوگوں کو برائی جلد پہنچا دے جس طرح وہ بھلائی جلدی مانگتے ہیں تو ان کی عمر ختم کر دی جائے سو ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جنہیں ہماری ملاقات کی امید نہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں
12اورجب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے اور بیٹھے اورکھڑے ہونے کی حالت میں ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے اس تکلیف کودور کر دیتے ہیں تو اس طرح گزر جاتا ہے گویا کہ ہمیں کسی تکلیف پہنچنے پر پکارا ہی نہ تھا اس طرح بیباکوں کو پسند آیا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں
13اور البتہ ہم تم سے پہلے کئی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جب انہوں نے ظلم اختیار کیا حالانکہ پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے تھے اور وہ ہر گز ایمان لانے والے نہ تھے ہم گناہگارو ں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
14پھر ہم نے تمہیں ان کے بعد زمین میں نائب بنایا تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو
15اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں وہ لوگ کہتے ہیں جنہیں ہم سے ملاقات کی امید نہیں کہ اس کے سوا کوئی قرآن لے آ یا اسے بدل دے تو کہہ دے میرا کام نہیں کہ اپنی طرف سے اسے بدل دوں میں اس کی تابعداری کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جائے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں توبڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
16کہہ دو اگر الله چاہتا تو میں اسے تمہارےسامنے نہ پڑھتا اورنہ وہی تمہیں اس سے خبردار کرتا کیوں کہ اس سے پہلے تم میں ایک عمر گذار چکا ہوں کیا پھر تم نہیں سمجھتے
17پھر اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو الله پر بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے بے شک گناہگاروں کابھلا نہیں ہوتا
18اور الله کے سوا اس چیز کی پرستش کرتے ہیں جونہ انہیں نقصان پہنچا سکے اورنہ انہیں نفع دے سکے اور کہتے ہیں الله کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہیں کہہ دو کیا تم الله کو بتلاتے ہو جو اسے آسمانوں اور زمین میں معلوم نہیں وہ پاک ہے اوران لوگو ں کے شرک سے بلند ہے
19اوروہ لوگ ایک ہی امت تھے پھر جدا جدا ہو گئے اور اگر ایک بات تمہارے پرودگار کی طرف سے پہلے نہ ہو چکی ہو تی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کر تے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا ہے
20اور کہتے ہیں اس پر اس کے رب سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری سو تو کہہ دے کہ غیب کی بات الله ہی جانتا ہے سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
21اورجب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی تو وہ ہماری آیتو ں کے متعلق حیلے کرنے لگتے ہیں کہہ دو کہ الله بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے بے شک ہمارے فرشتے تمہارے سب حیلو ں کو لکھ رہے ہیں
22وہ وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو اور وہ کشتیاں لوگو ں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کرچلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے ان پر لہریں چھانے لگتی ہیں اور و ہ خیال کرتے ہیں کہ بےشک وہ لہروں میں گھر گئے ہیں تو سب خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچادے تو ہم ضرور شکر گزار رہیں گے
23پھر جب الله انہیں نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں اے لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری جانو ں پر ہی پڑے گا دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو پھر ہمارے ہاں ہی تمہیں لوٹ کر آناہے پھر ہم تمہیں بتلادیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
24دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ اسے ہم نے آسمان سے اتارا پھراس کے ساتھ سبزہ مل کر نکلا جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین سبزے سے خوبصورت اور آراستہ ہو گئی اورزمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر بالکل قابض ہو چکے ہیں تو اس پر ہماری طرف سے دن یا رات میں کوئی حادثہ آ پڑا سو ہم نے اسے ایسا صاف کر دیا کہ گویا کل وہا ں کچھ بھی نہ تھا اس طرح ہم نشانیوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور لوگو ں کے سامنے جو غور کرتے ہیں
25اور الله سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے
26جنہوں نے بھلائی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور زیادتی بھی اور ان کے منہ پر سیاہی اور رسوائی نہیں چڑھے گی وہ بہشتی ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے
27اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا کہ ان پر ذلت چھائے گی اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا گویا کہ ان کے مونہوں پر اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑدئے گئے ہیں یہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
28اور جس دن ہم ان سب کو جمع کرینگے پھر مشرکوں سے کہیں گے تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ کھڑے رہو تو ہم ان میں پھوٹ ڈال دینگے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے
29سو اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے کہ ہمیں تمہاری عبادت کی خبر ہی نہ تھی
30اس جگہ ہر شخص اپنے پہلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور یہ لوگ اللہ کی طرف لوٹائے جائینگے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور جو جھوٹ وہ باندھا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا
31کہو تمہیں آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے یا کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور زندہ کو مردہ سے کون نکلتا ہے اور مردہ کو زندہ سے کون نکلتا ہے اور سب کاموں کا کون انتظام کرتا ہے سو کہیں گے کہ اللہ تو کہہ دو کہ پھر (اللہ)سے کیوں نہیں ڈرتے
32یہی الله تمہارا سچا رب ہے حق کے بعد گمراہی کے سوا اور ہے کیا سوتم کدھر پھرے جاتے ہو
33اسی طرح ان نافرمانوں کے حق میں تیرے رب کا فیصلہ ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے
34کہہ دو آیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو مخلوقات کو پیدا کرے پھر اسے دوبارہ زندہ کرے کہہ دو الله پہلے پیدا کرتا ہے پھر اسے لوٹائے گا سو تم کہاں پھیرے جاتے ہو
35کہہ دو آیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو صحیح راہ بتلائے کہہ دو الله ہی صحیح راہ بتلاتا ہے تو جو اب صحیح راستہ بتلائے اسکی بات ماننی چاہیئے یا اس کی جو خود راہ نہ پائے مگر جب کوئی اوراسے راہ بتلائے سو تمہیں کیا ہوگیا کیا انصاف کرتے ہو
36اور وہ اکثر اٹکل پر چلتے ہیں بےشک حق بات کے سمجھنے میں اٹکل ذرا بھی کام نہیں دیتی بے شک الله جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں
37اوریہ قرآن ایسا نہیں کہ الله کے سوا اسے کوئی اپنی طرف سے بنا لائے اور لیکن اپنے سے پہلے کلام کی تصدیق کرتا ہے اوران چیزوں کو بیان کرتا ہے جو تم پر لکھی گئی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے
38کیا یہ لوگ کہتے ہیں اس نے اسے خود بنایا ہے کہہ دو تم ایک ہی ایسی سورت لے آؤ اور الله کے سوا جسے بلا سکو بلا لو اگر تم سچے ہو
39بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلایا جسے وہ سمجھ نہ سکے اوربھی اس کی حقیقت ان پر کھلی نہیں اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو دیکھ لو کہ ظالموں کاانجام کیسا ہوا
40اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے اور تمہارا رب شریروں سے خوب واقف ہے
41اوراگر تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا کام اور تمہارے لیے تمہارا کام تم میرے کام کے جواب دہ نہیں اور میں تمہارے کام کا جواب دہ نہیں ہوں
42اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں کیا تم بہروں کو سنا سکتے ہو اگرچہ وہ نہ سمجھیں
43اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دوگے اگر کچھ بھی نہ دیکھتے ہوں
44بے شک الله لوگوں پر ذرہ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں
45اور جس دن انہیں جمع کرے گا گویا وہ نہیں رہے تھے مگر ایک گھڑی دن کی ایک دوسرے کو پہچانیں گے بے شک خسارے میں رہے جنہوں نے الله کی ملاقات کو جھٹلایا اور راہ پانے والے نہ ہوئے
46اور اگر ہم تمہیں ان وعدوں میں سے کوئی چیز دکھا دیں جو ہم نے ان سے کیے ہیں یاتمہیں وفات دیں پھر انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے پھرالله شاہدہے ان کاموں پر جو کرتے ہیں
47اورہر امت کا یک رسول ہے پھر جب ان کے پاس ان کا رسول آیا تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا گیا اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا
48اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو
49کہہ دومیں اپنی ذات کے برے اور بھلے کا بھی مالک نہیں مگر جو الله چاہے ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کر سکتےہیں اور نہ جلدی کر سکتے ہیں
50کہہ دو بھلا دیکھو تو اگر تم پر اس کا عذاب رات یا دن کو آجائے تو عذاب میں سے کون سی ایسی چیز ہے کہ مجرم اس کو جلدی مانگتے ہیں
51کیا پھر جب وہ آ چکے گا تب اس پر ایمان لاؤ گے اب مانتے ہو اور تم اس کی جلدی کرتے تھے
52پھر ظالموں سے کہا جائے گا ہمیشگی کا عذاب چکھتے رہو تمہیں نہیں بدلا دیا جاتا مگر اس چیز کا جو تم کرتے تھے
53اور تم سے پوچھتے ہیں کیا یہ بات سچ ہے کہہ دو ہاں میرے رب کی قسم بے شک یہ سچ ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو
54اور اگر ہر ایک نافرمان کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں البتہ اپنے بدلے میں دے ڈالے اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں نادم ہوں گے اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ ہوگا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
55خبردار بےشک الله ہی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خبردار بے شک الله کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
56وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھر کر جاؤ گے
57اے لوگو تمہارے رب سے نصیحت اور دلوں کے روگ کی شفا تمہارے پاس آئی ہے اور ایمان داروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
58کہہ دو (قرآن) الله کے فضل اور اس کی رحمت سےہے سو اسی پر انہیں خوش ہونا چاہیئے یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جو جمع کرتے ہیں
59کہہ دو بھلا دیکھو تو الله نے تمہارے لیے جو رزق نازل فرمایاہے تم نے اس میں سے بعض کو حرام اوربعض کو حلال کر دیا کہہ دو الله نے تمہیں حکم دیا ہے یا الله پر افترا کرتے ہو
60اور جو لوگ الله پر افترا کرتے ہیں قیامت کے دن کی نسبت ان کا کیا خیال ہے بے شک الله لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
61اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی کام کرتے ہوتو ہم وہاں موجود ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو اور تمہارے رب سے ذرہ بھر بھی کوئی چیز پوشدیہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر کتاب روشن میں ہے
62خبردار بے شک جو الله کے دوست ہیں نہ ان پر ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
63جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے
64ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے الله کی باتوں میں تبدیلی نہیں ہوتی یہی بڑی کامیابی ہے
65اور ان کی بات سے غم نہ کربے شک عزت سب الله ہی کے لیے ہے وہی سننے والا جاننے والا ہے
66خبردار جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے سب الله کا ہے اور یہ جو الله کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں وہ نہیں پیروی کرتے مگر گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر اٹکل کرتے ہیں
67وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اسمیں آرام کرو اور دن دکھلانے والا بنایا بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں
68کہتے ہیں الله نے بیٹا بنا لیا وہ پاک ہے وہ بے نیاز ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے تمہارے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے تم الله پر ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں
69کہہ دو جو لوگ الله پر افترا کرتے ہیں نجات نہیں پائیں گے
70دنیا میں تھوڑا سا نفع اٹھا لینا ہے پھر ہماری طرف انہیں لوٹنا ہے پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بسبب اس کے کہ کفر کرتے تھے
71اور انہیں نوح کا حال سنا جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے قوم اگر تمہیں میرا تم میں رہنا اور الله کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں الله پر بھروسہ کرتا ہوں اب تم سب ملکر اپنا کام مقرر کرو اور اپنے شریکوں کو جمع کرو پھر تمہیں اپنے کام میں شبہ نہ رہے پھر وہ کام میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو
72پھر اگر منہ پھیرو تو میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا میرا معاوضہ الله پر ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ فرمانبرداروں میں سے رہوں
73پھر انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو کشتی میں بچا لیا اور انہیں خلیفہ بنا دیا اور جن لوگو ں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں غرق کر دیا سو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا انجام کیسا ہوا
74پھر ہم نے نوح کے بعد اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے پھر بھی ان سے یہ نہ ہوا کہ اس بات پر ایمان لے آئيں جسے پہلے وہ جھٹلا چکے تھے اسی طرح ہم حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
75پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ اورہارون کو فرعون اور اس کےسرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ گنہگار تھے
76پھر جب انہیں ہمارے ہاں سے سچی بات پہنچی کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے
77موسیٰ نے کہا کیاتم حق بات کو یہ کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آئی کیا یہ جادو ہے اور جادو کرنے والے نجات نہیں پاتے
78انہوں نے کہا کیاتو ہمارے ہاں آیا ہے کہ ہمیں اس راستہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے تم دونوں کو اس ملک میں سرداری مل جائے اور ہم تو تمہیں ماننے والے نہیں ہیں
79اور فرعون نے کہا میرے پاس ہردانا جادوگر کو لے آؤ
80پھر جب جادوگر آئے انہیں موسیٰ نے کہا ڈالو جو تم ڈالتے ہو
81پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا جو تم لائے ہو وہ جادو ہے الله اسے ابھی درہم برہم کر دے گا بے شک الله شریروں کے کام نہیں سنوارتا
82اور الله اپنے حکم سےحق بات کو سچا کرتا ہے اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں
83پھر کوئی بھی موسیٰ پر ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم کے چند لڑکے اور وہ بھی فرعون اور ان کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ انہیں مصیبت میں نہ ڈال دے اور بے شک فرعون زمین میں سرکشی کرنے والا تھا اوربے شک وہ حد سے گزرنے والوں میں سے تھا
84اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم اگر تم الله پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو
85تب وہ بولے ہم الله ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اے رب ہمارے ہم پر اس ظالم قوم کا زور نہ آزما
86اور ہمیں مہربانی فرما کر ان کافروں سے چھڑا دے
87اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو حکم بھیجا کہ اپنی قوم کے واسطے مصر میں گھر بناؤ اوراپنے گھروں کو مسجدیں سمجھو اور نماز قائم کرو اورایمان والوں کو خوشخبری دو
88اورموسیٰ نے کہا اے رب ہمارے تو نے فرعون اوراس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش اور ہر طرح کا مال دیا ہے اے رب ہمارے یہاں تک کہ انہوں نےتیرے راستہ سے گمراہ کر دیا اے رب ہمارے ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے پس یہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھیں
89فرمایا تمہاری دعا قبول ہو چکی سو تم دونوں ثابت قدم رہو اوربے عقلوں کی راہ پر مت چلو
90اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم اور زيادتی سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب ڈوبنےلگا کہا میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں مگر جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبردار میں سے ہوں
91اب یہ کہتا ہے اورتو اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا
92سو آج ہم تیرے بدن کو نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لیے عبرت ہو اوربے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بے خبر ہیں
93اور البتہ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کی عمدہ جگہ دی اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں وہ باوجود علم ہونے کے خلاف کرتے رہے بےشک تیرا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کرے گا جس بات میں کہ وہ اختلاف کرتے تھے
94سو اگرتمہیں اس چیز میں شک ہے جو ہم نے تیری طرف اتاری تو ان سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں بے شک تیرے پاس تیرے رب سے حق بات آئی ہے سو شک کرنے والوں میں ہرگز نہ ہو
95اوران میں سے بھی نہ ہو جنہوں نے الله کی آیتوں کو جھٹلایا پھر تو بھی نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا
96جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے
97اگرچہ انہیں ساری نشانیاں پہنچ جائیں جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں
98سو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا سوائے یونس کی قوم کے کہ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کر دیا اور ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا
99اور اگر تیرا رب چاہتا تو جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے پھر کیا تو لوگوں پر زبردستی کرے گا کہ وہ ایمان لے آئيں
100اورکسی کے بھی بس میں نہیں کہ الله کے حکم کے سوا ایمان لے آئے اور الله انکے لیے کفر کا فیصلہ کرتا ہے جو نہیں سوچتے
101کہہ دو دیکھوکہ آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے اور بے ایمان قوم کو معجزے اور ڈرانے والے کچھ فائدہ نہیں دیتے
102پھر کیا وہ انہیں لوگوں کے دنوں کا سا انتظار کرتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں کہہ دو اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
103پھر ہم اپنے رسولوں اوران لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں بچا لیتے ہیں اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کوبچا لیں
104کہہ دو اے لوگو اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو الله کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا بلکہ میں الله کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں وفات دیتا ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ ایمانداروں میں رہوں
105اور یہ بھی کہ یک سوہوکر دین کی طرف رخ کیے رہو اور مشرکوں میں نہ ہو
106اور الله کے سوا ایسی چیز کونہ پکار جو نہ تیرا بھلا کرے اور نہ برا پھر اگرتو نے ایسا کیا تو بے شک ظالموں میں سے ہو جائے گا
107اوراگر الله تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے ہٹانے والا کوئی نہیں اور اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچانا چاہے توکوئی اس کے فضل کو پھیرنے والا نہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بحشنے والا مہربان ہے
108کہہ دو اے لوگو تمہیں تمہارے رب سے حق پہنچ چکا ہے پس جو کوئی راہ پر آئے سو وہ اپنے بھلے کے لیے راہ پاتا ہے اور جو گمراہ رہے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور میں تمہارا ذمہ دارنہیں ہوں
109اورجو کچھ تیری طرف وحی کیا گیا ہے ا س پر چل اور صبر کر یہاں تک کہ الله فیصلہ کر دے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
Chapter 11 (Sura 11)
1یہ ایسی کتاب ہےکہ جس کی آیتیں حکیم خبردار کی طرف سے مستحکم کر دی گئی ہیں پھر مفصل بیان کی گئی ہیں
2یہ کہ الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں
3اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو پھراس کی طرف رجوع کرو تاکہ تمہیں ایک وقت مقرر تک اچھا فائدپہنچائے اورجس نے بڑھ کر نیکی کی ہو اس کو بڑھ کر بدلہ دے اور اگر تم پھر جاؤ گے تو میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
4تمہیں الله کی طرف لوٹ کر جانا ہے اوروہ ہر چیز پر قادر ہے
5خبردار جس وقت وہ کپڑے ڈھانکتے ہیں وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپا کر اور ظاہر کر کے کرتے ہیں بےشک وہ دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے
6ارو زمین پر کوئی چلنے والا نہیں مگر اس کی روزی الله پر ہے اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھیرتا ہے اور جہاں وہ سونپا جاتا ہے سب کچھ واضح کتاب میں ہے
7اور وہی ہےجس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے اور اس کا تخت پانی پر تھا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے اور اگر تو کہے کہ مرنے کے بعد اٹھو گے تو منکرین یہ کہیں گے کہ یہ تو صریح جادو ہے
8اور اگر ہم ایک مدت معلوم تک ان سے عذاب کو روک رکھیں توضرور کہیں گے کس چیر نے عذاب کو روک دیا خبردار جس دن ان پر عذاب آئے گا ان سے نہ پھیرا جائے گا اور انہیں وہ چیز گھیرے گی جس پر ٹھٹایا کیاکرتے تھے
9اور اگر ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا کر پھر اس سے چھین لیتے ہیں تو وہ ناامید ناشکرا ہو جاتا ہے
10اور اگر مصیبت پہنچنے کے بعد نعمتوں کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ میری سختیاں جاتی رہیں کیوں کہ وہ اترانے والا شیخی خورا ہے
11مگر جو لوگ صابر ہیں اور نیکیاں کرتے ہیں ان کے لیے بخشش اوربڑا ثواب ہے
12پھر شاید آپ اس میں سے کچھ چھوڑ بیٹھیں گے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اور ان کے اس کہنے سے آپ کا دل تنگ ہوگا کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتر آیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا آپ تو محض ڈرانے والے ہیں اور الله ہر چیز کا ذمہ دار ہے
13کیا کہتے ہیں کہ تو نے قرآن خود بنا لیا ہے کہہ دو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور الله کے سوا جس کو بلا سکو بلا لو اگر تم سچے ہو
14پھر اگر تمہارا کہنا پورا نہ کریں تو جان لو کہ قرآن الله کے علم سے نازل کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس کیا تم فرمانبرداری کرنے والے ہو
15جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتا ہے تو انکے اعمال ہم یہیں پورے کر دیتے ہیں اور انہیں کچھ نقصان نہیں دیا جاتا
16یہ وہی ہیں جن کیلئے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہوگیا جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا تھا اور خراب ہو گیا جو کچھ کمایا تھا
17بھلا وہ شخص جو اپنے رب کے صاف راستہ پر ہو اور اس کے ساتھ الله کی طرف سے ایک گواہ بھی ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب گواہ تھی جو امام اور رحمت تھی یہی لوگ قرآن کو مانتے ہیں اور جو کوئی سب فرقوں میں سے اس کا منکر ہوتو اس کا ٹھکانا دوزخ ہے سو تو قرآ ن کی طرف سے شبہ میں نہ رہ بے شک یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے
18اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو الله پر جھوٹ باندھے وہ لوگ اپنے رب کے روبر پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا خبرادر ظالموں پر الله کی لعنت ہے
19جو الله کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں اوروہی آخرت کے منکر ہیں
20یہ لوگ زمین میں عاجز کرنے والے نہیں تھے اور ان کے لیے سوا الله کے کوئی دوست نہ تھا انہیں دگنا عذاب کیا جائے گا یہ لوگ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے
21انہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال دیا اور ان سے ضائع ہوگیا جو جھوٹ وہ باندھتے تھے
22بے شک یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہوں گے
23البتہ جولوگ ایمان لائے اورنیک کام کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کی وہ جنت میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
24دونوں فریق کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اوربہرا ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والاکیا دونوں کا حال برابر ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے
25اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا بے شک میں تمہیں صاف ڈرانے والا ہوں
26کہ الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بے شک میں تم پر دردناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
27پھر اس کی قوم کے جو کافر سردار تھے وہ بولے ہمیں تو تم ہم جیسے ہی ایک آدمی نظر آتے ہو اور ہمیں تو تمہارے پیرو وہی نظر آتے ہیں جو ہم میں سے رذیل ہیں وہ بھی سرسری نظر سے اورہم تم میں اپنے سے کوئی فضیلت بھی نہیں پاتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
28اس نے کہا اے میری قوم دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے صاف راستہ پر ہوں اور اس نے مجھ پر اپنے ہاں سے رحمت بھیجی ہو پھر وہ تمہیں دکھائی نہ دے تو کیا میں زبردستی تمہارے گلے مڑھ دوں اور تم اس سے نفرت کرتے ہو
29اور اے میری قوم میں تم سے اس پر کچھ مال نہیں مانگتا میری مزدوری الله ہی کے ذمہ ہے اور میں ایمانداروں کو ہٹانے والا نہیں بے شک و ہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن تمہیں جاہل قوم دیکھتا ہوں
30اور اے میری قوم اگر میں انہیں ہٹا دوں تو مجھے الله سے کون چھڑائے گا کیا پھر تم نہیں سمجھتے
31اور میں تمہیں نہیں کہتا کہ میرے پاس الله کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب دان ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ یہ کہوں گاکہ جو لوگ تمہاری نظر میں حقیر ہیں الله ان کو بھلائی نہ دے گا الله خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ایسا کہوں تو میں بے انصاف ہوں
32کہا اے نوح تو نے ہم سے جھگڑا کیا او ربہت جھگڑا کر چکا اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اگر تو سچا ہے
33نوح نے کہا اسے تو اگرچاہے گا الله ہی لائے گا اور تم اسے روک نہ سکو گے
34اور میری نصیحت تمہیں فائدہ نہ دے گی خواہ میں کتنی ہی نصیحت کرنا چاہوں اگر الله کو تمہیں گمراہ رکھنا ہی منظور ہے وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تمہیں پھر جانا ہے
35کیا کہتے ہیں کہ قرآن کو خود بنا لایا ہے کہہ دو اگر میں بنا لایا ہوں تو اس کا گناہ مجھ پر ہے اور میں تمہارے گناہوں سے بری ہوں
36اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے اب کوئی ایمان نہیں لائے گا مگر جو لا چکا پھر غم نہ کر اور کاموں پر جو کر رہے ہیں
37اور ہمارے روبرو اور ہمارے حکم سے کشتی بنا اور ظالمو ں کے حق میں مجھ سے کوئی بات نہ کر بے شک وہ غرق کیے جائیں گے
38اور وہ کشتی بناتے تھے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس سے ہنسی کرتے کہتے اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنسیں گے جیسے تم ہنستے ہو
39تمہیں جلدی معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اورکسی پر دائمی عذاب اترتا ہے
40یہاں تک کہ جب ہمارا حکم پہنچا اور تنور نے جوش مارا ہم نے کہا کشتی میں ہر قسم کے جوڑا نر مادہ چڑھا لے اور اپنے گھر والوں کو مگر وہ جن کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے اور سب ایمان والوں کو اور اس کے ساتھ ایمان تو بہت کم لائے تھے
41اور کہا اس میں سوار ہو جاؤ اس کا چلنا اور ٹھیرنا الله کے نا م سے ہےبے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے
42اور وہ انہیں پہاڑ جیسی لہروں میں لیے جارہی تھی اورنوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جب کہ وہ کنارے پر تھا اے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ
43کہا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا کہا آج الله کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے اور دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی پھر ڈوبنے والوں میں ہوگیا
44اور حکم آیا اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا اور پانی سکھا دیا گیا اور کام ہو چکا اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھری اور کہہ دیا گیا کہ ظالموں پر پھٹکار ہے
45اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اے رب میرا بیٹا میرے گھر والو ں میں سے ہے اوربے شک تیار وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے
46فرمایا اے نوح وہ تیرے گھر والو ں میں سے نہیں ہے کیوں کہ اس کے عمل اچھے نہیں ہیں سو مجھ سے مت پوچھ جس کا تجھے علم نہیں میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کہیں جاہلوں میں نہ ہو جاؤ
47کہا اے رب میں تیری پناہ لیتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وہ بات پوچھوں جو مجھے معلوم نہیں اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اورمجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان والوں میں ہو جاؤں گا
48کہا گیا اے نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تم پر اور تمہارے ساتھ والوں پر رہیں گی کشتی سے اتر اور دوسرے فرقے ہیں کہ ہم انھیں دنیا میں فائدہ دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا
49یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں اس سے پہلے نہ تو آپ ہی جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم جانتی تھی پس صبر کر کیوں کہ بہتر انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے
50اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا اے قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی حاکم نہیں تم سب جھوٹ کہتے ہو
51اے قوم میں اس پر تم سے مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری اسی پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا پھر کیا تم نہیں سمجھتے
52اور اے قوم اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تم پر خوب بارشیں برسائے گا اور تمہاری قوت کو اوربڑھائے گا اورتم نافرمان ہو کر نہ پھر جاؤ
53کہا اے ہود تو ہمارے پاس کوئی معجزہ بھی نہ لایا اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اورنہ ہم تجھے ماننے والے ہیں
54ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تجھےہمارے کسی معبود نے بری طرح جھپٹ لیا ہے کہا بے شک میں الله کو گواہ کرتا ہوں اورتم بھی گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم الله کے سوا شریک کرتے ہو
55سوتم سب مل کر میرے حق میں برائی کرو پھر مجھے مہلت نہ دو
56میں نے الله پر بھروسہ کیا ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے کوئی بھی زمین پر ایسا چلنے والا نہیں کہ جس کی چوٹی اس نے نہ پکڑ رکھی ہو بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے
57پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا وہ تمہیں پہنچا دیا اور میرا رب تمہاری جگہ اور قوم پیدا کر دے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑنہیں سکو گے بے شک میرا رب ہر چیزپر نگہبان ہے
58اور جب ہمارا حکم پہنچا تو ہم نے ہود کو اورانہیں جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور ہم نے انہیں سخت عذاب سے نجات دی
59اور یہ عاد تھے کہ اپنے رب کی باتوں سے منکر ہوئے اوراس کے رسولوں کو نہ مانا اور ہر ایک جبار سرکش کا حکم مانتے تھے
60اور اس دنیا میں بھی اپنے پیچھے لعنت چھوڑ گئے اور قیامت کے دن بھی خبردار بےشک عاد نے اپنے رب کا انکار کیا تھا خبردار عاد جو ہود کی قوم تھی الله کی رحمت سے دور کی گئی
61اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اسی نے تمہیں زمین سے بنایا اورتمہیں اس میں آباد کیا پس اس سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والا
62انہوں نے کہا اے صالح اس سے پہلے تو ہمیں تجھ سے بڑی امید تھی تم ہمیں ان معبودوں کے پوجنے سےمنع کرتے ہو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں اورجس طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے تو ہم بڑے شک میں ہیں
63صالح نے کہا اےمیری قوم بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کوئی کھلی دلیل رکھتا ہوں اور اس کی طرف سے میرے پاس رحمت بھی آ چکی ہو پھر اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اس سے کون بچا سکتا ہے پھر تم مجھے نقصان کے سوا اور کیا دے سکو گے
64اور اےمیری قوم یہ الله کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے سواسے چھوڑ دو الله کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے برائی سے چھونا بھی نہیں (ورنہ) پھر تمہیں عذاب بہت جلد آ پکڑے گا
65پھر انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ ڈالے تب صالح نے کہا تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا
66پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے صالح کو اورجو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے نجات دی بے شک تیرا رب وہی زور والا زبردست ہے
67اوران ظالموں کو ہولناک آواز نے پکڑ لیا پھر صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے
68گویا کہ کبھی وہاں رہے ہی نہ تھے خبردار ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا تھا خبردار ثمود پر پھٹکار ہے
69اور ہمارے بھیجے ہوئے ابراھیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے انہوں نے کہا سلام اس نے کہا سلام پس دیر نہ کی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا
70پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس تک نہیں پہنچتے تو انہیں اجنبی سمجھا اوران سے ڈرا انہوں نے کہا خوف نہ کرو ہم تو لوط کی قوم کی طرف بھیجحے گئے ہیں
71اور اس کی عورت کھڑی تھی تب وہ ہنس پڑی پھر ہم نے اسے اسحاق کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی
72وہ بولی اے افسوس کیا میں بوڑھی ہو کر جنوں گی میرا خاوند بھی بوڑھا ہے یہ تو ایک عجیب بات ہے
73انہوں نے کہا کیاتو الله کے حکم سے تعجب کرتی ہے تم پر اے گھر والو الله کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں بے شک وہ تعریف کیا ہوا بزرگ ہے
74جب ابراھیم سے ڈر جاتا رہا اور اسے خوشخبری آئی ہم سے قوم لوط کے حق میں جھگڑنے لگا
75بے شک ابراھیم بردبار نرم دل اور الله کی طرف رجوع کرنے والا تھا
76اے ابراھیم یہ خیال چھوڑ دے کیوں کہ تیرے رب کا حکم آ چکا ہے اور بے شک ان پرعذاب آ کر ہی رہے گا جو ٹلنے والا نہیں
77اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس پہنچے تو ان کے آنے سے غمگین ہوا اور دل میں تنگ ہوا اور کہا آج کا دن بڑا سخت ہے
78اور اس کے پاس اس کی قوم بے اختیار دوڑتی آئی اور یہ لوگ پہلے ہی سے برے کام کیا کرتے تھے کہا اےمیری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے پاک ہیں سو تم الله سے ڈرو اور میرے مہمانو ں میں مجھے ذلیل نہ کرو کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں
79انہوں نے کہا البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تجھے معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں
80کہا کاش کہ مجھے تمہارے مقابلے کی طاقت ہو تی یا میں کسی زبردست سہارے کی پناہ جا لیتا
81فرشتوں نے کہا اے لوط بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں یہ تم تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے سو کچھ حصہ رات رہے اپنے لوگوں کو لے نکل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری عورت کہ اس پر بھی وہی بلا آنے والی ہے جو ان پر آئے گی ان کے وعدہ کا وقت صبح ہے کیا صبح کا وقت نزدیک نہیں ہے
82پھر جب ہمارا حکم پہنچا تو ہم نے وہ بستیاں الٹ دیں اور اس زمین پر کھنگر کے پتھر برسانا شروع کیے جو لگاتار گر رہے تھے
83جن پر تیرے رب کے ہاں سے خاص نشان بھی تھا اور یہ بستیاں ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہیں
84اورمدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا کہ اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول کو نہ گھٹاؤ میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
85اور اے میری قوم انصاف سے ناپ اور تول کو پورا کرو اور لوگو ں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ مچاؤ
86الله کا دیا جو باقی بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں
87انہوں نے کہا اے شعیب کیا تیری نماز تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ باپ دادا پوجتے تھے یا اپنے مالوں میں اپنی خواہش کے مطابق معاملہ نہ کریں بے شک تو البتہ بردبار نیک چلن ہے
88کہا اے میری قوم دیکھو تو سہی اگر مجھے اپنے رب کی طرف سے سمجھ آ گئی ہے اور اس نے مجھے عمدہ روزی دی ہے اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جس کام سے تجھے منع کروں میں اس کے خلاف کروں میں تو اپنی طاقت کے مطابق اصلاح ہی چاہتا ہوں اور مجھے تو صرف الله ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
89اوراے میری قوم کہیں میری ضد سے ایسا جرم نہ کر بیٹھنا جس سے وہی مصیبت نہ آ پڑے جیسی کہ قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر پڑی تھی اور لوط کی قوم بھی تم سے دور نہیں
90اور اپنے الله سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب مہربان محبت والا ہے
91انہوں نے کہا اے شعیب ہم بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تم کہتے ہو اوربے شک ہم البتہ تمہیں اپنےمیں کمزور پاتے ہیں اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو تجھے ہم سنگسارکردیتے اور ہماری نظر میں تیری کوئی عزت نہیں ہے
92کہا اے میری قوم کیا میری برادری کا دباؤ تم پر الله سے زیادہ ہے اس کو تم نے پس پشت ڈال دیا ہے بے شک میرا رب تمہارے سب اعمال پر احاطہ کرنے والا ہے
93اور اے میری قوم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ میں تم بھی کام کرتا ہوں آئندہ معلوم کر لو گے کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور جھوٹا کون ہے اورانتظار کرو بے شک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں
94اور جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اوران ظالموں کو کڑک نے آ پکڑا پھر صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے
95گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے خبردار مدین پر پھٹکار ہے جیسے ثمود پر پھٹکار ہوئی تھی
96اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور واضع سند دے کر بھیجا
97فرعون اور اس کے سرداروں کے ہاں پھر وہ فرعون کے حکم پر چلے اور فرعون کا حکم ٹھیک بھی نہ تھا
98قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہو گا پھر انہیں آگ میں لاڈالے گا اوربرا گھاٹ ہے جس پر وہ پہنچے
99اور اپنے پیچھے اس جہان میں بھی لعنت چھوڑ گئے اور قیامت کے دن کے لیے بھی برا ہی انعام ہے جو انہیں دیا جائے گا
100یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں کہ تجھے سنا رہے ہیں ان میں سے کچھ تو اب تک باقی ہیں اورکچھ اجڑی پڑی ہیں
101اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہی اپنی جانو ں پر ظلم کر گئے پھر ان کے وہ معبود کچھ کام نہ آئے جنہیں و ہ الله کے سوا پکارتے تھے جس وقت تیرے رب کا حکم آ پہنچا اور ان معبودوں نے سوا ہلاکت کے انہیں کچھ بھی فائدہ نہ دیا
102اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے اور اس کی پکڑ سخت تکلیف دہ ہے
103اس بات میں نشانی ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے یہ ایک ایسا دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہی دن ہے جس میں سب حاضر کیے جائیں گے
104اور ہم اسے تھوڑی مدت کے لیے ملتوی کیے ہوئے ہیں
105جب وہ دن آئے گا تو کوئی شخص الله کی اجازت کے سوا بات بھی نہ کر سکے گا سو ان میں سے بعض بدبخت ہیں اوربعض نیک بخت
106پھر جو بد ہوں گےتو وہ آگ میں ہوں گے کہ اس میں ان کی چیخ و پکار پڑی رہے گی
107اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان زمین قائم ہیں ہاں اگر تیرے الله ہی کو منظور ہو (تو دوسری بات ہے )بے شک تیار رب جو چاہے اسے پورےطور سے کر سکتا ہے
108اور جو لوگ نیک بخت ہیں سو جنت میں ہو ں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان زمین قائم ہیں ہاں اگر تیرے الله ہی کو منظور ہو تو( دوسری بات ہے )یہ بے انتہا عطیہ ہو گا
109سو تو ان چیزوں سے شک میں نہ رہ جنہیں یہ پوجتے ہیں یہ لوگ کچھ نہیں پوجتے مگر اسی طرح سے کہ جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے اور بے شک ہم انہیں عذاب کا پورا حصہ دے کر رہیں گے
110اور البتہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی پھراس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات مقرر نہ ہو چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ ہو جاتا اور بے شک اس کی طرف سے ایسے شک میں ہیں کہ مطمئن نہیں ہو نے دیتا
111اورجتنے لوگ ہیں جب وقت آیا تیرا رب انہیں ان کے اعمال پورے دے گا بےشک وہ خبردار ہے اس چیز سے جو کر رہے ہیں
112سو تو پکا رجیسا تجھے حکم دیا گیا ہے اور جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو بے شک وہ دیکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
113اوران کی طرف مت جھکو جو ظالم ہیں پھر تمہیں بھی آگ چھوئے گی اور الله کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے پھر کہیں سے مدد نہ پاؤ گے
114اور دن کے دونو ں طرف اورکچھ حصہ رات کا نماز قائم کر بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے
115اور صبر کر بے شک الله نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا
116سو ان جماعتوں میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو تم سے پہلے تھیں جو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا اور جن لوگو ں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہیں لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھیں اور وہ مجرم تھے
117اور تیرا رب ہرگز ایسا نہیں جو بستیوں کو زبردستی ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیک ہوں
118اور اگر تیرا رب چاہتا تو سب لوگو ں کو ایک رستہ پر ڈال دیتا اور ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے
119مگر جس پر تیرے رب نے رحم کیا اور اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے اور تیرے رب کی یہ بات پوری ہو کر رہے گی کہ البتہ دوزخ کو اکھٹے جنوں اور آدمیوں سے بھر دوں گا
120اور ہم رسولوں کے حالات تیرے پاس اس لیے بیان کرتے ہیں کہ ان سے تیرے دل کو مضبوط کر دیں اور ان واقعات میں تیرے پاس حق بات پہنچ جائے گی اور ایمانداروں کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے
121اوران سے کہہ دو جو ایمان نہیں لاتے اپنے جگہ پر کام کیے جاؤ ہم بھی کام کرتے ہیں
122اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں
123اور آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ بات الله ہی جانتا ہے اور سب کام کا رجوع اسی کی طرف ہے پس اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھ اور تیرا رب بے خبر نہیں اس سے جو کرتے ہو
Chapter 12 (Sura 12)
1یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں
2ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں تمہارے سمجھنے کے لیے نازل کیا
3ہم تیرے پاس بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں اس واسطے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن بھیجا ہے اور تو اس سے پہلے البتہ بے خبروں میں سے تھا
4جس وقت یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے باپ میں گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو خواب میں دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں
5کہا اے بیٹا اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان مت کرنا وہ تیرے لیے کوئی نہ کوئی فریب بنا دیں گے شیطان انسان کا صریح دشمن ہے
6اوراسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدہ کرے گا اور تجھےخواب کی تعبیر سکھائے گا اور اپنی نعمتیں تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر پوری کرے گا جس طرح کہ اس سے پہلے تیرے باپ دادا ابراھیم اور اسحاق پر پوری کر چکا ہےبے شک تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے
7البتہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والو ں کے لیے نشانیاں ہیں
8جب انہوں نے کہا البتہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارا ہے حالانکہ ہم طاقتور جماعت ہیں بے شک ہمارا باپ صریح غلطی پر ہے
9یوسف کو مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک دو تاکہ باپ کی توجہ اکیلے تم پر رہے اور اس کے بعد نیک آدمی ہو جانا
10ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرواور اسے گمنام کنوئیں میں ڈال دو کہ اسے کوئی مسافر اٹھا لے جائے اگر تم کرنے ہی والے ہو
11انہوں نے کہااےباپ کیا بات ہے کہ تو یوسف پر ہمارا اعتبار نہیں کرتا اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں
12کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دے کہ وہ کھائے اور کھیلے اوربےشک ہم ا سکے نگہبان ہیں
13اس نے کہا مجھے اس سے غم ہوتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور اس سے ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے اورتم اس سے بے خبر رہو
14انہوں نے کہا اگر اسے بھیڑیا کھا گیا اور ہم ایک طاقتور جماعت ہیں بے شک ہم اس وقت البتہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے
15جب اسے لے کر چلے اور متفق ہوئے کہ اسے گمنام کنوئیں میں ڈالیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ تو ضرور انہیں ایک دن آگاہ کرے گا ان کے اس کام سے اور وہ تجھے نہ پہچانیں گے
16اور کچھ رات گئی اپنےباپ کے پاس روتے ہوئے آئے
17کہا اے ہمارے باپ ہم تو آپس میں دوڑنے میں مصروف ہوئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تب اسے بھیڑیا کھا گیا او رتو ہمارے کہنے پر یقین نہیں کرے گا اگرچہ ہم سچےہی ہوں
18اور اسی کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے اس نے کہا نہیں بلکہ تم نے دل سے ایک بات بنائی ہے اب صبر ہی بہتر ہے اورالله ہی سے مدد مانگتا ہوں اس بات پر جو تم بیان کر تے ہو
19اور ایک قافلہ آیا پھر انہوں نے اپنا پانی بھرنے والا بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکایا کہا کیا خوشی کی بات ہے یہ ایک لڑکا ہے اور اسے تجارت کا مال سمجھ کر چھپا لیا اور الله خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کر رہے تھے
20اسے بھائی ناقص قیمت پر بیچ آئے گنتی کی چونیوں پر اور اس سے بیزار ہو رہے تھے
21اور جس نے اسے مصر میں خرید کیا اس نے اپنی عورت سے کہا اس کی عزت کر شاید ہمارے کام آئے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں جگہ دی اور تاکہ ہم اسے خواب کی تعبیر سکھائیں اور الله اپنا کام جیت کر رہتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
22اور جب اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے حکم اور علم دیا اور نیکوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں
23اورجس عورت کے گھر میں تھا وہ اسے پھسلا نے لگی اور دروازے بند کر لیے اور کہنے لگی لو آؤ اس نے کہا الله کی پناہ وہ تو میرا آقا ہے جس نے مجھے عزت سے رکھا ہے بے شک ظالم نجات نہیں پاتے
24اور البتہ اس عورت نے تو اس پر ارادہ کر لیا تھا اور اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا تو اس کا اردہ کر لیتا اسی طرح ہوا تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ٹال دیں بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا
25اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے اس کا کرتہ پیچھے سےپھاڑ ڈالا اور دونوں نے عور ت کے خاوند کو دروازے کے پاس پایا کہنے لگی کہ جو تیرے گھر کے لوگوں سے برااردہ کرے اس کی تو یہی سزا ہے کہ قید کیا جائے یا سخت سزا دی جائے
26کہا یہی مجھ سے اپنا مطلب نکالنے کو پھسلاتی تھی اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے
27اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹاہوا ہے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے
28پھر جب عزیز نے اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا کہابے شک یہ تم عورتوں کا ایک فریب ہے بے شک تمہارا فریب بڑا ہوتا ہے
29یوسف تو اس سے درگزر کر اور تو اے عورت اپنے گنا ہ کی معافی مانگ کیوں کہ تو ہی خطا کار ہے
30اورعوتوں نے شہر میں چرچا کیا کہ عزیز کی عورت اپنے غلام کو چاہتی ہے بے شک اس کی محبت میں فریفتہ ہوگئی ہے ہم تو اسے صریح غلطی پر دیکھتے ہیں
31پھر جب عزیز کی بیوی نے ان کی ملامت سنی تو انہیں بھلا بھیجا اور ان کے واسطے ایک مجلس تیار کی اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چھری دی اور کہا ان کے سامنے نکل آ پھر جب انہوں نےاسے دیکھا تو حیرت میں رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور کہا الله پاک ہے یہ انسان تو نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے
32کہا یہی وہ ہے کہ جس کے معاملہ میں تم نے مجھےملامت کی تھی اور البتہ تحقیق میں نے اس سے دلی خواہش ظاہر کی تھی پھر اس نے اپنے آپ کو روک لیا اور اگر وہ میرا کہنا نہ مانے گا تو ضرور قید کر دیا جائے گا اور ذلیل ہو کررہے گا
33یوسف نے کہا اے میرے رب میرے لیے قید حانہ بہتر ہے اس کام سے کہ جس کی طرف مجھے بلا رہی ہیں اوراگر تو مجھ سے ان کا فریب دفع نہ کرے گا تو ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا
34پھر اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی پس ان کا فریب ان سے دور کر دیا گیا کیوں کہ وہی سننے والا جاننے والا ہے
35ان لوگو ں کو نشانیاں دیکھنے کے بعد یوں سمجھ میں آیا کہ اسے ایک مدت تک قید کر دیں
36اور اس کے ساتھ دو جوان قید خانہ میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں کہ اس میں سے جانور کھاتے ہیں ہمیں اس کی تعبیر بتلا ہم تجھے نیکو کار سمجھتے ہیں
37کہا جو کھانا تمہیں دیا جاتا ہے وہ ابھی آنے نہ پائے گا کہ اس سے پہلے میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا یہ ان چیزو ں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائی ہیں بے شک میں نے اس قوم کا مذہب ترک کر دیا ہے جو الله پرایمان نہیں لاتی اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں
38اور میں اپنے باپ دادا ابراھیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب کا تابع ہو گیا ہوں ہمیں یہ جائز نہیں کی اللہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک کریں یہ ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ کا فضل ہے لیکن بہت لوگ شکر نہیں کرتے
39اے قید خانہ کے رفیقو کیا کئی جدا جدا معبود بہتر ہیں یا اکیلا الله جو زبردست ہے
40تم اس کے سوا کچھ نہیں پوجتے مگر چند ناموں کو جو تم نے اور تمہارے باپ داداؤں نے مقرر کر لیے ہیں الله نے ان کے متعلق کوئی سند نہیں اتاری حکومت سوا الله کے کسی کی نہیں ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا راستہ ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے
41اے قید خانہ کے رفیقو تم دونوں میں سے ایک جو ہے وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا پھر اس کے سر میں سے پرندے کھائیں گے اس کام کا فیصلہ ہو گیا ہے جس کی تم تحقیق چاہتے تھے
42اوران دونو ں میں سے جسے شیطان نے اسے اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا پھر قید میں کئی برس رہا
43اور بادشاہ نے کہا میں خواب دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں انہیں سات دبلی گائی ں کھاتی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک اے دربار والو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دینے والے ہو
44انہوں نے کہا یہ خیالی خواب ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے
45اور وہ بولا جو ان دونو ں میں سے بچا تھا اور اسے مدت کے بعد یاد آ گیا میں تمہیں اس کی تعبیر بتلاؤں گا سو تم مجھے بھیج دو
46اے یوسف اے سچے ہمیں اس کی تعبیر بتلا کہ سات موٹی گایوں کو سات دبلی کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشےہیں اور سات خشک تاکہ میں لوگو ں کے پاس لے جاؤں شاید وہ سمجھ جائیں
47کہا تم سات برس لگاتار کھیتی کرو گے پھر جو کاٹو تو اسے اس کے خوشوں میں رہن ے دو مگر تھوڑا سا جو تم کھاؤ
48پھر اس کے بعد سات برس سختی کے آئيں گے جو تم نے ان کے لیے رکھا تھا کھا جائیں گے مگر تھوڑا سا جوتم بیج کے واسطے روک رکھو گے
49پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا اس میں لوگوں پر مینہ برسے گا اسمیں رس نچوڑیں گے
50اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لے آؤ پھر جب اس کے پاس قاصد پہنچا کہا اپنے آقا کے ہاں واپس جا اور اس سے پوچھ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بے شک میرا رب ان کے فریب سے خوب واقف ہے
51کہاتمہارا کیا واقعہ تھا جب تم نے یوسف کو پھسلایا تھا انہوں نے کہا الله پاک ہے ہمیں اس میں کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی عزیز کی عورت بولی اب سچی بات ظاہر ہو گئی میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا تھا اور وہ سچا ہے
52یہ اس لیے کیا تاکہ عزیز معلوم کر لے کہ میں نے اس کی غائبانہ خیانت نہیں کی تھی اوربے شک الله خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا
53اور میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا بے شک نفس تو برائی سکھاتاہے مگر جس پرمیرا رب مہربانی کرے بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے
54اور بادشاہ نے کہا کہ اسے میرے پاس لے آؤ تاکہ اسے خاص اپنے پاس رکھوں پھر جب اس سے بات چیت کی کہا بے شک تو آج سے ہمارے ہاں تو بڑا معزز اور معتبر ہے
55کہا مجھے ملکی خزانوں پر مامور کر دو بے شک میں خوب حفاظت کرنے والا جاننے والا ہوں
56اور ہم نے اس طور پر یوسف کو اس ملک میں بااختیار بنا دیا کہ اس میں جہاں چاہے رہےہم جس پر چاہیں اپنی رحمت متوجہ کر دیں اور ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے
57اور آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر ہے جو ایمان لائے اور پرہیزگاری میں رہے
58اور یوسف کے بھائی آئے پھر اس کے ہاں داخل ہوئے تواس نے انہیں پہچان لیا اور وہ پہچان نہیں سکے
59اور جب انہیں ان کا سامان تیار کر دیا کہا میرے پاس وہ بھائی بھی لے آنا جو تمہارے باپ کی طرف سے ہے تم نہیں دیکھتے میں ناپ پورا دیتا ہوں اوربڑا مہمان نواز ہوں
60پھر اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے پیمانہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس آنا
61انہوں نے کہا اس کے باپ سے خواہش کریں گے اور ہم یہ کر کے ہی رہیں گے
62اور اپنے خدمتگاروں سے کہہ دیا کہ ان کی پونجی ان کے اسباب میں رکھ دو تاکہ وہ اسے پہچانیں جب وہ لوٹ کر اپنےگھر جائیں شاید وہ پھر آجائیں
63پھر جب اپنے باپ کے ہاں پہنچے کہا اے باپ! ہمارا پیمانہ روک لیا گیا پس آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجیئے کہ ہم پیمانہ لائیں اور بے شک ہم اس کا نگہبان ہیں
64کہا میں تمہارا اس پرکیا اعتبارکروں مگر وہی جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی پر اعتبار کیا تھا سو الله بہتر نگہبان ہے اور وہ سب مہربانوں سے مہربان ہے
65اورجب انہوں نے اپنا اسباب کھولا انہوں نے اپنی پونجی پائی جو انہیں واپس کر دی گئی تھی کہا اے ہمارے باپ! ہمیں اور کیا چاہیئے یہ ہماری پونجی ہمیں واپس کر دی گئی ہے اور اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لائیں گے او راپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے اور یہ بوجھ ملنا آسان ہے
66کہا اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا یہاں تک کہ مجھے الله کا عہد دو کہ البتہ اسے میرے ہاں ضرور پہنچا دویں گے مگر یہ کہ تم سب گھر جاؤ پھر جب سب نے اسے عہد دیا کہا ہماری باتوں کا الله شاہد ہے
67اور کہا اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا اور مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور میں تمہیں الله کی کیسی بات سے بچا نہیں سکتا الله کے سوا کسی کا حکم نہیں ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اوربھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے
68اور جب کہ اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے حکم دیا تھا انہیں الله کی کسی بات سے کچھ نہ بچا سکتا تھا مگر یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جسے اس نے پورا کیا اور وہ تو ہمارے سکھلانے سے علم والا تھا لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے
69اور جب وہ یوسف کے پاس گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی کہا کہ بے شک میں تیرا بھائی ہوں پس جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس پر غم نہ کر
70پھر جب یوسف نے اس کا سامان تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں کٹورا رکھ دیا پھر پکارے نے والے نے پکارا اے قافلہ والو! بے شک تم البتہ چور ہو
71اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے
72انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ کا کٹورا نہیں ملتا جو اسے لا ئےگا ایک اونٹ بھر کا غلہ پائے گا اور میں اس کا ضامن ہوں
73انہوں نے کہا الله کی قسم تمہیں معلوم ہے ہم اس ملک میں شرارت کرنے کے لیے نہیں آئے اور نہ ہم کبھی چور تھے
74انہوں نے کہا پھر اس کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے نکلو
75انہوں نے کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کےاسباب میں سے پایا جائے پس وہی اس کے بدلہ میں جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیتے ہیں
76پھر یوسف نے اپنے بھائی کے اسباب سے پہلےان کے اسباب دیکھنے شروع کیے پھر وہ کٹورا اپنے بھائی کے اسباب سے نکالا ہم نے یوسف کو ایسی تدبیر بتائی تھی بادشاہ کے قانون سے تو وہ اپنے بھائی کو ہرگز نہ لے سکتا تھا مگر یہ کہ الله چاہے ہم جس کے چاہیں درجے بلند کرتے ہیں اور ہر ایک دانا سے بڑھ کر دوسرا دانا ہے
77انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی تب یوسف نے اپنے دل میں آہستہ سے کہا اور انہیں نہیں جتایا کہا تم درجے میں بدتر ہو اور الله خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کرتے ہو
78انہوں نے کہا اے عزیز! بے شک اس کا باپ بوڑھا بڑی عمر کا ہے سو اسکی جگہ ہم میں سے ایک کو رکھ لے ہم تم کو احسان کرنے والا دیکھتے ہیں
79کہا الله کی پناہ کہ ہم بجز اس کے جس کے پاس اپنا اسباب پایا کسی اور کو پکڑیں تب تو ہم بڑے ظالم ہیں
80پھر جب اس سےناامید ہوئے مشورہ کرنے کے لیے اکیلے ہو بیٹھے ان میں سے بڑے نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے الله کا عہد لیا تھا اور پہلے جویوسف کے حق میں قصور کر چکے ہو سو میں تو اس ملک سے ہرگز نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ میرا با پ مجھے حکم دے یا میرے لیے الله کوئی حکم فرمائے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
81تم اپنے باپ کے پاس لوٹ جاؤ اور کہو اے ہمارے باپ! تیرے بیٹے نے چوری کی اور ہم نے وہی کہا تھا جس کا ہمیں علم تھا اور ہمیں غیب کی خبر نہ تھی
82اوراس گاؤں سے پوچھ لیجیئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی جس میں ہم آئے ہیں اور بے شک ہم سچے ہیں
83کہا بلکہ تم نے دل سے ایک بات بنا لی ہے اب صبر ہی بہتر ہے الله سے امید ہے کہ شاید الله ان سب کو میرے پاس لے آئے وہی جاننے والا حکمت والا ہے
84اور اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید ہو گئیں پس وہ سخت غمگین ہوا
85انہوں نے کہا الله کی قسم تو یوسف کی یاد کو نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ نکما ہو جائے یا ہلاک ہوجائے
86کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کا اظہار الله ہی کے سامنے کرتا ہوں اور الله کی طرف سے میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
87اے میرے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور الله کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک الله کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں
88پھر جب وہ ان کے پاس آئے تو کہا اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو قحط کی وجہ سے بڑی تکلیف ہے اور کچھ نکمی چیز لائے ہیں سو آپ پورا غلہ بھر دیجیئے اورخیرات دیجئے بے شک الله خیرات دینے والوں کو ثواب دیتا ہے
89کہا تمہیں یاد ہے جو کچھ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھا جب تمہیں سمجھ نہ تھی
90کہا کیا تو ہی یوسف ہے کہا میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے الله نے ہم پر احسان کیابے شک جو ڈرتا ہے اور صبر کتا ہے تو الله بھی نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا
91انہوں نے کہا الله کی قسم البتہ تحقیق الله نے تمہیں ہم پر بزرگی دی اوربے شک ہم غلط کار تھے
92کہا آج تم پر کوئی الزام نہیں الله تمہیں بخشے اور وہ سب سے زیادہ مہربان ہے
93یہ کرتہ میرا لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے منہ پر ڈال دو کہ وہ بینا ہوجائے اور میرے پاس اپنے سب کنبے کو لے آؤ
94اور جب قافلہ روانہ ہوا تو ان کے باپ نے کہا بے شک میں یوسف کی بو پاتا ہوں اگر مجھے دیوانہ نہ بناؤ
95لوگو ں نے کہا الله کی قسم بے شک تو البتہ اپنی گمراہی میں مبتلا ہے
96پھر جب خوشخبری دینے والا آیا اس نے وہ کرتہ اس کے منہ پر ڈال دیا تو بینا ہو گیا کہا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں الله کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
97انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہمارے گناہ بحشوا دیجیئے بے شک ہم ہی غلط کار تھے
98کہا عنقریب اپنے رب سے تمہارے لی معافی مانگوں گا بے شک وہ غفور رحیم ہے
99پھر جب یوسف کے پاس آئے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو جاؤ اگر الله نے چاہا تو امن سے رہو گے
100اور اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور اس کے آگے سب سجدہ میں گر پڑے اور کہا اےباپ میرے اس پہلے خواب کی یہ تعبیر ہے اسے میرے رب نے سچ کر دکھایا اوراس نے مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید خانے سے نکالا اور تمہیں گاؤں سے لے آیا اس کے بعد کہ شیطان مجھ میں اورمیرے بھائیوں میں جھگڑا ڈال چکا بے شک میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے مہربانی فرماتا ہے بے شک وہی جاننے والا حکمت والا ہے
101اے میرے رب تو نے مجھےکچھ حکومت دی ہے اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بھی سکھلایا ہے اے آسمانو ں اور زمین کے بنانے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا کارساز ہے تو مجھے اسلام پر موت دے اور مجھے نیک بختوں میں شامل کر دے
102یہ غیب کی خبریں کہیں جو ہم تیرے ہاں بھیجتے ہیں اور تو ان کے پاس نہیں تھا جب کہ انہوں نے اپنا ارادہ پکا کر لیا اور وہ تدبیریں کر رہے تھے
103اور اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں خواہ تو کتنا ہی چاہے
104اور آپ اس پر ان سے کوئی مزدوری بھی تو نہیں مانگتے یہ تو صرف تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے
105اور آسمانوں اور زمین میں بہتی سی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ گزرتے ہیں اوران سے منہ پھیر لیتے ہیں
106اوران میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جو الله کو مانتے بھی ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں
107کیا اس سے بے خوف ہو چکے ہیں کہ انہیں الله کے عذاب کی ایک آفت آپہنچے یا اچانک قیامت ان پر آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو
108کہہ دو میرا اور میرے تابعداروں کا بصیرت کے ساتھ یہ راستہ ہے کہ میں لوگوں کو الله کی طرف بلا رہا ہوں اور الله پا ک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
109ااور تجھ سے پہلے ہم نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب بستیو ں کے رہنے و الے مرد ہی تھے ہم ان کی طرف وحی بھیجتے تھے پھر وہ زمین میں سیر کر کے کیوں نہیں دیکھتے کہ ان لوگو ں کا انجام کیا ہوا جوان سے پہلے تھے اور البتہ آخرت کا گھر پرہیز کرنے والوں کے لیے بہتر ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے
110یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہونے لگے اورخیال کیا کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تب انہیں ہماری مدد پہنچی پھر جنہیں ہم نے چاہا بچا لیا اور ہمارے عذاب کو نافرمانوں سے کوئی بھی روک نہیں سکتا
111البتہ ان لوگو ں کے حالات میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے کوئی بنائی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ اس کلام کے موافق ہے جو اس سے پہلے ہے اور ہر چیز کا بیان اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لاتے ہیں
Chapter 13 (Sura 13)
1یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور جو کچھ تجھ پر تیرے رب سے اترا سوحق ہے اورلیکن اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے
2الله وہ ہے جس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر بلند کیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو پھر عرش پر قائم ہوا اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہر ایک اپنے وقت معین پر چل رہا ہے وہ ہر ایک کام کاانتظام کرتا ہے نشانیاں کھول کر بتاتا ہے تاکہ تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کر لو
3اور اسی نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑاور دریا بنائے اور زمین میں ہر ایک پھل دوقسم کا بنایا دن کو رات سے چھپا دیتا ہے بے شک اس میں سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں
4اور زمین میں ٹکڑے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور انگور کے باغ ہیں اور کھیتیاں اور کھجوریں ہیں ایک کی جڑ ملی ہوئی بعض بن ملی انہیں پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے اور ہم ایک کو دوسرے پر پھلوں میں فضیلت دیتے ہیں بے شک اسمیں عقل مندوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں
5اگر تو عجیب بات چاہے تو ان کا یہ کہنا عجب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو گئے کیا نئے سرے سے بنائیں جائیں گے یہی وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہو گئے اور انہیں کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی دوزخی ہیں و ہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
6اور تجھ سے بھلائی سے پہلے برائی کو جلد مانگتے ہیں اور ان سے پہلے بہت سے عذاب سے گزر چکے ہیں اور بے شک تیرا رب لوگو ں کو باوجود ان کے ظلم کے معاف بھی کرتا ہے اور تیرے رب کا عذاب بھی سخت ہے
7اورکافر کہتے ہیں اس کے رب سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری تم تومحض ڈرانے والے ہوں اور ہر قوم کے لیے ایک رہبر ہوتا آیا ہے
8الله کو معلوم ہے کہ جو کچھ ہر مادہ اپنے پیٹ میں لیے ہوئے ہے اورجو کچھ پیٹ میں سکڑتا اور بڑھتا ہے اور اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ ہے
9پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے سب سے بڑا بلند مرتبہ ہے
10تم میں سے جو شخص کوئی بات چپکے سے کہے یا پکار کرکہے اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے یا دن میں چلے پھرے یہ سب برابر ہیں
11ہر شخص حفاظت کے لیے کچھ فرشتے ہیں اس کے آگے اورپیچھے الله کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں بے شک الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب الله کو کسی قوم کی برائی چاہتا ہے پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا
12وہی ہے جو تمہیں خوف یا امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بادلوں کو اٹھاتا ہے
13اور رعد ا سکی پاکی کے ساتھ ا سکی تعریف کرتا ہے اور سب فرشتے اس کے ڈر سے اور بجلیاں بھیجتا ہے پھر انہیں جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے اور یہ تو الله کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑی قوت والا ہے
14اسی کو پکارنا بجا ہے اوراس کے سوا جن لوگوں کو پکارتے ہیں وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آتے مگر جیسا کوئی پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے کہ اس کے منہ میں آجائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک نہیں پہنچتا اور کافروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی ہے
15اور چارو ناچار الله ہی کو آسمان والے اور زمین والے سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سائے بھی صبح اور شام
16کہو آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے کہہ دو الله کہو پھر کیا تم نے الله کے سوا ان چیزوں کو معبود نہیں بنا رکھا جو اپنے نفسوں کے نفع اور نقصان کےبھی مالک نہیں کہو کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتا ہے یا کہیں اندھیرا اور روشنی برابر ہو سکتے ہیں کیا جنہیں انہوں نے الله کا شریک بنا رکھا ہے انہو ں نے بھی الله کی مخلوق جیسی کوئی مخلوق بنائی ہے پھر مخلوق ان کی نظر میں مشتبہ ہو گئی ہے پیدا کرنے والااللہ ہے اور وہ اکیلا زبردست ہے
17اس نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے اپنی مقدار میں نالے بہنے لگے پھر وہ سیلاب پھولا ہوا جھاگ اوپر لایا اور جس چیز کو آگ میں زیور یا کسی اور اسباب بنانے کے لیے پگھلاتے ہیں اس پر بھی ویسا ہی جھاگ ہوتا ہے الله حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے پھر جو جھاگ ہے وہ یونہی جاتا رہتا ہے اور جو لوگوں کو فائدہ دے وہ زمین میں ٹھیر جاتا ہے اسی طرح الله مثالیں بیان فرماتا ہے
18جنہو ں نے اپنے رب کا حکم مانا ان کے واسطے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر ان کے پاس سارا ہو جو کچھ زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی او رہو تو سب جرمانہ میں دینا قبول کریں گے ان لوگو ں کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اوروہ برا ٹھکانا ہے
19بھلا جو شخص جانتا ہے کہ تیرے رب سے تجھ پر جو کچھ اترا ہے حق ہے اس کےبرابر ہو سکتا ہے جو اندھا ہے سمجھتے تو عقل والے ہی ہیں
20وہ لوگ جو الله کے عہد کو پوراکرتے ہیں اور اس عہد کو نہیں توڑتے
21اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کو الله نے فرمایا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں
22وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا مندی کے لیے صبر کیا اور نماز قائم کی اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا اور برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں انہیں کے لیے آخرت کا گھر ہے
23ہمیشہ رہنے کے باغ جن میں وہ خود بھی رہیں گے اور ان کے باپ دادا اوربیویوں اور اولاد میں سے بھی جو نیکو کار ہیں اور ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے
24کہیں گے تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے پھر آخرت کا گھر کیا ہی اچھا ہے
25اور جو لو گ الله کا عہد مضبوط کرنے کے بعد توڑ تے ہیں اور اس چیز کو توڑتے ہیں جسے الله نے جوڑنے کا حکم فرمایا اور ملک میں فساد کرتے ہیں ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے
26الله ہی جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ اور تنگ کرتا ہے اور دنیا کی زندگی پر خوش ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں کچھ نہیں مگر تھوڑاسا اسباب
27اور کافر کہتے ہیں اس پراس کے رب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری کہہ دو الله جس کو چاہتا ہے گمراہ کر دیتاہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے اپنے تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا ہے
28وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو الله کی یاد سے تسکین ہوتی ہے خبردار! الله کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں
29جو لوگ ایمان لائے او راچھے کام کیے ان کے لیے خوشخبری اور اچھا ٹھکانا ہے
30اسی طرح ہم نے تجھےایک امت میں بھیجا ہے کہ اس سے پہلے کئی امتیں گزرچکی ہیں تاکہ تو انہیں سناد ے جو ہم نے تیری طرف حکم بھیجا ہے اور وہ تو رحمنٰ کے منکر ہیں کہہ دو وہی میرا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے
31اور اگر تحقیق کوئی ایسا قرآن نازل ہوتا جس سے پہاڑ چلتے یا اس سے زمین کے ٹکڑے ہو جاتے یا اس سے مردے بول اٹھتے (تب بھی نہ مانتے) بلکہ سب کام الله کے ہاتھ میں ہیں پھر کیا ایمان والے اس بات سے نا امید ہو گئے ہیں کہ اگر الله چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کر دیتا اور کافروں پر تو ہمیشہ ان کی بداعمالی سے کوئی نہ کوئی مصیبت آتی رہے گی یا وہ بلا ان کے گھر کے قریب نازل ہوگی یہاں تک کہ الله کا وعدہ پورا ہو بے شک الله اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا
32اور تجھ سے پہلے کئی رسولوں سے ہنسی کی گئی ہے پھر میں نے کافروں کو مہلت دی پھر انہیں پکڑ لیا پھر ہمارا عذاب کیسا تھا
33بھلا جو ہر کسی کے سر پر لیے کھڑا ہے جو اس نے کیا ہے اور انہوں نے الله کے لیے شریک بنا رکھے ہیں کہہ دو ان کے نام بتلاؤ کیا الله کو وہ بات بتاتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا یا اوپر ہی کی باتیں کرتے ہو بلکہ کافروں کے فریب انہیں بھلے معلوم کرائے گئے ہیں اور وہ راستہ سے روکے گئے ہیں اور جسے الله گمراہ کرے پھر اسے کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں ہے
34ان کے لیے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے اور البتہ آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے اور انہیں الله سے بچانےوالا کوئی نہیں ہو گا
35اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں جس کے میوے اور سائے ہمیشہ رہیں گے یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آگ ہے
36اور وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اس سےخوش ہوتے ہیں جو تجھ پر نازل ہوا اور جماعتوں میں سے بعض لوگ اس کی بعضی بات نہیں مانتے کہہ دو مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ الله کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں اس کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے
37اور اسی طرح ہم نے یہ کلام اتارا کتاب عربی زبان میں اور اگرتو ان کی خواہش کے مطابق چلے بعد اس علم کے جو تجھے پہنچ چکا ہے تیرا الله سے کوئی حمایتی اور بچانے والا نہ ہوگا
38او رالبتہ تحقیق ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسول بھیجے اور ہم نے انہیں بیویاں اور اولاد بھی دی تھی اور کسی رسول کے اختیار میں نہ تھا کہ وہ الله کے حکم کے سوا کوئی معجزہ لاتا ہر زمانے کے مناسب احکام ہوتے ہیں
39الله جو چاہے موقوف کر دیتا ہے اور باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے
40اور اگر ہم تجھے کوئی وعدہ دکھا دیں جو ہم نے ان سے کیا ہے یا تجھے اٹھا لیں سوتیرے ذمہ تو پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے
41کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں اور الله حکم کرتاہے کوئی اس کے حکم کو ہٹا نہیں سکتا اور وہ جلد حساب لینے والا ہے
42اور ان سے پہلےلوگ بھی تدبیریں کر چکے ہیں سو اصل تدبیر تو الله ہی کی ہےجو کچھ کوئی کرتا ہے اسے سب خبر رہتی ہے اورابھی کافروں کو معلوم ہو جائے گا کہ نیک انجام کس کا ہے
43اور کہتے ہیں کہ تو رسول نہیں ہے کہہ دو میرے اور تمہارے درمیان الله گواہ کافی ہے اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے
Chapter 14 (Sura 14)
1یہ ایک کتا ب ہے ہم نے اسے تیری طرف نازل کیا ہے تاکہ تو لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف غالب تعرف کیے ہوئے راستہ کی طرف نکالے
2یعنی الله جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور کافروں پر افسوس کہ انہیں سخت عذاب ہونا ہے
3جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کرتے ہیں اور الله کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
4اور ہم نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکے پھر الله جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اوروہ غالب حکمت والا ہے
5اورالبتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دےکر بھیجا تھا کہاپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال اورانہیں الله کے دن یاد دلا بے شک اس میں ہر ایک صبر شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں ہیں
6اورجب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا الله کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تمہیں فرعون کی قوم سے چھڑا یا وہ تمہیں برا عذاب چکھاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اسمیں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی
7اور جب تمہارے رب نے سنا دیا تھا کہ البتہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے
8اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے کفر کرو گے تو الله بے پروا تعریف کیا ہوا ہے
9کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جوتم سے پہلے تھے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اورجو ان کے بعد ہوئے الله کےسوا جنہیں کوئی نہیں جانتا ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے پھرانہوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لوٹائے اور کہا ہم نہیں مانتے جو تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے اور جس دین کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہمیں تو اس میں بڑا شک ہے
10ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں الله میں شک ہے جس نے آسمان او زمین بنائے وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے کچھ گناہ بخشے اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے انہوں نے کہا تم بھی تو ہمارے جیسے انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان چیزوں سے روک دو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے رہے سو کوئی کھلا ہوامعجزہ لاؤ
11ان سے ان کے رسولوں نے کہا ضرور ہم بھی تمہارے جیسے ہی آدمی ہیں لیکن الله اپنے بندوں میں جس پر چاھتا ہے احسان کرتا ہے اور ہمارا کام نہیں کہ ہم الله کی اجازت کے سوا تمہیں کوئی معجزہ لا کر دکھائیں اور ایمان والوں کا بھروسہ اللهہی پر ہونا چاہیئے
12اور ہم کیوں الله پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اسی نے ہمیں (سیدھے) راستوں کی راہ نمائی کی ہے اور ہم ضرور صبر کریں گے اس ایذاپر جو تم ہمیں دیتے ہو اور توکل کرنے والوں کو الله ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے
13اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے یا ہمارے دین میں لوٹ آؤ تب انہیں ان کے رب نے حکم بھیجا کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دیں گے
14اور ان کے بعد اس زمین میں تمہیں آباد کر دیں گے یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور جس نے میرے عذاب سے خوف کھایا
15اور پیغمبروں نے فیصلہ چاہا اور ہر ایک سرکش ضدی نامراد ہوا
16اوراس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا
17جسے گھونٹ گھونٹ پیے گا اور اسے گلےسے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا اوراس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا
18ان کی مثال جنہوں نے اپنے رب سے انکار کیا ایسی ہے کہ ان کے اعمال گویا راکھ ہیں کہ جیسی آندھی کے دن ہوا اڑا کر لے گئی ہو جوکچھ انہوں نے کمایا تھا اس میں کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہ رہا ہویہ بھی بڑی دو رکی گمراہی ہے
19کیا تو نے نہیں دیکھا کہ الله نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے
20اور یہ الله پر کچھ مشکل نہیں ہے
21اوریہ سب الله کے سامنے کھڑیں ہوں گے تب کمزور متکبروں سے کہیں گے ہم تو تمہارے تابع تھے سوہمیں الله کے عذاب سے کچھ بچاؤ گے وہ کہیں گے اگر ہمیں الله ہدایت کرتا تو ہم تمہیں ہدایت کرتے اب ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں
22اور جب فیصلہ ہو چکے گا تو شیطان کہے گا بےشک الله نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اورمیں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا پھر میں نے وعدہ خلافی کی اور میرا تم پر اس کے سوا کوئی زور نہ تھا کہ میں نے تمہیں بلایا پھر تم نے میری بات کو مان لیا پھر مجھے الزام نہ دو اور اپنے آپ کو الزام دونہ میں تمہارا فریادرس ہوں اور نہ تم میرے فریاد رس ہو میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس سےپہلے مجھے شریک بناتے تھے بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے
23اور جو لوگ ایمان لائے تھے اورنیک کام کیے تھے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے آپس میں دعائے خیر ان کی سلام ہو گی
24کیاتو نےنہیں دیکھا کہ الله نے کلمہ پاک کی ایک مثال بیان کی ہے گویا وہ ایک پاک درخت ہے کہ جس کی جڑ مضبوط اور اس کی شاخ آسمان ہے
25وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل لاتا ہے اور الله لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں
26اور ناپاک کلمہ کی مثال ایک ناپاک درخت کی سی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے اسے کچھ ٹھیراؤ نہیں ہے
27الله ایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں سچی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالمو ں کو گمراہ کر تا ہے اور الله جوچاہتا ہے کرتا ہے
28کیاتو نے انہیں نہیں دیکھا کہ جنہوں نے الله کی نعمت کےبدلے میں ناشکری کی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا
29جو دوزخ ہے اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے
30اور لوگو ں نے الله کی راہ سے بہکانے کے لیے شریک بنا رکھے ہیں کہہ دو نفع اٹھا لو پھر تمہیں آگ کی طرف لوٹنا ہے
31میرے بندوں کو کہہ دو جو ایمان لائے ہیں نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کریں اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہے نہ دوستی
32الله وہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے تمہارے کھانے کو پھل نکالے اور کشتیاں تمہارے تابع کر دیں تاکہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی رہیں اور نہریں تمہارے تابع کر دیں
33اور سورج اور چاند کو تمہارے تابع کر دیا جو ہمیشہ چلنے والے ہیں اور تمہارے لیے رات اور دن کوتابع کیا
34اور جو چیز تم نے ان سے مانگی اس نے تمہیں دی اور اگر الله کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو انہیں شمار نہ کر سکو بے شک انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے
35اورجس وقت ابراھیم نے کہا اے میرے رب ! اس شہر کوامن والا کر دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا
36اے میرے رب! انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے پس جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہے اورجس نے نافرمانی کی پس تحقیق تو بخشنے والا مہربان ہے
37اے رب میرے ! میں نے اپنی کچھ اولاد ایسےمیدان میں بسائی ہے جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت والے گھر کے پاس اے رب ہمارے! تاکہ نماز کو قائم رکھیں پھرکچھ لوگو ں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں میووں کی روزی دے تاکہ وہ شکر کریں
38اے رب ہمارے! بے شک تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اورجو کچھ ظاہر کرتے ہیں اور الله پر کوئی چیز زمین اورآسمان میں پوشیدہ نہیں
39الله کا شکر ہے جس نے مجھے اتنی بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے بے شک میرا رب دعاؤں کا سننے والا ہے
40اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دے اے ہمارے رب! اورمیری دعا قبول فرما
41اے ہمارے رب! مجھے اورمیرے ماں باپ کو اور ایمانداروں کو حساب قائم ہونے کے دن بخش دے
42تو ہر گز خیال نہ کر کہ الله ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں انہیں صرف اس دن تک مہلت دے رکھی ہے جس میں نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی
43وہ سرا اٹھائے ہوئے دوڑتے چلے جارہے ہوں گے کہ ا ن کی نظر ان کی طرف ہٹ کرنہیں آوے گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے
44اور لوگوں کو اس دن سے ڈراوے کہ ان پر عذاب آئے گا تب ظالم کہیں گے اے رب ہمارے! ہمیں تھوڑی مدت تک مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا قبول کر لیں اور رسولوں کی پیروی کر لیں کیاتم نے پہلے قسم نہیں کھائی تھی کہ تمہیں کہیں جانا ہی نہیں ہے
45اور تم انہیں لوگو ں کی بستیوں میں آباد تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تمہیں معلوم ہو چکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا او رہم نے تمہیں سب قصے بتلائے تھے
46اور ان لوگو ں نے اپنی تدبیریں کی تھیں اوران کی تدبیریں الله کے سامنے تھیں اگرچہ ان کی تدبیریں ایسی تھی کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں
47پس الله کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا خیال نہ کریں بے شک الله زبردست بدلہ لینے والا ہے
48جس دن اس زمین میں سے اور زمین بدلی جائے گی اور آسمان بدلے جاویں گے اور سب کے سب ایک زبردست الله کے روبرو پیش ہوں گے
49اورتو اس دن گناہگاروں کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھے گا
50کرتےان کے گندھک کے ہوں گے اوران کے چہرو ں پر آگ لپٹی ہو گی
51تاکہ الله ہر شخص کو اس کے کیے کی سزا دے بے شک الله بڑی جلدی حساب لینے والا ہے
52یہ قرآن لوگو ں کے لیے اعلان ہے اور تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ڈرایا جائے اور تاکہ وہ معلوم کر لیں کہ وہی ایک معبود ہے اور تاکہ عقلمند نصیحت حاصل کریں
Chapter 15 (Sura 15)
1یہ آیتیں کتاب کی ہیں اور قرآن واضح کی
2کافر بڑی حسرت کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہو جاتے
3انہیں چھوڑ دو کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں اور انہیں آرزو بھلائے رکھے سو آئندہ معلوم کر لیں گے
4اور ہم نے جتنی بستیاں ہلاک کی ہیں ان سب کے لیے ایک مقرر وقت لکھا ہوا تھا
5کوئی قوم اپنے وقت مقرر سے نہ پہلے ہلاک ہوئی ہے نہ پیچھے رہی ہے
6اور انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے بے شک تو مجنون ہے
7اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے
8ہم فرشتہ تو فیصلہ ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں اور اس وقت انہیں مہلت نہیں ملے گی
9ہم نے یہ نصیحت اتار دی ہے اور بے شک ہم اس کے نگہبان ہیں
10اور تجھ سے پہلے ہم پہلی قوموں میں بھی رسول بھیج چکے ہیں
11اور وہ بھی جب کوئی رسول ان کے پاس آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا ہی کرتے
12اسی طرح ہم یہ ٹھٹھا ان مجرمو ں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں
13یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور یہ پہلوں کا دستور چلا آیا ہے
14اور اگر ہم ان پر آسمان سے دروازہ کھول دیں پھراس میں سے چڑھ جائیں
15البتہ کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی تھی بلکہ ہم پر جادو کیا گیا ہے
16او رالبتہ تحقیق ہم نے آسمان پر برج بنائے ہیں اور دیکھنے والو ں کی نطر میں اسے رونق دی ہے
17اور ہم نے اسے ہرشیطان مردود سے محفوظ رکھا
18مگر جس نے چوری سے سن لیا تو اس کے پیچھے چمکتا ہوا انگارہ پڑا
19اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس پر پہاڑ رکھ دیے اوراس میں ہر چیز اندازے سے اگائی
20اوراس میں تمہارے لیے روزی کے اسباب بنا دیئے اوران کے لیے بھی جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو
21او رہر چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں اورہم صرف اسے اندازہ معین پر نازل کرتے ہیں
22اور ہم نے بادل اٹھانے والی ہوائیں بھیجیں پھر ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر وہ تمہیں پلایا اور تمہارے پاس اس کا خزانہ نہیں ہے
23اور بے شک ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اورا خیر مالک بھی ہم ہی ہیں
24اور ہمیں تم میں سے اگلے او رپچھلے سب معلوم کر لیں
25اور بے شک تیرا رب ہی انہیں جمع کرے گا بے شک وہ حکمت والا خبردار ہے
26اور البتہ تحقیق ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے تھی پیدا کیا
27اور ہم نے اس سے پہلے جنوں کو آگ کے شعلے سے بنایا تھا
28اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کےسڑے ہوئے گارے کی ہو گی پیدا کرنے والا ہوں
29پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا
30پھر سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا
31مگر ابلیس نے انکار کیا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو
32فرمایا اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا
33کہا میں ایسا نہ تھا کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے کی تھی پیدا کیا ہے
34کہا تو آسمان سے نکل جا بے شک تو مردود ہو گیا
35اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت رہے گی
36کہا اے میرے رب! تو پھر مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے
37فرمایا بےشک تجھے مہلت ہے
38وقت معلوم کے دن تک
39کہا اے میرے رب! جیسا تو نے مجھے گمراہ لیا ہے البتہ ضرور ضرور میں زمین میں انہیں ان کے گناہوں کو مرغوب کر کے دکھاؤں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا
40سوائے تیرے ان بندوں کے جو ان میں مخلص ہو ں گے
41فرمایا یہ راستہ مجھ پر سیدھا ہے
42بے شک میرے بندوں پر تیرا کچھ بھی بس نہیں چلے گا مگر جو گمراہوں میں سے تیرا تابعدار ہوا
43اور بے شک ان سب کا وعدہ دوزخ پر ہے
44اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے ان کے الگ الگ حصے ہیں
45بے شک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں رہیں گے
46ان باغوں میں سلامتی اور امن سے جا کر رہو
47اور ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم وہ سب دور کر دیں گے سب بھائی بھائی ہوں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھنے والے ہوں گے
48انہیں وہاں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے
49میرے بندوں کو اطلاع دے کہ بےشک میں بحشنے والا مہربان ہوں
50اور بے شک میرا عذاب وہی دردناک عذاب ہے
51اور انہیں ابراھیم کے مہمانوں کا حال سنا دو
52جب اس کے گھر میں داخل ہوئے اور کہا سلام اس نے کہا بے شک ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے
53کہا ڈرو مت بے شک ہم تمہیں ایک دن لڑکے کی خوشخبری سناتے ہیں
54کہا مجھے اب بڑھاپے میں خوشخبری سناتے ہو سو کس چیز کی خوشخبری سناتے ہو
55انہوں نے کہا ہم نے تمہیں بھی سچی خوشخبری سنائی ہے سو تو نا امید نہ ہو
56کہا اپنے رب کی رحمت سے نا امید تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں
57کہا اے فرشتو! پھر تمہارا کیا مقصد ہے
58انہوں نے کہا ہم ایک نافرمان قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
59مگر لوط کے گھر والے کہ ہم ان سب کو بچا لیں گے
60مگر اس کی بیوی ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پیچھے رہنے والو ں میں سے ہے
61پھر جب لوط کے گھر فرشتے پہنچے
62کہا بے شک تم اجنبی لوگ ہو
63انہوں نے کہا بلکہ ہم تیرے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں وہ جھگڑتے تھے
64او رہم تیرے پاس پکی بات لائے ہیں اوربے شک ہم سچ کہتے ہیں
65پس تم اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے نکلو اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور چلے جاؤ جہاں تمہیں حکم ہے
66اور ہم نے لوط کو قطعی طور پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ صبح ہوتے ہی ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی
67اور شہر والے خوشیاں کرتے ہوئے آئے
68لوط نے کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں سو مجھے ذلیل نہ کرو
69اور الله سے ڈرو اور مجھے بے آبرو نہ کرو
70انہوں نے کہا کیاہم نے تمہیں دنیا بھر کی حمایت سے منع نہیں کیا ہے
71کہا یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کرنے والے ہو
72تیری جان کی قسم ہے وہ اپنی مستی میں اندھے ہو رہے تھے
73پھر دن نکلتے ہی انہیں ہولناک آواز نے آ لیا
74پھر ہم نے ان بستیوں کو زیرو زبر کر دیا اور ان پر کنکر کے پتھر برسائے
75بے شک اس واقعہ میں اہلِ بصیرت کے لیے نشانیاں ہیں
76اور بے شک یہ بستیاں سیدھے راستے پر واقع ہیں
77بے شک اس میں ایمانداروں کے لیے نشانیاں ہیں
78اوربن کے لوگ بھی بدکار تھے
79پھر ہم نےان سےبھی بدلہ لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلے راستہ پر واقع ہیں
80او ربے شک حجر والوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا
81اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں بھی دی تھیں پر وہ ان سے روگردانی کرتے تھے
82او وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں
83پھر انہیں صبح کے وقت سخت آواز نے آ پکڑا
84پھر ان کے دنیاوی ہنر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے
85اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کی درمیانی چیزوں کو بغیر حکمت کے پیدا نہیں کیا اور قیامت ضرور آنے والی ہے پر تو ان سے خوش خلقی کے ساتھ کنارہ کر
86بے شک تیار رب وہی پیدا کرنے والا جاننے والا ہے
87اور ہم نے تمہیں سات آیتیں دیں جو (نماز میں) دہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظمت والا دیا
88اور تو اپنی آنکھ اٹھا کر بھی ان چیزوں کو نہ دیکھ جو ہم نے مختلف قسم کے کافروں کو استعمال کے لیے دے رکھی ہیں اور ان پر غم نہ کر اور اپنے بازو ایمان والوں کے لیے جھکا دے
89اور کہہ دو بے شک میں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں
90جیسا ہم نے (عذاب) ان بانٹنے والو ں پر بھیجا ہے
91جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے
92پھر تیرے رب کی قسم ہے البتہ ہم ان سب سے سوال کریں گے
93اس چیز سے کہ وہ کرتے تھے
94سو تو کھول کر سنا دے جو تجھے حکم دیا گیا ہے اور مشرکوں کی پروا نہ کر
95بے شک ہم تیری طرف سے ٹھٹھا کرنے والوں کے لیے کافی ہیں
96اور جو الله کے ساتھ دوسرا خدا مقرر کرتے ہیں سو عنقریب معلوم کر لیں گے
97اور ہم جانتے ہیں کہ تیرا دل ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں
98سو تو اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ کیے جا اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو
99اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے
Chapter 16 (Sura 16)
1الله کا حکم آ پہنچا تم اس میں جلدی مت کرو وہ لوگو ں کے شرک سے پاک اور برتر ہے
2وہ اپنے بندوں سے جس کے پاس چاہتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر بھیج دیتا ہے یہ کہ خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں پس مجھ سے ڈرتے رہو
3اسی نے آسمان اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا ہے وہ ان کے شرک سے پاک ہے
4اسی نے آدمی کو ایک بوند سے پیدا کیا پھر وہ یکایک کھلم کھلا جھگڑنے لگا
5اور تمہارے واسطے چار پایوں کو بھی اسی نے بنایا ان میں تمہارے لیے جاڑے کابھی سامان ہے اوربھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے کھاتے بھی ہو
6اور تمہاے لیے ان میں زینت بھی ہے جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو
7اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر ان شہروں تک لے جاتے ہیں کہ جہاں تک تم جان کو تکلیف میں ڈالنے کے سوا نہیں پہنچ سکتے تھے بے شک تمہارا رب شفقت کرنے والا مہربان ہے
8اور گھوڑے خچر اور گدھے پیدا کیے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے اور وہ چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے
9اور الله تک سیدھی راہ پہنچتی ہے اور بعض ان میں ٹیڑھی بھی ہیں اور اگر الله چاہتا تو تم سب کو سیدھی راہ بھی دکھا دیتا
10وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی نازل کیا اسی میں سے پیتے ہو اور اسی سے درخت ہوتے ہیں جن میں چراتے ہو
11تمہارے واسطے اسی سے کھیتی اور زیتوں اورکھجوریں اورانگور اور ہر قسم کے میوے اگاتا ہے بے شک اس میں ان لوگو ں کے لیے نشانی ہے جو غور کرتے ہیں
12اور رات اور دن اور سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا ہے اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں بے شک اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں
13اور تمہارے واسطے جو چیزیں زمین میں رنگ برنگ کی پھیلائی ہیں ان میں لوگوں کے لیے نشانی ہے ہے جو سوچتے ہیں
14اور وہ وہی ہے جس نے دریا کو کام میں لگا دیا کہ اس میں تازہ گوشت کھاؤ اور اسی سے زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو اور تو اس میں جہازوں کو دیکھتا ہے کہ پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور تاکہ تم اس کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو
15اور زمین پر پہاڑوں کے بوجھ ڈال دیے تاکہ تمہیں لے کر نہ ڈگمگائے اور تمہارے لیے نہریں اور راستے بنا دیے تاکہ تم راہ پاؤ
16اور نشانیاں بنائیں اور ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں
17پھر کیا جو شخص پیدا کرے اس کے برابر ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرے کیا تم سوچتے نہیں
18اور اگر تم الله کی نعمتو ں کو گننے لگو تو ان کا شمار نہیں کر سکو گےبے شک الله بخشنے والا مہربان ہے
19اور الله جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتےہو
20اور جنہیں الله کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدانہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں
21وہ تو مردے ہیں جن میں جان نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے
22تمہارا معبود اکیلا معبود ہے پھر جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل نہیں مانتے اور وہ تکبر کرنے والے ہیں
23ضرور الله جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں بے شک وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
24اور جب ان سے کہا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے کہتے ہیں پہلے لوگوں کے قصے ہیں تاکہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائيں اورکچھ ان کے بوجھ جنہیں بے علمی سے گمراہ کرتے ہیں خبردار برا بوجھ ہے جواٹھاتے ہیں
25ان سے پہلےلوگوں نے بھی مکر کیا تھا پھر الله نے ان کی عمارت کو جڑوں سے ڈھا دیا پھر ان پر اوپر سے چھت گر پڑی اور ان پر عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر بھی نہ تھی
26پھر قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور کہے گا میرے شریک کہاں ہیں جن پر تمہیں بڑی ضد تھی جنہیں علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ بے شک آج کافروں کے لیے رسوائی اور برائی ہے
27یہ وہ لوگ ہیں کہ فرشتوں نے ان کی ایسی حالت میں روح نکالی تھی کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے
28پھر وہ صلح کا پیغام بھیجیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہ کرتے تھے کیوں نہیں بے شک الله کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے
29سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ رہو پس متکبرین کا کیا ہی برا ٹھکانہ ہے
30اور پرہیزگاروں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں اچھی چیز جنہوں نے نیکی کی ہے (ان کے لیے) اس دنیا میں بھی بہتری ہے اور البتہ آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے اور پرہیزگاروں کا کیا ہی اچھا گھر ہے
31ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جو چاہیں گے انہیں وہاں ملے گا الله پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دے گا
32جن کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں ایسے حال میں کہ وہ پاک ہیں فرشتے کہیں گے تم پر سلامتی ہو بہشت میں داخل ہو جاؤ بسبب ان کاموں کے جو تم کرتے تھے
33کیا اب اس کے منتظر ہیں کہ ان پر فرشتے آویں یا تیرے رب کا حکم آئے اسی طرح ان سے پہلوں نے بھی کیا تھا اور الله نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے
34پھر انہیں ان کے بد اعمال کے نتیجے مل کر رہے اورجس کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے وہی ان پر نازل ہوا
35اور مشرک کہتے ہیں اگر الله چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور اس کے حکم کے سوا ہم کسی چیز کو حرام نہ ٹھیراتے اسی طرح کیا ان لوگو ں نے جو ان سے پہلے تھے پھر رسولوں کے ذمہ تو صرف صاف پہنچا دینا ہے
36اور البتہ تحقیق ہم نے ہر امت میں یہ پیغام دے کر رسول بھیجا کہ الله کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو پھر ان میں سے بعض کو الله نے ہدایت دی اوربعض پر گمراہی ثابت ہوئی پھر ملک میں پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا
37اگر تو انہیں ہدایت پرلانے کی طمع کرے تو الله ہدایت نہیں دیتا اس شخص کو جسے گمراہ کر دے اور نہ ان کے لیے کوئی مددگار ہوگا
38اور الله کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ الله انہیں اٹھائے گا اس شخص کو جو مر جائے گا ہاں اس نے اپنے ذمہ پکا وعدہ کر لیا ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے
39تاکہ ان پر ظاہر کر دے وہ بات جس میں یہ جھگڑتے ہیں اور تاکہ کافر معلوم کر لیں کہ وہ جھوٹے تھے
40ہم جس کام کےکرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے ہمارا اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ ہم اسے کہہ دیں کہ ہو جا پھر ہو جاتا ہے
41اورجنہوں نے الله کے واسطے گھر چھوڑا اس کےبعد ان پر ظلم کیا گیا تھا تو البتہ ہم نے انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے کاش یہ لوگ سمجھ جاتے
42جو لوگ ثابت قدم رہے اور اپنے رب پر بھروسہ کیا
43اور ہم نے تجھ سے پہلے بھی تو انسان ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے سو اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہلِ علم سے پوچھ لو
44ہم نے انہیں معجزات اور کتابیں دے کر بھیجا تھا اور ہم نے تیری طرف قرآن نازل کیا تاکہ لوگو ں کے لیے واضح کر دے جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اور تاکہ وہ سوچ لیں
45پس کیا وہ لوگ نڈر ہو گئے ہیں جو برے فریب کرتے ہیں اس سے کہ الله انہیں زمین میں دھنسا دے یاان پر عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہو
46یا انہیں چلتے پھرتے پکڑے پس وہ عاجز کرنے والے نہیں ہیں
47یا انہیں ڈرانے کے بعد پکڑے پس تحقیق تمہارا رب نہایت ہی شفیق رحم کرنے والا ہے
48کیا وہ الله کی پیدا کی ہوئی چیزوں کونہیں دیکھتے کہ کے سائے دائیں اوربائیں طرف جھکے جارہے ہیں اور نہایت عاجزی کے ساتھ الله کو سجدہ کررہے ہیں
49اور جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں سے اور فرشتے سب الله ہی کو سجدہ کرتے ہیں اوروہ تکبرنہیں کرتے
50وہ اپنے بالادست رب سے ڈرتے ہیں اور انہیں جو حکم دیا جاتا ہے وہ بجا لاتے ہیں
51الله نے کہا ہے دو معبود نہ بناؤ وہ ایک ہی معبود ہے پھر مجھ ہی سے ڈرو
52اوراسی کا ہے جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور عبادت اسی کی لازم ہے پھرکیا الله کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو
53اور تمہارے پاس جو نعمت بھی ہے سو الله کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تواسی سے فریاد کرتے ہو
54پھر جب تم سے تکلیف دور کر دیتا ہےتو فوراً تم میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شریک بنانے لگتی ہے
55تاکہ جو نعمتیں ہم نےانہیں دی تھیں ان کی ناشکری کریں خیر نفع اٹھالو آ گے چل کر معلوم کر لو گے
56اور جنہیں وہ جانتے بھی نہیں ان کے لیے ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے ایک حصہ مقرر کرتے ہیں الله کی قسم البتہ تم سے ان بہتانوں کی ضرور باز پرس ہوگی
57اور الله کے لیے بیٹیاں ٹھیراتے ہیں وہ اس سے پاک ہے اور اپنے لیے جو دل چاہتا ہے
58اور جب ان میں سے کسی کی بیٹی کی خوشخبری دی جائے اس کا منہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غمگین ہوتا ہے
59اس خوشخبری کی برائی باعث لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے آیا اسے ذلت قبول کر کے رہنے دے یااس کو مٹی میں دفن کر دے دیکھو کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں
60جو آخرت کو نہیں مانتے ان کی بری مثال ہے اور الله کی شان سب سے بلند ہے اور وہی زبردست حکمت والا ہے
61اور اگر الله لوگوں کوانکی بے انصافی پر پکڑے تو زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے لیکن ایک مدت مقرر تک انہیں مہلت دیتا ہے پھر جب ان کا وقت آتا ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اورنہ آگے بڑھ سکتے ہیں
62اور اللهکے لیے وہ چیزیں تجویز کرتے ہیں جنہیں آپ بھی پسند نہیں کرتے اورزبان سے جھوٹے دعوے کرتے ہیں کہ آخرت کی بھلائی انہیں کے لیے ہے اسمیں شک نہیں کہ ان کے لیے آگ ہے اور بے شک وہ سب سے پہلے دوزخ میں بھیجے جائیں گے
63الله کی قسم ہے! ہم نے تجھ سے پہلے بھی قوموں میں رسول بھیجے تھے پھر شیطان نے لوگوں کو ان کی بداعمالیاں اچھی کر دکھائیں سو آج بھی ان کا وہی دوست ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
64اور ہم نے اسی لیے تجھ پر کتاب اتاری ہے کہ تو انہیں وہ چیز کھول کر سنا دے جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں اور ایمانداروں کے لیے ہدایت اور رحمت بھی ہے
65اور الله نے آسمان سے پانی اتارا پھراس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیا اس میں ان لوگو ں کے لیے نشانی ہے جو سنتے ہیں
66اوربے شک تمہارے لیے چارپایوں میں سوچنے کی جگہ ہے ہم نےان کے جسم سے خون او رگوبر کے درمیان خالص دودھ پیدا کردیتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے
67اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے نشہ اور اچھی غذا بھی بناتے ہو اس میں لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سمجھتے ہیں
68اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان چھتوں میں گھر بنائے جو اس کے لیے بناتے ہیں
69پھر ہر قسم کے میوں سے کھا پھر اپنے رب کی تجویز کردہ آسان راہوں پر چل ان کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے بے شک اس میں ان لوگو ں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے ہیں
70اور الله نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں مارتاہے اور کوئی تم میں سے نکمی عمر تک پہنچایا جاتا ہے جو سمجھ دار ہونے کے بعد نادان ہو جاتا ہے بےشک الله جاننے والا قدرت والا ہے
71اور الله نے تم میں سے بعض کو بعض پر روزی میں فضیلت دی پھر جنہیں فضیلت دی گئی وہ اپنے حصہ کا مال اپنے غلاموں کو دینےو الے نہیں کہ وہ اس میں برابر ہو جائیں پھر کیا الله کی نعمت کا انکار کرتے ہیں
72اور الله نے تمہارے واسطے تمہاری ہی قسم سے عورتیں پیدا کیں اور تمہیں تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے دیئے اور تمہیں کھانے کے لیے اچھی چیزیں دیں پھرکیا جھوٹی باتیں تو مان لیتے ہیں اور الله کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں
73اور الله کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں ارو زمین سے انہیں رزق پہنچانے میں کچھ بھی اختیارنہیں رکھتے اور نہ رکھ سکتے ہیں
74پس الله کے لئے مثالیں نہ گھڑو بے شک الله جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
75الله ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام ہے کسی دوسرے کی ملک میں جو کسی چیز کا اختیارنہیں رکھتا اور ایک دوسرا آدمی ہے جسے ہم نے اچھی روزی دے رکھی ہے اور وہ ظاہر اور پوشیدہ اسے خرچ کرتا ہے کیا دونوں برابر ہیں سب تعریف الله کے لیے ہے مگر اکثر ان میں سے نہیں جانتے
76اور الله ایک او رمثال دو آدمیوں کی بیان فرماتا ہے ایک ان میں سے گونگا ہے کچھ بھی نہیں کر سکتااور اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے جہاں کہیں اسے بھیجے اس سے کوئی خوبی کی بات بن نہ آئے کیا یہ اور وہ برابر ہے جو لوگوں کو انصاف کا حکم دیتا ہے اور وہ خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے
77اور آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں تو الله ہی کو معلوم ہیں اور قیامت کا معاملہ تو ایسا ہے جیسا آنکھ کا جھپکنا یا اس سےبھی قریب تر بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
78اور الله نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے نکالا تم کسی چیز کو نہ جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تاکہ تم شکر کرو
79کیا پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ آسمان کی فضا میں تھمے ہوئے ہیں انہیں الله کے سوا کون تھامے ہوئے ہے بے شک اس میں بھی ایمانداروں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں
80اور الله نے تمہارے گھروں کو تمہارے لیے آرام کی جگہ بنایا ہے اور تمہارے لیے چارپایوں کی کھالوں سے خیمے بنائے جنہیں تم اپنے سفر اور قیام کے دن ہلکے پاتے ہو اوربھیڑوں کی اون سے اور اونٹوں کی روؤں سے اوربکریوں کے بالوں سے کتنے ہی سامان اور مفید چیزیں وقت مقرر تک کے لیے بنا دیں
81اور الله نے تمہارے لیے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائےبنا دیئے اور تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں بنا دیں اور تمہارے لیے کرتے بنا دیئے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور زرہیں جو تمہیں لڑائیں میں بچاتی ہیں اسی طرح الله اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار ہو جاؤ
82پھربھی اگر نہ مانیں تو تم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینا ہی ہے
83وہ الله کی نعمتیں پہچانتے ہیں پھر منکر ہو جاتے ہیں اوراکثر ان میں سے ناشکر گزار ہیں
84اور جس دن ہم ہر قوم میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے پھر نہ کافروں کو اجازت دی جائے گی اورنہ ان کا کوئی عذر قبول کیا جائے گا
85اور جب ظالم عذاب دیکھیں گے پھر نہ ان سے ہلکا کیا جائے گا اورنہ انہیں مہلت دی جائے گی
86اور جب مشرک اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب! یہی ہمارے شریک ہیں جنہیں ہم تیرے سوا پکارتے تھے پھر وہ انہیں جواب دیں گے کہ تم سراسر جھوٹے ہو
87اور وہ اس دن الله کے سامنے سر جھکا دیں گے اور بھول جائیں گے وہ جو جھوٹ بناتے تھے
88جو لوگ منکر ہوئے اور الله کی راہ سے روکتے رہے ہم ان پر عذاب پر عذاب بڑھاتے جائیں گے بسبب اس کے کہ وہ فساد کرتے تھے
89اور جس دن ہر ایک گروہ میں سے ان پر انہیں میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے اور ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا کافی بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدات اور رحمت اور خوشخبری ہے
90بے شک الله انصاف کرنے کا اوربھلائی کرنے کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے اوربے حیائی اوربری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو
91اور الله کا عہد پورا کرو جب آپس میں عہد کرو اور قسموں کو پکاکرنے کے بعد نہ توڑو حالانکہ تم نے الله کو اپنے اوپر گواہ بنا یا ہے بے شک الله جانتا ہے جو تم کرتے ہو
92اور اس عورت جیسے نہ بنو جواپنا سوت محنت کے بعد کاٹ کر توڑ ڈالے کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ بنانے لگو محض اس لیے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے الله اس میں تمہاری آزمائش کرتا ہے اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو الله اسے ضرور قیامت کے دن ظاہر کردے گا
93اور اگر الله چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا اورلیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے اور جسے چاہتاہے ہدایت دیتا ہے اور البتہ تم سے پوچھا جائے گا کہ کیا کرتےتھے
94اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ نہ بناؤ کبھی قدم جمنے کے بعد پھسل نہ جائے پھر تمہیں اس سبب سے کہ تم نے راہِ خدا سے روکا تکلیف اٹھانی پڑے اور تمہیں بڑا عذاب ہو
95اور الله سے عہد کو تھوڑے سے داموں پر نہ بیچو جو کچھ الله کے ہاں ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
96جو تمہارے پاس ہے ختم ہو جائے گا اور جو الله کے پاس ہے کبھی ختم نہ ہوگا اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے اچھے کاموں کا جو کرتے تھے ضرور بدلہ دیں گے
97جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو ہم اسے ضروراچھی زندگی بسر کرائیں گے اور ان کا حق انہیں بدلےمیں دیں گے انکےاچھے کاموں کے عوض میں جو کرتے تھے
98سو جب تو قرآن پڑھنے لگے تو شیطان مردود سے الله کی پناہ لے
99اس کا زور ان پرنہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں
100اس کا زور تو انہیں پر ہے جو اسے دوست بناتے ہیں اور جو الله کے ساتھ شریک مانتے ہیں
101اورجب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری بدلتے ہیں اور الله خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے تو کہتے ہیں کہ تو بنا لاتا ہے یہ بات نہیں لیکن اکثر ان میں سے نہیں سمجھتے
102تو کہہ دے اسےتیرے رب کی طرف سے پاک فرشتے نے سچائی کے ساتھ اتارا ہے تاکہ ایمان والوں کے دل جما دے اور فرمانبرداروں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے
103اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ جس کی طرف نسبت کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے
104وہ لوگ جنہیں الله کی باتوں پر یقین نہیں الله بھی انہیں ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
105جھوٹ تو وہ لوگ بناتے ہیں جنہیں الله کی باتوں پر یقین نہیں اور وہی لوگ جھوٹے ہیں
106جو کوئی ایمان لانے کے بعد الله سے منکر ہوا مگر وہ جو مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور لیکن وہ جو دل کھول کر منکر ہوا تو ان پر الله کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے
107یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر محبوب بنایا اور نیز اس لیے کہ الله کافروں کو ہدایت نہیں دیتا
108یہ وہی ہیں کہ الله نے ان کے دلوں پر اورکانوں پر اور آنکھوں پر مہر کر دی اور وہی غافل بھی ہیں
109ضرور وہی لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں
110پھر بے شک تیرا رب ان کے لئے جنہوں نےمصیبت میں پڑنے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور صبر کیا بے شک تیرارب ان باتو ں کے بعد بحشنے والا مہربان ہے
111ٰجس دن ہر شخص اپنے ہی لیے جھگڑتا ہو آئے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اوران پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا
112اور الله ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جہاں ہر طرح کا امن چین تھا اس کی روزی بافراغت ہر جگہ سے چلی آتی تھی پھر الله کےاحسانوں کی ناشکری کی پھر الله نے ان کے برے کاموں کے سبب سے جو وہ کیا کرتے تھے یہ مزہ چکھایا کہ ان پر فاقہ اور خوف چھا گیا
113اور البتہ ان کے پاس انہیں میں سے رسول بھی آیا مگر انہوں نے اسے جھٹلایا پھر انہیں عذاب نے آ پکڑا ایسے حال میں کہ وہ ظالم تھے
114پھر تمہیں جو الله نے حلال طیب روزی دی ہے کھاؤ اور الله کے احسان کا شکر کرو اگر تم صرف اسی کو پوجتے ہو
115تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت حرام کیا ہے اوروہ چیز بھی جو الله کے سوا کسی اور کے نام سے پکاری گئی ہو پھر جوبھوک کے مارے بیتاب ہو جائے نہ وہ باغی ہو اورنہ حد سے گزرنے والا توالله بخشنے والا مہربان ہے
116اور اپنی زبانوں سے جھوٹ بنا کر نہ کہو کہ یہ حلا ل ہے اوریہ حرا م ہے تاکہ الله پر بہتان باندھو بے شک جو الله پر بہتان باندھتے ہیں انکا بھلانہ ہوگا
117تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں اوران کے لیے دردناک عذاب ہے
118اورجو لوگ یہودی ہیں ہم نے ان پر حرا م کی جو تجھے پہلے سنا چکے ہیں اورہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے
119پھر تیرا رب ان کے لیے جو جہالت سے برے کام کرتے رہے پھر اس کے بعد انہوں نے توبہ کر لی اور سدھر گئے بے شک تیرا رب اس کے بعد البتہ بخشنے والا مہربان ہے
120بے شک ابراہیم ایک پوری امت تھا الله کا فرمانبردار تمام راہوں سے ہٹا ہوا اور مشرکوں میں سے نہ تھا
121اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والا اسے الله نے چن لیا اور اسے سیدھی راہ پر چلایا
122اور ہم نے اسے دنیا میں بھی خوبی دی تھی اور وہ آخرت میں بھی اچھے لوگو ں میں ہو گا
123پھر ہم نے تیرے پاس وحی بھیجی کہ تمام راہوں سے ہٹنے والے ابراہیم کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا
124ہفتہ کا دن انہی پر مقرر کیا گیا تھا جو اس میں اختلاف کرتےتھے او رتیرا رب ان میں قیامت کےدن فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے
125اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے
126اور اگر بدلہ لو تو اتنا بدلہ لو جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے اور اگر صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے
127اورصبر کر اور تیرا صبر کرنا الله ہی کی توفیق سے ہے اور ان پر غم نہ کھا اور ان کے مکروں سے تنگ دل نہ ہو
128بے شک الله ان کے ساتھ ہے جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکی کرتے ہیں
Chapter 17 (Sura 17)
1وہ پاک ہے جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے والا دیکھنے ولا ہے
2اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ
3اے ان کی نسل جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا بے شک وہ شکر گزار بندہ تھا
4اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بات بتلا دی تھی کہ تم ضرور ملک میں دو مرتبہ خرابی کرو گے اوربڑی سرکشی کرو گے
5پھر جب پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے بھیجے پھر وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے اور الله کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا
6پھر ہم نے تمہیں دشمنوں پر غلبہ دیا اور تمہیں مال اور اولاد میں ترقی دی اور تمہیں بڑی جماعت والا بنا دیا
7اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لیےکی اور اگر برائی کی تو وہ بھی اپنے ہی لیےکی پھر جب دوسرا وعدہ آیا تاکہ تمہارے چہروں پر رسوائی پھیر دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح پہلی بار گھس گئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں اس کا ستیاناس کر دیں
8تمہارا رب قریب ہے کہ تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور ہم نے دوزخ کو کافروں کے لیے قید خانہ بنایا ہے
9بے شک یہ قرآن وہ راہ بتاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتاہے ان کے لیے بڑا ثواب ہے
10اور یہ بھی بتاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے
11اور انسان برائی مانگتا ہے جس طرح وہ بھلائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز ہے
12اور ہم نے رات اور دن کے دو نمونے بنا دیے پھر رات کے نمونے کو دھندلا کر دیا اور دن کا نمونہ نظر آنے کے لیے روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لو اور ہم نے ہر چیز کی تفصیل کر دی
13اور ہم نے ہر آدمی کا نامہ اعمال اس کی گردن کےساتھ لگادیا ہے اور قیامت کے دن ہم اس کا نامہ اعمال نکال کر سامنے کردیں گے
14اپنا نامہ اعمال پڑھ لے آج اپنا حساب لینے کے لیے تو ہی کافی ہے
15جو سیدھے راستے پر چلا تو اپنے ہی لیے چلا اور جو بھٹک گیا تو بھٹکنے کا نقصان بھی وہی اٹھائے گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے
16اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے دولتمندوں کو کوئی حکم دیتے ہیں پھر وہ وہاں نافرمانی کرتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ہم اسے برباد کر دیتے ہیں
17اور نوح کے بعد ہم نےقوموں کے کئی دور ہلاک کر دیئے ہیں اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کا جاننے والا دیکھنے والا کافی ہے
18جو کوئی دنیا چاہتا ہے تو ہم اسے سردست دنیا میں سے جس قدر چاہتے ہیں دیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہوکر رہے گا
19اورجو آخرت چاہتا ہے اوراس کے لیے مناسب کوشش بھی کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہو گی
20ہم ہر فریق کو اپنی پروردگاری بخششوں سے مدد دیتے ہیں ان کو بھی اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں
21دیکھو ہم نے ایک کو دوسرے پر کیسی فضیلت دی ہے اور آخرت کے تو بڑے درجے اوربڑی فضیلت ہے
22الله کے ساتھ اور کوئی معبود نہ بنا ورنہ تو ذلیل بے کس ہو کر بیٹھے گا
23اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو
24اوران کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سےپالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما
25جو تمہارے دلوں میں ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے اگر تم نیک ہو گے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے
26اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو
27بے شک بیجا خرچ کرنے والے شیطانو ں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکر گزار ہے
28اوراگر تجھے اپنے رب کے فضل کے انتظار میں کہ جس کی تجھے امید ہے منہ پھیرنا پڑے تو ان سے نرم بات کہہ دے
29اور اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ بندھا ہوانہ رکھ اور نہ اسے کھول دے بالکل ہی کھول دینا پھر تو پشیمان تہی دست ہو کر بیٹھ رہے گا
30بے شک تیرا رب جس کے لئے چاہے رزق کشادہ کر تا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے بے شک وہ اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا ہے
31اور اپنی اولاد کو تنگدستی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی بے شک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے
32اور زنا کے قریب نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے
33اور جس جان کو قتل کرنا الله نے حرام کر دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرنا اور جو کوئی ظلم سے مارا جائے تو ہم نے اس کے ولی کے واسطے اختیار دے دیا ہے لہذاا قصاص میں زيادتی نہ کرے بے شک اس کی مدد کی گئی ہے
34اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر جس طریقہ سے بہتر ہو جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور عہد کو پورا کرو بے شک عہد کی بازپرس ہو گی
35اور ناپ تول کر دو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تول کر دو یہ بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے
36اورجس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ بے شک کان اورآنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہو گی
37اور زمین پر اتراتا ہوا نہ چل بے شک تو نہ زمین کو پھاڑ ڈالے گا او رنہ لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا
38ان میں سے ہر ایک بات تیرے رب کے ہاں ناپسند ہے
39یہ اس حکمت میں سے ہے جسے تیرے رب نے تیری طرف وحی کیا ہے اور الله کے ساتھ اور کسی کو معبود نہ بنا ورنہ تو ملزم مردود بنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا
40کیا تمہارے رب نے تمہیں چن کر بیٹے دے دیئے اور اپنے لئےفرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا تم بڑی بات کہتے ہو
41اور ہم نے اس قرآن میں کئی طرح سے بیان کیا تاکہ وہ سمجھیں حالانکہ اس سے انہیں نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے
42کہہ دو اگر اس کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے جیسا وہ کہتے ہیں تب تو انہوں نے عرش والے تک کوئی راستہ نکال لیا ہوتا
43وہ پاک ہے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے وہ بہت ہی بلند ہے
44ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ایسی کوئی چیز نہیں جو ا سکی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بے شک وہ بردبار بخشنے والا ہے
45اورجب تو قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگو ں کے درمیان جو آخرت کو نہیں مانتے ایک چھپا ہو ا پردہ کر دیتے ہیں
46اور ہم نے ان کے دلو ں پر پردے کر دیے ہیں تاکہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے اور جب تو قرآن میں صرف اپنے رب ہی کا ذکر کرتا ہے تو پیٹھ پھیر کر کفرت سے بھاگتے ہیں
47ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں جب یہ لوگ تیری طرف کان لگاتے ہیں اور جس وقت آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم محض ایسے شخص کا ساتھ دیتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے
48دیکھ تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں سو گمراہ ہو گئے پھر وہ راستہ نہیں پا سکتے
49اور کہتے ہیں کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں گے پھر نئے بن کر اٹھیں گے
50کہہ دو تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ
51یا کوئی اور چیز جسے تم اپنے دلوں میں مشکل سمجھتے ہو پھر وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون لوٹائے گا کہہ دو وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے پھر تمہارے سامنے سروں کو ہلاکر کہیں گے کہ وہ کب ہو گا کہہ دو شاید وہ وقت بھی قریب آ گیا ہو
52جس دن تمہیں پکارے گا پھر اس کی تعریف کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور خیال کرو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے تھے
53اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو بےشک شیطان آپس میں لڑا دیتا ہے بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
54تمہارا رب خوب جانتا ہے اگر چاہے تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تمہیں عذاب دے او رہم نے تجھے ان پر ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا
55اور تیرا رب خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت دی ہے او رہم نے داؤد کو زبور دی تھی
56کہہ دو انہیں پکارو جنہیں تم اس کے سوا سمجھتے ہو وہ نہ تمہاری تکلیف دور کر سکیں گے اور نہ اسے بدلیں گے
57وہ لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں جو ان میں سے زیادہ مقرب ہیں وہ بھی اپنے رب کی طرف نیکیوں کا ذریعہ تلاش کرتے ہیں اور اس کی مہربانی کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بےشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے
58اور ایسی کوئی بستی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا اسے سخت عذاب نہ دیں یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے
59اور ہم نے اس لیےمعجزات بھیجنے موقوف کر دیےکہ پہلوں نے انہیں جھٹلایا تھا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی کا کھلا ہوا معجزہ دیا تھا پھر بھی انہوں نے اس پر ظلم کیا اور یہ معجزات تو ہم محض ڈرانے کے لیے بھیجتے ہیں
60اور جب ہم نے تم سے کہہ دیا کہ تیرے رب نے سب کو قابو میں کر رکھا ہے اور وہ خواب جو ہم نے تمہیں دکھایا اور وہ خبیث درخت جس کا ذکر قرآن میں ہے ان سب کو ان لوگو ں کے لیے فتنہ بنا دیا اور ہم تو انہیں ڈراتے ہیں سو اس سے ان کی شرارت اوربھی بڑھتی جاتی ہے
61اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب سجدہ میں گر پڑے کہا کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسےتو نے مٹی بنایا ہے
62کہا بھلا دیکھ تو یہ شخص جسے تو نے مجھ سے بڑھایا اگرتو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بھی سوائے چند لوگوں کے اس کی نسل کو قابو میں کر کے رہونگا
63فرمایا جا۔ پھر ان میں سے جو کوئی تیرے ساتھ ہوا تو جہنم تم سب کی پوری سزا ہے
64ان میں سے جسے تو اپنی آواز سنا کر بہکا سکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے بھی چڑھا دے اوران کے مال اور اولاد میں بھی شریک ہو جا اور ان سے وعدے کر اور شیطان کے وعدے بھی محض فریب ہی تو ہیں
65بے شک میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہو گا اور تیرا رب کافی کارساز ہے
66تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو بے شک وہی تم پر بڑا مہربان ہے
67اور جب تم پر دریا میں کوئی مصیبت آتی ہے تو بھول جاتے ہو جنہیں الله کے سوا پکارتے تھےپھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے
68پھر کیا تم اس بات سے نڈر ہو گئے کہ وہ تمہیں خشکی کی طرف لاکر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے پھر تم کسی کو اپنا مددگار نہ پاؤ
69یا تم اس بات سے بالکل نڈر ہو گئے ہو کہ وہ دوبارہ تمہیں پھر دریا میں لوٹا لائے پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے پھر تمہاری ناشکری سے تمہیں غرق کر دے پھر اپنی طرف سے ہم پر کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہ پاؤ
70اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے اور خشکی اور دریا میں اسے سوار کیا اور ہم نے انہیں ستھری چیزو ں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت عطا کی
71جس دن ہم ہر فرقہ کو ان کے سرداروں کے ساتھ بلائیں گے سوجسے اس کا اعمال نامہ ا سکے داہنے ہاتھ میں دیا گیا سو وہ لوگ اپنا اعمال نامہ پڑھیں گے اور وہ تاگے کے برابر ظلم نہیں کئے جائیں گے
72اور جو کوئی اس جہان میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا اور راستہ سے بہت دور ہٹا ہوا
73اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے اس چیز سے بہکا دیں جو ہم نے تجھ پر بذریعہ وحی بھیجی ہے تاکہ تو اس کے سوا ہم پر بہتان باندھنے لگے اور پھر تجھے اپنا دوست بنا لیں
74اور اگرہم تجھے ثابت قدم نہ رکھتے تو کچھ تھوڑا سا ان کی طرف جھکنے کے قریب تھا
75اس وقت ہم تجھے زندگی میں اور موت کے بعد دہرا عذاب چکھاتے پھر تو اپنے واسطے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پاتا
76اور وہ تو تجھے اس زمین سے دھکیل دینے کو تھے تاکہ تجھے اس سے نکال دیں پھر وہ بھی تیرے بعد بہت ہی کم ٹھرتے
77تم سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے ہیں ان کا یہی دستور رہا ہے او رہمارے دستور میں تم تبدیلی نہیں پاؤ گے
78آفتاب کے ڈھلنےسے رات کے اندھیرے تک نماز پڑھا کرو اور صبح کی نماز بھی بے شک صبح کی نماز میں مجمع ہو تا ہے
79اور کسی وقت رات میں تہجد پڑھا کرو جو تیرے لیے زائد چیز ہے قریب ہے کہ تیرا رب مقام محمود میں پہنچا دے
80اور کہہ اے میرے رب مجھے خوبی کے ساتھ پہنچا دے اور مجھے خوبی کے ساتھ نکال لے اور میرے لیے اپنی طرف سے غلبہ دے جس کے ساتھ نصرت ہو
81اور کہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا
82اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمانداروں کے حق میں شفا اور رحمت ہیں اور ظالموں کو اس سےاور زیادہ نقصان پہنچتا ہے
83اورجب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو نا امیدہوجاتا ہے
84کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر کام کرتا ہے پھر تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ ٹھیک راہ پر کون ہے
85اور یہ لوگ تجھے رو ح کے متعلق سوال کرتے ہیں کہہ دو روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ بہت ہی تھوڑا ہے
86او راگر ہم چاہیں تو جو کچھ ہم نے تیری طرف وحی کی ہے اسے اٹھا لیں پھر تجھے اس کے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی نہ ملے
87مگر یہ صرف تیرے رب کی رحمت ہے بے شک تجھ پر اس کی بڑی عنایت ہے
88کہہ دو اگر سب آدمی اور سب جن مل کر بھی ایسا قرآن لانا چاہیں تو ایسا نہیں لا سکتے اگرچہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار کیوں نہ ہو
89او رہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر ایک قسم کی مثال بھی کھول کر بیان کر دی ہے پھر بھی اکثر لوگ انکار کیے بغیر نہ رہے
90اور کہا ہم تمہیں ہرگز نہ مانیں گے یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین میں سے کوئی چشمہ جاری کر دے
91یا تیرے لیے کھجور اور انگور کا کوئی باغ ہو پھر تو اس باغ میں بہت سی نہریں جاری کر دے
92یا جیسا تو خیال کرتا ہے ہم پرکوئی آسمان کا ٹکڑا گرادے یا تو الله اور فرشتوں کو روبرو لے آ
93یا تیرے پاس کوئی سونے کا گھر ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے او رہم تو تیرے چڑھنے کا بھی یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ توہمارے پاس ایسی کتاب لائے جسے ہم بھی پڑھ سکیں کہہ دو میرا رب پاک ہے میں تو فقط ایک بھیجا ہوا انسان ہوں
94اورلوگوں کو ایمان لانے سے جب کہ ان کے پاس ہدایت آ گئی صرف اسی چیز نے روکا ہے کہ کہنے لگے کیا الله نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے
95کہہ دو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم آسمان سے ان پر فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے
96کہہ دوکہ الله میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے بے شک وہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے
97اور جسے الله راہ دکھا دے وہی راہ پانے والا ہے اورجسے گمراہ کر دے پھر تو ان کے لیے الله کے سوا کوئی دوست نہیں پائے گا اور ہم نے انہیں قیامت کے دن مونہوں کے بل اندھے گونگے بہرے کر کے اٹھائیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب بجھنے لگے گی تو ان پر اوربھڑکا دیں گے
98یہ ان کی سزا اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں گے توپھر نئے ے سرے سے بنا کر اٹھائے جائیں گے
99کیا انہوں نے نہیں دیکھا جس الله نے آسمانوں اور زمین کوبنایا ہے وہ ان جیسے اوپر بھی بنا سکتا ہے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شک نہیں اس پر بھی ظالم انکار کیئے بغیر نہ رہے
100کہہ دو اگر میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم انہیں خرچ ہو جانے کے ڈر سے بند ہی کر رکھتے اور انسان بڑا تنگ دل ہے
101اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دی تھیں پھر بھی بنی اسرائیل سےبھی پوچھ لو جب موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے اسے کہا اے موسیٰ میں تو تجھے جادو کیا ہوا خیال کرتا ہوں
102کہا یہ تو تجھے معلوم ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے مالک ہی نے لوگوں کو سوجھانے کے لیے نازل کی ہیں اور بے شک میں تجھے اے فرعون ہلاک کیا ہوا خیال کرتا ہوں
103پھر اس نے ارادہ کیا کہ انہیں اس زمین سے نکال دے تب ہم نے اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو غرق کر دیا
104اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس زمین میں آباد رہو پھر جب آخرت کا وعدہ آ ئے گا ہم تمہیں سمیٹ کر لے آئیں گے
105اور ہم نے اس قرآن کو سچائی سے نازل کیا اور وہ سچائی سے ہی نازل ہوا اور ہم نے تجھے صرف خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے
106اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا تاکہ تو مہلت کے ساتھ اسے لوگوں کو پڑھ کر سنائے اور ہم نے اسے آہستہ آہستہ اتارا ہے
107کہہ دوتم اسے مانو یا نہ مانو بے شک وہ لوگ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان پر پڑھا جاتا ہے تو تھوڑیوں پر سجدہ میں گرتے ہیں
108اورکہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے بے شک ہمارے رب کا وعدہ ہو کر رہے گا
109اور تھوڑیوں پر روتے ہوئے گرتے ہیں اور ان میں عاجزی زیادہ کر دیتا ہے
110کہہ دو الله کہہ کر یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے پکاروسب اسی کے عمدہ نام ہیں اور اپنی نماز میں نہ چلا کر پڑھ اور نہ بالکل ہی آہستہ پڑھ اور اس کے درمیان راستہ اختیار کر
111اور کہہ دو سب تعریفیں الله کے لیے ہیں جس کی نہ کوئی اولاد ہے اورنہ کوئی اس کا سلطنت میں شریک ہے اور نہ کوئی کمزوری کی وجہ سے اس کا مددگار ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتےر ہو
Chapter 18 (Sura 18)
1سب تعریف الله کے لیے جس نے اپنے بندہ پر کتاب اتاری اور اس میں ذرا بھی کجی نہیں رکھی
2ٹھیک اتاری تاکہ اس سخت عذاب سے ڈراوے جو اس کے ہاں ہے اورایمان داروں کو خوشخبری دے جو اچھے کام کرتے ہیں کہ ان کے لیے اچھا بدلہ ہے
3جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے
4اور انہیں بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ الله اولاد رکھتا ہے
5ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادا کے پاس تھی کیسی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے وہ لوگ بالکل جھوٹ کہتے ہیں
6پھر شایدتو ان کے پیچھے افسوس سے اپنی جان ہلاک کر دے گا اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائے
7جو کچھ زمین پر ہے بے شک ہم نے اسے زمین کی زینت بنا دیا ہے تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں کون اچھے کام کرتا ہے
8اورجو کچھ اس پر ہے بے شک ہم سب کو چٹیل میدان کر دیں گے
9کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور کتبہ والے ہماری نشانیوں والے عجیب چیز تھے
10جب کہ چند جوان اس غار میں آ بیٹھے پھر کہا اے ہمارے رب ہم پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اور ہمارے اس کام کے لیے کامیابی کا سامان کر دے
11پھر ہم نے کئی سال تک غار میں ان کے کان بند کر دیے
12پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ دونوں جماعتوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے جتنی مدت وہ رہے
13ہم تمہیں ان کا صحیح حال سناتے ہیں بے شک وہ کئی جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے انہیں اور زيادہ ہدایت دی
14اورہم نے ان کے دل مضبوط کر دیے جب وہ یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہرگز نہ پکاریں گے ورنہ ہم نے بڑی ہی بیجا بات کہی
15یہ ہماری قوم ہے انہوں نے الله کے سوا اورمعبود بنا لیے ہیں ان پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے پھر اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے الله پر جھوٹ باندھا
16اور جب تم ان سے الگ ہو گئے ہواور الله کے سوا جنہیں وہ معبود بناتے ہیں تب غار میں چل کر پناہ لو تم پر تمہارا رب اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لیے تمہارےاس کام میں آرام کا سامان کر دے گا
17اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے تو ان کے غار کے دائیں طرف سے ہٹا ہوا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان کی بائیں طرف سے کتراتا ہو گزر جاتا ہے وہ اس کے میدان میں ہیں یہ الله کی نشانیوں میں سے ہے جسے الله ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے تمہیں کوئی بھی کارساز پر لانے والا نہیں ملے گا
18اور تو انہیں جاگتا ہوا خیال کرے گا حالانکہ وہ سو رہے ہیں اورہم انہیں دائیں بائیں پلٹتے رہتے ہیں اور ان کا کتا چوکھٹ کی جگہ اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہے اگر تم انہیں جھانک کر دیکھو تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوئے اورالبتہ تم پر ان کی دہشت چھا جائے
19اوراسی طرح ہم نے انہیں جگا دیا تاکہ ایک دوسرے سے پوچھیں ان میں سے ایک نے کہا تم کتنی دیر ٹہرے ہو انہوں نے کہا ہم ایک دن یا دن سے کم ٹھیرے ہیں کہا تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنی دیر تم ٹھہرے ہو اب اپنے میں سے ایک کو یہ اپنا روپیہ دے کر اس شہر میں بھیجو پھر دیکھے کون سا کھانا ستھرا ہے پھر تمہارے پاس اس میں سے کھانا لائے اور نرمی سے جائے اور تمہارے متعلق کسی کو نہ بتائے
20بے شک وہ لوگ اگر تمہاری اطلاع پائیں گے تو تمہیں سنگسار کر دیں گےیا اپنے دین میں لوٹا لیں گے پھر تم کبھی فلاح نہیں پا سکو گے
21اور اسی طرح ہم نے ان کی خبر ظاہر کر دی تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ الله کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں جبکہ لوگ ان کے معاملہ میں جھگڑ رہے تھے پھر کہا ان پر ایک عمارت بنا دو انکا رب ان کا حال خوب جانتا ہے ان لوگوں نے کہا جو اپنے معاملے میں غالب آ گئے تھے کہ ہم ان پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے
22بعض کہیں گے تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے اور بعض اٹکل پچو سے کہیں گے پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے اور بعض کہیں گے سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے کہہ دو ان کی گنتی میرا رب ہی خوب جانتا ہے ان کا اصلی حال تو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں سو تو ان کے بارے میں سرسری گفتگو کے سوا جھگڑا نہ کرو ان میں سے کسی سےبھی انکا حال دریافت نہ کر
23اورکسی چیز کے متعلق یہ ہر گز نہ کہو کہ میں کل اسے کر ہی دوں گا
24مگر یہ کہ الله چاہے اور اپنے رب کو یاد کر لے جب بھول جائے اور کہہ دو امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی بہتر راستہ دکھائے
25اور وہ اپنے غار میں تین سو سے زائد نو برس رہے ہیں
26کہہ دو الله بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت رہے تمام آسمانوں اور زمین کا علم غیب اسی کو ہے کیا عجیب دیکھتا اور سنتا ہے ان کا الله کے سوا کوئی بھی مددگار نہیں اور نہ ہی وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے
27اور اپنے رب کی کتاب سے جو تیری طرف وحی کی گئی ہے پڑھا کرو اس کی باتوں کوکوئی بدلنے والا نہیں ہے اور تو اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائے گا
28تو ان لوگو ں کی صحبت میں رہ جو صبح اور شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں اور تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹا کہ دنیا کی زندگی کی زینت تلاش کرنے لگ جائے اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیاہے اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا ہے اور ا سکا معاملہ حد سے گزر ا ہوا ہے
29اور کہہ دو سچی بات تمہارے رب کی طرف سے ہے پھر جو چاہے مان لے اور جو چاہے انکار کر دے بے شک ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے انہیں اس کی قناتیں گھیر لیں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے فریاد رسی کیے جائیں گے جو تانبے کی طرح پگھلا ہوا ہو گا مونہوں کو جھلس دے گا کیا ہی برا پانی ہو گا او رکیا ہی بری آرام گاہ ہو گی
30بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم بھی اس کا اجر ضائع نہیں کریں گے جس نے اچھے کام کیے
31وہی لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی انہیں وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور باریک اور موٹے ریشم کا سبز لباس پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیے لگانے والے ہوں گے کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کیا ہی اچھی آرام گا ہے
32اور انہیں دو شحصوں کی مثال سنا دو ان دونوں میں سے ایک لیے ہم نے انگور کے دو باغ تیار کیے اور ان کے گرد اگر کھجوریں لگائیں اوران دونو ں کے درمیان کھیتی بھی لگا رکھی تھی
33دونوں باغ اپنے پھل لاتے ہیں اور پھل لانے میں کچھ کمی نہیں کرتے اور ان دونوں کے درمیان ہم نے ایک نہر بھی جاری کردی ہے
34اور اسے پھل مل گیا پھر اس نے اپنے ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زيادہ ہوں اور جماعت کے لحاظ سے بھی زیادہ معزز ہوں
35اور اپنے باغ میں داخل ہوا ایسے حال میں کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا کہا میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہو گا
36اورمیں قیامت کو ہونے والی خیال نہیں کرتا اور البتہ اگر میں اپنے رب کے ہاں لوٹایا بھی گیا تو اس سے بھی بہتر جگہ پاؤں گا
37اسے اس کے ساتھی نے گفتگو کے دوران میں نے کہا کیا تو اس کا منکر ہو گیا ہے جس نے تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے بنایا پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا
38لیکن میرا تو الله ہی رب ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گا
39اور جب تو اپنے باغ میں آیا تھا تو نے کیوں نہ کہا جو الله چاہے تو ہوتا ہے اور الله کی مدد کے سوا کوئی طاقت نہیں اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں تجھ سے مال اور اولاد میں کم ہوں
40پھر امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر دے اور اس پر لو کا ایک جھونکا آسمان سے بھیج دے پھر وہ چٹیل میدان ہوجائے
41یا اس کا پانی خشک ہوجائے پھر تو اسے ہرگز تلاش کرکے نہ لاسکے گا
42اور اس کا پھل سمیٹ لیا گیا پھر وہ اپنے ہاتھ ہی ملتا رہ گیا اس پر جو اس نے اس باغ میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتریوں پر گرا پڑا تھا اور کہا کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
43اور اس کی کوئی جماعت نہ تھی جو الله کےسوا اس کی مدد کرتے اور نہ وہ خود ہی بدلہ لے سکا
44یہاں سب اختیار الله سچے ہی کا ہے اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیاہوا بدلہ اچھا ہے
45اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو مثل ایک پانی کے ہے جسے ہم نے آسمان سے برسایا پھر زمین کی روئیدگی پانی کے ساتھ مل گئی پھر وہ ریزہ ریز ہ ہو گئی کہ اسے ہوا ئیں اڑاتی پھرتی ہیں اور الله ہر چیز پر قدرت رکنے والا ہے
46مال اور اولاد تو دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور تیرے رب کے ہاں باقی رہنے والی نیکیاں ثواب اور آخرت کی امید کے لحاظ سے بہتر ہیں
47اورجس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو زمین کو صاف میدان دیکھے گا اور سب کو جمع کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے
48اور سب تیرے رب کے سامنے صف باندھ کر پیش کیے جائیں گے البتہ تحقیق تم ہمارے پاس آئے ہو جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا بلکہ تم نے خیال کیا تھا کہ ہم تمہارے لیے کوئی وعدہ مقرر نہ کریں گے
49اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا پھر مجرموں کو دیکھے گا اس چیز سے ڈرنے والے ہوں گے جو اس میں ہے اور کہیں گے افسوس ہم پر یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے کوئی چھوٹی یا بڑی بات نہیں چھوڑی مگر سب کو محفوظ کیا ہوا ہے اورجو کچھ انہوں نے کیا تھا سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا
50اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا وہ جنوں میں سے تھا سو اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی پھر کیا تم مجھے چھوڑ کر اسے اور اس کی اولاد کو کارساز بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں بے انصافوں کو برا بدل ملا
51نہ تو آسمان اور زمین کے بناتے وقت اور نہ انہیں بناتے وقت میں نے انہیں بلایا اورمیں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا نہ تھا
52اورجس دن فرمائے گا میرے شریکوں کو پکارو جنہیں تم مانتے تھے پھر وہ انہیں پکاریں گے سو وہ انہیں جواب نہیں دیں گے اور ہم نے ان کے درمیان ہلاکت کی جگہ بنا دی ہے
53اور گناہگار آگ کو دیکھیں گے اور سمجھیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے
54اور البتہ تحقیق ہم نے اس قرآن میں ان لوگوں کے لیے ہر ایک مثال کو کئی طرح سے بیان کیا ہے اور انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے
55اور جب ان کے پاس ہدایت آئی تو انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی مانگنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ انہیں پہلی امتوں کا سا معاملہ پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آجائے
56اور ہم رسولوں کو صرف خوشخبری دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں اور کافر نا حق جھگڑا کرتے ہیں تاکہ ا س سے سچی بات کو ٹلا دیں اور انہوں نے میری آیتوں کو اور جس سے انہیں ڈرایا گیا ہے مذاق بنا لیا ہے
57اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے پھر ان سے منہ پھیر لے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے بھول جائے بے شک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر تو انہیں ہدایت کی طرف بلائے تو بھی وہ ہر گز کبھی راہ پر نہ آئیں گے
58اور تیرا رب بڑا بخنشے والا رحمت والا ہے اگر ان کے کیے پر انہیں پکڑنا چاہتا تو فوراً ہی عذاب بھیج دیتا بلکہ ان کے لیے ایک معیاد مقرر ہے اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے
59اور یہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلک کیا ہے جب انہوں نے ظلم کیا تھا اور ہم نے ان کی ہلاکت کا بھی ایک وقت مقرر کیا تھا
60اورجب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا کہ میں نہ ہٹوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا سالہا سال چلتا جاؤں
61پھر جب وہ دو دریاؤں کے جمع ہونے کی جگہ پر پہنچے دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے پھر مچھلی نے دریا میں سرنگ کی طرح کا راستہ بنا لیا
62پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے تو اپنے جوان سے کہا کہ ہمارا ناشہ لے آ۔ البتہ تحقیق ہم نے اس سفر میں تکلیف اٹھائی ہے
63کہا کیا تو نے دیکھا جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھرے تومیں مچھلی کو وہیں بھول آیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلایا ہے کہ اس کا ذکر کروں اور اس نے اپنی راہ سمندر میں عجیب طرح سے بنا لی
64کہا یہی ہے جو ہم چاہتے تھے پھر اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہی الٹے پھرے
65پھر ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ کو پایا جسے ہم نے اپنے ہاں سے رحمت دی تھی اوراسے ہم نے اپنے پاس سے ایک علم سکھایا تھا
66اسے موسیٰ نے کہا کیا میں تیرے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تو مجھے سکھائے اس میں سے جو تجھے ہدایت کا طریقہ سکھایا گیا ہے
67کہا بے شک تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہیں کر سکے گا
68اورتو صبر کیسے کرے گا اس بات پر جو تیری سمجھ میں نہیں آئے گی
69کہا انشاالله تو مجھے صابر ہی پائے گا اور میں کسی بات میں بھی تیری مخالفت نہیں کروں گا
70کہا پس اگر تو میرے ساتھ رہے تو مجھ سے کسی بات کا سوال نہ کر یہاں تک کہ میں تیرے سامنے اس کا ذکر کروں پس دونوں چلے
71یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو اسے پھاڑ دیا کہا کیا تو نے اس لیے پھاڑا ہے کہ کشتی کے لوگوں کو غرق کر دے البتہ تو نے خطرناک بات کی ہے
72کہا کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر نہیں کر سکے گا
73کہا میرے بھول جانے پر گرفت نہ کر اورمیرے معاملہ میں سختی نہ کر
74پھر دونوں چلے یہاں تک کہ انہیں ایک لڑکا ملا تو اسے مار ڈالا کہا تو نے ایک بے گناہ کو ناحق مار ڈالا البتہ تو نے بڑی بات کی
75کہا کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر نہیں کر سکے گا
76کہا اگراس کے بعدمیں آپ سے کسی چیز کا سوال کروں تو مجھے ساتھ نہ رکھیں آپ میری طرف سے معذوری تک پہنچ جائیں گے
77پھر ودنوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں پر گزرے توان سے کھانا مانگا انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرنےہی والی تھی تب اسے سیدھا کر دیا کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کوئی اجرت ہی لے لیتے
78کہا اب میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے اب میں تجھے ان باتوں کا راز بتاتا ہوں جن پر تو صبر نہ کر سکا
79جو کشتی تھی سو وہ محتاج لوگوں کی تھی جو دریا میں مزدوری کرتے تھے پھر میں نے اس میں عیب کر دینا چاہا اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی پکڑ رہا تھا
80اور رہا لڑکا سو اس کے ماں باپ ایمان دار تھے سو ہم ڈرے کہ انہیں بھی سر کشی اور کفر میں مبتلا نہ کرے
81پھر ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلہ میں انہیں ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر اور محبت میں اس سے بڑھ کر ہو
82اور جو دیوار تھی سو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا پس تیرے رب نے چاہا کہ وہ جوان ہو کر اپنا خزانہ تیرے رب کی مہربانی سے نکالیں اور یہ کام میں نے اپنے ارادے سے نہیں کیا یہ حقیقت ہے اس کی جس پر تو صبر نہیں کر سکا
83اور آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں کہہ دو کہ اب میں تمہیں اس کا حال سناتا ہوں
84ہم نے اسے زمین میں حکمرانی دی تھی اور اسے ہر طرح کا سازو سامان دیا تھا
85تو اس نے ایک ساز و سامان تار کیا
86یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو اسے ایک گرم چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا اور وہاں ایک قوم بھی پائی ہم نے کہااے ذوالقرنین یا انھیں سزا دے اور یا ان سے نیک سلوک کر
87کہا جو ان میں ظالم ہے اسے تو ہم سزا ہی دیں گے پھر وہ اپنے رب کے ہاں لوٹایا جائے گا پھر وہ اسے اوربھی سخت سزا دے گا
88اور جو کوئی ایمان لائے گا اور نیکی کرے گا تو اسے نیک بدلہ ملے گا اور ہم بھی اپنے معاملے میں اسے آسان ہی حکم دیں گے
89پھر اس نے ایک ساز و سامان تیار کیا
90یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا تو اس نے سورج کو ایک ایسی قوم پر نکلتے ہوئے پایا کہ جس کے لیے ہم نے سورج کے ادھر کوئی آڑ نہیں رکھی تھی
91اسی طرح ہی ہے اور اس کے حال کی پوری خبر ہمارےہی پاس ہے
92پھر اس نے ایک ساز و سامان تیار کیا
93یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا ان دونوں سے اس طرف ایک ایسی قوم کو دیکھا جو بات نہیں سمجھ سکتی تھی
94انہوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین بے شک یاجوج ماجوج اس ملک میں فساد کرنے والے ہیں پھر کیا ہم آپ کے لیے کچھ محصول مقرر کر دیں اس شرط پر کہ آپ ہمارےاور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں
95کہا جو میرے رب نے قدرت دی ہے کافی ہے سو طاقت سے میری مدد کرو کہ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں
96مجھے لوہے کے تختے لا دو یہاں تک کہ جب دونوں سروں کے بیچ کو برابر کر دیا تو کہا کہ دھونکو یہاں تک کہ جب اسے آگ کر دیا تو کہا کہ تم میرے پاس تانبا لاؤ تاکہ اس پر ڈال دوں
97پھر وہ نہ اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے
98کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے ریزہ ریزہ کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے
99اور ہم چھوڑدیں گے بعض ان کے اس دن بعض میں گھسیں گے اور صورمیں پھونکا جائے گا پھر ہم ان سب کو جمع کر یں گے
100اور ہم دوزخ کو اس دن کافروں کے سامنے پیش کریں گے
101جن کی آنکھوں پر ہماری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا اور وہ سن بھی نہ سکتے تھے
102پھر کافر کیا خیال کرتے ہیں کہ میرے سوا میرےبندوں کو اپنا کارساز بنا لیں گے بے شک ہم نے کافروں کے لیے دوزخ کو مہمانی بنایاہے
103کہہ دو کیا میں تمہیں بتاؤں جو اعمال کے لحاظ سے بالکل خسارے میں ہیں
104وہ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں کھوئی گئی اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھے کام کر رہے ہیں
105یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا اور اس کے روبرو جانے کا انکار کیا ہے پھر ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے سو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں گے
106یہ سزا ا ن کی جہنم ہے ا سلیے کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کا مذاق بنایا تھا
107بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گےبے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھےکام کئےان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے
108ان میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے جگہ بدلنی نہ چاہیں گے
109کہہ دو اگر میرے رب کی باتیں لکھنےکے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو میرے رب کی باتیں ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہو جائے اور اگرچہ اس کی مدد کے لیے ہم ایسا ہی اور سمندر لائیں
110کہہ دو کہ میں بھی تمہارے جیسا آدمی ہی ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پھر جو کوئی اپنے رب سے ملنے کی امید رکھے تو اسے چاہیئے کہ اچھے کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے
Chapter 19 (Sura 19)
1کھیصۤ
2یہ تیرے رب کی مہربانی کا ذکر ہے جو اس کے بندے زکریا پر ہوئی
3جب اس نے اپنے رب کو خفیہ آواز سے پکارا
4کہا اے میرے رب میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر میں بڑھاپا چمکنے لگا ہے او رمیرے رب تجھ سے مانگ کر میں کبھی محروم نہیں ہوا
5اور بے شک میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو اپنے ہاں سے ایک وارث عطا کر
6جو میرا اور یعقوب کے خاندان کا بھی وارث ہو اور میرے رب اسے پسندیدہ بنا
7اے زکریا بے شک ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا اس سےپہلے ہم نے اس نام کا کوئی پیدا نہیں کیا
8کہا اے میرے رب میرے لیے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے میں انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں
9کہا ایسا ہی ہوگا تیرے رب نے کہاہے وہ مجھ پر آسان ہے اور میں نے تجھے اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ تو کوئی چیز نہ تھا
10کہا اے میرے رب میرے لئےکوئی نشانی مقرر کر کہا تیری نشانی یہ ہے کہ توتین رات تک مسلسل لوگوں سے بات نہیں کر سکے گا
11پھر حجرہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اشارہ سے کہا کہ تم صبح و شام خدا کی تسبیح کیا کرو
12اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑ اور ہم نے اسےبچپن ہی میں حکمت عطا کی
13اور اسے اپنے ہاں سے رحم دلی او رپاکیز گی عنایت کی اور وہ پرہیز گار تھا
14اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا اور سرکش نافرمان نہ تھا
15اور اس پر سلام ہو جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا
16اور اس کتاب میں مریم کا ذکر کر جب کہ وہ اپنے لوگوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی مقام میں جا بیٹھی
17پھر لوگوں کے سامنے سے پردہ ڈال لیا پھر ہم نے اس کے پاس اپنے فرشتے کو بھیجا پھر وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا
18کہا بے شک میں تجھ سے الله کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو پرہیزگار ہے
19کہا میں تو بس تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تجھے پاکیزہ لڑکا دوں
20کہا میرے لیے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں
21کہا ایسا ہی ہوگا تیرے رب نے کہا ہے وہ مجھ پر آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں اور یہ بات طے ہو چکی ہے
22پھر اس (بچہ کے ساتھ) حاملہ ہوئی پھر اسے لے کر کسی دور جگہ میں چلی گئی
23پھر اسے درد زہ ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا کہا اے افسوس میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں بھولی بھلائی ہوتی
24پھر اسے اس کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے سے ایک چشمہ پیدا کر دیا
25اورتو کھجور کے تنہ کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر پکی تازہ کھجوریں گریں گی
26سوکھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی کر پھر اگر تو کوئی آدمی دیکھے تو کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزہ کی نذر مانی ہے سو آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی
27پھر وہ اسے قوم کے پا س اٹھا کر لائی انہوں نے کہا اے مریم البتہ تو نے عجیب بات کر دکھائی
28اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکار تھی
29تب اس نے لڑکے کی طرف اشارہ کیا انہوں نے کہا ہم پنگوڑھے والے بچے سے کیسے بات کریں
30کہا بے شک میں الله کا بندہ ہوں مجھےاس نے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے
31اور مجھے با برکت بنایاہے جہاں کہیں ہوں اور مجھے کو نماز اور زکواة کی وصیت کی ہے جب تک میں زندہ ہوں
32اور اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والا اور مجھے سرکش بدبخت نہیں بنایا
33اور مجھ پر سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا
34یہ عیسیٰ مریم کا بیٹا ہے سچی بات جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں
35الله کی شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے توصرف اسے کن کہتا ہے پھر وہ ہو جاتا ہے
36اور بے شک الله تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے سواسی کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے
37پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہو گئیں سوکافروں کے لیے ایک بڑے دن کے آنے سے خرابی ہے
38کیا خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن ہمارے پاس آئیں گے لیکن ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں
39اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرا جس دن سارے معاملہ کا فیصلہ ہوگا اور وہ غفلت میں ہیں او رایمان نہیں لاتے
40بے شک ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور ہماری طرف لوٹائے جائیں گے
41اور کتاب میں ابراھیم کا ذکر بے شک وہ سچا نبی تھا
42جب اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ تو کیوں پوجتاہے ایسے کو جونہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تیرےکچھ کام آ سکے
43اے میرے باپ بے شک مجھے وہ علم حاصل ہوا ہے جو تمہیں حاصل نہیں تو آپ میری تابعداری کریں میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا
44اے میرے باپ شیطان کی عبادت نہ کر بے شک شیطان الله کا نافرمان ہے
45اے میرے باپ بے شک مجھے خوف ہے کہ تم پر الله کا عذاب آئے پھر شیطان کے ساتھی ہوجاؤ
46کہا اے ابراھیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے البتہ اگر تو باز نہ آیا میں تجھے سنگسار کردوں گا اور مجھ سے ایک مدت تک دور ہو جا
47کہا تیری سلامتی رہے اب میں اپنے رب سے تیری بخشش کی دعا کروں گا بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے
48اور میں تمہیں چھوڑتا ہوں اور جنہیں تم الله کے سوا پکارتے ہو اور میں اپنے رب ہی کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہ رہوں گا
49پھر جب ان سے علیحدٰہ ہوا اور اس چیز سے جنہیں وہ الله کے سوا پوجتے تھے ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیا اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا
50اور ہم نے ان سب کو اپنی رحمت سے حصہ دیا اور ہم نے ان کا نیک نام بلند کیا
51اور کتاب میں موسیٰ کا ذکر کر بے شک وہ خاص بندے اور بھیجے ہوئے پیغمبر تھے
52اور ہم نے اسے کوہِ طور کے دائیں طرف سے پکارا اور اسے راز کی بات کہنے کے لیے قریب بلایا
53اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر عطا کیا
54اور کتاب میں اسماعیل کا بھی ذکر کر بے شک وہ وعدہ کا سچا اور بھیجا ہوا پیغمبر تھا
55اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰةکا حکم کرتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھا
56اور کتاب میں ادریس کا ذکر کر بے شک وہ سچا نبی تھا
57اور ہم نے اسے بلند مرتبہ پر پہنچایا
58یہ وہ لوگ ہیں جن پر الله نے انعام کیا پیغمبروں میں اور آدم کی اولاد میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراھیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت کی اور پسند کیا جب ان پر الله کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرتے ہیں
59پھر ان کی جگہ ایسے ناخلف آئے جنہو ں نے نماز ضائع کی اور خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے پھر عنقریب گمراہی کی سزا پائیں گے
60مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے سو وہ لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا
61ہمیشگی کے باغوں میں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے جو ان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے بے شک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہے
62اس میں سوائے سلام کے کوئی فضول بات نہ سنیں گے اور انہیں وہاں صبح و شام کھانا ملے گا
63یہ وہ جنت ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا
64اورہم تیرے رب کے حکم کے سوا نہیں اترتے اسی کا ہے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے او ر تیرا رب بھولنے والا نہیں
65آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو چیز ان کے درمیان ہے سو اسی کی عبادت کرو اسی کی عبادت پر قائم رہ کیا تیرے علم میں ا س جیسا کوئی اور ہے
66اور انسان کہتا ہے جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا
67کیا انسان کو یاد نہیں ہے کہ اس سے پہلے ہم نے اسےبنایا تھا اور وہ کوئی چیز بھی نہ تھا
68سو تیرے رب کی قسم ہے ہم انہیں اور ان کے شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے پھر ہم انہیں گھٹنوں پر گرے ہوئے دوزخ کے گرد حاضر کریں گے
69پھر ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیں گے جو الله سے بہت ہی سرکش تھے
70پھر ہم ان لوگو ں کو خوب جانتے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں
71اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا اس پر گزر نہ ہو یہ تیرے رب پر لازم مقرر کیا ہوا ہے
72پھر ہم انہیں بچا لیں گے جو ڈرتے ہیں اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں پر گرے ہوئے چھوڑ دیں گے
73اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کافر ایمان داروں سے کہتے ہیں دونوں فریقوں میں سے کس کا مرتبہ بہتر ہے اور محفل کس کی اچھی ہے
74اور ہم ان سے پہلے کتنی جماعتیں ہلاک کرچکے ہیں وہ سامان اور نمود میں بہتر تھے
75کہہ دو جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے سو الله بھی اسے ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھیں گے جس کا انہیں نے وعدہ دیا گیا تھا یا عذاب یا قیامت تب معلوم کر لیں گے مرتبے میں کون برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے
76اور جو لوگ ہدایت پر ہیں الله انہیں زیادہ ہدایت دیتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں
77کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی
78کیا اس نے غیب پر اطلاع پائی ہے یا اس نے الله سے اقرار لے رکھا ہے
79ہرگز نہیں ہم لکھ لیتے ہیں جو کچھ وہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے جاتے ہیں
80اور ہم اس کے وارث ہوں گے جو کچھ وہ کہتا ہے او رہمارے ہاں تنہا آئے گا
81اور انہوں نے الله کے سوا معبود بنا لیے ہیں تاکہ وہ ان کے مددگار ہوں
82ہرگز نہیں وہ جلد ہی ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے
83کیا تو نے نہیں دیکھا ہم نے شیطانو ں کوکافروں پر چھوڑ رکھا ہے وہ انھیں ابھارتے رہتے ہیں
84سوتو ان کے لیے عذاب کی جلدی نہ کر ہم خود ان کے دن گن رہے ہیں
85جس دن ہم پرہیزگاروں کے رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے
86اور گناہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے
87کسی کو سفارش کا اختیار نہیں ہوگا مگر جس نے رحمان کے ہاں سے اجازت لی ہو
88اورکہتے ہیں کہ رحمان نے بیٹا بنا لیا
89البتہ تحقیق تم سخت بات زبان پر لائے ہو
90کہ جس سے ابھی آسمان پھٹ جائیں اور زمین چر جائے اور پہاڑ ٹکڑے ہو کر گر پڑیں
91اس لئے کہ انہوں نے رحمان کے لیے بیٹا تجویز کیا
92اور رحمان کی یہ شان نہیں کہ کسی کوبیٹا بنائے
93جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ان میں سے ایسا کوئی نہیں جو رحمان کا بندہ بن کر نہ آئے
94البتہ تحقیق اس نے انھیں شمار کر رکھا ہے اور ان کی گنتی گن رکھی ہے
95او رہر ایک ان میں سے اس کے ہاں اکیلا آئے گا
96بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے عنقریب رحمان ان کے لیے محبت پیدا کرے گالاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے الله تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا کر ے گا
97سو ہم نے فرمان کو تیری زبان میں اس لیےآسان کیا ہے کہ تو اس سے پرہیز گاروں کو خوشخبری سنا دے اور جھگڑنے والوں کو ڈرا دے
98اور ہم ان سے پہلے کئی جماعتیں ہلاک کر چکے ہیں کیا تو کسی کی ان میں سے آہٹ پاتا ہے یا ان کی بھنک سنتا ہے
Chapter 20 (Sura 20)
1طہۤ
2ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ
3بلکہ اس شخص کے لیے نصیحت ہےجو ڈرتا ہے
4اس کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا
5رحمان جو عرش پر جلوہ گر ہے
6اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جوکچھ گیلی زمین کے نیچے ہے
7اور اگرتو پکار کر بات کہے تو وہ پوشیدہ اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ کو جانتا ہے
8الله ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سب نام اچھے ہیں
9اور کیا تجھے موسیٰ کی بات پہنچی ہے
10جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید کہ میں اس سے تمہارے پاس کوئی چنگاری لاؤں یا وہاں کوئی رہبر پاؤں
11پھر جب وہ اس کے پاس آئے تو آواز آئی کہ اے موسیٰ
12میں تمہارا رب ہوں سو تم اپنی جوتیاں اتار دو بے شک تم پاک وادی طویٰ میں ہو
13اور میں نے تجھے پسند کیا ہے جو کچھ وحی کی جارہی ہےاسے سن لو
14بے شک میں ہی الله ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی بندگی کر اور میری ہی یاد کے لیے نماز پڑھا کر
15بے شک قیامت آنے والی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ مل جائے
16سو تمہیں قیامت سے ایسا شخص باز نہ رکھنے پائے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اوراپنی خواہشوں پر چلتا ہے پھر تم تباہ ہوجاؤ
17اور اے موسیٰ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے
18کہا یہ میری لاٹھی ہے ا س پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی فائدے ہیں
19فرمایا اے موسیٰ اسے ڈال دو
20پھر اسے ڈال دیا تو اسی وقت وہ دوڑتا ہوا سانپ ہو گیا
21فرمایا اسے پکڑ لے اور نہ ڈر ہم ابھی اسےپہلی حالت پر پھیر دیں گے
22اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے ملا دے بلا عیب سفید ہو کر نکلے گا یہ دوسری نشانی ہے
23تاکہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض دکھائیں
24فرعون کے پاس جا بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے
25کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے
26اورمیرا کام آسان کر
27اور میری زبان سے گرہ کھول دے
28کہ میری بات سمجھ لیں
29اور میرے لیے میرے کنبے میں سے ایک معاون بنا دے
30ہارون کو جو میرا بھائی ہے
31ا س سے میری کمر مضبوط کر دے
32اور اسے میرے کام میں شریک کر دے
33تاکہ ہم تیری پاک ذات کا بہت بیان کریں
34اور تجھے بہت یاد کریں
35بے شک تو ہمیں خوب دیکھتا ہے
36فرمایا اے موسیٰ تیری درخواست منظور ہے
37اورالبتہ تحقیق ہم نے تجھ پر ایک دفعہ اور بھی احسان کیا ہے
38جب ہم نے تیری ماں کے دل میں بات ڈال دی تھی
39کہ اسے صندوق میں ڈال دے پھر اسے دریا میں ڈال دے پر اسے دریا کنارے پر ڈال دے گا اسے میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھا لے گا اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اور تاکہ تو میرے سامنے پرورش پائے
40جب تیری بہن کہتی جا رہی تھی کیا تمہیں ایسی عورت بتاؤں جو اسے اچھی طرح پالے پھر ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس پہنچا دیا کہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور تو نے ایک شخص کو مار ڈالا پھر ہم نے تجھے اس غم سے نکالا اور ہم نے تجھے کئی مرتبہ آزمائش میں ڈالا پھر تو مدین والوں میں کئی برس رہا پھر تو اے موسیٰ تقدیر سے یہاں آیا
41اور میں نے تجھے خاص اپنے واسطے بنایا
42تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں کوتاہی نہ کرو
43فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے
44سو اس سے نرمی سے بات کرو شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے
45کہا اے ہمارے رب ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا یہ کہ زیادہ سرکشی کرے
46فرمایا ڈرو مت میں تمہارے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں
47سو تم دونوں اس کے پاس جاؤ اورکہو کہ بے شک ہم تیرے رب کی طرف سے پیغام لے کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اس کے لیے ہے جو سیدھی راہ پر چلے
48بے شک ہمیں وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب اسی پر ہوگا جو جھٹلائے اور منہ پھیر لے
49کہا اے موسیٰ پھر تمہارا رب کون ہے
50کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی پھر راہ دکھائی
51کہا پھر پہلی جماعتوں کا کیا حال ہے
52کہا ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں ہے میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے
53جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس میں طرح طرح کی مختلف سبزیاں نکالیں
54کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں
55اسی زمین سے ہم نے تمہیں بنایا اور اسی میں لوٹائیں گے اور دوبارہ اسی سے نکالیں گے
56اورہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھا دیں پھر اس نے جھٹلایا اورانکار کیا
57کہا اے موسیٰ کیا تو ہمیں اپنے جادو سے ہمارے ملک سے نکالنے کے لیے آیا ہے
58سو ہم بھی تیرے مقابلے میں ایک ایسا ہی جادو لائیں گے سوہمارے او راپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کر دے نہ ہم اس کے خلاف کریں اورنہ تو کسی صاف میدان میں
59کہا تمہارا وعدہ جشن کا دن ہے اور دن چڑھے لوگ اکھٹے کیے جائیں
60پھر فرعون لوٹ گیا اور اپنے مکر کا سامان جمع کیا پھر آیا
61موسیٰ نے کہا افسوس تم الله پر بہتان نہ باندھو ورنہ وہ کسی عذاب سے تمہیں ہلاک کر دے گا اوربے شک جس نے جھوٹ بنایا وہ غارت ہوا
62پھر ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا اور خفیہ گفتگو کرتے رہے
63کہا بے شک یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے عمدہ طریقہ کو موقوف کر دیں
64پھر تم اپنی تدبیر جمع کر کے صف باندھ کر آؤ اور تحقیق آج جیت گیا جو غالب رہا
65کہا اے موسیٰ یا تو ڈال اوریا ہم پہلے ڈالنے والے ہوں
66کہا بلکہ تم ڈالو پس اچانک ان کی رسیاں او رلاٹھیاں ان کے جادو سے اس کے خیال میں دوڑ رہی ہیں
67پھر موسیٰ نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا
68ہم نے کہا ڈرو مت بیشک تو ہی غالب ہوگا
69او رجو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے ڈال دے کہ نگل جائے جو کچھ انہوں نے بنایا ہےجو کچھ کہ انہوں نے بنایا ہے صرف جادوگر کا فریب ہے اورجادوگر کا بھلا نہیں ہوتا جہاں بھی ہو
70پھر جادوگر سجدہ میں گر پڑے کہا ہم ہارون اورموسیٰ کے رب پر ایمان لائے
71کہا تم میری اجازت سے پہلےہی اس پر ایمان لے آئے بے شک یہ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا سو اب میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا اورتمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اورتمہیں معلوم ہوجائے گا ہم میں سے کس کا عذاب سخت اور دیر تک رہنے والا ہے
72کہا ہم تجھے ہرگزترجیح نہ دیں گے ان کھلی ہوئی نشانیوں کے مقابلہ میں جو ہمارے پاس آ چکی ہیں اورنہ اس کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے سو تو کر گزر جو تجھے کرنا ہے تو صرف اس دنیا کی زندگی پر حکم چلا سکتا ہے
73بے شک ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ ہمارے گناہ معاف کرے اور جو تو نے ہم سے زبردستی جادو کرایا اور الله بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے
74بے شک جو شخص اپنے رب کے پا س مجرم ہو کر آئے گا سواس کے لیے دوزخ ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ جیے گا
75اورجو اس کے پاس مومن ہوکر آئے گا حالانکہ اس نے اچھے کام بھی کیے ہوں تو ان کے لیے بلند مرتبے ہوں گے
76ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے جو گناہ سے پاک ہوا
77او رہم نے البتہ موسیٰ کو وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا پھر ان کے لیے دریامیں خشک راستہ بنا دے پکڑے جانے سے نہ ڈر اور نہ کسی خطرہ کا خوف کھا
78پھر فرعون نے اپنے لشکر کو لے کر ان کا پیچھا کیا پھر انہیں دریا نےڈھانپ لیا جیسا ڈھانپا
79اور فرعون نے اپنی قوم کو بہکایا اور راہ پر نہ لایا
80اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے طور کی دائیں طرف کا وعدہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا
81کھاؤ جو ستھری چیزیں ہم نے تمہیں دی ہیں اور اس میں حد سے نہ گزرو پھر تم پر میرا غضب نازل ہو گا اور جس پرمیرا غضب نازل ہوا سو وہ گڑھے میں جا گرا
82اور بے شک میں بڑا بخشنے والا ہوں اس کو جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھے کام کرے پھر ہدایت پر قائم رہے
83اور اے موسیٰ تجھے اپنی قوم سے پہلے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا
84کہا وہ بھی میرے پیچھے یہ آ رہے ہیں اور اے میرے رب میں جلدی تیرے طرف آیا تاکہ تو خوش ہو
85فرمایا تیری قوم کو تیرے بعد ہم نے آزمائش میں ڈال دیاہےاور انہیں سامری نے گمراہ کر دیا ہے
86پھر موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصہ میں بھرے ہوئے افسوس کرتے ہوئے لوٹے کہا اے میری قوم کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا پھر کیا تم پر بہت زمانہ گزر گیا تھا یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غصہ نازل ہو تب تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی
87کہا ہم نےاپنے اختیا ر سے آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی لیکن ہم سے اس قوم کے زیور کا بوجھ اٹھوایا گیا تھا سو ہم نے اسے ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈال دیا
88پھر ان کے لیے ایک بچھڑا نکال لایا ایک جسم جس میں گائے کی آواز تھی پھر کہا یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے سو وہ بھول گیا ہے
89کیا پس وہ نہیں دیکھتے کہ وہ انہیں کس بات کا جواب نہیں دیتا اور ان کے نقصان اور نفع کا بھی اسے اختیار نہیں
90اور انہیں ہارون نے اس سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم اس سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور بے شک تمہارا رب رحمان ہے سو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو
91کہا ہم برابر اسی پر جمے بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہمارے پاس لوٹ کر آئے
92کہا اے ہارون تمہیں کس چیز نے روکا جب تم نے دیکھا تھا کہ وہ گمراہ ہو گئے ہیں
93تو میرے پیچھے نہ آیا کیا تو نے بھی میری حکم عدولی کی
94کہا اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور اور سر نہ پکڑ بیشک میں ڈرا اس سے کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے فیصلہ کا انتظار نہ کیا
95کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے
96کہا میں نے وہ چیز دیکھی تھی جو دوسروں نے نہ دیکھی پھر میں نے رسول کے نقشِ قدم کی ایک مٹھی مٹی میں لے کر ڈال دی اور میرے دل نے مجھے ایسی ہی بات سوجھائی
97کہا بس چلا جا تیرے لیے زندگی میں یہ سزا ہے کہ توکہے گا ہاتھ نہ لگانا اورتیرے لیے ایک وعدہ ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور تو اپنے معبود کو دیکھ جس پر تو جما بیٹھا تھا ہم اسے ضرور جلا دیں گے پھر اسے دریا میں بکھیر کر بہا دیں گے
98تمہارا معبود ہی الله ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے علم میں سب چیز سما گئی ہے
99ہم اسی طرح سے تجھے گزشتہ لوگوں کی کچھ خبریں سناتے ہیں اور ہم نے تجھے اپنے ہاں سے ایک نصیحت نامہ دیا ہے
100جس نے اس سے منہ پھیرا سو وہ قیامت کے دن بوجھ اٹھائے گا
101اس میں ہمیشہ رہیں گے اوران کے لیے قیامت کے دن بُرا بوجھ ہوگا
102جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو نیلی آنکھوں والے کر کے جمع کر دیں گے
103چپکے چپکے آپس میں باتیں کہتے ہوں گے کہ تم صرف دس دن ٹھیرے ہو
104ہم خوب جان لیں گے جو کچھ وہ کہیں گے جب ان میں سے بڑا سمجھدار کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن ٹھہرے ہو
105اور تجھ سے پہاڑوں کا حال پوچھتے ہیں سوکہہ دے میرا رب انہیں بالکل اڑا دے گا
106پھر زمین کو چٹیل میدان کر کے چھوڑے گا
107تو اس میں کجی اور ٹیلا نہیں دیکھے گا
108اس دن پکارےنے والے کا اتباع کریں گے اس میں کوئی کجی نہیں ہوگی اور رحمان کے ڈر سے آوازیں دب جائیں گی پھر تو پاؤں کی آہٹ کے سوا کچھ نہیں سنے گا
109اس دن سفارش کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمان نے اجازت دی اور اس کی بات پسند کی
110وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے اور پیچھے ہے اور ان کا علم اسے احاطہ نہیں کر سکتا
111اور سب منہ حّی و قیوم کے سامنے جھک جائیں گے اور تحقیق نامراد ہوا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا
112اور جو نیک کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو تو اسے ظلم اور حق تلفی کا کوئی خوف نہیں ہو گا
113اور اسی طرح ہم نے اسے عربی قرآن نازل کیا ہے اور ہم نے اس میں طرح طرح سے ڈرانے کی باتیں سنائیں تاکہ وہ ڈریں یا ان میں سمجھ پیدا کر دے
114سو الله بادشاہ حقیقی بلند مرتبے والا ہے اور تو قرآن کے لینے میں جلدی نہ کر جب تک اس کا اترنا پورا نہ ہوجائےاور کہہ اے میرے رب مجھے اور زیادہ علم دے
115اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے بھی عہد لیا تھا پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں پختگی نہ پائی
116اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا اس نے انکار کیا
117پھر ہم نے کہا اے آدم بے شک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے پھر تو تکلیف میں پڑ جائے
118بے شک تو اس میں بھوکا اورننگا نہیں ہوگا
119اور بے شک تو اس میں نہ پیاسا ہوگا اور نہ تجھے دھوپ لگے گی
120پھر شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا کہا اے آدم کیا میں تجھے ہمیشگی کا درخت بتاؤں اور ایسی بادشاہی جس میں ضعف نہ آئے
121پھر دونوں نے اس درخت سے کھایا تب ان پر ان کی برہنگی ظاہر ہوگئی اور اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پھر بھٹک گیا
122پھر اس کے رب نے اسے سرفراز کیا پھر اس کی توبہ قبول کی اور راہ دکھائی
123فرمایا تم دونوں یہاں سے نکل جاؤ تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہے پھر اگرتمہیں میری طرف سے ہدایت پہنچے پھر جو میری ہدایت پر چلے گا تو گمراہ نہیں ہو گا اور نہ تکلیف اٹھائے گا
124اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھا ئيں گے
125کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں بینا تھا
126فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں پہنچی تھیں پھر تو نے انھیں بھلا دیا تھا اور اسی طرح آج تو بھی بھلایا گیا ہے
127اور اسی طرح ہم بدلہ دیں گے جو حد سے نکلا اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہیں لیا اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا سخت اور دیرپا ہے
128سو کیا انہیں اس بات سے بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے کئی جماعتیں ہلاک کر دی ہیں یہ لوگ ان کی جگہوں پر پھرتے ہیں بیشک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں
129اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے شدہ نہ ہوتی اور معیاد معین نہ ہوتی تو عذاب لازمی طور پر ہوتا
130پس صبر کر اس پر جو کہتے ہیں اور سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں اور دن کے اول اور آخر میں تسبیح کر تاکہ تجھے خوشی حاصل ہو
131اور تو اپنی نظر ان چیزو ں کی طرف نہ دوڑا جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے سامان دے رکھے ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزمائیں او رتیرے رب کا رزق بہتر اور دیرپا ہے
132اور اپنے گھر والو ں کو نماز کا حکم کر اور خود بھی اس پر قائم رہ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے روزی دیتے ہیں اور پرہیزگاری کا انجام اچھا ہے
133اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پاس اپنے رب سے کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتا کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی شہادت نہیں پہنچی
134اور اگر ہم انہیں اس سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو کہتے اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم ذلیل و خوار ہونے سے پہلے تیرے حکموں پر چلتے
135کہہ دو ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو آئندہ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھی راہ پر کون ہے اور ہدایت پانے والا کون ہے
Chapter 21 (Sura 21)
1لوگو ں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے اوروہ غفلت میں پڑ کر منہ پھیرنے والے ہیں
2ان کے رب کی طرف سمجھانے کے لیے کوئی ایسی نئی بات ان کے پاس نہیں آتی کہ جسے سن کر ہنسی میں نہ ٹال دیتے ہوں
3ان کے دل کھیل میں لگے ہوئے ہیں اور ظالم پوشیدہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تمہاری طرح ایک انسان ہی تو ہے پھر کیا تم دیدہ دانستہ جادو کی باتیں سنتے جاتے ہو
4رسول نے کہا میرا رب آسمان اور زمین کی سب باتیں جانتا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
5بلکہ کہتے ہیں کہ یہ بیہودہ خواب ہیں بلکہ اس نے جھوٹ بنایا ہے بلکہ وہ شاعر ہے پھر چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جس طرح پہلے پیغمبر بھیجے گئے تھے
6ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہیں لائی تھی جسے ہم نے ہلاک کیا کیا اب یہ ایمان لائیں گے
7اور ہم نے تم سے پہلے بھی تو آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا ان کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھ لو
8او رہم نے ان کے ایسے بدن بھی نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانانہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے
9پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کر دیا تب انہیں اور جسے ہم نے چاہا نجات دی اور ہم نے حد سے بڑھنے والوں کوہلاک کر دیا
10البتہ تحقیق ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہاری نصیحت ہے کیا پس تم نہیں سمجھتے
11اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ظالم تھیں غارت کر دیا ہے اور ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں
12پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ فوراً وہاں سے بھاگنے لگے
13مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں جاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے
14کہنے لگے ہائے ہماری کم بختی بے شک ہم ہی ظالم تھے
15سو ان کی یہی پکار رہی یہاں تک کہ ہم نے انہیں ایسا کر دیا جس طرح کھیتی کٹی ہوئی ہو اور وہ بجھ کر رہ گئے
16اور ہم نے آسمان اور زمین کو اورجو کچھ ان کے بیچ میں ہے کھیلتے ہوئے نہیں بنایا
17اور اگر ہم کھیل ہی بنانا چاہتے تو اپنے پا س کی چیزوں کو بناتے اگر ہمیں یہی کرنا ہوتا
18بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں پھر وہ باطل کا سر توڑ دیتا ہے پھر وہ مٹنے والا ہوتا ہے او رتم پر افسوس ہے ان باتوں سے جو تم بناتے ہو
19اور اسی کا ہے جو کوئي آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے ہاں ہیں اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتےاور نہ تھکتے ہیں
20رات اور دن تسبیح کرتے ہیں سستی نہیں کرتے
21کیاانہوں نے زمین کی چیزوں سے ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو زندہ کریں گے
22اگر ان دونوں میں الله کے سوا اور معبود ہوتے تو دونوں خراب ہو جاتے سو الله عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں
23جو کچھ وہ کرتاہے اس سے پوچھا نہیں جاتا اور وہ پوچھے جاتے ہیں
24کیا انہوں نے اس کے سوا اور بھی معبود بنا رکھے ہیں کہہ دو اپنی دلیل لاؤ یہ میرے ساتھ والو ں کی کتاب اور مجھ سے پہلے لوگوں کی کتابیں موجود ہیں بلکہ اکثران میں سے حق جانتے ہی نہیں اس لیے منہ پھیرے ہوئے ہیں
25اور ہم نے تم سے پہلے ایسا کوئی رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں سومیری ہی عبادت کرو
26اور کہتے ہیں کہ الله نے اولاد بنا رکھی ہے وہ پاک ہے لیکن وہ معزز بندے ہیں
27بات کرنے میں اس سے پیش قدمی نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کام کرتے ہیں
28وہ جانتا ہے جو ان کے آگے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ شفاعت بھی نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جس سے وہ خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں
29اورجو کوئی ان میں سے یہ کہے کہ بے شک میں اس کے سوا خدا ہوں تو اسی پر ہم اسے جہنم کی سزاد یں گے ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں
30کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا اورہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے
31اورہم نے زمین میں بھاری پہاڑ رکھ دیئے تاکہ انہیں لے کر داھر اُدھر نہ جھکنے پائے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں بنا دی ہیں تاکہ وہ راہ پائیں
32اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا اور وہ آسمان کی نشانیوں سے منہ موڑنے واے ہیں
33اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے سب اپنے اپنے چکر میں پھرتے ہیں
34اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رہنے نہیں دیا پھر کیا اگر تو مر گیا تو وہ رہ جائیں گے
35ہر ایک جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تمہیں برائی اوربھلائی سے آزمانے کے لیے جانچتے ہیں اورہماری طرف لوٹائے جاؤ گے
36اور جہاں تمہیں کافر دیکھتے ہیں تو انہیں تجھ سے سوائے ٹھٹھا کرنے کے اور کوئی کام نہیں کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا نام لیتا ہے اور وہ رحمان کے نام سے منکر ہیں
37آدمی جلد باز بنایا گیا ہے میں تمہیں اپنی نشانیاں ابھی دکھاتا ہوں سو جلدی مت کرو
38ور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو
39کاش یہ منکر اس وقت کو جان لیں کہ اپنے مونہوں اوراپنی پیٹھوں سے آگ کو روک نہیں سکیں گے اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے
40بلکہ وہ ان پر ناگہان آئے گی پھر وہ ان کے ہوش کھو دے گی پھر نہ اسے ٹال سکیں گے اورنہ انہیں مہلت دی جائے گی
41اور تجھ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا ہے پھر جس عذاب کی بابت وہ ہنسی کیا کرتے تھے ان ٹھٹھا کرنے والوں پر وہی آ پڑا
42کہہ دو تمہاری رات اور دن میں رحمان سے کون نگہبانی کرتا ہے بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑنے والے ہیں
43کیا ہم سے ان کےمعبود انہیں بچائے رکھتے ہیں وہ تو خود اپنی بھی مدد نہیں کر سکتے اورنہ ہمارے مقابلہ میں ان کا کوئی ساتھ دے گا
44بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر ایک عرصہ دراز گزر گیا کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بے شک ہم زمین کو ہر طرف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں سو کیا یہ لوگ غالب آنے والے ہیں
45کہہ دو کہ میں تو صرف وحی کے ذریعہ سے تمہیں ڈراتا ہوں اور یہ بہرے جس وقت ڈرائے جاتے ہیں سنتے ہی نہیں
46اور البتہ اگر انہیں تیرے رب کا عذاب کا ایک جھونکا بھی لگ جائے تو ضرور کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی بے شک ہم ظالم تھے
47اور قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازو قائم کریں گے پھرکسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی عمل ہو گا تو اسے بھی ہم لے آئیں گے اور ہم ہی حساب لینے کے لیے کافی ہیں
48اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ کرنے والی اور روشنی دینے والی اور پرہیز گاروں کو نصیحت کرنے والی کتاب دی تھی
49جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھنے والے ہیں
50اور یہ ایک مبارک نصیحت ہے جسے ہم نازل کیاہے پھر کیا تم اس کے بھی منکر ہو
51اور ہم نے پہلے ہی سے ابراھیم کو اس کی صلاحیت عطا کی تھی اور ہم اس سے واقف تھے
52جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیسی مورتیں ہیں جن پر تم مجاور بنے بیٹھے ہو
53انہوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دااد کو انہیں کی پوجا کرتے پایا ہے
54کہا البتہ تحقیق تم اور تمہارے باپ دادا صریح گمراہی میں رہے ہو
55انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس سچی بات لایا ہے یا تو دل لگی کرتا ہے
56کہا بلکہ تمہارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں بنایا ہے اور میں اسی بات کا قائل ہوں
57اور الله کی قسم میں تمہارے بتوں کا علاج کروں گا جب تم پیٹھ پھیر کر جا چکو گے
58پھر ان کے بڑے کے سوا سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تاکہ اس کی طرف رجوع کریں
59انہوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ کس نے یہ کیا ہے بے شک وہ ظالموں میں سے ہے
60انہو ں نے کہا ہم نے سنا ہے کہ ایک جو ان بتوں کو کچھ کہا کرتا ہے اسے ابراھیم کہتے ہیں
61کہنے لگے اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ دیکھیں
62کہنے لگے اے ابراھیم کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے
63کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں
64پھر وہ اپنے دل میں سوچ کر کہنے لگے بے شک تم ہی بے انصاف ہو
65پھر انہو ں نے سر نیچا کر کے کہا تو جانتا ہے کہ یہ بولا نہیں کرتے
66کہا پھر کیا تم الله کے سوا اس چیز کی پوجا کرتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے سکےاور نہ نقصان پہنچا سکے
67میں تم سے اور جنہیں الله کے سوا پوجتے ہو بیزار ہوں پھر کیا تمھیں عقل نہیں ہے
68انھوں نے کہا اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو
69ہم نے کہا اے آگ ابراھیم پر سرد اورراحت ہو جا
70اور انہوں نے اس کی برائی چاہی سو ہم نے انہیں ناکام کر دیا
71اور ہم اسے اورلوط کو بچا کراس زمین کی طرف لے آئے جس میں ہم نے جہان کے لیے برکت رکھی ہے
72اور ہم نے اسے اسحاق بخشا اور انعام میں یعقوب دیا اور سب کونیک بخت کیا
73اورہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کیا کرتے تھے اور ہم نے انہیں اچھے کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰة دینے کا حکم دیا تھا اور وہ ہماری ہی بندگی کیا کرتے تھے
74اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا تھا اور ہم اسے اس بستی سے جو گندے کام کیا کرتی تھی بچا کر لے آئے بے شک وہ لوگ برے نافرمانی کرنے والے تھے
75اوراسے ہم نے اپنی رحمت میں لے لیا بے شک وہ نیک بختوں میں سے تھا
76اور نوح کو جب اس نے اس سے پہلے پکارا پھر ہم نے اس کی دعا قبول کر لی پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو گھبراہٹ سے بچا لیا
77اور ہم نے اس کی مدد کی ان لوگوں پر جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے بے شک وہ بُرے لوگ تھے پھر ہم نے ان سب کو غرق کر دیا
78اور داؤد اور سلیمان کو جب وہ کھیتی کے جھگڑا میں فیصلہ کرنے لگے جب کہ اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت جا پڑیں اور ہم اس فیصلہ کو دیکھ رہے تھے
79پھر ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا اور ہر ایک کو ہم نے حکمت اور علم دیا تھا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑ او رپرندے تابع کیے جو تسبیح کیا کرتے تھے اور یہ سب کچھ ہم ہی کرنے والے تھے
80اور ہم نےاسے تمہارے لیے زر ہیں بنانا بھی سکھایا تاکہ تمہیں لڑائی میں محفوظ رکھیں پھر کیا تم شکر کرتے ہو
81اور زور سے چلنے والی ہوا سلیمان کے تابع کی جو اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی جہاں ہم نے برکت دی ہے اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں
82اورتو کچھ ایسے جن تھے جو دریا میں اس کے واسطے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے
83اورجب کہ ایوب نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے روگ لگ گیا ہے حالانکہ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
84پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اورجواسے تکلیف تھی ہم نے دور کر دی اور اسے اس کے گھر والے دیئے اور اتنا ہی ان کے ساتھ اپنی رحمت سے اوربھی دیا اور عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے
85اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو یہ سب صبر کرنے والے تھے
86اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا بے شک وہ نیک بختوں میں سے تھے
87اور مچھلی والے کو جب غصہ ہو کر چلا گیا پھر خیال کیا کہ ہم اسے نہیں پکڑیں گے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو بے عیب ہے بے شک میں بے انصافوں میں سے تھا
88پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم ایمان داروں کو یونہی نجات دیا کرتے ہیں
89اور ذکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے
90پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کے لیے اس کی بیوی کو درست کر دیا بے شک یہ لوگ نیک کاموں میں دوڑ پڑتے تھے اور ہمیں امید اور ڈر سے پکارا کرتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے
91اوروہ عورت جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اسے اور اس کے بیٹے کو جہان کے لیے نشانی بنایا
92یہ لوگ تمہارے گروہ کے ہیں جو ایک ہی گروہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں پھر میری ہی عبادت کرو
93اور ان لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کر لیا سب ہمارے پاس ہی آنے والے ہیں
94پھر جو کوئی اچھے کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائگان نہ جائے گی اوربے شک ہم اس کے لکھنے والے ہیں
95اورجن بستیوں کو ہم فنا کر چکے ہیں ان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ پھر لوٹ کر آئيں
96یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے چلے آئيں گے
97اور سچا وعدہ نزدیک آ پہنچے گا پھر اس وقت منکرو ں کی آنکھیں اوپر لگی رہ جائیں گی ہائے کم بختی ہماری بے شک ہم تو اس سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم ہی ظالم تھے
98بے شک تم اور الله کے سوا جو کچھ پوجتے ہو دوزخ کا ایندھن ہے تم سب اس میں داخل ہو گے
99اگر یہ معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
100ان کے لیے دوزخ میں چیخیں ہو ں گی اوروہ اس میں کچھ نہیں سنیں گے
101بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہو چکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے
102اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانی مرادوں میں ہمیشہ رہیں گے
103اور انہیں بڑا بھاری خوف بھی پریشان نہیں کرے گا اور ان سے فرشتے آ ملیں گے یہی وہ تمہارا دن ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا
104جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے جس طرح ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا دوبارہ بھی پیدا کریں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے بے شک ہم پورا کرنے والے ہیں
105اور البتہ تحقیق ہم نصیحت کے بعد زبور میں لکھ چکے ہیں کہ بے شک زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے
106بےشک اس میں خدا پرستوں کے لیے ایک پیغام ہے
107او رہم نے توتمہیں تمام جہان کے لوگوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے
108کہہ دو مجھے تو یہی حکم آیا ہے کہ تمہارا معبود ایک معبود ہے پھر کیا اس کے آگے سر جھکاتے ہو
109پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ میں نے یکساں طور پر خبر دے دی ہے اورمجھے معلوم نہیں کہ نزدیک ہے یا دور ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
110بے شک وہ جانتا ہے جو بات پکار کر کہو اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو
111اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لیے امتحان ہو اور ایک وقت تک دنیا کا فائدہ پہنچانا منظور ہو
112کہ اے رب انصاف کا فیصلہ کر دے اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے اسی سے مدد مانگتے ہیں ان باتوں پر جو تم بیان کرتے ہو
Chapter 22 (Sura 22)
1اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ ایک بڑی چیز ہے
2جس دن اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تجھے لوگ مدہوش نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے لیکن الله کا عذاب سخت ہوگا
3اور بعضے لوگ وہ ہیں جو الله کے معاملے میں بے سمجھی سے جھگڑتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کے کہنے پر چلتے ہیں
4جس کے حق میں لکھاجا چکا ہے کہ جو اسے یار بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کر کے رہے گا اور اسے دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا
5اے لوگو اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے تو ہم نے تمہیں مٹی سے پھر قطرہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی نقشہ بنی ہوئی اور بغیر نقشہ بنی ہوئی سے بنایا تاکہ ہم تمہارے سامنے ظاہر کر دیں اور ہم ر حم میں جس کو چاہتے ہیں ایک مدت معین تک ٹھیراتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور کچھ تم میں سے مرجاتے ہیں اور کچھ تم میں سے نکمی عمر تک پہنچائے جاتے ہیں کہ سمجھ بوجھ کا درجہ پاکر ناسمجھی کی حالت میں جا پڑتا ہے اور تم زمین کوسوکھی دیکھتے ہو پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو تر و تازہ ہو جاتی ہے او رہر قسم کے خوش نمانباتات اُگ آتے ہیں
6یہ اس لیے ہے کہ الله ہی برحق ہے اور مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر بات پر قادر ہے
7اور بے شک قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور بے شک الله قبروں والوں کو دوبارہ اٹھائے گا
8اور بعضاً وہ شخص ہے جو الله کے معاملہ میں بے سمجھی اور دلیل اور روشن کتاب کے بغیر تکبر سے جھگڑتا ہے
9تاکہ الله کی راہ سے بہکائے اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن بھی ہم اسے دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھاویں گے
10یہ تیرے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے اور بےشک الله بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں
11اور بعض وہ لوگ ہیں کہ الله کی بندگی کنارے پر ہو کر کرتے ہیں پھر اگر اسے کچھ فائدہ پہنچ گیا تو اس عبادت پر قائم ہو گیا اور اگر تکلیف پہنچ گئی تو منہ کے بل پھر گیا دنیا اور آخرت گنوائی یہی وہ صریح خسارا ہے
12الله کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے ضرر دے سکے اور نہ اسے فائدہ پہنچا سکے یہی وہ پرلے درجہ کی گمراہی ہے
13ایسے کو پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے نزدیک تر ہے ایسا کارساز بھی برا اور ایسا رفیق بھی برا ہے
14بے شک الله ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی بے شک الله جو چاہتا ہے کرتا ہے
15جسے یہ خیال ہو کہ الله دنیا اور آخرت میں اس کی ہرگز مدد نہ کرے گااسے چاہیے کہ چھت میں ایک رسی لٹکائے پھر اسے کاٹ دے پھر دیکھے کہ اس کی تدبیر اس کے غصہ کو دور کرتی ہے
16اور اسی طرح ہم نےاس قرآن کو واضح آیتیں بنا کر نازل کیا ہے اور بے شک الله جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے
17بے شک الله مسلمانوں اور یہودیوں اور صابیوں اور عیسائیوں اورمجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا بےشک ہر چیز الله کے سامنے ہے
18کیا تم نےنہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچار پائے اور بہت سے آدمی الله ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ہیں کہ جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جسے الله ذلیل کرتا ہے پھر اسے کوئی عزت نہیں دےسکتا بے شک الله جو چاہتا ہے کرتا ہے
19یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں پھر جو منکر ہیں ان کے لیے آگ کے کپڑے قطع کیے گئے ہیں اور ان کےسروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا
20جس سے جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے اور کھالیں جھلس دی جائیں گی
21اور ان پر لوہے کے گرز پڑیں گے
22جب گھبرا کر وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور دوزخ کا عذاب چکھتے رہو
23بے شک الله ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائیں جائیں گے اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا
24اور انہوں نے عمدہ بات کی راہ پائی اور تعریف والے الله کی راہ پائی
25بے شک جو منکر ہوئے اور لوگوں کو الله کے راستہ اور مسجد حرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگو ں کے لیے بنایا ہے وہاں اس جگہ کا رہنے والا اورباہروالادونوں برابر ہیں اور جو وہاں ظلم سے کجروی کرنا چاہے تو ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے
26اور جب ہم نے ابراھیم کے لیے کعبہ کی جگہ معین کر دی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کراور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھ
27اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے کہ تیرے پاس پا پیادہ او رپتلے دُبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں
28تاکہ اپنے فائدوں کے لیے آموجود ہوں اورتاکہ جو چار پائے الله نےانہیں دیے ہیں ان پر مقررہ دنوں میں الله کا نام یاد کریں پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ
29پھر چاہیئے کہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں
30یہی حکم ہے اور جو الله کی معزز چیزوں کی تعظیم کرے گا سو یہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں مگر وہ جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں پھر بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرو
31خاص الله کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو الله کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے
32بات یہی ہے اور جو شخص الله کی نامزد چیزوں کی تعظیم کرتا ہے سو یہ دل کی پرہیز گاری ہے
33تمہارے لیے ان میں ایک وقت معین تک فائدے ہیں پھر اس کے ذبح ہونے کی جگہ قدیم گھر کے قریب ہے
34اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کر دی تھی تاکہ الله نے جو چار پائے انہیں دیے ہیں ان پر الله کا نام یاد کیا کریں پھر تم سب کا معبود تو ایک الله ہی ہے پس اس کے فرمانبردار رہو اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو
35وہ لوگ جب الله کا نام لیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر مصیبت آئے تو صبر کرنے والے ہیں اور نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
36اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اونٹ کو الله کی نشانیوں میں سے بنایا ہے تمہارے لیے ان میں فائدے بھی ہیں پھر ان پر الله کا نام کھڑا کر کے لو پھر جب وہ کسی پہلو پر گر پڑیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور سائل کو بھی کھلاؤ الله نے انہیں تمہارے لیے ایسا مسخر کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو
37الله کو نہ ان کا گوشت اور نہ ان کا خون پہنچتا ہے البتہ تمہاری پرہیز گاری اس کے ہاں پہنچتی ہے اسی طرح انہیں تمہارے تابع کر دیا تاکہ تم الله کی بزرگی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور نیکوں کو خوشخبری سنا دو
38بیشک الله ایمان والوں سے دشمنوں کو ہٹا دے گا الله کسی دغا باز نا شکر گزار کو پسند نہیں کرتا
39جن سے کافر لڑتے ہیں انہیں بھی لڑنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک الله ان کی مدد کرنے پر قادر ہے
40وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے صرف اس کہنے پر کہ ہمارا رب الله ہے اور اگر الله لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا تو تکیئے اور مدرسے اورعبادت خانے اور مسجدیں ڈھا دی جاتیں جن میں الله کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے اور الله ضرور اس کی مدد کر ے گا جو اللہ کی مددکرے گابیشک الله زبردست غالب ہے
41وہ لوگ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو الله کے ہی ہاتھ میں ہے
42اور اگر تمہیں جھٹلائیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود
43اور ابراھیم کی قوم اور لوط کی قوم
44اور مدین والے اپنے اپنے نبی کو جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا پھر میں نے منکروں کو مہلت دی پھر میں نے انہیں پکڑا پھر میری پکڑ کیسی تھی
45سو کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں اور وہ گناہ گار تھیں اب وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنوئیں نکمے اور کتنے پکے محل اجڑے اجڑے پڑے ہیں
46کیا انھوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے ایسے دل ہوجاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں
47اور تجھ سے عذاب جلدی مانگتے ہیں اور الله اپنے وعدہ کا ہرگز خلاف نہیں کرے گا اور ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار برس کے برابر ہوتا ہے جوتم گنتے ہو
48اور کتنی بستیوں کو میں نے مہلت دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا اور میری طرف ہی پھر کر آنا ہے
49کہہ دو اے لوگو میں تو صرف تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں
50پھر جو لوگ ایمان لائے اوراچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے
51اور جنہوں نے ہماری آیتیوں کے پست کرنے میں کوشش کی وہی دوزخی ہیں
52اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی بھی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ جس نے جب کوئی تمنا کی ہو اور شیطان نے اس کی تمنا میں کچھ آمیزش نہ کی ہو پھر الله ّ شیطان کی آمیزش کو دور کرکے اپنی آیتوں کو محفوظ کردیتا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
53تاکہ شیطان کی آمیزش کو ان لوگوں کے لیے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بے شک ظالم بڑی ضدی میں پڑے ہوئے ہیں
54اور تاکہ علم والے اسے تیرے رب کی طرف سے حق سمجھ کر ایمان لے آئیں پھر ان کے دل اس کے لیے جھک جائیں اور بیشک الله ایمان داروں کو سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والا ہے
55اور منکر قرآن کی طرف سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت یکاک ان پر آ مودجود ہو یا منحوس دن کا عذاب ان پر نازل ہو
56اس دن الله ہی کی حکومت ہوگی وہی ان میں فیصلہ کر لے گا پھر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے
57اورجو منکر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا سو انکے لیے ذلت کا عذاب ہے
58اور جنہوں نے الله کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کیے گئے یا مر گئے البتہ انہیں الله اچھا رزق دے گا اور بے شک الله سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
59البتہ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جسے پسند کریں گے اور بیشک الله جاننے والا بردبار ہے
60بات یہ ہے اور جس نے اسی قدر بدلہ لیا جس قدر اسے تکلیف دی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی گئی تو الله ضرور اس کی مد کرے گا بے شک الله درگزر کرنے والا معاف کرنے والا ہے
61وہ اس لیے کہ الله رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کیا کرتا ہے اور بے شک الله سننے والا دیکھنے والا ہے
62یہ اس لیے کہ حق الله ہی کی ہستی ہے اور جنہیں اس کے سوا پکارتے ہیں باطل ہیں اور بے شک الله ہی بلند مرتبہ بڑائی والا ہے
63کیا تو نے نہیں دیکھا کہ الله نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر زمین سرسبز ہوجاتی ہے بے شک الله مہربان خبردار ہے
64جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور بے شک الله وہی بے نیاز قابل تعریف ہے
65کیا تم نے نہیں دیکھا کہ الله نے زمین کی سب چیزوں اور کشتیوں کو تمہارے تابع کر دیا ہےجو دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہیں اور آسمان کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے مگر اس کے حکم سے بے شک الله لوگوں پر نرمی کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے
66اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا بے شک انسان البتہ بڑا ہی نا شکرا ہے
67ہم نے ہر قوم کے لیے ایک دستور مقرر کر دیا ہے جس پر وہ چلتے ہیں پھر انہیں تمہارے ساتھ اس معاملہ میں جھگڑنا نہ چاہیئے اور اپنے رب کی طرف بلا بے شک تو البتہ سیدھے راستہ پر ہے
68اور اگر تجھ سے جھگڑا کریں تو کہہ دے الله بہتر جانتا ہے جو تم کرتے ہو
69الله قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے
70کیا تجھے معلوم نہیں کہ الله جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے یہ سب کتاب میں لکھا ہوا ہے یہ الله پر آسان ہے
71اور الله کے سوا ایسی چیزکو پوجتے ہیں جس پر اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور نہ انکے پاس کوئی اس کا علم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا
72اور جب انہیں ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جائیں تو تم منکروں کے چہروں میں ناراضگی دیکھو گے قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کر دیں کہہ دو کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر بات بتاؤں آگ ہے کہ جس کا الله نے منکروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ بری جگہ ہے
73اے لوگو ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو جنہیں تم الله کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ وہ سب اس کے لیے جمع ہوجائیں اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے تو اسے مکھی سے چھڑا نہیں سکتے عابد اور معبود دونوں ہی عاجز ہیں
74انہوں نے الله کی کچھ بھی قدر نہ کی بے شک الله زوروالا غالب ہے
75فرشتوں اور آدمیوں میں سے الله ہی پیغام پہنچانے کے لیے چن لیتا ہے بے شک الله سننے والا دیکھنے والا ہے
76وہ ان کے اگلے اور پچھلے حالات جانتا ہے اور سب کاموں کا مدار الله پر ہے
77اے ایمان والو رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلائی کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو
78اور الله کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی تمہارے باپ ابراھیم کا دین ہے اسی نے تمہارا نام پہلے سےمسلمان رکھا تھااوراس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگو ں پر گواہ بنو پس نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور الله کو مضبوط ہو کر پکڑو وہی تمہارا مولیٰ ہے پھر کیا ہی اچھامولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار ہے
Chapter 23 (Sura 23)
1ٰبے شک ایمان والے کامیاب ہو گئے
2جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں
3اور جو بے ہودہ باتو ں سے منہ موڑنے والے ہیں
4اور جو زکواة دینے والے ہیں
5اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں
6مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر اس لیے کہ ان میں کوئی الزام نہیں
7پس جو شخص اس کے علاوہ طلب گار ہو تو وہی حد سے نکلنے والے ہیں
8اور جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدہ کا لحاظ رکھنے والے ہیں
9اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں
10وہی وارث ہیں
11جو جنت الفردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے
12اور البتہ ہم نے انسان کومٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا
13پھر ہم نے حفاظت کی جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا
14پھر ہم نے نطفہ کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے لوتھڑے سے گوشت کی بوٹی بنائی پھر ہم نے اس بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت پہنایا پھر اسے ایک نئی صورت میں بنا دیا سو الله بڑی برکت والا سب سےبہتر بنانے والا ہے
15پھر تم اس کے بعد مرنے والے ہو
16پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے
17اورہم ہی نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں اور ہم بنانے میں بے خبر نہ تھے
18اور ہم نے ایک اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر اسے زمین میں ٹھیرایا اور ہم اس کے لے جانے پر بھی قادر ہیں
19پھر ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ اگا دیے جن میں تمہارے بہت سے میوے ہیں اور انہی میں سے کھاتے ہو
20اور وہ درخت جو طور سینا سے نکلتا ہے جو کھانے والوں کے لیے روغن اور سالن لے کر اگتا ہے
21اور بے شک تمہارے لیے چارپایوں میں بھی عبرت ہے کہ ہم تمہیں ان کے پیٹ کی چیزوں میں سے پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں اوربھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے ہو
22اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو
23اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کے پاس بھیجا پھر اس نے کہا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں پھر تم کیوں نہیں ڈرتے
24سواس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ یہ بس تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر الله چاہتا تو فرشتے بھیج دیتا ہم نے اپنے پہلے باب دادا سے یہ بات کبھی نہیں سنی
25یہ تو بس ایک دیوانہ آدمی ہے پس اس کا ایک وقت تک انتظار کرو
26کہا اے میرے رب تو میری مدد کر کیوں کہ انہو ں نے مجھے جھٹلایا ہے
27پھر ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور ابلنے لگے پس تو کشتی میں ہر چیز کا جوڑا نر مادہ اور اپنے گھر والوں کو بٹھا لے مگر ان میں سے وہ شخص جس کے لیے پہلے فیصلہ ہو چکا ہے او رظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات نہ کر بے شک وہ غرق کیے جائیں گے
28پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہے کشتی پر چڑھ بیٹھو تو کہہ الله کا شکر ہے جس نے ہمیں ظالموں سے چھوڑایا
29اور کہہ اے میرے رب مجھے برکت کے ساتھ اتار اور تو بہتر اتارنے والا ہے
30اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں بے شک ہم تو آزمائش کرنے والے تھے
31پھر ہم نے انکے بعد ایک دوسرا دور پیدا کیا
32پھر ان میں بھی انہیں میں سے ایک رسول بھیجا کہ الله کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا اورکوئی معبود نہیں پھر تم کیوں نہیں ڈرتے
33اوراس کی قوم کے سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کیا تھا اور قیامت کی آمد کو جھٹلاتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا کہ یہ بس تمہیں جیسا آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو
34اوراگر تم نےاپنے جیسے آدمی کی فرمانبرداری کی توبے شک تم گھاٹے میں پڑ گئے
35کیا تمہیں وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اورمٹی اور ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے
36بہت ہی بعید بہت ہی بعید بات ہے جو تم سے کہی جاتی ہے
37ہماری صرف یہی دنیا کی زندگی ہے مرتے اور جیتےہیں اور ہم اٹھائے نہیں جائیں گے
38بس یہ ایک ایسا شخص ہے جو الله پر جھوٹ باندھتا ہے اور ہم اسے ماننے والے نہیں ہیں
39کہا اے میرے رب میری مدد کر کہ انہو ں نے مجھے جھٹلایا ہے
40فرمایا تھوڑی دیر کے بعد یہ خود نادم ہوں گے
41پھر انہیں ایک سخت آواز نے سچے وعدہ کا موافق آ پکڑا پھر ہم نے انہیں خس و خاشاک کر دیا پھر ظالموں پر الله کی پٹکار ہے
42پھر ہم نے ان کے بعد اوربہت سے دور پیدا کیے
43کوئی جماعت نہ اپنے وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے
44پھر ہم اپنے رسول لگاتار بھیجتے رہے جب کوئی رسول اپنی قوم کے پاس آیا وہ اسے جھٹلاتی ہی رہی پھر ہم بھی ایک کے بعد دوسری کو ہلاک کرتے گئے اور ہم نے ان کو افسانے بنا دیے پھر ان لوگوں پر پھٹکار ہے جو ایمان نہیں لاتے
45پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی سند دے کر
46فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے
47پھر کہا کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان لائیں جن کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہو
48پھر ان دونوں کو جھٹلایا پھر ہلاک کر دیے گئے
49اور البتہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ ہدایت پائیں
50اور ہم نے مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو نشانی بنایا تھا اور انہیں ایک ٹیلہ پر جگہ دی جہاں ٹھیرےنے کا موقع اور پانی جاری تھا
51ا ے رسولو! ستھری چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو بے شک میں جانتا ہوں جو تم کرتے ہو
52اور بے شک یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں پس مجھ سے ڈرو
53پھر انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر ایک جماعت اس ٹکڑے پو جو ان کے پاس ہے خوش ہونے والے ہیں
54پھر ایک وقت تک انہیں اپنے نشہ میں پڑا رہنے دو
55کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انہیں مال اور اولاد میں ترقی دے رہے ہیں
56انہیں فائدہ پہچانے میں جلدی کر رہے ہیں بلکہ یہ نہیں سمجھتے
57بے شک جو اپنے رب کی ہیبت سے ڈرنے والے ہیں
58اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں
59اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے
60اور جو دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل اس سے ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں
61یہی لوگ نیک کامو ں میں جلدی کرتے ہیں اور وہی نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں
62اور ہم کسی پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سچ بولے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
63بلکہ ان کے دل اس سے بے ہوشی میں پڑے ہوئے ہیں اوراس کے سوا ان کے اوربھی کام ہیں کہ جنہیں وہ کیا کرتے ہیں
64یہاں تک کہ جب ہم ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے فوراً وہ چلائیں گے
65آج کے دن مت چلاؤ بے شک تم ہم سے چھڑائے نہ جاؤ گے
66تمہیں میری آیتیں سنائی جاتی تھیں پھر تم ایڑیوں پر الٹے بھاگتے تھے
67غرور میں آ کر اسے کہانی سمجھ کر چلے جایا کرتے تھے
68کیا انہوں نے اس ارشاد میں غور ہی نہیں کیا یا ان کے پاس ایسی بات آئی ہے جو ان کے پہلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی
69یا یہ لوگ اپنے رسول کو پہچانتے نہیں تب یہ اس کے منکر ہیں
70یا کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے بلکہ رسول ان کے پاس حق بات لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں
71اوراگر حق ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتا تو آسمان اور زمین میں اورجو کچھ ان میں ہے درہم برہم ہو گیا ہوتا بلکہ ہم نے تو ان کی نصیحت انہیں پہنچا دی ہے سو وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں
72کیا تو ان سے کچھ اجرت مانگتا ہے سو تیرے رب کی اجرت بہتر ہے اور وہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے
73اوربے شک تو انہیں سیدھے راستہ کی طرف بلاتا ہے
74اور جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے سیدھے راستہ سے ہٹنے والے ہیں
75اور اگر ہم ا ن پر رحم کر کے ان کی تکلیف کو دور کر دیں تو بھی وہ اپنی سرکشی میں گمراہ پڑے رہیں گے
76اور البتہ ہم نے انہیں عذاب میں مبتلا بھی کیا پھر بھی اپنے رب کے سامنے عاجزی نہ کی اورنہ گڑگڑائے
77یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھولا تو فوراً اس میں نا امید ہوگئے
78اور اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائےہیں تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو
79اور اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا رکھا ہے اور اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے
80اور وہی زندہ کرتا ہے اورمارتا ہے اور رات اور دن کا بدلنا اسی کی اختیار میں ہے سو کیا تم نہیں سمجھتے
81بلکہ وہی کہتے ہیں جو پہلے لوگ کہتے تھے
82کہتے ہیں کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے
83اس کا تو ہم سے اوراس سے پہلے اور ہمارے باپ دادا سے وعدہ ہوتا چلاآیا ہے یہ صرف اگلےلوگوں کی کہانیاں ہیں
84ان سے پوچھو یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کا ہے اگر تم جانتے ہو
85وہ فوراً کہیں گے الله کاہے کہہ دو پھر تم کیوں نہیں سمجھتے
86ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے
87وہ فوراً کہیں گے الله ہے کہہ دوکیاپھر تم الله سے نہیں ڈرتے
88ان سے پوچھو کہ ہر چیز کی حکومت کس کے ہاتھ میں ہے اور وہ بچا لیتا ہے اور اسے کوئی نہیں بچا سکتا اگر تم جانتے ہو
89وہ فوراً کہیں گے الله ہی کے ہاتھ میں ہے کہہ دو پھرتم کیسے دیوانے ہو رہے ہو
90بلکہ ہم نے تو ان کے پاس حق بات پہنچا دی اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں
91الله نے کوئی بھی بیٹا نہیں بنایا اورنہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہی ہے اگر ہوتا تو ہر خدا اپنی بنائی ہوئی چیز کو الگ لے جاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا الله پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں
92غائب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے وہ بہت بلند ہے اس سے جسے یہ شریک بناتے ہیں
93کہہ دو اے میرے رب اگر تو مجھے دکھائے وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جارہا ہے
94تو اے میرے رب مجھے ظالموں میں شامل نہ کر
95اور ہم اس پر قادر ہیں کہ تجھے دکھا دیں جو ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے
96بری بات کے جواب میں وہ کہو جو بہتر ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں
97اور کہواے میرے رب میں شیطانی خطرات سے تیری پناہ مانگتا ہوں
98اوراےمیرے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس آئيں
99یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے گی تو کہے گا اے میرے رب مجھے پھر بھیج دے
100تاکہ جسے میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک کام کر لوں ہر گز نہیں ایک بات ہی بات ہے جسے یہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے قیامت تک ایک پردہ پڑا ہوا ہے
101پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن ان میں نہ رشتہ داریاں رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا
102پھر جن کا پلہ بھاری ہوا تو وہی فلاح پائیں گے
103اورجن کا پلہ ہلکا ہوگا تو وہی یہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کیا ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہوں گے
104ان کے مونہوں کو آگ جھلس دے گی اور وہ اس میں بدشکل ہونے والے ہوں گے
105کیا تمہیں ہماری آیتیں نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم انہیں جھٹلاتے تھے
106کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی تھی اور ہم لوگ گمراہ تھے
107اے رب ہمارے ہمیں اس سے نکال دے اگر پھر کریں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے
108فرمائے گا اس میں پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے نہ بولو
109میرے بندوں میں سے ایک گروہ تھا جو کہتے تھے اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کرو اور تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے
110سو تم نے ان کی ہنسی اڑائی یہا ں تک کہ انہوں نے تمہیں میری یاد بھی بھلادی اور تم ان سے ہنسی ہی کرتے رہے
111آج میں نے انہیں ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہوئے
112فرمائے گا تم زمین پر گنتی کے کتنےبرس رہے
113کہیں گے ایک دن یا اس سے بھی کم رہے ہیں پس آپ گنتی کرنے والوں سے پوچھ لیں
114فرمائے گا تم اس میں بہت نہیں تھوڑا ہی رہے ہو کاش کہ تم سمجھ لیتے
115سو کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں نکما پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آؤ گے
116سو الله بہت ہی عالیشان ہے جو حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں عرش عظیم کا مالک ہے
117اور جس نے الله کے ساتھ اور معبو کو پکارا جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں تو اس کا حساب اسی کے رب کے ہاں ہوگا بے شک کافر نجات نہیں پائیں گے
118اورکہو اے میرے رب معاف کر اور رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے
Chapter 24 (Sura 24)
1یہ ایک سورت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے احکام ہم نے ہی فرض کئے ہیں اور ہم نے اس میں صاف صاف آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم سمجھو
2بدکار عورت اور بدکار مرد سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو دُرّے مارو اور تمہیں الله کے معاملہ میں ان پر ذرا رحم نہ آنا چاہیئے اگر تم الله پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہیئے
3بدکار مرد سوائے بدکار عورت یا مشرکہ کے نکاح نہیں کرے گا اور بدکار عورت سے سوائے بد کار مرد یا مشرک کے اور کوئی نکاح نہیں کرے گا اور ایمان والوں پر یہ حرام کیا گیا ہے
4اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو انہیں اسّی درے مارو اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور وہی لوگ نافرمان ہیں
5مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کر لی اور درست ہو گئے تو بے شک الله ہی بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
6او رجو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے لیے سوائے اپنے اورکوئی گواہ نہیں تو ایسے شخص کی گواہی کی یہ صورت ہے کہ چار مرتبہ الله کی قسم کھا کر گواہی دے کہ بے شک وہ سچا ہے
7او رپانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہواگر وہ جھوٹا ہے
8او رعورت کی سزا کو یہ بات دور کر دے گی کہ الله کو گواہ کر کے چار مرتبہ یہ کہے کہ بے شک اس پر الله کا غضب پڑے اگر وہ سچا ہے
9اور پانچویں مرتبہ کہے کہ بے شک اس پر الله کا غضب پڑے اگر وہ سچا ہے
10اور اگر تم پر الله کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ الله توبہ قبول کرنے والا حکمت والا ہے (تو کیا کچھ نہ ہوتا)
11بے شک جو لوگ یہ طوفان لائے ہیں تم ہی میں سے ایک گروہ ہے تم سے اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ان میں سے ہر ایک کے لیے بقدرِ عمل گناہ ہے اور جس نے ان میں سے سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے
12جب تم نے یہ بات سنی تھی تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ نیک گمان کیوں نہ کیا او رکیو ں نہ کہا کہ یہ صریح بہتان ہے
13یہ لوگ اس پرچار گواہ کیو ں نہ لائے پھر جب وہ گواہ نہ لائے تو الله کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں
14اور اگر تم پر الله کا فضل اور دنیا اور آخرت میں اس کی رحمت نہ ہوتی تو اس چرچا کرنے میں تم پر کوئی بڑی آفت پڑتی
15جب تم اسے اپنی زبانوں سے نکالنے لگے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہنی شروع کر دی جس کا تمہیں علم بھی نہ تھا اور تم نے اسے ہلکی بات سمجھ لیا تھا حالانکہ وہ الله کے نزدیک بڑی بات ہے
16اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں تو اس کا منہ سے نکالنا بھی لائق نہیں سبحان الله یہ بڑا بہتان ہے
17الله تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا اگر تم ایمان دار ہو
18اور الله تمہارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
19بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور الله جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
20اور اگرتم پر الله کا فضل اوراس کی رحمت نہ ہوتی اوریہ کہ الله نرمی کرنے والا مہربان ہے (تو کیا کچھ نہ ہوتا)
21اے ایمان والو شیطان کے قدموں پر نہ چلو اورجو کوئی شیطان کے قدموں پرچلے گا سو وہ تو اسے بے حیائی اور بری باتیں ہی بتائے گا اوراگر تم پر الله کا فضل اوراس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا اورلیکن الله جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور الله سننے والا جاننے والا ہے
22اور تم میں سے بزرگی اور کشائش والے اس بات پر قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور الله کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دیا کریں گے اور انہیں معاف کرنا اور درگذر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ الله تمہیں معاف کر دے اور الله بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
23جو لوگ پاک دامنوں بے خبر ایمان والیوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اوران کے لیےبڑا عذاب ہے
24جس دن ان پر ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے
25اس دن الله انہیں انصاف سے پوری جزا دے گا اور جان لیں گے بے شک الله ہی حق بیان کرنے والا ہے
26ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتو ں کے لیے ہیں او رپاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں وہ لوگ اس سے پاک ہیں جو یہ کہتے ہیں ا ن کے لیے بخشش اورعزت کی روزی ہے
27اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو او رگھر والوں پر سلام نہ کر لو یہ تہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
28پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو اپس چلے جاؤ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو الله جانتا ہے
29تم پراس میں کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جہاں کوئی نہیں بستا ان میں تمہارا سامان ہے اور الله جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو
30ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کو بھی محفوظ رکھیں یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے بے شک الله جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں
31اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے اوراپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں اوراپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے اوراے مسلمانو تم سب الله کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
32اور جو تم میں مجرّد ہوں اور جو تمہارے غلام اور لونڈیاں نیک ہوں سب کے نکاح کرادو اگر وہ مفلس ہو ں گے تو الله اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا اور الله کشائش والا سب کچھ جاننے والا ہے
33اور چاہیے کہ پاک دامن رہیں وہ جو نکاح کی توفیق نہیں رکھتے یہاں تک کہ الله انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور تمہارے غلاموں میں سے جو لوگ مال دے کر آزادی کی تحریر چاہیں تو انہیں لکھ دو بشرطیکہ ان میں بہتری کے آثار پاؤ اور انہیں الله کے مال میں سے دو جو اس نے تمہیں دیا ہے اور تمہاری لونڈیاں جو پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدہ کی غرض سے زنا پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کرے گا تو الله ان کے مجبور ہونے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے
34اور البتہ ہم نے تمہارے پاس روشن آیتیں بھیج دی ہیں اور جن میں تم سے پہلوں کے حالات ہیں او رجو پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہیں
35الله آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں چراغ ہو چراغ شیشے کی قندیل میں ہے قندیل گویا کہ موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو روشنی ہے الله جسے چاہتا ہے اپنی روشنی کی راہ دکھاتا ہے اور الله کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور الله ہر چیز کا جاننے والا ہے
36ان گھروں میں جن کی تعظیم کرنے اور ان میں اس کا نام یاد کرنے کا الله نے حکم دیا ان میں صبح اور شام الله کی تسبیح پڑھتے ہیں
37ایسے آدمی جنہیں سوداگری اور خرید و فروخت الله کے ذکر اور نماز کے پڑھنے اور زکوٰة کے دینے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی
38تاکہ الله انہیں ان کے عمل کا اچھا بدلہ دے اور انہیں اپنے فضل سے اور بھی دے اور الله جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے
39اور جو کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے جنگل میں چمکتی ہوئی ریت ہو جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے اسے کچھ بھی نہیں پاتا اور الله ہی کو اپنے پاس پاتا ہے پھر الله نے اس کا حساب پورا کر دیا اور الله جلد حساب لینے والا ہے
40یا جیسے گہرے دریا میں اندھیرے ہوں اس پر ایک لہر چڑھ آتی ہے اس پرایک او رلہر ہے اس کے اوپر بادل ہے اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہیں جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے کچھ بھی دیکھ نہ سکے اور جسے الله ہی نے نور نہ دیا ہو اس کے لیے کہیں نور نہیں ہے
41کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کے رہنے والے اور پرند جو پر پھیلائے اڑتے ہیں سب الله ہی کی تسبیح کرتے ہیں ہر ایک نے اپنی نماز اور تسبیح سمجھ رکھی ہے اور الله جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں
42اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی الله ہی کی ہے اور الله ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
43کیا تو نے نہیں دیکھا الله ہی بادل کو چلاتا ہے پھر اسے ملاتا ہے پھر اسے تہہ بر تہہ کرتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے بیچ میں سے نکلتی ہے اور آسمان سے جو ان میں اولوں کے پہاڑ ہیں ان میں سے اولے برساتا ہے پھر انہیں جس پر چاہتا ہے گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کو لے جائے
44الله ہی رات اور دن کو بدلتا ہے بے شک اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے
45اور الله نے ہر جاندار کو پانی سے بنایا ہے سو بعض ان میں سے اپنےپیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ان میں سے دو پاؤں پر چلتے ہیں اور اور بعض ان میں سے چار پاؤں پر چلتے ہیں الله جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
46البتہ ہم نے کھلی کھلی آیتیں نازل کر دی ہیں اور الله جسے چاہے سیدھے راستہ پر چلاتا ہے
47اور کہتے ہیں ہم الله اور رسول پرایمان لائے اور ہم فرمانبردار ہو گئے پھر ایک گروہ ان میں سے اس کے بعد پھر جاتا ہے اور وہ لوگ مومن نہیں ہیں
48اورجب انہیں الله اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ ان میں فیصلہ کرے تب ہی ایک گروہ ان میں سے منہ موڑنے والے ہیں
49اور اگر انہیں حق پہنچتا ہو تو اس کی طرف گردن جھکائے آتے ہیں
50کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا شک میں پڑے ہیں یا ڈرتے ہیں اس سے کہ ان پر الله اور اس کا رسول ظلم کرے گا بلکہ وہی ظالم ہیں
51مومنوں کی بات تو یہی ہوتی ہے جب انہیں الله اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں
52اور جو شخص الله اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے اور الله سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے بس وہی کامیاب ہونے والے ہیں
53اور الله کی پکی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ انہیں حکم دیں تو سب کچھ چھوڑ کر نکل جائیں کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ دستور کے موافق فرمانبرداری چاہیئے بے شک الله جانتا ہے جو تم کرتے ہو
54کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے
55الله نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جواس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے
56اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
57کافروں کی نسبت یہ خیال نہ کر کہ ملک میں عاجز کر دیں گے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے
58اے ایمان والو تمہارے غلام اور تمہارےوہ لڑکے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تم سے ان تین وقتوں میں اجازت لے کر آیا کریں صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد یہ تین وقت تمہارے پردوں کے ہیں ان کے بعد تم پر اور نہ ان پر کوئی الزام ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے پاس آنے جانے والے ہو اسی طرح الله تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
59اورجب تمہارے لڑکے بلوغ کو پہنچ جائیں انہیں بھی اجازت لے کر آنا چاہیے جس طرح کہ ان سے پہلے لوگ اجازت لے کر آتے ہیں الله اس طرح تمہارے لیے کھول کر احکام بیان کرتا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
60اوروہ بڑی بوڑھی عورتیں جو نکاح کی رغبت نہیں رکھتیں ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت کا اظہار نہ کریں اور اس سے بھی بچیں توان کے لیے بہتر ہے اور الله سننے والا جاننے والا ہے
61اندھے پر اور لنگڑ ے پر اور بیمار پر اور خود تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپ کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کےگھروں سے یا ان گھروں سے جنکی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے تم پر کوئی گناہ نہیں کہ مل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ پھر جب گھروں میں داخل ہونا چاہو تو اپنے لوگوں سے سلام کیا کرو جو الله کی طرف سے مبارک اور عمدہ دعا ہے اسی طرح الله تمہارے لیے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
62مومن تو وہی ہیں جو الله اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور جب وہ اس کے ساتھ کسی جمع ہونے کے کام میں ہوتے ہیں تو چلے نہیں جاتے جب تک اس سے اجازت نہ لیں جو لوگ تجھ سے اجازت لیتے ہیں وہی ہیں جوالله اور اس کے رسول پرایمان لائے ہیں پھر جب تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے تو چاہے عزت دے اور ان کے لیے الله سے بخشش کی دعا کر الله بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
63رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے جیسا نہ سمجھو الله انہیں جانتا ہے جو تم میں سے چھپ کر کھسک جاتے ہیں سو جو لوگ الله کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس سے ڈرنا چاہیئے کہ ان پر کوئی آفت آئے یا ان پر کوئی دردناک عذاب نازل ہوجائے
64خبردار الله ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسے معلوم ہے جس حال پر تم ہو اور جس دن اس کی طرف پھیر لائے جائیں گے تو انہیں بتائے گا جو کچھ وہ کرتے تھے اور الله ہر چیز کو جاننے والا ہے
Chapter 25 (Sura 25)
1وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ تمام جہان کے لیےڈرانے والا ہو
2وہ جس کی آسمانوں اور زمین میں سلطنت ہے اور اس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ کوئی سلطنت میں اس کا شریک ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اندازہ پر قائم کر دیا
3اور انہوں نے الله کے سوا ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے حالانکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور وہ اپنی ذات کے لیے نقصان اور نفع کے مالک نہیں اور موت اور زندگی اور دوبارہ اٹھنے کے بھی مالک نہیں
4اور کافر کہتے ہیں کہ یہ تو محض جھوٹ ہے جسے اس نے بنا لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس میں ا س کی مدد کی ہے پس وہ بڑے ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں
5اور کہتے ہیں کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں کہ جنہیں اس نے لکھ رکھا ہے پس وہی اس پر صبح اور شام پڑھی جاتی ہیں
6کہہ دو کہ اسے تو اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہے بے شک وہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
7اور کہتے ہیں اس رسول کو کیا ہوگیا کہ کھاناکھاتا اور بازاروں میں پھرتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ اس کے ساتھ وہ بھی ڈرانے والا ہوتا
8یا اس کے پاس کوئی خزانہ آجاتا یا اس کے لیے باغ ہوتا جس میں سےکھاتا اور بے انصافوں نے کہا کہ تم تو بس ایک ایسے شخص کے تابع ہوگئے جس پر جادو کیا گیا ہے
9دیکھو تو تمہارے لیے کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں پس وہ ایسے گمراہ ہو ئے کہ راستہ بھی نہیں پا سکتے
10بڑی برکت ہے اس کی جو چاہے تو تیرے لیے اس سے بہتر باغ بنا دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور تیرے لیے محل بنا دے
11بلکہ انہوں نے تو قیامت کو جھوٹ سمجھ لیا ہے اور ہم نے اس کے لیے آگ تیار کی ہے جو قیامت کو جھٹلاتا ہے
12جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو اس کے جوش و خروش کی آواز سنیں گے
13اور جب وہ اس کے کسی تنگ مکان میں جکڑکر ڈال دیے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے
14آج ایک موت کو نہ پکارو اور بہت سی موتوں کو پکارو
15کہہ دو کیا بہتر ہے یا وہ بہشت جس کا پرہیز گارو ں کے لیے وعدہ کیا گیا ہے جو ان کا بدلہ اور ٹھکانہ ہوگی
16وہاں انہیں جو چاہیں گے ملے گا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ وعدہ تیرے رب کے ذمہ ہے جو قابل درخواست ہے
17اورجس دن انہیں اور ان کے معبودوں کو جمع کرے گا جنھیں وہ الله کے سوا پوجتے تھے تو فرمائے گا کیا تم ہی نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود راستہ بھول گئے تھے
18کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ کب لایق تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو کارساز بناتے لیکن تو نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو یہاں تک آسودگی دی تھی کہ وہ یاد کرنا بھول گئے اور یہ لوگ تباہ ہونے والے تھے
19سو تمہارے معبودوں نے تمہاری باتو ں میں تمہیں جھٹلا دیا سو تم نہ تو ٹال سکتے ہو اور نہ مدد دے سکتے ہو اور جو تم میں سے ظلم کرے گا ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے
20اور ہم نے تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اورہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا کیا تم ثابت قدم رہتے ہو اور تیرا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے
21اور ان لوگوں نے کہا جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہ بھیجے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے البتہ انہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑاسمجھ لیا ہے اور بہت بڑی سرکشی کی ہے
22جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوشی نہیں ہو گی اورکہیں گے آڑ کر دی جائے
23اور جو عمل انہوں نے کیے تھے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے پھر انہیں اڑتی ہوئی خاک کر دیں گے
24اس دن بہشتیوں کا ٹھکانا بہتر ہوگا اور دوپہر کی آرام گاہ بھی عمدہ ہو گی
25اور جس دن آسمان بادل سے پھٹ جائے گا اور فرشتے بکثرت اتارے جائیں گے
26اس دن حقیقی حکومت رحمنٰ ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بڑا سخت ہوگا
27اور اس دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا کہے گا اے کاش میں بھی رسول کے ساتھ راہ چلتا
28ہائے میری شامت کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا
29اسی نے تو نصیحت کے آنے کےبعد مجھے بہکا دیا اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہی ہے
30اور رسول کہے گا اے میرے رب بےشک میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کر رکھا تھا
31اور ہم اسی مجرموں کو ہر ایک نبی کا دشمن بناتے رہے ہیں اور ہدایت کرنے اور مدد کرنے کے لیے تیرا رب کافی ہے
32اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر یکبارگی قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا اسی طرح اتارا گیا تاکہ ہم اس سے تیرے دل کو اطمینان دیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ سنایا
33اور جو انوکھی بات تیرے سامنے لائیں گے ہم بھی تمہیں اس کا بہت ٹھیک جواب اوربہت عمدہ حل بتائیں
34جو لوگ مونہوں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالیں جائیں گے یہی برے درجے والے ہیں اور بہت ہی بڑے گمراہ ہیں
35اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر بنایا
36پھر ہم نے کہا تم دونو ان لوگوں کی طرف جاؤ جنہو ں نے ہماری آیتیں جھٹلائی ہیں پھر ہم نے انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا
37اور نوح کی قوم کوبھی جب انہو ں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کر دیا اور ہم نے انہیں لوگوں کے لیے نشانی بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے
38اور عاد اور ثمود اورکنوئیں والوں کو بھی اوربہت سے دور جو ان کے درمیان تھے
39اور ہم نے ہر ایک کو مثالیں دے کر سمجھایا تھا اور سب کو ہم نے ہلاک کر دیا
40اور یہ اس بستی پر بھی گزرے ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے سو کیا یہ لوگ اسے دیکھتے نہیں رہتے بلکہ یہ لوگ مر کر زندہ ہونے کی امید ہی نہیں رکھتے
41اور جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو بس تم سے مذاق کرنے لگتے ہیں کیا یہی ہے جسےالله نے رسول بنا کر بھیجا
42اس نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر قائم نہ رہتے اور انہیں جلدی معلوم ہوجائے گا جب عذاب دیکھیں گے کہ کون شخص گمراہ تھا
43کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا خدا اپنی خوہشات نفسانی کو بنا رکھا ہے پھر کیا تو اس کا ذمہ دار ہو سکتا ہے
44یا تو خیال کرتا ہے کہ اکثر ان میں سے سنتے یا سمجھتے ہیں یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں
45کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے سایہ کو کیسے پھیلایا ہے اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا رکھتا پھر ہم نے سورج کو اس کا سبب بنا دیا ہے
46پھر ہم اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹتے ہیں
47اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو اوڑھنا اور نیند کو راحت بنا دیا اور دن چلنے پھرنے کے لیے بنایا
48اوروہی تو ہے جو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے اور ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل فرمایا
49تاکہ ہم اس سے مرے ہوئے شہر کو زندہ کریں اور اسے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں، چارپایوں اوربہت سے آدمیوں کوپلائیں
50اور ہم نے اسے لوگوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں پس بہت سے آدمی ناشکری کیے بغیر نہ رہے
51اور اگر ہم چاہتے تو ہر گاؤں میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے
52پس کافروں کا کہا نہ مان اس کے ساتھ بڑے زور سے ان کا مقابلہ کر
53اور وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو آپس میں ملا دیا یہ میٹھا خوشگوار ہے او ریہ کھاری کڑوا ہے اوران دونوں میں ایک پردہ اور مستحکم آڑ بنا دی
54اوروہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا پھر ا س کے لیے رشتہ نسب اور دامادی قائم کیا اور تیرا رب ہر چیز پر قادر ہے
55اور وہ الله کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں جو انہیں نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور کافر اپنے رب کی طرف پیٹھ پھیرنے والا ہے
56اور ہم نےتمہیں محض خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے
57کہہ دو میں اس پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راستہ معلوم کرنا چاہے
58اورتم اس زندہ خدا پر بھروسہ رکھو جو کبھی نہ مرے گا اور اس کی تسبیح اورحمد کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے
59جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے چھ دن میں بنایا پھر عرش پر قائم ہوا وہ رحمنٰ ہے پس ا س کی شان کسی خبردار سے پوچھو
60اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمنٰ کو سجدہ کرو توکہتے ہیں رحمنٰ کیا ہے کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو کہہ دے اور اس سے انہیں اور زیادہ نفرت ہوتی ہے
61بڑا برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں ستارے بنائے اور اس میں چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا
62اور وہی ہے جس نے رات اور دن یکے بعد دیگرے آنے والے بنائے یہ اس کے لیے ہے جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہے
63اور رحمنٰ کے بندے وہ ہیں جو زمین پردبے پاؤں چلتے ہیں اورجب ان سے بے سمجھ لوگ بات کریں تو کہتے ہیں سلام ہے
64اور وہ لوگ جو اپنے رب کے سامنے سجدہ میں اور کھڑے ہوکر رات گزارتے ہیں
65اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے دوزخ کا عذاب دور کر دے بے شک اس کا عذاب پوری تباہی ہے
66بے شک وہ برا ٹھکانا اوربڑی قیام گاہ ہے
67اوروہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے
68اوروہ جو الله کے سوا کسی اور معبود کونہیں پکارتے اور اس شخص کوناحق قتل نہیں کرتے جسے الله نے حرام کر دیا ہے اور زنا نہیں کرتے اور جس شخص نے یہ کیا وہ گناہ میں جا پڑا
69قیامت کے دن اسے دگنا عذاب ہو گا اس میں ذلیل ہو کر پڑا رہے گا
70مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے سو انہیں الله برائیوں کی جگہ بھلائیاں بدل دے گا اور الله بخشنے والا مہربان ہے
71اور جس نے توبہ کی اور نیک کام کیے تو وہ الله کی طرف رجوع کرتا ہے
72اور جو بے ہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور جب بیہودہ باتوں کے پاس سے گزریں تو شریفانہ طور سے گزرتے ہیں
73اور وہ لوگ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں سے سمجھایا جاتا ہے تو ان پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے
74اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے
75یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلہ میں جنت کے بالا خانے دیے جائیں گے اور ان کا وہاں دعا اور سلام سے استقبال کیا جائے گا
76اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ٹھیرنے اور رہنے کی خوب جگہ ہے
77کہہ دو میرا رب تمہاری پروا نہیں کرتا اگرتم اسے نہ پکارو سو تم جھٹلا توچکے ہو پھر اب تو اس کا وبال پڑ کر رہے گا
Chapter 26 (Sura 26)
1طسمۤ
2یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں
3شاید تو اپنی جان ہلاک کرنے والا ہے اس لیے کہ وہ ایمان نہیں لاتے
4اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایسی نشانی نازل کریں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھک جائیں
5اور ان کے پاس رحمنٰ کی طرف سے کوئی نئی بات نصیحت کی ایسی نہیں آئی کہ وہ اس سے منہ نہ موڑ لیتے ہوں
6سو یہ جھٹلاتو چکے اب ان کے پاس اس چیز کی حقیقت آئے گی جس پر ٹھٹھا کیا کرتے تھے
7کیا وہ زمین کو نہیں دیکھتے ہم نے اس میں ہر ایک قسم کی کتنی عمدہ چیزیں اُگائی ہیں
8البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
9اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
10اور جب تیرے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ اس ظالم قوم کے پاس جا
11فرعون کی قوم کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں
12عرض کی اے میرے رب میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جھٹلا دیں
13اور میرا سینہ تنگ ہوجائے اور میری زبان نہ چلے پس ہارون کو پیغام دے
14اور میرے ذمہ ان کا ایک گناہ بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار نہ ڈالیں
15فرمایا ہر گز نہیں تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں
16سو فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم پروردگار عالم کا پیغام لے کر آئے ہیں
17یہ کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے
18کہا کیا ہم نےتمہیں بچپن میں پرورش نہیں کیا اورتو نے ہم میں اپنی عمر کے کئی سال گزارے
19اور تو اپنا وہ کرتوت کر گیا جوکر گیا اور تو ناشکروں میں سے ہے
20کہا جب میں نے وہ کام کیا تھاتو میں بےخبر تھا
21پھر میں تم سے تمہارے ڈر کے مارے بھاگ گیا تب مجھے میرے رب نے دانائی عطا کی اور مجھے رسول بنایا
22اور یہ احسان جو تو مجھ پر رکھتا ہے اسی لیے تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
23فرعون نے کہا رب العالمین کیا چیز ہے
24فرمایا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تمہیں یقین آئے
25اپنے گرد والوں سے کہا کیا تم سنتے نہیں ہو
26فرمایا تمہارا ور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے
27کہا بے شک تمہارا رسول جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے
28فرمایا مشر ق مغرب اور جو ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم عقل رکھتے ہو
29کہا اگر تو نے میرے سوا اور کوئی معبود بنایا تو تمہیں قید میں ڈال دوں گا
30فرمایا اگرچہ میں تیرے پاس ایک روشن چیز لے آؤں
31کہا اگر تو سچا ہے تو وہ چیز لا
32پھر اس نےاپناعصا ڈال دیا سو اسی وقت وہ صریح اژدھا ہو گیا
33اوراپنا ہاتھ نکالا سو اسی وقت وہ دیکھنے والوں کو چمکتا ہوا دکھائی دیا
34اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ بے شک یہ بڑا ماہر جادوگر ہے
35چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے دیس سے اپنے جادو کے زور سےنکال دےپھر تم کیا رائے دیتے ہو
36کہا اسےاور اس کے بھائی کو مہلت دو اور شہروں میں چپڑاسیوں کو بھیج دیجیئے
37کہ تیرے پاس بڑے ماہر جادوگروں کو لے آئیں
38پھر سب جادوگر ایک مقرر دن پر جمع کیے گئے
39اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم بھی اکھٹے ہوتے ہو
40تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم انہی کی راہ پر رہیں
41پھر جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہا اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہمیں کوئی بڑا انعام ملے گا
42کہا ہاں اور بیشک تم اس وقت مقربوں میں داخل ہو جاؤ گے
43موسیٰ نے ان سے کہا ڈالو جو تم ڈالتے ہو
44پھر انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور کہا فرعون کے اقبال سے ہماری فتح ہے
45پھر موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا پھر وہ فوراً ہی نگلنے لگا جو انہوں نے جھوٹ بنایا تھا
46پھر جادوگر سجدے میں گر پڑے
47کہا ہم رب العالمین پر ایمان لائے
48جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے
49کہا کیا تم میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے بے شک وہ تمہارا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے سو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا البتہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا
50کہا کچھ حرج نہیں بے شک ہم اپنے رب کے پاس پہنچنے والا ہوں گے
51ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہوں کو معاف کر دے گا اس لیے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں
52اور ہم نے موسی ٰکو حکم بھیجا کہ میرے بندوں کو رات کو لے نکل البتہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا
53پھر فرعون نے شہروں میں چپڑاسی بھیجے
54کہ یہ ایک تھوڑی سی جماعت ہے
55اور انہوں نے ہمیں بہت غصہ دلایا ہے
56اور بے شک ہم سب ہتھیار بند ہیں
57پھر ہم نے انہیں باغوں اور چشموں سے نکال باہر کیا
58اور خزانوں اور عمدہ مکانو ں سے
59اسی طرح ہوا اور ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا
60پھر سورج نکلنے کے وقت ان کے پیچھے پڑے
61پھر جب دونوں جماعتوں نےایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے
62کہا ہرگز نہیں میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے راہ بتائے گا
63پھر ہم نےموسیٰ کو حکم بھیجا کہ اپنی لاٹھی کو دریا پر مار پھر پھٹ گیا پھر ہر ٹکڑا بڑے ٹیلے کی طرح ہو گیا
64اور ہم نے اس جگہ دوسروں کو پہنچا دیا
65اورہم نے موسیٰ کی اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو نجات دی
66پھر ہم نے دوسروں کو غرق کر دیا
67البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
68اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
69اور انہیں ابراھیم کی خبر سنا دے
70جب اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کس کو پوجتے ہو
71کہنے لگے ہم بتوں کو پوجتے ہیں پھر انہی کے گرد رہا کرتے ہیں
72کہا کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں جب تم پکارتے ہو
73یا تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں
74کہنے لگے بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے پایا ہے
75کہا کیا تمہیں خبر ہے جنہیں تم پوجتے ہو
76تم او رتمہارے پہلے باپ دادا جنہیں پوجتے تھے
77سو وہ سوائے رب العالمین کے میرے دشمن ہیں
78جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھے راہ دکھاتا ہے
79اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
80اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
81اور وہ جو مجھے مارے گا پھر زندہ کرے گا
82اور وہ جو مجھے امید ہے کہ میرے گناہ قیامت کے دن مجھے بخش دے گا
83اے میرے رب مجھے کمال علم عطا فرما اور مجھے نیکیوں کے ساتھ شامل کر
84اور آئندہ آنے والی نسلوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھ
85اور مجھے نعمت کے باغ کے وارثوں میں کر دے
86اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے تھا
87اور مجھے ذلیل نہ کر جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے
88جس دن مال اور اولاد نفع نہیں دے گی
89مگر جو الله کے پاس پاک دل لے کر آیا
90اور پرہیز گاروں کے لیے جنت قریب لائی جائے گی
91اور دوزخ سرکشوں کے لیے ظاہر کی جائے گی
92اور انہیں کہا جائے گا کہاں ہیں جنہیں تم پوجتے تھے
93الله کے سوا کیا وہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں یا بدلہ لے سکتے ہیں
94پھر وہ اور سب گمراہ اس میں اوندھے ڈال دیے جائیں گے
95اور شیطان کے سارے لشکروں کو بھی
96اوروہ وہاں آپس میں جھگڑتے ہوئے کہیں گے
97الله کی قسم بیشک ہم صریح گمراہی میں تھے
98جب ہم تمہیں رب العالمین کے برابر کیا کرتے تھے
99اور ہمیں ان بدکاروں کے سوا کسی نے گمراہ نہیں کیا
100پھر کوئی ہماری سفارش کرنے والا نہیں
101اور نہ کوئی مخلص دوست ہے
102پھر اگر ہمیں دوبارہ جانا ملے تو ہم ایمان والوں میں شامل ہوں
103البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
104اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
105نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا
106جب ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
107میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
108پس الله سے ڈرو اور میرا کہا مانو
109اور میں تم سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
110سو الله سے ڈرو اور میرا کہا مانو
111انہوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں حالانکہ تیرے تابع توکمینے لوگ ہوئے ہیں
112کہا اور مجھے کیا خبر کہ وہ کیا کرتے تھے
113ان کا حساب تو میرے رب ہی کے ذمہ ہے کاش کہ تم سمجھتے
114اور میں ایمان والوں کو دور کرنے والا نہیں ہوں
115میں تو بس کھول کر ڈرانے والا ہوں
116کہنے لگے اے نوح اگر تو باز نہ آیا تو ضرور سنگسار کیا جائے گا
117کہا اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلایا ہے
118پس تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ ہی کر دے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ایمان والے ہیں نجات دے
119پھر ہم نے اسے اورجو اس کے ساتھ بھری کشتی میں تھے بچا لیا
120پھر ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا
121البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
122اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
123قوم عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا
124جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے
125البتہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
126پس الله سے ڈرو اور میرا کہا مانو
127اور میں تم سے ا سپر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
128کیا تم ہر اونچی زمین پر کھیلنے کے لیے ایک نشان بناتے ہو
129اوربڑے بڑے محل بناتے ہو شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے
130اورجب ہاتھ ڈالتے ہو تو بڑی سختی سےپکڑتے ہو
131پس الله سے ڈرو اور میرا کہا مانو
132اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی ہے جنہیں تم بھی جانتے ہو
133چارپایوں اور اولاد سے
134اور باغوں اور چشموں سے تمہیں مدد دی
135میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
136کہنے لگے تو نصیحت کر یا نہ کر ہمارے لیے سب برابر ہے
137یہ تو بس پہلے لوگوں کی ایک عادت ہے
138اور ہمیں عذاب نہیں ہوگا
139پھر انہو ں نے پیغمبر کو جھٹلایا تب ہم نے انہیں ہلاک کر دیا البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں
140اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
141قوم ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایا
142جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
143میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
144پس الله سے ڈرو اور میرا کہا مانو
145اور میں تم سے اسپر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
146کیا تمہیں ان چیزو ں میں یہاں بے فکری سے رہنے دیا جائے گا
147یعنی باغوں اور چشموں میں
148اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا خوشہ ملائم ہے
149او رتم پہاڑوں کوتراش کر تکلف کے گھر بناتے ہو
150پس الله سے ڈرو اور میرا کہا مانو
151اوران حد سے نکلنے والوں کا کہا مت مانو
152جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے
153کہنے لگے تم پر تو کسی نے جادو کیا ہے
154توبھی ہم جیسا ایک آدمی ہے سو کوئی نشانی لے آ اگر تو سچا ہے
155کہا یہ اونٹنی ہے اسکے پینے کا ایک دن ہے اور یک دن معین تمہارے پینے کے لیے ہے
156اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آ پکڑے گا
157سو انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ ڈالے پھر پشیمان ہوئے
158پھر انہیں عذاب نے آ پکڑا البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
159اوربے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
160لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا
161جب انہیں ان کے بھائی لوط نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
162میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
163پس الله سے ڈرو اور میرا کہا مانو
164اورمیں تم سے اس پر کوئی مزودری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس اللهرب العالمین کے ذمہ ہے
165کیا تم دنیا کے لوگوں میں لڑکوں پر گرے پڑتے ہو
166اور تمہارے رب نےجو تمہارے لیے بیویاں پیدا کر دی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو
167کہنے لگے اے لوط اگر تو ان باتوں سے باز نہ آیا تو ضرور تو نکال دیا جائے گا
168کہا میں تو تمہارے کام سے سخت بیزار ہوں
169اے میرے رب مجھے اور میرے گھر والوں کو اس کے وبال سے نجات دے جو وہ کرتے ہیں
170پھر ہم نے اسے اور اس کے سارے کنبے کو بچا لیا
171مگر ایک بڑھیا جو پیچھے رہ گئی تھی
172پھر ہم نے اور سب کو ہلاک کر دیا
173اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پھر ڈرائے ہوؤں پر بُرا مینہ برسا
174البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
175اوربیشک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
176بن والوں نے بھی پیعمبروں کو جھٹلایا
177جب ان سے شعیب نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
178میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
179پس الله سے ڈرو اور میرا کہا مانو
180اور میں تم سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
181پیمانہ پورا دو اور نقصان دینے والے نہ بنو
182اور صحیح ترازو سے تولا کرو
183اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو اور ملک میں فساد مچاتے نہ پھرو
184اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور پہلی خلقت کو بنایا
185کہنے لگے کہ تم پر تو کسی نے جادو کر دیا
186اورتو بھی ہم جیسا ایک آدمی ہے اور ہمارے خیال میں تو تو جھوٹا ہے
187سو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے اگر تو سچا ہے
188کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
189پھر اسے جھٹلایا پھر انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا
190البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
191اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
192اور یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے
193اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے
194تیرے دل پر تاکہ تو ڈرانے والوں میں سے ہو
195صاف عربی زبان میں
196اور البتہ اس کی خبر پہلوں کی کتابوں میں بھی ہے
197کیا ان کے لیے نشانی کافی نہیں کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں
198اور اگر ہم اسے کسی عجمی پر نازل کرتے
199پھر وہ اسے ان کے سامنے پڑھتا تو بھی ایمان نہ لاتے
200اسی طرح ہم نے اس انکار کو گناہگاروں کے دل میں ڈال رکھا ہے
201وہ دردناک عذاب دیکھے بغیر اس پر ایمان نہیں لائیں گے
202پھر وہ ان پر اچاناک آئے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی
203پھر کہیں گے کیا ہمیں مہلت مل سکتی ہے
204کیا ہمارے عذاب کو جلد چاہتے ہیں
205بھلا دیکھ اگر ہم انہیں چند سال فائدہ اٹھانے دیں
206پھر ان کے پاس وہ عذاب آئے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں
207تو جو انہوں نے فائدہ اٹھایا ہے کیا ان کے کچھ کام بھی آئے گا
208اور ہم نے ایسی کوئی بستی ہلاک نہیں کی جس کے لیے ڈرانے والے نہ آئے ہوں
209نصیحت دینے کے لیے اور ہم ظالم نہیں تھے
210اور قرآن کو شیطان لے کر نہیں نازل ہوئے
211اور نہ یہ ان کا کام ہے اور نہ وہ اسے کر سکتے ہیں
212وہ تو سننے کی جگہ سے بھی دور کر دیے گئے ہیں
213سو الله کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار ورنہ تو بھی عذاب میں مبتلا ہو جائے گا
214اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈرا
215اور جو ایمان لانے والے تیرے ساتھ ہیں ان کے لیے اپنا بازو جھکا ئے رکھ
216پھر اگر تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے میں تمہارے کام سے بیزار ہوں
217اور زبردست رحم والے پر بھروسہ کر
218جو تجھے دیکھتا ہے جب تو اٹھتا ہے
219اور نمازیوں میں تیری نشست و برخاست دیکھتا ہے
220بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے
221کیا میں تمہیں بتاؤں شیطان کس پر اترتے ہیں
222ہر جھوٹے گناہگار پر اترتے ہیں
223وہ سنی ہوئی باتیں پہنچاتے ہیں اوراکثر ان میں سے جھوٹے ہوتے ہیں
224اور شاعروں کی پیروی تو گمراہ ہی کرتے ہیں
225کیا تم نےنہیں دیکھاکہ وہ ہر میدان میں بھٹکتے پھرتے ہیں
226اور جو وہ کہتے ہیں کرتے نہیں
227مگروہ جو ایمان لائے اور نیک کام کیے اور الله کوبہت یاد کیا اور مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لیا اور ظالموں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ کس کروٹ پر پڑتے ہیں
Chapter 27 (Sura 27)
1طسۤ یہ آیتیں قرآن کی اور کتاب روشن کی ہیں
2ایمان داورں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے
3جو نماز ادا کرتے ہیں اور زکوةٰ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں
4البتہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نےان کے اعمال ان کے لیے اچھے کر دکھائے ہیں پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں
5وہی ہیں جنہیں برا عذاب ہونا ہے اور وہ آخرت میں بڑے ہی خسارہ میں ہوں گے
6اور تجھے بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن دیاجارہا ہے
7جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں ابھی وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لاتا ہوں یا کوئی انگارا سلگا کر لاتا ہوں تاکہ تم سینکو
8پھر جب موسیٰ وہاں آئے تو آواز آئی کہ جو آگ میں اور اس کے پاس ہے وہ با برکت ہے اور الله پاک ہے جو تمام جہان کا رب ہے
9اے موسیٰ وہ میں الله ہوں زبردست حکمت والا
10اور اپنی لاٹھی ڈال دے پھر جب اسے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح چل رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اورپیچھے مڑ کر نہ دیکھا اے موسیٰ ڈرو مت کیونکہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے
11مگر جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا ہوتو میں بخشنے والا مہربان ہوں
12اور اپنا ہاتھ اپنےگریبان میں ڈال دے وہ سفید بے عیب نکلے گا یہ دونوں ملا کر نونشانیاں فرعون اور اس کی قوم کی طرف لے کرجا کیونکہ وہ بدکار لوگ ہیں
13پھر جب ان کے پاس آنکھیں کھولنے والی ہماری نشانیاں آئیں تو کہنے لگے یہ تو صاف جادو ہے
14اور انہوں نے انکا ظلم اور تکبر سے انکار کرد یا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے پھر دیکھ مفسدوں کا انجام کیسا ہوا
15اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم دیا اور کہنے لگے الله کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے ایمان دار بندوں پر فضیلت دی
16اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے او رہمیں ہر قسم کے سازو سامان دیے گئے ہیں بے شک یہ صریح فضیلت ہے
17اور سلیمان کے پاس اس کے لشکر جن اور انسان اور پرندے جمع کیے جاتے پھر انکی جماعتیں بنائی جاتیں
18یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے ایک چینوٹی نے کہا اے چیونٹیو اپنے گھروں میں گھس جاؤ تمہیں سلیمان اور اس کی فوجیں نہ پیس ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو
19پھر اس کی بات سے مسکرا کر ہنس پڑا اور کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں نیک کام کروں جوتو پسند کرے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے
20اور پرندوں کی حاضری لی تو کہا کیا بات ہے جو میں ہُد ہُد کو نہیں دیکھتا کیا وہ غیر حاضر ہے
21میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر دوں گا یا وہ میرے پاس کوئی صاف دلیل بیان کرے
22پھر تھوڑی دیر کے بعد ہُد ہُد حاضر ہوا اور کہا کہ میں حضور کے پاس وہ خبر لایا ہوں جو حضور کو معلوم نہیں اور سباسے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں
23میں نے ایک عورت کو پایا جو ان پر بادشاہی کرتی ہے اور اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا بڑا تخت ہے
24میں نے پایا کہ وہ اور اس کی قوم الله کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو انہیں آرستہ کر دکھایا ہے اور انہیں راستہ سے روک دیا ہے سو وہ راہ پر نہیں چلتے
25الله ہی کو کیوں نہ سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور جو تم چھپاتے ہو اورجو ظاہر کرتے ہو سب کو جانتا ہے
26الله ہی ایسا ہےکہ اس کے سواکوئی معبود نہیں ہے اوروہ عرش عظیم کا مالک ہے
27کہا ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے
28میرا یہ خط لے جا اور ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے ہاں سے واپس آ جا پھر دیکھ وہ کیا جواب دیتے ہیں
29کہنے لگی اے دربار والو میرے پاس ایک معزز خط ڈالا گی